سوچ کی غذا

پیر، 2 فروری، 2026

حکومتی سطح پر کی جانے والی عوام سے آئینی و قانونی نا انصافیاں


 پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کے  ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو عوام کی نمائیندہ حکومتوں
    نے باقاعدہ ترامیم کے زریعے سے نافذ کی ہوئی ہیں جس کی کئی مثآلیں ہیں جس میں سے ایک  ٹیکس کے نطام  سے لی جا سکتی ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بنتی ہیں بلکہ معاشرے کے اندر رائج رسم و رواج کے پیمانوں پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔

مثلاً اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر اپنا کوئی مکان بنانے کے لئے زمیں خریدنا چاہتا ہو تو اس کو کئی ایسے ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے نہ جمع کروانے والوں پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ دہائیوں پر محیط محنت مزدوری سے حاصل کردہ آمدن جس پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا سے خرید رہا ہو۔ بھلے وہ پُشتوں سے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اس کی  آمدن ٹیکس کی ادائیگی کے زمرے میں نہ آتی تھی اس لئے وہ نان فائلر ہی رہا مگر اب اس کو فائلر نہ بننے کی وجہ سے خواہ مخواہ کے  ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے۔ حالانکہ یہ قانون آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکز کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہا ہے؟


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین