پاکستان کی حالیہ ہندوستان کے ساتھ جنگ میں کامیابی نے اسلامی دنیا کے اندر اعتماد کو بحال کیا ہے اور ایسا ہو بھی کیوں نہ جب پوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی ہی نہیں بلکہ امن کوششوں کی معترف ہے۔ اسلامی ممالک کے لئے تو یہ بات قابل فخر ہے کہ انکا اسلامی برادر ملک پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی برتری حاصل کر چکا ہے۔
اسلامی ملٹری کاؤنٹرازم اتحاد کے 17 ممبران پر مشتمل یہ وفد دنیا کے 43 اسلامی ممالک کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی وفد سعودی عرب سے سیکرتری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید کی سربراہی میں 2 سے 8 فروری تک پاکستان میں قیام کرے گا اور اپنے اس دورے کے دوران انسداد دہشت گردی کے لئے ایک خصوصی تربیتی پروگرام کا افتتاح بھی کرے گا جس کے ذریعے جدید ترین حکمت عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا جو اسلامی دنیا کی طرف سے بھر ۔ پور حمائت کی علامت ہے۔ وفد کے سربراہ کی چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔
یہ محاذ اسلامی دنیا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط انیشیوٹو ہونے کا ساتھ ساتھ اس بات کی گواہی بھی ہے کہ اسلامی دنیا کی نظریں دہشت گردی کے خلاف مضبوط اتحاد کے لئے پاکستان کی پیشہ ورانہ فوجی صلاحیتوں کی جانب مرکوز ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو وسائل اور تعاون سے مذید مضبوط کر کے اسے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف استعمال کر کے امن میں کردار ادا کیا جائے۔ اس سے ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان کو بھی سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مکمل تعاون کرنا چاہیے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں