حکومتی سطح پر کی جانے والی عوام سے آئینی و قانونی نا انصافیاں


 پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کے  ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو عوام کی نمائیندہ حکومتوں
    نے باقاعدہ ترامیم کے زریعے سے نافذ کی ہوئی ہیں جس کی کئی مثآلیں ہیں جس میں سے ایک  ٹیکس کے نطام  سے لی جا سکتی ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بنتی ہیں بلکہ معاشرے کے اندر رائج رسم و رواج کے پیمانوں پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔

مثلاً اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر اپنا کوئی مکان بنانے کے لئے زمیں خریدنا چاہتا ہو تو اس کو کئی ایسے ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے نہ جمع کروانے والوں پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ دہائیوں پر محیط محنت مزدوری سے حاصل کردہ آمدن جس پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا سے خرید رہا ہو۔ بھلے وہ پُشتوں سے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اس کی  آمدن ٹیکس کی ادائیگی کے زمرے میں نہ آتی تھی اس لئے وہ نان فائلر ہی رہا مگر اب اس کو فائلر نہ بننے کی وجہ سے خواہ مخواہ کے  ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے۔ حالانکہ یہ قانون آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکز کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہا ہے؟


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

دیکھے جانے کی تعداد