سوچ کی غذا

‏constitutional supermacy لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏constitutional supermacy لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 18 فروری، 2026

پی ٹی آئی کا شعور نِکھرنے لگا ہے

بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت اپنی جگہ مگر اس کے شعوری ہونے سے اختلاف کو بھی آزادی اظہار رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اب تو پی ٹی آئی کے اندر قائدین کی سطح پر اختلافات اور ابھرتی آوازوں کی گونج سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا شعور نکھرنے لگا ہے۔

 2022 میں جب پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اپنی جمہوری سمت کا رخ صحیح کرنے کی کوشش کی تو ملک کے معززین نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر مرکز میں حکومت کو آئینی طور پر تبدیل ہونے کی راہ میں رکاوٹ کو آزادانہ چھوڑ دیا جس سے پارلیمان کے اندر عدم اعتماد کی تحریک سے عمراں خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا

لیکن اس پر بانی پی ٹی آئی اپنے رجیم چینج کے بیانیے کی ہمدردیوں سے ایک بار پھر عوام کی مقبولیت کا رخ اپنی طرف موڑنے میں کامیاب ہو گئے جس کو وہ مختلف حیلوں بہانوں سے قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔

حالانکہ انکی کارکردگی کو بے نقاب کرنے کے لئے کے پی کی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ہی اب خدمت کا وقت نہ ملنے کا ان کے پاس کوئی جواز ہے مگر حیران کن طور پر وہ اب بھی سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال عوام کو جھوٹے بیانیے کے زریعے سے ذہنی سہارا مہیا کئے ہوئے ہیں جس کی بنیاد کبھی بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کو بنا لیا جاتا ہے تو کبھی بیماری کو مگر اب یہ ہتھکنڈے زیادہ دیر چلنے والے نہیں 

اسکی وجہ یہ ہے کہ کے پی کے علاوہ دوسرے صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی حکمت عملیوں سے کافی دل برداشتہ ہو چکی ہے کیونکہ ان کو دی جانے والی اذیتوں پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کئی ان مصیبتوں سے بچنے کے لئے خود ساختہ صوبائی جلاوطنی میں کے پی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

جب بھی حکومت کی طرف سےمذاکرات اور رعائت کی امید نظر آتی ہے تو بانی پی ٹی آئی فوج مخالف بیان دینا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ کل ان کی بہنوں نے پریس کانفرنس میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر مروانے کا خوف اور اس کا الزام فیلڈ مارشل پر لگانے کا اظہار کیا جس سے دوبارہ مذاکرات کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جن سے پارٹی قیادت اور ورکرز کے ذہنوں میں بانی کی حکمت عملی پر شکوے جنم لینا شروع ہوئے جو اب کافی پختہ ہو چکے ہیں۔ 

جن کا اظہار اب پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات کی صورت میں بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ ویسے اس کی ابتداء تو کافی عرصہ پہلے سے پی ٹی آئی کی کال پر لوگوں کے کان نہ دھرنے سے شروع ہو چکی تھی جس پر تصدیق کی مہر ضمنی انتخابات نے لگا دی مگر اس پر کچھ حلقوں میں یہ گماں تھا کہ شائد لوگ خوف کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے اور ضمنی انتخابات میں کامیابی کے اندر حکومت کے اثر رسوخ اور بندوبست کا کمال ہے۔

لیکن اب پارلیمانی ممبران کا اسلام آباد کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنوں کے اندر کھلے اختلافات اور کے پی میں سڑکوں کی بندش پر انسانی جانی نقصان پر پی ٹی آئی کے اندر سے غلطیوں کا اعتراف وہ اشارے ہیں جو شعور کے نکھرنے کی گواہی دے رہے ہیں۔ 

کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کھل کر بولے ہیں۔ جس میں انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات سے لے کر پارٹی پر ملکیت کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ دیا ہے اور کچھ وی لاگرز پر کھلی تنقید کرتے ہوئے ان کو کہا کہ اگر تمھارے اندر جذبہ ہے تو ادھر پاکستان میں آؤ وہاں بیٹھ کرعوم کو نہ ورغلاؤ۔ عوام کو تلقین کی کہ ان کی خبروں پر تحقیق کر لیا کریں۔

وہاں کے پی میں سڑکوں کی بندش کے دوران کئی پی ٹی آئی ورکرز بھی کھل کر مخالفت کرتے رہے اور عوامی مشکلات اور دباؤ کے پیش نظر پشاور ہائی کورٹ نے بھی سڑکوں کو کھولنے کے احکامات جاری کئے جس پر پولیس نے عملدرآمد کرواتے ہوئے سڑکوں اور موٹر وے کو خالی کروا دیا جس پر کچھ لوگ یہ بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ شائد پولیس کے پی کی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی جو میں سمجھتا ہوں کہ غلط بات ہے کیونکہ سڑکوں کو کھلوانے میں عدالتی فیصلے کا کردار ہے۔

مگر اس سے لوگوں کی سوچوں پر مثبت تاثرات اور انتظامیہ کی رٹ بارے خیالات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور خاص کر پولیس کی کاروائی کے خلاف مزمت کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عوام بھی اب ان دھرنوں سے عوامی مشکلات پیدا کرنے والی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہوئی سیاست اور جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے اختلاف رکھنے والی پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی ضرور حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کھل کر گنڈاپور کی طرح بولنے لگیں گے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے 2026 کو نوجوانوں کے نام کر کے پرواز کارڈ، سکل ڈویلپمنٹ کے کورسز، آسان بلاسود قرضوں کی فراہمی، سکالرشپس جیسے کئی ایسے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن سے نوجوانوں کی ترجیحات اور توجہ کو مثبت اور ترقی پسند سوچ ملی ہے اور اب وہ جھوٹ اور دھرنوں کی سیاست کو جہالت شمار کرنے لگے ہیں۔

نوجوانوں کو مریم کی طرف سے دیئے جانے والے حوصلے نے ان کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور وہ اب اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے اپنی ماں، بہن اور قائد کی امنگوں پر اپنی صلاحیتوں کو نچھاور کرنے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں جس کی گواہی اس کا ہر طرف والہانہ استقبال دے رہا ہے۔ وہ خواہ بسنت کی تفریحی سرگرمیاں ہوں یا اس کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پنجاب کے دور دراز ضلعوں کے عوامی دورے ہر جگہ اس کو پزیرائی مل رہی ہے۔  

عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوال بھی بجا ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بیٹے باہر بیٹھے ہیں اور یہاں نوجوان بے یار و مددگار جیلوں میں پڑے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جادو ٹونے کے زریعے سے حکومت چلانے سے لے کر کرپشن تک عالمی جریدوں میں چھپنے والی رپورٹس پر بانی پی ٹی آئی کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس کی وضاحت بہرحال عوامی ذہنوں میں ایک خلش کی صورت  موجود ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ ہندوستان کے خلاف فوج کی کاروائی پر عالمی پزیرائی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جان کی قربانیوں پر فوج مخالف بیانیہ بھی عوام کے دلوں میں فوج سے والہانہ محبت کے ہاتھوں بری طرح پِٹ چکا ہے اور اب کوئی فوج کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ اب تو ملک کے اندر یکجہتی کی ضرورت کے پیش نظرتمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہونے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی آوازوں کو بھی غداری کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

 

بدھ، 7 جنوری، 2026

خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نہیں ریفرنڈم کروایا جانا چاہیے

اس وقت کے پی حکومت پاکستان کی سلامتی سے لے کر فیڈریشن سے براہ راست ٹکراؤ  کی پالیسی پر چل رہی ہے جس سے نہ صرف دہشتگردی کو دوستانہ ماحول بلکہ جمہوریت کے اندر باہمی ٹکراؤ کا بھی تاثر مل رہا ہے جس کا بر ملا اظہار کل کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس میں بھی واضح تھا۔

پچھلے دو سالوں میں انہوں نے کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس میں احتجاج سے لے کر وفاق پر دھاوے تک کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ فوج کے سربراہ پر الزامات لگائے گئے جبکہ وہاں کی عوام فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ ان تمام تر ہتھکنڈوں کی ناکامی کے بعد اب وہ پھر سے ایک بار مظلوم بننے کی راہیں ڈھونڈھ رہے ہیں جس کی آخری کڑی کے طور پر وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو ایشو بنا کر اپنی آخری سانسیں لیتی سیاست کو آکسیجن مہیا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جس کا مقصد عوامی ہمدردیوں کے حصول کی کوشش ہے۔ جہاں تک کہ وہ صرف کے پی میں ہی نہیں دوسرے صوبوں میں بھی وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں سیاسی جلسے جلوس نکال رہے ہیں۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں خواہ گورنر راج ہی لگ جائے۔

کیونکہ اب وہ صوبے میں تیرہ سال کا وقت ضائع کر بیٹھنے کے بعد کارکردگی کی دوڑ میں عوامی پزیرائی حاصل کرنے کے ناممکن حالات کے ہاتھوں مجبور اپنی سیاست کو کسی طرح زندہ رکھنے کے بہانے ڈھونڈھ رہے ہیں۔

لیکن وفاقی حکومت کو اس حساس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی نبض شناسی کرتے ہوئے عوام کی خواہش کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا اشارہ انہیں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ملنے سے دیا جا چکا ہے۔

وہاں کے عوام کو اب اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا ہے جو وہ ہمدردیوں کے بیانیے کے ہاتھوں یرغمال ہو کر کر چکے ہیں۔ اب وہ نہ صرف غربت اور بے روزگاری میں پس رہے ہیں بلکہ دہشت گردی نے انکی زندگی بھی اجیرن کر رکھی ہے جس کو دوستانہ ماحول بھی انکی اپنی ہی صوبائی حکومت مہیا کر رہی ہے۔ انکو یہ بھی اندازہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو ملک میں داخل کرنے والی پالیسی کی خالق جماعت بھی پی ٹی آئی ہی ہے۔

اب حکومت کو ضمنی انتخابات میں دئے گئے مینڈیٹ کے احترام میں عوامی رائے کو مقدم جانتے ہوئےکوئی ایسا موقعہ مہیا کرنے کا ماحول دینا چاہیے جس سے وہ اپنی غلطی کا ازالہ کر سکیں اور اس کے لئے بہتریں حکمت عملی ایک ریفرنڈم ہے جس میں عوام سے دوبارہ مینڈیٹ کے اظہار کے لئے صوبائی انتخابات کی طرف جانا ہے جو انکی موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی نگرانی میں ہی الیکشن کمیشن سے کروایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے دھاندلی کا شائبہ نہ رہے۔

آرٹیکل 48(6) کانسٹیٹوشن آف پاکستان صدر پاکستان کو اپنی ذاتی صوابدید یا وزیر اعظم کی ہدائت پر کسی بھی قومی سطح کے معاملے پر عوامی رائے کو حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کے اختیارات دیتا ہے۔ جس کے تحت پارلیمان کی منظوری کے بعد اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سب آرٹیکل 7 اس کے طریقہ کار کو وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ 

اور اگر کے پی کے عوام کی اکثریت دوبارہ صوبائی انتخابات میں جانے کا اظہار کرے تو انہیں دوبارہ سے اپنی نمائندہ حکومت بنانے کا چانس دیا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف عوام کو انکی مرضی کی حکومت ملے گی بلکہ وفاقی حکومت کی کسی دوسری حکمت عملی سے پی ٹی آئی کے مظلوم بننے کی کوششیں بھی دم توڑ جائیں گی۔

اس وقت ریفرنڈم دہشتگردی کے خاتمے، ملک میں سیاسی استحکام، اداروں پر بے جا الزامات سے چھٹکارہ اور کے پی کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی نا گزیر ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کو بھی اپنے عوامی مینڈیٹ کے گھمنڈ کی اصلیت کا اندازہ ہو جائے گا کہ عوامی مینڈیٹ کی استقامت کے لئے ضروری ہے کہ عوامی خدمت میں کارکردگی بھی ہو محض مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیوں کے سہارے سیاست ہمیشہ نہیں کی جا سکتی۔   

پیر، 22 دسمبر، 2025

کیا تحریک تحفظ آئین پاکستان کارکردگی دکھا پائے گی؟

کیا پاکستان میں جمہوریت صرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا نام  ہے خواہ وہ اسٹیبلشمنت کی گود میں بیٹھ کر ہی داغے جا رہے ہوں یا جمہوری اقدار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے؟ 

ابھی چند سال پہلے ہی وہ اپنے دائیں بیٹھی جماعت تحریک انصاف کے خلاف سڑکوں پر تھے جبکہ وہ ہائبرڈ جمہوریت کی ایک نئی اصطلاح متعارف کروانے میں مصروف تھے۔کیا ان سے اب جمہوری اقدار پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی حاصل کر لی گئی ہے؟ 

کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے مطلوبہ ہدف کی راہ میں رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی سطح کی طاقت کا ہونا ضروری ہے جس کے بغیر کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔ اور پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے۔ 

اب ایسا کیوں ہے اس کی ایک بہت ہی سادہ سی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خواہ اس کا آئینی درجہ کم ہی سہی مگر اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت موجود ہے جو حاوی رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں جبکہ جمہوریت میں سیاستدانوں کے اندر وہ صلاحیتیں اور اہلیت ہی نہیں۔ 

سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے منشور کی بنیاد پر باہمی اختلافات بھی ہوتے ہیں مگر ملکی سطح پر جمہوریت کے آپریٹر ہوتے ہوئے انکی ایک تنظیم کی حیثیت ہوتی ہے۔ جس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت ہونی چاہیں جو جمہوریت کے خلاف کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اب یہ صرف ہارڈ پاور سے ہی ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے سافٹ پاور کا ہونا بھی ضروری ہے جس کی بنیاد اعلیٰ اخلاقیات اور سیاسی شعور ہیں۔

آئین کی پاسداری اور تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کا خود عمل ہو پھر وہ دوسرے اداروں سے اس پر عمل کو یقینی بنوا سکتی ہیں۔ 

پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو ان کو عدم اعتماد کے زریعے سے ہٹایا گیا جو آئین کے عین مطابق تھا اور یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے ایسا کروایا ایک انتہائی نا مناسب بات ہے جو غیر سیاسی اور نا اہل سوچ کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اگر سیاستدان استعمال ہوئے تو وہ استعمال کرنے والے کو گالیاں دینے کی بجائے  استعمال ہونے والوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرتے؟میرے خیال میں تو ایسا کہنا بھی گویا اپنی نا اہلی کو ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو دنگل اپنے زور بازو پہ جیتنے ہوتے ہیں اس وقت یہ جواز کوئی حیثیت نہیں رکھتے کہ ہمیں زور نہیں لگانے دیا جا رہا۔       

جب آئینی طور پر ان کی حکومت گرائی گئی تھی اسے تسلیم کیا جا نا چاہیے تھا۔ محمود خان اچکزئی اس وقت حکومت ہٹانے والوں میں شامل تھے ااور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ محمود خان اچکزئی خود اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے استعمال ہونے والوں میں تھے۔

 اگر یہ سب ٹھیک ہے تو پھر اس کا اعتراف بھی تو ضروری ہے۔ اور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک نہیں تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ آئین کی حالت سے اتنا فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو سیاستدانوں کے کردار سےکہ وہ کس قدر جمہوری ہیں۔ 

 کسی بھی ریاست کا آئین اس کے چلانے کے لئے ایک انسٹرومنٹ ہوتا ہے جس کا تحریری صورت میں ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ تحریری صورت میں ہونا محض ایک فارمیلٹی ہے۔ اصل ضرورت اس کے تقدس کا احساس ہے جس کی موجودگی میں اس کا تحریری ہونا اپنی حیثیٹ کھو جاتا ہے اور اگر یہ احساس نہ ہو تو تحریری ہونا بھی اپنی حیثیت کو منوانے میں نا کام رہتا ہے۔

جس کی مثال انگلینڈ اور ہمارے آئینی سے واضح ہو سکتی ہے۔ ان کا آئین تحریری نہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں قومی سطح پر تقدس ہونے سے اپنی حیثیت کو منوانے میں کامیاب ہے مگر ہمارا آئین تحریری ہونے کے با وجود بھی تقدس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت کو منوانے میں ہمیشہ نا کام رہا ہے۔

اس تقدس کی سب سے زیادہ موجودگی سیاستدانوں کے اندر ضروری ہوتی ہے کیونکہ ان کی عوامی مینڈیٹ کے حصول کے بعد اہم ذمہ داری اس پر عملدرآمد، حفاظت اور اس میں ملک و قوم کی فلاح کے لئے اصلاحات لانا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل نہ ہوں تو پھر آئین کے تقدس کو یقینی بنانا ممکن نہیں رہتا بلکہ وہ خود ہی اس کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اور یہی سب کچھ پاکستان کے آئین کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اب اس کا حل آئین کی حفاظت بارے محض ڈھنڈورا پیٹنے سے ہونے والا نہیں بلکہ سیاستدانوں کو اپنے اندر اور قومی سطح پر شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کو یقینی بنانا ہوگا یا پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے انہیں ملکی سیاست میں مستقل طور پر کوئی کردار دینا ہوگا جس کے ایک بہترین حل کے طور پر ہم اپنی جمہوریت کو چائنا کی طرز پر استوار کر سکتے ہیں۔

اخلاقیات اور شعور پر کام کرنے کے لئے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے قوم سے معافی مانگنا ہوگی اور پھر سیاسی برادری کے اندر  اپنے بارے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جب قوموں کے اندر اعلیٰ اخلاقیات اور شعور ہوتا ہے تو پھر وہاں نظام خود بخود ہی مضبوط ہو جاتے ہیں جس کی مثال ہم سکینڈیوین یا نارتھ امریکن ممالک سے لے سکتے ہیں۔ وہاں آپ کو جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اس کی بنیاد ان کی اخلاقی اور جمہوری اقدار ہیں۔   

اگر ہم کہیں کہ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کی بھی حالت تسلی بخش نہیں یا سب نے ہی کسی نہ کسی دور میں جمہوری اقدار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار کے حصول کے عمل میں شرکت کی ہے تو یہ بجا ہوگا

   مگر ماضی میں سیاسی جماعتوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کسی نہ کسی حد تک جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوششیں بھی تو کی ہیں جن میں سب سے نمایاں میثاق جمہوریت کے نام پر پاکستان کی بڑی دو سیاسی جماعتوں میں ایک معاہدہ بھی ہے جس کے بعد جمہوریت کی مضبوطی کے عملی اقدامات اور نتائج بھی دیکھنے کو ملتے رہے جن کو نقصان پی ٹی آئی کی سرگرمیوں نے پہنچایا ہے۔ 

ہائبرد جمہوریت کی اصطلاح انہیں کی جمہوریت مخالف سرگرمیوں کی پیداوار ہے جس نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی کوشش کی کامیابی کے چانسز بہت ہی کم ہونگے

پی ٹی آئی کی ان سرگرمیوں سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے اداروں جن میں فوج اور خاص طور پر عدلیہ شامل ہے کی ساکھ بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ 

موجودہ حکومت کو جو ہائبرڈ جمہوریت کے طعنے دئیے جارہے ہیں وہ ٹھیک موقف نہیں کیونکہ جب اس اصطلاح کی حامل حکومت کو ختم کیا گیا تو ان کوششوں کے جناب محمود خان اچکزئی بھی گواہ ہیں جس کے اندر جرنیلوں کا کوٹ مارشل کر کے ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ اگر کوئی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوشش کرے تو تنقید کی بجائے اس کو داد دی جانی چاہیے  بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ ہوئی ہے۔

عمران خان کی سیاست میں سوشل میڈیائی سرگرمیاں جن میں فوج کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیا پاکستان کے حق میں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو عمران خان کی سیاست کو موجودہ ماحول سے موافق بنانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

کیا ابھی جو محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی شرط پر مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کو آگے بڑھ کر مزاکرات کی دعوت دی ہے ان سرگرمیوں کی موجودگی میں کام یاب ہو سکتی ہے؟ قطعاً بھی نہیں کیونکہ عمراں خان کی تو ساری سیاست کی بنیاد ہی اپنے سیاسی مخالفین اور نئی اسٹیبلشمنٹ جن سے ان کو سہولتکاری میسر نہیں آ رہی کے ٹرولنگ ہے جس کے بغیر وہ اپنی سیاست کی موت سمجھیں گے۔جن کو انہوں ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔ اور انکے موقف اور سرگرمیوں میں تبدیلی یا اس کی یقینی دہانی کے بغیر ساتھ چلنا بھی خطرات سے خالی نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پر اعتماد نہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔


بدھ، 29 جنوری، 2025

'پروجیکٹ عمران' کے تخلیق کاروں کو کوئی معافی نہیں ملنی چاہیے

عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ  تعلق بھی بن رہا ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس گرفتاری کا تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے۔

پاکستان کی سیاست میں حب الوطنی کے نام پر غیر آئینی مداخلت کی تو ایک لمبی داستان ہے جس کے اعتراف بھی بڑے پر تپاک اور تفخرانہ انداز میں کیے جاتے رہے ہیں بلکہ ان مزاجوں کے خلاف عدالتوں کے فیصلے بھی عمل درآمد کو ترس رہے ہیں لیکن عمران خان پروجیکٹ کے بعد اس مداخلت نے ایک ایسا رخ اختیار کر لیا ہے جس سے سیاست کی محبت اداروں کے معاملات کے اندر بھی سرایت کرتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہے اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی پر مبینہ طور پر ایک طویل سیاست کا سلسلہ جاری رہا اور یوں لگتا ہے کہ اس نے ادارے کی ترقی اور تعنیاتیوں کے سلسلے کو بھی سیاست زدہ کر دیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ سیاست کے اندر نظم و ضبط کو خراب کرنے کی غیر آئینی حرکتوں نے ریاست کے تمام اداروں کے نظم و نسق کو ہی سیاست زدہ بنا دیا ہے اور اس کی وجہ ان اداروں کے معززین کے ببانگ دہل کارنامے اور سرعام انکشافات ہیں جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ ان کو ریاست کے اندر کون کون سی شخصیات اور انداز کی سیاست پسند نہیں تھی اور سیاست دانوں کو کبھی عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے کر کے تو کبھی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بے یارو مددگار ڈال کر ان کے بقول وہ سیاست کے توازن کو ٹھیک کرنے میں کردار ادا کرتے رہے جو ان کی آئینی خلاف ورزیوں کے احتساب کے لئے مواد مہیا کرتا رہا مگر طاقت کے عدم توازن کے سبب اس پر سوال اٹھانے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی اور صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایسی سوچوں کے نیٹ ورک نے اداروں کے اندر گہری جڑیں پکڑ لیں اور ریاست کو ان خطرات کا شکار ہو کر 9 مئی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری کو بھی کہا جا رہا ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ تعلق بھی بن رہا ہے مگر تاریخ کی روشنی میں سیاسی اور مالی معاملات پر اس قدر سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی گئی اس لئے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا زیادہ تر تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے جس سے مستقبل میں خطرات کے خدشات کو بریک کرنا مقصد ہو سکتا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے۔

گرفتاری جہاں بظاہر ایک حیران کن خبر کے طور پر گردش کر رہی ہے وہیں ساتھ کچھ قیاس آرائیاں بھی ذہنوں کی سطح پر محو تخیل ہیں کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ کیا اس سے ہمیں قومی سطح پر کوئی سبق آموز مرحلہ بھی میسر آئے گا جو مستقبل میں ایسے واقعات کی راہ کو بند کر سکے یا نہیں؟ یہ ایک بہت ہی اہم نقطہ ہے جس کے لئے ہمیں چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ ابھی تو یہ معاملہ ویسے بھی تحقیقات کے مرحلوں سے گزر رہا ہے اور کسی کے کردار یا اس پر جرم کا الزام لگانا کسی طرح سے بھی جائز نہیں مگر ہمارا ماضی ایسے کرداروں سے بھرا پڑا ہے جو ہمیں اس پر اندازوں کے تعین کے لئے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں اس طرح کی کہانیوں کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ایک کا تعلق آئین و قانون کے اطلاق سے ہوتا ہے تو دوسرے کا تعلق اس کے اہم کردار کے عمل کا ان کی بعد کی زندگی اور عمومی ماحول پر اثرات سے ہوتا ہے جو انتہائی اہم ہے جس سے ایسے ہی کئی دوسرے کرداروں کے اندر خوف اور ندامت کے جنم لینے کا سبب پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ آئین و قانون کے اطلاق میں کبھی امید افزا نہیں رہی جس کی وجہ صرف ہمارے اداروں کی نااہلی اور مختلف سطحوں پر مفادات کا ٹکراؤ ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر سیاسی شعور کی کمی بھی اس کی بہت بڑی وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قومی سطح پر آئینی و قانونی مجرم بھی کچھ ہی وقت کے بعد پھر سے ہیرو کے طور پر دیکھے جانے لگتے ہیں۔

جیسا کہ اس کہانی کے اندر واقعات کی ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس طرح کے کرداروں کو پشیمانی یا ندامت ہوئی ہو یا ان کو اپنے کردار پر کوئی احتساب اور سزا و جزا کا کوئی خوف پیدا ہوا ہو۔ عمران خان کی گرفتاری اور پھر اس کے بعد کا ماحول ایسی ہی سوچ کی غمازی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عمران کے اقتدار کے چند ماہ کے بعد ہی اس پروجیکٹ کو لانے والے اور عوام اس سے تنگ آ گئے تھے مگر جیسے ہی ان کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تو پھر سے ان کی ناصرف ریاستی اداروں کے اندر سے حمایت اور دوبارہ لانے کی کوششیں زور شور سے جاری ہو گئیں بلکہ عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف بھی پھر سے بڑھنے لگا اور اداروں کے اندر موجود ایسے کردار جو ان کی سہولت کاری بلا خوف و تردید کرتے رہے ان کو گویا یقین تھا کہ ان کی گرفتاری عارضی ہے اور وہ دوبارہ سے اقتدار میں آنے والے ہیں جن میں نجومیوں سے لے کر عدالتوں کے معاملات پر گہری نظریں رکھنے والے تجزیہ کاروں کے خیالات سے ابھرتا ہوا تاثر وغیرہ سب کچھ کسی حیرت کدے کے ماحول سے کم معلوم نہیں ہوتا تھا جو انتہائی تشویش ناک پہلو ہے۔

اس کی دلیل ججز کے کچھ فیصلے، 9 مئی کے واقعات، اس کے بعد بھی پر اعتماد احتجاج اور دھرنے، اور اسی طرح حالیہ سہولت کاروں کی گرفتاریاں بھی اس سلسلے کو تقویت بخشتی ہوئی دلیلیں ہیں مگر سب سے بڑھ کر تحریک انصاف کا اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچ جانا بھی عوامی نفسیات کا عکاس ہے جس سے کبھی بھی حالات کے بدلنے کی پشین گوئیوں کی مکمل طور پر حوصلہ افزائی ملنے کے اندازے تذبذب کا شکار ہیں۔

ابھی پچھلے 12 سالوں سے ذہنوں پر کی ہوئی محنت سے بنائے گئے یقین یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ عمران خان پروجیکٹ نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے اور اسی سوچ کو دیکھتے ہوئے عوام کے صدقے جانے کے منظرنامے کی روشنی میں اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں معدوم ہونے کا یقین کر لینا مشکل لگتا ہے۔ جس کی وجہ عوام کی شعوری سطح کے علاوہ ان کہانیوں سے جڑے ہوئے کچھ کرداروں کی مثالیں بھی ہیں جنہوں نے مالی مفادات کے ساتھ ساتھ سیاسی فائدے بھی اٹھائے اور چند سالوں کی معمولی سزاؤں کے بعد وہ پھر سے نئے جذبے اور جوش کے ساتھ میدان عمل میں اترے اور ایک نئی کہانی تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی لئے شاہد اس طرح کے کرداروں میں کبھی خوف یا ملامت دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اب اس گرفتاری کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کہانی کو بھی مٹی پاؤ کے طور پر لے کر جس طرح سے پرویز مشرف کو پورا تحفظ فراہم کیا گیا اسی طرح اس کہانی کو بھی روایتی انداز سے چلایا جائے گا یا پھر اسے مستقبل کو لاحق خدشات اور خطرات سے بچنے کے لئے سبق آموز بنانے کی کوشش کی جائے گی جو اس ریاست کے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے باہمی گٹھ جوڑ سے اقتدار کے ایوانون میں جمہوریت کے نام پر کئے گئے مختلف ریہرسل پروگراموں کی ایک کڑی ہوتے ہیں جن کا تعلق آج کے سیاسی ماحول سے بھی جڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو شاید اس ملک کی تقدیر کا حصہ ہیں کیونکہ ایسے پروجیکٹس کے اختتام کے لئے بھی تو ایک نئے پروجیکٹ کی ضرورت درپیش ہوتی ہے جس کی وجہ شاید سیاست دانوں کی اکیلے سبق آموز کہانیوں کی تخلیق میں نا اہلی سمجھ لیں یا بے بسیاں جن کی پچھلی دو دہائیوں میں کی گئیں تمام کوششیں دم توڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور ان کوششوں میں مصروف عمل سیاسی جماعتیں بھی پھر سے انہیں پرانی بھول بھلیوں کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔

اگر اس کے سیاسی پہلوؤں کو دیکھیں تو اس وقت اقتدار میں موجود سیاسی جماعتوں کے بیانیے ان کو اپنی سیاسی مخالفت کے پیش نظر بولنے پر مجبور کر رہے ہیں مگر ان کے مؤقف میں وزن ہونے کے باوجود ان کو پذیرائی ملتی ہوئی نظر نہیں آتی اور نہ ہی ماضی کی تاریخ کسی ایسے کردار کی سیاسی دخل اندازی پر اس کا محاسبہ کرنے کے یقین کو تقویت دیتی ہے۔ پرویز مشرف والے معاملے میں تو عدالتی فیصلہ بھی موجود تھا مگر اس کے آفٹر شاکس نے اس عدالت کا ہی وہ حشر کیا جو ایک خبردار نشان ہے۔ ہاں البتہ اس میں 9 مئی کے واقعات سے جڑا ہوا کردار شاید کسی طرح بھی ہضم نہ ہو پائے کیونکہ اس سے مستقبل میں ادارے کے کمزور ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے ان کی حمایت کی گنجائش معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ البتہ فیض حمید ایک بہت اہم عہدے پر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ملک کے بہت حساس معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں اس لئے فیصلے سے قبل مفروضوں کی بنیاد پرسزا یا فیصلوں کی پشین گوئیاں کرنا ذمہ دار رویے کی علامت نہیں۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ موجودہ گرفتاریاں ماضی کی کہانیوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہیں یا پھر ان سے کوئی امید افزا وقت دیکھنے کو ملے گا جس کی ابھی تک قوم تیار نہیں ہے مگر ہم نا امید پھر بھی نہیں کیونکہ کوئی جتنا بھی تقدیر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے اس کا مکافات عمل کے انتقام سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے اور قدرت کے کبھی نہ بدلنے والے اصولوں کا شکار ہونا بھی اسی تقدیر کا حصہ ہوتا ہے جس کی تقسیم میں رد و بدل کی کوششوں سے وہ عارضی فائدے اٹھاتا رہتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہر ایسے کردار کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکافات عمل کے شکار بھنور کا حصہ بنانا چاہتا ہے یا اصلاح کی کاوشوں میں مصروف عمل کرداروں کی فہرست میں شمار کرانا چاہتا ہے۔ صاحب اختیار اور اقتدار لوگوں سے فقط اتنی گزارش ہے کہ کم از کم ایسی کہانیوں میں موجود کرداروں کے ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ مالی فوائد کو تو ریاست کو لوٹا دیں تاکہ کسی حد تک مفاد پرست سوچیں رکھنے والوں کی کچھ حوصلہ شکنی ہو اور یہ عمل ان کی سوچوں کی اصلاح کی بنیاد بن سکے۔

آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان مزید ان عام معافیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نہ صرف ملکی معیشت اس حکمت عملی سے اکتا چکی ہے بلکہ یہ ہماری ریاست کے اندر اتحاد اور نظم و نسق کو بھی بری طرح سے تباہ کر چکا ہے۔ غلطیوں کو تحفظ فراہم کرتے کرتے اب غلطیاں حماقت اور بغاوت کا روپ دھارنے لگی ہیں اور معافیوں کے سلسلے نے اداروں کے سربراہان کے اندر حوصلہ افزائی اس قدر بڑھا دی ہے کہ وہ آئین و قانون اور ڈسپلن لفظ کا تمسخر اڑانے لگے ہیں جس سے نہ صرف قومی سطح پر اعتماد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی قومی تشخص بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اس لئے اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ روک ہی لیا جائے تو بہتر ہو گا اور قوم کو اچھے فیصلوں پر اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ان کی تعریف اور تائید کرتے ہوئے داد دینی چاہیے۔

منگل، 14 جنوری، 2025

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف

 

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج  حکومتی سطح پر  قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔  حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔  

جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا  نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟

چلیں آپ کو اپنا  ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو  پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب  تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو  اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔  بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔

مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔

بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور  دیکھے۔

جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور  سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو  اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔

جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی  عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست  کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔

ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی  ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔

بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف  مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔

نظام کی اصلاح کی اصل  ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً  کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ،  سیاسی  نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔

مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں  اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے   تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی

کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے

اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو

بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔


(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)

جمعرات، 9 جنوری، 2025

عمران خان اپنی مقبولیت کو کیسے ناقابل تسخیر اور انقلابی بنا سکتے ہیں؟

 

ان کی مقبولیت کا کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے مگر اس کا احساس اور تشویش ہر سطح پر ضرور موجود ہے لیکن اس کا ان کو متوقع فائدہ کیوں نہیں مل رہا اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ انکی موجودہ سیاسی حکمت عملی جس کا ڈھنگ 2014 والا اور بیانیہ 2022 والا ہے وہ موجودہ سیاسی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے جو سیاسی حکمت عملی 2014 میں بنائی تھی وہ اس وقت کے حالات کے مطابق ٹھیک تھی مگر آج نہیں کیونکہ اس وقت جو سہولیات اور ماحول ان کو میسر تھا  وہ آج نہیں جس کا انہوں نے اپنے تمام تر احتجاج اور ریلیوں اور دوسرے حربے استعمال کر کے اندازہ بھی لگا لیا ہوگا اسی طرح 2022 والا بیانیہ جس کی بنیاد مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں اکٹھی کرنا تھا وہ خوب چلا اور اسی سے ان کی 2022 میں گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملا لیکن اب اس کو نئی توانائی کی ضرورت ہے جس کے لئے حالات کے مطابق کسی نئی حکمت عملی کو اپنانا ہوگا تاکہ مقبولیت کو پائیدار بنایا جاسکے۔

اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں جن کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔  2022 میں تو ان کی حکومت کی تبدیلی سے انکو سیاسی نقصان کی بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اور اگر وہ اپنی صوبائی حکومت کے مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ان کی ایک اور بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے مذید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق پہنچتا ہے مگر اس کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ حکومت نے ان کے تمام حربوں کے اثرات کوزائل کرتے ہوئے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔

انکے آپریٹرز نے بنگلہ دیش ماڈل کو بھی آزمانے کی کوشش کی مگر وہ بھی نہ چل سکا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس مقبولیت کے پیچھے وہ نظریاتی طاقت نہیں جو مقبولیت کو شعوری بنا کر انقلانی بناتی ہے۔ حکومتوں کی طرف سے طاقت کا استعمال اور مزاحمت کا سامنا ہر انقلاب کو ہوتا ہے مگر اس کو عبور کرنے کے لئے اصل طاقت شعور ہی ہوتا ہے۔

جس کی بنیاد ضد۔ ہٹ دھرمی، انا اور شخصیت پرستی نہیں بلکہ حق و باطلا اور صحیح وہ غلط کی پہچان اور بہتری کی نیت ہوتی ہے۔ جس میں اپنا بھی اگر غلط کر رہا ہو تو اس پر تنقید اور مخالف بھی صحیح کر رہا ہوتو اس کی تائید کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کے سامنے کسی سیاسی جماعت کی اندھی تقلید نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے جذبے، نظریے اور شعور کی طاقت تھی جس نے خود ہی قیادت بھی تلاش کر لی اور مشکلات کے با وجود اپنی منزل پا لی۔ نوجوان سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق سے بالا تر ہو کر نکلے انکا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو درپیش مسائل کا حل اور ملک کی ترقی و خوشحالی تھا۔

معزرت کے ساتھ انکی مقبولیت کو شعوری کہنا قدرے مشکل ہے کیونکہ اس کی بنیاد مظلومیت پر ہمدردی کا بیانیہ ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جسے سمجھنے کے لئے 2018 سے لے کر 2022 تک کے منظرنامے میں جا کر حکومت میں ہوتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر عوامی تاثرات کو دیکھنا پڑے گا۔ جب وہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے انتہائی نالاں تھے حتیٰ کہ انکے ممبران اسمبلی بھی آپ کو چھوڑنے کی راہیں تلاش کر رہے تھے اور اسی کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی مزید انکے ساتھ چلنے سے کنارہ کشی کا فیصلہ کیا جو ایک حقیقت ہے جس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کی وجوہات میں ایک 2018 میں آپ کو حکومت دینے اور آپ کے قبول کرنے کی سیاسی غلطی بھی شامل ہے جس کو شعور کے کینوس پر مقبولیت کی راست بنیاد تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ سہولت کاری کا حصول، امیدیں اور محاذ آرائی کا یک ساتھ کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

اس نئی حکمت عملی میں حقائق کو قوم کے سامنے رکھتے ہوئے جمہوری اقدار اور سیاسی اصولوں پر قائم رہنے والی اپنی سیاست کا آغاز کرنا ہوگا جس میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنے کی بجائے سیاسی حلقوں میں اپنے اثر کو بڑھاتے ہوئے عدالتوں، پارلیمان، الیکشن کمیشن، سوشل میڈیا اور کے پی کے میں اپنی گورننس پر توجہ دیتے ہوئے اپنی سیاسی مقبولیت کو شعوری بنا کر اپنی سیاسی جنگ کو جیتنا ہوگا۔ اپنی دوسرے درجے کی سیاسی قیادت کی صفوں میں پھر سے سنجیدہ سیاستدانون کی جگہہ پیدا کرنے کا ماحول بنانا ہوگا جس سے ملک کی نظریاتی، سیاسی اور جمہوری سطحوں پر ان کی سیاست بارے سنجیدہ تاثر ابھرے۔

اور پارلیمان کی سیاست کو اپنے حق میں کیا جا سکے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں سیاست اور محبت میں سب ممکن ہے۔ اگر ان کے نظریاتی طور پر سب سے بڑی مخالف جماعت جے یو آئی کے ساتھ قربت اور مذاکرات کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جیسا کہ چند ماہ پہلے دیکھا گیا تو باقی جماعتوں کے ساتھ کیوں نہیں؟ حکومت میں شامل بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون کے اتحادی ہونے کے باوجود بھی اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر عوامی پزیرائی کی دوڑ میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے تو ان کو بھی آئین کی بالادستی، عوامی حکمرانی کی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہوئے پارلیمان میں اپنی مثبت سوچ و عمل کے زریعے سے اپنی اہمیت کو پیدا کرنا ہوگا اور عوام کو احتجاج اور دھرنوں کی بجائے اس طرف متوجہ کر کے پارلیمان کے اندر 2022 کی طرز پر عدم اعتماد کے زریعے سے حکومت کی تبدیلی کے آثار پیدا کر کے اپنی مقبولیت کو سہارا دینا ہوگا۔ جمہوریت مضبوط ہوگی تو پائیدار سیاست کا ماحول بنے گا۔

اور سیاسی ماحول کی تبدیلی میں جس طرح سے انہوں نے خود صحافی کے سوال پر یہ اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے معیشت کو سنبھال لیا ہے ملک کے سیاسی حالات کو نیا موڑ دینے والے ہیں۔ ان کی اس مقبولیت کو اگر سہارا نہ دیا گیا تو نقصان دینے والے ہیں جن کا آغاز کے پی کے سے ہوگا جہاں انکے پاس پچھلے تین دورانیوں سے حکومت ہے اور عنقریب صوبوں کے درمیان کارکردگی کی بنیادوں پر شعوری مقبولیت کا متحمل مقابلہ ہونے والا ہے جس میں ہر صوبے کے عوام دوسرے صوبوں کے حالات سے متاثر ہوتے ہوئے اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور خرابیوں پر تنقید کرنے پر مجبور ہونگے بلکہ بحث مباحثے اور مذاکرے ہونگے جن کی پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔

اور یہ معیشت کی بہتری کا اعتراف ان سے اپنے سیاسی محاسبے کا تقاضہ کر رہا ہے۔ ان کی طرف سے بہتری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حکمت عملی جس میں انکی صوبائی حکومتوں کی طرف سے آئی ایم ایف کو قرضہ نہ دینے کے خطوط اور ملک کے ڈیفالٹ ہو جانے کا بیانیہ تھا پر ندامت کی بجائے ابھی بھی بیرونی زرمبادلہ میں رکاوٹ بننے کی کوششوں پر قائم ہیں جس کو بدلنا ہوگا۔ اگر انہوں نے معیشت کی بہتری کے اعتراف کے ساتھ مرکزی حکومت کی ترقی پر سوالیہ نشان اٹھایا ہے تو شعوری سطح پر دانشمندی کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ اب خیبر پختونخواہ صوبہ جہاں انکی جماعت پچھلے بارہ سالوں سے بر سراقتدار ہے اپنی ترقی کے وہ نمونے عوام کو دکھائیں جن میں وہ دوسرے صوبوں سے آگے ہوں تاکہ عوام میں ان کو مزید پزیرائی ملے۔

اب ان سب سوالوں کا سامنا کرنے کی تیاری کرنی ہوگی جس کے لئے کے پی کے میں گورننس کو بہتر بنا کر عوام کو سہولتیں دینے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اگر وہاں دوسرے صوبوں میں عدالتوں اور پولیس کو مطلوب افراد کو پناہ مل سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کی حصول کی کوشش کے با وجود تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے تو وہاں پر امن کے لئے اپنے اختیارات اور صلاحیتوں کو کیوں نہیں استعمال کیا جا سکتا تاکہ عوام کو ریلیف دے کر ان کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

فروری 2024 کے انتخابات نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ سوشل میڈیا اب کوئی فرضی بات نہیں رہی بلکہ یہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ ایک عملی سیاست کا حصہ ہے جس پر تکنیکی اعتبار سے خلا پر قابض ہونے کی آپ کی جماعت کو برتری حاصل ہے جس کا فائدہ اٹھانے کے لئے اب اپنی مقبولیت کو شعوری بنانے اور آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کرنا ہونگی۔ اگر اپنے ووٹرز کو انگیج رکھنے کو وہ اپنی مجبوری سمجھتے ہیں تو اسے سوشل میڈیا کے سپیس میں جاری رکھا جا سکتا ہے بلکہ وہاں ہی ان کو پارلیمانی سیاست میں کوششوں سے متوقع نتائج کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اور اس غیر مشروط مقبولیت کو اگر محاذآرائی میں استعمال کرکے فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا تو ملک و قوم کی فلاح میں مفاہمت کا کوئی بیانیہ بنا کر اس سے مستفید ہونے کی راہیں تلاش کی جائیں۔

اگر وہ ملک و قوم کی فلاح کے لئے مثبت سوچ رکھتے ہیں تو   سیاسی استحکام کا کریڈٹ لینا چاہیے اور اس ضمن میں انہیں اپنی طرف سے میثاق مفاہمت پیش کرتے ہوئے سب سیاسی جماعتوں اوراسٹیبلشمنٹ کو یہ تجویز دینی چاہیے کہ آئیں اگلے پانچ سالوں کے لئے سیاست میں محاذ آرائی کو ختم کرتے ہوئے ملکی فلاح کے لئے سب مل کر دنیا کی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے مواقعے تلاش کرتے ہیں تو ان کی مقبولیت ناقابل تسخیر بن جائے گی۔اور وہ اس میثاق کو اپنے اسٹیبلشمنٹ کے حکومت سازی میں دخل اندازی سے باز رہنے اور اصلاحات سے مشروط کر کے اپنے ان مخلصانہ مطالبات پر  دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی ہمدردیاں  حاصل کر سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اگر وہ دباؤ اور محاذ آرائی سے زیر نہیں کر سکے اور اپنے لئے الٹا مشکلات پیدا کی ہیں تو اس کا سبب ان کی سرگرمیاں اور ان سے ابھرنے والا تاثر ہے وگرنہ ان کی قائدانہ اور ان کی سوشل ٹیم کی اہلیت اور صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں۔ اگر وہ 27 نومبر 2022، 9مئی 2023یا 26نومبر 2024 جیسی سرگرمیوں کے منفی تاثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے تو اتنی مشکلات پیدا ہی نہ ہوتیں۔اب بھی اصل مسئلہ ہی ان کی طرف سے سیاسی استحکام کی یقین دہانی کا ہے اور جو جو ان کی جماعت میں سے کرواتا گیا وہ امن میں ہے۔  لہذا اگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی وہ مجبوری بن جائیں تو وہ اپنی ان صلاحتوں کو محض مثبت سمت دے کر اپنی اہمیت کو نمایاں بنا سکتے ہیں۔  حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو انکی ذات سے نہیں بلکہ ان کی محاذ آرائی سے شکوہ ہے ۔

ان کے لئے مرکزی حکومت سے باہر اور اپنی صوبائی حکومت کے پلیٹ فارم سے بھی  مواقع موجود ہیں۔وہ اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کی بے مثال صلاحیتوں کو  مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے آئی ٹی سے منسلک کسی ایسے پراجیکٹ کے ماڈل کی مثال قائم کرکے پاکستان کی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقعوں سے انکی دلچسپیوں کو سہارا دیتے ہوئے ملکی اور عالمی سطح پربحثیت ایک فل ان تھراپسٹ کے شوکت خانم یا نمل یونیورسٹی کی طرز پر  معاشی انقلاب یا پاکستان میں سرمایہ کاری اور ریمیٹنس کی آمد کے لئے اپنا کردار ادا کرکے حکومت کو اپنا احسان مند یاحکومت سے باہر رہ کر بھی عوامی پزیرائی کو اپنے حق میں ٹھہرا سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی مقبولیت کی صلاحتیوں اور اہلیت کا استعمال ہوتے ہوئے پاکستان کو نمایاں فائدہ پہنچے جس کی ایکنالجمنٹ ان کے حریفوں کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پیچھے چھوڑ دے۔

ان سے حکومت لئے جانے کی بنیادی وجہ ہی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال تھی جس کا اعتراف ان کے وزراء بھی کر چکے ہیں کہ "اگر ان کی حکومت نہ جاتی تو بہت خرابی پیدا ہونے والی تھی" وگرنہ جس قدر ان کو سہولتیں دی جاتی رہی ہیں ان کی پاکستان کی آمرانہ جمہوریت میں مثال نہیں ملتی جس کی ایک نئی جہت "ہائبرڈ جمہوریت"انہی کی ان سہولتکاریوں اور ایک پیج پر ہونے کے ماحول سے متعارف ہوئی ہے جس کی مخالفت کے وہ اس وقت سب سے بڑے علم بردار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف جس طرح سے ان کا سیاسی بیانیے میں دعویٰ ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان سے نہ سنبھال پانے کی وجہ سے معیشت خراب ہوئی ہے تو اپنی اور اپنی ٹیم کی  صلاحیتوں سے اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اب بھی اگر معیشت میں بہتری کا کوئی ماڈل یا اس میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان کی ہر طرح کی محاذآرائی خود بخود ہی منطقی انجام کو پہنچ جائے گی۔ یا پھر  حکومت کی میثاق معیشت پر ساتھ دینے کی آفر پر انہیں متاثر کن تجاویز دے کرمعیشت کی بہتری کے عمل میں سربراہی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں  یا   اپنی صوبائی حکومت کے لئے مالی امداد یا ترقیاتی پراجیکٹ کے حصول کو مذاکرات میں مدد سے مشروط کرکے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔

اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک مناسب نہیں تو پھر ان کو اپنے دور اقتدار کے حالات کو بھی یاد کرنا چاہیے کہیں یہ مکافات عمل کا ہی تسلسل تو نہیں جس کوختم کرنے کے لئے بھی سیاسی ماحول کو جمہوری اقدار اور اصولی سیاست سے مزین کرنے سے مشروط ہونے کو یقینی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا جو مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ جس کا ان کو 2018 میں اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے سیاسی جماعتوں کی طرف سے عندیہ دیا گیا جس کو انہوں نے نظر انداز کر دیا تھا۔

اگر اس تسلسل میں وہ این آر او کے مرحلے میں داخل ہونا چاہتے ہوں جس کا انہوں نے بظاہر تو انکار بھی کیا ہے لیکن اگر کوئی ایسی امید وابسطہ کی بھی جا رہی ہے تو غیر مناسب نہیں۔ سیاسی بنیادوں پر اسیری کوئی اچھی مثال نہیں اس کا بھی کوئی مستقل حل سیاسی جماعتوں کو باہمی اتفاق رائے سے سیاسی نگرانی والی طرز پر ڈھونڈنا چاہیے تاکہ کل کوئی نیا سیاسی کردار پھر سے اس عمل کا آغاز نہ کر دے۔

بین الاقوامی سطح پر انکی  حمائت کے لئے پی ٹی آئی  سوشل میڈیا کی ٹیم کی کوششیں قابل تعریف ہیں مگر ان کا فائدہ بھی اس لئے نہیں ہو پا رہا کہ پاکستان کے دوست ممالک جن کی پاکستان کے تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے ساتھ مفادات اور دلچسپیاں جڑی ہوئی ہیں بھی ان سے اپنی راہ میں رکاوٹ بننے سے خائف ہونے کی بنیاد پر نالاں ہیں جو وہ ہر دفعہ بیرونی ڈیلیگیشن کی آمد پر احتجاج اور دھرنوں سے مشکلات کی صورت اپنے بارے ایک تاثر بنا چکے ہیں کو بھی اب تبدیل کرنا ہوگا اور بیرونی دباؤ کو ان کے ساتھ ہمدردیوں کی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔

مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اس مقبولیت کو اگر سمجھا جائے تو قومی اثاثہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے سیاستدانوں کو اجتماعی سطح پر سوچ کر اس کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اسے اقتدار کے حصول کی طمع سے آزاد کر کے عمران خان کو وہی 1992 والا عمراں خان سمجھتے ہوئے میثاق مفاہمت کی طرز پر کسی معاہدے پر پہنچ کر اپنا ہیرو بنالیں اور انہیں بھی ایسی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اوراس پرسب کا ممنون ہونے کا رویہ اپنانے میں پہل کرنی چاہیے۔ اقتدار کی جنگ کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ  سے بھی گزارش ہےکہ وہ اس مقبولیت کو اپنے حریف کی نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کو شعور دےکر اپنی افرادی قوت کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ملکی سلامتی اور خوشحالی میں استعمال ہونے کے ماحول کو پیدا کر کے اگر وہ اپنی سیاسی  ساکھ کی قربانیاں دے کر ملک کو بچانے کے دعوے کا عملی ثبوت دینا چاہتے ہیں تو  پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کو "قومی میثاق مفاہمت" پر ایک ہوجانے سے مشروط کر دیں اور عالمی سطح پر ایک "سافٹ انقلاب" کی نئی مثال قائم کرنے میں اپنے حصےکا کردار ادا کرنے میں دیر نہ کریں یا اس کا کوئی دوسرا حل ڈھونڈیں۔

اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو آپس کی محاذ آرائی کا رجحان نہ صرف قومی افرادی قوت کےزائل ہونے کی خطرات رہیں گے بلکہ سیاسی عدم استحکام سے معاشی بہتری کی رفتار بھی متاثر ہوگی کیونکہ جہاں ایک طرف حکومت کی کوششوں سے سرمایہ آ رہا ہے وہاں سول نافرمانی جیسی تحریکوں سے فارن ریمٹنس بھی متاثر ہورہی ہے اور عوام میں مایوسی سے لوگ سرمایہ لے کر یہاں سے بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں جس سے اچھے نتائج کی توقعات کم پڑتی جائیں گی۔


منگل، 26 مارچ، 2024

سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟

 

اس وقت دنیا میں سوشل میڈیا کے زریعے سے آزادی اظہار رائے کو ایک بنیادی انسانی حقوق کا درجہ حاصل ہے اور اس کی آسان و تیزر رفتار رسائی کے سبب عوامی مقبولیت نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے لیکن اس میں جو بنیادی مسئلہ ہے وہ اس کے غلط استعمال میں جوابدہی کا کمزور میکنزم ہے جس نے ریاستوں کے انتظامی معاملات سے لے کر سیاسی اور سفارتی تعلقات تک متاثر کردہ اس کا بڑھتا ہوا دائرہ ہے جس نے ریاستوں کی سالمیت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔  

ڈیجیٹل کمپنیاں جو سوشل میڈیا کی مالک ہیں وہ اس وقت معیشت اور جنگی ٹیکنالوجی کے بعد عالمی طاقت کے ایک تیسرے موثر ہتھیار کے طور پر پہچانی جانے لگی ہیں  جن کو مبینہ طور پر جاسوسی سے لے کر عوامی ڈیٹا حاصل کرکے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کرنے  اور عوامی رائے کو ہموار کرنے تک کا کام لیا جا رہا ہے۔ اور اس وقت کوئی بھی ریاست ایسی نہیں جو ان کے عمل دخل سے متاثر نہ ہو رہی ہو جن میں عرب سپرنگ سے لے کر موجودہ امریکی ایوان نمائندگان میں ٹک ٹاک پر پابندی کے بل کی منظوری تک شامل ہیں۔

جس میں بظاہر تو کمپنی کی ملکیت کی تبدیلیکی اہمیت اور افادیت کو بنیاد بنایا گیا ہے لیکن اس پر امریکہ کے صدارتی انتخابات کے امیدواران کے درمیان عوامی سطح پر جو بحث چھڑ گئی ہے اس سے اس کے سیاسی خدشات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔ جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں متاثر ہونے والی کمپنی بائٹ ڈانس کے ساتھ اختلاف ہونے کے باوجود اس پابندی کی مخالفت کی ہے اور ماضی کے صدارتی انتخابات میں بھی سوشل میڈیا کے عمل دخل سے حمائت کے الزامات کا پرچار رہا ہے اور دنیا کی تمام بڑی طاقتیں سوشل میڈیا کے سیاسی عمل میں دخل اندازی کے الزامات کا اظہار کرتی ہوئی دیکھی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کے جہاں مثبت اثرات کے فائدے ہیں وہاں اس کے جھوٹے الزامات اور بد اخلاقی پر مبنی بیانیوں کے پراپیگنڈے کے منفی اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس کا اندازہ سیاسی شعور کے نام پر اخلاقی تباہی سے لگایا جاسکتا ہے جس کے اندر ادب، تعظیم، بردباری اور برداشت ناپید ہو چکی ہے۔ اور اگر اب بھی ان سادہ ذہنوں پر انسانی بنیادی حقوق کی آڑ میں پھیلائی جانی والی اخلاقی تباہی، تخریبی سرگرمیوں اور انتشاری سوچوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہوگا جس سے کئی ریاستوں کو بہت بڑی خانہ جنگی جیسی تباہیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایسے ہی بیانیے پاکستان میں بھی پچھلے کئی سالوں سے چلائے جارہے تھے جن کی تباہی سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے معاشی تباہی لائی گئی بلکہ ریاست اور اداروں کے خلاف جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ کے زریعے سے سالمیت کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا جس کے رد عمل میں حکومت کو مجبوراً سوشل میڈیا کے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے حکمت عملی اپنانی پڑی جو سوشل میڈیا اور خاص طور پر ایکس کی سروس متاثر ہونے کی بنیادی وجہ بنیں۔

مگر اس کا حل پابندیاں نہیں بلکہ جس طرح سے پوری دنیا میں مختلف سافٹ وئیرز اور سائبر کرائم کنڑول کے اداروں کی مدد سے اس معاملے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے ہی ہمیں بھی اپنے آئی ٹی ایکسپرٹس کے زریعے سے  اس جنگ کو جیتنا ہوگا۔ ان بے بنیاد الزامات کو بے نقاب کر کے عوامی تاثر کو بدلنا ہوگا وگرنہ یہ پابندیاں اس ریاست خلاف شور و غوغے کو مزید تقویت دینگی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مزید تاثر ابھرے گا۔

اس پر کسی کو بھی اختلاف نہیں کہ سوشل میڈیا آزادی اظہار رائے کا ایک زریعہ ہے اور اس پر پابندی سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں مگر انسانی بنیادی حقوق کسی بھی صورت اپنی حدود و قیود، نظم و ضبط اور ملکی آئین و قانون سے ماورا آزادی کے دعوے دار نہیں اور نہ ہی شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں یا صحافتی شعبوں سے وابسطہ افراد کو اپنے حقوق کی آڑ میں ذمہ داریوں سے ماورائے آئین و قانون اقدام اٹھانے پر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

جس طرح سے ہمارے ہاں اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ایسی دنیا میں کہیں بھی اجازت نہیں دی جاتی کہ سب آئینی و قانونی اور اخلاقی حدود عبور کر دی جائیں جس اندازہ آپ کو ان نام نہاد انسانی حقوق اور صحافت کے علمداروں کی سوچ عمل سے بھی ہو سکتا ہے۔ پچھلے دنوں جب قانونی ادارے حرکت میں آئے تو انہوں نے اپنے اکاونٹس سے پوسٹس کو ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیا جو بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اندر اپنی کمزور بنیادوں اور قانونی خلاف ورزیوں کا احساس موجود تھا جو قانونی اداروں کی طرف سے در گزر کئے جانے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔

جہاں سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کو ایک بنیادی انسانی حق کا درجہ حاصل ہے وہیں اس کی آڑ میں تخریبی اور انتشاری سوچوں کو پھیلا کر ملکی امن اور سلامتی کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر خراب کرنا بھی محض ایک قومی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر جرم سمجھا جاتا ہے اور کسی بھی خود مختار ریاست کے اندر اس کی قطعاً اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بلکہ قومی اور عالمی قوانین میں بھی ریاستوں کو اپنی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کی گنجائش موجود ہے اور ہر ریاست ان کے اطلاق کا حق رکھتی ہے۔ جس طرح سے 9 مئی کو ریاست نے سوشل میڈیا کی سروس کو معطل کر کے دہشت گردی پر قابو پایا وہ عمل صرف قومی و عالمی قوانین سے مطابقت ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ عوامی تحفظ اور قومی سالمیت کی خاطر اٹھایا جانے والا عوامی سطح پر ایک قابل تحسین عمل تھا جس پر اختلاف کو نہ ہی قانونی طور پر اور نہ ہی اخلاقی طور پر سراہا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق اور صحافت سے منسلک ایکٹوسٹس کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقوق او ذمہ داریوں میں توازن کو قائم رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے کام میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کریں بلکہ اس کا سبب بننے والے ایسے عناصر جو ان حقوق کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی تشہیر کی خاطر قومی اور شہری ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور ریاست کے خلاف بے بنیاد الزامات سے عالمی سطح پر قومی تشخص کو خراب کرتے ہیں ان کو بھی بے نقاب کر کے ریاست کے دست و بازو بنیں تاکہ انسانی حقوق کی پاسداری کے تصور کو عملی جامہ پہنچانا آسان بنایا جاسکے کیونکہ ایک خود مختار ریاست کے تصور میں حقوق کی پاسداری کو تب ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے جب اس کو امن اور سالمیت میں مکمل تقویت حاصل ہو۔ یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بنیادی حقوق کی آزادی کو ریاستی سالمیت اور عوامی امن پر ترجیح دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی خود مختار ریاست کا آئین و قانون یا عالمی قوانین اس کی حمائت کرتے ہیں۔

جیسے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو عوامی تاثرات کی بنیاد پر آئینی و قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کی خواہشوں کے پیش نظر بد اخلاقی کا نشانہ بنایا گیا، ماضی کے واقعات پر استدلال کرتے ہوئے فوجی ادارے کو براہ راست دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے یا ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے لباس بارے برانڈز کو ڈسکس کیا جاتا ہے یہ کون سی انویسٹیگیٹو صحافت ہے جس کی خاطر ان عناصر کا بنیادی حق آزادی اظہار رائے خطرے میں دکھائی دے رہا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ان پابندیوں کے اصل ذمہ دار ہی اس طرح کی صحافت اور انسانی حقوق کی آواز اٹھانے والے ہیں جن کی وجہ سے سب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث زیادہ تر عناصر بیرونی ممالک میں بیٹھ کر عوامی ذہنوں کو خراب کرکے سالمیت کے لئے خطرہ بنتے ہیں۔ ان کو وہاں آسودہ حال رہن سہن میں یہاں کے امن، خوشحالی اور حب الوطنی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصد ہی امن عامہ کو خراب کرکے اپنے مالی فوائد کا حصول ہوتا ہے اور سادہ ذہن لوگ ان کی سازشی سرگرمیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

انسانی حقوق اور اصولی صحافت کرنے والے کبھی بھی اس طرح کے جھوٹے بیانیے کی حمائت نہیں کرتے بلکہ اگر انسانی حقوق کو انسانی ترقی کے متعلق  ہمارے عالمی سطح پر اعدادوشمار کی بنیاد پر درجہ بندی کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بات سمجھنا مزید آسان ہو جاتی ہے جس میں ہم 161 ویں نمبر پر ہیں جس کے براہ راست اثرات ہماری انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کی کار کردگی پر بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بغیر یہ لوگ انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر ریاست کے تشخص کو مجروح کرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کے اندر حب الوطنی کے فقدان کی بلکہ ان کی علمی نا اہلی کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔


پیر، 29 جنوری، 2024

پاکستان کو سوشل میڈیا کے محاذ پر سرد جنگ کا سامنا ہے

سوشل میڈیا یوں تو علم، ادب، معلومات تک رسائی اور عوامی رائے کو ہموار کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور انسانی علم و تربیت اور ترقی میں اس کا نمایاں کردار ہے لیکن بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح ہو رہا ہو، وگرنہ یہ تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس کی ایک جھلک ہماری موجودہ سیاسی صورت حال بھی ہے جس کے پیچھے ہماری اپنی ہی 10 سالہ محنت کے ثمرات ہیں۔ اس کے تحت ایک خاص سوچ و عمل، رویے اور مزاج کی قومی سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ ریاست کے وسائل اس کے ہاتھ میں تھے، عدالتوں نے اسے صادق و امین کی سند دی، صحافت نے اسے واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا، سوشل میڈیا کی جادوگری نے اسے امت مسلمہ کا لیڈر ڈیکلئیر کر دیا اور قوم نے ریاستی اداروں، انصاف کے عملبرداروں اور نام نہاد مدبروں کے فرمودات کی روشنی میں اسے تسلیم کر لیا۔ جس کسی نے اس کی مخالفت کی اس کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

اب اداروں کو جب اس اکھڑ، متکبرانہ اور تضحیک آمیز مزاج کا سامنا کرنا پڑا ہے تو انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں مگر ایک لمبے عرصے پر محیط محنت کے اثرات ختم ہوتے ہوتے بھی وقت درکار ہو گا۔ کیونکہ اس مزاج کی امامت میں اب عوام کی کثیر تعداد لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں اتر چکی ہے۔ جو اُس وقت بچے تھے وہ اب جوان ہو چکے ہیں اور ملک و قوم کا مستقبل ہیں جن میں سے کئی اہم ذمہ داریوں پر بھی فائز ہو چکے ہوں گے۔ جو اس وقت جوان تھے وہ اب کوئی ماں تو کوئی باپ بن کر اگلی نسل کی تربیت کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ جو سبق ان کو دیا گیا تھا وہ اب اگلی نسلوں کو منتقل کر رہے ہیں اور کئی اپنی بزرگی کے باعث قبیلوں کی تربیت کے کارنامے سرانجام دے رہے ہوں گے۔

ان کو اگلی دہائیوں تک اقتدار کے دکھائے گئے خواب اب ایک ضد بن چکے ہیں اور ان کے نزدیک اب سیاست کی تعریف ہی حصول اقتدار ہے جس پر عمل درآمد کے لیے وہ انتہائی اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ ان کی پیدا کردہ سیاسی تفرقہ بازی، انتشار پسندی اور عدم استحکام ملک و قوم کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرنے پر قادر ہو چکا ہے۔

اس سے متاثر ہونے والوں میں اچھی خاصی تعداد ایسے نام نہاد پڑھے لکھوں کی بھی ہے جو سوشل میڈیا کو آسمانی صحیفہ سمجھ کر اس کے مقدس فرمودات کو اپنے یقین کا حصہ بناتے رہے۔ ان میں استاد، ڈاکٹر اور سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں جو معاشرے کا ایک با اثر طبقہ ہیں مگر وہ بھی اس سیاسی تفرقہ بازی اور انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس سے قومی سطح پر ہی نقصانات نہیں ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارا قومی تشخص خراب ہوا ہے جس میں ہمارے بیرون ملک مقیم دوستوں کا بھی اچھا خاصا ہاتھ ہے جس نے ہمارے بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

اب انتخابات کو جس طرح سے متنازعہ بنا کر ایک نہ ختم ہونے والی انتشاری سیاست کو مزید طول دیا جا رہا ہے اس کا آغاز یوں تو 2014 سے ہی ہو گیا تھا مگر موجودہ منظرنامے میں 10 اپریل 2022 کو ایک آئینی طریقے سے ختم کی جانے والی حکومت کے بعد چند ووٹوں کے فرق والی قومی اسمبلی میں بیٹھنے کے بجائے چوک چوراہوں کی سیاست کو ترجیح دینے سے یہ شروع ہوا اور اپنی ہی صوبائی حکومتوں کو ختم کر کے جیلوں میں پہنچنے سے اب تک کا ہے۔

اگر ہم سمجھیں تو ہمارے لئے اس کے اندر ایک بہت بڑا سبق موجود ہے کہ کیسے اداروں اور ریاست کی باگ ڈور غلط سوچوں کے ہاتھوں میں آ جانے سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کا مزاج قوموں کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے اور ان کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ جس کی مثال 9 مئی ہے جو ایک لیبیا ماڈل کی سازش تھی جس میں اِسی طرح سوشل میڈیا سے عوامی ذہنوں کو سیاسی شعور کے نام پر انسانی حقوق اور جمہوریت کے جھانسے میں نظام کے خلاف ورغلا کر آزادی کی تحریک شروع کروا کر عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کر دیا گیا جس کو کنٹرول کرنے کے لئے ریاست کو سخت اقدامات اٹھانے پڑے اور جانی نقصانات سے ابھرنے والے عوامی اشتعال پر حکومت کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔ اب 13 سال ہونے والے ہیں اور ملک خانہ جنگی کی حالت میں ہے۔ اس انتشار پسندانہ جمہوریت نے لوگوں کا جینا محال بنا دیا ہوا ہے۔

ہماری فوج کی اعلیٰ صلاحیتوں، بروقت اقدامات اور کامیاب حکمت عملی سے 9 مئی کے فسادات پر قابو پا لیا گیا، وگرنہ اگر تھوڑی سی بھی دیر ہو جاتی تو اس انتشاری سیاست کی تباہیاں جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل جاتیں اور مشتعل عوام کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ ریاست کے اداروں نے اس نام نہاد شعور، جنون، آزادی اور مقبولیت کے غبارے سے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو بروقت بند کر کے ہوا نکال دی اور ان سازشیوں کے آپس کے روابط اور نیٹ ورک کو توڑ کر ان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ، جاہلانہ اور تباہ کن استعمال کا ظلم دیکھیے کہ کہا جاتا ہے یہ سب کچھ فوج نے خود کروایا۔ اب اس طرح کے مزاج سے عوام کے ذہنوں میں گھولے گئے زہر کا اندازہ لگا لیجیے کہ یہ کتنا خطرناک ہے اور ان کے ہم مزاج لوگ اس پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔

کیمرے کی آنکھ نے جو شواہد اکٹھے کئے ہوئے ہیں وہ تو جھوٹ نہیں بولتے۔ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی وڈیوز وائرل کرتے رہے ان کے اپنے اکاؤنٹس کا ریکارڈ اور ان کے سیاسی الحاق کے شواہد موجود ہیں جن میں کوئی بھی نامعلوم نہیں بلکہ درجہ اول کی قیادت کی رہنمائی میں کارواں رواں دواں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پھرسادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنے جرموں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ مظاہرین ٹریپ ہو گئے تھے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو کس نے ٹریپ کیا؟ ان کے ٹریپ ہونے کا سبب کیا بنا؟ ان کی قیادت کس نے کی؟ ان کو یہ سوچ کسی نے دی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جو بھی جواب تلاش کرے گا اس کو حقائق معلوم ہو جائیں گے۔

کچھ سیاسی جماعتیں محض جھوٹے بیانیے سے عوامی نفسیات کو ٹارگٹ کر کے مظلومیت کی ہمدردیوں سے عوامی سوچوں کو یرغمال بنانا اپنی کامیاب سیاسی حکمت عملی سمجھتی ہیں جس کا شکار ہو کر عوام سوشل خانہ جنگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں. عالمی سیاست میں ایسے ہتھکنڈوں سے تیسری دنیا کو بے وقوف بنا کر جغرافیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں جس کی مثال دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو علیحدگی کی تحریکوں کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔

اب اس بیانیے کے غلط ہونے پر کوئی شک نہیں مگر ان سادہ ذہنوں کو کون یقین دلائے اور کون انہیں ملک دشمنوں کے چنگل سے نکال کر آزاد کروائے۔ سوشل میڈیا نے ہماری قوم کو غلام بنایا ہوا ہے جس کا ان کو شعور کے گھمنڈ میں احساس بھی نہیں ہو رہا۔ کئی اینکرز بھی اپنی ریٹنگ کے چکر میں اس جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور مقبولیت کے لئے اس بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے نام نہاد صحافی اور سیاست دان اپنی صحافت اور سیاست کو جن خطوط پر چلا رہے ہیں اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ایسی سوچوں کو پہچاننے کا آسان سا حل ہے کہ دیکھا جائے جب پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو خراب کیا جا رہا ہو یا پاکستانی اداروں پر بے جا الزامات لگائے جا رہے ہوں تو خوشی کا اظہار کون کرتا ہے اور ایسے لوگوں کا تعلق کن سیاسی دھڑوں سے ہے۔ ایسی سوچیں کہیں بھی پائی جا سکتی ہیں۔ ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ مثلاً چند روز قبل ایران کی طرف سے حملہ ہوا تو اس سے ایسی سوچیں بے نقاب ہونے لگیں جن کو پہچاننے کے لئے قوم کو شعور دینے کی ضرورت ہے اور ایسی سوچ و عمل کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچوں کے علاج کے لئے ان کی وجوہات کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ ان کے پیچھے کون سے اندرونی و بیرونی عوامل کارفرما ہیں۔

ایسی سوچوں سے سادہ لوح عوام تو اپنی سادگی کے باعث یرغمال بنے ہی ہیں مگر جو اس کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئے وہ ایسا طبقہ ہے جس کو ریاست کے وسائل سے آسودہ اور خوشحال زندگی میسر تھی جن کا مسئلہ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری تھا ہی نہیں بلکہ وہ ایسے ماحول کی پیداوار تھے جن کا اس ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی جہاں ہی اور ہے۔ ان کی سوچیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے مزید وسائل کی تاک میں ذہنی محرومیوں کا شکار تھیں اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر وسائل پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ان میں غلط معلومات کی شکار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جنہیں پاکستان کے حالات بارے معلومات تک رسائی میڈیا کے ذریعے سے ہوتی رہی ہے۔

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ریاست اور عوام کی سوچوں میں یکسوئی لانے کے لئے ریاستی وسائل سے مہیا تنخواہوں، وظائف اور مراعات میں امتیازی سلوک کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سب کو ایک جیسے مسائل سے واسطہ پڑے اور ان کو معلوم ہو کہ ایک عام آدمی کی زندگی کیسی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ان کو عام آدمی جیسی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔

اس مزاج کو بدلنے کے لئے قوم کو ان بنیادی سنہری اصولوں سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے جن سے ان کو یہ ادراک ہو کہ کبھی بد اخلاقی کو شعور، کارکردگی سے خالی نعروں کے حامل کو نجات دہندہ اور قول و فعل میں تضاد رکھنے والے کو صادق و امین نہیں کہا جا سکتا۔

سیاست دانوں کو اگر اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے تو پھر ان کو اپنے رویوں سے اس کا ثبوت دینا ہو گا اور اپنا قبلہ درست کر کے پختہ اور سنجیدہ سیاست کی سمت بڑھنا ہو گا۔

اس میں قصور سوشل میڈیا کا نہیں بلکہ ان کا ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال سے ایسی سوچوں کو اس طرف موڑا اور شعور کے نام پر جہالت کو رواج دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا محاذ کھولا جس نے پاکستان کو ایک سرد جنگ کی طرف دھکیل دیا جو انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ قصور ہمارا بحثیت قوم بھی ہے جن کے شعور کی بنیاد قومیت نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے، جس کی بنیاد عقل و دانش نہیں بلکہ مسحور کن سبز باغات ہیں جن کا حقائق سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں، کردار و کارکردگی نہیں بلکہ دھوکے پر مبنی وعدے اور دعوے ہیں جن کی ماضی سے کوئی مطابقت ہی نہیں۔ ہم نے سوشل میڈیا سے دھوکہ کھانے کی راہ کا انتخاب خود کیا۔ ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ ہمیں معلومات دینے والے کی تعلیم، تجربہ یا معلومات کا ذریعہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہماری ذہنی صلاحیتوں کا وہ معیار ہی نہیں تھا جو مثبت تبدیلی کا موجب بنتا۔ اس میں کچھ کردار ہماری تعلیم و تربیت کی بنیاد پر وجود پانے والے مزاج کا بھی ہے جن کو اپنے ہم خیال مزاج کی طرف کشش محسوس ہوئی۔ اس میں دوسری جماعتوں سے مایوسی بھی ہو سکتی ہے اور کچھ نفسیاتی مسائل بھی ہیں جو ان کی محرومی کا سبب بنے ہوئے تھے اور ان کو جیسے ہی اپنی ہم مزاج سوچ ملی تو وہ کھنچے چلے گئے۔

اس کا حل اب انتہائی محتاط مگر پائیدار خطوط پر ڈھونڈنے کی ضرورت ہے اور اسے ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مہارتوں سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کو سوشل میڈیا کے محاذ پر ہی لڑنا ہوگا۔ قوانین اور اختیارات کے استعمال کے ساتھ ساتھ جھوٹ، تشدد اور فسادات کے سوچ و عمل کو بے نقاب کر کے معصوم ذہنوں میں بنائے گئے خاکے کے بناوٹی رنگوں کو مٹا کر ان میں نئے رنگوں کو بھر کر حقیقی نقوش ابھارنا ہوں گے جس کے لئے عقل و دانش اور عوامی نفسیات کے مطالعے کا سہارا لینے کی ضرورت ہو گی۔

وہ لوگ جو ان حقائق کو سمجھتے ہیں ان کو ریاست اور ریاست کے اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔ اس وقت ان کی سربراہی ذمہ دار اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ان کے لئے معاملات کو سنبھالنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن وقت درکار ہے۔ ماضی میں وہ غلط سوچوں کے زیر سایہ تھے اور قومی صلاحیتوں کا استعمال غلط ہوتا رہا لیکن اب بہتر کارکردگی حالات کے بارے مثبت اشارے دی رہی ہے۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین