سوچ کی غذا

‏Human Rights لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Human Rights لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 18 فروری، 2026

پی ٹی آئی کا شعور نِکھرنے لگا ہے

بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت اپنی جگہ مگر اس کے شعوری ہونے سے اختلاف کو بھی آزادی اظہار رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اب تو پی ٹی آئی کے اندر قائدین کی سطح پر اختلافات اور ابھرتی آوازوں کی گونج سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا شعور نکھرنے لگا ہے۔

 2022 میں جب پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اپنی جمہوری سمت کا رخ صحیح کرنے کی کوشش کی تو ملک کے معززین نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر مرکز میں حکومت کو آئینی طور پر تبدیل ہونے کی راہ میں رکاوٹ کو آزادانہ چھوڑ دیا جس سے پارلیمان کے اندر عدم اعتماد کی تحریک سے عمراں خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا

لیکن اس پر بانی پی ٹی آئی اپنے رجیم چینج کے بیانیے کی ہمدردیوں سے ایک بار پھر عوام کی مقبولیت کا رخ اپنی طرف موڑنے میں کامیاب ہو گئے جس کو وہ مختلف حیلوں بہانوں سے قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔

حالانکہ انکی کارکردگی کو بے نقاب کرنے کے لئے کے پی کی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ہی اب خدمت کا وقت نہ ملنے کا ان کے پاس کوئی جواز ہے مگر حیران کن طور پر وہ اب بھی سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال عوام کو جھوٹے بیانیے کے زریعے سے ذہنی سہارا مہیا کئے ہوئے ہیں جس کی بنیاد کبھی بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کو بنا لیا جاتا ہے تو کبھی بیماری کو مگر اب یہ ہتھکنڈے زیادہ دیر چلنے والے نہیں 

اسکی وجہ یہ ہے کہ کے پی کے علاوہ دوسرے صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی حکمت عملیوں سے کافی دل برداشتہ ہو چکی ہے کیونکہ ان کو دی جانے والی اذیتوں پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کئی ان مصیبتوں سے بچنے کے لئے خود ساختہ صوبائی جلاوطنی میں کے پی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

جب بھی حکومت کی طرف سےمذاکرات اور رعائت کی امید نظر آتی ہے تو بانی پی ٹی آئی فوج مخالف بیان دینا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ کل ان کی بہنوں نے پریس کانفرنس میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر مروانے کا خوف اور اس کا الزام فیلڈ مارشل پر لگانے کا اظہار کیا جس سے دوبارہ مذاکرات کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جن سے پارٹی قیادت اور ورکرز کے ذہنوں میں بانی کی حکمت عملی پر شکوے جنم لینا شروع ہوئے جو اب کافی پختہ ہو چکے ہیں۔ 

جن کا اظہار اب پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات کی صورت میں بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ ویسے اس کی ابتداء تو کافی عرصہ پہلے سے پی ٹی آئی کی کال پر لوگوں کے کان نہ دھرنے سے شروع ہو چکی تھی جس پر تصدیق کی مہر ضمنی انتخابات نے لگا دی مگر اس پر کچھ حلقوں میں یہ گماں تھا کہ شائد لوگ خوف کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے اور ضمنی انتخابات میں کامیابی کے اندر حکومت کے اثر رسوخ اور بندوبست کا کمال ہے۔

لیکن اب پارلیمانی ممبران کا اسلام آباد کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنوں کے اندر کھلے اختلافات اور کے پی میں سڑکوں کی بندش پر انسانی جانی نقصان پر پی ٹی آئی کے اندر سے غلطیوں کا اعتراف وہ اشارے ہیں جو شعور کے نکھرنے کی گواہی دے رہے ہیں۔ 

کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کھل کر بولے ہیں۔ جس میں انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات سے لے کر پارٹی پر ملکیت کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ دیا ہے اور کچھ وی لاگرز پر کھلی تنقید کرتے ہوئے ان کو کہا کہ اگر تمھارے اندر جذبہ ہے تو ادھر پاکستان میں آؤ وہاں بیٹھ کرعوم کو نہ ورغلاؤ۔ عوام کو تلقین کی کہ ان کی خبروں پر تحقیق کر لیا کریں۔

وہاں کے پی میں سڑکوں کی بندش کے دوران کئی پی ٹی آئی ورکرز بھی کھل کر مخالفت کرتے رہے اور عوامی مشکلات اور دباؤ کے پیش نظر پشاور ہائی کورٹ نے بھی سڑکوں کو کھولنے کے احکامات جاری کئے جس پر پولیس نے عملدرآمد کرواتے ہوئے سڑکوں اور موٹر وے کو خالی کروا دیا جس پر کچھ لوگ یہ بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ شائد پولیس کے پی کی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی جو میں سمجھتا ہوں کہ غلط بات ہے کیونکہ سڑکوں کو کھلوانے میں عدالتی فیصلے کا کردار ہے۔

مگر اس سے لوگوں کی سوچوں پر مثبت تاثرات اور انتظامیہ کی رٹ بارے خیالات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور خاص کر پولیس کی کاروائی کے خلاف مزمت کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عوام بھی اب ان دھرنوں سے عوامی مشکلات پیدا کرنے والی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہوئی سیاست اور جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے اختلاف رکھنے والی پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی ضرور حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کھل کر گنڈاپور کی طرح بولنے لگیں گے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے 2026 کو نوجوانوں کے نام کر کے پرواز کارڈ، سکل ڈویلپمنٹ کے کورسز، آسان بلاسود قرضوں کی فراہمی، سکالرشپس جیسے کئی ایسے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن سے نوجوانوں کی ترجیحات اور توجہ کو مثبت اور ترقی پسند سوچ ملی ہے اور اب وہ جھوٹ اور دھرنوں کی سیاست کو جہالت شمار کرنے لگے ہیں۔

نوجوانوں کو مریم کی طرف سے دیئے جانے والے حوصلے نے ان کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور وہ اب اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے اپنی ماں، بہن اور قائد کی امنگوں پر اپنی صلاحیتوں کو نچھاور کرنے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں جس کی گواہی اس کا ہر طرف والہانہ استقبال دے رہا ہے۔ وہ خواہ بسنت کی تفریحی سرگرمیاں ہوں یا اس کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پنجاب کے دور دراز ضلعوں کے عوامی دورے ہر جگہ اس کو پزیرائی مل رہی ہے۔  

عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوال بھی بجا ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بیٹے باہر بیٹھے ہیں اور یہاں نوجوان بے یار و مددگار جیلوں میں پڑے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جادو ٹونے کے زریعے سے حکومت چلانے سے لے کر کرپشن تک عالمی جریدوں میں چھپنے والی رپورٹس پر بانی پی ٹی آئی کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس کی وضاحت بہرحال عوامی ذہنوں میں ایک خلش کی صورت  موجود ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ ہندوستان کے خلاف فوج کی کاروائی پر عالمی پزیرائی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جان کی قربانیوں پر فوج مخالف بیانیہ بھی عوام کے دلوں میں فوج سے والہانہ محبت کے ہاتھوں بری طرح پِٹ چکا ہے اور اب کوئی فوج کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ اب تو ملک کے اندر یکجہتی کی ضرورت کے پیش نظرتمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہونے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی آوازوں کو بھی غداری کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

 

پیر، 2 فروری، 2026

حکومتی سطح پر کی جانے والی عوام سے آئینی و قانونی نا انصافیاں


 پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کے  ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو عوام کی نمائیندہ حکومتوں
    نے باقاعدہ ترامیم کے زریعے سے نافذ کی ہوئی ہیں جس کی کئی مثآلیں ہیں جس میں سے ایک  ٹیکس کے نطام  سے لی جا سکتی ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بنتی ہیں بلکہ معاشرے کے اندر رائج رسم و رواج کے پیمانوں پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔

مثلاً اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر اپنا کوئی مکان بنانے کے لئے زمیں خریدنا چاہتا ہو تو اس کو کئی ایسے ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے نہ جمع کروانے والوں پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ دہائیوں پر محیط محنت مزدوری سے حاصل کردہ آمدن جس پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا سے خرید رہا ہو۔ بھلے وہ پُشتوں سے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اس کی  آمدن ٹیکس کی ادائیگی کے زمرے میں نہ آتی تھی اس لئے وہ نان فائلر ہی رہا مگر اب اس کو فائلر نہ بننے کی وجہ سے خواہ مخواہ کے  ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے۔ حالانکہ یہ قانون آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکز کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہا ہے؟


اتوار، 25 جنوری، 2026

فوج کے خلاف تعصب ملک دشمنی سے کم نہیں

مضبوط فوج اور آزاد ریاست کی قدر ان سے جانیں جو اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں یا ان کے پاس اپنی فوج نہیں تھی بلکہ ان کے اندر بھی ریاست اور فوج کے خلاف تعصب کی آگ بڑھکائی گئی اور آج اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

دور کی بات نہیں ابھی ایک دہائی پہلے کی بات ہے جب لیبیا کی عوام ایک مثالی زندگی گزار رہی تھی اور پھر چند نام نہاد انسانی حقوق فوبیا کی شکار سول سوسائٹی کے نا عاقبت اندیشوں نے عالمی ایوارڈز اور ذاتی تشہیر کی حوس میں سوشل میڈیا پر تحریک چلا کر عوام کو حکومت کے خلاف بڑھکایا اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ آج تیرہ سال کے لگ بھگ ہونے والے ہیں ملک خانہ جنگی سے دوچار ہے اور قوم اچھے وقتوں کو یاد کر کے واپسی کے لئے ترس رہی ہے۔ ایسی ہی کئی دوسری مثالیں موجود ہیں جن کو  دہرانے کی ضرورت نہیں

ضرورت ہے تو ان سے سبق حاصل کرنے کی اور ایسے نام نہاد انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئنز یا ملک سے دور نا معلوم جگہوں پر چھپ کر ملک پر تعصباتی جنگ مسلط کرنے والے وی لاگرز جو شخصیت پرستی کی مرض کے شکار زیرو کارکردگی والوں کی حمائت میں ریاست کے خلاف سرد جنگ کا علم اٹھائے ہوئے ہیں ان کی چالوں کو سمجھ کر اپنے آپ کو ایسی سوچوں سے لا تعلق کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر پزیرائی کی بنیاد سیاسی اور عسکری قیادت کی ڈپلومیسی اور جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستانی فوج کی بہادری کے قصے اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا  دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ 

ملک میں بہتری کی کوششوں سے انکار نہیں مگر یہ آئین و نظام کے اندر رہتے ہوئے کی جاتی ہیں اور ان کے اصل محرکات سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ہوتے ہیں جن کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا اور عوام کو خوشحالی دینا ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ ان کو خدمت کا موقع نہیں ملا بلکہ اس وقت بھی تمام کے پاس مرکز نہیں تو صوبائی سطح پر تو ابھی بھی اس کے نمونے پیش کرنے کا موقع موجود ہے۔ 

سندھ میں پیپلز پارٹی، کے پی میں تحریک انصاف اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے پاس حکومت ہے تو پھر کیوں ناں پہلے کارکردگی میں مقابلہ کے زریعے عوام میں پزیرائی حاصل کرتے ہوئے اگلے انتخابات کی تیاری کی جانی چاہیے جو اب زیادہ دور نہیں۔ اور اگر کسی کو اداروں کے خلاف تحفظات یا شکایات ہیں تو ان کو آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق موجود فورمز جن میں تمام صوبوں کو نمائندگی میسر ہے رکھے جائیں۔

اور جمہوریت کی یہ بھی خوبصورتی ہیں کہ اگر اختلافات کے با وجود اکثریتی فیصلہ کر لیا جائے تو پھر اس پر کار بند ہو کر اسے کامیابی سے ہم کنار کروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ اور ریاست اور اداروں کے خلاف تعصب کے تاثر کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی اس وقت پہلی ترجیح ہونی چاہیے جس کے لئے باقائدہ قومی سطح پر تحریک چلائی جانی چاہیے۔  تمام تر تعصبات کا خاتمہ انتہائی نا گزیر ہے۔

ریاست کی سطح پر کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کیس سٹڈی کی جانی چاہیے اور اس وقت جس طرح سے پاکستان پر اسلامی دنیا کا اعتماد بڑھا ہے اور وہ پاکستان کو اپنا بگ برادر کہہ رہے ہیں یہ ایک بے مثال کامیابی ہے۔ پاکستان جہاں ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہا ہے وہیں ان کے ساتھ عوامی اور ثقافتی سطح پر تقابلی پروگرام کئے جانے چاہیں جن میں ان ریاستوں میں استحکام کے خاتمے اور خانہ جنگی کا سبب بننے والے عوامل پر تحقیق اور ان کو دوسرے اسلامی ممالک یا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ریاستوں کے عوام کے اندر شعور اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ 

اگر ممکن ہو تو ریاستوں کے اندر باہمی ثقافتی ایکسچیج پروگرامز ترتیب دئے جائیں اور ملکوں کے اندر تعصبات پر مبنی نا پختہ سوچوں کے حامل لوگوں کو بھیجا جائے۔ وہ نہ صرف تبادلہ خیالات کر سکیں بلکہ وہاں رہ کر عملی طور پر مشکلات کا مشاہدہ کریں تاکہ ان کے اندر یہ احساس جاگے کہ آزاد ریاست اور مضبوط فوج کتنی بڑی اللہ کی نعمت ہے۔       

ہفتہ، 15 نومبر، 2025

بشریٰ بی بی بارے عالمی جریدے میں چھپنے والی رپورٹ کی تحقیقات کروائی جانی چاہیں

 میں سمجھتا ہوں کہ اتنے معتبر بین الاقوامی جریدے میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد وزراء کو سیاسی مخالفت کی بنا پر طعنہ زنی کی بجائے اسے سنجیدہ لیتے ہوئے حکومتی سطح پر تحقیقات کی ہدایات جاری کرنی چاہیں۔ یہ بانی پی ٹی آئی کا معاملہ تو ہوگا ہی مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم اور ایک ایٹمی طاقت کی حامل ریاست اور اسکے اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں جن میں ریاست کا وزیر اعظم حساس ادارے  کے اہلکاروں کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا ہے اور چند افراد اپنی خواہشات کے تحت ریاستی امور پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں گویا ریاست کی سربراہی  ماہرین کی بجائے جادو ٹونے کے تحت چلائی جاتی رہی ہے۔

اس دوران پاکستان کے سفارتی سطح پر تعلقات سے لے کر بیرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو ٹھپ کرنے تک کے فیصلے ہوتے رہے اور ملکی معیشت کا ستیا ناس ہونے کے علاوہ بیرونی قرضوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا جو انتہائی تحقیق طلب معاملہ ہے۔ 

اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس کو من گھڑت بیان قرار دیتے ہوئے جریدے کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے جو ان کا بنیادی حق ہےلیکن اس معاملے کو فقط ان پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ اگر ان کو کسی طرح کی مدد بھی چاہیے تو حکومت کو مہیا کرنی چاہیے۔

اعتقاد اور نظریات اپنی جگہ مگر ان کے ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور وہ بھی ایک سراسر دھوکہ دہی اور جانتے بوجھتے ہوئے ایک ریا ست کے سربراہ کو دھوکے میں رکھ کر فیصلوں پر اثر انداز ہونا تو انتہائی سنگین جرم ہے اور پھر وزیراعظم ایک ریاست کا سربراہ ہوتا ہے لہذا اس میں اس قدر بھی سادگی نہیں ہونی چاہیے کہ ان کو اتنی جلدی سے بے وقوف بنا لیا جائے اور وہ من گھڑت کہانیوں  جن کی بنیاد جادو ٹونے پر ہو کو اس قدر ترجیح دیتا پھرے۔ 

لہذا اس بارے پہلے تو ریاست کو خفیہ طور پر تحقیقات کروانی چاہیں اگر تو یہ محض الزامات ہیں تو پھر کسی کی عائلی زندگی اور شہرت کو اچھالنے کی کسی کو  اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف ایک سیاسی جماعت کی قیادت اور کارکنان کو ذہنی اذیت پہنچے گی بلکہ  پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ 

لیکن اگر یہ سب کچھ سچ ثابت ہوتا ہے تو پھر حکومت کو اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کو عمل میں لانا چاہیے اور مستقبل میں کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے کہ ریاست کے فیصلوں  کی بنیاد اس قدر غفلت کی شکار نہ ہو پائے اور نہ ہی کبھی ریاست کے حساس ادارے کے اس طرح کے جرائم میں ملوث پائے جانے کا تاثر ابھر سکے۔ اس  سے نہ صرف اداروں کی ساکھ  خراب ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملکی تشخص بھی تباہ ہوتا ہے۔ 

تحقیقات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ اگر ان سنگین جرائم کی وجہ سے ملک کو مالی نقصان پہنچا ہو تو عوام کو اس بارے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے فیصلے دانشن مندانہ سوچ کے تحت کرنے کے قابل ہو سکیں اور ریاست کی غیر شعوری مقبولیت سے جان چھوٹے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا تاثر ابھرے

بدھ، 29 جنوری، 2025

جھوٹ بولنے والے کی داڑھی میں "پیکا"

پیکا میں ترمیم کیا ہوئی ہے کہ ہر طرف سے چیخنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں جیسے ہر کسی کا دم گھٹنے لگا ہو۔ صحافی تو کیا سیاستدان بھی بول پڑے ہیں۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمن نے بھی صدر آصف علی زرداری سے جلدی میں دستخط نہ کرنے کی گزارش کر دی ہے اور انہوں نے مان بھی لی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ صحافت اور سیاست جھوٹ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ سیاست میں بھی بیانیہ بنانا سیاستدانوں کی مجبوری ہوتی ہے اور جب جھوٹ پکڑا جائے تو کہہ دیتے ہیں "وہ سیاسی بیان تھا" اس سے آپ ہماری سیاست کے معیار کا  بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اور صحافت میں بھی جب تک خبر کو تھوڑے سے پر نہ لگائے جائیں وہ اڑتی نہیں اس لئے جھوٹ نہ بھی ہو تو جھوٹ جیسے گماں کا تاثر تو ہر خبر میں ملتا ہے۔ وڈیوز پر تھنب نیل تو کبھی بھی حقائق پر مبنی نہیں ہوتے کیونکہ جب تک چاشنی نہ ہو سودا بکتا ہی نہیں۔

حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کی سنیٹر شیریں رحمان نے بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ وہ تو سیاستدان بھی ہیں اور ماضی میں صحافت بھی کرتی رہی ہیں اس لئے ان کو کچھ زیادہ ہی اندازہ ہوگا کہ اس طرح کے قوانین کے کیا نتائج نکلا کرتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ نون سے بھی اگر ایک دن کے لئے حکومت لے لی جائے تو شائد ان کی آواز سب سے بلند ہو، اگر ان کو اس بات میں شک ہو توتجربہ کیا جا سکتا ہے۔

شور سے لگتا یوں ہے کہ اس قانون میں کچھ ایسا ہے ضرور جو ہر طرف سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے تو پھر اس پر کچھ توقف اور دوبارہ سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورہ اور ان کی معاونت حاصل کر لینے میں حرج ہی کیا ہے؟ حکومت کی جلد بازی بھی بہت سارے سوال اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

ابھی تو "پیکا" قانون بھی نہیں بنا اور اس کی عملداری کا آغاز دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ ایکٹ تو "چور کی داڑھی میں تنکا" کے مصداق  ایک مثال بن گئی ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جھوٹ بولنے والے ہی سب پریشان ہونگے لیکن یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جس نے جھوٹ بولنا ہی نہ ہو اس کو اپنی داڑھی میں ہاتھ مارنے کی ضروت کیوں پیش آئے گی یا اس کا دم کیوں گھٹنے لگے گا۔ خیر اسے سنجیدہ نہ لیجئے گا مگر جھوٹ کے ماحول کو ضرور سنجیدہ لینا ہو گا۔

کیا جھوٹ صرف خبروں میں ہی بند کرنے کی ضرورت ہے یا ہر سطح پر اس کے سدباب کی ضرورت ہے؟ سیاست یا صحافت میں تو جھوٹ کو کافی حد تک معاشرے کے اندر قبولیت کا درجہ حاصل ہو چکا ہے مگر بدنام زیادہ وکالت ہے۔ لیکن حکومت کی خاموشی بھی جھوٹ سے کم نہیں۔ فیکٹس کو چھپانا بھی جھوٹ کے ضمرے میں آتا ہے۔ کتنے ہی معاملات ہیں جن میں حکومت فیکٹس کو چھپانا چھوڑ دیتی تو شائد ملک و قوم کے حالات ایسے نہ ہوتے۔ ہم عدالت کے بارے تو کچھ کہہ نہیں سکتے مگر توہین عدالت کے خوف سے خاموش ہو جانا جھوٹ نہیں بھی تو سچ کو چھپانا تو تصور ہو سکتا ہے۔ اگر عدالتوں میں انصاف ہو اور کسی پر جھوٹا الزام لگانے پر ہرجانے کے قوانین پر عملدرآمد ہونا شروع ہو جائے تو کوئی کسی کے بارے جھوٹی بات کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حکومت نے اگر کچھ کرنا ہی ہے تو نظام انصاف کو ٹھیک کرے تاکہ جھوٹ اور الزامات کو روکنے کا  ماحول بنایا جا سکے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات اور شفاف انصاف کے بغیر  محض قوانین کسی کام نہیں ہوتے۔

کیا صرف حکومت کے خلاف جھوٹ بولنا ہی قابل گرفت ہے، حکومت کے حق میں بولنے کو استثنیٰ حاصل ہے؟ کیا حکومت کے حق میں جھوٹ بولنے کی بھی گرفت ہوگی؟ اگر ہو گی تو پھر یہ کون کرے گا اس کا اس قانون میں کوئی لائحہ عمل بتایا گیا ہے؟ لگتا یوں ہے کہ اصل معاملہ جھوٹ یا سچ کا نہیں بلکہ قانون کے اطلاق میں جابنداری کے خدشات بارے خوف کا ہے کہ جھوٹ بارے تحقیقات کا معیار کیا ہوگا؟ ماضی میں ایسے قوانین کے اطلاق میں چونکہ  اچھی مثالیں نہیں ملتیں اس لئے تحفظات پائے جار ہے ہیں ۔ پہلے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ 2022  میں پیکا کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور صحافیوں کو جھوٹی خبر کے روکنے کے کسی میکنزم کی ہدایات کی تھیں۔ اس وقت عمران خان کی حکومت  تھی تو اس کو پیکا موافق پڑ رہا تھا اور آج مسلم لیگ نون کی ہے تو اس کو موافق پڑ رہا ہے۔ ایسے قانون جو حکومت ہوتے ہوئے ہی موافق ہوں کی افادیت ،اہمیت اور مقاصد کا اندازہ تو لگایا  ہی جا سکتا ہے۔

جھوٹی خبر سے بھی زیادہ معاملہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کیرجسٹریشن کا ہے جو ناقابل فہم لگتا ہے۔ سوشل میڈیا تو معلومات کو شئیر کرنے یا ان تک رسائی کا ایک زریعہ ہے جس پر جھوٹ کی نشاندہی اور اس کی رپورٹ کرنے کا طریقہ کار بھی پہلے سے موجود ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے ان  کا سدباب ممکن ہے۔ اگرجھوٹی خبریں عام لوگ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنا سکتے ہیں تو کیا حکومت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ان خبروں کی نشاندہی اور رپورٹ کر کے ان کو بند نہیں کروا سکتی اور جس بھی آئی ڈی سے دی گئی ہو اس کو بند بھی تو کروایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی زیادہ تر خبریں ہی فیک نہیں ہوتیں بلکہ ان کو دینے والی آئی ڈی بھی فیک ہوتی ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو حکومت کی پہنچ سے بھی دور ہیں اور سارا غصہ جو پہنچ میں ہیں ان پر نکل جاتا ہے۔

اب رجسٹریش کے عمل میں کئی مسائل ہوتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ تو پاکستان میں حوالوں کا ہے۔ یہاں حوالوں کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتے اور حوالوں کے ساتھ نا جائز بھی نہیں رکتے تو ایسے ماحول میں کسی قانون سے جرائم کے خاتمے کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہی ہو چکا ہوتا۔ کیا بدعنوانی کے لئے قوانین کی کمی ہے یا اس کے سدباب کے لئے ادارے موجود نہیں جو جھوٹ کو روکنے کے لئے اداروں کے قیام اور اتھارٹیز کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس سے اور کچھ ہوا یا نہ ہوا ہماری اخلاقیات بارے دنیا کو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں جھوٹ کو روکنے کے لئے اتھارٹیز کوقیام  میں لایا جا رہا ہے۔

حکومت خبروں کی اشاعت کے متعلق اٹھارٹیز کیوں نہیں بنا دیتی جس کے تحت ہر ادارے، تنظیم یا جماعت کے بارے یہ قانون بنا دیا جائے کہ اس نے اپنی رجسٹریشن کے ساتھ ہی اپنا انفارمیشن کا نظام بھی رجسٹر کروانا ہے  اور وہ براہ راست اتھارٹی کے ویب سائیٹ پر صحیح معلومات کو شئیر کرنے کے پابند ہوں اور میڈیا صرف وہاں سے خبریں لینے کے پابند ہوں اور رپورٹنگ کا نظام ہی ختم ہو جائے۔ اصل مسئلہ خبروں یا جھوٹ کا نہیں بلکہ اصل معاملہ اخلاقیات اور اعتماد کا ہے۔ اگر حکومت کو رپورٹنگ پر اعتماد نہیں تو وہ عوام پر اپنا اعتماد ہی بحال کروالیں تو مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ جہاں اعتماد ختم ہو چکا ہو اور اخلاقیات تباہ ہو چکی ہوں وہاں مسائل قوانین یا اتھارٹیز  کے قیام سے نہیں بلکہ کردار سازی سے  حل ہوتے ہیں۔

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ججز کے خط سے کھلنے والے پنڈورا باکس سے کیا کچھ نکلے گا؟

 

اب یہ جو ججز پر دباؤ کا معاملہ ہے یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے کبھی اسلام آباد میں پولیس اصلاحات سے قبل اسلام آباد ٹریفک پولیس کے منتظمین جناح اور جمہوریت کے نام پر منسوب شاہراہوں کے سنگم میں چوک  جسے ڈی چوک اور انصاف کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور فیصل ایوینو چوک میں کھڑے مال اکٹھا کر رہے ہوتے تھے، ان کی پینٹوں کی جیبیں پھٹ کر نوٹ باہر جھانک رہے ہوتے تھے اور حیرت کی بات ہے کہ یہاں سے پاکستان کی ساری مقتدرہ گزر کر کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر واقع انصاف اور جمہوریت کے نام پر قائم ایوان زیریں و بالا اور انصاف کے ایوانوں میں جاتے تھے جن میں وزیراعظم، صدر پاکستان، چیف جسٹس، چیف آف آرمی سٹاف، پولیس کے محکمے کے سربراہ اور اینٹی کرپشن  محکمے کے اہلکار کسی کو وہ رشوت ستانی نظر نہیں آتی تھی۔ ایسا ہی معاملہ مجھے تو یہ عدلیہ کے ججز پر دباؤ والا بھی لگتا ہے گویا پہلے تو یہ کسی کے علم میں ہی نہیں تھا اور اب ججز کے خطوط سے اس پر یوں شوروغوغا شروع ہوگیا ہے جیسے کوئی بہت بڑی انہونی ہوگئی ہے۔

ہاں پہلے والا عدالتی اور سیاسی کلچر کچھ اس طرح کا تھا جس میں سرگوشیوں میں ایسی  باتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس کلچر سے بغاوت کرتے ہوئے بار روم میں یہ بھانڈا پھوڑ دیا جس کے بعد جو انکے ساتھ ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ ان کے اپنے ہی ججز ساتھی جنہوں نے بقول انکے اس مروجہ ثقافت سے انحراف کے پیش نظر ان سے سوشل بائیکاٹ کر دیا اور یہی لوگ ان کوعہدے سے بھی فارغ کرنے کے نظام انصاف کا حصہ تھے۔ اس کے نتائج یہ نکلے کہ ایک  کا ہندسہ چھ میں بدل گیا اور آج جب شوکت عزیز صدیقی کئی سال کے بعد اپنی مراعات کے حقدار بن چکے ہیں تو  یہ لوگ اب ان کے لگائے گئے الزامات کی تحقیق کا مطالبہ کر رہے ہیں "بدلتا ہے آسمان رنگ کیسے کیسے" جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ذاتی مشکلات کے مدنظر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے موقف کی تائید کرنی پڑ رہی ہے جس کا وہ پہلے مذاق اڑاتے رہے ہیں بلکہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے تو ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ "روندی یاراں نوں ناں لے لے کے بھراواں دا"  اگر یہ چھ اس وقت اس معاملے کو سنجیدہ لیتے تو شائد آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور نہ ہی ہمارے نظام عدل کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس طرح کی خبروں سے قوموں کے چہرے کس قدر مسخ ہوتے ہیں اور تشخص سے اس کے بد نماداغ مٹانے مشکل ہوجاتے ہیں۔

ججز اورحکومت کے مشورے کے بعد کمیشن ترتیب دیا گیا جس کی سربراہی کی تجویز بھی سپریم کورٹ نے دی تھی اور اس کے بعد میڈیا، وکلاء اور سیاستدانوں کی طرف سے اعتراضات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سپریم کورٹ کو سوؤموٹو لینا پڑگیا۔ اس ساری مشق کا فائدہ کیا ہوا؟ یہیں نہیں ملک کے انتظام انصرام میں ہر سطح پرقوم کی صلاحیتیں ایسی ہی فضول سرگرمیوں میں ضائع ہو رہی ہیں، وجہ کیا ہے؟ "اعتماد کا فقدان" اور مفادات کی حوس" ہر کوئی دوسرے پر شاکی ہے جیسے ججز پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں کبھی حاضر سروس جج ہونے پر تو کبھی ریٹائرڈ جج ہونے پر کبھی کمیشن کے ٹی او آرز پر تو کبھی سابقہ کمیشن کی رپورٹس پر استدلال کرتے ہوئے شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔

اگر غور کریں تو اس اعتماد کے فقدان کا اصل سبب ہی ججز، جرنیل ، بیورکریٹ ، سیاستدانوں کی اپنی سوچ اور ان کا عمل ہے۔ کیا جو ججز سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ رہے ہیں ان کو قانون ایسے دباؤ سے نمٹنے کا اختیار نہیں دیتا اور اگر وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس پر قابوپانے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں تو قصور دباؤ ڈالنے والے کا زیادہ ہے یا اس دباؤ کولینے والے کا۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے۔  کون آئینی و قانونی طور پر عہدے اور منصب کے لحاظ سےاس مسئلے کے حل کا ذمہ دار ہے؟ اگر ججز کو اپنے منصب اور رتبے کا احساس اور اندازہ ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔

کیا کوئی خفیہ مقتدرہ سے ہو یا وردی میں ملبوس اس دھرتی کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ دینے والے ذمہ داران سب  کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر قائم بڑے بڑے ایوانوں میں اپنی خفیہ اور ظاہر سرگرمیوں کی رپورٹس لے کر پیش نہیں ہوتے جن کے گواہ ان ایوانون میں  ایک پیج پر ہونے کے گونجتےنعرے ہیں جو اس پیج پر موجود شخصیات کے بدل جانے کے حالات  سےتذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی آپس کی بدشگونیوں کا بھی خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑ جاتا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی خواہ وہ جج ہو، سیاستدان یا خفیہ اداروں کا سربراہ ہو  ان معززین میں سے بہت سارے پورا سچ بولنے کے لئے تیار ہی نہیں اور آئین و قانون اور اختیارات میں سے جو بات اپنے مطلب، خواہش اور مقصد سے مواقفت رکھتی ہے اس کی تعریفیں اور پر چار شروع کر دیتے ہیں اور جو ناموافق پڑتی ہے اس پر شورو غوغا گونج اٹھتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اب سوؤ موٹو کے بعد معاملہ تھم جائے گا؟ اب بنچ میں بیٹھے ہوئے ججز پر اعتراضات نہیں اٹھیں گے بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھا بھی دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ انصاف کے معیار کا ہے جس پرتاریخ اعتماد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانونی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جانے والے کمیشن میں سپریم کورٹ کا ریٹارئرڈ جج ہوتے ہوئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر تمام اختیارات رکھتا ہوگا جس کے تحت وہ کسی بھی طرح کی معلومات کے لئے کسی کو بھی طلب کرنے یا ریکارڈ منگوانے کا مجاز ہوگا اور اپنے احکامات پر عملدارآمد کروانے کے لئے توہین عدالت کی کاروائی سمیت تمام اختیارات رکھتا ہوگا۔ اس لئے یہ خدشات اخذ کر لینا کہ ماضی کے کمیشنز کی طرح کچھ حاصل نہیں ہو گا انتہائی نا مناسب ہے اور اس طرح کے خدشات کا علاج تو آئین و قانون کے پاس بھی موجود نہیں سوائے، جرات اور اعلیٰ اخلاقیات کی پاسداری کے جسکی ذاتی مفادات اور خواہشات کی سوچیں رکھنے والوں سے امید نہیں کی جا سکتی جس کا ریٹائرڈ یا حاضر سروس ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

بلکہ میں سمجھاتا ہوں کہ جب خط میں موجودہ عدلیہ کے اندر ابھی بھی دباؤ کا تاثر دیا گیا ہے تو پھر عدلیہ کے اندر تو سپریم کورٹ بھی شامل ہے تو ایسے میں کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیق تو مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے تاکہ موجودہ عدلیہ میں سے اگر کوئی الزامات لگاتا ہے تو اس سے شواہد طلب کئے جا سکیں اور اگر حاضر سروس کوئی جج دباؤ کے تحت فیصلے کرنے میں ملوث پایا جاتا ہے تو پھر اس بارے حکومت رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج سکے اور اگر کوئی عدلیہ کے باہر سے دباؤ میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی کاروائی کو عمل میں لانے کی ہدایات جاری ہوں اور اسی طرح اگر کسی ادارے پر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو الزامات لگانے والے کے خلاف بھی تادیبی کاروائی کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خط کے مندرجات میں ایک انتہائی سنگین مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ججز پر دباؤ کی تو جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو کیا اسے نظام عدل میں ججز کی اپنی ہی زبانی انصاف کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑوں کی مخبری یا گواہی نہ سمجھا جا ئے جس کا آغاز جسٹس منیر اور جسٹس ارشاد حسن خان سے شروع ہوتا ہے اور اسی فہرست میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ نے حال ہی میں بھٹو کی سزا پر اپنے ادارے کی کوتاہیوں کو دھونے کی کوشش کی ہے۔  کیا اس سے ان کے عہدے اور منصب پر بھی سوال کھڑے نہیں ہوتے  جن کا انکو خود بھی احساس نہیں ہو رہا جس کی وجہ شائد ان کی تعیناتیوں کا طریقہ کار بھی ہے کہ وہ خود سیاست کی کوکھ سے جنم لئے ہوئے ہوتے ہیں جو بعد میں نہ صرف ان کی مجبوریاں بنتی ہیں بلکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹ کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے اختیارات کے استعمال کی سکت نہیں رکھتے ہوتے اور اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جج کا عہدہ اور منصب ہر طرح کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے بالا تر ہوتا ہے۔ اصل معاملہ محض دخل اندازی کا ہی نہیں بلکہ ججز کی کریڈیبلیٹی اور ان خدشات کی بنیاد پر ایک عام آدمی کے نظام انصاف پر اعتماد کا بھی ہے۔ اگر ججز دباؤ کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تو پھر ان سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے یا ان کا اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز کیسے باقی بچتا ہے۔

ہمارے ماضی قریب کے نظام عدل نے تو فلسفہ قانون کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جرائم کے پیچھے موٹو کا تو سنا ہوا تھا لیکن ان سالوں میں تو فیصلوں کے پیچھے بھی موٹو نظر آرہا ہوتا ہے۔ حالات سے یوں لگتا ہے کہ ججز پر دباؤ اصل مسئلہ نہیں بلکہ دباؤ کی موافقت دکھائی دے رہا ہے اور دباؤ بھی صرف ایجنسیز کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ماضی میں لیک ہونے والی وڈیوز میں ججز کے خاندان کے لوگ بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدانوں سے تعلقات بھی ہوتے ہیں اور جوڈیشری اور حکمرانوں کا ایک دوسرے سے مفادات کا لین دین بھی ہوتا ہے اور اب یہ سارا کچھ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے معاشرے کے معیار بھی فلسفہ قانون کے ساتھ ساتھ بدلے بدلے لگتے ہیں۔

قانون کی تشریحات بھی انہیں معاشرے کے معیاروں کی مطابقت سے بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ جس کی مثالیں حالیہ سالوں میں تو فراخدلی سے ملتی ہیں۔ ججز کے مذاج، حالات، حوالاجات، خواہشات حتیٰ کہ سوشل میڈیا کا بیانیہ بھی اب تو قانون کی تشریحات کے زرائعے کے طور پر دکھائی دیتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر بنائے گئے بنچز کے فیصلوں کی صحت پر اثرات تو کسی سے چھپے ڈھکے نہیں۔  ججز کے بدل جانے سے فیصلے بدل جاتے ہیں اور بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کی پشینگوئیاں ہونے لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ سو فیصد ٹھیک بھی نکلتی ہیں۔ انصاف بھی موسموں کی طرح بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہی واقعات، ملزمان اور شواہد ہوتے ہیں اورکبھی سزاؤں پر سزائیں سنائی جا رہی ہوتی ہیں تو پھر اچانک انصاف کا موسم ایسے بدلتا ہے کہ سزائیں بریت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

جہاں اتنے بڑے دباؤ ہوں تو کبھی کبھی دباؤ کے زرائعے کی آپس میں چپقلش بھی کوئی انہونی بات نہیں ۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ موسم بدلنے سے یہی دباؤ جو آج موافق نہیں پڑ رہا یکدم موافق پڑنا شروع ہو جائے۔ کیونکہ دباؤ کی موافقت کو قائم کرنے کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ججز کے خطوط کے بعد وکلاء کے خطوط شروع ہوگئے ہیں اور ان خطوط کی روشنی میں اداروں کی آراء بھی بدلنا شروع ہوگئی ہیں اور فیصلوں کے متن بھی موسموں کی تبدیلیوں کے اشارے دینے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ جو دباؤ کو  اچانک اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اس کے پچھے بھی کسی خاص موٹو کا شک ہو رہا ہےکیونکہ  سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اُس وقت اِس طرح کا کوئی دباؤ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر موجود تھا تو کیا وہ ان کے جانے کے بعد ختم ہو گیا تھا یا اسی دباؤ کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی قوم ان سے اس تحقیق کے دوران سچ بتانے کی توقع رکھتی ہے جس کے بغیر یہ تاثر  لیاجائے گا کہ وہ اپنی حیثیت کو مضبوط تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر جوابدہی کا ان کے اندر کوئی احساس موجود نہیں۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو  کیا اس سے ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کا حلف مشکوک نہیں ہو چکا؟ 

 خط  کو لکھنے کا وقت بھی کئی  خدشات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں مبینہ طور پر ایک سو کے قریب درخواستں دائر ہو چکی ہیں جن میں سے چند ان ججز کے خلاف بھی ہیں جس سے یہ تاثر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مقصد دباؤ اور بیرونی اثرات سے آزادی نہیں بلکہ حکومت، عدلیہ، اداروں اور سپریم جوڈیشل کونسل پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس خط کا یوں جوڈیشل کونسل کا رخ کرتے ہوئے میڈیا کے ہتھے چڑھ جانا بھی شکوک شبہات پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے جس کا جواب دینا بھی ججز کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اور ان سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب ان کا کام ہی انصاف کی فراہمی ہے تو انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا قانونی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

سپریم کورٹ میں کئی اور درخواستیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں سے ایک  مبینہ طور پر میاں داؤد ایڈووکیٹ کی بھی ہے جس  میں کچھ ایسے نقطے بھی اٹھا دئے گئے ہیں جو اس خط کو عدلیہ اور ملک کی عمومی سیاست سے جوڑنے کا منظر نامہ  پیش کر رہے ہیں جن کی پاکستان کی عدلیہ اور عدالتی رائے کے اصولوں کے اندر کوئی نظیر نہیں ملتی جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہی عمران خان کی ضمانت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں انکی طرف سے مستقبل میں کئے جانے والے تمام فرضی جرموں کی بھی پیشگی ضمانت دے دی گئی تھی اور اسی طرح کچھ لاہور ہائیکورٹ کے بھی فیصلے ہیں جن پر تحریک انصاف کی سہولت کاری کے الزامات پر آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں اور جن میں ایک فیصلہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد سے روکنے کا اسٹے آرڈر بھی تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اس پر سخت کمنٹس دیتے ہوئے انتخابات کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کو نا کام بنایا تھا جس سے ہائیکورٹس کو اس طرح کے سہولت کاری کے تاثر والے فیصلوں بارے محتاط انداز اپنانے پر مجبور کر دیا گیا تھا

ایسا بھی نہیں کہ ججز کے موقف کی تائید نہیں  ہو رہی جیسا کہ میڈیا پر ان کے موقف کو سراہا بھی جا رہا ہے اور اب تو اس خط کی حمائت میں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی طرف سے اعلامیے بھی جاری ہو چکے ہیں اور بعض سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست کو آکسیجن دینے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دے رہی ہیں۔ ججز نے اپنے فیصلوں پر دباؤکا اظہار کرکے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے بلکہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نے تو بانی تحریک انصاف کو دی جانے والی سزاؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جس کا یقیناً ان کو فائدہ ملے گا۔ تو ایسے منظرنامے میں یہ بھی دیکھنا ضروری نظر آتا ہے کہ ماضی میں اگر دباؤ تھا تو اس وقت اس کے بینیفشریز کون تھے اور آج اگر عدلیہ پر دباؤ ہے یا ججز اس خط کے زریعے سے اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے بینیفیشریز کون بنتے ہیں؟

ان الزامات میں ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر انتظامی اختیارات کی آڑ میں عدالتی رائے پر حاوی ہونے کی طرف اشارہ ہے جو دباؤ کا حصہ بن کر فیصلوں کو متاثر کرنےکی ایک مثال ہے جس کا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت عدالت عظمیٰ میں حل تلاش کیا گیا اسی طرح کی اصلاحات کا اطلاق ہائکورٹس پر بھی ہونا چاہیے تاکہ انصاف کو شفاف اور یقینی بنایا جاسکے۔ اختیارات سےصحیح اور جائز فائدے اٹھانے کے لئے اخلاقیات کا  گہرا تعلق ہوتا ہے اور جہاں اخلاقیات کمزور ہوں وہاں  اختیارات بے لگام ہو جاتے ہیں اور پھر قانونی اصلاحات کے زریعے سے بہتری کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اس صورتحال کا حل دخل اندازی کرنے والوں کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ  اس بات میں بھی ہے کہ ججز کی تعنیاتیوں میں نہ صرف جج کی تعلیم و تجربہ کو دیکھا جائے بلکہ ایسی شخصیات کو لیا جائے جن کے اندر اس عہدے اور منصب کی خواہش نہ ہو اور وہ اعلیٰ اخلاقیات کے مالک ہوں تاکہ اگر وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکیں تو کم از کم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے جائیں لیکن نا انصافی کا حصہ تو نہ بنیں۔ جب ججز خوف خدا کے تحت اپنے فیصلوں پر اپنے آپ کو خدا کے حضور جوابدہ سمجھنے والے ہونگے تویہ شکایات خود بخود ہی ختم ہوجائیں گی۔ جس طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اگر ماحول سے مدد نہیں ملی تو مشکلات بھی جھیلیں مگر کم از کم کسی کے ساتھ نا انصافی کاحصہ تو نہیں بنے۔ لیکن ماضی کے واقعات پر استدلال کرکے سبھی ججز کو الزامات کا نشانہ بنا دینا بھی جائز نہیں۔ آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے اس لئے بغیر شواہد کے الزامات کا بھی سلسلہ بند ہونا چاہیے اور یہ سب شفاف تحقیقات کے بعد ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کسی کو  خاص کر میڈیا کو ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے اداروں کے سربراہان ہر ایک کے الزام پر وضاحت تو جاری نہیں کر سکتے۔

اگر اس دباؤ کو وسیع منظرنامے میں دیکھا جائے تو یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ حکومت میں یا عدلیہ میں موجود لوگ جو اپنے ہی آئینی رتبے اور عہدے کے ماتحت سے ڈر کر انصاف نہ دے سکیں یا جوابدہی کا عمل یقینی نہ بنا سکیں تو ان پرایک خود مختار  جمہوری ریاست کے انتظامات محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے معززین جو طاقت کے نشے میں من مانیاں کرتے ہوئے ہر حد کراس کر جاتے ہیں ان کو سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ حب الوطنی اور ریاست سے وفا کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے معاملات کو چلانے کا معیار جو آئین نے متعین کیا ہوا ہے اس کو معتبر سمجھا جائے اور ریاست کے وسائل کو عوام اور ریاست کی امانت سمجھتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے استعمال کیا جائے نا کہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لئے اور ایسا کرنے والوں کی زندگیاں مکافات عمل کی صورت ہمارے سامنے ہیں اور اگر ہم اب بھی اس سے سبق حاصل نہیں کریں گے تو پھر قدرت کا اصلاح کا عمل ہر کسی کے لئے تکلیف دہ ہوگا اور اس کا دکھ صرف ہمیں ہی نہیں اگلی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا

۔

بدھ، 7 فروری، 2024

عوام مخلص اور جوابدہ قیادت کو منتخب کر کے تبدیلی لا سکتے ہیں

 

ویسے تو سرچشمہ طاقت، جمہوریت کا مغز، سیاست کا محور، ریاست کی ملکہ اور ہر سیاسی جماعت کے منشور کا مرکز عوام ہی ہوتے ہیں مگر پاکستان جیسی ریاست کے اندر محض انتخابات کے دنوں میں اور وہ بھی دکھلاوے کے طور پر اور اس کے بعد سیاستدان عوام کے مینڈیٹ کی تحریم میں حکمران بن جاتے ہیں اور عوام تو پھر بھی عوام ہی رہتی ہے۔

حکمرانوں کی عظمت اور حفاظت کے لئے پولیس کی سکواڈ، رہنے کی جگہہ ریڈ زون جہاں گیدڑ، گدھوں کا داخلہ تو جائز ہے مگر عوام کا ممنوع ہے۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں اور نہ ہی میں از راہ استعارہ کہہ رہا ہوں بلکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے شاہراہ جمہوریت پر پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے دن کی روشنی میں گیدڑ دھونگلے دیتے دیکھے ہیں مگر عام آدمی کا داخلہ وہاں کے لئے خطرے کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ تھومس جیفرسن جو ایک امریکی سفارتکار، وکیل، فلاسفر، ریاست کے بانیوں میں شمار ہونے والا ان کی آزادی کی دستاویزات کا بنیادی مصنف اور امریکہ کے تیسرے صدر کے طور پر اس نے قوم کی خدمت کی ہے نے اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر کہا تھا۔

The democracy will cease to exist when you take away from those who are willing to work and give to those who would not.

جمہوریت اس وقت تباہ ہوجاتی ہے جب اس کی سربراہی، جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ان سے لے کر نکموں کو دے دی جائے۔

اب اس کو دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے ایک تو حکومت کی باگ ڈور جیسا کہ ہماری روائتی سیاست میں ایسے لوگوں کے حوالے کر دی جاتی ہے جو عوامی مینڈیٹ کے اصلی حقدار نہیں ہوتےجیسا کہ 2018 کے انتخابات میں کیا گیا اور دوسرا پہلو ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر کی جمہوریت سے ہے جہاں کارکنوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس سے جمہوریت کے ثمرات مشروط ہوتےہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہوتی تو اس کے نتائج ہماری موجودہ سیاسی صورتحال ہوتے ہیں۔

ہماری جمہوری ابتری ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں اور اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں خود سیاستدان ہیں جن کے اپنے اندر اہلیت نہیں اور الزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔ جب آئین پارلیمان کی بالا دستی کو تسلیم کرتا ہے تو پھر دوسروں پر انگیاں اٹھانے سے پہلے اپنی صفوں میں درستگی لانے کی ضرورت ہے۔ اداروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر گھسے ہوئے جمہوری غداروں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہاں ہمارا اصل مدعا اس کا پرچار نہیں بلکہ اس کا حل تلاش کرنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

اس کے لئے سب سے پہلے جمہوریت کو صحیح معنوں میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

ابراہم لنکن نےجمہوریت کی تعریف یوں کی تھی

Government of the people، by the people، for the people.

عوام کی حکمرانی، عوام کے زریعے، عوام کے لئے

اس کا سادہ لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ جمہوریت میں عوام سرچشمہ طاقت ہوتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ طاقت اتنی کمزور کیوں پڑ چکی ہے؟ اور یہ سب کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے؟

جمہوریت عوام کو حکمرانی کا حق تو دیتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ عوام حکمرانی کی صلاحیت بھی رکھتی ہو، جانتی ہو کہ اپنی طاقت کو کیسے محفوظ ہاتھوں کے سپرد کرنا ہے؟ جیسے ہر کام کے لئے ہنر کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی جمہوریت سے مستفید ہونے کے لئے بھی حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس طاقت کی اصل بنیاد سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاق اورباہمی قومی ربط ہوتے ہیں جو قوموں کو نہ صرف بروقت بلکہ صحیح فیصلے کروانے میں ممدومعاون بنتے ہیں اور طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے گر بھی سیکھاتے ہیں۔

جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کے نتائج کے مطابق حکومت کی تشکیل اور عوامی امنگوں اور ضروریات کے مطابق حکومت سازی کا ایک پورا عمل ہے۔ حکومت ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کا مقصد عوام کو وسائل سے مہیا سہولیات میں برابری، امن، روزگار اور انصاف مہیا کرنا ہے اور اس کے لئے حکمران جمہور کو جوابدہ ہیں۔ ان کے اندر ایسی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے جس سے وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو آسان اور یقینی بنا سکیں۔ اب ان صلاحیتوں کے حامل نمائندوں کا انتخاب عوام نے کرنا ہے۔ عوام نے یہ طے کرنا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں کیونکہ سیاسی قیادت کا کردار عوام نے ڈیفائن کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں تو ان کی جوابدہی کے عمل کو بھی یقینی بنانے کے لئے عوام کے اندر شعور اور اس کو ممکن بنانے کی واقفیت ہونی چاہیے۔

یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب عوام کو ریاست، اس کی املاک اور اس کے اداروں کی ملکیت اور اہمیت کا احساس پیدا ہو جو ان کو حکومت اور ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے کام میں دلچسپی پیدا کرکے اس میں عملی طور پر شمولیت اور اس کی نگرانی کی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ واقفیت کا علم آئین کو سمجھنے سے آتا ہے۔

تب وہ نہ صرف قابل قیادت کو سامنے لانے کی اہل ہوتی ہیں بلکہ ان کا ہر طرح سے محاسبہ کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہوتی ہیں اور یہ سیاسی شعور آئینی و قانونی حقوق اور بحثیت ایک شہری اپنی ذمہ داریوں کو جاننے سے آتا ہے۔ جو عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ترقیاتی پراجیکٹس کی نگرانی سے لے کر قومی سطح کی پالیسیوں اور حکمرانوں کے اختیارات کے استعمال تک کی نگرانی کرنی ہے۔ جیسا کہ آئینی کا آرٹیکل 19 اے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ہر طرح کی سرکاری معلومات تک رسائی کا اختیار رکھتا ہے۔

اگر ان کے علاقے میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں تو وہ متعلقہ محکمے سے یہ معلومات حاصل کر سکتا ہے کہ کتنی لاگت کا یہ منصوبہ ہے اور اس کا کیا معیار ہونا چاہیے اور پھر ان معلومات کی مطابقت سے وہ ٹھیکیدار کو کام کرنے کا پابند بنا سکتا ہے۔ اسی کی ایک حالیہ مثال توشہ خانہ سے لئے گئے تحائف کی معلومات بھی ہیں جن پر ایک صحافی نے آواز اٹھائی اور آج وزراء اور وزیر اعظموں کی جوابدہی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

یہی وہ ترقی کے ماڈلز ہیں جن سے عوام کو اپنی طاقت اور اس کے استعمال کا علم ہوتا ہے تو پھر جمہوریت اپنے ثمرات سے مستفید کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ عوام کااختیار حکمرانی اپنے ہاتھ میں آتا ہے۔


اسی طرح اعلیٰ اخلاقیات ان کو یہ سیکھاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نمائندوں میں چناؤ کے لئے قومی مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دینی ہے اور ایسی خوبیوں کے حامل ممبران کا چناؤ کرنا ہے جن کی بنیاد ان کا کردار، کارکردگی اور ملک و قوم کی فلاح کا جذبہ ہو۔ جیسے اب انتخابات 8 فروری کو ہونے جارہے ہیں تو عوام کو اپنی رائے دیتے ہوئے اپنے سیاسی شعور اور اخلاقیات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کے زریعے سے باصلاحیت قیادت کے چناؤ میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہیں جو عوام کا منشور ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے منشور سے دھوکہ نہیں کھائیں گے بلکہ اس کو ان کی ماضی کی کارکردگی سے جوڑ کر پرکھیں گے وہ عملی طور پر کس قدر ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں۔



اگر عوام کے اندر ریاست کی ملکیت اور اہمیت کا احساس ہوتا تو آج ملک مقروض نہ ہوتا اور آزاد تجارتی اور خارجی امور کی پالیسیاں ہوتیں۔ ہمارے ہمسایہ ممالک میں کوئی بھی اس قدر مقروض نہیں جو ہمارا حال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کو اب یہ موقف اپنا لینا چاہیے کہ جو مہنگائی ہوئی ہے اور عوام کے گھروں کے چولہے بند ہوئے پڑے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں کو کہیں سکوت نہیں آرہا۔ خوردونوش کی قیمتیں ہر لمحے بڑھ رہی ہیں، ہر کوئی دوسرے پر الزام لگا رہا ہے اور اپنے آپ کو بے گناہ کہہ رہا ہے حتیٰ کہ جو اتحادی رہے ہیں وہ بھی ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

اس کی تحقیقات ہونی چاہیں اور جو بھی حکومت اس کی ذمہ دار ہے اس میں شامل ممبران کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور جو ذمہ دار ہیں ان کی جائیدادیں بیچ کر قرضے اتارے جائیں تاکہ مستقبل میں سیاست کا رخ کرنے والے سوچ سمجھ کر قدم رکھیں۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کہ جس کا دل چاہتا ہے منہ اٹھا کر بھاگا چلا آتا ہے اور سیاست کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ انکا شوق سیاست اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک جوابدہی کا سلسلہ شروع نہیں ہوگا۔

جب جوابدہی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا تو میں آپکو یقین سے کہتا ہوں کہ آپکو نمائیندگی کرنے کے لئے ڈھونڈنے سے بھی کوئی نہیں ملے گا یہ زبردستی عوامی نمائندگی کا رجحان ختم ہوجائے گا اور عوام کو اچھے کردار والے لوگ مجبور کرکے ان عہدوں پر بٹھانے پڑیں گے۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ عوام کی خدمت کرنی ہے اور ساتھ ساتھ جوابدہی بھی ہوگی تو صرف خوف خدا رکھنے والے اچھے کردار کے حامل خدمت کا جذبہ رکھنے والے ہی اس ذمہ داری کی حامی بھریں گے۔ ایسے ہی انقلاب آتے ہیں، قوموں کی حالت بدلتی ہے اور اختیار حکمرانی عوام کو میسر آتا ہے۔

پیر، 29 جنوری، 2024

پاکستان کو سوشل میڈیا کے محاذ پر سرد جنگ کا سامنا ہے

سوشل میڈیا یوں تو علم، ادب، معلومات تک رسائی اور عوامی رائے کو ہموار کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور انسانی علم و تربیت اور ترقی میں اس کا نمایاں کردار ہے لیکن بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح ہو رہا ہو، وگرنہ یہ تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس کی ایک جھلک ہماری موجودہ سیاسی صورت حال بھی ہے جس کے پیچھے ہماری اپنی ہی 10 سالہ محنت کے ثمرات ہیں۔ اس کے تحت ایک خاص سوچ و عمل، رویے اور مزاج کی قومی سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ ریاست کے وسائل اس کے ہاتھ میں تھے، عدالتوں نے اسے صادق و امین کی سند دی، صحافت نے اسے واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا، سوشل میڈیا کی جادوگری نے اسے امت مسلمہ کا لیڈر ڈیکلئیر کر دیا اور قوم نے ریاستی اداروں، انصاف کے عملبرداروں اور نام نہاد مدبروں کے فرمودات کی روشنی میں اسے تسلیم کر لیا۔ جس کسی نے اس کی مخالفت کی اس کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

اب اداروں کو جب اس اکھڑ، متکبرانہ اور تضحیک آمیز مزاج کا سامنا کرنا پڑا ہے تو انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں مگر ایک لمبے عرصے پر محیط محنت کے اثرات ختم ہوتے ہوتے بھی وقت درکار ہو گا۔ کیونکہ اس مزاج کی امامت میں اب عوام کی کثیر تعداد لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں اتر چکی ہے۔ جو اُس وقت بچے تھے وہ اب جوان ہو چکے ہیں اور ملک و قوم کا مستقبل ہیں جن میں سے کئی اہم ذمہ داریوں پر بھی فائز ہو چکے ہوں گے۔ جو اس وقت جوان تھے وہ اب کوئی ماں تو کوئی باپ بن کر اگلی نسل کی تربیت کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ جو سبق ان کو دیا گیا تھا وہ اب اگلی نسلوں کو منتقل کر رہے ہیں اور کئی اپنی بزرگی کے باعث قبیلوں کی تربیت کے کارنامے سرانجام دے رہے ہوں گے۔

ان کو اگلی دہائیوں تک اقتدار کے دکھائے گئے خواب اب ایک ضد بن چکے ہیں اور ان کے نزدیک اب سیاست کی تعریف ہی حصول اقتدار ہے جس پر عمل درآمد کے لیے وہ انتہائی اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ ان کی پیدا کردہ سیاسی تفرقہ بازی، انتشار پسندی اور عدم استحکام ملک و قوم کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرنے پر قادر ہو چکا ہے۔

اس سے متاثر ہونے والوں میں اچھی خاصی تعداد ایسے نام نہاد پڑھے لکھوں کی بھی ہے جو سوشل میڈیا کو آسمانی صحیفہ سمجھ کر اس کے مقدس فرمودات کو اپنے یقین کا حصہ بناتے رہے۔ ان میں استاد، ڈاکٹر اور سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں جو معاشرے کا ایک با اثر طبقہ ہیں مگر وہ بھی اس سیاسی تفرقہ بازی اور انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس سے قومی سطح پر ہی نقصانات نہیں ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارا قومی تشخص خراب ہوا ہے جس میں ہمارے بیرون ملک مقیم دوستوں کا بھی اچھا خاصا ہاتھ ہے جس نے ہمارے بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

اب انتخابات کو جس طرح سے متنازعہ بنا کر ایک نہ ختم ہونے والی انتشاری سیاست کو مزید طول دیا جا رہا ہے اس کا آغاز یوں تو 2014 سے ہی ہو گیا تھا مگر موجودہ منظرنامے میں 10 اپریل 2022 کو ایک آئینی طریقے سے ختم کی جانے والی حکومت کے بعد چند ووٹوں کے فرق والی قومی اسمبلی میں بیٹھنے کے بجائے چوک چوراہوں کی سیاست کو ترجیح دینے سے یہ شروع ہوا اور اپنی ہی صوبائی حکومتوں کو ختم کر کے جیلوں میں پہنچنے سے اب تک کا ہے۔

اگر ہم سمجھیں تو ہمارے لئے اس کے اندر ایک بہت بڑا سبق موجود ہے کہ کیسے اداروں اور ریاست کی باگ ڈور غلط سوچوں کے ہاتھوں میں آ جانے سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کا مزاج قوموں کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے اور ان کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ جس کی مثال 9 مئی ہے جو ایک لیبیا ماڈل کی سازش تھی جس میں اِسی طرح سوشل میڈیا سے عوامی ذہنوں کو سیاسی شعور کے نام پر انسانی حقوق اور جمہوریت کے جھانسے میں نظام کے خلاف ورغلا کر آزادی کی تحریک شروع کروا کر عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کر دیا گیا جس کو کنٹرول کرنے کے لئے ریاست کو سخت اقدامات اٹھانے پڑے اور جانی نقصانات سے ابھرنے والے عوامی اشتعال پر حکومت کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔ اب 13 سال ہونے والے ہیں اور ملک خانہ جنگی کی حالت میں ہے۔ اس انتشار پسندانہ جمہوریت نے لوگوں کا جینا محال بنا دیا ہوا ہے۔

ہماری فوج کی اعلیٰ صلاحیتوں، بروقت اقدامات اور کامیاب حکمت عملی سے 9 مئی کے فسادات پر قابو پا لیا گیا، وگرنہ اگر تھوڑی سی بھی دیر ہو جاتی تو اس انتشاری سیاست کی تباہیاں جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل جاتیں اور مشتعل عوام کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ ریاست کے اداروں نے اس نام نہاد شعور، جنون، آزادی اور مقبولیت کے غبارے سے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو بروقت بند کر کے ہوا نکال دی اور ان سازشیوں کے آپس کے روابط اور نیٹ ورک کو توڑ کر ان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ، جاہلانہ اور تباہ کن استعمال کا ظلم دیکھیے کہ کہا جاتا ہے یہ سب کچھ فوج نے خود کروایا۔ اب اس طرح کے مزاج سے عوام کے ذہنوں میں گھولے گئے زہر کا اندازہ لگا لیجیے کہ یہ کتنا خطرناک ہے اور ان کے ہم مزاج لوگ اس پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔

کیمرے کی آنکھ نے جو شواہد اکٹھے کئے ہوئے ہیں وہ تو جھوٹ نہیں بولتے۔ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی وڈیوز وائرل کرتے رہے ان کے اپنے اکاؤنٹس کا ریکارڈ اور ان کے سیاسی الحاق کے شواہد موجود ہیں جن میں کوئی بھی نامعلوم نہیں بلکہ درجہ اول کی قیادت کی رہنمائی میں کارواں رواں دواں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پھرسادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنے جرموں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ مظاہرین ٹریپ ہو گئے تھے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو کس نے ٹریپ کیا؟ ان کے ٹریپ ہونے کا سبب کیا بنا؟ ان کی قیادت کس نے کی؟ ان کو یہ سوچ کسی نے دی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جو بھی جواب تلاش کرے گا اس کو حقائق معلوم ہو جائیں گے۔

کچھ سیاسی جماعتیں محض جھوٹے بیانیے سے عوامی نفسیات کو ٹارگٹ کر کے مظلومیت کی ہمدردیوں سے عوامی سوچوں کو یرغمال بنانا اپنی کامیاب سیاسی حکمت عملی سمجھتی ہیں جس کا شکار ہو کر عوام سوشل خانہ جنگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں. عالمی سیاست میں ایسے ہتھکنڈوں سے تیسری دنیا کو بے وقوف بنا کر جغرافیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں جس کی مثال دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو علیحدگی کی تحریکوں کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔

اب اس بیانیے کے غلط ہونے پر کوئی شک نہیں مگر ان سادہ ذہنوں کو کون یقین دلائے اور کون انہیں ملک دشمنوں کے چنگل سے نکال کر آزاد کروائے۔ سوشل میڈیا نے ہماری قوم کو غلام بنایا ہوا ہے جس کا ان کو شعور کے گھمنڈ میں احساس بھی نہیں ہو رہا۔ کئی اینکرز بھی اپنی ریٹنگ کے چکر میں اس جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور مقبولیت کے لئے اس بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے نام نہاد صحافی اور سیاست دان اپنی صحافت اور سیاست کو جن خطوط پر چلا رہے ہیں اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ایسی سوچوں کو پہچاننے کا آسان سا حل ہے کہ دیکھا جائے جب پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو خراب کیا جا رہا ہو یا پاکستانی اداروں پر بے جا الزامات لگائے جا رہے ہوں تو خوشی کا اظہار کون کرتا ہے اور ایسے لوگوں کا تعلق کن سیاسی دھڑوں سے ہے۔ ایسی سوچیں کہیں بھی پائی جا سکتی ہیں۔ ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ مثلاً چند روز قبل ایران کی طرف سے حملہ ہوا تو اس سے ایسی سوچیں بے نقاب ہونے لگیں جن کو پہچاننے کے لئے قوم کو شعور دینے کی ضرورت ہے اور ایسی سوچ و عمل کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچوں کے علاج کے لئے ان کی وجوہات کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ ان کے پیچھے کون سے اندرونی و بیرونی عوامل کارفرما ہیں۔

ایسی سوچوں سے سادہ لوح عوام تو اپنی سادگی کے باعث یرغمال بنے ہی ہیں مگر جو اس کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئے وہ ایسا طبقہ ہے جس کو ریاست کے وسائل سے آسودہ اور خوشحال زندگی میسر تھی جن کا مسئلہ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری تھا ہی نہیں بلکہ وہ ایسے ماحول کی پیداوار تھے جن کا اس ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی جہاں ہی اور ہے۔ ان کی سوچیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے مزید وسائل کی تاک میں ذہنی محرومیوں کا شکار تھیں اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر وسائل پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ان میں غلط معلومات کی شکار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جنہیں پاکستان کے حالات بارے معلومات تک رسائی میڈیا کے ذریعے سے ہوتی رہی ہے۔

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ریاست اور عوام کی سوچوں میں یکسوئی لانے کے لئے ریاستی وسائل سے مہیا تنخواہوں، وظائف اور مراعات میں امتیازی سلوک کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سب کو ایک جیسے مسائل سے واسطہ پڑے اور ان کو معلوم ہو کہ ایک عام آدمی کی زندگی کیسی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ان کو عام آدمی جیسی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔

اس مزاج کو بدلنے کے لئے قوم کو ان بنیادی سنہری اصولوں سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے جن سے ان کو یہ ادراک ہو کہ کبھی بد اخلاقی کو شعور، کارکردگی سے خالی نعروں کے حامل کو نجات دہندہ اور قول و فعل میں تضاد رکھنے والے کو صادق و امین نہیں کہا جا سکتا۔

سیاست دانوں کو اگر اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے تو پھر ان کو اپنے رویوں سے اس کا ثبوت دینا ہو گا اور اپنا قبلہ درست کر کے پختہ اور سنجیدہ سیاست کی سمت بڑھنا ہو گا۔

اس میں قصور سوشل میڈیا کا نہیں بلکہ ان کا ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال سے ایسی سوچوں کو اس طرف موڑا اور شعور کے نام پر جہالت کو رواج دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا محاذ کھولا جس نے پاکستان کو ایک سرد جنگ کی طرف دھکیل دیا جو انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ قصور ہمارا بحثیت قوم بھی ہے جن کے شعور کی بنیاد قومیت نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے، جس کی بنیاد عقل و دانش نہیں بلکہ مسحور کن سبز باغات ہیں جن کا حقائق سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں، کردار و کارکردگی نہیں بلکہ دھوکے پر مبنی وعدے اور دعوے ہیں جن کی ماضی سے کوئی مطابقت ہی نہیں۔ ہم نے سوشل میڈیا سے دھوکہ کھانے کی راہ کا انتخاب خود کیا۔ ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ ہمیں معلومات دینے والے کی تعلیم، تجربہ یا معلومات کا ذریعہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہماری ذہنی صلاحیتوں کا وہ معیار ہی نہیں تھا جو مثبت تبدیلی کا موجب بنتا۔ اس میں کچھ کردار ہماری تعلیم و تربیت کی بنیاد پر وجود پانے والے مزاج کا بھی ہے جن کو اپنے ہم خیال مزاج کی طرف کشش محسوس ہوئی۔ اس میں دوسری جماعتوں سے مایوسی بھی ہو سکتی ہے اور کچھ نفسیاتی مسائل بھی ہیں جو ان کی محرومی کا سبب بنے ہوئے تھے اور ان کو جیسے ہی اپنی ہم مزاج سوچ ملی تو وہ کھنچے چلے گئے۔

اس کا حل اب انتہائی محتاط مگر پائیدار خطوط پر ڈھونڈنے کی ضرورت ہے اور اسے ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مہارتوں سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کو سوشل میڈیا کے محاذ پر ہی لڑنا ہوگا۔ قوانین اور اختیارات کے استعمال کے ساتھ ساتھ جھوٹ، تشدد اور فسادات کے سوچ و عمل کو بے نقاب کر کے معصوم ذہنوں میں بنائے گئے خاکے کے بناوٹی رنگوں کو مٹا کر ان میں نئے رنگوں کو بھر کر حقیقی نقوش ابھارنا ہوں گے جس کے لئے عقل و دانش اور عوامی نفسیات کے مطالعے کا سہارا لینے کی ضرورت ہو گی۔

وہ لوگ جو ان حقائق کو سمجھتے ہیں ان کو ریاست اور ریاست کے اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔ اس وقت ان کی سربراہی ذمہ دار اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ان کے لئے معاملات کو سنبھالنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن وقت درکار ہے۔ ماضی میں وہ غلط سوچوں کے زیر سایہ تھے اور قومی صلاحیتوں کا استعمال غلط ہوتا رہا لیکن اب بہتر کارکردگی حالات کے بارے مثبت اشارے دی رہی ہے۔

ہفتہ، 6 جنوری، 2024

جمہوری نظام کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے چلایا جائے

انتخابات کے انعقاد اور ملتوی کروانے کے دونوں بیانیے زور و شور سے جاری ہیں اور انعقاد بھی غیر شفافیت اور جانبداری کے خدشات کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ کوئی موسمی سردی اور امن عامہ کو بنیاد بنا کر ملتوی کروانا چاہتا ہے تو کوئی اس کے انعقاد سے متعلق انتظامی بد عنوانیوں کے خدشات کے پیش نظر اس سے راہ فرار تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔

ہمارے سیاسی حلقوں نے اپنے اعمال سے ایسا تاثر پیدا کر دیا ہوا ہے کہ گویا جمہوری نظام اس ملک میں ناکام ہوچکا ہے جب بھی جمہوریت سُکھ کا سانس لیتی ہے تو کوئی نہ کوئی جمہوری غدار اس پر شب خون مروا کر اسے کبھی ہائبرڈ مین کے ہاتھوں یرغمال بنوا دیتا ہے تو کبھی یہ مفاہمتی ہتھکنڈوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پھر ہمارے سیاسی پنڈت اپنے فرمودات جاری کرنے لگتے ہیں کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا۔ جو انتہائی قابل افسوس اور باعثت شرم موقف ہے۔ جب کسی کے مد مقابل کھڑے ہوں تو یہ جواز نہیں پیش کیا جاسکتا کہ مجھے جیتنے نہیں دیا جارہا بلکہ اپنی طاقت، جرات اور حکمت عملی سے دنگل جیتے جاتے ہیں۔ ماحول تو ہلا شیری یا ہار جیت کا اعلان ہی کر سکتا ہے۔ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لئے کبھی نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی اپنی بے بسیوں پر ہمدردیوں کی بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب تو ہوا کہ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ نہ ان کو کوئی کام کرنے دے گا اور نہ یہ پارلیمانی نظام کامیاب ہوگا۔

جب آئین و قانون ان کو نظام کے اندر بالا دستی دیتا ہے تو پھر اپنے ان حقوق اور منصب کو انہوں نے اپنی جرات اور حکمت سے ہی منوانا اور حاصل کرنا ہے جس کے لئے جذبے، دلیری اور قربانیوں اور سب سے بڑھ کر ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر سیاست کو کاروبار یا اختیارات کے حصول کو اپنی اجارہ داری کا مقصد بنا لیا جائے تو پھر ایسی سیاست کبھی بالادستی کی ضامن نہیں بن سکتی۔ وہ بھی ریاست کے وسائل اور اختیارات کے بلبوتے پر ذاتی مفادات کی خاطر سب کچھ کرتے ہیں اور تم بھی اگر آزادی ملے تو ان سے کم نہیں۔

اس کے نتائج کو اکثر متازع بنا کر پارلیمان کو عوامی امنگوں کے مطابق قومی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں جس نے سیاسی عمل میں بد اعتمادی پیدا کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاستدانوں کی ان کمزوریوں کے تحت پارلیمان کے اجلاس بھی انٹیلی جنس کی مدد سے چلائے جاتے رہے ہیں اور جب کہیں ان کی خواہشات کے بر عکس پارلیمان نے چلنے کی کوشش کی ہے تو آمریت کے ہاتھوں نظام ہی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

آج تیسری دفعہ پارلیمان کے ایوان بالا میں الیکشن کے التوا کے لئے قرارداد جمع کروائی گئی ہے اسے اگر جمہوری کہنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس میں دانشمندی یا سیاسی شعور کی موجودگی کا اعتراف بھی نا ممکن ہے۔ اور اس پر جو تبصرے ہورہے ہیں وہ بھی ربوٹک جمہوریت سے کم تو نہیں۔ جب اجلاسوں کے احکامات اور ایجنڈے کہیں اور سے آنے ہیں تو پھر یہ کام تو ربوٹک پارلیمان بہتر طریقے سے ادا کر لے گی۔

 اسے اگر آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے مزین کرکے آئین و قانون اور اگلے پانچ یا دس سالوں کے ترقیاتی منصوبے دے دیئے جائیں گے تو ان نام نہاد ربوٹس سے تو وہ حقیقی ربوٹک پارلیمان بہترین وژن دینے کے قابل ہوگی۔

تو ایسے حالات میں جب قوم اس کے انعقاد پر تذبذب کا شکار ہے تو کیوں نہ انتخابات کو سیاستدانوں کے درمیان کسی جمہوری معاہدے تک ملتوی کرکے ربوٹک پارلیمان بنا دی جائے اور غیر جانبدار اور غیر متنازع اچھی شہرت اور کردار کی حامل شخصیات پر مبنی ایک کونسل بنا دی جائے جو عوامی رائے اور امنگوں کی پاسداری کے لئے ان سے براہ راست حاصل کردہ تجاویز کی روشنی میں ربوٹک پارلیمان کو سفارشات پیش کرتی رہے۔ جس سے قوم کے 25 ارب کے لگ بھگ اخراجات بھی بچیں گے اور نظام بھی محفوظ رہے گا۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ نہ روز انتخابات ہوں اور نہ روز روز پارلیمان آمریت کے ہاتھوں یرغمال ہوکر سیاست اور جمہوریت کے لئے رسوائی کا موجب بنے۔ ان کی بانسری نے پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر دیا ہے۔

ویسے بھی اگر دیکھیں تو ماضی کی پارلیمان میں اکثریتی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض پارلیمان کا حصہ ہوتے ہیں ان کی قانون سازی میں کارکردگی برائے نام ہوتی ہے۔  قوانیں پر عملدرآمد کا کوئی حل نہیں ڈھونڈھ پاتیں اور پھر جو قوانیں بناتی بھی ہیں ان میں تضادات اور ان سے ابھرنے والے سیاسی مسائل ہی اتنے ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ عوامی مقدمات پر توجہ دینے کی بجائے قوانین کی تشریحات پر لگی رہتی ہے۔ اب انتخابات کو وہ زبردستی کروانے کی ٹھان کر بیٹھے ہیں تو 8 فروری تک پاکستان کی ساری عدالتیں انتخابات کے بارے مقدمہ بازی کو ہی نمٹائیں گی اور اس سے کوئی خوش بھی نہیں ہے۔ باقی آمدن اور اخراجات کے ہندسوں کی جمع تفریق ہی ہے جس کو ربوٹک پارلیمان بغیر کسی غلطی کے خدشے کے احسن طریقے سے سر انجام دے لے گی۔ اور قراردادوں کے زریعے سے اگر عدلیہ اور دوسرے اداروں سے اپنے اختیارات کی بھیک ہی مانگنی ہے تو اس کی ربوٹک پارلیمان نوبت ہی نہیں آنے دے گی جب اس کو آئین و قانون اوراگلے پانچ سالوں کے منصوبوں بارے ڈیٹا دے دیا جائے گا تو غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومتی مشینری کو پورا شیڈیول دے دے گا اور اگر کوئی اس شیڈیول کے مطابق نہیں چلتا تو اس پر جرمانہ بھی عائد کر دے گا۔ اس پر عملدرآمد ویسے بھی حکومتی مشینری کے موڈ پر منحصر ہوتا ہے۔

ہاں اگر سیاستدانوں کو عہدوں کا حوس ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ وزیر اعظم کے لئے سادہ اکثریت سے 172 ارب دو تہائی کے لئے 228 ارب کی قیمت رکھ دی جائے اور قومی  وزارتوں کی قیمت سات سات ارب اور صوبائی کی پانچ پانچ ارب رکھ دی جائے۔ ایسے ہی صوبائی اسمبلیوں کی بھی اعداد کے مطابق قیمت متعین کی جاسکتی ہے۔ جو بھی علامتی طور پر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا وزیر بننا چاہے وہ رقم خزانے میں جمع کروا کے ربوٹک پارلیمان کو ثبوت جمع کروا دے اور اگر کوئی دوران عرصہ اسمبلی عدم اعتماد کے زریعے سے عہدہ حاصل کرنا چاہے تو پہلے والے کی ادا کی گئی رقم کو لوٹا کر اس کے برابر خزانے میں جمع کروا کر عہدہ حاصل کر سکتا ہے۔

 جب ایک ایک ممبر مبینہ طور پر ایک ایک ارب تک کے لگ بھگ اپنے حلقوں میں خرچ کرسکتا ہے تو پھر وہ اس عہدے کے لئے خزانے میں رقم کیوں نہیں جمع کروا سکتا۔ اسی طرح پارلیمان کے ایوان بالا کے لئے تو پہلے بھی یہی فارمولے چلتے ہیں جو مختلف لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں اس ربوٹک نظام کے زریعے سے وہ خزانے میں آئیں گے۔ صوبوں کے حساب سے جتنی سیٹیں ہیں ان کی بولی کروا لی جائے اور زیادہ آفر دینے والوں کو ممبران چن لیا جائے۔

انتخابات سے لے کر وزیر اعظم اور سینٹ کے انتخاب اور بعد کے سارے معاملات جب پہلے سے ہی مالی بے ضابطگیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں تو کیوں نہ ان کو مالی ضابطوں کے ماتحت لا کر عوامی فلاح کا زریعہ بنا دیا جائے۔ جو ماضی میں عوام کے نام پر مالی اداروں سے قرضے لے کر عیاشی کرتے رہے ہیں وہ اگر شوق سیاست و حکومت اور اختیارات و اجارہ داری رکھتے ہیں تو پھر اپنی جیب سے ملکی قرضوں کو ادا کریں اور عہدوں کے مزے لیں۔

حد ہوگئی ہے، ہماری ان زاتی مفادات اور خواہشات کے گرد گھومتی سوچوں نے پارلیمان، سیاست، جمہوریت اور حتیٰ کہ ملک و قوم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہماری اخلاقات کا یہ حال ہے کہ اس سے انسانیت بھی شرمندہ دکھائی دیتی ہے۔ ہم مسائل کو حل کرنے کی بجائے مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں اور مرغوں کی طرح ایک دوسرے کو لہولہان کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارے اندر مہذب معاشروں والی کوئی خصلت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تو اس سے بہتر نہیں کہ نظام کو خود کار کر دیا جائے وہ دنیا کے بہتریں نظاموں اور بہتری کے اصولوں کو اٹھا کر لاگو کرتا رہے گا۔ اسی طرح اداروں میں بھی جہاں جہاں بے ضابطگیاں ہیں وہاں بھی ربوٹک نگران مقرر کر دئے جائیں جو آئین و قانون کے مطابق حکم صادر کرتے رہیں۔ کم از کم انسانیت کی تذلیل تو نہ ہو۔ دور جدید کی انسان کی بنائی ہوئی مشینری انسان سے زیادہ فعال، وفادار اور ایماندار ہوگئی ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور انسانوں کو سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاقیات، وفاداری اور ایمانداری کے حصول تک اپنی اصلاح کے لئے فارغ چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان کو پہلی ربوٹک پارلمینٹ ہونے کا عالمی اعزاز بھی مل جائے گا۔

آئین میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں لیکن انتخابات کو ملتوی کروانے کا آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے جو ہر آئے دن کوئی نہ کوئی نئی منطق کے ساتھ وارد ہو جاتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر جمہوریت لانے کے لئے تیار نہیں اور جو انٹرا پارٹی انتخابات کرواتی بھی ہیں تو اپنے بنائے ہوئی پارٹی آئین کا بھی خیال نہیں رکھ پاتیں اور آئینی اداروں کے اختیارات اور ان کی خود مختار حیثیت کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں دکھائی دیتے۔ ہر معاملہ خاص بندوبست سے چلانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں انتخابات عوامی خدمت کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کی حصول کے لئے کروانا چاہتی ہیں۔ نہ کوئی سیاسی اصولوں کی پاسداری ہے اور نہ کوئی جمہوری اقدار کی۔ 

جمعہ، 5 جنوری، 2024

سوشل میڈیا نے سیاست کو تفرقہ بازی اور جمہوریت کو انتشار پسندی کا شکار کر دیا ہے

صحافت، حق آزادی اظہار رائے کی تقدیس اور زرائع ابلاغ کے صحیح استعمال میں توازن بہت اہم ہوتا ہے تاکہ اس سے انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے صحافت کی خدمات کو محفوظ اور موثر بنایا جاسکے۔

پاکستان کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی بگاڑ کی کئی دوسری وجوہات میں ایک  بڑی وجہ عوام کو صحیح معلومات تک رسائی کا نہ ہونا بھی ہے۔ چونکہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے اس لئے عوام کے حقائق کو جان لینے تک ان کی رائے کے صحیح نتائج کی امید نہیں لگائی جاسکتی۔ جمہوریت سے مستفید ہونے کے لئے سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ضروری ہوتے ہیں جنہیں یہ جھوٹ کی سیاست اور صحافت تباہ کرتی جا رہی ہے۔

ان کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کئے گئے فیصلوں نے ہماری سیاسی، معاشی اور اخلاقی اساس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جھوٹ بولنے میں سبقت کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اکثریتی مسلمان آبادی والی ریاست میں اسلام کے سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل جھوٹ کی بھرمار انتہائی قابل افسوس ہے جو ہماری عمومی معاشرت کی بھی عکاس ہے۔ اس کا اندازہ آپ کسی بھی وڈیو کی تھمب نیل سے لگا سکتے ہیں جس کا وڈیو کانٹینٹ سے کوئی خاص تعلق ہی نہیں ہوتا، باہر کچھ لکھا ہوتا ہے اور اندر خبر کچھ اور ہوتی ہے۔ جو ہماری قومی نفسیات کی صوتحال کا پتا دے رہے ہیں جو یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جب تک مصالہ نہیں لگایا جائے گا سودا نہیں بکے گا۔ ایسے ہی جھوٹوں کی بنیاد پر مہیا کی جانے والی معلومات نے ہماری سادہ لوح عوام اور خاص کر نوجوانوں کے ذہنوں اور سوچوں کو اس قدر خراب کر دیا ہے کہ کوئی امن کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ قوم اب ان مداریوں کے تماشوں کی عادی ہوچکی ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

اس جھوٹ کے پرچار میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ کسی نے اپنی سوچ اور صلاحیت کے مطابق اٹھانا ہوتا ہے۔ اور ہماری قوم صلاحیت ہی اتنی تھی۔ سادہ لوح عوام کو اس تک رسائی تو حاصل ہوئی مگر چونکہ ان کے اندر سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے طریقہ واردات  کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ نہیں تھی اس لئے اس نے "گنجے کو اللہ ناخن نہ دے" سے مصداق صورتحال پیدا کردی ہے جس سے عوام اپنی تباہی کا خود ہی سامان پیدا کرنے لگے ہیں۔  کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ معلومات دینے والے کی تعلیم ، تجربہ یا معلومات کا زریعہ کیا ہے۔ سادہ لوح عوام سوشل میڈیا کو سیاسی صحیفے کا درجہ دینے لگے ہیں۔ اس میں عوام کا بھی اتنا قصور نہیں اصل ذمہ دار تو وہ ہیں جو اپنے سیاسی و مالی مفادات کی خاطر اپنی اخلاقی، پیشہ ورانہ، آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں جنہوں نے عوام کی سوچوں کو ایک خاص سمت دے کر یقین کی حد تک پختہ کر دیا ہے جو اب ان کے سچ جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔

سیاست میں اس کا آغاز 2013-14 میں ہوا اور منصوبہ بندی کے تحت ایک سیاسی ہوا چلانے کے لئے دن رات تگ و دو کی گئی جس میں سرمایہ کاری سے لے کر اداروں کی ہدایات تک کی کوششیں شامل حال تھیں اور محض الزامات کی بنیاد پر اخلاق سے گرے ہوئے بیانیے کو چلایا گیا جس کا مقصد ایک خاص سیاسی جماعت کو نجات دہندہ بنا کر پیش کرنا تھا اور اسی منصوبہ بندی کا بیانیہ صادق و امین کے القابات سے شروع ہوا اور اب سازشوں کے بے نقاب ہوجانے کے بعد ان کی پردہ پوشی کے لئے معصومیت کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ صادق و امین کہنے والوں نے تو بعد میں اپنے الفاظ کو اسی ایک مقدمے تک محدود کرنے کی وضاحت جاری کر دی تھی مگر اس نئے فلسفہ معصومیت کی وضاحت کب آتی ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اندازہ لگا لیجئے کہ سوشل میڈیا کے اثرات کتنے گہرے ہوتے ہیں جو اب ایک ضد اور جنوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور اداروں میں اہم عہدوں پر بیٹھی شخصیات بھی اس کا شکار ہوچکی ہیں۔ جس کی مثال ماضی میں کئے گئے عدالتی فیصلوں سے بھی لگائی جاسکتی ہے۔

اُس وقت پاکستان میں اِس طرح کا ٹرینڈ پہلے سے موجود نہیں تھا اس لئے یہ خلاء پر کرنے کا تحریک انصاف کو موقع مل گیا اور سوشل میڈیا کے طریقہ واردات سے انہوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ابھی بھی کوئی دوسری جماعت ان کا اس میدان میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ در اصل اب دس سالوں سے جھوٹ بولنے والوں کے لئے اپنے کرتوت چھپانا اور ویورشپ انکی مجبوری بن چکی ہے۔

اور اب یہ آگ ہر طرف پھیل چکی ہے جس نے سیاست کو تفرقہ بازی اور جمہوریت کو انتشار پسندی کا شکار کر دیا ہے اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ اس میں ملوث کرداروں کی  نجی زندگی سے لے کر اب تو مالی بدعنوانی تک کے الزامات اور ان پر سزائیں بھی سنا دی گئی ہیں جن کی بنیاد پر نااہلی بھی ہوچکی ہے مگر ضد اور جنون اس سے اپنی سوچ کو بدلنے کی بجائے ان کی صفائی کے حربوں میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔

اور دوسری طرف بدعنوانی کے جھوٹے الزامات پر عدالتی مخبریوں اور فیصلوں میں بریت کے باوجود اس کو ماضی کے حالات پر استدلال کرکے سہولت کاریوں کا نام دیا جارہا ہے۔ یہ سب سوشل میڈیا کا کمال ہے۔ ان دس سالوں میں تقریباً نوے فیصد مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا اس خاص منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں لگا ہوا تھا اور انہوں نے دوسری جماعتوں سے بخل رکھنے والوں کو شکار بنایا اور اب تو سارا منصوبہ بے نقاب ہوچکا ہے اور اس کے معمار اعتراف بھی کر چکے ہیں مگر اس کے باوجود سوشل میڈیا کا بھونچال تاثرات کوصحیح سمت کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اس جھوٹ کی بنیاد پر دی گئی معلومات کو شعور کا نام دیا گیا جس نے ہماری سیاست کو ہی نہیں بلکہ ہماری معیشت اور معاشرت کو بھی تباہ کر دیا ہے اور اس شعور کے نام پر بد اخلاقی کے تعلیمات نے مکالمہ، دلیل اور برداشت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ حالات چیخ چیخ کر الارمنگ دے رہے ہیں مگر جھوٹ کی پیداوار جنوں کسی کوسننے اور حقائق کو جاننے کے لئے تیار ہی نہیں۔

ریاست کو اس حساس معاملے پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے اوراس سے جان چھڑوانے کے لئے سب سے پہلے ان جھوٹ کی فیکٹریوں کو بند کرکے یا ان کو بے نقاب کرکے عوام کو صحیح معلومات تک رسائی کا کوئی میکنزم بنایا جائے تاکہ سادہ لوح عوام کی سوچوں کو درست سمت دی جاسکے جس سے وہ جھوٹ کی بجائے کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر اپنے نمائندوں کا چناؤ کرنے کے قابل ہوسکیں تب ہی جمہوریت کے ثمرات سے صحیح معنوں میں مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ تب ہی شفافیت اور غیر جانبداری سے کرائے گئے انتخابات سے مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس جنون کے نزدیک ماضی کے احسانات والے ماحول کی شفافیت اور غیر جانبداری کی جو تعریف ہے وہ اقتدار سے کم کسی بھی صورت پر مطمئن اور امن سے بیٹھنے والا نہیں وگرنہ اپریل 2022 کے بعد سے لے کر 9 مئی 2023 تک کے سیاسی عدم استحکام کے حالات دیکھنے کو نہ ملتے۔ جو اس بات کی دلیل ہیں کہ انتخابات جتنے بھی شفاف اور غیر جانبدار کروا لئے جائیں جھوٹ پر مبنی سیاست اس کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گی جب تک ان کو مطلوبہ نتائج نہیں مل جاتے۔ زمینی حالات خواہ سنبھال بھی لئے جائیں مگر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

لہذا اس جھوٹ کے پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات کے سلسلے کو روکنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ اس جھوٹ کی سیاست اور صحافت میں ملوث عناصر کو عدالتوں سے جھوٹا ڈکلئر کروا کر ان کی لسٹیں شائع کی جائیں اور ریاست ان کواپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کا پابند بنائے جس سے ان کی اصلاح کا کوئی پہلو نکل سکے اور اس سے صحافت اور آزدی اظہار رائے کے حق کا صحیح استعمال بھی یقینی بنایا جاسکے۔ میڈیا اور صحافی برادری کو بھی اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور وہ ایسے گندے عناصر کی جوابدہی کا کوئی میکنزم بنائے کیونکہ اس سے ملک و قوم کے نقصان کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کی خرابی کا بھی سبب بن رہی ہے کیونکہ یہ بہروپیے ان کی شناخت کے پیچھے چھپ کر سب کچھ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیا ہاؤسز کی رجسٹریشن میں اچھی شہرت کی پیشہ وارانہ شخصیات کی شرط لاگو کرنے اور ان کو ضابطہ اخلاق کا سختی سے پابند بنانا بھی ضروری ہے۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین