سوچ کی غذا

‏right of expression لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏right of expression لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 25 جنوری، 2026

فوج کے خلاف تعصب ملک دشمنی سے کم نہیں

مضبوط فوج اور آزاد ریاست کی قدر ان سے جانیں جو اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں یا ان کے پاس اپنی فوج نہیں تھی بلکہ ان کے اندر بھی ریاست اور فوج کے خلاف تعصب کی آگ بڑھکائی گئی اور آج اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

دور کی بات نہیں ابھی ایک دہائی پہلے کی بات ہے جب لیبیا کی عوام ایک مثالی زندگی گزار رہی تھی اور پھر چند نام نہاد انسانی حقوق فوبیا کی شکار سول سوسائٹی کے نا عاقبت اندیشوں نے عالمی ایوارڈز اور ذاتی تشہیر کی حوس میں سوشل میڈیا پر تحریک چلا کر عوام کو حکومت کے خلاف بڑھکایا اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ آج تیرہ سال کے لگ بھگ ہونے والے ہیں ملک خانہ جنگی سے دوچار ہے اور قوم اچھے وقتوں کو یاد کر کے واپسی کے لئے ترس رہی ہے۔ ایسی ہی کئی دوسری مثالیں موجود ہیں جن کو  دہرانے کی ضرورت نہیں

ضرورت ہے تو ان سے سبق حاصل کرنے کی اور ایسے نام نہاد انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئنز یا ملک سے دور نا معلوم جگہوں پر چھپ کر ملک پر تعصباتی جنگ مسلط کرنے والے وی لاگرز جو شخصیت پرستی کی مرض کے شکار زیرو کارکردگی والوں کی حمائت میں ریاست کے خلاف سرد جنگ کا علم اٹھائے ہوئے ہیں ان کی چالوں کو سمجھ کر اپنے آپ کو ایسی سوچوں سے لا تعلق کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر پزیرائی کی بنیاد سیاسی اور عسکری قیادت کی ڈپلومیسی اور جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستانی فوج کی بہادری کے قصے اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا  دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ 

ملک میں بہتری کی کوششوں سے انکار نہیں مگر یہ آئین و نظام کے اندر رہتے ہوئے کی جاتی ہیں اور ان کے اصل محرکات سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ہوتے ہیں جن کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا اور عوام کو خوشحالی دینا ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ ان کو خدمت کا موقع نہیں ملا بلکہ اس وقت بھی تمام کے پاس مرکز نہیں تو صوبائی سطح پر تو ابھی بھی اس کے نمونے پیش کرنے کا موقع موجود ہے۔ 

سندھ میں پیپلز پارٹی، کے پی میں تحریک انصاف اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے پاس حکومت ہے تو پھر کیوں ناں پہلے کارکردگی میں مقابلہ کے زریعے عوام میں پزیرائی حاصل کرتے ہوئے اگلے انتخابات کی تیاری کی جانی چاہیے جو اب زیادہ دور نہیں۔ اور اگر کسی کو اداروں کے خلاف تحفظات یا شکایات ہیں تو ان کو آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق موجود فورمز جن میں تمام صوبوں کو نمائندگی میسر ہے رکھے جائیں۔

اور جمہوریت کی یہ بھی خوبصورتی ہیں کہ اگر اختلافات کے با وجود اکثریتی فیصلہ کر لیا جائے تو پھر اس پر کار بند ہو کر اسے کامیابی سے ہم کنار کروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ اور ریاست اور اداروں کے خلاف تعصب کے تاثر کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی اس وقت پہلی ترجیح ہونی چاہیے جس کے لئے باقائدہ قومی سطح پر تحریک چلائی جانی چاہیے۔  تمام تر تعصبات کا خاتمہ انتہائی نا گزیر ہے۔

ریاست کی سطح پر کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کیس سٹڈی کی جانی چاہیے اور اس وقت جس طرح سے پاکستان پر اسلامی دنیا کا اعتماد بڑھا ہے اور وہ پاکستان کو اپنا بگ برادر کہہ رہے ہیں یہ ایک بے مثال کامیابی ہے۔ پاکستان جہاں ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہا ہے وہیں ان کے ساتھ عوامی اور ثقافتی سطح پر تقابلی پروگرام کئے جانے چاہیں جن میں ان ریاستوں میں استحکام کے خاتمے اور خانہ جنگی کا سبب بننے والے عوامل پر تحقیق اور ان کو دوسرے اسلامی ممالک یا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ریاستوں کے عوام کے اندر شعور اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ 

اگر ممکن ہو تو ریاستوں کے اندر باہمی ثقافتی ایکسچیج پروگرامز ترتیب دئے جائیں اور ملکوں کے اندر تعصبات پر مبنی نا پختہ سوچوں کے حامل لوگوں کو بھیجا جائے۔ وہ نہ صرف تبادلہ خیالات کر سکیں بلکہ وہاں رہ کر عملی طور پر مشکلات کا مشاہدہ کریں تاکہ ان کے اندر یہ احساس جاگے کہ آزاد ریاست اور مضبوط فوج کتنی بڑی اللہ کی نعمت ہے۔       

پیر، 22 دسمبر، 2025

کیا تحریک تحفظ آئین پاکستان کارکردگی دکھا پائے گی؟

کیا پاکستان میں جمہوریت صرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا نام  ہے خواہ وہ اسٹیبلشمنت کی گود میں بیٹھ کر ہی داغے جا رہے ہوں یا جمہوری اقدار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے؟ 

ابھی چند سال پہلے ہی وہ اپنے دائیں بیٹھی جماعت تحریک انصاف کے خلاف سڑکوں پر تھے جبکہ وہ ہائبرڈ جمہوریت کی ایک نئی اصطلاح متعارف کروانے میں مصروف تھے۔کیا ان سے اب جمہوری اقدار پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی حاصل کر لی گئی ہے؟ 

کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے مطلوبہ ہدف کی راہ میں رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی سطح کی طاقت کا ہونا ضروری ہے جس کے بغیر کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔ اور پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے۔ 

اب ایسا کیوں ہے اس کی ایک بہت ہی سادہ سی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خواہ اس کا آئینی درجہ کم ہی سہی مگر اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت موجود ہے جو حاوی رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں جبکہ جمہوریت میں سیاستدانوں کے اندر وہ صلاحیتیں اور اہلیت ہی نہیں۔ 

سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے منشور کی بنیاد پر باہمی اختلافات بھی ہوتے ہیں مگر ملکی سطح پر جمہوریت کے آپریٹر ہوتے ہوئے انکی ایک تنظیم کی حیثیت ہوتی ہے۔ جس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت ہونی چاہیں جو جمہوریت کے خلاف کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اب یہ صرف ہارڈ پاور سے ہی ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے سافٹ پاور کا ہونا بھی ضروری ہے جس کی بنیاد اعلیٰ اخلاقیات اور سیاسی شعور ہیں۔

آئین کی پاسداری اور تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کا خود عمل ہو پھر وہ دوسرے اداروں سے اس پر عمل کو یقینی بنوا سکتی ہیں۔ 

پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو ان کو عدم اعتماد کے زریعے سے ہٹایا گیا جو آئین کے عین مطابق تھا اور یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے ایسا کروایا ایک انتہائی نا مناسب بات ہے جو غیر سیاسی اور نا اہل سوچ کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اگر سیاستدان استعمال ہوئے تو وہ استعمال کرنے والے کو گالیاں دینے کی بجائے  استعمال ہونے والوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرتے؟میرے خیال میں تو ایسا کہنا بھی گویا اپنی نا اہلی کو ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو دنگل اپنے زور بازو پہ جیتنے ہوتے ہیں اس وقت یہ جواز کوئی حیثیت نہیں رکھتے کہ ہمیں زور نہیں لگانے دیا جا رہا۔       

جب آئینی طور پر ان کی حکومت گرائی گئی تھی اسے تسلیم کیا جا نا چاہیے تھا۔ محمود خان اچکزئی اس وقت حکومت ہٹانے والوں میں شامل تھے ااور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ محمود خان اچکزئی خود اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے استعمال ہونے والوں میں تھے۔

 اگر یہ سب ٹھیک ہے تو پھر اس کا اعتراف بھی تو ضروری ہے۔ اور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک نہیں تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ آئین کی حالت سے اتنا فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو سیاستدانوں کے کردار سےکہ وہ کس قدر جمہوری ہیں۔ 

 کسی بھی ریاست کا آئین اس کے چلانے کے لئے ایک انسٹرومنٹ ہوتا ہے جس کا تحریری صورت میں ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ تحریری صورت میں ہونا محض ایک فارمیلٹی ہے۔ اصل ضرورت اس کے تقدس کا احساس ہے جس کی موجودگی میں اس کا تحریری ہونا اپنی حیثیٹ کھو جاتا ہے اور اگر یہ احساس نہ ہو تو تحریری ہونا بھی اپنی حیثیت کو منوانے میں نا کام رہتا ہے۔

جس کی مثال انگلینڈ اور ہمارے آئینی سے واضح ہو سکتی ہے۔ ان کا آئین تحریری نہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں قومی سطح پر تقدس ہونے سے اپنی حیثیت کو منوانے میں کامیاب ہے مگر ہمارا آئین تحریری ہونے کے با وجود بھی تقدس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت کو منوانے میں ہمیشہ نا کام رہا ہے۔

اس تقدس کی سب سے زیادہ موجودگی سیاستدانوں کے اندر ضروری ہوتی ہے کیونکہ ان کی عوامی مینڈیٹ کے حصول کے بعد اہم ذمہ داری اس پر عملدرآمد، حفاظت اور اس میں ملک و قوم کی فلاح کے لئے اصلاحات لانا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل نہ ہوں تو پھر آئین کے تقدس کو یقینی بنانا ممکن نہیں رہتا بلکہ وہ خود ہی اس کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اور یہی سب کچھ پاکستان کے آئین کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اب اس کا حل آئین کی حفاظت بارے محض ڈھنڈورا پیٹنے سے ہونے والا نہیں بلکہ سیاستدانوں کو اپنے اندر اور قومی سطح پر شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کو یقینی بنانا ہوگا یا پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے انہیں ملکی سیاست میں مستقل طور پر کوئی کردار دینا ہوگا جس کے ایک بہترین حل کے طور پر ہم اپنی جمہوریت کو چائنا کی طرز پر استوار کر سکتے ہیں۔

اخلاقیات اور شعور پر کام کرنے کے لئے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے قوم سے معافی مانگنا ہوگی اور پھر سیاسی برادری کے اندر  اپنے بارے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جب قوموں کے اندر اعلیٰ اخلاقیات اور شعور ہوتا ہے تو پھر وہاں نظام خود بخود ہی مضبوط ہو جاتے ہیں جس کی مثال ہم سکینڈیوین یا نارتھ امریکن ممالک سے لے سکتے ہیں۔ وہاں آپ کو جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اس کی بنیاد ان کی اخلاقی اور جمہوری اقدار ہیں۔   

اگر ہم کہیں کہ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کی بھی حالت تسلی بخش نہیں یا سب نے ہی کسی نہ کسی دور میں جمہوری اقدار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار کے حصول کے عمل میں شرکت کی ہے تو یہ بجا ہوگا

   مگر ماضی میں سیاسی جماعتوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کسی نہ کسی حد تک جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوششیں بھی تو کی ہیں جن میں سب سے نمایاں میثاق جمہوریت کے نام پر پاکستان کی بڑی دو سیاسی جماعتوں میں ایک معاہدہ بھی ہے جس کے بعد جمہوریت کی مضبوطی کے عملی اقدامات اور نتائج بھی دیکھنے کو ملتے رہے جن کو نقصان پی ٹی آئی کی سرگرمیوں نے پہنچایا ہے۔ 

ہائبرد جمہوریت کی اصطلاح انہیں کی جمہوریت مخالف سرگرمیوں کی پیداوار ہے جس نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی کوشش کی کامیابی کے چانسز بہت ہی کم ہونگے

پی ٹی آئی کی ان سرگرمیوں سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے اداروں جن میں فوج اور خاص طور پر عدلیہ شامل ہے کی ساکھ بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ 

موجودہ حکومت کو جو ہائبرڈ جمہوریت کے طعنے دئیے جارہے ہیں وہ ٹھیک موقف نہیں کیونکہ جب اس اصطلاح کی حامل حکومت کو ختم کیا گیا تو ان کوششوں کے جناب محمود خان اچکزئی بھی گواہ ہیں جس کے اندر جرنیلوں کا کوٹ مارشل کر کے ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ اگر کوئی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوشش کرے تو تنقید کی بجائے اس کو داد دی جانی چاہیے  بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ ہوئی ہے۔

عمران خان کی سیاست میں سوشل میڈیائی سرگرمیاں جن میں فوج کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیا پاکستان کے حق میں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو عمران خان کی سیاست کو موجودہ ماحول سے موافق بنانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

کیا ابھی جو محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی شرط پر مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کو آگے بڑھ کر مزاکرات کی دعوت دی ہے ان سرگرمیوں کی موجودگی میں کام یاب ہو سکتی ہے؟ قطعاً بھی نہیں کیونکہ عمراں خان کی تو ساری سیاست کی بنیاد ہی اپنے سیاسی مخالفین اور نئی اسٹیبلشمنٹ جن سے ان کو سہولتکاری میسر نہیں آ رہی کے ٹرولنگ ہے جس کے بغیر وہ اپنی سیاست کی موت سمجھیں گے۔جن کو انہوں ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔ اور انکے موقف اور سرگرمیوں میں تبدیلی یا اس کی یقینی دہانی کے بغیر ساتھ چلنا بھی خطرات سے خالی نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پر اعتماد نہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔


بدھ، 7 فروری، 2024

عوام مخلص اور جوابدہ قیادت کو منتخب کر کے تبدیلی لا سکتے ہیں

 

ویسے تو سرچشمہ طاقت، جمہوریت کا مغز، سیاست کا محور، ریاست کی ملکہ اور ہر سیاسی جماعت کے منشور کا مرکز عوام ہی ہوتے ہیں مگر پاکستان جیسی ریاست کے اندر محض انتخابات کے دنوں میں اور وہ بھی دکھلاوے کے طور پر اور اس کے بعد سیاستدان عوام کے مینڈیٹ کی تحریم میں حکمران بن جاتے ہیں اور عوام تو پھر بھی عوام ہی رہتی ہے۔

حکمرانوں کی عظمت اور حفاظت کے لئے پولیس کی سکواڈ، رہنے کی جگہہ ریڈ زون جہاں گیدڑ، گدھوں کا داخلہ تو جائز ہے مگر عوام کا ممنوع ہے۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں اور نہ ہی میں از راہ استعارہ کہہ رہا ہوں بلکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے شاہراہ جمہوریت پر پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے دن کی روشنی میں گیدڑ دھونگلے دیتے دیکھے ہیں مگر عام آدمی کا داخلہ وہاں کے لئے خطرے کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ تھومس جیفرسن جو ایک امریکی سفارتکار، وکیل، فلاسفر، ریاست کے بانیوں میں شمار ہونے والا ان کی آزادی کی دستاویزات کا بنیادی مصنف اور امریکہ کے تیسرے صدر کے طور پر اس نے قوم کی خدمت کی ہے نے اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر کہا تھا۔

The democracy will cease to exist when you take away from those who are willing to work and give to those who would not.

جمہوریت اس وقت تباہ ہوجاتی ہے جب اس کی سربراہی، جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ان سے لے کر نکموں کو دے دی جائے۔

اب اس کو دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے ایک تو حکومت کی باگ ڈور جیسا کہ ہماری روائتی سیاست میں ایسے لوگوں کے حوالے کر دی جاتی ہے جو عوامی مینڈیٹ کے اصلی حقدار نہیں ہوتےجیسا کہ 2018 کے انتخابات میں کیا گیا اور دوسرا پہلو ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر کی جمہوریت سے ہے جہاں کارکنوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس سے جمہوریت کے ثمرات مشروط ہوتےہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہوتی تو اس کے نتائج ہماری موجودہ سیاسی صورتحال ہوتے ہیں۔

ہماری جمہوری ابتری ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں اور اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں خود سیاستدان ہیں جن کے اپنے اندر اہلیت نہیں اور الزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔ جب آئین پارلیمان کی بالا دستی کو تسلیم کرتا ہے تو پھر دوسروں پر انگیاں اٹھانے سے پہلے اپنی صفوں میں درستگی لانے کی ضرورت ہے۔ اداروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر گھسے ہوئے جمہوری غداروں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہاں ہمارا اصل مدعا اس کا پرچار نہیں بلکہ اس کا حل تلاش کرنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

اس کے لئے سب سے پہلے جمہوریت کو صحیح معنوں میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

ابراہم لنکن نےجمہوریت کی تعریف یوں کی تھی

Government of the people، by the people، for the people.

عوام کی حکمرانی، عوام کے زریعے، عوام کے لئے

اس کا سادہ لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ جمہوریت میں عوام سرچشمہ طاقت ہوتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ طاقت اتنی کمزور کیوں پڑ چکی ہے؟ اور یہ سب کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے؟

جمہوریت عوام کو حکمرانی کا حق تو دیتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ عوام حکمرانی کی صلاحیت بھی رکھتی ہو، جانتی ہو کہ اپنی طاقت کو کیسے محفوظ ہاتھوں کے سپرد کرنا ہے؟ جیسے ہر کام کے لئے ہنر کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی جمہوریت سے مستفید ہونے کے لئے بھی حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس طاقت کی اصل بنیاد سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاق اورباہمی قومی ربط ہوتے ہیں جو قوموں کو نہ صرف بروقت بلکہ صحیح فیصلے کروانے میں ممدومعاون بنتے ہیں اور طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے گر بھی سیکھاتے ہیں۔

جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کے نتائج کے مطابق حکومت کی تشکیل اور عوامی امنگوں اور ضروریات کے مطابق حکومت سازی کا ایک پورا عمل ہے۔ حکومت ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کا مقصد عوام کو وسائل سے مہیا سہولیات میں برابری، امن، روزگار اور انصاف مہیا کرنا ہے اور اس کے لئے حکمران جمہور کو جوابدہ ہیں۔ ان کے اندر ایسی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے جس سے وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو آسان اور یقینی بنا سکیں۔ اب ان صلاحیتوں کے حامل نمائندوں کا انتخاب عوام نے کرنا ہے۔ عوام نے یہ طے کرنا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں کیونکہ سیاسی قیادت کا کردار عوام نے ڈیفائن کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں تو ان کی جوابدہی کے عمل کو بھی یقینی بنانے کے لئے عوام کے اندر شعور اور اس کو ممکن بنانے کی واقفیت ہونی چاہیے۔

یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب عوام کو ریاست، اس کی املاک اور اس کے اداروں کی ملکیت اور اہمیت کا احساس پیدا ہو جو ان کو حکومت اور ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے کام میں دلچسپی پیدا کرکے اس میں عملی طور پر شمولیت اور اس کی نگرانی کی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ واقفیت کا علم آئین کو سمجھنے سے آتا ہے۔

تب وہ نہ صرف قابل قیادت کو سامنے لانے کی اہل ہوتی ہیں بلکہ ان کا ہر طرح سے محاسبہ کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہوتی ہیں اور یہ سیاسی شعور آئینی و قانونی حقوق اور بحثیت ایک شہری اپنی ذمہ داریوں کو جاننے سے آتا ہے۔ جو عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ترقیاتی پراجیکٹس کی نگرانی سے لے کر قومی سطح کی پالیسیوں اور حکمرانوں کے اختیارات کے استعمال تک کی نگرانی کرنی ہے۔ جیسا کہ آئینی کا آرٹیکل 19 اے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ہر طرح کی سرکاری معلومات تک رسائی کا اختیار رکھتا ہے۔

اگر ان کے علاقے میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں تو وہ متعلقہ محکمے سے یہ معلومات حاصل کر سکتا ہے کہ کتنی لاگت کا یہ منصوبہ ہے اور اس کا کیا معیار ہونا چاہیے اور پھر ان معلومات کی مطابقت سے وہ ٹھیکیدار کو کام کرنے کا پابند بنا سکتا ہے۔ اسی کی ایک حالیہ مثال توشہ خانہ سے لئے گئے تحائف کی معلومات بھی ہیں جن پر ایک صحافی نے آواز اٹھائی اور آج وزراء اور وزیر اعظموں کی جوابدہی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

یہی وہ ترقی کے ماڈلز ہیں جن سے عوام کو اپنی طاقت اور اس کے استعمال کا علم ہوتا ہے تو پھر جمہوریت اپنے ثمرات سے مستفید کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ عوام کااختیار حکمرانی اپنے ہاتھ میں آتا ہے۔


اسی طرح اعلیٰ اخلاقیات ان کو یہ سیکھاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نمائندوں میں چناؤ کے لئے قومی مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دینی ہے اور ایسی خوبیوں کے حامل ممبران کا چناؤ کرنا ہے جن کی بنیاد ان کا کردار، کارکردگی اور ملک و قوم کی فلاح کا جذبہ ہو۔ جیسے اب انتخابات 8 فروری کو ہونے جارہے ہیں تو عوام کو اپنی رائے دیتے ہوئے اپنے سیاسی شعور اور اخلاقیات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کے زریعے سے باصلاحیت قیادت کے چناؤ میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہیں جو عوام کا منشور ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے منشور سے دھوکہ نہیں کھائیں گے بلکہ اس کو ان کی ماضی کی کارکردگی سے جوڑ کر پرکھیں گے وہ عملی طور پر کس قدر ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں۔



اگر عوام کے اندر ریاست کی ملکیت اور اہمیت کا احساس ہوتا تو آج ملک مقروض نہ ہوتا اور آزاد تجارتی اور خارجی امور کی پالیسیاں ہوتیں۔ ہمارے ہمسایہ ممالک میں کوئی بھی اس قدر مقروض نہیں جو ہمارا حال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کو اب یہ موقف اپنا لینا چاہیے کہ جو مہنگائی ہوئی ہے اور عوام کے گھروں کے چولہے بند ہوئے پڑے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں کو کہیں سکوت نہیں آرہا۔ خوردونوش کی قیمتیں ہر لمحے بڑھ رہی ہیں، ہر کوئی دوسرے پر الزام لگا رہا ہے اور اپنے آپ کو بے گناہ کہہ رہا ہے حتیٰ کہ جو اتحادی رہے ہیں وہ بھی ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

اس کی تحقیقات ہونی چاہیں اور جو بھی حکومت اس کی ذمہ دار ہے اس میں شامل ممبران کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور جو ذمہ دار ہیں ان کی جائیدادیں بیچ کر قرضے اتارے جائیں تاکہ مستقبل میں سیاست کا رخ کرنے والے سوچ سمجھ کر قدم رکھیں۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کہ جس کا دل چاہتا ہے منہ اٹھا کر بھاگا چلا آتا ہے اور سیاست کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ انکا شوق سیاست اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک جوابدہی کا سلسلہ شروع نہیں ہوگا۔

جب جوابدہی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا تو میں آپکو یقین سے کہتا ہوں کہ آپکو نمائیندگی کرنے کے لئے ڈھونڈنے سے بھی کوئی نہیں ملے گا یہ زبردستی عوامی نمائندگی کا رجحان ختم ہوجائے گا اور عوام کو اچھے کردار والے لوگ مجبور کرکے ان عہدوں پر بٹھانے پڑیں گے۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ عوام کی خدمت کرنی ہے اور ساتھ ساتھ جوابدہی بھی ہوگی تو صرف خوف خدا رکھنے والے اچھے کردار کے حامل خدمت کا جذبہ رکھنے والے ہی اس ذمہ داری کی حامی بھریں گے۔ ایسے ہی انقلاب آتے ہیں، قوموں کی حالت بدلتی ہے اور اختیار حکمرانی عوام کو میسر آتا ہے۔

اتوار، 27 اگست، 2023

سوچوں پر پہرے اور عدم تحفظ کا ماحول

انسان جب اپنی سوچوں کو تحریروں میں لاتا ہے تو پھر اس کی خواہشات، ارادے، چاہتیں، احساسات، تحفظات اور بہت کچھ دوسرے انسانوں تک پہنچتا ہے جس سےان پر ردعمل بھی ابھرتا ہے اور پھران کے نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس رد عمل کے اثرات  میں ایسے  اشارے بھی ہوتے ہیں جن میں محبت یا نفرت کا اظہار ہوتا ہے جو یقیناً ہمارے لئے خوشی، رائے قائم کرنے اور اپنی اصلاح کے لئےفائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن بعض دفعہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہماری تحریروں نے کس انسان پر کیا تاثر چھوڑا ہے، خاص کر اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں تو  اشاعت وسیع اور اس کے اثرات کو جاننا انتہائی پیچیدہ ہوچکا ہے۔ کچھ ایسے ہی چھپے رستم لوگ جن کے مفادات متاثر ہورہے ہوتے ہیں وہ ظاہر نہیں کرتے مگراپنے مقصد کو نقصان پہنچنے کا  بدلہ  لینے کی خاطر انتقام کی حد تک چلے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی چالوں اور انتقام کے جذبے سے ہم  چونکہ لا علم ہوتے ہیں اس لئے  ان کی چالوں کے خطرات سے بچنا انتہائی مشکل ہوجاتاہے۔ ایسی صورت میں اللہ کا فضل ہی کارگر ہوسکتا ہے جس کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔

آج میں کچھ ایسے ہی واقعات آپ کو سنانے جارہا ہوں جن سے نہ صرف ہمارے احساسات  متاثر ہوتے ہیں بلکہ خوف و اندیشہ اورنقل حرکت میں بھی محتاط ہونا پڑتا ہےاور ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے جس ہماری ذات کے علاوہ ہمارے ساتھ ہمارے خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میرے ساتھ ہونے والے ان واقعات  نے مجھے بہت محتاط کردیا  ہے مجھے اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑا ، جس سے میری آزادی بھی متاثر ہوئی ، میرا اظہار رائے کا حق بھی متاثر ہوا اور مجھے ذہنی , جسمانی اور مالی طور پر نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔

کئی دفعہ ایسے لوگوں کے تعاقب کا سامنا کرنا پڑا ، دروازوں پر ڈندے برسائے گئے، گاڑی کو سڑک پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اب یہ لوگ کون ہیں اس بارے کچھ کہہ نہیں سکتا مگر ان کی روداد ضرور سنا سکتا ہوں۔اور پریشان کن بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی شکائت کارگر ہوتی ہے اور نہ ہی ان سے کوئی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

ایک دن میں گھر پر بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور میں باہر گیا تو دو نوجوان تھے جن میں سے ایک  نے اپنا تعارف کسی ریڈیو سٹیسشن پر کام کرنے اور ساتھی کا پیشہ  ڈاکٹر بتایا ۔ میں نے پوچھا فرمائیے میں  آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ تومجھے کہنے لگے کہ یہاں پر زمین کی کیا قیمت چل رہی ہے میں نے اندازے سے بتایا تو پھر میرے گھر کے ساتھ بنے فلیٹس کے بارے معلومات لینے لگے ، میں نے ان کو بتایا کہ چوکیدار وہاں پر موجود ہوگا آپ اس سے معلومات لے سکتے ہیں مگر انہوں نے میرے ساتھ جانے پر اسرار کیا میں ان کے ساتھ  چلاگیا اور ان کو بتایا کہ فلیٹس کھلے ہیں اور آپ جاکر اندر سے دیکھ سکتے ہیں مگر وہ مجھے اندر ساتھ جانے پر زور دینے لگے جس پر مجھے تعجب ہوا ور میں تھوڑا محتاط بھی ہوگیا۔مجھے ان کے اس رویے پر کچھ گڑبڑ ہونے کا خدشہ ہواور میں نےتھوڑے سخت لہجے میں کہا کہ آپ جائیں اور دیکھ لیں تب وہ اندر چلے گئے تو میں گھر لوٹ آیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر دستک ہوئی باہر گیا تو وہی دونوں تھے اور  کہنے لگے کہ ہم کل دوبارہ آئیں گے تو آپ ہمارے ساتھ جا کر کچھ پلاٹ وغیرہ دکھا دیں۔ میں نے کہا بھئی میں اس بارے کچھ نہیں جانتا مگر وہ گزارش کے انداز میں بضد تھے ، میرے ساتھ پانچ سال کا بیٹا بھی تھا ،ایک نےاپنے پرس سے سو روپے نکالے اور میرے ساتھ کھڑے بیٹے کو دینے لگا۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو منع بھی کیا مگر انہوں نے زبردستی بیٹے کی جیب میں ڈال دئیے اور مجھ سے موبائل نمبر پوچھنے لگے۔ مجھے اخلاقاً نمبر بتانا پڑا ۔ دوسرے دن پھر مجھے فون آیا اور اپنا تعارف کروانے کے بعد کہنے لگے کہ ہم آج دوبارہ ا ٓپ کی طرف آ رہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہماری گاڑی میں  چلیں تاکہ ہم کچھ پلاٹ دیکھ سکیں ، تو میں نے انکار کر دیا کہ میں کچھ نہیں جانتا اور میں فارغ بھی نہیں ہوں ۔ آپ کسی پراپرٹی ڈیلر کو ملیں، وہ اسرار کرتے رہے مگر میں نے معذرت کرتے ہوئے فون بند کریا۔

اسی طرح ایک دفعہ میری گاڑی کو ایک ملنگ دوست نے روک لیا میری فیملی بھی ساتھ تھی اور بہروپیے کی طرح عمل کرنے لگا ، پیسے مانگے، میں نے اپنی استعداد کے مطابق پیسے دئے تو پانچ سو کا مطالبہ کرنے لگا اور ساتھ ہی اپنی پیشہ ورانہ انداز میں برا بھلا بھی کہے جا رہا تھا  اس کے الفاظ محض قابل اعتراض ہی نہیں بلکہ تضحیک آمیزبھی  تھے ۔بہرحال میں ملنگوں سے الجھنے سے تو رہا  میں نے اس سے جان چھڑواتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی مگر اس کے الفاظ نے مجھے کئی دن تک پریشان رکھا۔

ایک دن میں صبح صادق اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا تو ایک درویش صفت انسان اونچی آواز میں کچھ نعرے لگاتے ہوئے گزرا۔ میں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ وہ گلی کے آخر تک جا کر وآپس آگیااور میرے گھر کے گیٹ پر دو تین زور دار ڈنڈے برسائے، مجھے فقط میرے گھر کے گیٹ پر ڈنڈے برسانے  کا اندازعجیب تو ضرور لگا لیکن میں پھر بھی اس  کو ضرورتمند سمجھ کر اس کی مدد کے لئے  پہنچا تو وہ گلی کے آخری کونے سے مڑ رہا تھا۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میں اس کا پیغام تو نہ سن سکا مگر اس کے اشاروں سے سبق حاصل کرتے ہوئے حسب عادت اپنی تحریروں میں توقف ضرور کر دیا  کیونکہ تحریروں کا مقصد کسی کو زند پہنچانا تو نہیں ہوتا اور خاص کر جب کوئی اس طرح سے  انتباہ کر رہا ہوتو جان کی امان بھی تو چاہیے ہوتی ہے۔

ایک دفعہ میں جب دو ڈھائی بجے بچوں کو سکول سے لے کرگھر آیا اورجیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو الماریوں سے کپڑے اور ہر چیز بیڈ کے اوپر اتھل پتھل پڑی تھی ۔دیکھا تو کوئی گھر کے او ٹی ایس سے  سریے توڑ کرنیچے نازل ہوا تھا ، میرے اور بچوں پر خوف سا تاری ہوگیا ، چیزوں کو سنبھالا تو لیپ ٹاپ ، ڈیجیٹل کیمرہ اور بچوں کی وڈیو گیم غائب تھیں ، پولیس کو بلایا ، رپورٹ درج ہوئی ، موبائل لیبارٹری  والے آئے ، فنگر پرنٹس لئے ، واضح پرنٹس پر اطمنان کا اظہار بھی کیا ، مگر نہ کوئی گرفتار ہوسکا اور نہ کوئی اتہ پتہ ملا ۔ چوریاں تو ہوتی رہتی ہیں مگر اس واقعہ کے اندر کچھ عجیب اتفاقات بھی دیکھنے میں ملے جن کی وجہ سے کافی دنوں تک  میں اس بات پر غور و خوض کرتا رہا۔  ایک لفافے میں پرائزبانڈ پڑے تھے وہ بھی قسمت سے بچ گئے اور ایک دراز میں تین ہزار پاکستانی روپے اور ۸۰کینیڈین ڈالر بھی تھے جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے ۔  خدا جانے اس کو یہ سب کچھ نظر نہیں آیا یا اس کی ترجیحات کچھ اور تھیں ۔کچھ دنوں بعد مجھے بہارہ کہو تھانہ میں کچھ ملزمان کی گرفتاری کا علم ہوا تو میں  وہاں گیا سب انسپکٹر صاحب کو ملا اوران سے اپنے ملال کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ میں لکھی ہوئی چند کتابوں اور ڈیٹا کے چوری ہونے پرپریشانی کا اظہار کیا جس پر مجھے محسوس ہوا جیسے انکے اندر میرے لئے ہمدردی  کے احساسات پیدا ہوئے ہیں ۔انہوں نے اپنے موبائل سے خاص  زرائع پر رابطے شروع کردئے اور انکے انداز سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ میری مدد کرنا چاہ رہے ہیں ۔ مگر اچانک انکے انداز بھی بے بس سے لگنے لگے ۔

ایک دفعہ میری چلتی گاڑی کے ساتھ ایک گاڑی نے کچھ اس طرح سے سڑک پر اٹکیلیاں کھیلنا شروع کردیں کہ جان بچانے کے لئے گاڑی کنٹرول کرتے کرتے ایک درخت سے جا ٹکرائی، تھوڑے بہت زخموں سے جان بخشی ہوگئ، اور وہ انجان دوست رفو چکر ہو گئے ، جاکر ہسپتال سے پٹیاں لگوا لیں، الزام لگاتے بھی تو کس پر۔

بہرحال پاکستان ہے اور یہاں ملک و قوم سے محبت، اپنے خیالات اور اظہار رائے کو دوسروں تک پہنچانے کا ٹیکس ان چھوٹی موٹی اٹکیلیوں کی صورتوں میں دینا تو بنتا ہی ہے ، بس دعا کریں کہ اللہ کسی بڑے حادثے سے بچائے۔

موبائل پر کبھی کبھی وقت بے وقت نا معلوم نمبروں سے کالیں آنا  اور آگے سے پر اسرار خاموشی کی ہیبت تو یہاں ہمارے دیش کا ایک معمول کا عمل ہے۔ شروع میں میسنجر کے زریعے سے یہ ہمدرد لوگ مفید مشوروں سے مستفید  بھی کرتے تھے کہ آپ محتاط رہا کریں اور بتاتے تھے کہ ان کو ایسی تحریروں کی وجہ سے تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ میں ان دوستوں کومخلص سمجھ کر ہمیشہ اپنی تحریروں کو معرفت کے انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کیونکہ میر امقصد کسی کی دل آزاری یا دکھ پہنچانا تو ہوتا نہیں ہے۔

اور میرامقصد تو صرف اپنے محسوسات کا اظہار اور انسانی حقوق اور ترقی کے خواب کی تکمیل میں ایک چھوٹی سی کوشش ہی تو ہے۔

ملک میں ایک خوف کا سا سماں ہے۔ صحافت کی کتنی آوازیں دبانے کے لئے جانوں تک سے کھیلاگیا اور کچھ اپنی جانیں بچا کر محفوظ مسکن کی تلاش میں اپنے وطن سے دور اس مٹی کی محبت کے لئے ترس رہے ہیں۔  

ایسے ہتھکنڈوں سے  سوچوں پر پہرے لگا کر آزادا ور تعمیری سوچ کے زریعے سے ترقی  کی راہوں کی تلاش  میں رکاوٹیں تو کھڑی کی جاسکتی ہیں انہی دبا نے کی کوشش  میں ملک سےانکو بھگایا ضرور جاسکتا ہے  مگر وہ دبتی نہیں بلکہ وہ  کسی آزاد ماحول کا رخ کر کے پہلے سے بھی زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہیں ۔ لہذا بہتر یہی ہوتا ہے کہ سوچوں کے اظہار کے زریعے سے عوام کے رد عمل کو سمجھ کر حالات میں بہتری کی کوشش کی جائے چہ جائے کہ عدم تحفظ کے خوف کو بڑھا کر آوا ز کے دب جانے سے سب کچھ ٹھیک ہونے کا گماں کر لیا جائے۔  

 

اتوار، 25 جون، 2023

قوم حکمرانوں سے شاہی محلات خالی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔

جس ملکی کی دو تہائی  آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہو ۔ ملک بدحال معاشی صورتحال کا شکار ہو ۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں تو اس ملک کے حکمران ، سربراہ یا مقتدر طاقتیں عالی شان محلوں میں نہیں رہتے ۔ مساوات ، محبت اور بھائی چارے کا تقاضہ یہ ہے کہ سب کا طرز زندگی ایک جیسا ہو ۔ سب کو ریاست کے وسائل تک برابر رسائی حاصل ہو جس کی بنیاد ضروریات ہوں ، بحثیت شہری برابری کے حقوق ان کی بنیاد کا پیمانہ ہوں ۔

جب انسان کو آسودگی حاصل ہوتی ہے اور اس کا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے تو اس کو دوسروں کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہوتا ۔ جن کی بجلی کبھی جھمکی بھی نہ ہو ان کو ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال لوگوں کی تکلیفوں کا کیا اندازہ ہو۔جن کے پاس موجود شاہانہ زندگی کے وسائل ریاست کے خزانے سے موجود ہوں خواہ وہ بھاری بھرکم سودی قرضوں سے ہی حاصل ہورہے ہوں ان کو کیا احساس کہ لوگ  کس طرح گزر بسر کررہے ہیں یادو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔

اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسئلہ غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کا سبب عوام  نہیں بلکہ اس کا سبب اس ملک کے وسائل کے بلبوتے پر آسودہ حال لوگوں کے اعمال اور کارنامے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں بائیس کروڑ عوام کے مستقبل کو آج کی اس تاریک صورتحال میں دھکیلا ۔ ان کو یہ احسان نہیں ہوا کہ وہ اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں مگر غریب عوام جن کی جیب سے ان کو آسودگی میسر تھی ان کا کیا بنے گا ۔ وہ عوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے رہے اور خود کو اس ملک کے تمام وسائل کا مالک سمجھتے رہے ۔

اب انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور بشمول تمام سرکاری خزانے سے مستفید ہونے والے محکموں کو شاہی محلات سے باہر نکال کر ایک عام شہری کی طرز زندگی  پر رہن سہن میں لایا جائے تاکہ ان کو احساس ہو کہ اس ملک کے غریب عوام کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اور تب ان سے یہ امید وابسطہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کا کچھ کریں گے وگرنہ محض خالی دعووں اور دلاسوں نے تو ستر سالوں سے اس ملک کا یہ حال کردیا ہے۔

اب بھی ان کے عمل سے کوئی بہتری کا نشان نظر نہیں آتا۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینٹ کے چئیرمین ، وائس چیئرمین اور کمیٹیوں کے سربراہان کی مراعات بارے قانون بنانے کی کوشش کی گئی ہے  جس سے ان کی نیتوں کو خوب بھانپا جاسکتا ہے۔ ان کو تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو باہر کہیں سے قرض نہیں مل رہا ۔ اب یہ صورت حال ہوچکی ہے کہ ان کو کوئی سود پر قرضہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ وگرنہ یہ کفائت شعاری کےتو محض کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں عملی طور پر سب صفر ہے۔  

ان کو رضاکارانہ طور پر تمام سہولتیں اور مراعات ختم کردینی چاہیں اور اجلاس بھی قناتوں اور سائبانوں کے نیچے ہونے چاہیں۔ تمام سیکیورٹی اور پروٹوکول ختم کردینا چاہیے ۔ جان ، مال ، عزت سب کی برابر ہے ۔ اگر کسی کو اپنی جان اتنی ہی پیاری ہے تو کوئی مجبوری نہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے اور اپنے وسائل پر اپنی حفاظت کا بندوبست کرے۔ عوام کو ان کا درد محسوس کرنے والے ان کی حالت زار کو سمجھنے والے عوامی نمائندے چاہیں ۔جو باقی سرکاری محکوں کے لئے سادگی اور مساوات کی مثال قائم کرکے ان کے لئے ترغیب کا سبب بنیں اور ان کو برابری کے پیمانے پر وسائل سے مستفید ہونے کے لئے مجبور کرنے کا اخلاقی اور قانونی جواز بھی رکھتے ہوں ۔

وگرنہ  محض نعرے تو کئی مہینوں سے پارلیمان کی عالی شان عمارت میں لگ رہے ہیں لیکن وہاں سے کوئی سادگی اور برابری کی مثال دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔

قوموں کے مسائل باتوں سے حل نہیں ہوتے عمل سے ہوتے ہیں ، محنت سے ہوتے ہیں ۔ تعجب ہوتا ہے جب حکومت میں موجود قومی اسمبلی کے ممبران یا وزراء بڑے بڑے جلسوں میں بہت ہی اچھی باتیں کرتے ہیں ۔ کہ ایسا ہونا چاہیے ۔ یوں ہونا چاہیے ۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ ملک و قوم کے اختیارات تمھارے پاس ہیں وسائل تمھارے حکم کے تابع ہیں تو پھر یہ انتظام و انتصرام کس نے کرنا ہے۔ 

اگر عمل کرنے والا کوئی ہو تو ایک دن کےانتظام سے ہم سورج کی حدت سے سولر سسٹم کے زریعے اپنی دن بھر کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں اوررات کو مارکیٹوں کو بند کرکے  تقریباًپانچ ہزار میگا واٹ کے سرپلس پر جاسکتے ہیں۔ مگر ہمارے حکمرانوں ترجیحات اگر عوام کی خدمت بنیں تو۔ 

یہ ایک توانائی کے متعلق مثال ہے ۔

آج دنیا میں جو نظام حکومت میں محکموں کا ماڈل ہے اس کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کیا اور ان کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ آپؓ کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ آپؓ کے لیے 40 درہم میں خرید لیا۔ بعد ازاں غلام نے آپؓ کو یہ بتایا کہ آپؓ کا کیا ہوا عہد پورا ہو گیا اور وہ آپؓ کے لیے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا

فتصدق بهما، فانی اکره ان آکل اسرافا،کيف يعنينی شان الرعية اذا لم يمسسنی ما مسهم۔ (المنتظم، 4: 250

ترجمہ: ‘تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں، مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہو گا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے۔

پاکستان کا اصل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس کا نام اور اس کا آئین جو قرآن و سنت کے قوانین کو اس ملک کے نظام کا اساس مانتا ہے اور اس پر عمل کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے وہ یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ  مساوات کو رائج کرنے کے علاوہ کوئی بھی پیمانہ اب قابل عمل نہیں رہا اور نہ ہی اس کے علاوہ موجودہ مشکلات کا کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس سے ہٹ کر  کسی درجے کو رائج رکھنے کے جواز کا حق رکھتا ہے ۔ 

پیر، 19 جون، 2023

حکومت کی کفائت شعاری کا راز بے نقاب ہوگیا۔


ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات اور مراعات کی فکر لگی ہوئی ہے۔باتیں کفائت شعاری کی کرتے ہیں اور عمل شاہانہ ہے۔ کفائت شعاری پر جو کمیٹی بنائی تھی وہ اب سوئی پڑی ہے اور اس کی سفارشات بھی شائد ردی کی ٹوکری کے سپرد ہوگئی ہیں۔

سیلریز اینڈ پریویلیج آف سینٹ ایکٹ 2023 کے نام سے ایک ایکٹ پاس ہوا ہے ۔ یہ ایکٹ نو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کوپیش کرنے والے یوسف رضا گیلانی ، فاروق ایچ نائیک، عطاء الرحمان، ڈاکٹر شہزاد، اعظم نزیر تارڑ، فوزیہ ارشد، رضا ربانی، عبدالغفور حیدری  وغیر جیسے معززین شامل ہیں۔ یہ مراعات موجودہ اور سابق چیئرمین سینٹ کے لئے ہیں ۔اور سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس میں  تمام جماعتیں مشتمل اور متفق ہیں۔ اس کے چند چیدہ چیدہ  نکات درج ذیل ہیں۔  

بارہ ملازم ، آٹھ گارڈز، وی وی پی آئی سیکیورٹی اس کے علاوہ جہاں بھی وہ جائیں گےان وفاقی یا صوبائی حکومت سیکیورٹی دینے کی پابند ہوگی، اپنے اور اپنی فیملی کے سفر کے لئے جہازبھی مانگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ کی فنانس کمیٹی، جو چئیرمیں سینٹ خود بناتا ہے ، جو بھی فیصلہ کرے گی وہ مراعات دی جاسکتی ہیں۔

اسی ایکٹ کی دفعہ 21 ان کی رہائش پر 6 مستقل سیکیورٹی گارڈز اور 4 حکومت کی طرف سے اور اس کے علاوہ پولیس کی طرف سے بھی سیکیورٹی مہیا کی جائے گی ۔ اسی طرح سیکشن 16 کی رو سے فنانس کمیٹی بارہ تک پرسنل سٹاف  مستقل بنیادوں پر یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر دے سکتی ہے۔پھر سیکشن 20 فنانس کمیٹی کو ان مراعات کو بڑھانے کا اختیار بھی دیتا ہے ۔ سالانہ آٹھ لاکھ تک اس کی حد رکھی گئی ہے مگر کمیٹی اس کو ضرورت کے مطابق بڑھانے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال سے علاج  یا وہ گھر پر سہولت چاہتے ہوں تو اس کے لئے حکومت اخراجات برداشت کرے گی۔

سفر کے لئے وہ اگر چاہیں تو حکومت کے اخراجات پر حکومتی یا پرائیویٹ جہاز بھی وہ لے سکتے ہیں اور ان کا پروٹوکول ریاست کے ڈپٹی ہیڈ کا ہوگا۔ اور  وہ ایک سے چار ممبران تک ساتھ لے کر جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر سرکاری گھر میں رہیں تو ٹیلی فون اور گاڑیاں مفت ہونگی اوراگر اپنے گھر میں رہیں گے تو ڈھائی تین لاکھ تک کرایہ بھی ملے گا۔

اس سے پہلے پارلیمان نے اپنی توہین کے لئے قانون منظور کروایا تھا تاکہ کوئی ان پر بات نہ کر سکے۔  شائد ان کو عدلیہ کی عزت دیکھ کر رشک آیا ہو۔ظلم کی انتہا ہورہی ہے ۔ لیکن حکمرانو یاد رکھو یہ تمھاری  قانون سازیاں تمھاری ذہنی استعداد کی خمازی کر رہی ہیں اور تمھارے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ اور اگر آپ لوگوں نے اپنی ان غلطیوں کو نہ روکا تو یہ تمھاری اس بادشاہت کو بھی بہا کر لے جائیں گی ۔

قانون سازی کا معیار دیکھئے کہ قانون بنانے والے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔ پھر باتیں کرتے ہیں عدلیہ کی مراعات کی ۔ تو سن لو اس کے بھی آپ ہی ذمہ دار ہیں ۔ آپکو عوام کی نمائندگی کے لئے حکومت کا قلمدان دیا گیا ہے اور اگر آپ عوام کے مفادات کے لئے کام نہیں کرسکتے تو کسی کو بھی حکومت میں رہنےکا کوئی اختیار نہیں ۔ عوام کو مجبور نہ کرو کہ وہ تمھاری بادشاہت کو نوچ ڈالیں اور تمھارے یہ حفاظتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ اگر عوام کا احساس نہیں تو اس کائنات کے خالق کے غضب سے ڈرو جس کی کائنات سے نکلنا مشکل ہے ۔ کوئی اس کے ساتھ بغاوت نہیں کرسکتا۔

اور جو یہاں سے سب کچھ لوٹ کر باہر لے کر جارہے ہیں وہ یہ مت بھولیں کہ ان کو ان کا یہ مال و دولت کہیں بھی فائدہ نہیں دے سکے گا اور اس کی دنیا میں کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے بھی اپنی ریاستوں سے لوٹ کر دوسری ریاستوں میں جمع کیا ان کو  سب کچھ سے ہاتھ دھونا پڑے اور نہ ان کی عزت رہی اور نہ ہی ان کا مال کام آیا۔ ان کی نسلیں آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور بھوک ہڑتالیں کر رہی ہیں ۔ آپ سب سمجھتے ہیں میں کسی کانام لے کر رسوائی نہیں کرنا چاہتا اور یاد رکھو کہ  جہاں تم پنا ہ لیتے ہو وہ بھی جانتے ہیں کہ جو اپنے ملک اور عوام کے لئے مخلص نہیں وہ ان کے لئے بھی کبھی مخلص نہیں ہوسکتے ۔ ساری دنیا بے وقوف نہیں ہے اور یہ فطرت کا اصول ہے اور یہی انتقام ہے کہ انسان سب کچھ گنوا بھی بیٹھتا ہے اور اس کا حساب پھر بھی اسی کے ذمہ ہوتا ہے ۔

خدا را عوام کے پاس کوئی تو آپشن رہنے دیں کہ وہ آئینی انقلاب کی راہ سے اکتاہٹ محسوس نہ کرنے لگیں اور  جمہوریت اور سیاست کو ہی مسائل سے نکلنے کا زریعہ سمجھے رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی راہ پر چل نکلیں۔

عوام کی نمائندگی اگر آپ کو ملی ہوئی ہے تو اس کو غنیمت جانیں ایسا نہ ہو کہ یہ نمائندگی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے  یا چھین لی جائے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔اور اس کا تجربہ آپ میں سے تمام جماعتیں  کر چکی ہیں مگر شائد آپکو اس سے وہ سبق نہیں ملا جس کا آج کے حالات تقاضہ کر رہے ہیں ۔

موجودہ معاشی حالات میں ان لوگوں کی ایک اس حرکت  نے صرف سیاستدانوں نہیں  بلکہ جمہوریت  اور انصاف سے بھی  عوام کا اعتماد اٹھا دیا ہے اور یہ تمھاری سیاسی قبر کے لئے کافی ہوگا۔عوام کو کفائت شعاری کے درس دئیے جارہے ہیں اور اپنا حال کیا ہے اس کا راز یہ ایکٹ کھول رہا ہے ۔

فضولیات اورعیاشیوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کو بند کر کے قوم کو ممکنہ ایک ہزار ارب کا تحفہ پیش کرتے ہوئے کفایت شعاری کا درس دیتے تو شاید اس کا اثر بھی ہوتا مگر پر عیش ماحول میں بیٹھے ہوئے پالیسی سازوں کو کیا خبر کہ عوام گزارہ کیسے کر رہے ہیں۔ ان کو تو صرف اپنی فضول خرچیوں اور عیاشیوں کے بند ہونے کی فکر نے پریشان کیا ہوا ہے۔ عوام کو ملکی اخراجات کا حقیقی مختصر جائزہ ہی پیش کر دیتے تو شاید تمہارے ضمیر کو ایک لمحے لے لئے ملامت کا سامنا ہو پاتا۔

انصاف اور مساوات کا آغاز سربراہان کے عمل سے شروع ہوتا ہے نہ کہ ان کے کھوکھلے دعوؤں سے جن کا پرچار 75 سالوں سے اور خاص کر پچھلے 5 سالوں سے ہو رہا ہے۔ جس قوم کے قسمت سازوں کو قیام پاکستان سے سفارش، رشوت اور بدعنوانی کی گھٹی سے لے کر کمیشن کی لت کی عملی تربیت سے آراستہ کیا گیا ہو تو پھر ان سے ایمانداری اور اصلاح کی امیدیں وابستہ کرنے سے بڑا بھونڈا پن نہیں ہو سکتا۔

اس قانون کو اگر ختم نہ کیا گیا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب عوام کے پاس وقت ہے کہ ماضی کی تمام نا انصافیوں پر آواز اٹھائیں کہ ریاستی خزانے سے حاصل کردہ تنخواہیں،وضائف اور مراعات میں برابری کے علاوہ کوئی صورت قابل قبول نہیں ۔ خواہ وہ جج ہو، جرنیل ہو ، پارلیمنٹیرین ہویا بیوروکریٹ سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔  

جمعہ، 9 جون، 2023

وکلاء کواپنی ساکھ بچانے کے لئے مفاداتی سیاست سے لا تعلق ہونا ہوگا


وکلاء برادری  مفاداتی سیاست کا شکار ہوتی جارہی ہے ۔ جوان کو گروہ بندیوں میں ڈال کر ان کی اجتماعی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔

وکلاء کا مقام صف اول کی قیادت ہے ۔ ان کی سیاست اقبال اور قائد کے فرمودات کی روشنی میں جمہوریت۔ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا ایک نمونہ ہونی چاہیے

وکلاء کو ہمیشہ یاد رکھناچاہیے ، ان کا منصب یہ  تقاضہ کرتا ہے "کہ وہ اپنے پیشے کے وقار اور اعلیٰ مقام کے ساتھ ساتھ اس کے ممبر کی حیثیت سے اپنے وقار اور بلند مقام کو ہر وقت برقرار رکھے"۔ وکلاء کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کا ملکی معاملات پر موقف ان کی اکثریتی برادری کی تائید رکھتا ہو۔  اگر کوئی وکیل  انفرادی طور پر یا ایک گروہ کی شکل میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی الحاق  رکھتا ہے تو اس کو ان کے پروگرام میں شرکت کے وقت کبھی بھی وکلاء برادری  کے موقف کا تاثر دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔

بارز تو انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی علامت سمجھی جاتی ہیں ۔ غیر جانبداری ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر عملدرآمد کروانے کی تاریخ ان کا ورثہ ہے ۔ بارز توانسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کو فریڈم ایوارڈز دیتی ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کی بحالی کا سہرا ان کے سر ہے ۔ ہر زمانے کے  آمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ان کی پہچان رہی ہے۔وکلاء کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی اصل طاقت ان کی یکجہتی ، خودداری ، استقامت  اور آئین وقانون کی پاسداری ہے  جس نے نظام انصاف کو ان کی ڈھال بنایا ہوا ہے ۔۔ بارایسوسی ایشنز اور کونسلز وکلاء کی نمائندہ ضرور ہیں مگر ان کے لئے بھی کوئی موقف اپنانے سے پہلے برادری کی تائید حاصل کرنا ضروری ہے ۔

آج جو کچھ وکلاء  کر رہے ہیں اس سے پوری برادری بدنام ہورہی ہے ۔ کیا  وکیل کا یہ معیار رہ گیا ہے کہ  وہ سیاستدان اور جج کے درمیان رابطے کے پل کے طور پر استعمال ہورہا ہو۔ سیاستدانوں کے غلط کاموں کو تحفظ فراہم کرکے  سیاست ،جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی راہ کی رکاوٹ بن  کربدنامی کا سبب بن رہا ہو

رابطوں یا تعلقات کا ہونا کوئی بری بات نہیں مگر ان کا استعمال سیاست کے لئے  اس طرح سے  ہونا جس سے وکلاء برادری کی اجتماعی پہچان اور مفادات متاثر  ہوں  ٹھیک نہیں ہے۔ جو وکلاء سیاست کرنا چاہتے ہیں  وہ ضرور کریں یہ انکا  بنیادی حق ہے مگر وہ اس کے لئے وکلاء برادری کے نام کو استعمال نہ کریں  بلکہ وہ اپنے آپ کو سیاسی جماعت کی ایک ونگ کے طور پر رجسٹرڈ کروایں اور جب بھی وہ کسی سیاسی مقصد کے لئے  ہڑتال یا مظاہرے کا حصہ بنیں تو ان کی سیاسی ونگ کا نام استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ وکلاء کی تنظیم کے طور پر۔ اس سے ان وکلاء کی پہچان پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں  جن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک غیر جانبدار تنظیم اور سوچ کے حامی ہوتے ہیں ۔

اس وقت صورتحال یہ بن چکی ہے کہ کسی بھی جماعت کا کوئی بھی دھرنا ہو یا احتجاج اس میں وکلاء بھی پہنچے ہوتے ہیں اور یہ ظاہر کیا جارہا ہوتا ہےکہ وکلاء اس مطالبے یا احتجاج کا حصہ ہیں ۔ اور ان وکلاء کے الحاق کے پیچھے انکے نظریاتی مقاصد سے زیادہ ذاتی مقاصد ہوتے ہیں جن میں سرکاری عہدوں کا حصول ہوتا ہے۔ اب یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ جس  سیاسی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع ملتا ہے وہ آتےہی  سب سے پہلے تمام عدالتوں میں اٹارنیز، ایڈوکیٹ جنرلز اور پراسیکوشن  کے عہدوں پر تعینات افراد کو تبدیل کرکے اپنی جماعت کی وکلاء ونگ کو ابلائج کرتے ہیں اور پھر وہ ان کی سیاسی کاز کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں ۔  الحاق ،ہمدردیاں  اور تعلقات اپنی جگہ مگر ان کی بنیاد پر نظام انصاف کو استعمال کرنے کی تو قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔

اس میں بار ایسوسی ایشنز کی بھی ذمہ داری بنتی ہے اور خاص کر ان وکلاء کی جن کی کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی وابسطگی نہیں ہوتی وہ بارز کی سیاست سے  سیاسی جماعتوں کے غالب اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ اور ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو وکلاء کے اجتماعی مفادات  اور مسائل پر کام کو ترجیح دیں ۔ جو منتخب ہونے کے بعد کسی خاص جماعت یا گروہ کے مفادات کے لئے کام نہ کریں بلکہ وکلاء برادری اور انصاف کا فروغ ان کی ترجیح ہو۔

بارز ایک ایسا ادارہ ہے جو وکلاء کی تربیت کا کام سر انجام دیتا ہے ۔ ا ن بار ایسوسی ایشن کی قیادت کرنے والے بعد میں بڑے بڑے آئینی عہدوں پر پہنچتے ہیں اور وہاں آئینی اور قانونی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں ۔ لہذا بارز کی سیاست سے یہ تاثر ملنا چاہیے کہ وہاں کی قیادت سے ابھرنے والے افراد  غیر جانبدار، شفافیت، انسانی حقوق، جمہوریت  اور قانون کی حکمرانی کا ایک عملی نمونہ ہوتے ہیں ۔ تاکہ وکلاء کی برادری بارے  معاشرے میں ایک مثبت تاثر  بنے اور یہ کہا جائے کہ جہاں بھی انصاف کی  فراہمی مقصود ہو وہاں وکلاء میں سے  تعیناتیاں کی جائیں  چہ جائے کہ جس طرح آج اعتراض کیا جارہا ہے کہ ججز چونکہ وکلاء میں سے آتے ہیں اور ان کی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق ہوتے ہیں لہذا یہ  ان آئینی عہدوں پر بیٹھ کر  انصاف کی فراہمی میں غیر جانبداری اور شفافیت کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں ۔

بلکہ آج کل ججز کی تعیناتیوں کے عمل کو نظام انصاف پر اٹھنے والا سب سے اہم سوال سمجھا جا رہا ہے ۔ اور یہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ اس طریقہ کار کو بدلا جائے ۔

بارز ایسوسی ایشنز کو تو چاہیے کہ اس طرح کے لوگوں کا انتخاب کریں جن کو ان آئینی عہدوں کی خواہش نہ ہو بلکہ وہ اپنی بارز کی قیادت کی حیثیت کو ان آئینی عہدوں سے زیادہ معتبر سمجھتے ہوں اور ان کے اندر اپنی پوری برادری کے اجتماعی مفادات اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں غیر جانبداری ، شافیت اور انصاف کے اصولوں کی پیروی  پہلی ترجیح ہو۔ اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ وہ ایک ایسی برادری کی  نمائندگی کرتے ہیں جو اس معاشرے کے باشعور اور آئین و قانون کو سمجھنے والا طبقہ سمجھے جاتے ہیں اور ان کے شعبہ کے لحاظ سے اس ملک میں انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے  کوشش ان کا ایک  پیشہ ورانہ ذمہ داری اور فرض ہے ۔ بلکہ وکلاء بارز اور تنظیموں کے اندر  ریسرچ کی کمیٹیاں ہونی چاہیں جو ہماری سیاست  ، معاشرت اور نظام انصاف  میں درپیش مسائل کی  تحقیق پر کام کریں اور اس پر اپنی اجتماعی  قانونی آراء کی روشنی  میں سفارشات مرتب کرکے اعلیٰ عدلیہ اور پارلیمان کو بھیجیں ۔ جن کو ایک دانشمندانہ  رائے کے طور پر لیا جاتا ہو۔

جب بارز ایسوسی ایشنز کو معاشرے اور عدالتی نظام کے اندر اس طرح کا مقام مل جائے گا تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی ان کا منتخب نمائندہ کسی جج ، اٹارنی یا ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے میں کوئی کشش  محسوس کرے گا۔

میری بار کونسلز اور وزیر قانون سےگزارش ہے کہ اصلاحات لائی جائیں کیونکہ اپنی ذاتی خواہشات اور پسند نا پسند کی بنیاد پر پوری برادری کی پہچان کو خراب کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا اور نہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ جو بھی یونیفارم پہن کر وکیل کے منصب کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اس کے خلاف ڈسپلنری ایکشن ہونا چاہیے ۔ یونیفارم صرف عدالت میں ایک لاء آفیسر کے طور پر پیش ہونے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

وکلاء کی خدمات کو عدالتوں  کی بجائے وہاں پر پہنچائی جائیں جہاں پر تنازعات اور قانونی پیچیدگیا ں پیدا ہوتی ہیں ۔وکلاء اپنے دائرہ پریکٹس کو عدالتوں کی بجائے نچلی سطح پر بھی رائج کریں ۔

ججز کے رشتہ داروں ، دوستوں اور انکی لاء فرمز کے  فیلوز کو  ججز کے سٹیشنز پر پریکٹس  کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ۔

وکالت کو سیاست زدہ ہونے سے بچانا ہوگا۔ جرنیل سیاست زدہ ہوا تو اس کی عزت گئی ، جج سیاست زدہ ہوا تو اس کا مقام بھی ختم ہوا اور اگر وکیل بھی سیاست زدہ ہوگا تو  اسے کا مقام بھی ختم ہوجائے گا ۔ جب کوئی شعبہ ایک دفعہ عوام کی نظروں میں  اپنا مقام کھو جائے تو پھر اس کا معاشرتی اصلاح کا کردار مفقود ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ہر صورت اپنے اداروں کو سیاست زدہ یا سیاست گرد ہونے سے بچانا ہوگا۔

مانا کہ وکیل آزاد ہیں مگر اتنے آزاد بھی نہیں کہ کالا کوٹ پہن کر مجرموں کو ہار پہناتے پھریں۔ کالا کوٹ انصاف کی علامت ہے اور انصاف کبھی بھی جانبدار، غیر شفاف اور اصولوں کے خلاف نہیں ہوسکتا ۔

 

 

اتوار، 10 جولائی، 2022

کیا ہم آزاد ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو اکثر میں اپنے آپ سے کرتا رہتا ہوں۔ دل کو تسلیاں دیتا ہوں کہ میں ایک آزاد ریاست میں رہتا ہوں جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ جس کا نام بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کا نظام اسلامی اور جمہوری ہوگا۔ جس میں تمام انسانوں کو ان کے نظریات اور آزاد سوچ کے ساتھ آئینی حدود کے اندر رہ کر بنیادی حقوق حاصل ہونگے۔

پھر میرے خیالوں میں وہ تمام واقعات ایک فلم کی طرح چلنا شروع ہو جاتے ہیں جن کی تاریخ نصاب کی کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ کیسے حکومتیں بنتی رہیں؟ کیسے ان کو ختم کیا جاتا رہا؟ ہمارا آئین کن ادوار سے گزرا اور اس کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔ کس طرح ہمارے ادارے ہمیں نامعلوم اور فرضی خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتے رہے۔ عدالتیں نظریہ ضرورت کے تحت ان اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کرتی رہیں وغیرہ وغیرہ۔

ہمارے بچے مطالعہ پاکستان کو پڑھنے کے بعد سوال کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں اس ملک میں ہوتا کیا رہا ہے۔ وہ اپنے استادوں سے الجھتے ہیں۔ والدین کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں، جیسے وہ طنزیہ کہہ رہے ہوں کہ یہ کارنامے ہیں ہمارے بڑوں کے؟

کوئی کیا جواب دے گا ان معصوم ذہنوں کو؟ کوئی کیسے اور کیا ان کو تسلیاں دے؟ کون سا جواز پیش کرے؟ کیسے کوئی منافقت کرے؟ ہے کوئی جو ان معصوم ذہنوں کو مطمئن کر سکے؟ لیکن میں پھر دل کو تسلی دے لیتا ہوں کہ دنیا کی تمام جمہوری ریاستیں اس ترسیل کے دورانیے سے گزریں اور آہستہ آہستہ بہتری آتی گئی۔

ملک کے حالات کو جاننے کے لئے اخبار کھولتا ہوں تو خبریں پریشان کر دیتی ہیں۔ بڑی سرخی میں لکھا ہوتا ہے "آئی ایم ایف نے ہمیں تگنی کا ناچ نچا دیا ہے”۔ نیچے حکومتی وزیر سابق وزیراعظم عمران خان پر کشمیر کا معاہدہ کرنے کا الزام لگا رہا ہوتا ہے۔ ایک کونے میں صحافی کی گمشدگی کی خبر لگی ہوتی ہے۔ دوسرا صفحہ کھولتا ہوں تو ایک تصویر پر نظر جم جاتی ہے جس میں نوجوان بچیاں، بوڑھی مائیں اور معصوم بچے اپنے گمشدہ والدین کی بازیابی کے لئے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔

پریشان حالی میں اداریے کے صفحے کو کھولتا ہوں کہ دانشوروں کی آرا جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں۔ "حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے اور عوام مایوس مگر احتجاج کو فضول سمجھ رہے ہیں”۔

اخبار کو ایک طرف رکھ کر ٹی وی کھولتا ہوں تو کہیں سیاستدان اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے دانشمندانہ تجزیے اکتاہٹ کو چار چاند لگا دیتے ہیں جن میں الزامات کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں ہوتی اور اگر کوئی حل پوچھے تو صدارتی اور پارلیمانی نظاموں کی بحث چھڑ جاتی ہے۔ ہر کوئی اپنی نااہلیوں اور نالائقیوں کا ذمہ دار نظام کو ٹھہرا رہا ہوتا ہے۔

وہاں سے بھاگ کر سوشل میڈیا کی دنیا میں آوارگی کو نکل جاتا ہوں تو اچانک ایک قابل صحافی کی وی لاگ پر نظر جم کر رہ جاتی ہے۔ جہاں جناب سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر السلام کی ایک سیاسی کارنر میٹنگ سے خطاب پر تبصرہ تھا۔ "میں کوئی سیاسی نہیں اصلی نیوٹرل ہوں” اور ساتھ ہی وہ اپنی قوم کے لئے خدمات کا بھی ذکر کر رہے ہوتے ہیں۔ "اسٹیبلشمنٹ نے دراصل نواز شریف اور زرداری سے تنگ آئے ہوئے پاکستانی عوام کو ایک تیسری آپشن فراہم کی اور یہ تجربہ کافی کامیاب رہا ہے”۔ میں ششدر ہو کر رہ جاتا ہوں کہ کیا یہ ہوتے ہیں ایک جراتمند اور ملک وقوم کے وفادار جرنیلوں کے کارنامے۔

اگر یہ مبینہ ان کا ہی بیان ہے تو پھر یہ تو کھلم کھلا اعتراف ہے ان غلطیوں کا جس کا الزام تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنت پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے لگایا جاتا رہا ہے۔ ایک قانون کا طالب علم ہونے کے ناطے کئی آئینی و قانونی سوالات ذہن میں سر اٹھانے لگتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داریوں بارے امیدیں اور تجاویز انگڑائیاں لینے لگتی ہیں تو دل کے ایک کونے سے وارننگ آتی ہے کہ کل ایاز امیر کا حال نہیں دیکھا جس کا ایک سیاسی، فوجی اور صحافتی پس منظر بھی ہے۔ اس کے باوجود اس کی کیسی ٹھکائی ہوئی ہے تو جذبات کو خاموش مصلحت کی حکمت عملی ہی مناسب لگتی ہے۔

پھر ماضی کے کچھ اتفاقات بھی حوالہ بن جاتے ہیں کہ کیسے چوروں کو میرے گھر سے فقط لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرا ہی پسند آیا تھا۔ سامنے پڑے ہوئے پرائز بانڈز، چند ڈالرز اور دو چار ہزار روپیہ ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ واضح فنگر پرنٹس کے باوجود پولیس بے بسی کا اظہار کر رہی تھی اور پھر یہ سلسلہ کئی اور واقعات سے تانے بانے جوڑنے لگتا ہے۔

دل میں خیال آرہا ہوتا ہے کہ سکون کا واحد حل یہی ہے کہ میڈیا سے دور رہا جائے اور خاموشی کو ہی اپنا ہمسفر بنا لیا جائے۔ اتنے میں ساتھ پڑے موبائل سے ٹی ٹی کی آواز آتی ہے کوئی میسج پہنچنے کے لئے بے چین ہوتا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے سوشل میڈیا سے کٹ کر رہیں بھی تو کیسے؟ جیسے ہی موبائل کی سکرین روشن ہوتی ہے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا ہے۔ سازشیں ، الزامات ، ہلڑ بازیاں ، تُوتُو، کیا کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں عقل و فہم کی کوئی نہیں چلتی یہاں معاشرے کو اپنا آپ دکھانا ہے خواہ کوئی چاہے یا ناں چاہے۔ ہمیں اس کو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔

یہ ہماری معاشرت کا عکاس ہی تو ہے جس کی ہم نے بڑے ناز ونخرے اٹھا کر تربیت کی ہوئی ہے۔ پھر ذہن میں ایک معصوم سا سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ سیاستدانوں اور وزرا کا الزامات اور انکشافات کا مزاج ایک آزاد اور خود مختار ملک کا تاثر پیش کرتا ہے جس میں وہ الزامات اور انکشافات کا اظہار، غیر آئینی واقعات کا سامنا تو کر سکتے ہیں۔ مگر اس پر کوئی آئینی اور قانونی اقدامات اٹھانے یا کچھ کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔

کیا ان کے ذہنوں میں بھی ماضی کے حوالہ جات تو نہیں جو ان کو خبر دار کر رہے ہوں کہ ” وقت ٹپاؤ "۔ تو پھر ایسے ماحول میں لکھتے ہوئے ایک ایک لفظ پر بار بار غور کرنا اور انداز معرفت تو آپ کو سمجھ آ ہی گیا ہوگا۔ احتیاطی ذمہ داریاں اچھی چیز ہیں مگر یہ احتیاط نہیں خوف کا سماں ہے جس کی محرک وہ تمام سوچیں ہیں جن کا اوپر ذکر کر چکا ہوں۔

آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ جب تک یہ الزامات اور انکشافات سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر آئینی و قانونی راہ اور منزل نہیں پائیں گے سیاسی استحکام اور حقیقی آزادی کی کوئی پائیدار صورت نظر نہیں آتی۔

چلتے چلتے کچھ محسوسات لفظوں کے سہارے

کچھ بھی کہنے سے اب تو ڈر لگتا ہے

اپنا مسکن بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہتا ہوں بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر کبھی کبھی منافقت یہ صبر لگتا ہے۔

قاضی، ملا، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہے میرے چمن کو

بے حسی کوتیری جو اک انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین