سوچ کی غذا

‏justice لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏justice لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 2 فروری، 2026

حکومتی سطح پر کی جانے والی عوام سے آئینی و قانونی نا انصافیاں


 پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کے  ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو عوام کی نمائیندہ حکومتوں
    نے باقاعدہ ترامیم کے زریعے سے نافذ کی ہوئی ہیں جس کی کئی مثآلیں ہیں جس میں سے ایک  ٹیکس کے نطام  سے لی جا سکتی ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بنتی ہیں بلکہ معاشرے کے اندر رائج رسم و رواج کے پیمانوں پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔

مثلاً اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر اپنا کوئی مکان بنانے کے لئے زمیں خریدنا چاہتا ہو تو اس کو کئی ایسے ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے نہ جمع کروانے والوں پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ دہائیوں پر محیط محنت مزدوری سے حاصل کردہ آمدن جس پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا سے خرید رہا ہو۔ بھلے وہ پُشتوں سے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اس کی  آمدن ٹیکس کی ادائیگی کے زمرے میں نہ آتی تھی اس لئے وہ نان فائلر ہی رہا مگر اب اس کو فائلر نہ بننے کی وجہ سے خواہ مخواہ کے  ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے۔ حالانکہ یہ قانون آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکز کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہا ہے؟


جمعہ، 19 دسمبر، 2025

طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔

وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔ 

انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔

 انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ  اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی  نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔ 

انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو

درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔  اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔ 

اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔ 

اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 

جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔

ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے

لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔

جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔

کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔

عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو  جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ 

نا اہلی  اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟ 

سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔ 

ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔ 

شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی  اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔ 

مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر  بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں  انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔

لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔

یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔    

مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔



ہفتہ، 15 نومبر، 2025

بشریٰ بی بی بارے عالمی جریدے میں چھپنے والی رپورٹ کی تحقیقات کروائی جانی چاہیں

 میں سمجھتا ہوں کہ اتنے معتبر بین الاقوامی جریدے میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد وزراء کو سیاسی مخالفت کی بنا پر طعنہ زنی کی بجائے اسے سنجیدہ لیتے ہوئے حکومتی سطح پر تحقیقات کی ہدایات جاری کرنی چاہیں۔ یہ بانی پی ٹی آئی کا معاملہ تو ہوگا ہی مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم اور ایک ایٹمی طاقت کی حامل ریاست اور اسکے اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں جن میں ریاست کا وزیر اعظم حساس ادارے  کے اہلکاروں کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا ہے اور چند افراد اپنی خواہشات کے تحت ریاستی امور پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں گویا ریاست کی سربراہی  ماہرین کی بجائے جادو ٹونے کے تحت چلائی جاتی رہی ہے۔

اس دوران پاکستان کے سفارتی سطح پر تعلقات سے لے کر بیرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو ٹھپ کرنے تک کے فیصلے ہوتے رہے اور ملکی معیشت کا ستیا ناس ہونے کے علاوہ بیرونی قرضوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا جو انتہائی تحقیق طلب معاملہ ہے۔ 

اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس کو من گھڑت بیان قرار دیتے ہوئے جریدے کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے جو ان کا بنیادی حق ہےلیکن اس معاملے کو فقط ان پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ اگر ان کو کسی طرح کی مدد بھی چاہیے تو حکومت کو مہیا کرنی چاہیے۔

اعتقاد اور نظریات اپنی جگہ مگر ان کے ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور وہ بھی ایک سراسر دھوکہ دہی اور جانتے بوجھتے ہوئے ایک ریا ست کے سربراہ کو دھوکے میں رکھ کر فیصلوں پر اثر انداز ہونا تو انتہائی سنگین جرم ہے اور پھر وزیراعظم ایک ریاست کا سربراہ ہوتا ہے لہذا اس میں اس قدر بھی سادگی نہیں ہونی چاہیے کہ ان کو اتنی جلدی سے بے وقوف بنا لیا جائے اور وہ من گھڑت کہانیوں  جن کی بنیاد جادو ٹونے پر ہو کو اس قدر ترجیح دیتا پھرے۔ 

لہذا اس بارے پہلے تو ریاست کو خفیہ طور پر تحقیقات کروانی چاہیں اگر تو یہ محض الزامات ہیں تو پھر کسی کی عائلی زندگی اور شہرت کو اچھالنے کی کسی کو  اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف ایک سیاسی جماعت کی قیادت اور کارکنان کو ذہنی اذیت پہنچے گی بلکہ  پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ 

لیکن اگر یہ سب کچھ سچ ثابت ہوتا ہے تو پھر حکومت کو اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کو عمل میں لانا چاہیے اور مستقبل میں کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے کہ ریاست کے فیصلوں  کی بنیاد اس قدر غفلت کی شکار نہ ہو پائے اور نہ ہی کبھی ریاست کے حساس ادارے کے اس طرح کے جرائم میں ملوث پائے جانے کا تاثر ابھر سکے۔ اس  سے نہ صرف اداروں کی ساکھ  خراب ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملکی تشخص بھی تباہ ہوتا ہے۔ 

تحقیقات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ اگر ان سنگین جرائم کی وجہ سے ملک کو مالی نقصان پہنچا ہو تو عوام کو اس بارے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے فیصلے دانشن مندانہ سوچ کے تحت کرنے کے قابل ہو سکیں اور ریاست کی غیر شعوری مقبولیت سے جان چھوٹے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا تاثر ابھرے

ہفتہ، 1 فروری، 2025

انتظامی امور کے دفاتر کو ڈیجٹیلائز کرکے عوامی خدمت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

نظام کی خرابی کے محض تذکرے کرنے  سے کچھ نہیں ہوتا اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسےفعال کرنا پڑتا ہے۔ نظام بذات خود کچھ نہیں کر سکتا اس کی بہتری کے لئے کوئی نگرانی کا عمل ضروری ہوتا ہے تاکہ نظام کو چلانے والوں کے اندر جوابدہی کے احساس کو اجاگر کر کے انکو ذمہ دار بنایا جاسکے۔ اور جو بات دلچسپ، قابل غور اور خوش فہم ہے وہ یہ کہ اس کے لئے کہیں بھی اضافی اخراجات اٹھانے کی ضرورت نہیں بلکہ تمام تر وسائل پہلے سے موجود ہیں اور ضرورت صرف قائدانہ صلاحیت سے ان کو استعمال کرنے کی ہے۔

سب سے زیادہ ضروری انتظامی امور کی نگرانی ہے تاکہ بادشاہت کے تاثر کو ختم کر کے دوستانہ ماحول پیدا کیا جا سکے جب عوام کو سہولیات میسر ہونگی تو انکے اندر ریاست، اس کے اداروں اور املاک کے ساتھ اپنائیت کااحساس پیدا ہو گا۔ اس کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں آسان حل یہ ہے کہ حکومت ڈیجیٹل پورٹل بنائےجس پراعلیٰ سطح سے لے کر نچلی سطح تک تمام انتظامی دفاترکی  نگرانی کا لائحہ عمل لاگوہو جس کے اندر کیمرے نصب کر کے براہ راست نشر کرنے کا انتظام کیا جائے۔اوراس   کا آغاز  وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور قومی و صوبائی وزراء اپنی ذات سے کریں تاکہ بیوروکریسی کو ایک اچھی مثال ملے۔

صوبوں کے اندر اضلاع کی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسران کے دفاتر پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے وہاں اگر بہتری آ گئی تو سمجھیں نوے فیصد مسئلہ حل ہوگیا۔ انہیں ہدایات جاری کی جائیں کہ کسی بھی دفتر کے باہر سائل کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ میٹنگز کے لئے علیحدہ کمرے مختص کئے جائیں اور دفتری اوقات میں اگر میٹنگز ضروری ہوں تو عوامی خدمت پر متبادل افسران کی ڈیوٹی لگائی جائے تاکہ عوامی خدمت میں کوئی تعطل نہ ہو۔ ضلعی سطح کے محکموں کے سربراہان کی نگرانی کے لئے  بنیادی سطح تھانے اور پٹواری کے دفتر تک پورا نظام ہونا چاہیے جس کو پورٹل کے اندر سیکشن بنا کر ترتیب دیا جائے تاکہ  کہیں سے بھی کسی بھی وقت  کسی کو بھی دیکھنے میں دشواری نہ ہو۔

عوامی خدمت کی نگرانی کے اس بندوبست کی ضلعی سطح کی نگرانی کے لئے ڈویژن اور پھر صوبائی سطح پر نظام موجود ہو اور وزراء، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے دفاتر میں سیکرٹریز اور ضلعی سطح کے کیمروں کی نگرانی کا عمل ہو رہا ہو تاکہ نظام کو فعال اور فائدہ مند بنانے میں کوئی کسر نہ رہے۔

 آبادی کے لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے 42 اضلاع ہیں اور 42ڈپٹی کمشنرز پر اس صوبے کے چیف منسٹر کے لئے  براہ راست بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ اسی طرح باقی صوبوں میں بھی خیبر پختونخوا کے 38، بلوچستان 36، سندھ 30، گلگت بلتستان 14، کشمیر 10 اور اسلام آباد کا 1 ضلع ہے جو مجموعی طور پر 171 اضلاع بنتے ہیں۔ کیا اس ملک میں 171 ایماندار، اہل اور قابل لوگ بھی موجود نہیں یا اتنے سے لوگوں کو بھی کنٹرول نہیں کیا جا سکتا؟ کچھ بھی ناممکن نہیں، بس ضرورت ہے اخلاص اور نیت کی۔

میٹنگز بھی آن لائن ہونی چاہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں یہ کوئی مشکل کام نہیں بلکہ آج کل ملک کے تمام دفاتر میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی تمام سہولیات میسر ہیں۔ مرکزی سطح پر تو وزیراعظم پہلے ہی دفتری کام کو سافٹ وئیر پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں تاکہ سٹیشنری کے اخراجات کم کئے جا سکیں۔

اسی سلسلے کو اگر پورے ملک میں بھی لاگو کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف اخرجات کم ہونگے بلکہ وقت اور انسانی وسائل کا بہتر ین استعمال بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے افسران کے دور دراز علاقوں میں چھاپوں کے زریعے سے نگرانی کے بابے آدم کے وقت سے لاگو عمل کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی جو اس ٹیکنالوجی کے دور میں ایک بے معنی ہونے کے علاوہ ملک و قوم کے ساتھ مزاق بنا ہوا ہے بلکہ یہ افسران کے ٹی اے، ڈی اے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کی صورت خواہ مخواہ کا  قومی خزانے پر ایک اضافی بوجھ ہے۔

اس نظام کو فعال بنانے میں مدد کے لئے ہر سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر مددگار مہیا کیا جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ انتظام فعال ہے اور جیسے ہی اس میں کہیں سستی یا کوتاہی دیکھی جائے تو اس کی فوراً تحقیقات کو عمل میں لایا جائے اوراس کے علاوہ آن لائن بھی یہ سہولت مہیا ہونی چاہیے تاکہ عوام کو اگر کہیں پر مشکل پیش آتی ہے تو فوراً اس کی بحالی کے لئے شکائت درج کروا سکیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی کے گھر کی بجلی یا گیس بند ہو تو وہ فوراً شکائت کرتا ہے اور عملہ بحالی کے لئے پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح یہ ان سہولتوں سے بھی زیادہ ضروری ہے مگر ضرورت اس کی حساسیت کو عام کرنے کی ہے۔ جیسے بجلی اور گیس کی اہمیت اور ملکیت کا عوام کے اندر احساس موجود ہے اسی طرز پر خدمت کی ملکیت اور اہمیت کا بھی اجاگر کرنا ہوگا جس کے لئے سوسائٹی کی سطح پر کام کرنے والی رفاعی تنظیموں کی تجاویز اور فیڈ بیک کے حصول کے نظام کو بھی اس اس کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

جب عوامی سطح پر  ریاست اور اس کے معاملات میں دلچسپی پیدا ہوگی تو ان کے اندر ریاست اور اس کی املاک کی ملکیت اور  اہمیت کا احساس  اجاگر ہو کر  ترقی و خوشحالی اور امن کی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کا عملی شوق پیدا ہوگا۔ اس رجحان کو عام کرنے کے لئے سوسائٹی کی سطح پر رضاکارانہ کام کرنے والی تنظیموں کو بھی اس  میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ملک کے اندر پہلے سے ان سماجی تنظیموں کا باقائدہ نظام موجود ہے جس کو صرف فعال بنانے کی ضرورت ہے جو اس نگرانی کے عمل سے خود بخود ہی ہو جائے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان تنظیموں کو ضروت کی مناسبت سے تربیت کر کے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ  بد عنوانی کو روکنے ، ترقیاتی کاموں کی نگرانی اورانتظامی امور کے مشوروں  تک میں ان تربیت یافتہ قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے ترقی اور خدمت کے کام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اس نظام کو حکومتی اور سیاسی تحقیقات کے عمل کے ساتھ بھی مربوط کیا جائے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حاصل معلومات سے مسائل کے خاتمے کے لئے قانون سازی اور اصلاحات کے عمل میں مدد حاصل کی جا سکے۔

بدھ، 29 جنوری، 2025

جھوٹ بولنے والے کی داڑھی میں "پیکا"

پیکا میں ترمیم کیا ہوئی ہے کہ ہر طرف سے چیخنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں جیسے ہر کسی کا دم گھٹنے لگا ہو۔ صحافی تو کیا سیاستدان بھی بول پڑے ہیں۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمن نے بھی صدر آصف علی زرداری سے جلدی میں دستخط نہ کرنے کی گزارش کر دی ہے اور انہوں نے مان بھی لی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ صحافت اور سیاست جھوٹ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ سیاست میں بھی بیانیہ بنانا سیاستدانوں کی مجبوری ہوتی ہے اور جب جھوٹ پکڑا جائے تو کہہ دیتے ہیں "وہ سیاسی بیان تھا" اس سے آپ ہماری سیاست کے معیار کا  بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اور صحافت میں بھی جب تک خبر کو تھوڑے سے پر نہ لگائے جائیں وہ اڑتی نہیں اس لئے جھوٹ نہ بھی ہو تو جھوٹ جیسے گماں کا تاثر تو ہر خبر میں ملتا ہے۔ وڈیوز پر تھنب نیل تو کبھی بھی حقائق پر مبنی نہیں ہوتے کیونکہ جب تک چاشنی نہ ہو سودا بکتا ہی نہیں۔

حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کی سنیٹر شیریں رحمان نے بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ وہ تو سیاستدان بھی ہیں اور ماضی میں صحافت بھی کرتی رہی ہیں اس لئے ان کو کچھ زیادہ ہی اندازہ ہوگا کہ اس طرح کے قوانین کے کیا نتائج نکلا کرتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ نون سے بھی اگر ایک دن کے لئے حکومت لے لی جائے تو شائد ان کی آواز سب سے بلند ہو، اگر ان کو اس بات میں شک ہو توتجربہ کیا جا سکتا ہے۔

شور سے لگتا یوں ہے کہ اس قانون میں کچھ ایسا ہے ضرور جو ہر طرف سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے تو پھر اس پر کچھ توقف اور دوبارہ سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورہ اور ان کی معاونت حاصل کر لینے میں حرج ہی کیا ہے؟ حکومت کی جلد بازی بھی بہت سارے سوال اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

ابھی تو "پیکا" قانون بھی نہیں بنا اور اس کی عملداری کا آغاز دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ ایکٹ تو "چور کی داڑھی میں تنکا" کے مصداق  ایک مثال بن گئی ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جھوٹ بولنے والے ہی سب پریشان ہونگے لیکن یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جس نے جھوٹ بولنا ہی نہ ہو اس کو اپنی داڑھی میں ہاتھ مارنے کی ضروت کیوں پیش آئے گی یا اس کا دم کیوں گھٹنے لگے گا۔ خیر اسے سنجیدہ نہ لیجئے گا مگر جھوٹ کے ماحول کو ضرور سنجیدہ لینا ہو گا۔

کیا جھوٹ صرف خبروں میں ہی بند کرنے کی ضرورت ہے یا ہر سطح پر اس کے سدباب کی ضرورت ہے؟ سیاست یا صحافت میں تو جھوٹ کو کافی حد تک معاشرے کے اندر قبولیت کا درجہ حاصل ہو چکا ہے مگر بدنام زیادہ وکالت ہے۔ لیکن حکومت کی خاموشی بھی جھوٹ سے کم نہیں۔ فیکٹس کو چھپانا بھی جھوٹ کے ضمرے میں آتا ہے۔ کتنے ہی معاملات ہیں جن میں حکومت فیکٹس کو چھپانا چھوڑ دیتی تو شائد ملک و قوم کے حالات ایسے نہ ہوتے۔ ہم عدالت کے بارے تو کچھ کہہ نہیں سکتے مگر توہین عدالت کے خوف سے خاموش ہو جانا جھوٹ نہیں بھی تو سچ کو چھپانا تو تصور ہو سکتا ہے۔ اگر عدالتوں میں انصاف ہو اور کسی پر جھوٹا الزام لگانے پر ہرجانے کے قوانین پر عملدرآمد ہونا شروع ہو جائے تو کوئی کسی کے بارے جھوٹی بات کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حکومت نے اگر کچھ کرنا ہی ہے تو نظام انصاف کو ٹھیک کرے تاکہ جھوٹ اور الزامات کو روکنے کا  ماحول بنایا جا سکے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات اور شفاف انصاف کے بغیر  محض قوانین کسی کام نہیں ہوتے۔

کیا صرف حکومت کے خلاف جھوٹ بولنا ہی قابل گرفت ہے، حکومت کے حق میں بولنے کو استثنیٰ حاصل ہے؟ کیا حکومت کے حق میں جھوٹ بولنے کی بھی گرفت ہوگی؟ اگر ہو گی تو پھر یہ کون کرے گا اس کا اس قانون میں کوئی لائحہ عمل بتایا گیا ہے؟ لگتا یوں ہے کہ اصل معاملہ جھوٹ یا سچ کا نہیں بلکہ قانون کے اطلاق میں جابنداری کے خدشات بارے خوف کا ہے کہ جھوٹ بارے تحقیقات کا معیار کیا ہوگا؟ ماضی میں ایسے قوانین کے اطلاق میں چونکہ  اچھی مثالیں نہیں ملتیں اس لئے تحفظات پائے جار ہے ہیں ۔ پہلے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ 2022  میں پیکا کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور صحافیوں کو جھوٹی خبر کے روکنے کے کسی میکنزم کی ہدایات کی تھیں۔ اس وقت عمران خان کی حکومت  تھی تو اس کو پیکا موافق پڑ رہا تھا اور آج مسلم لیگ نون کی ہے تو اس کو موافق پڑ رہا ہے۔ ایسے قانون جو حکومت ہوتے ہوئے ہی موافق ہوں کی افادیت ،اہمیت اور مقاصد کا اندازہ تو لگایا  ہی جا سکتا ہے۔

جھوٹی خبر سے بھی زیادہ معاملہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کیرجسٹریشن کا ہے جو ناقابل فہم لگتا ہے۔ سوشل میڈیا تو معلومات کو شئیر کرنے یا ان تک رسائی کا ایک زریعہ ہے جس پر جھوٹ کی نشاندہی اور اس کی رپورٹ کرنے کا طریقہ کار بھی پہلے سے موجود ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے ان  کا سدباب ممکن ہے۔ اگرجھوٹی خبریں عام لوگ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنا سکتے ہیں تو کیا حکومت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ان خبروں کی نشاندہی اور رپورٹ کر کے ان کو بند نہیں کروا سکتی اور جس بھی آئی ڈی سے دی گئی ہو اس کو بند بھی تو کروایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی زیادہ تر خبریں ہی فیک نہیں ہوتیں بلکہ ان کو دینے والی آئی ڈی بھی فیک ہوتی ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو حکومت کی پہنچ سے بھی دور ہیں اور سارا غصہ جو پہنچ میں ہیں ان پر نکل جاتا ہے۔

اب رجسٹریش کے عمل میں کئی مسائل ہوتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ تو پاکستان میں حوالوں کا ہے۔ یہاں حوالوں کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتے اور حوالوں کے ساتھ نا جائز بھی نہیں رکتے تو ایسے ماحول میں کسی قانون سے جرائم کے خاتمے کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہی ہو چکا ہوتا۔ کیا بدعنوانی کے لئے قوانین کی کمی ہے یا اس کے سدباب کے لئے ادارے موجود نہیں جو جھوٹ کو روکنے کے لئے اداروں کے قیام اور اتھارٹیز کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس سے اور کچھ ہوا یا نہ ہوا ہماری اخلاقیات بارے دنیا کو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں جھوٹ کو روکنے کے لئے اتھارٹیز کوقیام  میں لایا جا رہا ہے۔

حکومت خبروں کی اشاعت کے متعلق اٹھارٹیز کیوں نہیں بنا دیتی جس کے تحت ہر ادارے، تنظیم یا جماعت کے بارے یہ قانون بنا دیا جائے کہ اس نے اپنی رجسٹریشن کے ساتھ ہی اپنا انفارمیشن کا نظام بھی رجسٹر کروانا ہے  اور وہ براہ راست اتھارٹی کے ویب سائیٹ پر صحیح معلومات کو شئیر کرنے کے پابند ہوں اور میڈیا صرف وہاں سے خبریں لینے کے پابند ہوں اور رپورٹنگ کا نظام ہی ختم ہو جائے۔ اصل مسئلہ خبروں یا جھوٹ کا نہیں بلکہ اصل معاملہ اخلاقیات اور اعتماد کا ہے۔ اگر حکومت کو رپورٹنگ پر اعتماد نہیں تو وہ عوام پر اپنا اعتماد ہی بحال کروالیں تو مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ جہاں اعتماد ختم ہو چکا ہو اور اخلاقیات تباہ ہو چکی ہوں وہاں مسائل قوانین یا اتھارٹیز  کے قیام سے نہیں بلکہ کردار سازی سے  حل ہوتے ہیں۔

منگل، 14 جنوری، 2025

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف

 

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج  حکومتی سطح پر  قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔  حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔  

جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا  نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟

چلیں آپ کو اپنا  ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو  پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب  تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو  اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔  بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔

مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔

بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور  دیکھے۔

جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور  سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو  اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔

جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی  عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست  کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔

ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی  ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔

بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف  مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔

نظام کی اصلاح کی اصل  ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً  کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ،  سیاسی  نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔

مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں  اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے   تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی

کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے

اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو

بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔


(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)

اتوار، 22 ستمبر، 2024

ججز کمیٹی سے متعلق نیا آرڈیننس سپریم کورٹ کے بندوبست کی نئی کوشش ہے

 


حکومت نے سپریم کورٹ کے معاملات کے متعلق آرڈیننس جاری کر کے بظاہر یوں لگتا ہے کہ کسی خاص بندوبست کا انتظام کیا ہے جس میں خاص طور پر پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184(3) کے کیسز کی سماعت کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں چیف جسٹس کے ساتھ دو سنئیرترین ججز شامل کئے گئے تھے جو یہ طے کریں گے کہ کون سا مقدمہ کس بنچ کے سامنے سماعت کے لئے لگایا جائے گا۔ جس کو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے معطل کر دیا تھا اور بعد میں قاضی فائز عیسیٰ کے چیف کے اختیارات سنبھالنے کے بعد اس مقدمے کی براہ راست فل کورٹ بنچ میں سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا کہ پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین کو عدالت ختم نہیں کر سکتی جس پر قاضی فائز عیسیٰ کو بہت سراہا گیا تھا لیکن اب اس کمیٹی میں آرڈینینس کے زریعے سے

دو سنئیر ترین ججز کی بجائے ایک سنئیر ترین جج کے علاوہ تیسرا جج چیف جسٹس کی مرضی کا شامل کیا جائے گا۔ جو پرانے چیف جسٹس کے اختیارات کی ایک جدید قسم کہا جا سکتا ہے کہ اب چیف جسٹس تنہا نہیں بلکہ ایک اپنے ہی ہم خیال جج کی ساتھ رائے کو شامل کر کے مقدمات پر فیصلوں کے بندوبست کی راہ ہموار کرے گا۔

اس آرڈیننس میں کچھ مثبت چیزیں بھی متعارف کروائی گئی ہیں جن میں مقدمات کی سماعت کا ترتیب سے کیا جانا،  184(3)  کے تحت دائر پٹیشنز کا مفادعامہ کے تحت ہونےپر سماعت اس پر اپیل اور سپریم کورٹ کی کاروائی کی سکرپٹ کا تیار کرنا خوش آئیند بات ہیں ان سے یقیناً سپریم کورٹ کے فیصلوں میں شفافیت آئے گی مگر اس میں کمیٹی کے متعلق رکھے گئے جز نے اس آرڈیننس کے پیچھے چھپے کسی خاص مقصد، خوف یا بندوبست کی کوشش کی طرف اشارہ دیا ہے جو یقیناً حکومت کی اخلاقی کمزوری ہے جس میں مبینہ طور پر عدالت عظمیٰ پر چیف جسٹس کے زریعے سے اپنی من مرضی کروانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ہی چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور پارلیمان کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ان پر عدم اعتماد کیا جارہا تھا جس کو اس آرڈنینس سے مزید تقویت ملی ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کے بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کے بندوبست کئے جاتے رہے ہیں اور ہم خیال ججز کا بنچ بنتے ہی فیصلے بارے پشینگوئیاں ہونی شروع ہو جاتی تھیں جو بعد میں سچ بھی ثابت ہوتی تھیں اور یوں سپریم کورٹ کے فیصلے اپنی اہمیت کھو بیٹھے تھے اور اگر پھر سے دوبارہ حکومت 184(3) کے تحت دائر کی گئی پٹیشنز پر مرضی کے بنچز بنوا کر فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی تو اس سے نہ صرف حکومت بلکہ عدلیہ کے متعلق پھر سے منفی تاثر پیدا ہوگا۔

اس صورتحال کے ججز خود بھی ذمہ دار ہیں کیوں کہ ججز کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابسطگی اور فیصلوں میں ان کی طرفداری سے ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے تک جاری رہا اور ایک خاص مقصد کے تحت ججز کی بھرتیاں، تعیناتیاں اور ترقیاں کی جاتی رہیں جس سے سپریم کورٹ کے اندر ہم خیال ججز کے گروپس کی تقسیم اور تفریق کے الزمات لگائے جاتے رہےاور ادارے کے اندر ججز کی آپس میں محازآرائی تک نوبت پہنچ گئی اور اس کی بنیاد کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ججز کے روابط کی وڈیوز بھی لیک ہوئیں اور ان کے بنچز پر اعتراضات اٹھائے جاتے رہے مگر انہوں نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا بلکہ ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ ججز کو حکومتیں بنانے اور ختم کرنے کے لئے آئین کی تشریحات میں تضاد پر مبنی فیصلے جاری کرنے پڑے جو عدلیہ کی تاریخ کا ایک بدترین مذاق بنا اور یوں آخر کار اس مرضی کے پنچز کی تشکیل سے فیصلے حاصل کرنے کے بندوبست کو توڑنے اور شفافیت لانے کے لئے بنچز کی تشکیل کے لئے کمیٹی بنائی گئی جس کو ہر سطح پر سراہا گیا مگر اب اسی کمیٹی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لئے آرڈینینس کا سہارا لیا جا رہا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خرابی کی اصل وجہ آئین، قانون یا پروسیجرز نہیں بلکہ ہماری اخلاقیات ہیں کہ ہم فیصلوں کو آئین و قانون، میرٹ اور شفافیت کے تحت کرنا اور ہوتا ہوا دیکھنا ہی نہیں چاہتے بلکہ ہمیں اپنے مفادات ان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں اور حالات کے مطابق ہمیں اپنے مفادات کی خاطر آئین میں ترامیم کرکے کبھی پروسیجرز کی تبدیلی کے زریعے سے تو کبھی سربراہ کی تبدیلی کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس کو کسی اچھی سوچ کے تحت کسی خاص سوچ یا وابسطگی رکھنے والوں کی طاقت کو کم کرنا بھی نیت ہو تو بھی اس کو پائیدار حل نہیں کہا جا سکتا۔

اس سارے ماجرے کے پیچھے ہماری قومی سطح پر سوچ و تربیت کا کردار تو ہے ہی مگر عدلیہ میں خرابی کی بنیادی وجہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی بھرتیوں کا طریقہ کار بھی ہے جس میں انکی تعلیمی صلاحیتوں اور کردار کو ملحوظ خاطر لانے کی بجائے ان کی سیاسی وابسطگیوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور ایسے ججز بھرتی کئے جاتے ہیں اور پھر ان کی سنیارٹی سے ہٹ کر سپریم کورٹ میں تعیناتی کی جاتی ہے جس کا مقصد ہی اس طرح کے بندوبست ہوتا ہے۔ جن ججز کی سیاسی وابسطگیاں ہوں ان سے غیر جانبدارانہ فیصلوں کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے پھر اس کے نتائج یہی نکلتے ہیں کہ ججز کی گروہ بندیاں ہوتی ہیں اور کوئی عمرانڈو جج کہلاتا ہے تو کوئی ہم خیال اب اس نئے آرڈینینس کے بعد یقیناً ججز کے گروہ کی کوئی نئی اصطلاح متعارف ہوگی اور انصاف اور ادارے کا ایک اور مذاق بنے گی۔

ادارے کی ساکھ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ججز پر آتی ہے انکو تعصب، وابسطگیوں اور جانبداری سے ماورا فیصلے دے کر اپنے ساتھ لگے ہوئے القابات اور اپنے اوپر اٹھائے جانے والے الزامات، خدشات اور سولات کا جواب اپنے فیصلوں کے زریعے سے دے کر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ جب وہ کسی بنچ کا حصہ بن کر مقدمہ سن رہے ہوتے ہیں تو ان کے تعلقات، پسند نا پسند اور طرفداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہی ہو سکتا اور ان کے فیصلے ان کی جگہ بول رہے ہوں۔ جب وہ میرٹ پر بلا خوف و وابسطگی آئین و قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ان سے ان پر لگائے گئے وابسطگی کے الزامات والوں کے خلاف فیصلے کریں گے تو پھر ان کی ایمانداری کی ضمانت ان کے مخالفیں بن جائیں گے اور اگر وہ اپنے تعلق والوں کو اپنے فیصلوں سے خوش کرتے رہیں گے تو پھر کل ان کی غیر جانبداری ایمانداری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کی گواہی ان کے اپنے بھی نہیں دے سکیں گے کیونکہ جب وہ ان سے اپنے فیصلوں کا تھوڑا سا بھی رخ بدلیں گے تو وہ ان کو آڑے ہاتھوں لیں گے اور وہ خود ہی ان کی نا انصافیوں اور جانبداریوں کے ڈھنڈورے پیٹنے لگیں گے اور یہی سب کچھ ہمارے اداروں کے معاملات میں ہوتا رہا ہے جس سے ادارے آج اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں اور اگر ساکھ اندر سے خراب ہوئی ہے تو اسی کی بحالی بھی اندر ہی سے ممکن ہے جس کی واحد شرط اپنے آئینی حلف کی پاسداری ہے۔

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ججز کے خط سے کھلنے والے پنڈورا باکس سے کیا کچھ نکلے گا؟

 

اب یہ جو ججز پر دباؤ کا معاملہ ہے یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے کبھی اسلام آباد میں پولیس اصلاحات سے قبل اسلام آباد ٹریفک پولیس کے منتظمین جناح اور جمہوریت کے نام پر منسوب شاہراہوں کے سنگم میں چوک  جسے ڈی چوک اور انصاف کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور فیصل ایوینو چوک میں کھڑے مال اکٹھا کر رہے ہوتے تھے، ان کی پینٹوں کی جیبیں پھٹ کر نوٹ باہر جھانک رہے ہوتے تھے اور حیرت کی بات ہے کہ یہاں سے پاکستان کی ساری مقتدرہ گزر کر کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر واقع انصاف اور جمہوریت کے نام پر قائم ایوان زیریں و بالا اور انصاف کے ایوانوں میں جاتے تھے جن میں وزیراعظم، صدر پاکستان، چیف جسٹس، چیف آف آرمی سٹاف، پولیس کے محکمے کے سربراہ اور اینٹی کرپشن  محکمے کے اہلکار کسی کو وہ رشوت ستانی نظر نہیں آتی تھی۔ ایسا ہی معاملہ مجھے تو یہ عدلیہ کے ججز پر دباؤ والا بھی لگتا ہے گویا پہلے تو یہ کسی کے علم میں ہی نہیں تھا اور اب ججز کے خطوط سے اس پر یوں شوروغوغا شروع ہوگیا ہے جیسے کوئی بہت بڑی انہونی ہوگئی ہے۔

ہاں پہلے والا عدالتی اور سیاسی کلچر کچھ اس طرح کا تھا جس میں سرگوشیوں میں ایسی  باتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس کلچر سے بغاوت کرتے ہوئے بار روم میں یہ بھانڈا پھوڑ دیا جس کے بعد جو انکے ساتھ ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ ان کے اپنے ہی ججز ساتھی جنہوں نے بقول انکے اس مروجہ ثقافت سے انحراف کے پیش نظر ان سے سوشل بائیکاٹ کر دیا اور یہی لوگ ان کوعہدے سے بھی فارغ کرنے کے نظام انصاف کا حصہ تھے۔ اس کے نتائج یہ نکلے کہ ایک  کا ہندسہ چھ میں بدل گیا اور آج جب شوکت عزیز صدیقی کئی سال کے بعد اپنی مراعات کے حقدار بن چکے ہیں تو  یہ لوگ اب ان کے لگائے گئے الزامات کی تحقیق کا مطالبہ کر رہے ہیں "بدلتا ہے آسمان رنگ کیسے کیسے" جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ذاتی مشکلات کے مدنظر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے موقف کی تائید کرنی پڑ رہی ہے جس کا وہ پہلے مذاق اڑاتے رہے ہیں بلکہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے تو ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ "روندی یاراں نوں ناں لے لے کے بھراواں دا"  اگر یہ چھ اس وقت اس معاملے کو سنجیدہ لیتے تو شائد آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور نہ ہی ہمارے نظام عدل کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس طرح کی خبروں سے قوموں کے چہرے کس قدر مسخ ہوتے ہیں اور تشخص سے اس کے بد نماداغ مٹانے مشکل ہوجاتے ہیں۔

ججز اورحکومت کے مشورے کے بعد کمیشن ترتیب دیا گیا جس کی سربراہی کی تجویز بھی سپریم کورٹ نے دی تھی اور اس کے بعد میڈیا، وکلاء اور سیاستدانوں کی طرف سے اعتراضات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سپریم کورٹ کو سوؤموٹو لینا پڑگیا۔ اس ساری مشق کا فائدہ کیا ہوا؟ یہیں نہیں ملک کے انتظام انصرام میں ہر سطح پرقوم کی صلاحیتیں ایسی ہی فضول سرگرمیوں میں ضائع ہو رہی ہیں، وجہ کیا ہے؟ "اعتماد کا فقدان" اور مفادات کی حوس" ہر کوئی دوسرے پر شاکی ہے جیسے ججز پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں کبھی حاضر سروس جج ہونے پر تو کبھی ریٹائرڈ جج ہونے پر کبھی کمیشن کے ٹی او آرز پر تو کبھی سابقہ کمیشن کی رپورٹس پر استدلال کرتے ہوئے شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔

اگر غور کریں تو اس اعتماد کے فقدان کا اصل سبب ہی ججز، جرنیل ، بیورکریٹ ، سیاستدانوں کی اپنی سوچ اور ان کا عمل ہے۔ کیا جو ججز سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ رہے ہیں ان کو قانون ایسے دباؤ سے نمٹنے کا اختیار نہیں دیتا اور اگر وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس پر قابوپانے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں تو قصور دباؤ ڈالنے والے کا زیادہ ہے یا اس دباؤ کولینے والے کا۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے۔  کون آئینی و قانونی طور پر عہدے اور منصب کے لحاظ سےاس مسئلے کے حل کا ذمہ دار ہے؟ اگر ججز کو اپنے منصب اور رتبے کا احساس اور اندازہ ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔

کیا کوئی خفیہ مقتدرہ سے ہو یا وردی میں ملبوس اس دھرتی کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ دینے والے ذمہ داران سب  کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر قائم بڑے بڑے ایوانوں میں اپنی خفیہ اور ظاہر سرگرمیوں کی رپورٹس لے کر پیش نہیں ہوتے جن کے گواہ ان ایوانون میں  ایک پیج پر ہونے کے گونجتےنعرے ہیں جو اس پیج پر موجود شخصیات کے بدل جانے کے حالات  سےتذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی آپس کی بدشگونیوں کا بھی خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑ جاتا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی خواہ وہ جج ہو، سیاستدان یا خفیہ اداروں کا سربراہ ہو  ان معززین میں سے بہت سارے پورا سچ بولنے کے لئے تیار ہی نہیں اور آئین و قانون اور اختیارات میں سے جو بات اپنے مطلب، خواہش اور مقصد سے مواقفت رکھتی ہے اس کی تعریفیں اور پر چار شروع کر دیتے ہیں اور جو ناموافق پڑتی ہے اس پر شورو غوغا گونج اٹھتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اب سوؤ موٹو کے بعد معاملہ تھم جائے گا؟ اب بنچ میں بیٹھے ہوئے ججز پر اعتراضات نہیں اٹھیں گے بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھا بھی دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ انصاف کے معیار کا ہے جس پرتاریخ اعتماد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانونی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جانے والے کمیشن میں سپریم کورٹ کا ریٹارئرڈ جج ہوتے ہوئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر تمام اختیارات رکھتا ہوگا جس کے تحت وہ کسی بھی طرح کی معلومات کے لئے کسی کو بھی طلب کرنے یا ریکارڈ منگوانے کا مجاز ہوگا اور اپنے احکامات پر عملدارآمد کروانے کے لئے توہین عدالت کی کاروائی سمیت تمام اختیارات رکھتا ہوگا۔ اس لئے یہ خدشات اخذ کر لینا کہ ماضی کے کمیشنز کی طرح کچھ حاصل نہیں ہو گا انتہائی نا مناسب ہے اور اس طرح کے خدشات کا علاج تو آئین و قانون کے پاس بھی موجود نہیں سوائے، جرات اور اعلیٰ اخلاقیات کی پاسداری کے جسکی ذاتی مفادات اور خواہشات کی سوچیں رکھنے والوں سے امید نہیں کی جا سکتی جس کا ریٹائرڈ یا حاضر سروس ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

بلکہ میں سمجھاتا ہوں کہ جب خط میں موجودہ عدلیہ کے اندر ابھی بھی دباؤ کا تاثر دیا گیا ہے تو پھر عدلیہ کے اندر تو سپریم کورٹ بھی شامل ہے تو ایسے میں کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیق تو مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے تاکہ موجودہ عدلیہ میں سے اگر کوئی الزامات لگاتا ہے تو اس سے شواہد طلب کئے جا سکیں اور اگر حاضر سروس کوئی جج دباؤ کے تحت فیصلے کرنے میں ملوث پایا جاتا ہے تو پھر اس بارے حکومت رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج سکے اور اگر کوئی عدلیہ کے باہر سے دباؤ میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی کاروائی کو عمل میں لانے کی ہدایات جاری ہوں اور اسی طرح اگر کسی ادارے پر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو الزامات لگانے والے کے خلاف بھی تادیبی کاروائی کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خط کے مندرجات میں ایک انتہائی سنگین مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ججز پر دباؤ کی تو جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو کیا اسے نظام عدل میں ججز کی اپنی ہی زبانی انصاف کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑوں کی مخبری یا گواہی نہ سمجھا جا ئے جس کا آغاز جسٹس منیر اور جسٹس ارشاد حسن خان سے شروع ہوتا ہے اور اسی فہرست میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ نے حال ہی میں بھٹو کی سزا پر اپنے ادارے کی کوتاہیوں کو دھونے کی کوشش کی ہے۔  کیا اس سے ان کے عہدے اور منصب پر بھی سوال کھڑے نہیں ہوتے  جن کا انکو خود بھی احساس نہیں ہو رہا جس کی وجہ شائد ان کی تعیناتیوں کا طریقہ کار بھی ہے کہ وہ خود سیاست کی کوکھ سے جنم لئے ہوئے ہوتے ہیں جو بعد میں نہ صرف ان کی مجبوریاں بنتی ہیں بلکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹ کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے اختیارات کے استعمال کی سکت نہیں رکھتے ہوتے اور اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جج کا عہدہ اور منصب ہر طرح کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے بالا تر ہوتا ہے۔ اصل معاملہ محض دخل اندازی کا ہی نہیں بلکہ ججز کی کریڈیبلیٹی اور ان خدشات کی بنیاد پر ایک عام آدمی کے نظام انصاف پر اعتماد کا بھی ہے۔ اگر ججز دباؤ کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تو پھر ان سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے یا ان کا اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز کیسے باقی بچتا ہے۔

ہمارے ماضی قریب کے نظام عدل نے تو فلسفہ قانون کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جرائم کے پیچھے موٹو کا تو سنا ہوا تھا لیکن ان سالوں میں تو فیصلوں کے پیچھے بھی موٹو نظر آرہا ہوتا ہے۔ حالات سے یوں لگتا ہے کہ ججز پر دباؤ اصل مسئلہ نہیں بلکہ دباؤ کی موافقت دکھائی دے رہا ہے اور دباؤ بھی صرف ایجنسیز کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ماضی میں لیک ہونے والی وڈیوز میں ججز کے خاندان کے لوگ بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدانوں سے تعلقات بھی ہوتے ہیں اور جوڈیشری اور حکمرانوں کا ایک دوسرے سے مفادات کا لین دین بھی ہوتا ہے اور اب یہ سارا کچھ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے معاشرے کے معیار بھی فلسفہ قانون کے ساتھ ساتھ بدلے بدلے لگتے ہیں۔

قانون کی تشریحات بھی انہیں معاشرے کے معیاروں کی مطابقت سے بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ جس کی مثالیں حالیہ سالوں میں تو فراخدلی سے ملتی ہیں۔ ججز کے مذاج، حالات، حوالاجات، خواہشات حتیٰ کہ سوشل میڈیا کا بیانیہ بھی اب تو قانون کی تشریحات کے زرائعے کے طور پر دکھائی دیتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر بنائے گئے بنچز کے فیصلوں کی صحت پر اثرات تو کسی سے چھپے ڈھکے نہیں۔  ججز کے بدل جانے سے فیصلے بدل جاتے ہیں اور بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کی پشینگوئیاں ہونے لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ سو فیصد ٹھیک بھی نکلتی ہیں۔ انصاف بھی موسموں کی طرح بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہی واقعات، ملزمان اور شواہد ہوتے ہیں اورکبھی سزاؤں پر سزائیں سنائی جا رہی ہوتی ہیں تو پھر اچانک انصاف کا موسم ایسے بدلتا ہے کہ سزائیں بریت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

جہاں اتنے بڑے دباؤ ہوں تو کبھی کبھی دباؤ کے زرائعے کی آپس میں چپقلش بھی کوئی انہونی بات نہیں ۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ موسم بدلنے سے یہی دباؤ جو آج موافق نہیں پڑ رہا یکدم موافق پڑنا شروع ہو جائے۔ کیونکہ دباؤ کی موافقت کو قائم کرنے کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ججز کے خطوط کے بعد وکلاء کے خطوط شروع ہوگئے ہیں اور ان خطوط کی روشنی میں اداروں کی آراء بھی بدلنا شروع ہوگئی ہیں اور فیصلوں کے متن بھی موسموں کی تبدیلیوں کے اشارے دینے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ جو دباؤ کو  اچانک اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اس کے پچھے بھی کسی خاص موٹو کا شک ہو رہا ہےکیونکہ  سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اُس وقت اِس طرح کا کوئی دباؤ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر موجود تھا تو کیا وہ ان کے جانے کے بعد ختم ہو گیا تھا یا اسی دباؤ کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی قوم ان سے اس تحقیق کے دوران سچ بتانے کی توقع رکھتی ہے جس کے بغیر یہ تاثر  لیاجائے گا کہ وہ اپنی حیثیت کو مضبوط تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر جوابدہی کا ان کے اندر کوئی احساس موجود نہیں۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو  کیا اس سے ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کا حلف مشکوک نہیں ہو چکا؟ 

 خط  کو لکھنے کا وقت بھی کئی  خدشات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں مبینہ طور پر ایک سو کے قریب درخواستں دائر ہو چکی ہیں جن میں سے چند ان ججز کے خلاف بھی ہیں جس سے یہ تاثر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مقصد دباؤ اور بیرونی اثرات سے آزادی نہیں بلکہ حکومت، عدلیہ، اداروں اور سپریم جوڈیشل کونسل پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس خط کا یوں جوڈیشل کونسل کا رخ کرتے ہوئے میڈیا کے ہتھے چڑھ جانا بھی شکوک شبہات پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے جس کا جواب دینا بھی ججز کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اور ان سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب ان کا کام ہی انصاف کی فراہمی ہے تو انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا قانونی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

سپریم کورٹ میں کئی اور درخواستیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں سے ایک  مبینہ طور پر میاں داؤد ایڈووکیٹ کی بھی ہے جس  میں کچھ ایسے نقطے بھی اٹھا دئے گئے ہیں جو اس خط کو عدلیہ اور ملک کی عمومی سیاست سے جوڑنے کا منظر نامہ  پیش کر رہے ہیں جن کی پاکستان کی عدلیہ اور عدالتی رائے کے اصولوں کے اندر کوئی نظیر نہیں ملتی جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہی عمران خان کی ضمانت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں انکی طرف سے مستقبل میں کئے جانے والے تمام فرضی جرموں کی بھی پیشگی ضمانت دے دی گئی تھی اور اسی طرح کچھ لاہور ہائیکورٹ کے بھی فیصلے ہیں جن پر تحریک انصاف کی سہولت کاری کے الزامات پر آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں اور جن میں ایک فیصلہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد سے روکنے کا اسٹے آرڈر بھی تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اس پر سخت کمنٹس دیتے ہوئے انتخابات کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کو نا کام بنایا تھا جس سے ہائیکورٹس کو اس طرح کے سہولت کاری کے تاثر والے فیصلوں بارے محتاط انداز اپنانے پر مجبور کر دیا گیا تھا

ایسا بھی نہیں کہ ججز کے موقف کی تائید نہیں  ہو رہی جیسا کہ میڈیا پر ان کے موقف کو سراہا بھی جا رہا ہے اور اب تو اس خط کی حمائت میں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی طرف سے اعلامیے بھی جاری ہو چکے ہیں اور بعض سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست کو آکسیجن دینے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دے رہی ہیں۔ ججز نے اپنے فیصلوں پر دباؤکا اظہار کرکے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے بلکہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نے تو بانی تحریک انصاف کو دی جانے والی سزاؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جس کا یقیناً ان کو فائدہ ملے گا۔ تو ایسے منظرنامے میں یہ بھی دیکھنا ضروری نظر آتا ہے کہ ماضی میں اگر دباؤ تھا تو اس وقت اس کے بینیفشریز کون تھے اور آج اگر عدلیہ پر دباؤ ہے یا ججز اس خط کے زریعے سے اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے بینیفیشریز کون بنتے ہیں؟

ان الزامات میں ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر انتظامی اختیارات کی آڑ میں عدالتی رائے پر حاوی ہونے کی طرف اشارہ ہے جو دباؤ کا حصہ بن کر فیصلوں کو متاثر کرنےکی ایک مثال ہے جس کا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت عدالت عظمیٰ میں حل تلاش کیا گیا اسی طرح کی اصلاحات کا اطلاق ہائکورٹس پر بھی ہونا چاہیے تاکہ انصاف کو شفاف اور یقینی بنایا جاسکے۔ اختیارات سےصحیح اور جائز فائدے اٹھانے کے لئے اخلاقیات کا  گہرا تعلق ہوتا ہے اور جہاں اخلاقیات کمزور ہوں وہاں  اختیارات بے لگام ہو جاتے ہیں اور پھر قانونی اصلاحات کے زریعے سے بہتری کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اس صورتحال کا حل دخل اندازی کرنے والوں کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ  اس بات میں بھی ہے کہ ججز کی تعنیاتیوں میں نہ صرف جج کی تعلیم و تجربہ کو دیکھا جائے بلکہ ایسی شخصیات کو لیا جائے جن کے اندر اس عہدے اور منصب کی خواہش نہ ہو اور وہ اعلیٰ اخلاقیات کے مالک ہوں تاکہ اگر وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکیں تو کم از کم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے جائیں لیکن نا انصافی کا حصہ تو نہ بنیں۔ جب ججز خوف خدا کے تحت اپنے فیصلوں پر اپنے آپ کو خدا کے حضور جوابدہ سمجھنے والے ہونگے تویہ شکایات خود بخود ہی ختم ہوجائیں گی۔ جس طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اگر ماحول سے مدد نہیں ملی تو مشکلات بھی جھیلیں مگر کم از کم کسی کے ساتھ نا انصافی کاحصہ تو نہیں بنے۔ لیکن ماضی کے واقعات پر استدلال کرکے سبھی ججز کو الزامات کا نشانہ بنا دینا بھی جائز نہیں۔ آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے اس لئے بغیر شواہد کے الزامات کا بھی سلسلہ بند ہونا چاہیے اور یہ سب شفاف تحقیقات کے بعد ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کسی کو  خاص کر میڈیا کو ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے اداروں کے سربراہان ہر ایک کے الزام پر وضاحت تو جاری نہیں کر سکتے۔

اگر اس دباؤ کو وسیع منظرنامے میں دیکھا جائے تو یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ حکومت میں یا عدلیہ میں موجود لوگ جو اپنے ہی آئینی رتبے اور عہدے کے ماتحت سے ڈر کر انصاف نہ دے سکیں یا جوابدہی کا عمل یقینی نہ بنا سکیں تو ان پرایک خود مختار  جمہوری ریاست کے انتظامات محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے معززین جو طاقت کے نشے میں من مانیاں کرتے ہوئے ہر حد کراس کر جاتے ہیں ان کو سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ حب الوطنی اور ریاست سے وفا کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے معاملات کو چلانے کا معیار جو آئین نے متعین کیا ہوا ہے اس کو معتبر سمجھا جائے اور ریاست کے وسائل کو عوام اور ریاست کی امانت سمجھتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے استعمال کیا جائے نا کہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لئے اور ایسا کرنے والوں کی زندگیاں مکافات عمل کی صورت ہمارے سامنے ہیں اور اگر ہم اب بھی اس سے سبق حاصل نہیں کریں گے تو پھر قدرت کا اصلاح کا عمل ہر کسی کے لئے تکلیف دہ ہوگا اور اس کا دکھ صرف ہمیں ہی نہیں اگلی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا

۔

ہفتہ، 6 جنوری، 2024

جمہوری نظام کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے چلایا جائے

انتخابات کے انعقاد اور ملتوی کروانے کے دونوں بیانیے زور و شور سے جاری ہیں اور انعقاد بھی غیر شفافیت اور جانبداری کے خدشات کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ کوئی موسمی سردی اور امن عامہ کو بنیاد بنا کر ملتوی کروانا چاہتا ہے تو کوئی اس کے انعقاد سے متعلق انتظامی بد عنوانیوں کے خدشات کے پیش نظر اس سے راہ فرار تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔

ہمارے سیاسی حلقوں نے اپنے اعمال سے ایسا تاثر پیدا کر دیا ہوا ہے کہ گویا جمہوری نظام اس ملک میں ناکام ہوچکا ہے جب بھی جمہوریت سُکھ کا سانس لیتی ہے تو کوئی نہ کوئی جمہوری غدار اس پر شب خون مروا کر اسے کبھی ہائبرڈ مین کے ہاتھوں یرغمال بنوا دیتا ہے تو کبھی یہ مفاہمتی ہتھکنڈوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پھر ہمارے سیاسی پنڈت اپنے فرمودات جاری کرنے لگتے ہیں کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا۔ جو انتہائی قابل افسوس اور باعثت شرم موقف ہے۔ جب کسی کے مد مقابل کھڑے ہوں تو یہ جواز نہیں پیش کیا جاسکتا کہ مجھے جیتنے نہیں دیا جارہا بلکہ اپنی طاقت، جرات اور حکمت عملی سے دنگل جیتے جاتے ہیں۔ ماحول تو ہلا شیری یا ہار جیت کا اعلان ہی کر سکتا ہے۔ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لئے کبھی نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی اپنی بے بسیوں پر ہمدردیوں کی بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب تو ہوا کہ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ نہ ان کو کوئی کام کرنے دے گا اور نہ یہ پارلیمانی نظام کامیاب ہوگا۔

جب آئین و قانون ان کو نظام کے اندر بالا دستی دیتا ہے تو پھر اپنے ان حقوق اور منصب کو انہوں نے اپنی جرات اور حکمت سے ہی منوانا اور حاصل کرنا ہے جس کے لئے جذبے، دلیری اور قربانیوں اور سب سے بڑھ کر ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر سیاست کو کاروبار یا اختیارات کے حصول کو اپنی اجارہ داری کا مقصد بنا لیا جائے تو پھر ایسی سیاست کبھی بالادستی کی ضامن نہیں بن سکتی۔ وہ بھی ریاست کے وسائل اور اختیارات کے بلبوتے پر ذاتی مفادات کی خاطر سب کچھ کرتے ہیں اور تم بھی اگر آزادی ملے تو ان سے کم نہیں۔

اس کے نتائج کو اکثر متازع بنا کر پارلیمان کو عوامی امنگوں کے مطابق قومی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں جس نے سیاسی عمل میں بد اعتمادی پیدا کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاستدانوں کی ان کمزوریوں کے تحت پارلیمان کے اجلاس بھی انٹیلی جنس کی مدد سے چلائے جاتے رہے ہیں اور جب کہیں ان کی خواہشات کے بر عکس پارلیمان نے چلنے کی کوشش کی ہے تو آمریت کے ہاتھوں نظام ہی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

آج تیسری دفعہ پارلیمان کے ایوان بالا میں الیکشن کے التوا کے لئے قرارداد جمع کروائی گئی ہے اسے اگر جمہوری کہنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس میں دانشمندی یا سیاسی شعور کی موجودگی کا اعتراف بھی نا ممکن ہے۔ اور اس پر جو تبصرے ہورہے ہیں وہ بھی ربوٹک جمہوریت سے کم تو نہیں۔ جب اجلاسوں کے احکامات اور ایجنڈے کہیں اور سے آنے ہیں تو پھر یہ کام تو ربوٹک پارلیمان بہتر طریقے سے ادا کر لے گی۔

 اسے اگر آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے مزین کرکے آئین و قانون اور اگلے پانچ یا دس سالوں کے ترقیاتی منصوبے دے دیئے جائیں گے تو ان نام نہاد ربوٹس سے تو وہ حقیقی ربوٹک پارلیمان بہترین وژن دینے کے قابل ہوگی۔

تو ایسے حالات میں جب قوم اس کے انعقاد پر تذبذب کا شکار ہے تو کیوں نہ انتخابات کو سیاستدانوں کے درمیان کسی جمہوری معاہدے تک ملتوی کرکے ربوٹک پارلیمان بنا دی جائے اور غیر جانبدار اور غیر متنازع اچھی شہرت اور کردار کی حامل شخصیات پر مبنی ایک کونسل بنا دی جائے جو عوامی رائے اور امنگوں کی پاسداری کے لئے ان سے براہ راست حاصل کردہ تجاویز کی روشنی میں ربوٹک پارلیمان کو سفارشات پیش کرتی رہے۔ جس سے قوم کے 25 ارب کے لگ بھگ اخراجات بھی بچیں گے اور نظام بھی محفوظ رہے گا۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ نہ روز انتخابات ہوں اور نہ روز روز پارلیمان آمریت کے ہاتھوں یرغمال ہوکر سیاست اور جمہوریت کے لئے رسوائی کا موجب بنے۔ ان کی بانسری نے پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر دیا ہے۔

ویسے بھی اگر دیکھیں تو ماضی کی پارلیمان میں اکثریتی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض پارلیمان کا حصہ ہوتے ہیں ان کی قانون سازی میں کارکردگی برائے نام ہوتی ہے۔  قوانیں پر عملدرآمد کا کوئی حل نہیں ڈھونڈھ پاتیں اور پھر جو قوانیں بناتی بھی ہیں ان میں تضادات اور ان سے ابھرنے والے سیاسی مسائل ہی اتنے ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ عوامی مقدمات پر توجہ دینے کی بجائے قوانین کی تشریحات پر لگی رہتی ہے۔ اب انتخابات کو وہ زبردستی کروانے کی ٹھان کر بیٹھے ہیں تو 8 فروری تک پاکستان کی ساری عدالتیں انتخابات کے بارے مقدمہ بازی کو ہی نمٹائیں گی اور اس سے کوئی خوش بھی نہیں ہے۔ باقی آمدن اور اخراجات کے ہندسوں کی جمع تفریق ہی ہے جس کو ربوٹک پارلیمان بغیر کسی غلطی کے خدشے کے احسن طریقے سے سر انجام دے لے گی۔ اور قراردادوں کے زریعے سے اگر عدلیہ اور دوسرے اداروں سے اپنے اختیارات کی بھیک ہی مانگنی ہے تو اس کی ربوٹک پارلیمان نوبت ہی نہیں آنے دے گی جب اس کو آئین و قانون اوراگلے پانچ سالوں کے منصوبوں بارے ڈیٹا دے دیا جائے گا تو غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومتی مشینری کو پورا شیڈیول دے دے گا اور اگر کوئی اس شیڈیول کے مطابق نہیں چلتا تو اس پر جرمانہ بھی عائد کر دے گا۔ اس پر عملدرآمد ویسے بھی حکومتی مشینری کے موڈ پر منحصر ہوتا ہے۔

ہاں اگر سیاستدانوں کو عہدوں کا حوس ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ وزیر اعظم کے لئے سادہ اکثریت سے 172 ارب دو تہائی کے لئے 228 ارب کی قیمت رکھ دی جائے اور قومی  وزارتوں کی قیمت سات سات ارب اور صوبائی کی پانچ پانچ ارب رکھ دی جائے۔ ایسے ہی صوبائی اسمبلیوں کی بھی اعداد کے مطابق قیمت متعین کی جاسکتی ہے۔ جو بھی علامتی طور پر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا وزیر بننا چاہے وہ رقم خزانے میں جمع کروا کے ربوٹک پارلیمان کو ثبوت جمع کروا دے اور اگر کوئی دوران عرصہ اسمبلی عدم اعتماد کے زریعے سے عہدہ حاصل کرنا چاہے تو پہلے والے کی ادا کی گئی رقم کو لوٹا کر اس کے برابر خزانے میں جمع کروا کر عہدہ حاصل کر سکتا ہے۔

 جب ایک ایک ممبر مبینہ طور پر ایک ایک ارب تک کے لگ بھگ اپنے حلقوں میں خرچ کرسکتا ہے تو پھر وہ اس عہدے کے لئے خزانے میں رقم کیوں نہیں جمع کروا سکتا۔ اسی طرح پارلیمان کے ایوان بالا کے لئے تو پہلے بھی یہی فارمولے چلتے ہیں جو مختلف لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں اس ربوٹک نظام کے زریعے سے وہ خزانے میں آئیں گے۔ صوبوں کے حساب سے جتنی سیٹیں ہیں ان کی بولی کروا لی جائے اور زیادہ آفر دینے والوں کو ممبران چن لیا جائے۔

انتخابات سے لے کر وزیر اعظم اور سینٹ کے انتخاب اور بعد کے سارے معاملات جب پہلے سے ہی مالی بے ضابطگیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں تو کیوں نہ ان کو مالی ضابطوں کے ماتحت لا کر عوامی فلاح کا زریعہ بنا دیا جائے۔ جو ماضی میں عوام کے نام پر مالی اداروں سے قرضے لے کر عیاشی کرتے رہے ہیں وہ اگر شوق سیاست و حکومت اور اختیارات و اجارہ داری رکھتے ہیں تو پھر اپنی جیب سے ملکی قرضوں کو ادا کریں اور عہدوں کے مزے لیں۔

حد ہوگئی ہے، ہماری ان زاتی مفادات اور خواہشات کے گرد گھومتی سوچوں نے پارلیمان، سیاست، جمہوریت اور حتیٰ کہ ملک و قوم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہماری اخلاقات کا یہ حال ہے کہ اس سے انسانیت بھی شرمندہ دکھائی دیتی ہے۔ ہم مسائل کو حل کرنے کی بجائے مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں اور مرغوں کی طرح ایک دوسرے کو لہولہان کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارے اندر مہذب معاشروں والی کوئی خصلت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تو اس سے بہتر نہیں کہ نظام کو خود کار کر دیا جائے وہ دنیا کے بہتریں نظاموں اور بہتری کے اصولوں کو اٹھا کر لاگو کرتا رہے گا۔ اسی طرح اداروں میں بھی جہاں جہاں بے ضابطگیاں ہیں وہاں بھی ربوٹک نگران مقرر کر دئے جائیں جو آئین و قانون کے مطابق حکم صادر کرتے رہیں۔ کم از کم انسانیت کی تذلیل تو نہ ہو۔ دور جدید کی انسان کی بنائی ہوئی مشینری انسان سے زیادہ فعال، وفادار اور ایماندار ہوگئی ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور انسانوں کو سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاقیات، وفاداری اور ایمانداری کے حصول تک اپنی اصلاح کے لئے فارغ چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان کو پہلی ربوٹک پارلمینٹ ہونے کا عالمی اعزاز بھی مل جائے گا۔

آئین میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں لیکن انتخابات کو ملتوی کروانے کا آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے جو ہر آئے دن کوئی نہ کوئی نئی منطق کے ساتھ وارد ہو جاتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر جمہوریت لانے کے لئے تیار نہیں اور جو انٹرا پارٹی انتخابات کرواتی بھی ہیں تو اپنے بنائے ہوئی پارٹی آئین کا بھی خیال نہیں رکھ پاتیں اور آئینی اداروں کے اختیارات اور ان کی خود مختار حیثیت کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں دکھائی دیتے۔ ہر معاملہ خاص بندوبست سے چلانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں انتخابات عوامی خدمت کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کی حصول کے لئے کروانا چاہتی ہیں۔ نہ کوئی سیاسی اصولوں کی پاسداری ہے اور نہ کوئی جمہوری اقدار کی۔ 

پیر، 28 اگست، 2023

حکومت کو انتظامی امور پر توجہ دے کرعوام کو ریلیف دینا ہوگا

عبوری حکومت کوموجودہ معاشی بحران میں  ترقی کے پہیے کو روان کرنے کے لئے ملک کے اندر  مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت سے بڑھتی ہوئی بے یقینی کی صورتحال سے نمٹنا ہوگا تاکہ عوام کو سکون کا احساس دے کر بہتری کے لئے پر امید بنایا جاسکے۔ان کی ذمہ داریوں میں انتظامی امور کو بہتر بناتے ہوئے عوام کو ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے زریعے سے حکومت کی منتقلی اور ان کو ایک اچھے انتظامی امور کا نمونہ دینا ہوگا۔ تاکہ اگلی حکومت پر عوام کا ایک نگرانی  کا منصوبہ دیا جاسکےجسے وہ دباؤ سے بحال رکھوا سکیں۔ وہ اگلی حکومت کو اس دلیل کے ساتھ جوابدہ ٹھہرائیں کہ اگر عبوری حکومت حالات کو درست کر سکتی ہے تو پھر ایک انتخابی حکومت کی ناکامی بھی قابل برداشت نہیں ہوسکتی

حکومت کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے عمل سےساکھ کو بحال کرنا ہوگا۔ اب اس ٹیکنالوجی کی دور میں کسی سے بھی کوئی راز پوشیدہ نہیں سب جانتے ہیں کہ  ان کے وجود ، طاقت اور حکمت عملیوں کی بنیاد کیا ہے۔ اور نہ ہی اس تاثر کو بدلنے کی کوششوں میں وقت، توانائی اورپیسہ ضائع کرنے کی کوئی ضرورت ہے بلکہ اس تاثر کو بہتر کرکے اپنی بنیادوں اور محسنوں  کی ساکھ کو بہتر کرکے عوام کے دلوں میں محبت پیدا کی جاسکتی ہے۔

اور اس کے لئے پہلے سے ہی عبوری حکومت کے محدود اختیارات کی حدوں کوکافی حد تک وسعت دی جاچکی ہے اور اس کے لئے کسی طرح کی بھی نئی اصلاحات کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے پاس اب عوامی مطالبات سے فرار کا کوئی بہانہ ہے۔ صرف موجودہ قوانین پر عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔ افسر شاہی میں اچھی شہرت ، تجربہ اور کارکردگی کی بنیاد پر انتظامی عہدوں پرتعیناتیوں  کی ضرورت ہے ۔ ایسے لوگوں کو سربراہ بنایا جائے جو ملک و قوم کی خدمت کو ذاتی فائدوں پر ترجیح دیتے ہوں اور وہ افسر شاہی کے مافیہ کے ہاتھوں یرغمال بننے کئ بجائے ان کو کنڑول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی وجوہات میں معاشی بحران سے بھی زیادہ بد انتظامی اور بد عنوانی کا ہاتھ ہے۔ ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی بازار میں ہر کسی نے اپنی مرضی کے نرخ لگائے ہوئے ہیں  اور متعلقہ محکمے جنہوں نے نرخوں کو حکومتی  تعین کردہ لسٹوں  کے مطابق یقینی بنانا ہے وہ کبھی بازار میں نظر ہی نہیں آئے۔ اگر وہ  کبھی کبھار بھی بغیر اطلاع کے  کم از کم رو زمرہ کی اشیاء خوردو نوش کی نرخ اور ان کی کوالٹی کوچیک کرنے کی روٹین کو بنائے رکھیں تو دکانداروں پر چیکنگ کا خوف رہے اور وہ عوام کے ساتھ ظلم کرنے سے با ز رہیں۔ جس سے نہ صرف عوام کی جیبیں محفوظ ہوجائیں بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہو اور حکومت کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوجائیں۔

بجلی کے بلوں پر احتجاج کے پیش نظر جس طرح سے گریڈ سترہ اور اس سے اوپر والے افسران کی مفت ترسیل کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے خوش آئند ہے اور اس پر عمل بھی ہونا چاہیے محض سابقہ حکومت کی کفائت شعاری کی پالیسی کی طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح سے عوامی دباؤ کی بنیاد پرباقی تمام مراعات کوبھی ختم کرکےبرابری کو ترویج دینا چاہیے تاکہ جب ان کی آسائشیں ختم ہوں تو ان کو عوام کی مشکلات اور تکلیف کا بھی احساس ہو کہ وہ کسی طرح سے زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کی رٹ کی کوئی کمی نہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آج تک آپ نے کبھی کسی ڈپٹی کمشنر، جج ، پولیس آفیسر،  جرنیل، وزیریا بیورو کریٹ سے کسی کو بدتمیزی کرتے دیکھا ہے۔ یا کبھی  ان کے اپنے کام رکتے دیکھے ہیں ۔ صرف  مسائل عام عوام کے لئے ہی ہیں۔  ہماری افرادی قوت میں بے تحاشا صلاحیتیں ہیں مگر ان کا استعمال عوام کی خدمت کی بجائے مسائل کھڑے کرنے پر ہورہا ہے۔

انتظامی عہدوں پر بیٹھے اور ریاست  کے اہلکاروں کے اثاثے اور آمدن میں  مطابقت کو دیکھنے کی اشد ٖضرورت ہے اور ان کی سکروٹنی ہونی چاہیے کہ ان کے  شاہانہ اخرجات کہاں سے پورے ہورہے ہیں بلکہ ان کے گھروں کی بھی تلاشی لی جانی چاہیے تاکہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت قوم کو واپس ملے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے ہر ترقیاتی ٹھیکے میں اوپر سے لے کر نیچے تک کمیشن چلتی ہے۔ اسے بند ہونا چاہیے۔

افسر شاہی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ان کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کی محدود سوچ  اور اختیاراتی اجارہ داری کی سوچ کو خدمت کی طرف موڑنے کے لئے ان کی  سوچ کو عوامی اختیارات سے ہی ضرب لگانی پڑے گی اور ان کے اندر ان کے اختیارات کوآئینی و قانونی اختیارات کی جوابدہی کے تابع لاکر یہ احساس پیدا کرنے اور اس کا یقین بٹھانے کی ضرورت ہے  کہ ان کا کام بادشاہت نہیں بلکہ خدمت ہے اور ان کی تنخواہیں عوام کی جیب سے آتی ہیں۔ کسی ایک مولا جٹ کو نوکری سے فارغ کرکے  جیل بھیج دیں سب ٹھیک ہوجائیں گے جیسے ہی ان کو اپنا عہدہ اور اختیارات خطرے میں لگیں گے یہ اپنی اصلیت کی طرف لوٹ آئیں گے ۔ لہذا ان کو اختیاراتی ڈسپلن میں رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

حکومت کو عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لئے فوری طور پر تمام  محکموں کے اندر تنخواہوں میں  برابری اور حکومتی اخراجات میں کمی کردینی چاہیے اور ریاستی وسائل کی بنیاد پر بنائے گئے امتیازی سلوک کو فوری بند کر دینا چاہیے اورعوام کی داد رسی کے لئے سخت اقدام اٹھانے چاہیں

یہ تبدیلی کا سفر حکومت کو نچلی سطح سے شروع کرنا چاہیے۔ صوبوں کی اکائی ضلع کی سطح پر عوام کو ریلیف دے کر امن ، استحکام اور ترقی کا یہ سفر شروع کیا جاسکتا ہے ۔

صوبائی حکومتیں صرف  ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کیمرہ لگا دیں اور اس کا کنکشن ڈائریکٹ ایک ہوم سیکرٹری کے دفتر میں ہو اور ایک  چیف منسٹر کے دفتر میں اور اسے یہ حکم دیا جائے کہ کوئی بھی سائل آپ سے ملنے آئے اس کو روکا نہیں جاسکتا ۔ آپ کو ہر حال میں اس کی داد رسی کرنی ہوگی۔دفتر کے باہر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ سارے معاملات خود بخود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔پنجاب  جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے 42 اضلاع ہیں  اور 42 مولا جٹوں کو کنٹرول کرنا  اس صوبے کے  چیف منسٹر کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ۔ اسی طرح باقی اضلاع میں بھی  کے پی کے کے 38، بلوچستان 36، سندھ 30، گلگت بلتستان 14، کشمیر 10 اور اسلام آباد 1ضلع ہے جو مجموعی طور پر 171بنتے ہیں ۔کیا اس ملک میں 171 ایماندار ، اہل اور قابل لوگ بھی  موجود نہیں یا اتنےسے لوگوں کو بھی کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ بھی ناممکن نہیں بس ضرورت ہے اخلاص اور نیت کی۔

ڈپٹی کمشنر کے پاس ایک ہی بہانہ ہوگا کہ میں کس طرح پورے ضلع کے سائلین کو ڈیل کر سکتا ہوں ۔ سادہ سا حل ہے کہ کسی بھی محکمے کے خلاف کوئی شکائت آتی ہے تو اس کو کہہ دے کہ اپنی کارکردگی ٹھیک کریں ۔ شکائت کا مطلب ہے کہ آپ کی کارکردگی ٹھیک نہیں۔ جب کارکردگی ٹھیک ہوگی تو شکائتیں خود بخود ہی رک جائیں گی۔ اور اگر شکایات نہیں رک رہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ  اس کے ضلع میں ماتحت محکموں میں لوگوں کے کام نہیں ہورہے اور وہ انتظام کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اس کو تبدیل کر دیا جائے۔

اسی طرح ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر میں بیٹھ کر اپنے ماتحت محکموں کے سربراہان کے دفاتر کو کیمروں کے زریعے سے مانیٹر کرے ۔ اس ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی کام بھی مشکل نہیں بشرطیکہ ہمارے سیاستدان حل کرنے میں مخلص ہوں تو

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین