سوچ کی غذا

‏tehreek insaf لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏tehreek insaf لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔

وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔ 

انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔

 انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ  اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی  نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔ 

انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو

درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔  اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔ 

اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔ 

اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 

جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔

ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے

لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔

جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔

کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔

عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو  جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ 

نا اہلی  اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟ 

سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔ 

ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔ 

شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی  اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔ 

مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر  بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں  انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔

لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔

یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔    

مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔



بدھ، 9 اگست، 2023

ملکی حالات سے ابھرتے سیاسی خدوخال جمہوری نہیں لگ رہے۔

زمینی حقائق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد جمہوری اقدار ہمیں موافق آتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہیں۔ اس کی ایک وجہ تو قومی سطح پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کا فقدان بھی ہے جو ایک جمہوری نظام کے اندر کامیابی کے لئے لازم ہوتے ہیں لیکن جو ہماری پارلیمان قانونی اصلاحات کر  رہی ہے ان سے ابھرتے ہوئے تاثر سے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں  خود بھی یا تو جمہوریت سے نا امید ہوچکی ہیں یا پھر فی الحال ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ موجودہ  ملکی معاشی حالات میں  ریاست پچھلے ڈیڑھ سال سےجاری سیاسی عدم استحکام کی سوچ اور سرگرمیوں میں  مزید کسی چھوٹ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

جس کی سب سے بڑی وجہ خود سیاسی جماعتیں ہی ہیں جن کو اس دوران کافی موقع دیا گیا کہ وہ اصولی سیاست کی طرف لوٹ آئیں ، جن میں تحریک ا انصاف کا رویہ تو انتہائی قابل تشویش رہا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اپنے آپ کو سیاست سے الگ رکھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے مگرسیاسی حلقوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے مذاج  اس طرح کی آزاد، حساس اور با ختیار سیاست کے عادی نہیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پچھلی سات دہائیوں سےرائج روائتی  سیاست کے عادی ہوچکے ہیں ، جس میں جمہوریت کی روح رواں طاقت اسٹیبلشمنٹ رہی ہے جس  کا انہوں نے  خود بھی کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ہر فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق ہوتا رہا ہے جس کے پیش نظراب ہمارے سیاستدان  بھی ان سہولت کاریوں کے عادی ہوچکے ہیں ۔

نیوٹرل ہوئی ہےتو اس خلا کو پر کرنے کے لئے دوسرے اداروں نے وہی کردار اپنا لیا ہے اور ایسے حالات بنائے جارہے ہیں جن سے یہ پیغام جارہا ہےکہ وہ سیاست کو آزاد نہ چھوڑیں وگرنہ سیاست کا سنبھلنا ممکن نہیں رہے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر سیاست کو جمہوری اور اصولی رکھنے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے

اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری سیاسی جماعتیں یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے  اپنے آپ کو سیاست سے دور رہنے کے دعوے پر یقین رکھتے ہوئے اپنے عمل  سے یہ ثابت کرتیں کہ وہ ان کی اس فیصلے سے خوش ہیں اور وہ آپس میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کراصولی سیاست  وجمہوریت  اور اس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی مستقبل بارے لائحہ عمل دیتیں ۔ اور اگر پھر بھی کوئی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اشارہ ملتا تو ان کو جوابدہ بھی ٹھہراتیں۔مگر وہ نہ تو آپس میں مذاکرات کرسکیں اور نہ ہی پر امن سیاسی اور جمہوری ماحول بنا سکیں۔ جس کو اقتدار مل جاتا ہے وہ دوسروں کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور جن سے اقتدار چلا جاتا ہے انکی سیاست کا محور ملکی فلاح کی بجائے اقتدار کا حصول ہوجاتا ہے اورسیاست کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے زبردستی تحریک انصاف کو حکومت کے ساتھ انتخابات کے انعقاد کے لئے مذاکرات  پر بٹھایا مگر اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہ ہوسکا۔ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہے تھی  لیکن تحریک انصاف کے کچھ قائدین کی طرف سے اب یہ بیانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ عمران خان نے جان بوجھ کر یہ موقع ضائع کردیا  اور پھر 9 مئی کے واقعہ کے دوران ان کے کارکنان کی سرگرمیوں نے تو ان کی ساری کی ساری سیاست کا کٹہ چھٹہ کھول کر رکھ دیا ہے کہ جیسے وہ اس گھمنڈ میں تھے کہ اپنی مقبولیت کے زور پر سب کچھ زبردستی منوا لیں گےاور وہ کسی بھی صورت اقتدر  کے حصول سے کم کسی بھی حالت  میں امن کے حق میں نہیں تھے۔ جس کی ایک دلیل ان کی وہ ساری سیاسی سرگرمیاں ہیں جن کو وہ  وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہوجانے کے بعد سے جاری رکھے ہوئے تھے جس میں ان کی مکملسیاست چوک چوراہوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔جس میں انہوں کئی بیانیے بنائے جن میں ایک سائفر کا بھی تھا جس پر اب ان کے اپنے لوگ ہی سیاسی کھیل کا انکشاف کر رہے ہیں اور عمران خان نے خود کئی یو ٹرن بھی لئے ہیں ۔جس کا آج وہ نقصان بھی اٹھا رہے ہیں ۔

;ان کو چاہیے تھا کہ وہ اگلے انتخابات عوام کی نمائندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوتے۔ جس میں; وہ مکمل طور پر ناکام رہے اور ان کی سرگرمیوں کی بدولت جس میں وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش اور بلا حدود و قیود تنقید کی وجہ سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کا اعتماد کھو بیٹھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب بھی اپنا اعتماد ضائع کر بیٹھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار پر تو اعتراض کیا جاسکتا ہے جس کاعمران خاں سمیت سب حصہ رہےہیں مگر ان کے ایک ریاستی ادارے کے کردار اور ذمہ داریوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر بے جا تنقید کرنی چاہیے۔ عمران خاں وزیر اعظم کے اعلیٰ منصب پر رہ چکے ہیں اس لئے ان کی سوچ اور عمل میں پختگی ہونی چاہیے ۔جب وہ خود اقتدار میں تھے تو وہ فوج کی حکومتی امداد کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور فوج پر تنقید کو ملک دشمنی سے تشبیہ دیتے تھے  ۔ویسے بھی ریاست کے کسی ادارے کے سربراہ کے ساتھ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے  کی خواہش یا  سیاست میں کردار کا مطالبہ نہ تو آئینی طور پر جائز ہے اور نہ ہی جمہوری اور اخلاقی اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں ۔  بلکہ وہ خود  عسکری ادارے کے سربراہ کی اپوزیشن سے ملاقاتوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اب لگتا یوں ہے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال اور خاص کر 9مئی کے بعد کے سیاسی حالات کے پیش نظر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ جب تک ملک کی معیشت سنبھل نہیں جاتی اور پاکستان ترقی کے سفر پرمستقل گامزن نہیں ہوجاتا یا کوئی پائیدار حل نہیں مل جاتا غیر سنجیدہ اور غیرجمہوری سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس سے ابھرنے والا تاثر پھر سے ایک ہائبرڈ جمہوریت   کے خدوخال پیش کر رہا ہے جس کا وزیراعظم شہباز شریف سے صحافیوں کی طرف سے سوال بھی کیا گیا جس پر انہوں نے مبینہ طور پرکہا کہ اگر ایسا تاثر ابھرتا بھی ہے تو وہ یہ سب کچھ ملک کی بہتری کے لئے کر رہے ہیں۔ پھر حکومت میں موجود سیاسی جماعتوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے سخت فیصلے کئے ہیں جن سے وجود پانے والی مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات نے ان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہےاور  ان کے ساتھ رکھے گئے غیر مساویانہ رویوں اورتحریک انصاف کو مہیا کی گئی سہولت کاریوں سے وجود پانے والی صورتحال کے ذمہ داران  کوہی اپنے کئے کو سنبھالنا ہوگا۔

سیاسی جماعتیں 2018 کے انتخابات کےحقیقی  نتائج کے تناسب والے مینڈٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اگر انہوں نے سخت فیصلے کرکے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے تو اس کی وجہ 2018 کے انتخابات کی دھاندلی تھی  جس کا وہ صلہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔جس  کا حل  وہ قوانین میں ترامیم کے زریعے سے  ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس سے مستقبل میں جمہوری حلقوں کو مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عہدے اور سوچیں بدلنے سے حالات بھی بدل جاتے ہیں اور پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسی ایسی قانونی ترامیم کی جارہی ہیں جو بنیادی انسانی حقوق سے بھی  متصادم ہیں جن کی موجودہ حکومت کو قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

"ووٹ کو عزت دو" کا نظریہ بھی بدلا بدلا لگ رہا ہے بلکہ اس کی جگہ اب"طاقت کو عزت دو" کا عملی ماحول بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا مبینہ سول مارشل لاء کا کا تاثر ختم کرنے  کے لئے لاء کو مارشل کیاجارہا ہےتاکہ قانون پرعملدرآمد کے لئے عسکری طاقت میسر ہوکیونکہ جب عدالتوں تک "قانون کی طاقت "کی بجائے "طاقت کے قانون" کی  اشیر باد کو باعث شرف سمجھا جاتا ہے تو پھر قانون کو بھی اسی طاقت سے ہم آہنگ کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اس پر مریم نوازاپنی خاموشی سے شائد حکومت کے موجودہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت سے متصادم قانونی اصلاحات کے گناہوں سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنے کا جواز پیدا کر رہی ہوں مگر انکی آج کی  خاموشی سے  کل لا تعلقی کا دعویٰ کرنا مشکل ہوجائے گا۔  اسی طرح حکومت میں موجود سیاستدانوں کو بھی اگرکل  انہی قوانیں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھریہ مکافات عمل ہی ہوگا۔

مانا کہ اب پاکستان کے پاس زیادہ وقت نہیں کہ وہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور اعتماد کو بحال کرنے اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کے حاصل شدہ مواقعوں کو ضائع کرے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ جس نے بھی سیاست کرنی ہے وہ  آئینی، اصولی اور جمہوری اقدار کے حدود کے اندر رہ کر ملکی مجبوریوں کے پیش نظر اپنی سرگرمیوں کو حالات کی مطابقت میں رکھے ۔ یہاں تک کی سوچ تو جائز ہےاور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسوقت  ریاست کے لئے  معیشت جمہوریت سے بھی زیادہ اہم  ہے مگر اس کی بہتری کا راستہ بھی جمہوریت کی پگڈنڈیوں سے ہی گزرتا ہوا تلاش کرنا ہوگا۔ جمہوریت کو ریگولرائز کرنے کی سوچ تو قابل برداشت ہوسکتی ہے مگر اس کو پابند سلاسل کرنے کی سوچ مزید سیاسی گھٹن پیدا کرے گی۔

اگر ہم پائیدارامن، ترقی اور خوشحالی چاہیتے ہیں تو پھر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا اور اس کے لئے طاقت کے ایوانوں کو با اختیار بنانے کی بجائےپارلیمان اور الیکشن کمیشن کو مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا اور اس کی سربراہی کسی عوامی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی شخصیت کے حوالے کرنا ہوگا اور اس طرح طاقت کے ایوانوں کو بھی محفوظ سوچ کے تحت رکھنے کے لئے وہاں بھی اصلاحات لانا ہونگی جن سے ر یاست کے اداروں کی طاقت کو  آئین کے تحت لا کر اسے پارلیمان کے دست و بازو بنانا ہوگا۔  اختیارات اور ذمہ داریوں کی شراکت اورجوابدہی کاکوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ جمہوریت کو اپنے قومی اقدار سے ہم آہنگ تو بنایا جا سکتا ہے مگر اس کوانسانی حقوق کی پاسداری اورقانونی کی حکمرانی سے جدا کرکے فائدےحاصل نہیں کیا جاسکتے 

بدھ، 7 جون، 2023

ہر کوئی بے نقاب ہو رہا ہے،یہی نظام فطرت ہے


قدرت کا نظام انصاف  و انتقام بھی کیسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو ہی بے نقاب کرنا شروع کردیتا ہے۔ ایک معقولہ تو ہر کسی نے سنا ہی ہوگا کہ انسان جب بھی کوئی کام فطری اصولوں کے خلاف کرتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے  جو ایک الارم ہوتا ہے کہ وہ اس کام سے باز رہے مگر جب وہ اس سے نہیں رکتا تو پھر اس کے اپنے اندر ایک افسوس سا ضرور موجود رہتا ہے ۔جو ایک حد پر پہنچنے کے بعد اس کے اندر سے اخراج چاہتا ہے ۔وہ خواہ اس کے اپنے اعتراف کی صورت ہو یا اس کے کسی شریک جرم کی طرف سے۔ اور  اگر دونوں صورتوں کا سبب نہ بن سکے تو پھر نظام فطرت خود ہی اس کے رازوں کو فاش کرنا شروع کردیتا ہے ۔

ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔پچھلے دس سالوں کی سیاسی غلطیوں کی اب اخیر ہوچکی ہے اور اب یہ یکے بعد دیگرے افشا ہورہی ہیں ۔ بعض کردار تو اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے خود ہی اعتراف کرنے لگے ہیں اور بعض اپنے ساتھ دوسروں کو بھی  بے نقاب کررہے ہیں اور بعض کے جرائم نظام فطرت کا نشانہ بن رہے ہیں  اور ان کے اعمال ان کو بے نقاب کرنے لگے ہیں ۔ مگر افسوس کہ بے نقاب ہونے اور ان جرائم کے ثبوت سامنے آجانے کے باوجود  بھی ہر کوئی آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو تسلیاں دینے کی کوشش کررہا ہے  کہ شائد لوگ اس کو جھوٹ ہی سمجھ لیں ۔مگر وہ شائد نظام فطرت کے اگلے مرحلے سے ناواقف ہیں کہ ان  رازوں کے افشا    ہونے کا مقصد ہی گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔ انسان اور معاشرے پر ان کے بد اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ یہ فطرت کا ایک احسان ہے کہ انسانی اور معاشرتی بیماری کی تشخیص  در اصل اس کے علاج کا تقاضہ کر رہی ہوتی ہے ۔ وہ خواہ اس کی معافی تلافی سے ہو یا  جزا و سزا سے ۔

لیکن جو انسان یا معاشرے اس کی تشخیص کے بعد بھی اس پر توجہ نہیں دیتے تو وہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ بیماری کے علاج  کی پہلی ذمہ داری انسان کے اپنے اوپر آتی ہے یا جو اس کا علم رکھتے ہیں ۔ جس طرح معاشروں کی بیماریوں کا علاج  انسانوں  کی اجتماعی ذمہ داریوں  پر ہوتا ہے اسی طرح ریاستی  جرائم کا علاج عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ اور ایک ریاست اور اس کے شہریوں کی عزت، شہرت اور دولت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اس ریاست کے ذمہ داروں پر ہوتی ہے کہ وہ اس جرم کو معقول منطقی انجام تک پہنچائیں ۔جس سے ریاست کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ ہو جو عوام کا ایک اجتماعی نقصان ہوتا ہے اور افراد کے ذاتی نقصان کا بھی ازالہ اور داد رسی ہوسکے۔

ریاست کے انتظامات کو سنبھالنا کوئی  کھیل یامشغلہ نہیں بلکہ عوام کی دی ہوئی ایک ذمہ داری ہے  جس کی جوابدہی بھی ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریوں  میں کوتاہی  یا شفافیت ، غیرجانبداری اور برابری کی بنیاد پر سرانجام دینے سے ناکامی  کی صورت میں پھر وہ  ذمہ داران بھی اسی طرح جرم کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں جس طرح سے ان کے درپیش غلطیوں  ، گناہوں یا جرائم کے مرتکب ۔ اپنے فرائض سے کوتاہی کی صورت وہ بھی فطرت کے نظام کی پکڑ میں آسکتے ہیں اور پھر ان کی جوابدہی اور احتساب کے لئے جب نظام   فطرت حرکت میں آتا ہے تو نئے ذمہ داران ان کی جگہ لے چکے ہوتے ہیں ۔

اب حکومت پر یہ ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ وہ بے نقاب ہونے والوں کا احتساب  آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر شروع کریں اور اس کو شفافیت، غیر جانبداری اور برابری کی بنیاد پر قائم نظام کے حوالے کردیں۔آگے جس جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اپنے اختیارات کو قوم کی امانت سمجھ کر ان کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  آگے بڑھاتا چلا جائے اور اپنے آپ کو نظام فطرت  اور نظام ریاست سے سرخرور کروانے کا انتظام کرے ۔ ہر انسان موجود وقت  اور اختیار کو اللہ کا احسان سمجھے کہ ابھی یہ اس  کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اعمال کا انصاف اپنے ہاتھ سے کرلے اس سے پہلے کہ وقت اور اختیار اس کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اور کوئی اوراس کے اعمال پر فیصلے کر رہا ہو ۔ 

اسی طرح سے یہاں ہر کوئی بے نقاب ہوتا ہے ، فطرت کے نظام انصاف ، انتقام ااور مکافات عمل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے  اگر کوئی سمجھے تو۔

کوئی جج ہو، جرنیل  ہو، بیوروکرٹ ہو یا سیاستدان سب کے پاس اسی ریاست کے مہیا کردہ اختیارات اور وسائل ہیں جواس قوم کی امانت ہیں جن کا مقصد ریاست اور عوام کی فلاح و بہبود ہے نہ کہ ذاتی مفادات کے لئے انکا استعمال ۔ اور کوئی بھی اگر ان کے استعمال میں کوتاہی ،من مانی  یا ان کا غلط استعمال کرے گاتو وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بچا نہیں پائے گا۔ غور کریں تو ہمارے ارد گرد  ہماری آنکھوں کو دیکھنے اور ذہنوں کو سمجھنے کے لئے مشاہدے موجود ہیں اور کوئی بھی آج سے سو سال پہلے والا موجود نہیں مگر اس کے اعمال تاریخ کی امانت بن چکے ہیں ۔ اس کے دنیا کے اسباب پیچھے رہ گئے ہیں ۔اس نے ان کو کس طرح اکٹھا کیا اس کا حساب وہ خود دے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے ۔ تاریخ کا  نظام انصاف اپنے فیصلے سنا رہا ہے اور ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کر رہا ہے ۔

حکمران ، جج ، جرنیل ، بیوروکریٹ ، سیاستدان یا جس جس کے پاس بھی جو ذمہ داری ہے ۔ یاد رکھیں کہ  ہم کسی کو بھی اپنی ذات کی حد تک کے نقصان اور سرزد ہونے والی غلطی کو تومعاف کر سکتے ہیں مگر ریاستی املاک کو پہنچے والے نقصان میں پوری قوم کا حصہ ہے اور کسی کو کوئی اپنی مرضی ،اس کے ساتھ تعلق، اس کی حیثیت یا اس کے رتبے کے لحاظ سے کوئی رعائت نہیں دے سکتا۔ اور جو کوئی اس نظام قدرت کے توازن میں بگاڑ کی کوشش کرتا ہے  تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

جب اللہ کے رسول ﷺکے پاس ایک لڑکی کے چوری کے جرم میں سزا پر سفارش کی گئی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی اپنی  بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہوتیں تو یہی سزا ملتی۔ اور وعید بھی سنائی کہ پہلے والی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ انہوں نے انصاف نہیں کیا۔ 

حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ اللہ  انسان کی عیبوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا ہے جب تک وہ  اخیر نہ کردے۔بالآخر وہ بے نقاب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ آج  جو لوگ اپنی زندگی میں بے نقاب ہو رہے ہیں ان پر بھی اللہ کا احسان ہے ،انکو موقع دیا گیا ہے کہ جن کی انہوں نے حق تلفی کی ہے ، ان سے معافی تلافی  کر لیں   تاکہ کل تاریخ یا آخرت کے کٹہرے میں ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ، غلطی یا جرم نہ ہو اور وہ اس دنیا سے سرخرو ہو کر جائیں ۔

پیر، 29 اگست، 2022

تحریک انصاف کی معاشی سرنگ بے نقاب

آجکل پاکستان ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ایک تو پاکستان کی معاشی صورتحال بہت خراب تھی اور اوپر سے سیلاب کی صورت میں آزمائش قوم کے کاندھوں پر آن پڑی  جس سے بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے اور کروڑوں لوگ خوراک اور بنیادی ضروریات کی انتظار میں ہیں ۔ پوری قوم اس مشکل گھڑی میں اپنی اپنی استعداد کے مطابق حصہ لے رہی ہے مگر ایسے میں تحریک انصاف سے شکوہ کیا جارہا تھا کہ وہ اب بھی اپنی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ابھی  ان شکوؤں کا سلسلہ جارہی ہی تھا کہ ایک اور انکشاف سامنے آگیا ہے ۔

جس میں تحریک انصاف کے مالی امور کے ماہر اور سابق خزانہ شوکت ترین کی آڈیو ریکارڈنگ جس میں وہ  خیبر پخوتنخواہ کے وزیر خزانہ  تیمور جھگڑا سے بات کر رہے ہیں جو بڑے کھل کر مرکزی حکومت کے ساتھ جھگڑنے کا پوری جرات اور توانائی کے ساتھ  اظہار اور عمل کا یقین دلا رہے ہیں ۔ اور ساتھ ہی وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بھی یہی بات کی ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھنا ہے جس میں معاہدے کی پاسداری سے معذرت کرنی ہے کہ وہ اس پر عمل نہیں کر سکتے کیونکہ سیلاب کی وجہ سے ان کے اب اخراجات بڑھ گئے ہیں ۔ اور ساتھ ہی بہت قابل اعتراض الفاظ میں وفاقی حکومت کو سبق سکھانے اور مشکلات پیدا کرنے کی نیت کا بھی اظہار کرتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ پنجا ب کے وزیر خزانہ سے بھی بات کرتے ہیں مگر پنجاب کے وزیر خزانہ اس پر اسرار کر تے ہیں کہ اس سے  ملک کی معیشت کو نقصان تو نہیں ہوگا ۔ اور پھر یہ بھی  پتا  چلتا ہے کہ وہ اس طرح کے کسی خط کو لکھنے سے انکار بھی کردیتے ہیں جو  بہت ہی احسن سوچ ہے اور اس سے پنجاب حکومت کی مثبت سوچ کی داد دینی چاہیے اور اس کا کریڈٹ یقیناً وزیر اعلیٰ کو بھی جاتا ہے ۔ اب تو ویسے بھی انکشاف کے بعد اس طرح کے معاملات کو جاری رکھنا دونوں حکومتوں کے لئے مشکل ہوجائے گا ۔

اب اگر تحریک انصاف کے اس اقدام کو  سیاق و سباق کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا اظہار فواد چوہدری بھی  ایک پروگرام میں کرچکے ہیں اور پھر ان کی اس نیت کے تانے بانے ان کے حکومت میں ہوتے ہوئے کئے گئے فیصلوں سے بھی جڑتے ہیں جس میں وفاقی  حکومت کو ہاتھ سے جاتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے سب سڈیز کے زریعے سے جو معاشی سرنگیں بچھائی تھیں جس کا پی ڈی ایم کی حکومت اکثر ذکر کرتی ہے ، کی تصدیق بھی ملتی ہے ۔ کہ جو حالیہ انکشاف   کی طرح کی نیت رکھتے ہوں ان سے  کوئی بھی توقع  کی جاسکتی ہے ۔

اب اس انکشاف کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ جماعت کے طرف سے اس  بارے کیا وضاحت آتی ہے ؟  ابھی تک جو اسد عمر اور  کے پی کے کے وزیرخزانہ  نے ایک  ساتھ جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں وضاحت کرنے کی بجائے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں  جو کہ ان کی حسب معمول عادت ہے ۔۔ جیسا کہ شہباز گل کے بیان پر بھی انہوں نے مزمت کی بجائے مخالفیں بارے  ماضی کے ایسے ہی واقعات کا پرچار کرتے رہے ۔ اب بالکل اسی طرح سے وہ اس معاملے کو بھی چلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

پاکستان کے  غیر جانبدار حلقے تو حیرانگی کا اظہار کر ہی رہے ہیں مگر اس پر تحریک انصاف کو کہاں تک شرمندگی ہوتی ہے یہ عمل سے ظاہر ہوگا جس کی کوئی توقع نہیں کیونکہ ان کی نیت صاف ظاہر ہورہی ہے ۔ عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے لئے کوئی من گھڑت کہانی بنا سکتے ہیں جس کو حسب معمول یو ٹرن کا نام دے کر اعلیٰ صلاحیت سے تشبیہ دینے کی کوشش کریں گے مگر ابھی تک کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جماعت کی سطح کی پالیسی تھی جس میں جماعت کی اعلیٰ قیادت بھی شریک تھی ۔

اب اس میں کہاں تک وفاقی حکومت کے لئے وہ مشکل کھڑی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یہ تو بعد کی بات ہے مگر ان کے بے نقاب ہوجانے سے لگتا یوں ہے کہ اب تحریک انصاف کی مقبولیت کا پہیہ الٹا چلنا شروع ہوگیا ہے ۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی غلطیوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا رہتا ہے جب تک وہ انتہا نہ کردے ۔ تواس ریکارڈنگ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی سازشوں کی انتہا ہونے کو ہے ۔ کیونکہ شوکت ترین جیسا تجربہ کار آدمی اتنی بڑی بات فون پر کر کے بے نقاب ہورہا ہے ۔

پاکستان کی قومی سطح کی  جماعت کی طرف سے اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ عمل کوئی چھوٹی بات نہیں ۔ ان کی چار سالہ کارکردگی پر تو پردہ پڑ گیا تھا ۔ جس کی وجہ  وفاقی حکومت  کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی تھی مگر اب تحریک انصاف اپنی ماضی کی زیرو  کارکردگی کے طرح سے خود ہی اپنے عملوں سے بے نقاب ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ اور عوام کے سامنے کھل کر آنا شروع ہوگئی ہے ۔ عوام جو ان کی کارکردگی کو بھول چکی تھی اس کو انہوں نے پھر سے اپنی صلاحیتوں اور نیتوں کے زریعے سے سمجھانا شروع کر دیا ہے ۔

اس سے اب تحریک انصاف ہی صرف بے نقاب نہیں ہوگی بلکہ عوام بھی بے نقاب ہوگی کہ وہ اتنے بڑے انکشاف کے باوجود بھی اگر تحریک انصاف کی ہی حمائت کرتے ہیں تو پھر کہنا پڑے گا کہ

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

”ظَهر الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَهم بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهم یَرْجِعُوْنَ“․(الروم:۴۱)

ترجمہ: ”خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب خرابی پھیل رہی ہے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھادے؛تاکہ وہ باز آجائیں“۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے : ”وَمَآ أَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ“․ (الشوریٰ:۳۰)

ترجمہ:”اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے کاموں سے (پہنچتی ہے) اور بہت سارے (گناہوں) سے تو وہ (اللہ تعالیٰ) درگزر کردیتا ہے“۔

تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ حسن بصری کے الفاظ میں حکمران عوام کے اعمال کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں ۔ اگر عوام اب بھی کسی کے عمل سے نہ سمجھ سکے تو پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام ابھی اس امتحان سے سرخرو ہونے کے قابل ہی نہیں ہوئے ۔

ایک حکومت کے اعمال کی بدولت مشکلات سے جان چھوٹتی ہے تو دوسرے میں پھنس جاتی ہے ۔ سب ایک ہی ڈگر پر چلتے نظر آتے ہ

یں ۔ جس کی مثال موجودہ حکومت کی مخالفت میں اندر سے ہی  آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں ۔ اور قرض کے حصول کے لئے بڑی بڑی شرائظ کی قبولیت کوئی قابلیت کی نشانی بھی نہیں ۔

اس وقت تحریک انصاف کسی خوش فہمی میں  نہ رہے کہ عوام ان کے ساتھ ہے ۔ عوام ان کے ساتھ نہیں بلکہ مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت کے خلاف ہے اور اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں چونکہ اکٹھی ہیں اور وفاقی حکومت میں شامل ہیں جس نے بیرونی اور ملکی مالی معاملات کو چلانا ہوتا ہے لہذا ان کی مخالفت  میں وہ اکیلے ہیں تو ان کو فائدہ ہورہا ہے ۔ اور دوسری طرف اس وقت بھی پاکستان کے دو تہائی میں ان کی صوبائی حکومتیں ہیں اور ان کی کارکردگی بھی دیکھ جانی ہے جو کہ ابھی سیلاب میں اور مالی معاملات میں وفاق کے ساتھ رویے سے بخوبی ظاہر ہورہی  ہیں ۔

وفاقی حکومت  میں شامل جماعتوں کو بھی چاہیے کہ پاکستانی عوام کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے تحریک انصاف کو حکومتی پالیسیوں کی مخالفت میں اکیلے نہ چھوڑیں بلکہ عوام کو کوئی آپشن مہیا کریں ۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس پر نواز شریف توجہ دینگے اور عوام کے درد کا ساتھ دینے کے لئے میدان میں نکلیں گے  اور عوام کے دکھوں کا مداوا  بنیں گے  جیسا کہ ان کے حامیوں کی طرف سے آوازیں آنا شروع بھی ہوگئی ہیں ۔  

 


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین