سوچ کی غذا

‏constitution لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏constitution لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 21 فروری، 2026

مریم نے عوام کو گُڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے؟

آجکل مریم کے لگژری جہاز کے تذکرے بھی بسنت کی گڈیوں کی طرح اونچی اڑان پر ہیں۔  یہی رویہ قوم کے شعوری ہونے کی نشانی ہوتا ہے۔ سوال کرنا قوم کا حق اوراس کا تسلی بخش جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس پر پنجاب حکومت کا وضاحتی جواب بھی آچکا ہے جس میں وہ اس طیارے کی خریداری کے مقصد کو پنجاب ائیر میں شمولیت بتا رہے ہیں جبکہ اس طیارے کو ابھی تک پاکستان میں رجسٹر نہیں کروایا گیا لیکن اس مختصر وضاحت کے بعد عوامی سطح پر کئی اور سوال جنم لے رہے ہیں مثلاً یہ کہ یہ طیارہ عوامی مسافروں کے لئے نہیں بلکہ کاروباری یا اداروں کے ذاتی استعمال والا ہے یا اگر پنجاب حکومت میں اتنی صلاحیت تھی تو وہ پی آئی اے کو ہی خرید کر اپنا شوق پورا کر لیتے لیکن اب اس میں کیا حکمت ہے کہ انہوں نے قومی ائیر لائین خریدنے کی بجائے اپنی نئی ائیر لائین متعارف کروانے کو ترجیح دیا اس کی تفصیلی وضاحت تو بہرحال پنجاب حکومت ہی دے سکتی ہے۔

حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لئے طیارے خریدتی رہتی ہیں اور سوشل میڈیا پر جہاں حکومت پر تنقید کی جارہی ہے وہیں لوگ حکومت کے حق میں بھی رائے دے رہے ہیں لیکن اس میں بنیادی نقظہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری تنقید یا تائید غیر جانبدارانہ ہو جو مکمل طور پر انا پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی سے آزاد ہو جس کا مقصد اصلاح ہو اور یہ  ہدف سے کسی بھی طرح کے تعلق یا واسطے سے مکمل طور پر بے نیاز ہو اور ایسی سوچوں کے قومی سطح پر یقیناً مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

عوامی شعور کے اس رویہ سے عوامی احتساب کے عمل کو تقویت ملتی ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس سے عوام کے اندر ملکی املاک کی ملکیت اور اہمیت کے احساس کی طرف اشارہ ملتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملکی معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

حکومت کو اب چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ وزیر سے پریس کارنفرنس کروایں اور عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے عوامی حوصلہ افزائی کے زریعے سے شعور کو اپنا موثر ہتھیار بنا کر ترقیاتی اور فلاحی کاموں میں مثبت نتائج کے لئے استعمال کریں تاکہ عوام اپنی صلاحیتوں کو فضول بحثوں میں استعمال کرنے کے بجائے اس کا اطلاق ترقیاتی کاموں کی نگرانی اوران میں شرکت کرتے ہوئے فعال بنانے میں استعمال کر سکیں۔

لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب حکومت عوامی سوالوں پر ان کو مطمئن کرتے ہوئے مکمل اعتماد حاصل کر کے ان کی سوچوں کی سمت کو درست کر سکیں اور حکومت پنجاب نے اس کے لئے کئی عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن میں وزیر اعلیٰ سے شکایات کا پورٹل اور صوبائی محتسب کو با اختیار بنانے کے اقدامات ہیں۔ 

اب یہ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کس قدر اپنے شفافیت، برابری اور خود احتسابی کے دعووں میں مخلص ہیں اور اسے بہترین موقعہ سمجھتے ہوئے اس سے عوامی مقبولیت اور خدمت کے مواقعوں کو تلاش کرنا ہوگا یہی وہ موڑ ہے جہاں اکثر حکومتیں لا پرواہی اور اپنے آپ کو جوابدہی کے عمل سے ماورا سمجھتے ہوئے ناکام ہو جا یا کرتی ہیں اور قوم یہ کہنے میں بجا ہو گی کہ مریم نے قوم کو گڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے ہیں

بدھ، 18 فروری، 2026

پی ٹی آئی کا شعور نِکھرنے لگا ہے

بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت اپنی جگہ مگر اس کے شعوری ہونے سے اختلاف کو بھی آزادی اظہار رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اب تو پی ٹی آئی کے اندر قائدین کی سطح پر اختلافات اور ابھرتی آوازوں کی گونج سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا شعور نکھرنے لگا ہے۔

 2022 میں جب پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اپنی جمہوری سمت کا رخ صحیح کرنے کی کوشش کی تو ملک کے معززین نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر مرکز میں حکومت کو آئینی طور پر تبدیل ہونے کی راہ میں رکاوٹ کو آزادانہ چھوڑ دیا جس سے پارلیمان کے اندر عدم اعتماد کی تحریک سے عمراں خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا

لیکن اس پر بانی پی ٹی آئی اپنے رجیم چینج کے بیانیے کی ہمدردیوں سے ایک بار پھر عوام کی مقبولیت کا رخ اپنی طرف موڑنے میں کامیاب ہو گئے جس کو وہ مختلف حیلوں بہانوں سے قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔

حالانکہ انکی کارکردگی کو بے نقاب کرنے کے لئے کے پی کی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ہی اب خدمت کا وقت نہ ملنے کا ان کے پاس کوئی جواز ہے مگر حیران کن طور پر وہ اب بھی سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال عوام کو جھوٹے بیانیے کے زریعے سے ذہنی سہارا مہیا کئے ہوئے ہیں جس کی بنیاد کبھی بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کو بنا لیا جاتا ہے تو کبھی بیماری کو مگر اب یہ ہتھکنڈے زیادہ دیر چلنے والے نہیں 

اسکی وجہ یہ ہے کہ کے پی کے علاوہ دوسرے صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی حکمت عملیوں سے کافی دل برداشتہ ہو چکی ہے کیونکہ ان کو دی جانے والی اذیتوں پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کئی ان مصیبتوں سے بچنے کے لئے خود ساختہ صوبائی جلاوطنی میں کے پی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

جب بھی حکومت کی طرف سےمذاکرات اور رعائت کی امید نظر آتی ہے تو بانی پی ٹی آئی فوج مخالف بیان دینا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ کل ان کی بہنوں نے پریس کانفرنس میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر مروانے کا خوف اور اس کا الزام فیلڈ مارشل پر لگانے کا اظہار کیا جس سے دوبارہ مذاکرات کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جن سے پارٹی قیادت اور ورکرز کے ذہنوں میں بانی کی حکمت عملی پر شکوے جنم لینا شروع ہوئے جو اب کافی پختہ ہو چکے ہیں۔ 

جن کا اظہار اب پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات کی صورت میں بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ ویسے اس کی ابتداء تو کافی عرصہ پہلے سے پی ٹی آئی کی کال پر لوگوں کے کان نہ دھرنے سے شروع ہو چکی تھی جس پر تصدیق کی مہر ضمنی انتخابات نے لگا دی مگر اس پر کچھ حلقوں میں یہ گماں تھا کہ شائد لوگ خوف کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے اور ضمنی انتخابات میں کامیابی کے اندر حکومت کے اثر رسوخ اور بندوبست کا کمال ہے۔

لیکن اب پارلیمانی ممبران کا اسلام آباد کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنوں کے اندر کھلے اختلافات اور کے پی میں سڑکوں کی بندش پر انسانی جانی نقصان پر پی ٹی آئی کے اندر سے غلطیوں کا اعتراف وہ اشارے ہیں جو شعور کے نکھرنے کی گواہی دے رہے ہیں۔ 

کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کھل کر بولے ہیں۔ جس میں انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات سے لے کر پارٹی پر ملکیت کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ دیا ہے اور کچھ وی لاگرز پر کھلی تنقید کرتے ہوئے ان کو کہا کہ اگر تمھارے اندر جذبہ ہے تو ادھر پاکستان میں آؤ وہاں بیٹھ کرعوم کو نہ ورغلاؤ۔ عوام کو تلقین کی کہ ان کی خبروں پر تحقیق کر لیا کریں۔

وہاں کے پی میں سڑکوں کی بندش کے دوران کئی پی ٹی آئی ورکرز بھی کھل کر مخالفت کرتے رہے اور عوامی مشکلات اور دباؤ کے پیش نظر پشاور ہائی کورٹ نے بھی سڑکوں کو کھولنے کے احکامات جاری کئے جس پر پولیس نے عملدرآمد کرواتے ہوئے سڑکوں اور موٹر وے کو خالی کروا دیا جس پر کچھ لوگ یہ بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ شائد پولیس کے پی کی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی جو میں سمجھتا ہوں کہ غلط بات ہے کیونکہ سڑکوں کو کھلوانے میں عدالتی فیصلے کا کردار ہے۔

مگر اس سے لوگوں کی سوچوں پر مثبت تاثرات اور انتظامیہ کی رٹ بارے خیالات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور خاص کر پولیس کی کاروائی کے خلاف مزمت کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عوام بھی اب ان دھرنوں سے عوامی مشکلات پیدا کرنے والی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہوئی سیاست اور جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے اختلاف رکھنے والی پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی ضرور حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کھل کر گنڈاپور کی طرح بولنے لگیں گے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے 2026 کو نوجوانوں کے نام کر کے پرواز کارڈ، سکل ڈویلپمنٹ کے کورسز، آسان بلاسود قرضوں کی فراہمی، سکالرشپس جیسے کئی ایسے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن سے نوجوانوں کی ترجیحات اور توجہ کو مثبت اور ترقی پسند سوچ ملی ہے اور اب وہ جھوٹ اور دھرنوں کی سیاست کو جہالت شمار کرنے لگے ہیں۔

نوجوانوں کو مریم کی طرف سے دیئے جانے والے حوصلے نے ان کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور وہ اب اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے اپنی ماں، بہن اور قائد کی امنگوں پر اپنی صلاحیتوں کو نچھاور کرنے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں جس کی گواہی اس کا ہر طرف والہانہ استقبال دے رہا ہے۔ وہ خواہ بسنت کی تفریحی سرگرمیاں ہوں یا اس کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پنجاب کے دور دراز ضلعوں کے عوامی دورے ہر جگہ اس کو پزیرائی مل رہی ہے۔  

عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوال بھی بجا ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بیٹے باہر بیٹھے ہیں اور یہاں نوجوان بے یار و مددگار جیلوں میں پڑے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جادو ٹونے کے زریعے سے حکومت چلانے سے لے کر کرپشن تک عالمی جریدوں میں چھپنے والی رپورٹس پر بانی پی ٹی آئی کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس کی وضاحت بہرحال عوامی ذہنوں میں ایک خلش کی صورت  موجود ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ ہندوستان کے خلاف فوج کی کاروائی پر عالمی پزیرائی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جان کی قربانیوں پر فوج مخالف بیانیہ بھی عوام کے دلوں میں فوج سے والہانہ محبت کے ہاتھوں بری طرح پِٹ چکا ہے اور اب کوئی فوج کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ اب تو ملک کے اندر یکجہتی کی ضرورت کے پیش نظرتمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہونے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی آوازوں کو بھی غداری کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

 

پیر، 2 فروری، 2026

حکومتی سطح پر کی جانے والی عوام سے آئینی و قانونی نا انصافیاں


 پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کے  ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو عوام کی نمائیندہ حکومتوں
    نے باقاعدہ ترامیم کے زریعے سے نافذ کی ہوئی ہیں جس کی کئی مثآلیں ہیں جس میں سے ایک  ٹیکس کے نطام  سے لی جا سکتی ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بنتی ہیں بلکہ معاشرے کے اندر رائج رسم و رواج کے پیمانوں پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔

مثلاً اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر اپنا کوئی مکان بنانے کے لئے زمیں خریدنا چاہتا ہو تو اس کو کئی ایسے ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے نہ جمع کروانے والوں پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ دہائیوں پر محیط محنت مزدوری سے حاصل کردہ آمدن جس پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا سے خرید رہا ہو۔ بھلے وہ پُشتوں سے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اس کی  آمدن ٹیکس کی ادائیگی کے زمرے میں نہ آتی تھی اس لئے وہ نان فائلر ہی رہا مگر اب اس کو فائلر نہ بننے کی وجہ سے خواہ مخواہ کے  ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے۔ حالانکہ یہ قانون آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکز کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہا ہے؟


بدھ، 7 جنوری، 2026

خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نہیں ریفرنڈم کروایا جانا چاہیے

اس وقت کے پی حکومت پاکستان کی سلامتی سے لے کر فیڈریشن سے براہ راست ٹکراؤ  کی پالیسی پر چل رہی ہے جس سے نہ صرف دہشتگردی کو دوستانہ ماحول بلکہ جمہوریت کے اندر باہمی ٹکراؤ کا بھی تاثر مل رہا ہے جس کا بر ملا اظہار کل کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس میں بھی واضح تھا۔

پچھلے دو سالوں میں انہوں نے کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس میں احتجاج سے لے کر وفاق پر دھاوے تک کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ فوج کے سربراہ پر الزامات لگائے گئے جبکہ وہاں کی عوام فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ ان تمام تر ہتھکنڈوں کی ناکامی کے بعد اب وہ پھر سے ایک بار مظلوم بننے کی راہیں ڈھونڈھ رہے ہیں جس کی آخری کڑی کے طور پر وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو ایشو بنا کر اپنی آخری سانسیں لیتی سیاست کو آکسیجن مہیا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جس کا مقصد عوامی ہمدردیوں کے حصول کی کوشش ہے۔ جہاں تک کہ وہ صرف کے پی میں ہی نہیں دوسرے صوبوں میں بھی وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں سیاسی جلسے جلوس نکال رہے ہیں۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں خواہ گورنر راج ہی لگ جائے۔

کیونکہ اب وہ صوبے میں تیرہ سال کا وقت ضائع کر بیٹھنے کے بعد کارکردگی کی دوڑ میں عوامی پزیرائی حاصل کرنے کے ناممکن حالات کے ہاتھوں مجبور اپنی سیاست کو کسی طرح زندہ رکھنے کے بہانے ڈھونڈھ رہے ہیں۔

لیکن وفاقی حکومت کو اس حساس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی نبض شناسی کرتے ہوئے عوام کی خواہش کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا اشارہ انہیں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ملنے سے دیا جا چکا ہے۔

وہاں کے عوام کو اب اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا ہے جو وہ ہمدردیوں کے بیانیے کے ہاتھوں یرغمال ہو کر کر چکے ہیں۔ اب وہ نہ صرف غربت اور بے روزگاری میں پس رہے ہیں بلکہ دہشت گردی نے انکی زندگی بھی اجیرن کر رکھی ہے جس کو دوستانہ ماحول بھی انکی اپنی ہی صوبائی حکومت مہیا کر رہی ہے۔ انکو یہ بھی اندازہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو ملک میں داخل کرنے والی پالیسی کی خالق جماعت بھی پی ٹی آئی ہی ہے۔

اب حکومت کو ضمنی انتخابات میں دئے گئے مینڈیٹ کے احترام میں عوامی رائے کو مقدم جانتے ہوئےکوئی ایسا موقعہ مہیا کرنے کا ماحول دینا چاہیے جس سے وہ اپنی غلطی کا ازالہ کر سکیں اور اس کے لئے بہتریں حکمت عملی ایک ریفرنڈم ہے جس میں عوام سے دوبارہ مینڈیٹ کے اظہار کے لئے صوبائی انتخابات کی طرف جانا ہے جو انکی موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی نگرانی میں ہی الیکشن کمیشن سے کروایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے دھاندلی کا شائبہ نہ رہے۔

آرٹیکل 48(6) کانسٹیٹوشن آف پاکستان صدر پاکستان کو اپنی ذاتی صوابدید یا وزیر اعظم کی ہدائت پر کسی بھی قومی سطح کے معاملے پر عوامی رائے کو حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کے اختیارات دیتا ہے۔ جس کے تحت پارلیمان کی منظوری کے بعد اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سب آرٹیکل 7 اس کے طریقہ کار کو وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ 

اور اگر کے پی کے عوام کی اکثریت دوبارہ صوبائی انتخابات میں جانے کا اظہار کرے تو انہیں دوبارہ سے اپنی نمائندہ حکومت بنانے کا چانس دیا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف عوام کو انکی مرضی کی حکومت ملے گی بلکہ وفاقی حکومت کی کسی دوسری حکمت عملی سے پی ٹی آئی کے مظلوم بننے کی کوششیں بھی دم توڑ جائیں گی۔

اس وقت ریفرنڈم دہشتگردی کے خاتمے، ملک میں سیاسی استحکام، اداروں پر بے جا الزامات سے چھٹکارہ اور کے پی کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی نا گزیر ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کو بھی اپنے عوامی مینڈیٹ کے گھمنڈ کی اصلیت کا اندازہ ہو جائے گا کہ عوامی مینڈیٹ کی استقامت کے لئے ضروری ہے کہ عوامی خدمت میں کارکردگی بھی ہو محض مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیوں کے سہارے سیاست ہمیشہ نہیں کی جا سکتی۔   

پیر، 22 دسمبر، 2025

کیا تحریک تحفظ آئین پاکستان کارکردگی دکھا پائے گی؟

کیا پاکستان میں جمہوریت صرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا نام  ہے خواہ وہ اسٹیبلشمنت کی گود میں بیٹھ کر ہی داغے جا رہے ہوں یا جمہوری اقدار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے؟ 

ابھی چند سال پہلے ہی وہ اپنے دائیں بیٹھی جماعت تحریک انصاف کے خلاف سڑکوں پر تھے جبکہ وہ ہائبرڈ جمہوریت کی ایک نئی اصطلاح متعارف کروانے میں مصروف تھے۔کیا ان سے اب جمہوری اقدار پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی حاصل کر لی گئی ہے؟ 

کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے مطلوبہ ہدف کی راہ میں رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی سطح کی طاقت کا ہونا ضروری ہے جس کے بغیر کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔ اور پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے۔ 

اب ایسا کیوں ہے اس کی ایک بہت ہی سادہ سی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خواہ اس کا آئینی درجہ کم ہی سہی مگر اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت موجود ہے جو حاوی رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں جبکہ جمہوریت میں سیاستدانوں کے اندر وہ صلاحیتیں اور اہلیت ہی نہیں۔ 

سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے منشور کی بنیاد پر باہمی اختلافات بھی ہوتے ہیں مگر ملکی سطح پر جمہوریت کے آپریٹر ہوتے ہوئے انکی ایک تنظیم کی حیثیت ہوتی ہے۔ جس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت ہونی چاہیں جو جمہوریت کے خلاف کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اب یہ صرف ہارڈ پاور سے ہی ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے سافٹ پاور کا ہونا بھی ضروری ہے جس کی بنیاد اعلیٰ اخلاقیات اور سیاسی شعور ہیں۔

آئین کی پاسداری اور تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کا خود عمل ہو پھر وہ دوسرے اداروں سے اس پر عمل کو یقینی بنوا سکتی ہیں۔ 

پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو ان کو عدم اعتماد کے زریعے سے ہٹایا گیا جو آئین کے عین مطابق تھا اور یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے ایسا کروایا ایک انتہائی نا مناسب بات ہے جو غیر سیاسی اور نا اہل سوچ کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اگر سیاستدان استعمال ہوئے تو وہ استعمال کرنے والے کو گالیاں دینے کی بجائے  استعمال ہونے والوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرتے؟میرے خیال میں تو ایسا کہنا بھی گویا اپنی نا اہلی کو ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو دنگل اپنے زور بازو پہ جیتنے ہوتے ہیں اس وقت یہ جواز کوئی حیثیت نہیں رکھتے کہ ہمیں زور نہیں لگانے دیا جا رہا۔       

جب آئینی طور پر ان کی حکومت گرائی گئی تھی اسے تسلیم کیا جا نا چاہیے تھا۔ محمود خان اچکزئی اس وقت حکومت ہٹانے والوں میں شامل تھے ااور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ محمود خان اچکزئی خود اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے استعمال ہونے والوں میں تھے۔

 اگر یہ سب ٹھیک ہے تو پھر اس کا اعتراف بھی تو ضروری ہے۔ اور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک نہیں تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ آئین کی حالت سے اتنا فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو سیاستدانوں کے کردار سےکہ وہ کس قدر جمہوری ہیں۔ 

 کسی بھی ریاست کا آئین اس کے چلانے کے لئے ایک انسٹرومنٹ ہوتا ہے جس کا تحریری صورت میں ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ تحریری صورت میں ہونا محض ایک فارمیلٹی ہے۔ اصل ضرورت اس کے تقدس کا احساس ہے جس کی موجودگی میں اس کا تحریری ہونا اپنی حیثیٹ کھو جاتا ہے اور اگر یہ احساس نہ ہو تو تحریری ہونا بھی اپنی حیثیت کو منوانے میں نا کام رہتا ہے۔

جس کی مثال انگلینڈ اور ہمارے آئینی سے واضح ہو سکتی ہے۔ ان کا آئین تحریری نہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں قومی سطح پر تقدس ہونے سے اپنی حیثیت کو منوانے میں کامیاب ہے مگر ہمارا آئین تحریری ہونے کے با وجود بھی تقدس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت کو منوانے میں ہمیشہ نا کام رہا ہے۔

اس تقدس کی سب سے زیادہ موجودگی سیاستدانوں کے اندر ضروری ہوتی ہے کیونکہ ان کی عوامی مینڈیٹ کے حصول کے بعد اہم ذمہ داری اس پر عملدرآمد، حفاظت اور اس میں ملک و قوم کی فلاح کے لئے اصلاحات لانا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل نہ ہوں تو پھر آئین کے تقدس کو یقینی بنانا ممکن نہیں رہتا بلکہ وہ خود ہی اس کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اور یہی سب کچھ پاکستان کے آئین کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اب اس کا حل آئین کی حفاظت بارے محض ڈھنڈورا پیٹنے سے ہونے والا نہیں بلکہ سیاستدانوں کو اپنے اندر اور قومی سطح پر شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کو یقینی بنانا ہوگا یا پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے انہیں ملکی سیاست میں مستقل طور پر کوئی کردار دینا ہوگا جس کے ایک بہترین حل کے طور پر ہم اپنی جمہوریت کو چائنا کی طرز پر استوار کر سکتے ہیں۔

اخلاقیات اور شعور پر کام کرنے کے لئے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے قوم سے معافی مانگنا ہوگی اور پھر سیاسی برادری کے اندر  اپنے بارے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جب قوموں کے اندر اعلیٰ اخلاقیات اور شعور ہوتا ہے تو پھر وہاں نظام خود بخود ہی مضبوط ہو جاتے ہیں جس کی مثال ہم سکینڈیوین یا نارتھ امریکن ممالک سے لے سکتے ہیں۔ وہاں آپ کو جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اس کی بنیاد ان کی اخلاقی اور جمہوری اقدار ہیں۔   

اگر ہم کہیں کہ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کی بھی حالت تسلی بخش نہیں یا سب نے ہی کسی نہ کسی دور میں جمہوری اقدار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار کے حصول کے عمل میں شرکت کی ہے تو یہ بجا ہوگا

   مگر ماضی میں سیاسی جماعتوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کسی نہ کسی حد تک جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوششیں بھی تو کی ہیں جن میں سب سے نمایاں میثاق جمہوریت کے نام پر پاکستان کی بڑی دو سیاسی جماعتوں میں ایک معاہدہ بھی ہے جس کے بعد جمہوریت کی مضبوطی کے عملی اقدامات اور نتائج بھی دیکھنے کو ملتے رہے جن کو نقصان پی ٹی آئی کی سرگرمیوں نے پہنچایا ہے۔ 

ہائبرد جمہوریت کی اصطلاح انہیں کی جمہوریت مخالف سرگرمیوں کی پیداوار ہے جس نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی کوشش کی کامیابی کے چانسز بہت ہی کم ہونگے

پی ٹی آئی کی ان سرگرمیوں سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے اداروں جن میں فوج اور خاص طور پر عدلیہ شامل ہے کی ساکھ بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ 

موجودہ حکومت کو جو ہائبرڈ جمہوریت کے طعنے دئیے جارہے ہیں وہ ٹھیک موقف نہیں کیونکہ جب اس اصطلاح کی حامل حکومت کو ختم کیا گیا تو ان کوششوں کے جناب محمود خان اچکزئی بھی گواہ ہیں جس کے اندر جرنیلوں کا کوٹ مارشل کر کے ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ اگر کوئی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوشش کرے تو تنقید کی بجائے اس کو داد دی جانی چاہیے  بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ ہوئی ہے۔

عمران خان کی سیاست میں سوشل میڈیائی سرگرمیاں جن میں فوج کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیا پاکستان کے حق میں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو عمران خان کی سیاست کو موجودہ ماحول سے موافق بنانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

کیا ابھی جو محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی شرط پر مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کو آگے بڑھ کر مزاکرات کی دعوت دی ہے ان سرگرمیوں کی موجودگی میں کام یاب ہو سکتی ہے؟ قطعاً بھی نہیں کیونکہ عمراں خان کی تو ساری سیاست کی بنیاد ہی اپنے سیاسی مخالفین اور نئی اسٹیبلشمنٹ جن سے ان کو سہولتکاری میسر نہیں آ رہی کے ٹرولنگ ہے جس کے بغیر وہ اپنی سیاست کی موت سمجھیں گے۔جن کو انہوں ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔ اور انکے موقف اور سرگرمیوں میں تبدیلی یا اس کی یقینی دہانی کے بغیر ساتھ چلنا بھی خطرات سے خالی نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پر اعتماد نہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔


منگل، 9 دسمبر، 2025

ریاست کی گورننس پر سوالیہ نشان

ایک ادارے کے ذمہ دار عہدیدار کا ایک قیدی کی سرگرمیوں پر یوں کانفرنس کرنا کوئی عام بات نہیں بلکہ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ریاست کی گورننس پر، ملکی انداز سیاست پر اور وزارتوں کی کارکردگی پر کہ ایک سابق وزیراعظم جس کی پروفائل بذات خود ایک کھلی کتاب ہے عسکری ادارے کے سربراہ پر کھلے عام الزامات لگا رہا ہےکہ ملک میں اس کی پالیسیاں چلتی ہیں جو آئین پاکستان کے نفاذ پر ایک سوال ہے۔ کیا ریاست کے وزیر اعظم کے پاس نام کا عہدہ ہوتا ہے؟

ذہنی مریض ہی سہی، قید میں ہی سہی آخر سابق وزیر اعظم بھی تو ہے اس سے وضاحت ہی طلب کر لی جائے کہ وہ یہ سب کچھ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہے یا کرسی چلے جانے کا دکھ پِٹ رہا ہے۔ اگر واقعی سچ ہے تو پھر وہ اس وقت خاموش کیوں تھا جب کہیں اور بنائی گئی پالیساں اس کے نام سے نافذ ہوتی تھیں؟

سوال ہے اس نظام جمہوریت پر ، اس نظام پر یا اس بندوبست پر جس سے ایک ذہنی مریض بغیر سائیکالوجیکل انیلیسس کے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے اور پھر قومی سطح کے میڈیا پر اس کے نام کے ڈنکے بجائے جاتے ہیں ۔سادہ معصوم ذہنوں پر ملک و قوم کے مستقبل بارے کشیدہ کاری کروائی جاتی ہے۔ عوام کو اس کے واحد نجات دہندہ ہونے کے یقین دلوائے جاتے ہیں۔ امت مسلمہ کا لیڈر ہونے کے نکارے بجائے جاتے ہیں۔

اس وقت کے بچے اب جوان ہو چکے ہیں۔ نوجوان فیملی کے سربراہ اور اس وقت کے سربراہ قبیلوں کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دہائیوں پر محیط محنت سے بنائے گئے اس یقین کو یکدم ختم کر دیا جائے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ اس کی پیشکش اور ہدائت کاری کہاں سے ہوتی رہی؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا تبدیلی کا نعرہ سب جھوٹ تھا تو اس کے شواہد عوام کو کیوں نہیں دکھائے جاتے؟

عوامی شعور کو بے راہ روی کا شکار کیا گیا اب اگر اس شعور کو گناہگار ٹھہرایا جا رہا ہے تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس میں شریک جرم ریاست کی مقتدرہ کو معصوم اور بے قصور کیسے سمجھ لیا جائے؟

ایک قیدی کو سیاست کرنے کی اتنی آزادی کہ اس کے الزامات سوشل میڈیا تک پہنچ کر عوام کے عادی ذہنوں تک پہنچ جاتے ہیں بذات خود ایک سوال ہے؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان الزامات پر تحقیقات کیوں نہیں ہو پا رہیں؟ آئین اور قانون خاموش کیوں ہے؟ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیا ایسے جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا کو روکنے کی سکت نہیں رکھتی؟ اے آئی کی مدد سےکوئی ایسا سافٹ وئیر ٹول نہیں بنا سکتی جو جھوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے عوام کو بر وقت حقائق سے آگاہ کر کے عوامی شعور کو درست سمت دے سکے۔

وہ ریاست جو دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کر کے چند گھنٹوں میں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی ہے وہ ایک قیدی کے پراپیگنڈے پر تحقیق یا اس کو روکنے پر اتنی بے بس کیوں ہے جس کو عسکری ادارہ ملکی امن کے لئے خطرہ سمجھتا ہو اس پر ریاست کی گورننس خاموش کیوں ہے؟ کیا وہ مکافات عمل کے سامنے بند باندھنے سے قاصر ہے یا نتائج کی خوشی کی مستی میں۔

بہرحال سوال اپنی جگہ مگر اس کانفرنس کا سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ ایمپائر کی انگلیوں کے اشاروں پر سیاست کرنے والوں کو اب حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنا ذہن درست کر لینا چاہیےکیونکہ اس بار انگلی کی جگہ ڈنڈا ہے اور اب یہ سیاسی توجیہات کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ کسی شخصیت کے خلاف ہیں یا فوج کے سیاست میں کردار کے خلاف ہیں نہیں چلیں گی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے خلاف لب کشائی کا جواب فوج کے ترجمان کی زبان سے سن کر تمام غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہیں کہ فوج کے سربراہ کے احترام پر ادارے نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس کا حکم ہی فوج کا عمل ہوتا ہے۔


ہفتہ، 1 فروری، 2025

انتظامی امور کے دفاتر کو ڈیجٹیلائز کرکے عوامی خدمت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

نظام کی خرابی کے محض تذکرے کرنے  سے کچھ نہیں ہوتا اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسےفعال کرنا پڑتا ہے۔ نظام بذات خود کچھ نہیں کر سکتا اس کی بہتری کے لئے کوئی نگرانی کا عمل ضروری ہوتا ہے تاکہ نظام کو چلانے والوں کے اندر جوابدہی کے احساس کو اجاگر کر کے انکو ذمہ دار بنایا جاسکے۔ اور جو بات دلچسپ، قابل غور اور خوش فہم ہے وہ یہ کہ اس کے لئے کہیں بھی اضافی اخراجات اٹھانے کی ضرورت نہیں بلکہ تمام تر وسائل پہلے سے موجود ہیں اور ضرورت صرف قائدانہ صلاحیت سے ان کو استعمال کرنے کی ہے۔

سب سے زیادہ ضروری انتظامی امور کی نگرانی ہے تاکہ بادشاہت کے تاثر کو ختم کر کے دوستانہ ماحول پیدا کیا جا سکے جب عوام کو سہولیات میسر ہونگی تو انکے اندر ریاست، اس کے اداروں اور املاک کے ساتھ اپنائیت کااحساس پیدا ہو گا۔ اس کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں آسان حل یہ ہے کہ حکومت ڈیجیٹل پورٹل بنائےجس پراعلیٰ سطح سے لے کر نچلی سطح تک تمام انتظامی دفاترکی  نگرانی کا لائحہ عمل لاگوہو جس کے اندر کیمرے نصب کر کے براہ راست نشر کرنے کا انتظام کیا جائے۔اوراس   کا آغاز  وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور قومی و صوبائی وزراء اپنی ذات سے کریں تاکہ بیوروکریسی کو ایک اچھی مثال ملے۔

صوبوں کے اندر اضلاع کی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسران کے دفاتر پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے وہاں اگر بہتری آ گئی تو سمجھیں نوے فیصد مسئلہ حل ہوگیا۔ انہیں ہدایات جاری کی جائیں کہ کسی بھی دفتر کے باہر سائل کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ میٹنگز کے لئے علیحدہ کمرے مختص کئے جائیں اور دفتری اوقات میں اگر میٹنگز ضروری ہوں تو عوامی خدمت پر متبادل افسران کی ڈیوٹی لگائی جائے تاکہ عوامی خدمت میں کوئی تعطل نہ ہو۔ ضلعی سطح کے محکموں کے سربراہان کی نگرانی کے لئے  بنیادی سطح تھانے اور پٹواری کے دفتر تک پورا نظام ہونا چاہیے جس کو پورٹل کے اندر سیکشن بنا کر ترتیب دیا جائے تاکہ  کہیں سے بھی کسی بھی وقت  کسی کو بھی دیکھنے میں دشواری نہ ہو۔

عوامی خدمت کی نگرانی کے اس بندوبست کی ضلعی سطح کی نگرانی کے لئے ڈویژن اور پھر صوبائی سطح پر نظام موجود ہو اور وزراء، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے دفاتر میں سیکرٹریز اور ضلعی سطح کے کیمروں کی نگرانی کا عمل ہو رہا ہو تاکہ نظام کو فعال اور فائدہ مند بنانے میں کوئی کسر نہ رہے۔

 آبادی کے لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے 42 اضلاع ہیں اور 42ڈپٹی کمشنرز پر اس صوبے کے چیف منسٹر کے لئے  براہ راست بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ اسی طرح باقی صوبوں میں بھی خیبر پختونخوا کے 38، بلوچستان 36، سندھ 30، گلگت بلتستان 14، کشمیر 10 اور اسلام آباد کا 1 ضلع ہے جو مجموعی طور پر 171 اضلاع بنتے ہیں۔ کیا اس ملک میں 171 ایماندار، اہل اور قابل لوگ بھی موجود نہیں یا اتنے سے لوگوں کو بھی کنٹرول نہیں کیا جا سکتا؟ کچھ بھی ناممکن نہیں، بس ضرورت ہے اخلاص اور نیت کی۔

میٹنگز بھی آن لائن ہونی چاہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں یہ کوئی مشکل کام نہیں بلکہ آج کل ملک کے تمام دفاتر میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی تمام سہولیات میسر ہیں۔ مرکزی سطح پر تو وزیراعظم پہلے ہی دفتری کام کو سافٹ وئیر پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں تاکہ سٹیشنری کے اخراجات کم کئے جا سکیں۔

اسی سلسلے کو اگر پورے ملک میں بھی لاگو کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف اخرجات کم ہونگے بلکہ وقت اور انسانی وسائل کا بہتر ین استعمال بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے افسران کے دور دراز علاقوں میں چھاپوں کے زریعے سے نگرانی کے بابے آدم کے وقت سے لاگو عمل کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی جو اس ٹیکنالوجی کے دور میں ایک بے معنی ہونے کے علاوہ ملک و قوم کے ساتھ مزاق بنا ہوا ہے بلکہ یہ افسران کے ٹی اے، ڈی اے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کی صورت خواہ مخواہ کا  قومی خزانے پر ایک اضافی بوجھ ہے۔

اس نظام کو فعال بنانے میں مدد کے لئے ہر سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر مددگار مہیا کیا جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ انتظام فعال ہے اور جیسے ہی اس میں کہیں سستی یا کوتاہی دیکھی جائے تو اس کی فوراً تحقیقات کو عمل میں لایا جائے اوراس کے علاوہ آن لائن بھی یہ سہولت مہیا ہونی چاہیے تاکہ عوام کو اگر کہیں پر مشکل پیش آتی ہے تو فوراً اس کی بحالی کے لئے شکائت درج کروا سکیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی کے گھر کی بجلی یا گیس بند ہو تو وہ فوراً شکائت کرتا ہے اور عملہ بحالی کے لئے پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح یہ ان سہولتوں سے بھی زیادہ ضروری ہے مگر ضرورت اس کی حساسیت کو عام کرنے کی ہے۔ جیسے بجلی اور گیس کی اہمیت اور ملکیت کا عوام کے اندر احساس موجود ہے اسی طرز پر خدمت کی ملکیت اور اہمیت کا بھی اجاگر کرنا ہوگا جس کے لئے سوسائٹی کی سطح پر کام کرنے والی رفاعی تنظیموں کی تجاویز اور فیڈ بیک کے حصول کے نظام کو بھی اس اس کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

جب عوامی سطح پر  ریاست اور اس کے معاملات میں دلچسپی پیدا ہوگی تو ان کے اندر ریاست اور اس کی املاک کی ملکیت اور  اہمیت کا احساس  اجاگر ہو کر  ترقی و خوشحالی اور امن کی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کا عملی شوق پیدا ہوگا۔ اس رجحان کو عام کرنے کے لئے سوسائٹی کی سطح پر رضاکارانہ کام کرنے والی تنظیموں کو بھی اس  میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ملک کے اندر پہلے سے ان سماجی تنظیموں کا باقائدہ نظام موجود ہے جس کو صرف فعال بنانے کی ضرورت ہے جو اس نگرانی کے عمل سے خود بخود ہی ہو جائے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان تنظیموں کو ضروت کی مناسبت سے تربیت کر کے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ  بد عنوانی کو روکنے ، ترقیاتی کاموں کی نگرانی اورانتظامی امور کے مشوروں  تک میں ان تربیت یافتہ قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے ترقی اور خدمت کے کام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اس نظام کو حکومتی اور سیاسی تحقیقات کے عمل کے ساتھ بھی مربوط کیا جائے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حاصل معلومات سے مسائل کے خاتمے کے لئے قانون سازی اور اصلاحات کے عمل میں مدد حاصل کی جا سکے۔

بدھ، 29 جنوری، 2025

'پروجیکٹ عمران' کے تخلیق کاروں کو کوئی معافی نہیں ملنی چاہیے

عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ  تعلق بھی بن رہا ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس گرفتاری کا تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے۔

پاکستان کی سیاست میں حب الوطنی کے نام پر غیر آئینی مداخلت کی تو ایک لمبی داستان ہے جس کے اعتراف بھی بڑے پر تپاک اور تفخرانہ انداز میں کیے جاتے رہے ہیں بلکہ ان مزاجوں کے خلاف عدالتوں کے فیصلے بھی عمل درآمد کو ترس رہے ہیں لیکن عمران خان پروجیکٹ کے بعد اس مداخلت نے ایک ایسا رخ اختیار کر لیا ہے جس سے سیاست کی محبت اداروں کے معاملات کے اندر بھی سرایت کرتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہے اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی پر مبینہ طور پر ایک طویل سیاست کا سلسلہ جاری رہا اور یوں لگتا ہے کہ اس نے ادارے کی ترقی اور تعنیاتیوں کے سلسلے کو بھی سیاست زدہ کر دیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ سیاست کے اندر نظم و ضبط کو خراب کرنے کی غیر آئینی حرکتوں نے ریاست کے تمام اداروں کے نظم و نسق کو ہی سیاست زدہ بنا دیا ہے اور اس کی وجہ ان اداروں کے معززین کے ببانگ دہل کارنامے اور سرعام انکشافات ہیں جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ ان کو ریاست کے اندر کون کون سی شخصیات اور انداز کی سیاست پسند نہیں تھی اور سیاست دانوں کو کبھی عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے کر کے تو کبھی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بے یارو مددگار ڈال کر ان کے بقول وہ سیاست کے توازن کو ٹھیک کرنے میں کردار ادا کرتے رہے جو ان کی آئینی خلاف ورزیوں کے احتساب کے لئے مواد مہیا کرتا رہا مگر طاقت کے عدم توازن کے سبب اس پر سوال اٹھانے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی اور صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایسی سوچوں کے نیٹ ورک نے اداروں کے اندر گہری جڑیں پکڑ لیں اور ریاست کو ان خطرات کا شکار ہو کر 9 مئی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری کو بھی کہا جا رہا ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ تعلق بھی بن رہا ہے مگر تاریخ کی روشنی میں سیاسی اور مالی معاملات پر اس قدر سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی گئی اس لئے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا زیادہ تر تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے جس سے مستقبل میں خطرات کے خدشات کو بریک کرنا مقصد ہو سکتا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے۔

گرفتاری جہاں بظاہر ایک حیران کن خبر کے طور پر گردش کر رہی ہے وہیں ساتھ کچھ قیاس آرائیاں بھی ذہنوں کی سطح پر محو تخیل ہیں کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ کیا اس سے ہمیں قومی سطح پر کوئی سبق آموز مرحلہ بھی میسر آئے گا جو مستقبل میں ایسے واقعات کی راہ کو بند کر سکے یا نہیں؟ یہ ایک بہت ہی اہم نقطہ ہے جس کے لئے ہمیں چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ ابھی تو یہ معاملہ ویسے بھی تحقیقات کے مرحلوں سے گزر رہا ہے اور کسی کے کردار یا اس پر جرم کا الزام لگانا کسی طرح سے بھی جائز نہیں مگر ہمارا ماضی ایسے کرداروں سے بھرا پڑا ہے جو ہمیں اس پر اندازوں کے تعین کے لئے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں اس طرح کی کہانیوں کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ایک کا تعلق آئین و قانون کے اطلاق سے ہوتا ہے تو دوسرے کا تعلق اس کے اہم کردار کے عمل کا ان کی بعد کی زندگی اور عمومی ماحول پر اثرات سے ہوتا ہے جو انتہائی اہم ہے جس سے ایسے ہی کئی دوسرے کرداروں کے اندر خوف اور ندامت کے جنم لینے کا سبب پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ آئین و قانون کے اطلاق میں کبھی امید افزا نہیں رہی جس کی وجہ صرف ہمارے اداروں کی نااہلی اور مختلف سطحوں پر مفادات کا ٹکراؤ ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر سیاسی شعور کی کمی بھی اس کی بہت بڑی وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قومی سطح پر آئینی و قانونی مجرم بھی کچھ ہی وقت کے بعد پھر سے ہیرو کے طور پر دیکھے جانے لگتے ہیں۔

جیسا کہ اس کہانی کے اندر واقعات کی ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس طرح کے کرداروں کو پشیمانی یا ندامت ہوئی ہو یا ان کو اپنے کردار پر کوئی احتساب اور سزا و جزا کا کوئی خوف پیدا ہوا ہو۔ عمران خان کی گرفتاری اور پھر اس کے بعد کا ماحول ایسی ہی سوچ کی غمازی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عمران کے اقتدار کے چند ماہ کے بعد ہی اس پروجیکٹ کو لانے والے اور عوام اس سے تنگ آ گئے تھے مگر جیسے ہی ان کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تو پھر سے ان کی ناصرف ریاستی اداروں کے اندر سے حمایت اور دوبارہ لانے کی کوششیں زور شور سے جاری ہو گئیں بلکہ عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف بھی پھر سے بڑھنے لگا اور اداروں کے اندر موجود ایسے کردار جو ان کی سہولت کاری بلا خوف و تردید کرتے رہے ان کو گویا یقین تھا کہ ان کی گرفتاری عارضی ہے اور وہ دوبارہ سے اقتدار میں آنے والے ہیں جن میں نجومیوں سے لے کر عدالتوں کے معاملات پر گہری نظریں رکھنے والے تجزیہ کاروں کے خیالات سے ابھرتا ہوا تاثر وغیرہ سب کچھ کسی حیرت کدے کے ماحول سے کم معلوم نہیں ہوتا تھا جو انتہائی تشویش ناک پہلو ہے۔

اس کی دلیل ججز کے کچھ فیصلے، 9 مئی کے واقعات، اس کے بعد بھی پر اعتماد احتجاج اور دھرنے، اور اسی طرح حالیہ سہولت کاروں کی گرفتاریاں بھی اس سلسلے کو تقویت بخشتی ہوئی دلیلیں ہیں مگر سب سے بڑھ کر تحریک انصاف کا اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچ جانا بھی عوامی نفسیات کا عکاس ہے جس سے کبھی بھی حالات کے بدلنے کی پشین گوئیوں کی مکمل طور پر حوصلہ افزائی ملنے کے اندازے تذبذب کا شکار ہیں۔

ابھی پچھلے 12 سالوں سے ذہنوں پر کی ہوئی محنت سے بنائے گئے یقین یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ عمران خان پروجیکٹ نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے اور اسی سوچ کو دیکھتے ہوئے عوام کے صدقے جانے کے منظرنامے کی روشنی میں اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں معدوم ہونے کا یقین کر لینا مشکل لگتا ہے۔ جس کی وجہ عوام کی شعوری سطح کے علاوہ ان کہانیوں سے جڑے ہوئے کچھ کرداروں کی مثالیں بھی ہیں جنہوں نے مالی مفادات کے ساتھ ساتھ سیاسی فائدے بھی اٹھائے اور چند سالوں کی معمولی سزاؤں کے بعد وہ پھر سے نئے جذبے اور جوش کے ساتھ میدان عمل میں اترے اور ایک نئی کہانی تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی لئے شاہد اس طرح کے کرداروں میں کبھی خوف یا ملامت دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اب اس گرفتاری کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کہانی کو بھی مٹی پاؤ کے طور پر لے کر جس طرح سے پرویز مشرف کو پورا تحفظ فراہم کیا گیا اسی طرح اس کہانی کو بھی روایتی انداز سے چلایا جائے گا یا پھر اسے مستقبل کو لاحق خدشات اور خطرات سے بچنے کے لئے سبق آموز بنانے کی کوشش کی جائے گی جو اس ریاست کے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے باہمی گٹھ جوڑ سے اقتدار کے ایوانون میں جمہوریت کے نام پر کئے گئے مختلف ریہرسل پروگراموں کی ایک کڑی ہوتے ہیں جن کا تعلق آج کے سیاسی ماحول سے بھی جڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو شاید اس ملک کی تقدیر کا حصہ ہیں کیونکہ ایسے پروجیکٹس کے اختتام کے لئے بھی تو ایک نئے پروجیکٹ کی ضرورت درپیش ہوتی ہے جس کی وجہ شاید سیاست دانوں کی اکیلے سبق آموز کہانیوں کی تخلیق میں نا اہلی سمجھ لیں یا بے بسیاں جن کی پچھلی دو دہائیوں میں کی گئیں تمام کوششیں دم توڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور ان کوششوں میں مصروف عمل سیاسی جماعتیں بھی پھر سے انہیں پرانی بھول بھلیوں کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔

اگر اس کے سیاسی پہلوؤں کو دیکھیں تو اس وقت اقتدار میں موجود سیاسی جماعتوں کے بیانیے ان کو اپنی سیاسی مخالفت کے پیش نظر بولنے پر مجبور کر رہے ہیں مگر ان کے مؤقف میں وزن ہونے کے باوجود ان کو پذیرائی ملتی ہوئی نظر نہیں آتی اور نہ ہی ماضی کی تاریخ کسی ایسے کردار کی سیاسی دخل اندازی پر اس کا محاسبہ کرنے کے یقین کو تقویت دیتی ہے۔ پرویز مشرف والے معاملے میں تو عدالتی فیصلہ بھی موجود تھا مگر اس کے آفٹر شاکس نے اس عدالت کا ہی وہ حشر کیا جو ایک خبردار نشان ہے۔ ہاں البتہ اس میں 9 مئی کے واقعات سے جڑا ہوا کردار شاید کسی طرح بھی ہضم نہ ہو پائے کیونکہ اس سے مستقبل میں ادارے کے کمزور ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے ان کی حمایت کی گنجائش معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ البتہ فیض حمید ایک بہت اہم عہدے پر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ملک کے بہت حساس معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں اس لئے فیصلے سے قبل مفروضوں کی بنیاد پرسزا یا فیصلوں کی پشین گوئیاں کرنا ذمہ دار رویے کی علامت نہیں۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ موجودہ گرفتاریاں ماضی کی کہانیوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہیں یا پھر ان سے کوئی امید افزا وقت دیکھنے کو ملے گا جس کی ابھی تک قوم تیار نہیں ہے مگر ہم نا امید پھر بھی نہیں کیونکہ کوئی جتنا بھی تقدیر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے اس کا مکافات عمل کے انتقام سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے اور قدرت کے کبھی نہ بدلنے والے اصولوں کا شکار ہونا بھی اسی تقدیر کا حصہ ہوتا ہے جس کی تقسیم میں رد و بدل کی کوششوں سے وہ عارضی فائدے اٹھاتا رہتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہر ایسے کردار کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکافات عمل کے شکار بھنور کا حصہ بنانا چاہتا ہے یا اصلاح کی کاوشوں میں مصروف عمل کرداروں کی فہرست میں شمار کرانا چاہتا ہے۔ صاحب اختیار اور اقتدار لوگوں سے فقط اتنی گزارش ہے کہ کم از کم ایسی کہانیوں میں موجود کرداروں کے ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ مالی فوائد کو تو ریاست کو لوٹا دیں تاکہ کسی حد تک مفاد پرست سوچیں رکھنے والوں کی کچھ حوصلہ شکنی ہو اور یہ عمل ان کی سوچوں کی اصلاح کی بنیاد بن سکے۔

آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان مزید ان عام معافیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نہ صرف ملکی معیشت اس حکمت عملی سے اکتا چکی ہے بلکہ یہ ہماری ریاست کے اندر اتحاد اور نظم و نسق کو بھی بری طرح سے تباہ کر چکا ہے۔ غلطیوں کو تحفظ فراہم کرتے کرتے اب غلطیاں حماقت اور بغاوت کا روپ دھارنے لگی ہیں اور معافیوں کے سلسلے نے اداروں کے سربراہان کے اندر حوصلہ افزائی اس قدر بڑھا دی ہے کہ وہ آئین و قانون اور ڈسپلن لفظ کا تمسخر اڑانے لگے ہیں جس سے نہ صرف قومی سطح پر اعتماد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی قومی تشخص بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اس لئے اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ روک ہی لیا جائے تو بہتر ہو گا اور قوم کو اچھے فیصلوں پر اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ان کی تعریف اور تائید کرتے ہوئے داد دینی چاہیے۔

منگل، 14 جنوری، 2025

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف

 

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج  حکومتی سطح پر  قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔  حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔  

جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا  نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟

چلیں آپ کو اپنا  ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو  پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب  تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو  اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔  بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔

مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔

بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور  دیکھے۔

جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور  سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو  اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔

جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی  عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست  کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔

ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی  ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔

بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف  مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔

نظام کی اصلاح کی اصل  ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً  کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ،  سیاسی  نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔

مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں  اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے   تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی

کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے

اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو

بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔


(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)

جمعرات، 9 جنوری، 2025

عمران خان اپنی مقبولیت کو کیسے ناقابل تسخیر اور انقلابی بنا سکتے ہیں؟

 

ان کی مقبولیت کا کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے مگر اس کا احساس اور تشویش ہر سطح پر ضرور موجود ہے لیکن اس کا ان کو متوقع فائدہ کیوں نہیں مل رہا اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ انکی موجودہ سیاسی حکمت عملی جس کا ڈھنگ 2014 والا اور بیانیہ 2022 والا ہے وہ موجودہ سیاسی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے جو سیاسی حکمت عملی 2014 میں بنائی تھی وہ اس وقت کے حالات کے مطابق ٹھیک تھی مگر آج نہیں کیونکہ اس وقت جو سہولیات اور ماحول ان کو میسر تھا  وہ آج نہیں جس کا انہوں نے اپنے تمام تر احتجاج اور ریلیوں اور دوسرے حربے استعمال کر کے اندازہ بھی لگا لیا ہوگا اسی طرح 2022 والا بیانیہ جس کی بنیاد مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں اکٹھی کرنا تھا وہ خوب چلا اور اسی سے ان کی 2022 میں گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملا لیکن اب اس کو نئی توانائی کی ضرورت ہے جس کے لئے حالات کے مطابق کسی نئی حکمت عملی کو اپنانا ہوگا تاکہ مقبولیت کو پائیدار بنایا جاسکے۔

اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں جن کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔  2022 میں تو ان کی حکومت کی تبدیلی سے انکو سیاسی نقصان کی بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اور اگر وہ اپنی صوبائی حکومت کے مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ان کی ایک اور بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے مذید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق پہنچتا ہے مگر اس کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ حکومت نے ان کے تمام حربوں کے اثرات کوزائل کرتے ہوئے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔

انکے آپریٹرز نے بنگلہ دیش ماڈل کو بھی آزمانے کی کوشش کی مگر وہ بھی نہ چل سکا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس مقبولیت کے پیچھے وہ نظریاتی طاقت نہیں جو مقبولیت کو شعوری بنا کر انقلانی بناتی ہے۔ حکومتوں کی طرف سے طاقت کا استعمال اور مزاحمت کا سامنا ہر انقلاب کو ہوتا ہے مگر اس کو عبور کرنے کے لئے اصل طاقت شعور ہی ہوتا ہے۔

جس کی بنیاد ضد۔ ہٹ دھرمی، انا اور شخصیت پرستی نہیں بلکہ حق و باطلا اور صحیح وہ غلط کی پہچان اور بہتری کی نیت ہوتی ہے۔ جس میں اپنا بھی اگر غلط کر رہا ہو تو اس پر تنقید اور مخالف بھی صحیح کر رہا ہوتو اس کی تائید کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کے سامنے کسی سیاسی جماعت کی اندھی تقلید نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے جذبے، نظریے اور شعور کی طاقت تھی جس نے خود ہی قیادت بھی تلاش کر لی اور مشکلات کے با وجود اپنی منزل پا لی۔ نوجوان سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق سے بالا تر ہو کر نکلے انکا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو درپیش مسائل کا حل اور ملک کی ترقی و خوشحالی تھا۔

معزرت کے ساتھ انکی مقبولیت کو شعوری کہنا قدرے مشکل ہے کیونکہ اس کی بنیاد مظلومیت پر ہمدردی کا بیانیہ ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جسے سمجھنے کے لئے 2018 سے لے کر 2022 تک کے منظرنامے میں جا کر حکومت میں ہوتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر عوامی تاثرات کو دیکھنا پڑے گا۔ جب وہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے انتہائی نالاں تھے حتیٰ کہ انکے ممبران اسمبلی بھی آپ کو چھوڑنے کی راہیں تلاش کر رہے تھے اور اسی کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی مزید انکے ساتھ چلنے سے کنارہ کشی کا فیصلہ کیا جو ایک حقیقت ہے جس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کی وجوہات میں ایک 2018 میں آپ کو حکومت دینے اور آپ کے قبول کرنے کی سیاسی غلطی بھی شامل ہے جس کو شعور کے کینوس پر مقبولیت کی راست بنیاد تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ سہولت کاری کا حصول، امیدیں اور محاذ آرائی کا یک ساتھ کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

اس نئی حکمت عملی میں حقائق کو قوم کے سامنے رکھتے ہوئے جمہوری اقدار اور سیاسی اصولوں پر قائم رہنے والی اپنی سیاست کا آغاز کرنا ہوگا جس میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنے کی بجائے سیاسی حلقوں میں اپنے اثر کو بڑھاتے ہوئے عدالتوں، پارلیمان، الیکشن کمیشن، سوشل میڈیا اور کے پی کے میں اپنی گورننس پر توجہ دیتے ہوئے اپنی سیاسی مقبولیت کو شعوری بنا کر اپنی سیاسی جنگ کو جیتنا ہوگا۔ اپنی دوسرے درجے کی سیاسی قیادت کی صفوں میں پھر سے سنجیدہ سیاستدانون کی جگہہ پیدا کرنے کا ماحول بنانا ہوگا جس سے ملک کی نظریاتی، سیاسی اور جمہوری سطحوں پر ان کی سیاست بارے سنجیدہ تاثر ابھرے۔

اور پارلیمان کی سیاست کو اپنے حق میں کیا جا سکے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں سیاست اور محبت میں سب ممکن ہے۔ اگر ان کے نظریاتی طور پر سب سے بڑی مخالف جماعت جے یو آئی کے ساتھ قربت اور مذاکرات کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جیسا کہ چند ماہ پہلے دیکھا گیا تو باقی جماعتوں کے ساتھ کیوں نہیں؟ حکومت میں شامل بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون کے اتحادی ہونے کے باوجود بھی اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر عوامی پزیرائی کی دوڑ میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے تو ان کو بھی آئین کی بالادستی، عوامی حکمرانی کی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہوئے پارلیمان میں اپنی مثبت سوچ و عمل کے زریعے سے اپنی اہمیت کو پیدا کرنا ہوگا اور عوام کو احتجاج اور دھرنوں کی بجائے اس طرف متوجہ کر کے پارلیمان کے اندر 2022 کی طرز پر عدم اعتماد کے زریعے سے حکومت کی تبدیلی کے آثار پیدا کر کے اپنی مقبولیت کو سہارا دینا ہوگا۔ جمہوریت مضبوط ہوگی تو پائیدار سیاست کا ماحول بنے گا۔

اور سیاسی ماحول کی تبدیلی میں جس طرح سے انہوں نے خود صحافی کے سوال پر یہ اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے معیشت کو سنبھال لیا ہے ملک کے سیاسی حالات کو نیا موڑ دینے والے ہیں۔ ان کی اس مقبولیت کو اگر سہارا نہ دیا گیا تو نقصان دینے والے ہیں جن کا آغاز کے پی کے سے ہوگا جہاں انکے پاس پچھلے تین دورانیوں سے حکومت ہے اور عنقریب صوبوں کے درمیان کارکردگی کی بنیادوں پر شعوری مقبولیت کا متحمل مقابلہ ہونے والا ہے جس میں ہر صوبے کے عوام دوسرے صوبوں کے حالات سے متاثر ہوتے ہوئے اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور خرابیوں پر تنقید کرنے پر مجبور ہونگے بلکہ بحث مباحثے اور مذاکرے ہونگے جن کی پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔

اور یہ معیشت کی بہتری کا اعتراف ان سے اپنے سیاسی محاسبے کا تقاضہ کر رہا ہے۔ ان کی طرف سے بہتری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حکمت عملی جس میں انکی صوبائی حکومتوں کی طرف سے آئی ایم ایف کو قرضہ نہ دینے کے خطوط اور ملک کے ڈیفالٹ ہو جانے کا بیانیہ تھا پر ندامت کی بجائے ابھی بھی بیرونی زرمبادلہ میں رکاوٹ بننے کی کوششوں پر قائم ہیں جس کو بدلنا ہوگا۔ اگر انہوں نے معیشت کی بہتری کے اعتراف کے ساتھ مرکزی حکومت کی ترقی پر سوالیہ نشان اٹھایا ہے تو شعوری سطح پر دانشمندی کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ اب خیبر پختونخواہ صوبہ جہاں انکی جماعت پچھلے بارہ سالوں سے بر سراقتدار ہے اپنی ترقی کے وہ نمونے عوام کو دکھائیں جن میں وہ دوسرے صوبوں سے آگے ہوں تاکہ عوام میں ان کو مزید پزیرائی ملے۔

اب ان سب سوالوں کا سامنا کرنے کی تیاری کرنی ہوگی جس کے لئے کے پی کے میں گورننس کو بہتر بنا کر عوام کو سہولتیں دینے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اگر وہاں دوسرے صوبوں میں عدالتوں اور پولیس کو مطلوب افراد کو پناہ مل سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کی حصول کی کوشش کے با وجود تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے تو وہاں پر امن کے لئے اپنے اختیارات اور صلاحیتوں کو کیوں نہیں استعمال کیا جا سکتا تاکہ عوام کو ریلیف دے کر ان کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

فروری 2024 کے انتخابات نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ سوشل میڈیا اب کوئی فرضی بات نہیں رہی بلکہ یہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ ایک عملی سیاست کا حصہ ہے جس پر تکنیکی اعتبار سے خلا پر قابض ہونے کی آپ کی جماعت کو برتری حاصل ہے جس کا فائدہ اٹھانے کے لئے اب اپنی مقبولیت کو شعوری بنانے اور آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کرنا ہونگی۔ اگر اپنے ووٹرز کو انگیج رکھنے کو وہ اپنی مجبوری سمجھتے ہیں تو اسے سوشل میڈیا کے سپیس میں جاری رکھا جا سکتا ہے بلکہ وہاں ہی ان کو پارلیمانی سیاست میں کوششوں سے متوقع نتائج کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اور اس غیر مشروط مقبولیت کو اگر محاذآرائی میں استعمال کرکے فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا تو ملک و قوم کی فلاح میں مفاہمت کا کوئی بیانیہ بنا کر اس سے مستفید ہونے کی راہیں تلاش کی جائیں۔

اگر وہ ملک و قوم کی فلاح کے لئے مثبت سوچ رکھتے ہیں تو   سیاسی استحکام کا کریڈٹ لینا چاہیے اور اس ضمن میں انہیں اپنی طرف سے میثاق مفاہمت پیش کرتے ہوئے سب سیاسی جماعتوں اوراسٹیبلشمنٹ کو یہ تجویز دینی چاہیے کہ آئیں اگلے پانچ سالوں کے لئے سیاست میں محاذ آرائی کو ختم کرتے ہوئے ملکی فلاح کے لئے سب مل کر دنیا کی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے مواقعے تلاش کرتے ہیں تو ان کی مقبولیت ناقابل تسخیر بن جائے گی۔اور وہ اس میثاق کو اپنے اسٹیبلشمنٹ کے حکومت سازی میں دخل اندازی سے باز رہنے اور اصلاحات سے مشروط کر کے اپنے ان مخلصانہ مطالبات پر  دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی ہمدردیاں  حاصل کر سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اگر وہ دباؤ اور محاذ آرائی سے زیر نہیں کر سکے اور اپنے لئے الٹا مشکلات پیدا کی ہیں تو اس کا سبب ان کی سرگرمیاں اور ان سے ابھرنے والا تاثر ہے وگرنہ ان کی قائدانہ اور ان کی سوشل ٹیم کی اہلیت اور صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں۔ اگر وہ 27 نومبر 2022، 9مئی 2023یا 26نومبر 2024 جیسی سرگرمیوں کے منفی تاثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے تو اتنی مشکلات پیدا ہی نہ ہوتیں۔اب بھی اصل مسئلہ ہی ان کی طرف سے سیاسی استحکام کی یقین دہانی کا ہے اور جو جو ان کی جماعت میں سے کرواتا گیا وہ امن میں ہے۔  لہذا اگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی وہ مجبوری بن جائیں تو وہ اپنی ان صلاحتوں کو محض مثبت سمت دے کر اپنی اہمیت کو نمایاں بنا سکتے ہیں۔  حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو انکی ذات سے نہیں بلکہ ان کی محاذ آرائی سے شکوہ ہے ۔

ان کے لئے مرکزی حکومت سے باہر اور اپنی صوبائی حکومت کے پلیٹ فارم سے بھی  مواقع موجود ہیں۔وہ اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کی بے مثال صلاحیتوں کو  مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے آئی ٹی سے منسلک کسی ایسے پراجیکٹ کے ماڈل کی مثال قائم کرکے پاکستان کی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقعوں سے انکی دلچسپیوں کو سہارا دیتے ہوئے ملکی اور عالمی سطح پربحثیت ایک فل ان تھراپسٹ کے شوکت خانم یا نمل یونیورسٹی کی طرز پر  معاشی انقلاب یا پاکستان میں سرمایہ کاری اور ریمیٹنس کی آمد کے لئے اپنا کردار ادا کرکے حکومت کو اپنا احسان مند یاحکومت سے باہر رہ کر بھی عوامی پزیرائی کو اپنے حق میں ٹھہرا سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی مقبولیت کی صلاحتیوں اور اہلیت کا استعمال ہوتے ہوئے پاکستان کو نمایاں فائدہ پہنچے جس کی ایکنالجمنٹ ان کے حریفوں کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پیچھے چھوڑ دے۔

ان سے حکومت لئے جانے کی بنیادی وجہ ہی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال تھی جس کا اعتراف ان کے وزراء بھی کر چکے ہیں کہ "اگر ان کی حکومت نہ جاتی تو بہت خرابی پیدا ہونے والی تھی" وگرنہ جس قدر ان کو سہولتیں دی جاتی رہی ہیں ان کی پاکستان کی آمرانہ جمہوریت میں مثال نہیں ملتی جس کی ایک نئی جہت "ہائبرڈ جمہوریت"انہی کی ان سہولتکاریوں اور ایک پیج پر ہونے کے ماحول سے متعارف ہوئی ہے جس کی مخالفت کے وہ اس وقت سب سے بڑے علم بردار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف جس طرح سے ان کا سیاسی بیانیے میں دعویٰ ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان سے نہ سنبھال پانے کی وجہ سے معیشت خراب ہوئی ہے تو اپنی اور اپنی ٹیم کی  صلاحیتوں سے اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اب بھی اگر معیشت میں بہتری کا کوئی ماڈل یا اس میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان کی ہر طرح کی محاذآرائی خود بخود ہی منطقی انجام کو پہنچ جائے گی۔ یا پھر  حکومت کی میثاق معیشت پر ساتھ دینے کی آفر پر انہیں متاثر کن تجاویز دے کرمعیشت کی بہتری کے عمل میں سربراہی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں  یا   اپنی صوبائی حکومت کے لئے مالی امداد یا ترقیاتی پراجیکٹ کے حصول کو مذاکرات میں مدد سے مشروط کرکے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔

اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک مناسب نہیں تو پھر ان کو اپنے دور اقتدار کے حالات کو بھی یاد کرنا چاہیے کہیں یہ مکافات عمل کا ہی تسلسل تو نہیں جس کوختم کرنے کے لئے بھی سیاسی ماحول کو جمہوری اقدار اور اصولی سیاست سے مزین کرنے سے مشروط ہونے کو یقینی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا جو مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ جس کا ان کو 2018 میں اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے سیاسی جماعتوں کی طرف سے عندیہ دیا گیا جس کو انہوں نے نظر انداز کر دیا تھا۔

اگر اس تسلسل میں وہ این آر او کے مرحلے میں داخل ہونا چاہتے ہوں جس کا انہوں نے بظاہر تو انکار بھی کیا ہے لیکن اگر کوئی ایسی امید وابسطہ کی بھی جا رہی ہے تو غیر مناسب نہیں۔ سیاسی بنیادوں پر اسیری کوئی اچھی مثال نہیں اس کا بھی کوئی مستقل حل سیاسی جماعتوں کو باہمی اتفاق رائے سے سیاسی نگرانی والی طرز پر ڈھونڈنا چاہیے تاکہ کل کوئی نیا سیاسی کردار پھر سے اس عمل کا آغاز نہ کر دے۔

بین الاقوامی سطح پر انکی  حمائت کے لئے پی ٹی آئی  سوشل میڈیا کی ٹیم کی کوششیں قابل تعریف ہیں مگر ان کا فائدہ بھی اس لئے نہیں ہو پا رہا کہ پاکستان کے دوست ممالک جن کی پاکستان کے تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے ساتھ مفادات اور دلچسپیاں جڑی ہوئی ہیں بھی ان سے اپنی راہ میں رکاوٹ بننے سے خائف ہونے کی بنیاد پر نالاں ہیں جو وہ ہر دفعہ بیرونی ڈیلیگیشن کی آمد پر احتجاج اور دھرنوں سے مشکلات کی صورت اپنے بارے ایک تاثر بنا چکے ہیں کو بھی اب تبدیل کرنا ہوگا اور بیرونی دباؤ کو ان کے ساتھ ہمدردیوں کی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔

مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اس مقبولیت کو اگر سمجھا جائے تو قومی اثاثہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے سیاستدانوں کو اجتماعی سطح پر سوچ کر اس کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اسے اقتدار کے حصول کی طمع سے آزاد کر کے عمران خان کو وہی 1992 والا عمراں خان سمجھتے ہوئے میثاق مفاہمت کی طرز پر کسی معاہدے پر پہنچ کر اپنا ہیرو بنالیں اور انہیں بھی ایسی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اوراس پرسب کا ممنون ہونے کا رویہ اپنانے میں پہل کرنی چاہیے۔ اقتدار کی جنگ کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ  سے بھی گزارش ہےکہ وہ اس مقبولیت کو اپنے حریف کی نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کو شعور دےکر اپنی افرادی قوت کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ملکی سلامتی اور خوشحالی میں استعمال ہونے کے ماحول کو پیدا کر کے اگر وہ اپنی سیاسی  ساکھ کی قربانیاں دے کر ملک کو بچانے کے دعوے کا عملی ثبوت دینا چاہتے ہیں تو  پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کو "قومی میثاق مفاہمت" پر ایک ہوجانے سے مشروط کر دیں اور عالمی سطح پر ایک "سافٹ انقلاب" کی نئی مثال قائم کرنے میں اپنے حصےکا کردار ادا کرنے میں دیر نہ کریں یا اس کا کوئی دوسرا حل ڈھونڈیں۔

اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو آپس کی محاذ آرائی کا رجحان نہ صرف قومی افرادی قوت کےزائل ہونے کی خطرات رہیں گے بلکہ سیاسی عدم استحکام سے معاشی بہتری کی رفتار بھی متاثر ہوگی کیونکہ جہاں ایک طرف حکومت کی کوششوں سے سرمایہ آ رہا ہے وہاں سول نافرمانی جیسی تحریکوں سے فارن ریمٹنس بھی متاثر ہورہی ہے اور عوام میں مایوسی سے لوگ سرمایہ لے کر یہاں سے بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں جس سے اچھے نتائج کی توقعات کم پڑتی جائیں گی۔


جمعرات، 4 اپریل، 2024

ججز کے خط سے کھلنے والے پنڈورا باکس سے کیا کچھ نکلے گا؟

 

اب یہ جو ججز پر دباؤ کا معاملہ ہے یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے کبھی اسلام آباد میں پولیس اصلاحات سے قبل اسلام آباد ٹریفک پولیس کے منتظمین جناح اور جمہوریت کے نام پر منسوب شاہراہوں کے سنگم میں چوک  جسے ڈی چوک اور انصاف کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور فیصل ایوینو چوک میں کھڑے مال اکٹھا کر رہے ہوتے تھے، ان کی پینٹوں کی جیبیں پھٹ کر نوٹ باہر جھانک رہے ہوتے تھے اور حیرت کی بات ہے کہ یہاں سے پاکستان کی ساری مقتدرہ گزر کر کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر واقع انصاف اور جمہوریت کے نام پر قائم ایوان زیریں و بالا اور انصاف کے ایوانوں میں جاتے تھے جن میں وزیراعظم، صدر پاکستان، چیف جسٹس، چیف آف آرمی سٹاف، پولیس کے محکمے کے سربراہ اور اینٹی کرپشن  محکمے کے اہلکار کسی کو وہ رشوت ستانی نظر نہیں آتی تھی۔ ایسا ہی معاملہ مجھے تو یہ عدلیہ کے ججز پر دباؤ والا بھی لگتا ہے گویا پہلے تو یہ کسی کے علم میں ہی نہیں تھا اور اب ججز کے خطوط سے اس پر یوں شوروغوغا شروع ہوگیا ہے جیسے کوئی بہت بڑی انہونی ہوگئی ہے۔

ہاں پہلے والا عدالتی اور سیاسی کلچر کچھ اس طرح کا تھا جس میں سرگوشیوں میں ایسی  باتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس کلچر سے بغاوت کرتے ہوئے بار روم میں یہ بھانڈا پھوڑ دیا جس کے بعد جو انکے ساتھ ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ ان کے اپنے ہی ججز ساتھی جنہوں نے بقول انکے اس مروجہ ثقافت سے انحراف کے پیش نظر ان سے سوشل بائیکاٹ کر دیا اور یہی لوگ ان کوعہدے سے بھی فارغ کرنے کے نظام انصاف کا حصہ تھے۔ اس کے نتائج یہ نکلے کہ ایک  کا ہندسہ چھ میں بدل گیا اور آج جب شوکت عزیز صدیقی کئی سال کے بعد اپنی مراعات کے حقدار بن چکے ہیں تو  یہ لوگ اب ان کے لگائے گئے الزامات کی تحقیق کا مطالبہ کر رہے ہیں "بدلتا ہے آسمان رنگ کیسے کیسے" جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ذاتی مشکلات کے مدنظر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے موقف کی تائید کرنی پڑ رہی ہے جس کا وہ پہلے مذاق اڑاتے رہے ہیں بلکہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے تو ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ "روندی یاراں نوں ناں لے لے کے بھراواں دا"  اگر یہ چھ اس وقت اس معاملے کو سنجیدہ لیتے تو شائد آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور نہ ہی ہمارے نظام عدل کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس طرح کی خبروں سے قوموں کے چہرے کس قدر مسخ ہوتے ہیں اور تشخص سے اس کے بد نماداغ مٹانے مشکل ہوجاتے ہیں۔

ججز اورحکومت کے مشورے کے بعد کمیشن ترتیب دیا گیا جس کی سربراہی کی تجویز بھی سپریم کورٹ نے دی تھی اور اس کے بعد میڈیا، وکلاء اور سیاستدانوں کی طرف سے اعتراضات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سپریم کورٹ کو سوؤموٹو لینا پڑگیا۔ اس ساری مشق کا فائدہ کیا ہوا؟ یہیں نہیں ملک کے انتظام انصرام میں ہر سطح پرقوم کی صلاحیتیں ایسی ہی فضول سرگرمیوں میں ضائع ہو رہی ہیں، وجہ کیا ہے؟ "اعتماد کا فقدان" اور مفادات کی حوس" ہر کوئی دوسرے پر شاکی ہے جیسے ججز پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں کبھی حاضر سروس جج ہونے پر تو کبھی ریٹائرڈ جج ہونے پر کبھی کمیشن کے ٹی او آرز پر تو کبھی سابقہ کمیشن کی رپورٹس پر استدلال کرتے ہوئے شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔

اگر غور کریں تو اس اعتماد کے فقدان کا اصل سبب ہی ججز، جرنیل ، بیورکریٹ ، سیاستدانوں کی اپنی سوچ اور ان کا عمل ہے۔ کیا جو ججز سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ رہے ہیں ان کو قانون ایسے دباؤ سے نمٹنے کا اختیار نہیں دیتا اور اگر وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس پر قابوپانے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں تو قصور دباؤ ڈالنے والے کا زیادہ ہے یا اس دباؤ کولینے والے کا۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے۔  کون آئینی و قانونی طور پر عہدے اور منصب کے لحاظ سےاس مسئلے کے حل کا ذمہ دار ہے؟ اگر ججز کو اپنے منصب اور رتبے کا احساس اور اندازہ ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔

کیا کوئی خفیہ مقتدرہ سے ہو یا وردی میں ملبوس اس دھرتی کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ دینے والے ذمہ داران سب  کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر قائم بڑے بڑے ایوانوں میں اپنی خفیہ اور ظاہر سرگرمیوں کی رپورٹس لے کر پیش نہیں ہوتے جن کے گواہ ان ایوانون میں  ایک پیج پر ہونے کے گونجتےنعرے ہیں جو اس پیج پر موجود شخصیات کے بدل جانے کے حالات  سےتذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی آپس کی بدشگونیوں کا بھی خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑ جاتا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی خواہ وہ جج ہو، سیاستدان یا خفیہ اداروں کا سربراہ ہو  ان معززین میں سے بہت سارے پورا سچ بولنے کے لئے تیار ہی نہیں اور آئین و قانون اور اختیارات میں سے جو بات اپنے مطلب، خواہش اور مقصد سے مواقفت رکھتی ہے اس کی تعریفیں اور پر چار شروع کر دیتے ہیں اور جو ناموافق پڑتی ہے اس پر شورو غوغا گونج اٹھتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اب سوؤ موٹو کے بعد معاملہ تھم جائے گا؟ اب بنچ میں بیٹھے ہوئے ججز پر اعتراضات نہیں اٹھیں گے بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھا بھی دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ انصاف کے معیار کا ہے جس پرتاریخ اعتماد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانونی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جانے والے کمیشن میں سپریم کورٹ کا ریٹارئرڈ جج ہوتے ہوئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر تمام اختیارات رکھتا ہوگا جس کے تحت وہ کسی بھی طرح کی معلومات کے لئے کسی کو بھی طلب کرنے یا ریکارڈ منگوانے کا مجاز ہوگا اور اپنے احکامات پر عملدارآمد کروانے کے لئے توہین عدالت کی کاروائی سمیت تمام اختیارات رکھتا ہوگا۔ اس لئے یہ خدشات اخذ کر لینا کہ ماضی کے کمیشنز کی طرح کچھ حاصل نہیں ہو گا انتہائی نا مناسب ہے اور اس طرح کے خدشات کا علاج تو آئین و قانون کے پاس بھی موجود نہیں سوائے، جرات اور اعلیٰ اخلاقیات کی پاسداری کے جسکی ذاتی مفادات اور خواہشات کی سوچیں رکھنے والوں سے امید نہیں کی جا سکتی جس کا ریٹائرڈ یا حاضر سروس ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

بلکہ میں سمجھاتا ہوں کہ جب خط میں موجودہ عدلیہ کے اندر ابھی بھی دباؤ کا تاثر دیا گیا ہے تو پھر عدلیہ کے اندر تو سپریم کورٹ بھی شامل ہے تو ایسے میں کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیق تو مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے تاکہ موجودہ عدلیہ میں سے اگر کوئی الزامات لگاتا ہے تو اس سے شواہد طلب کئے جا سکیں اور اگر حاضر سروس کوئی جج دباؤ کے تحت فیصلے کرنے میں ملوث پایا جاتا ہے تو پھر اس بارے حکومت رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج سکے اور اگر کوئی عدلیہ کے باہر سے دباؤ میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی کاروائی کو عمل میں لانے کی ہدایات جاری ہوں اور اسی طرح اگر کسی ادارے پر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو الزامات لگانے والے کے خلاف بھی تادیبی کاروائی کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خط کے مندرجات میں ایک انتہائی سنگین مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ججز پر دباؤ کی تو جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو کیا اسے نظام عدل میں ججز کی اپنی ہی زبانی انصاف کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑوں کی مخبری یا گواہی نہ سمجھا جا ئے جس کا آغاز جسٹس منیر اور جسٹس ارشاد حسن خان سے شروع ہوتا ہے اور اسی فہرست میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ نے حال ہی میں بھٹو کی سزا پر اپنے ادارے کی کوتاہیوں کو دھونے کی کوشش کی ہے۔  کیا اس سے ان کے عہدے اور منصب پر بھی سوال کھڑے نہیں ہوتے  جن کا انکو خود بھی احساس نہیں ہو رہا جس کی وجہ شائد ان کی تعیناتیوں کا طریقہ کار بھی ہے کہ وہ خود سیاست کی کوکھ سے جنم لئے ہوئے ہوتے ہیں جو بعد میں نہ صرف ان کی مجبوریاں بنتی ہیں بلکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹ کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے اختیارات کے استعمال کی سکت نہیں رکھتے ہوتے اور اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جج کا عہدہ اور منصب ہر طرح کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے بالا تر ہوتا ہے۔ اصل معاملہ محض دخل اندازی کا ہی نہیں بلکہ ججز کی کریڈیبلیٹی اور ان خدشات کی بنیاد پر ایک عام آدمی کے نظام انصاف پر اعتماد کا بھی ہے۔ اگر ججز دباؤ کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تو پھر ان سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے یا ان کا اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز کیسے باقی بچتا ہے۔

ہمارے ماضی قریب کے نظام عدل نے تو فلسفہ قانون کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جرائم کے پیچھے موٹو کا تو سنا ہوا تھا لیکن ان سالوں میں تو فیصلوں کے پیچھے بھی موٹو نظر آرہا ہوتا ہے۔ حالات سے یوں لگتا ہے کہ ججز پر دباؤ اصل مسئلہ نہیں بلکہ دباؤ کی موافقت دکھائی دے رہا ہے اور دباؤ بھی صرف ایجنسیز کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ماضی میں لیک ہونے والی وڈیوز میں ججز کے خاندان کے لوگ بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدانوں سے تعلقات بھی ہوتے ہیں اور جوڈیشری اور حکمرانوں کا ایک دوسرے سے مفادات کا لین دین بھی ہوتا ہے اور اب یہ سارا کچھ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے معاشرے کے معیار بھی فلسفہ قانون کے ساتھ ساتھ بدلے بدلے لگتے ہیں۔

قانون کی تشریحات بھی انہیں معاشرے کے معیاروں کی مطابقت سے بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ جس کی مثالیں حالیہ سالوں میں تو فراخدلی سے ملتی ہیں۔ ججز کے مذاج، حالات، حوالاجات، خواہشات حتیٰ کہ سوشل میڈیا کا بیانیہ بھی اب تو قانون کی تشریحات کے زرائعے کے طور پر دکھائی دیتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر بنائے گئے بنچز کے فیصلوں کی صحت پر اثرات تو کسی سے چھپے ڈھکے نہیں۔  ججز کے بدل جانے سے فیصلے بدل جاتے ہیں اور بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کی پشینگوئیاں ہونے لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ سو فیصد ٹھیک بھی نکلتی ہیں۔ انصاف بھی موسموں کی طرح بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہی واقعات، ملزمان اور شواہد ہوتے ہیں اورکبھی سزاؤں پر سزائیں سنائی جا رہی ہوتی ہیں تو پھر اچانک انصاف کا موسم ایسے بدلتا ہے کہ سزائیں بریت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

جہاں اتنے بڑے دباؤ ہوں تو کبھی کبھی دباؤ کے زرائعے کی آپس میں چپقلش بھی کوئی انہونی بات نہیں ۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ موسم بدلنے سے یہی دباؤ جو آج موافق نہیں پڑ رہا یکدم موافق پڑنا شروع ہو جائے۔ کیونکہ دباؤ کی موافقت کو قائم کرنے کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ججز کے خطوط کے بعد وکلاء کے خطوط شروع ہوگئے ہیں اور ان خطوط کی روشنی میں اداروں کی آراء بھی بدلنا شروع ہوگئی ہیں اور فیصلوں کے متن بھی موسموں کی تبدیلیوں کے اشارے دینے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ جو دباؤ کو  اچانک اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اس کے پچھے بھی کسی خاص موٹو کا شک ہو رہا ہےکیونکہ  سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اُس وقت اِس طرح کا کوئی دباؤ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر موجود تھا تو کیا وہ ان کے جانے کے بعد ختم ہو گیا تھا یا اسی دباؤ کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی قوم ان سے اس تحقیق کے دوران سچ بتانے کی توقع رکھتی ہے جس کے بغیر یہ تاثر  لیاجائے گا کہ وہ اپنی حیثیت کو مضبوط تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر جوابدہی کا ان کے اندر کوئی احساس موجود نہیں۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو  کیا اس سے ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کا حلف مشکوک نہیں ہو چکا؟ 

 خط  کو لکھنے کا وقت بھی کئی  خدشات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں مبینہ طور پر ایک سو کے قریب درخواستں دائر ہو چکی ہیں جن میں سے چند ان ججز کے خلاف بھی ہیں جس سے یہ تاثر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مقصد دباؤ اور بیرونی اثرات سے آزادی نہیں بلکہ حکومت، عدلیہ، اداروں اور سپریم جوڈیشل کونسل پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس خط کا یوں جوڈیشل کونسل کا رخ کرتے ہوئے میڈیا کے ہتھے چڑھ جانا بھی شکوک شبہات پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے جس کا جواب دینا بھی ججز کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اور ان سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب ان کا کام ہی انصاف کی فراہمی ہے تو انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا قانونی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

سپریم کورٹ میں کئی اور درخواستیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں سے ایک  مبینہ طور پر میاں داؤد ایڈووکیٹ کی بھی ہے جس  میں کچھ ایسے نقطے بھی اٹھا دئے گئے ہیں جو اس خط کو عدلیہ اور ملک کی عمومی سیاست سے جوڑنے کا منظر نامہ  پیش کر رہے ہیں جن کی پاکستان کی عدلیہ اور عدالتی رائے کے اصولوں کے اندر کوئی نظیر نہیں ملتی جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہی عمران خان کی ضمانت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں انکی طرف سے مستقبل میں کئے جانے والے تمام فرضی جرموں کی بھی پیشگی ضمانت دے دی گئی تھی اور اسی طرح کچھ لاہور ہائیکورٹ کے بھی فیصلے ہیں جن پر تحریک انصاف کی سہولت کاری کے الزامات پر آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں اور جن میں ایک فیصلہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد سے روکنے کا اسٹے آرڈر بھی تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اس پر سخت کمنٹس دیتے ہوئے انتخابات کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کو نا کام بنایا تھا جس سے ہائیکورٹس کو اس طرح کے سہولت کاری کے تاثر والے فیصلوں بارے محتاط انداز اپنانے پر مجبور کر دیا گیا تھا

ایسا بھی نہیں کہ ججز کے موقف کی تائید نہیں  ہو رہی جیسا کہ میڈیا پر ان کے موقف کو سراہا بھی جا رہا ہے اور اب تو اس خط کی حمائت میں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی طرف سے اعلامیے بھی جاری ہو چکے ہیں اور بعض سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست کو آکسیجن دینے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دے رہی ہیں۔ ججز نے اپنے فیصلوں پر دباؤکا اظہار کرکے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے بلکہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نے تو بانی تحریک انصاف کو دی جانے والی سزاؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جس کا یقیناً ان کو فائدہ ملے گا۔ تو ایسے منظرنامے میں یہ بھی دیکھنا ضروری نظر آتا ہے کہ ماضی میں اگر دباؤ تھا تو اس وقت اس کے بینیفشریز کون تھے اور آج اگر عدلیہ پر دباؤ ہے یا ججز اس خط کے زریعے سے اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے بینیفیشریز کون بنتے ہیں؟

ان الزامات میں ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر انتظامی اختیارات کی آڑ میں عدالتی رائے پر حاوی ہونے کی طرف اشارہ ہے جو دباؤ کا حصہ بن کر فیصلوں کو متاثر کرنےکی ایک مثال ہے جس کا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت عدالت عظمیٰ میں حل تلاش کیا گیا اسی طرح کی اصلاحات کا اطلاق ہائکورٹس پر بھی ہونا چاہیے تاکہ انصاف کو شفاف اور یقینی بنایا جاسکے۔ اختیارات سےصحیح اور جائز فائدے اٹھانے کے لئے اخلاقیات کا  گہرا تعلق ہوتا ہے اور جہاں اخلاقیات کمزور ہوں وہاں  اختیارات بے لگام ہو جاتے ہیں اور پھر قانونی اصلاحات کے زریعے سے بہتری کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اس صورتحال کا حل دخل اندازی کرنے والوں کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ  اس بات میں بھی ہے کہ ججز کی تعنیاتیوں میں نہ صرف جج کی تعلیم و تجربہ کو دیکھا جائے بلکہ ایسی شخصیات کو لیا جائے جن کے اندر اس عہدے اور منصب کی خواہش نہ ہو اور وہ اعلیٰ اخلاقیات کے مالک ہوں تاکہ اگر وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکیں تو کم از کم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے جائیں لیکن نا انصافی کا حصہ تو نہ بنیں۔ جب ججز خوف خدا کے تحت اپنے فیصلوں پر اپنے آپ کو خدا کے حضور جوابدہ سمجھنے والے ہونگے تویہ شکایات خود بخود ہی ختم ہوجائیں گی۔ جس طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اگر ماحول سے مدد نہیں ملی تو مشکلات بھی جھیلیں مگر کم از کم کسی کے ساتھ نا انصافی کاحصہ تو نہیں بنے۔ لیکن ماضی کے واقعات پر استدلال کرکے سبھی ججز کو الزامات کا نشانہ بنا دینا بھی جائز نہیں۔ آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے اس لئے بغیر شواہد کے الزامات کا بھی سلسلہ بند ہونا چاہیے اور یہ سب شفاف تحقیقات کے بعد ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کسی کو  خاص کر میڈیا کو ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے اداروں کے سربراہان ہر ایک کے الزام پر وضاحت تو جاری نہیں کر سکتے۔

اگر اس دباؤ کو وسیع منظرنامے میں دیکھا جائے تو یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ حکومت میں یا عدلیہ میں موجود لوگ جو اپنے ہی آئینی رتبے اور عہدے کے ماتحت سے ڈر کر انصاف نہ دے سکیں یا جوابدہی کا عمل یقینی نہ بنا سکیں تو ان پرایک خود مختار  جمہوری ریاست کے انتظامات محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے معززین جو طاقت کے نشے میں من مانیاں کرتے ہوئے ہر حد کراس کر جاتے ہیں ان کو سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ حب الوطنی اور ریاست سے وفا کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے معاملات کو چلانے کا معیار جو آئین نے متعین کیا ہوا ہے اس کو معتبر سمجھا جائے اور ریاست کے وسائل کو عوام اور ریاست کی امانت سمجھتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے استعمال کیا جائے نا کہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لئے اور ایسا کرنے والوں کی زندگیاں مکافات عمل کی صورت ہمارے سامنے ہیں اور اگر ہم اب بھی اس سے سبق حاصل نہیں کریں گے تو پھر قدرت کا اصلاح کا عمل ہر کسی کے لئے تکلیف دہ ہوگا اور اس کا دکھ صرف ہمیں ہی نہیں اگلی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا

۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین