سوچ کی غذا

‏torture لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏torture لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 14 جنوری، 2025

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف

 

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج  حکومتی سطح پر  قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔  حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔  

جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا  نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟

چلیں آپ کو اپنا  ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو  پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب  تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو  اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔  بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔

مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔

بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور  دیکھے۔

جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور  سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو  اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔

جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی  عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست  کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔

ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی  ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔

بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف  مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔

نظام کی اصلاح کی اصل  ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً  کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ،  سیاسی  نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔

مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں  اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے   تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی

کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے

اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو

بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔


(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)

اتوار، 27 اگست، 2023

سوچوں پر پہرے اور عدم تحفظ کا ماحول

انسان جب اپنی سوچوں کو تحریروں میں لاتا ہے تو پھر اس کی خواہشات، ارادے، چاہتیں، احساسات، تحفظات اور بہت کچھ دوسرے انسانوں تک پہنچتا ہے جس سےان پر ردعمل بھی ابھرتا ہے اور پھران کے نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس رد عمل کے اثرات  میں ایسے  اشارے بھی ہوتے ہیں جن میں محبت یا نفرت کا اظہار ہوتا ہے جو یقیناً ہمارے لئے خوشی، رائے قائم کرنے اور اپنی اصلاح کے لئےفائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن بعض دفعہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہماری تحریروں نے کس انسان پر کیا تاثر چھوڑا ہے، خاص کر اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں تو  اشاعت وسیع اور اس کے اثرات کو جاننا انتہائی پیچیدہ ہوچکا ہے۔ کچھ ایسے ہی چھپے رستم لوگ جن کے مفادات متاثر ہورہے ہوتے ہیں وہ ظاہر نہیں کرتے مگراپنے مقصد کو نقصان پہنچنے کا  بدلہ  لینے کی خاطر انتقام کی حد تک چلے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی چالوں اور انتقام کے جذبے سے ہم  چونکہ لا علم ہوتے ہیں اس لئے  ان کی چالوں کے خطرات سے بچنا انتہائی مشکل ہوجاتاہے۔ ایسی صورت میں اللہ کا فضل ہی کارگر ہوسکتا ہے جس کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔

آج میں کچھ ایسے ہی واقعات آپ کو سنانے جارہا ہوں جن سے نہ صرف ہمارے احساسات  متاثر ہوتے ہیں بلکہ خوف و اندیشہ اورنقل حرکت میں بھی محتاط ہونا پڑتا ہےاور ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے جس ہماری ذات کے علاوہ ہمارے ساتھ ہمارے خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میرے ساتھ ہونے والے ان واقعات  نے مجھے بہت محتاط کردیا  ہے مجھے اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑا ، جس سے میری آزادی بھی متاثر ہوئی ، میرا اظہار رائے کا حق بھی متاثر ہوا اور مجھے ذہنی , جسمانی اور مالی طور پر نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔

کئی دفعہ ایسے لوگوں کے تعاقب کا سامنا کرنا پڑا ، دروازوں پر ڈندے برسائے گئے، گاڑی کو سڑک پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اب یہ لوگ کون ہیں اس بارے کچھ کہہ نہیں سکتا مگر ان کی روداد ضرور سنا سکتا ہوں۔اور پریشان کن بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی شکائت کارگر ہوتی ہے اور نہ ہی ان سے کوئی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

ایک دن میں گھر پر بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور میں باہر گیا تو دو نوجوان تھے جن میں سے ایک  نے اپنا تعارف کسی ریڈیو سٹیسشن پر کام کرنے اور ساتھی کا پیشہ  ڈاکٹر بتایا ۔ میں نے پوچھا فرمائیے میں  آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ تومجھے کہنے لگے کہ یہاں پر زمین کی کیا قیمت چل رہی ہے میں نے اندازے سے بتایا تو پھر میرے گھر کے ساتھ بنے فلیٹس کے بارے معلومات لینے لگے ، میں نے ان کو بتایا کہ چوکیدار وہاں پر موجود ہوگا آپ اس سے معلومات لے سکتے ہیں مگر انہوں نے میرے ساتھ جانے پر اسرار کیا میں ان کے ساتھ  چلاگیا اور ان کو بتایا کہ فلیٹس کھلے ہیں اور آپ جاکر اندر سے دیکھ سکتے ہیں مگر وہ مجھے اندر ساتھ جانے پر زور دینے لگے جس پر مجھے تعجب ہوا ور میں تھوڑا محتاط بھی ہوگیا۔مجھے ان کے اس رویے پر کچھ گڑبڑ ہونے کا خدشہ ہواور میں نےتھوڑے سخت لہجے میں کہا کہ آپ جائیں اور دیکھ لیں تب وہ اندر چلے گئے تو میں گھر لوٹ آیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر دستک ہوئی باہر گیا تو وہی دونوں تھے اور  کہنے لگے کہ ہم کل دوبارہ آئیں گے تو آپ ہمارے ساتھ جا کر کچھ پلاٹ وغیرہ دکھا دیں۔ میں نے کہا بھئی میں اس بارے کچھ نہیں جانتا مگر وہ گزارش کے انداز میں بضد تھے ، میرے ساتھ پانچ سال کا بیٹا بھی تھا ،ایک نےاپنے پرس سے سو روپے نکالے اور میرے ساتھ کھڑے بیٹے کو دینے لگا۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو منع بھی کیا مگر انہوں نے زبردستی بیٹے کی جیب میں ڈال دئیے اور مجھ سے موبائل نمبر پوچھنے لگے۔ مجھے اخلاقاً نمبر بتانا پڑا ۔ دوسرے دن پھر مجھے فون آیا اور اپنا تعارف کروانے کے بعد کہنے لگے کہ ہم آج دوبارہ ا ٓپ کی طرف آ رہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہماری گاڑی میں  چلیں تاکہ ہم کچھ پلاٹ دیکھ سکیں ، تو میں نے انکار کر دیا کہ میں کچھ نہیں جانتا اور میں فارغ بھی نہیں ہوں ۔ آپ کسی پراپرٹی ڈیلر کو ملیں، وہ اسرار کرتے رہے مگر میں نے معذرت کرتے ہوئے فون بند کریا۔

اسی طرح ایک دفعہ میری گاڑی کو ایک ملنگ دوست نے روک لیا میری فیملی بھی ساتھ تھی اور بہروپیے کی طرح عمل کرنے لگا ، پیسے مانگے، میں نے اپنی استعداد کے مطابق پیسے دئے تو پانچ سو کا مطالبہ کرنے لگا اور ساتھ ہی اپنی پیشہ ورانہ انداز میں برا بھلا بھی کہے جا رہا تھا  اس کے الفاظ محض قابل اعتراض ہی نہیں بلکہ تضحیک آمیزبھی  تھے ۔بہرحال میں ملنگوں سے الجھنے سے تو رہا  میں نے اس سے جان چھڑواتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی مگر اس کے الفاظ نے مجھے کئی دن تک پریشان رکھا۔

ایک دن میں صبح صادق اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا تو ایک درویش صفت انسان اونچی آواز میں کچھ نعرے لگاتے ہوئے گزرا۔ میں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ وہ گلی کے آخر تک جا کر وآپس آگیااور میرے گھر کے گیٹ پر دو تین زور دار ڈنڈے برسائے، مجھے فقط میرے گھر کے گیٹ پر ڈنڈے برسانے  کا اندازعجیب تو ضرور لگا لیکن میں پھر بھی اس  کو ضرورتمند سمجھ کر اس کی مدد کے لئے  پہنچا تو وہ گلی کے آخری کونے سے مڑ رہا تھا۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میں اس کا پیغام تو نہ سن سکا مگر اس کے اشاروں سے سبق حاصل کرتے ہوئے حسب عادت اپنی تحریروں میں توقف ضرور کر دیا  کیونکہ تحریروں کا مقصد کسی کو زند پہنچانا تو نہیں ہوتا اور خاص کر جب کوئی اس طرح سے  انتباہ کر رہا ہوتو جان کی امان بھی تو چاہیے ہوتی ہے۔

ایک دفعہ میں جب دو ڈھائی بجے بچوں کو سکول سے لے کرگھر آیا اورجیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو الماریوں سے کپڑے اور ہر چیز بیڈ کے اوپر اتھل پتھل پڑی تھی ۔دیکھا تو کوئی گھر کے او ٹی ایس سے  سریے توڑ کرنیچے نازل ہوا تھا ، میرے اور بچوں پر خوف سا تاری ہوگیا ، چیزوں کو سنبھالا تو لیپ ٹاپ ، ڈیجیٹل کیمرہ اور بچوں کی وڈیو گیم غائب تھیں ، پولیس کو بلایا ، رپورٹ درج ہوئی ، موبائل لیبارٹری  والے آئے ، فنگر پرنٹس لئے ، واضح پرنٹس پر اطمنان کا اظہار بھی کیا ، مگر نہ کوئی گرفتار ہوسکا اور نہ کوئی اتہ پتہ ملا ۔ چوریاں تو ہوتی رہتی ہیں مگر اس واقعہ کے اندر کچھ عجیب اتفاقات بھی دیکھنے میں ملے جن کی وجہ سے کافی دنوں تک  میں اس بات پر غور و خوض کرتا رہا۔  ایک لفافے میں پرائزبانڈ پڑے تھے وہ بھی قسمت سے بچ گئے اور ایک دراز میں تین ہزار پاکستانی روپے اور ۸۰کینیڈین ڈالر بھی تھے جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے ۔  خدا جانے اس کو یہ سب کچھ نظر نہیں آیا یا اس کی ترجیحات کچھ اور تھیں ۔کچھ دنوں بعد مجھے بہارہ کہو تھانہ میں کچھ ملزمان کی گرفتاری کا علم ہوا تو میں  وہاں گیا سب انسپکٹر صاحب کو ملا اوران سے اپنے ملال کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ میں لکھی ہوئی چند کتابوں اور ڈیٹا کے چوری ہونے پرپریشانی کا اظہار کیا جس پر مجھے محسوس ہوا جیسے انکے اندر میرے لئے ہمدردی  کے احساسات پیدا ہوئے ہیں ۔انہوں نے اپنے موبائل سے خاص  زرائع پر رابطے شروع کردئے اور انکے انداز سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ میری مدد کرنا چاہ رہے ہیں ۔ مگر اچانک انکے انداز بھی بے بس سے لگنے لگے ۔

ایک دفعہ میری چلتی گاڑی کے ساتھ ایک گاڑی نے کچھ اس طرح سے سڑک پر اٹکیلیاں کھیلنا شروع کردیں کہ جان بچانے کے لئے گاڑی کنٹرول کرتے کرتے ایک درخت سے جا ٹکرائی، تھوڑے بہت زخموں سے جان بخشی ہوگئ، اور وہ انجان دوست رفو چکر ہو گئے ، جاکر ہسپتال سے پٹیاں لگوا لیں، الزام لگاتے بھی تو کس پر۔

بہرحال پاکستان ہے اور یہاں ملک و قوم سے محبت، اپنے خیالات اور اظہار رائے کو دوسروں تک پہنچانے کا ٹیکس ان چھوٹی موٹی اٹکیلیوں کی صورتوں میں دینا تو بنتا ہی ہے ، بس دعا کریں کہ اللہ کسی بڑے حادثے سے بچائے۔

موبائل پر کبھی کبھی وقت بے وقت نا معلوم نمبروں سے کالیں آنا  اور آگے سے پر اسرار خاموشی کی ہیبت تو یہاں ہمارے دیش کا ایک معمول کا عمل ہے۔ شروع میں میسنجر کے زریعے سے یہ ہمدرد لوگ مفید مشوروں سے مستفید  بھی کرتے تھے کہ آپ محتاط رہا کریں اور بتاتے تھے کہ ان کو ایسی تحریروں کی وجہ سے تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ میں ان دوستوں کومخلص سمجھ کر ہمیشہ اپنی تحریروں کو معرفت کے انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کیونکہ میر امقصد کسی کی دل آزاری یا دکھ پہنچانا تو ہوتا نہیں ہے۔

اور میرامقصد تو صرف اپنے محسوسات کا اظہار اور انسانی حقوق اور ترقی کے خواب کی تکمیل میں ایک چھوٹی سی کوشش ہی تو ہے۔

ملک میں ایک خوف کا سا سماں ہے۔ صحافت کی کتنی آوازیں دبانے کے لئے جانوں تک سے کھیلاگیا اور کچھ اپنی جانیں بچا کر محفوظ مسکن کی تلاش میں اپنے وطن سے دور اس مٹی کی محبت کے لئے ترس رہے ہیں۔  

ایسے ہتھکنڈوں سے  سوچوں پر پہرے لگا کر آزادا ور تعمیری سوچ کے زریعے سے ترقی  کی راہوں کی تلاش  میں رکاوٹیں تو کھڑی کی جاسکتی ہیں انہی دبا نے کی کوشش  میں ملک سےانکو بھگایا ضرور جاسکتا ہے  مگر وہ دبتی نہیں بلکہ وہ  کسی آزاد ماحول کا رخ کر کے پہلے سے بھی زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہیں ۔ لہذا بہتر یہی ہوتا ہے کہ سوچوں کے اظہار کے زریعے سے عوام کے رد عمل کو سمجھ کر حالات میں بہتری کی کوشش کی جائے چہ جائے کہ عدم تحفظ کے خوف کو بڑھا کر آوا ز کے دب جانے سے سب کچھ ٹھیک ہونے کا گماں کر لیا جائے۔  

 

جمعرات، 18 اگست، 2022

پولیس کی حراست میں تشدد

آجکل شہباز گل پر پولیس کی حراست میں تشدد کا الزام تحریک انصاف  اور ان کے وکلاء کی طرف سے سامنے آرہا ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ اس پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے   لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں  اور پاکستان میں گھریلو تشدد سے لے کر دفاتر اور حتیٰ کہ پولیس جس کی ذمہ داری  عوام کی جان مال کی عزت و آبرو کی حفاظت ہے  تک   ملتا ہے ۔  پولیس  کی حراست اور نگہداشت میں اس طرح کےجرم  کا  واقع ہونا جرم تو ہے ہی بلکہ عالمی سطح پر قابل شرم فعل بھی ہے ۔

سیاسی طور پر یہ ہر حکومتی دور میں کم و بیش ہوتا آرہا ہے ۔ سیاسی انتقام کی یہاں ایک لمبی داستان ہے ۔ موجودہ وزیراعظم سے لے کر وزیر داخلہ تک اس کا نشانہ رہے ہیں ۔ تواگر ان کو اب بھی اس کی سنگینی کا احساس نہیں تو پھر کیا کہا جاسکتا ہے ۔

تشدد صرف جسمانی ہی نہیں ہوتا بلکہ ذہنی تشدد بھی جرم کی تعریف میں آتا ہے ۔ یہ   انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کے تدارک کا عالمی سطح پر قانون موجود ہے جس کا پاکستان بارہ سال سے سگنیٹری ہے اور ابھی پچھلے سال اس پر پاکستان میں قانونی بل بھی پاس ہوا ہے ۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل چودہ  ضمنی جز دو  کسی بھی شہادت کے حصول کے لئے تشدد کی واضح طور پر ممانعت کرتا ہے ۔ 

اگر تشدد کے شواہد ملیں تو کیس کو سیشن جج کی طرف بھیجا جائے گا اور وہ پندرہ دن کے اندر اس کی انکوائری کو یقینی بنائیں گے ۔ پھر روزانہ کی بنیاد پر کاروائی کرکے دو ماہ کے اندر اس کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا ۔ ہر طرح  کےتشدد کی سزا تین سال سے لے کر دس سال تک ہوسکتی ہے  ۔ پولیس کی حراست میں تشدد ثابت ہوجانے سے بیس لاکھ جرمانہ اور دس سال تک سزا ہوسکتی ہے اورپولیس کی  حراست میں تشدد سے موت واقع ہونے پر تیس لاکھ جرمانہ اور عمر قید کی سزا  ہوسکتی ہے ۔ یہ تھا پاکستان کا قانون ۔

پاکستان میں قوانیں کی کوئی کمی نہیں مگر اس پر عمل درآمد کے معاملے میں ہم سے بڑا کوئی لاپرواہ بھی نہیں ۔ قانون صرف کتابوں کی زینت کی حد تک ہماری لائبریریوں کو سجائے ہوئے ہیں ۔ ہم قوانیں بنانے کے بہت  ماہر ہیں ۔  عملدرآمد کروانے کی بجائے قانون کی خلاف ورزی پر ایک اور قانون بنا دیتے ہیں اور پھر اس  کی خلاف وزری پر ایک اور ۔ یوں یہ سلسلہ چلتے چلتے پاکستان میں ایسے قانون بھی بن چکے ہیں جن کاکوئی سر پیر ہی نہیں ۔ جن کا جواز انسانی  تاریخ اور شعور بھی پانے سے قاصر ہیں۔ نیب کا قانون ہی دیکھ لیجئے ، شک کی بنیاد پر کسی کو بھی  بغیر شوائد کے پکڑ کر اندر کر دیجئے اور  یہ ملزم کی ذمہ داری ہے  کہ وہ   ثابت کرے مجرم ہے یا نہیں  جس کی پاداش میں سیاسی انتقام کی حوس زندہ وہ جاوید ہے ۔

پولیس کی حراست میں تشدد  تو  یہاں معمول کی بات ہے ۔ یہاں جس کو اپنے خلاف درخواست کی اطلاع ہوجائے اس کے لئے تشدد کا آغاز اسی لمحے سے شروع ہوجاتا ہے جس کی بنیاد ہماری پولیس کا رویہ اور برتاؤ ہے جس کے بارے اپنی ایک آپ بیتی آپ کے ساتھ شئیر کرتا ہوں ۔

میں قانون کی تعلیم کے آخری سال میں تھا تو میرے چھوٹے کزنز کے ایک محلے کے دوست کے چھوٹے بھائی  کی ایک دکاندار سے منہ ماری  ہوئی  معاملہ ہاتھہ پائی   تک پہنچ گیا اور اس نے کوئی شے اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری جس  پر اس نے اس کے خلاف درخواست دے دی اور میرے  ایک کزن کا بھی اس درخواست میں نام دے دیا گیا ۔ جو موقعے پر موجود ہی نہیں تھا ۔ ہم یہاں تعلیم کی غرض سے اکیلے رہتے تھے اور کھانے کے لئے ایک خانسامہ رکھا  ہوا تھا ۔ میں بڑا تھا اس لے لئے مجھے شام کو پولیس انکوائری کے لئے تھانے جانے کا اتفاق ہوا ۔ ہماری موجودگی میں مخالفین میں سے ایک نے میرے کزن کے دوست کو گالی دے دی ۔ ۔ جس پر  وہ اس کی طرف بڑھا مگر بیچ بچاؤ ہوگیا ۔

میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں نے کہا سر آپ دیکھ نہیں رہے کہ اس نے گالی دی ہے ۔ جس پر تھانیدار صاحب کا فرمان تھا کہ گالیاں تو لوگ ہمیں بھی دیتے  رہتے ہیں جس پر میری زبان سے صرف یہ الفاظ سر زد ہوگئے کہ " بات تو غیرت کی ہے جس میں جتنی غیرت ہو" جو ان کے مزاج پر بھاری گزری ۔ اب پولیس کی حمائت ان کے ساتھ تھی لہذا گالی کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ انہوں نے اس وقت تو  اس پر کوئی خاص رد عمل نہ دیا مگر اگلے دن میں جب  یونیورسٹی سے واپس آیا تو ابھی بیٹھا ہی تھا کہ باہر گھنٹی کا آواز آئی اور اوپر نیچے بجتی ہی جارہی تھی جیسے کوئی طوفان آیا ہو ۔ میں یہ کہتا ہوا باہر نکلا کہ آرہا ہوں ۔ تھوڑا صبر کرلیں ۔

جب دروازہ کھولا تو گیٹ پر پولیس ہی پولیس تھی ۔ ایک بڑی گاڑی ، تین چار موٹر سائیکل ۔ اور چھوٹے تھانیدار صاحب بنفس نفیس تشریف لائے ہوئے تھے ۔ جیسے ہی میں نے گیٹ کھولا ، ادھر  سے آواز آئی پکڑ لو اسے ۔ وہ مجھ پر ایسے جھپٹ پڑے جیسے کوئی دہشت گرد پکڑ لیا ہو ، میری قمیض شرٹ بن گئی  ۔ پولیس تو بادشاہ ہے اس ملک کی اس کو کون پوچھ سکتا ہے ۔ کہیں سے میرا کان بھی زد میں آگیا اور مجھے سنائی  میں بھی مشکل ہونے لگی ۔ جاتے ہی  ضمنی درخواست کے اوپر میری گرفتاری ڈال دی گئی ، اگلے روز ایک دن کا ریمانڈ لیا گیا اور اس کے بعد  جوڈیشل بھیج دیا گیا  ۔ ساتھ یہ پیغام بھی کان میں گھول دیا گیا کہ ابھی ایک اور مقدمے میں بھی آپ کا ریمانڈ لینا ہے جو ضمانت کے بعد لیں گے تاکہ اس کو یہ احساس رہے کہ پولیس کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لانی ۔

میرے لئے تو آخری امتحان ، جو شروع ہونے والے تھے  ،سے غیر حاضری بھی ،  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے قوانین و ضوابط کے مطابق ،   کیرئیر کی تباہی کے لئے کافی تھا ۔  جی پی اے کم ہوجانےکی صورت میں  پچھلا سارا کچھ ضائع ہونے  کابھی احتمال تھا ۔بھلا ہو مجسٹریٹ صاحب کا جنہوں نے ڈیٹ شیٹ کی بنیاد پر فوری ضمانت لے لی ۔ یوںمجھے  وکالت میں عملی قدم رکھنے سے پہلے ہی پولیس کے برتاؤ اور جیل کے ماحول کا تجربہ ہوگیا تھا ۔

تشدد تو یہاں اتنی بڑی بات ہی نہیں یہاں تو پولیس مقابلے بنا کر سیاسی اور خاندانی دشمنیوں کے بدلے  لئے جانے کے مبینہ الزامات اور واقعات معمول کی کاروائی  سمجھے جاتے ہیں ۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سیاستدان خود اس کا نشانہ بھی بنتے ہیں مگر پھر بھی پولیس اصلاحات کےزریعے سے اس کے سدباب کے لئے کوئی واضح کوشش  نہیں کرتے ۔



 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین