سوچ کی غذا

‏chief misistr لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏chief misistr لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 21 فروری، 2026

مریم نے عوام کو گُڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے؟

آجکل مریم کے لگژری جہاز کے تذکرے بھی بسنت کی گڈیوں کی طرح اونچی اڑان پر ہیں۔  یہی رویہ قوم کے شعوری ہونے کی نشانی ہوتا ہے۔ سوال کرنا قوم کا حق اوراس کا تسلی بخش جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس پر پنجاب حکومت کا وضاحتی جواب بھی آچکا ہے جس میں وہ اس طیارے کی خریداری کے مقصد کو پنجاب ائیر میں شمولیت بتا رہے ہیں جبکہ اس طیارے کو ابھی تک پاکستان میں رجسٹر نہیں کروایا گیا لیکن اس مختصر وضاحت کے بعد عوامی سطح پر کئی اور سوال جنم لے رہے ہیں مثلاً یہ کہ یہ طیارہ عوامی مسافروں کے لئے نہیں بلکہ کاروباری یا اداروں کے ذاتی استعمال والا ہے یا اگر پنجاب حکومت میں اتنی صلاحیت تھی تو وہ پی آئی اے کو ہی خرید کر اپنا شوق پورا کر لیتے لیکن اب اس میں کیا حکمت ہے کہ انہوں نے قومی ائیر لائین خریدنے کی بجائے اپنی نئی ائیر لائین متعارف کروانے کو ترجیح دیا اس کی تفصیلی وضاحت تو بہرحال پنجاب حکومت ہی دے سکتی ہے۔

حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لئے طیارے خریدتی رہتی ہیں اور سوشل میڈیا پر جہاں حکومت پر تنقید کی جارہی ہے وہیں لوگ حکومت کے حق میں بھی رائے دے رہے ہیں لیکن اس میں بنیادی نقظہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری تنقید یا تائید غیر جانبدارانہ ہو جو مکمل طور پر انا پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی سے آزاد ہو جس کا مقصد اصلاح ہو اور یہ  ہدف سے کسی بھی طرح کے تعلق یا واسطے سے مکمل طور پر بے نیاز ہو اور ایسی سوچوں کے قومی سطح پر یقیناً مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

عوامی شعور کے اس رویہ سے عوامی احتساب کے عمل کو تقویت ملتی ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس سے عوام کے اندر ملکی املاک کی ملکیت اور اہمیت کے احساس کی طرف اشارہ ملتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملکی معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

حکومت کو اب چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ وزیر سے پریس کارنفرنس کروایں اور عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے عوامی حوصلہ افزائی کے زریعے سے شعور کو اپنا موثر ہتھیار بنا کر ترقیاتی اور فلاحی کاموں میں مثبت نتائج کے لئے استعمال کریں تاکہ عوام اپنی صلاحیتوں کو فضول بحثوں میں استعمال کرنے کے بجائے اس کا اطلاق ترقیاتی کاموں کی نگرانی اوران میں شرکت کرتے ہوئے فعال بنانے میں استعمال کر سکیں۔

لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب حکومت عوامی سوالوں پر ان کو مطمئن کرتے ہوئے مکمل اعتماد حاصل کر کے ان کی سوچوں کی سمت کو درست کر سکیں اور حکومت پنجاب نے اس کے لئے کئی عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن میں وزیر اعلیٰ سے شکایات کا پورٹل اور صوبائی محتسب کو با اختیار بنانے کے اقدامات ہیں۔ 

اب یہ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کس قدر اپنے شفافیت، برابری اور خود احتسابی کے دعووں میں مخلص ہیں اور اسے بہترین موقعہ سمجھتے ہوئے اس سے عوامی مقبولیت اور خدمت کے مواقعوں کو تلاش کرنا ہوگا یہی وہ موڑ ہے جہاں اکثر حکومتیں لا پرواہی اور اپنے آپ کو جوابدہی کے عمل سے ماورا سمجھتے ہوئے ناکام ہو جا یا کرتی ہیں اور قوم یہ کہنے میں بجا ہو گی کہ مریم نے قوم کو گڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے ہیں

بدھ، 7 جنوری، 2026

خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نہیں ریفرنڈم کروایا جانا چاہیے

اس وقت کے پی حکومت پاکستان کی سلامتی سے لے کر فیڈریشن سے براہ راست ٹکراؤ  کی پالیسی پر چل رہی ہے جس سے نہ صرف دہشتگردی کو دوستانہ ماحول بلکہ جمہوریت کے اندر باہمی ٹکراؤ کا بھی تاثر مل رہا ہے جس کا بر ملا اظہار کل کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس میں بھی واضح تھا۔

پچھلے دو سالوں میں انہوں نے کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس میں احتجاج سے لے کر وفاق پر دھاوے تک کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ فوج کے سربراہ پر الزامات لگائے گئے جبکہ وہاں کی عوام فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ ان تمام تر ہتھکنڈوں کی ناکامی کے بعد اب وہ پھر سے ایک بار مظلوم بننے کی راہیں ڈھونڈھ رہے ہیں جس کی آخری کڑی کے طور پر وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو ایشو بنا کر اپنی آخری سانسیں لیتی سیاست کو آکسیجن مہیا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جس کا مقصد عوامی ہمدردیوں کے حصول کی کوشش ہے۔ جہاں تک کہ وہ صرف کے پی میں ہی نہیں دوسرے صوبوں میں بھی وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں سیاسی جلسے جلوس نکال رہے ہیں۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں خواہ گورنر راج ہی لگ جائے۔

کیونکہ اب وہ صوبے میں تیرہ سال کا وقت ضائع کر بیٹھنے کے بعد کارکردگی کی دوڑ میں عوامی پزیرائی حاصل کرنے کے ناممکن حالات کے ہاتھوں مجبور اپنی سیاست کو کسی طرح زندہ رکھنے کے بہانے ڈھونڈھ رہے ہیں۔

لیکن وفاقی حکومت کو اس حساس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی نبض شناسی کرتے ہوئے عوام کی خواہش کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا اشارہ انہیں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ملنے سے دیا جا چکا ہے۔

وہاں کے عوام کو اب اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا ہے جو وہ ہمدردیوں کے بیانیے کے ہاتھوں یرغمال ہو کر کر چکے ہیں۔ اب وہ نہ صرف غربت اور بے روزگاری میں پس رہے ہیں بلکہ دہشت گردی نے انکی زندگی بھی اجیرن کر رکھی ہے جس کو دوستانہ ماحول بھی انکی اپنی ہی صوبائی حکومت مہیا کر رہی ہے۔ انکو یہ بھی اندازہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو ملک میں داخل کرنے والی پالیسی کی خالق جماعت بھی پی ٹی آئی ہی ہے۔

اب حکومت کو ضمنی انتخابات میں دئے گئے مینڈیٹ کے احترام میں عوامی رائے کو مقدم جانتے ہوئےکوئی ایسا موقعہ مہیا کرنے کا ماحول دینا چاہیے جس سے وہ اپنی غلطی کا ازالہ کر سکیں اور اس کے لئے بہتریں حکمت عملی ایک ریفرنڈم ہے جس میں عوام سے دوبارہ مینڈیٹ کے اظہار کے لئے صوبائی انتخابات کی طرف جانا ہے جو انکی موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی نگرانی میں ہی الیکشن کمیشن سے کروایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے دھاندلی کا شائبہ نہ رہے۔

آرٹیکل 48(6) کانسٹیٹوشن آف پاکستان صدر پاکستان کو اپنی ذاتی صوابدید یا وزیر اعظم کی ہدائت پر کسی بھی قومی سطح کے معاملے پر عوامی رائے کو حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کے اختیارات دیتا ہے۔ جس کے تحت پارلیمان کی منظوری کے بعد اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سب آرٹیکل 7 اس کے طریقہ کار کو وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ 

اور اگر کے پی کے عوام کی اکثریت دوبارہ صوبائی انتخابات میں جانے کا اظہار کرے تو انہیں دوبارہ سے اپنی نمائندہ حکومت بنانے کا چانس دیا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف عوام کو انکی مرضی کی حکومت ملے گی بلکہ وفاقی حکومت کی کسی دوسری حکمت عملی سے پی ٹی آئی کے مظلوم بننے کی کوششیں بھی دم توڑ جائیں گی۔

اس وقت ریفرنڈم دہشتگردی کے خاتمے، ملک میں سیاسی استحکام، اداروں پر بے جا الزامات سے چھٹکارہ اور کے پی کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی نا گزیر ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کو بھی اپنے عوامی مینڈیٹ کے گھمنڈ کی اصلیت کا اندازہ ہو جائے گا کہ عوامی مینڈیٹ کی استقامت کے لئے ضروری ہے کہ عوامی خدمت میں کارکردگی بھی ہو محض مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیوں کے سہارے سیاست ہمیشہ نہیں کی جا سکتی۔   

ہفتہ، 6 جنوری، 2024

جمہوری نظام کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے چلایا جائے

انتخابات کے انعقاد اور ملتوی کروانے کے دونوں بیانیے زور و شور سے جاری ہیں اور انعقاد بھی غیر شفافیت اور جانبداری کے خدشات کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ کوئی موسمی سردی اور امن عامہ کو بنیاد بنا کر ملتوی کروانا چاہتا ہے تو کوئی اس کے انعقاد سے متعلق انتظامی بد عنوانیوں کے خدشات کے پیش نظر اس سے راہ فرار تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔

ہمارے سیاسی حلقوں نے اپنے اعمال سے ایسا تاثر پیدا کر دیا ہوا ہے کہ گویا جمہوری نظام اس ملک میں ناکام ہوچکا ہے جب بھی جمہوریت سُکھ کا سانس لیتی ہے تو کوئی نہ کوئی جمہوری غدار اس پر شب خون مروا کر اسے کبھی ہائبرڈ مین کے ہاتھوں یرغمال بنوا دیتا ہے تو کبھی یہ مفاہمتی ہتھکنڈوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پھر ہمارے سیاسی پنڈت اپنے فرمودات جاری کرنے لگتے ہیں کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا۔ جو انتہائی قابل افسوس اور باعثت شرم موقف ہے۔ جب کسی کے مد مقابل کھڑے ہوں تو یہ جواز نہیں پیش کیا جاسکتا کہ مجھے جیتنے نہیں دیا جارہا بلکہ اپنی طاقت، جرات اور حکمت عملی سے دنگل جیتے جاتے ہیں۔ ماحول تو ہلا شیری یا ہار جیت کا اعلان ہی کر سکتا ہے۔ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لئے کبھی نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی اپنی بے بسیوں پر ہمدردیوں کی بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب تو ہوا کہ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ نہ ان کو کوئی کام کرنے دے گا اور نہ یہ پارلیمانی نظام کامیاب ہوگا۔

جب آئین و قانون ان کو نظام کے اندر بالا دستی دیتا ہے تو پھر اپنے ان حقوق اور منصب کو انہوں نے اپنی جرات اور حکمت سے ہی منوانا اور حاصل کرنا ہے جس کے لئے جذبے، دلیری اور قربانیوں اور سب سے بڑھ کر ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر سیاست کو کاروبار یا اختیارات کے حصول کو اپنی اجارہ داری کا مقصد بنا لیا جائے تو پھر ایسی سیاست کبھی بالادستی کی ضامن نہیں بن سکتی۔ وہ بھی ریاست کے وسائل اور اختیارات کے بلبوتے پر ذاتی مفادات کی خاطر سب کچھ کرتے ہیں اور تم بھی اگر آزادی ملے تو ان سے کم نہیں۔

اس کے نتائج کو اکثر متازع بنا کر پارلیمان کو عوامی امنگوں کے مطابق قومی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں جس نے سیاسی عمل میں بد اعتمادی پیدا کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاستدانوں کی ان کمزوریوں کے تحت پارلیمان کے اجلاس بھی انٹیلی جنس کی مدد سے چلائے جاتے رہے ہیں اور جب کہیں ان کی خواہشات کے بر عکس پارلیمان نے چلنے کی کوشش کی ہے تو آمریت کے ہاتھوں نظام ہی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

آج تیسری دفعہ پارلیمان کے ایوان بالا میں الیکشن کے التوا کے لئے قرارداد جمع کروائی گئی ہے اسے اگر جمہوری کہنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس میں دانشمندی یا سیاسی شعور کی موجودگی کا اعتراف بھی نا ممکن ہے۔ اور اس پر جو تبصرے ہورہے ہیں وہ بھی ربوٹک جمہوریت سے کم تو نہیں۔ جب اجلاسوں کے احکامات اور ایجنڈے کہیں اور سے آنے ہیں تو پھر یہ کام تو ربوٹک پارلیمان بہتر طریقے سے ادا کر لے گی۔

 اسے اگر آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے مزین کرکے آئین و قانون اور اگلے پانچ یا دس سالوں کے ترقیاتی منصوبے دے دیئے جائیں گے تو ان نام نہاد ربوٹس سے تو وہ حقیقی ربوٹک پارلیمان بہترین وژن دینے کے قابل ہوگی۔

تو ایسے حالات میں جب قوم اس کے انعقاد پر تذبذب کا شکار ہے تو کیوں نہ انتخابات کو سیاستدانوں کے درمیان کسی جمہوری معاہدے تک ملتوی کرکے ربوٹک پارلیمان بنا دی جائے اور غیر جانبدار اور غیر متنازع اچھی شہرت اور کردار کی حامل شخصیات پر مبنی ایک کونسل بنا دی جائے جو عوامی رائے اور امنگوں کی پاسداری کے لئے ان سے براہ راست حاصل کردہ تجاویز کی روشنی میں ربوٹک پارلیمان کو سفارشات پیش کرتی رہے۔ جس سے قوم کے 25 ارب کے لگ بھگ اخراجات بھی بچیں گے اور نظام بھی محفوظ رہے گا۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ نہ روز انتخابات ہوں اور نہ روز روز پارلیمان آمریت کے ہاتھوں یرغمال ہوکر سیاست اور جمہوریت کے لئے رسوائی کا موجب بنے۔ ان کی بانسری نے پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر دیا ہے۔

ویسے بھی اگر دیکھیں تو ماضی کی پارلیمان میں اکثریتی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض پارلیمان کا حصہ ہوتے ہیں ان کی قانون سازی میں کارکردگی برائے نام ہوتی ہے۔  قوانیں پر عملدرآمد کا کوئی حل نہیں ڈھونڈھ پاتیں اور پھر جو قوانیں بناتی بھی ہیں ان میں تضادات اور ان سے ابھرنے والے سیاسی مسائل ہی اتنے ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ عوامی مقدمات پر توجہ دینے کی بجائے قوانین کی تشریحات پر لگی رہتی ہے۔ اب انتخابات کو وہ زبردستی کروانے کی ٹھان کر بیٹھے ہیں تو 8 فروری تک پاکستان کی ساری عدالتیں انتخابات کے بارے مقدمہ بازی کو ہی نمٹائیں گی اور اس سے کوئی خوش بھی نہیں ہے۔ باقی آمدن اور اخراجات کے ہندسوں کی جمع تفریق ہی ہے جس کو ربوٹک پارلیمان بغیر کسی غلطی کے خدشے کے احسن طریقے سے سر انجام دے لے گی۔ اور قراردادوں کے زریعے سے اگر عدلیہ اور دوسرے اداروں سے اپنے اختیارات کی بھیک ہی مانگنی ہے تو اس کی ربوٹک پارلیمان نوبت ہی نہیں آنے دے گی جب اس کو آئین و قانون اوراگلے پانچ سالوں کے منصوبوں بارے ڈیٹا دے دیا جائے گا تو غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومتی مشینری کو پورا شیڈیول دے دے گا اور اگر کوئی اس شیڈیول کے مطابق نہیں چلتا تو اس پر جرمانہ بھی عائد کر دے گا۔ اس پر عملدرآمد ویسے بھی حکومتی مشینری کے موڈ پر منحصر ہوتا ہے۔

ہاں اگر سیاستدانوں کو عہدوں کا حوس ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ وزیر اعظم کے لئے سادہ اکثریت سے 172 ارب دو تہائی کے لئے 228 ارب کی قیمت رکھ دی جائے اور قومی  وزارتوں کی قیمت سات سات ارب اور صوبائی کی پانچ پانچ ارب رکھ دی جائے۔ ایسے ہی صوبائی اسمبلیوں کی بھی اعداد کے مطابق قیمت متعین کی جاسکتی ہے۔ جو بھی علامتی طور پر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا وزیر بننا چاہے وہ رقم خزانے میں جمع کروا کے ربوٹک پارلیمان کو ثبوت جمع کروا دے اور اگر کوئی دوران عرصہ اسمبلی عدم اعتماد کے زریعے سے عہدہ حاصل کرنا چاہے تو پہلے والے کی ادا کی گئی رقم کو لوٹا کر اس کے برابر خزانے میں جمع کروا کر عہدہ حاصل کر سکتا ہے۔

 جب ایک ایک ممبر مبینہ طور پر ایک ایک ارب تک کے لگ بھگ اپنے حلقوں میں خرچ کرسکتا ہے تو پھر وہ اس عہدے کے لئے خزانے میں رقم کیوں نہیں جمع کروا سکتا۔ اسی طرح پارلیمان کے ایوان بالا کے لئے تو پہلے بھی یہی فارمولے چلتے ہیں جو مختلف لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں اس ربوٹک نظام کے زریعے سے وہ خزانے میں آئیں گے۔ صوبوں کے حساب سے جتنی سیٹیں ہیں ان کی بولی کروا لی جائے اور زیادہ آفر دینے والوں کو ممبران چن لیا جائے۔

انتخابات سے لے کر وزیر اعظم اور سینٹ کے انتخاب اور بعد کے سارے معاملات جب پہلے سے ہی مالی بے ضابطگیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں تو کیوں نہ ان کو مالی ضابطوں کے ماتحت لا کر عوامی فلاح کا زریعہ بنا دیا جائے۔ جو ماضی میں عوام کے نام پر مالی اداروں سے قرضے لے کر عیاشی کرتے رہے ہیں وہ اگر شوق سیاست و حکومت اور اختیارات و اجارہ داری رکھتے ہیں تو پھر اپنی جیب سے ملکی قرضوں کو ادا کریں اور عہدوں کے مزے لیں۔

حد ہوگئی ہے، ہماری ان زاتی مفادات اور خواہشات کے گرد گھومتی سوچوں نے پارلیمان، سیاست، جمہوریت اور حتیٰ کہ ملک و قوم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہماری اخلاقات کا یہ حال ہے کہ اس سے انسانیت بھی شرمندہ دکھائی دیتی ہے۔ ہم مسائل کو حل کرنے کی بجائے مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں اور مرغوں کی طرح ایک دوسرے کو لہولہان کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارے اندر مہذب معاشروں والی کوئی خصلت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تو اس سے بہتر نہیں کہ نظام کو خود کار کر دیا جائے وہ دنیا کے بہتریں نظاموں اور بہتری کے اصولوں کو اٹھا کر لاگو کرتا رہے گا۔ اسی طرح اداروں میں بھی جہاں جہاں بے ضابطگیاں ہیں وہاں بھی ربوٹک نگران مقرر کر دئے جائیں جو آئین و قانون کے مطابق حکم صادر کرتے رہیں۔ کم از کم انسانیت کی تذلیل تو نہ ہو۔ دور جدید کی انسان کی بنائی ہوئی مشینری انسان سے زیادہ فعال، وفادار اور ایماندار ہوگئی ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور انسانوں کو سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاقیات، وفاداری اور ایمانداری کے حصول تک اپنی اصلاح کے لئے فارغ چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان کو پہلی ربوٹک پارلمینٹ ہونے کا عالمی اعزاز بھی مل جائے گا۔

آئین میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں لیکن انتخابات کو ملتوی کروانے کا آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے جو ہر آئے دن کوئی نہ کوئی نئی منطق کے ساتھ وارد ہو جاتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر جمہوریت لانے کے لئے تیار نہیں اور جو انٹرا پارٹی انتخابات کرواتی بھی ہیں تو اپنے بنائے ہوئی پارٹی آئین کا بھی خیال نہیں رکھ پاتیں اور آئینی اداروں کے اختیارات اور ان کی خود مختار حیثیت کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں دکھائی دیتے۔ ہر معاملہ خاص بندوبست سے چلانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں انتخابات عوامی خدمت کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کی حصول کے لئے کروانا چاہتی ہیں۔ نہ کوئی سیاسی اصولوں کی پاسداری ہے اور نہ کوئی جمہوری اقدار کی۔ 

جمعرات، 4 اگست، 2022

سیاسی موسم بدلنے لگا ہے


قدرتی موسم کے ساتھ ساتھ سیاسی موسم بھی بدلنا شروع ہوگیا ہے جس کے اشارے واضح نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ اچانک فیصلوں میں تبدیلی کا تعلق یقیناً اگر ایمپائر کی انگلی سے نہیں بھی تو انگوٹھے سے ضرور ہے ۔الیکشن کمیشن کے خلاف ریفرنس  نے چند  گھنٹوں بعد ہی واپسی کی راہ لے لی ہے  ۔ شائد اس کے پر جلنا شروع ہوگئے ہوں ۔  صبح والا موڈ  دوپہر کو بدلا بدلا لگ رہا تھا ۔  آج ہی عمران خان صاحب نے انکشاف کیا تھا کہ الیکشن کمشنر کا نام نیوٹرلز نے دیا تھا ۔  ہوسکتا ہے کہ  اس وقت نام کی چٹ دینے والے نے ہی  خان صاحب  کے کان میں  سرگوشی کی ہو کہ اگر  الیکشن کمشنر کا نام نیوٹرلز کی طرف سے دیا گیا تھا تو پھر تو اس کے نیوٹرل ہونےپر شک کیا ہی نہیں جاسکتا ۔ لہذا چھوڑیں فضول باتیں تو انہوں نے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی  کرنا شروع کر دی ہو ۔

ویسے بزنس کمیونٹی نے بھی خان صاحب کی منت کی ہے کہ معیشت کو آزاد کریں اور نظام کو چلنے دیں ہوسکتا ہے ان کی سمجھ آگئی ہو  کیونکہ ڈالر کا تیزی سے نیچے آنا بھی اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہورہا ہے ۔ یا کل مولانا طارق جمیل صاحب آئے ہوئے تھے ، وہ بھی تو پہنچے ہوئے بزرگ ہیں  ہوسکتا ہے انہوں نے ہی کوئی دم درود یا دعا کی ہو کہ غصہ جانے دیں اور بدلتے موسم کی مطابقت سے بندوبست کرلیں ۔ کیونکہ مولوی تو مولوی کے رمزوں کو جانتا ہوتا ہے ۔ ان کو فضل الرحمن کے تیوروں کی سمجھ آگئی ہوگی کہ وہ خالی بڑھکیں نہیں مارتے ۔

انہوں نے تابڑ توڑ حملوں کا آغاز بھی کردیا ہے جس کا آغاز آج الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف ریفرنس ہے ۔ ادھر رانا ثناءاللہ کی حکمت عملیاں بھی کام کر رہی ہیں ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی صاف چلی شفاف چلی تو دلکش ماحول اور موسم میں ہی چلتی ہے ۔ تھوڑی سی  بھی اگر سیاسی موسمی تبدیلی کی انکو خبر ہوجائے تو وہ باہر نکلنے سے احتیاط ہی برتتے ہیں ۔

انصافی بنچ بھی اب کسی کا دفاع کرنے کی بجائے اپنا دفاع کرتے  لگ رہے ہیں کیونکہ خطوں کا سلسلہ  عروج پکڑتا جارہا ہے ۔ کیونکہ ججز سمجھتے ہیں کہ جب سپریم کورٹ پر تنقید ہوتی ہے تو اس کا حصہ ان کو بھی آتا ہے مگر ان کا عمل دخل  نہیں  ہے   لہذا اب ان کو بھی تنقید سے حوصلہ ملا ہے اور انہوں نے بھی اپنے دل کی باتیں خطوں کے حروف کو سونپنا شروع کردی ہیں ۔ اب ہوسکتا ہے کہ  بنچوں کی تشکیل اور ججوں کی تعناتیوں سے پہلے وکلاء کی رولز بنانے کی کوشش رنگ لے آئے اورا س طرح سپریم کورٹ کا تنقید سے بچنے کا کوئی حل نکل آئے ۔  

عمراں خان صاحب نے چند ماہ میں کئی ایسے انکشافات کئے ہیں جن سے انہوں نے اپنے  وزارت عظمیٰ کے منصب  کے اختیارات کا پول خود ہی کھول دیا  ہےکہ وہ کتنے بااختیار تھے ۔  جو اپوزیشن کے ہائبرڈ حکومت کے دعوے کو تقویت دے رہا ہے۔  کتنی عجب بات ہے کہ  ہمارے سیاسی مجاہد جب اختیارات پاس ہوتے ہیں تو استعمال نہیں کرتے اور جب اختیارات  چلے جاتے ہیں تو پھر ہاتھ  ملنا شروع کردیتے ہیں  ۔

عمران خان صاحب کی ایک بات تو قابل تعریف ہے کہ وہ یو ٹرں لینا قائدیں کی اعلیٰ خوبی سمجھتے ہیں اور جب بھی مشکل پیش آئے ہولے سے یو ٹرن لے کر خطروں سے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں ۔ لیکن اب لگتا یوں ہے کہ اگر انہوں نے منہ موڑ بھی لیا تو ان کے خلاف ریفرنس اب ان کا پیچھا چھوڑنے والے نہین ۔ کیونکہ حکومت کا اعتماد اب ڈانواں ڈول ہوا لگتا ہے ۔ وہ اب کوئی پکی چال ہی چلنا چاہتے ہیں  اور وہ اب اپنا دباؤ بڑھاتے ہی جارہے ہیں ۔ ابھی ابھی سپریم کورٹ میں بھی ڈیکلرییشن جمع کروا دیا گیا ہے ۔

عمران خان  کو بھی یقیناً حکومت کے ارادوں کا اندازہ ہو رہا ہوگا کہ اب انہوں نے مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر سیاسی برابری کے بیانیوں کے علم کو اٹھا لیا ہے اور اس  ۔ کے اثرات بھی مثبت لگ رہے ہیں کیونکہ کچھ فیصلے یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اب موسم کی تبدیلی سے ان کی سانس  تھم رہی ہے ۔ آج کچھ خبریں  سیاسی ہلچل کی نوید بھی سنا رہی ہیں جن میں نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ بھی سننے میں آرہا ہے اور انہوں نے آنے سے پہلے حمزہ شہباز شریف کو بھی اپنے پاس بلا لیا ہے کہ بچے تم بتاؤ تمھارا کیا خیال ہے تمھاری چند دن کی بادشاہی کی خبریں کیا بتاتی  ہیں کہ اندر کے حالات کیسے ہیں ۔ مجھے دوبارہ سے ووٹ کو عزت  دو کے بیانیے کو لے کر چلنا پڑے گا یا ویسے ہی کوئی ہموار راہ نکل آئے گی ۔

بظاہر تو پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی حکومت ہے مگر چوہدری صاحب   سے عثمان بزدار والے رویے کی امید  نہیں رکھی جاسکتی ۔ وہ تو اپنے خلاف احتجاج کرنے والے سیلابی متاثریں کو معاف نہیں کرتے  کسی اور کو کیوں کریں گے ۔  وہ چوہدری ہیں اور اگر کہیں  آتے جاتے کسی امیر زادے نے کہیں سے نعرہ کس دیا کہ چوہدری صاحب آپکو عمراں خان کے وہ الفاظ بھول گئے ہیں جب وہ  آپکو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا تو ان کے پرانے زخم بھی تازہ ہوسکتے ہیں ۔ اور عمران خان کو بھی یہ بخوبی معلوم ہے کہ اگر عمران خان نے ان کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی کوشش کی تو ان کو دوسری طرف سے پیش کش بھی میسر ہے ۔

وہ ویسے بھی الیکشن کمشنر کی طرح نیوٹرل قسم کے سیاستدان ہیں ۔ وہ سپیکر شپ کے دوران بھی حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے رہے ہیں ۔ اور  وہ وضع دار خاندانی لوگ ہیں ان کو ابھی وہ مٹھائی کا ذائقہ بھی نہیں بھولا ہوگا ۔ بلکہ ان کے خاندان کے اندر سے ہی لوگ ان کو اس بارے یاد دہانی کرواتے رہیں گے ۔ ویسے بھی مسلم لیگ  نے بھی تو ان کو یہ پیش کش کر رکھی تھی اور اگر وہ ان کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے تو ان کو چوہدری صاحب سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا ۔ اور وہ  پرانے سیاستدان ہیں وہ سیاست کے اتار چڑھاؤ سمجھتے ہیں خواہ مخواہ وہ ہوا کے گھوڑوں سواری والے سیاستدان نہیں ۔

عمراں خان اپنے پاؤں پر کلہاڑی کا وار کر بیٹھے ہیں ۔  ایک تو انہوں نے اگر صوبائی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دینے تھے تو پھر قومی اسمبلی کی سیٹو ں کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔ میں اس وقت زور دیتا رہا ہوں کہ واپس چلے جانا چاہیے ۔ کیا ہوتا خواجہ آصف کی دو چار منٹ باتیں ہی سننا پڑتیں مگر آج جو لوگ حکومت سے نالاں ہیں جیسا کہ  آفتاب شیرپاؤ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کی ڈھارس تو بن سکتے تھے ۔

خیر اب اگر تو انہوں نے قومی اسمبلی کی سیٹوں پر ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ کر لیا ہے تو پھر عوام کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا نئے الیکشن کا بیانیہ اب  سست پڑ چکا ہے اور خان صاحب کی توانائیاں سرد پڑ چکی ہیں  اور بدلتے موسم سے ہر آئے روز مزید ٹھنڈک بڑھتی ہی چلے جائے گی ۔ اب دسمبر میں گرمی کی توقع تو کی بھی نہیں جاسکتی ۔  

اتوار، 24 جولائی، 2022

تخت پنجاب اور آئین و عدل کے تقاضے

پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے انتخابات ایک   متنازع صورتحال اختیار کرچکے ہیں ۔ ظاہری طور پر عدم اعتماد ایک واضح اور سادہ طریقہ ہے مگر  پارلیمانی ممبران کی جماعت سے وفاداریوں کی تبدیلی کی صورت میں یہ الجھن کا شکار ہوا اور  بالآخر سپریم کورٹ پہنچ گیا  جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اس کا حتمی اعلان ضمنی انتخاب کے نتائج کے بعد کیا جائے جو بظاہر بہت ہی عجیب لگتا تھا کہ عدم اعتماد کے ووٹنگ ہوچکی تھی اور حمزہ شہباز کو زیادہ ووٹ پڑے تھے مگر اس  کے نتائج  کو مستقبل کے عوامل پر چھوڑا جارہا تھا ۔ فیصلہ اس وقت موجود اعدادوشمار پر ہی ہونا چاہیے تھا  مگر سپریم کورٹ نے تریسٹھ اے کی تشریح میں یہ طے کیا تھا کہ نااہل ہونے والے اراکین کے ووٹ کوئی حیثیت نہیں رکھتے  جس کی بنیاد پر عدم اعتماد کی ووٹنگ کو پھر سے چیلنج کر دیا گیا  اور پھر سپریم کورٹ نے  دونوں اطراف کی رضامندی  سے یہ کہا  تھا کہ ضمنی انتخابات کے بعد دوبارہ ووٹنگ ہوگی لہذا اس کا فیصلہ اب بائیس کو ضمنی انتخابات کے بعد ہونا تھا جو ہوا

جس کے نتیجے میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا اور اس کی آئینی صورتحال کو واضح کرنے کے لئے اب معاملہ  پھر سے ایک بار عدالت عالیہ میں ہے اور عدالت نے چیف منسٹر کو  سوموار تک عبوری عہدے کے طور پر کام کرنے کا کہا ہے اور سوموار کے دوبارہ اس معاملے پر عدالتی کاروائی شروع ہوگی ۔  اور یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا کہ اس کی رو سے پارٹی سربراہ کے خط  کے نتیجہ میں مسلم لیگ قائداعظم کے ووٹ سربراہ کی ہدائت کے خلاف استعمال  ہوئے اور گنے نہیں جاسکتے لہذا انہوں نے ان کو منسوخ کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو اپنا عہدہ  مستقل اور جاری رکھنے کا اعلان کیا جس پر انہوں نے اگلی صجح دوبارہ سے حلف بھی لے لیا  ہے۔

اب اس معاملے کے آئینی پہلو کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے بنچ پر تحفظات کے دعوے بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جن میں نمایاں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے بیانات ہیں جو بہت ہی سخت ہیں ۔  اور اب تو حکومتی اتحاد نے فل بنچ کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ سے باقائدہ رجوع کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔ اس کا بہرحال سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے ۔ اور متنازع ججز کو اپنے آپ کو اس بنچ سے علیحدہ کر لینا چاہیے یا پھر ان کے مطالبے کے مطابق موجود ججز کا فل بنچ بنا دیا جائے  اور جو ججز چھٹیوں پر ہیں ان کو بھی اگر چیف جسٹس چاہیں تو وڈیو لنک کے زریعے سے بنچ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بنایا تھا ۔ بہرحال یہ سپریم کورٹ کی صوابدید ہے اور وہ اس کا استعمال خوب جانتے ہیں ۔ لیکن سیاسی راہنماؤں کی طرف سے اس طرح کھل کر بولنا کوئی عام بات نہیں بلکہ ان کی پالیسی کی جھلک ملتی ہے جس میں شائد اب انہوں نے اپنے تحفطات اور خدشات کا اظہار کرنا ہی مناسب سمجھ لیا ہے ۔

اور جہاں تک آئینی پہلوؤں کا تعلق ہے تو اس میں اس بات پر تو کوئی دوسری رائے ہی نہیں کہ اگر کسی جماعت کا ممبر پارٹی کی ہدایات کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا دینے سے اجتناب کرتا ہے تو وہ اپنے عہدے سے فارغ ہوجائے گا ۔ اور اس کا طریقہ کار بھی آئین میں دیا گیا ہے جس کو آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کو دو ہزار دس  کی اٹھارویں ترمیم میں  سیاسی جماعتوں کے اراکین  کو وفاداریاں تبدیل کرنے سے روکنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے شامل کیا گیا تھا ۔  اور اسی کی تشریح کے لئے  صدر پاکستان نے دو ہفتے پہلے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجا تھا جس پر کاروائی عمل میں لائی گئی  اور فیصلہ یہ آیا تھا کہ وہ ممبران اپنی اہلیت کھو بیٹھے ہیں جس پر ضمنی انتخاب ہوئے اور نتیجتاً یہ نیا مسئلہ معرض وجود میں آیا ۔

اب تحریک انصاف کے امیدوار کو اختلاف  طریقہ کار اور اس بات پر ہے کہ یہ ہدایات کس کے طرف سے ہونی چاہیں اور کون کرے گا ۔ اس کے بارے میں آئین کے اندر  صاف موجود ہے کہ جماعت کا سربراہ ہدایات جاری کرے گا ۔ اور پارلیمانی قائد بھی سربراہ کی ہدائت اور مرضی سے ہی ڈیکلریشن جاری کرتا ہے ۔

تفصیل میں جانے سے پہلے دیکھ لیتے ہیں  کہ آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے کے متعلقہ اجزا کہتے کیا ہیں ۔

تریسٹھ ون  (اے)  بی کہتی ہے

Votes or abstain from voting in the House contrary to any direction issued by the Parliamentary Party to which he belongs in relating to…………….

اب اس میں پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی لیڈر کا

اب بنیادی نقطہ یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ قائد اعظم کے ممبران کی طرف سے  پارٹی ہدایات کے خلاف دئیے گئے ووٹ پرویز الہی کے حق میں   سمجھے یا گنے جائیں گے یا نہیں ۔ اس بارے سپریم کورٹ نے اپنے پچھلے فیصلے میں یہ کہا تھا کہ تحریک انصاف کے حمزہ شہباز کے حق میں دئے گئے ووٹ ریگارڈ نہیں کئے جائیں گے اسی لئے ضمنی الیکشن کے بعد دوبارہ ووٹس کے بارے حتمی فیصلہ ہوا تھا ۔  

He may be declared in writing by the Party Head to have defected from the political party, and the Head of the Parliamentary Party may forward a copy of the declaration to the Presiding Officer, and shall similarly forward a copy thereof to the member concerned:

اب اس وضاحت  کی رو سے یہ اختیار جماعت کے سربراہ کو دیا گیا ہے اس کا القاب کوئی  بھی ہوسکتا ہے ۔ اور اس میں پارلیمانی جماعت کا ذکر ہوا ہے نہ کہ پارلمانی قائد کا جو کہ بہت ہی واضح ہے جس کا شور تحریک انصاف کے کچھ اراکین مچا رہے ہیں کہ ساجد بھٹی نے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا تھا ۔

Provided that before making the declaration, the Party Head shall provide such member with an opportunity to show cause as to why such declaration may not be made against him.

اب اس میں پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت سے اس بارے وضاحت طلب کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے پرووائزو کی   روشنی میں نوٹس  کے زریعے سے اطلاع اور ان کووضاحت پیش کرنے کا وقت دیا ہے یا نہیں  ۔ اس بارے چند میڈیا خبروں سے تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نےممبران کے نام خطوط لکھے ہیں اور انتخاب سے پہلے چوہدری مونس الہی کا چوہدری شجاعت کو ملنے کے بعد جاری کیا جانے والا بیان بھی ہے جس میں انہوں نے اپنی اور عمران خان کی شکست اور زرداری کی جیت کا ذکر کیا ہے ۔ ان پر ملاقات کے بعد ساری صورتحال واضح ہو چکی تھی ۔ دوسرا جماعت کے اندر  اختلافات کوئی نئی یا پوشیدہ بات نہیں تھی  ۔ قومی اسمبلی میں بھی مسلم لیگ قائد اعظم کے ممبران نے چوہدری شجاعت کی اجازت سے ہی ساتھ دیا تھا اور ان کے پاس قومی سطح کی وزارتیں بھی ہیں ۔ چوہدری شجاعت نے اس وقت بھی پرویز الہی کے فیصلے کی مخالفت کی تھی ۔ اگر کسی کو ان کی سربراہی یا قومی اسمبلی کے ممبران کے ووٹ پر اعتراض یا اختیار ہوتا تو ان کے خلاف کوئی ایکشن بھی لیا گیا ہوتا ۔

ساجد بھٹی کی طرف سے ووٹ دینے کی ہدایات کسی طرح بھی پارٹی سربراہ کی اجازت یا باہمی مفاہمت سے ہونے کا کسی طرح سے بھی جواز موجود نہیں ہے اور نہ ہی پارلیمانی قائد کے پارٹی سربراہ کی مرضی کے بغیر یا خلاف فیصلے کی کوئی اہمیت ہے ۔ 

پارٹی سربراہ کی بھی وضاحت کی گئی ہے ۔

Explanation: "Party Head" means any person, by whatever name called, declared as such by the Party.

اور  اس میں جو وضاحت  کی گئی ہے  وہ بھی  پارٹی سربراہ کے بارے ہی ہے ۔ اگر یہاں پر پارلیمانی قائد کا کوئی کردار ہوتا تو اس کا ذکر اور اس کی وضاحت بھی موجود ہوتی ۔

میرے خیال میں اگر تو یہ ثابت ہو کہ ممبران کو ہدایات بارے اطلاع نہیں دی گئی تو ان کے خلاف ڈیفیکشن کی کاروائی میں رعائت ہوسکتی ہے لیکن ووٹوں کے گنے جانے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ آئین کے مطابق جماعت کے سربراہ نے پریزائیڈنگ آفیسر کو خط کے زریعہ سے باقائدہ اطلاع دے دی تھی جو کہ ان کا استحقاق ہے ۔

سپریم کورٹ کے ہی آٹھ رکنی بنچ کا پارٹی سربراہ کے اختیارات کے حق میں فیصلہ موجود ہے

لہذا آئینی طور پر حمزہ شہباز  کی وزارت  اعلیٰ مکمل طور پر آئین کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ اور اس کو کال عدم  قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ عدالت کی ایک اپنی اپروچ ہے اب دیکھئے وہ کیا فیصلہ کرتی ہے ۔ ہوسکتا ہے دوبارہ رجوع کے زریعے سے کچھ رعائت کی صورت نکال لی جائے مگر گنجائش موجود نہیں ہے ۔ 

ویسے اگر تو مسلم لیگ قائداعظم اگر فیصلہ کرے کہ انہوں نے پرویز الہی کی حمائت کرنی ہے اور حکومت کو ختم کرنے کے حق میں ہوں تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ قائد اعظم کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے اور وہ کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے حکومت تبدیل کی جاسکتی ہے  جو کہ آئینی طریقہ کار ہے  ۔ اس اختیار کا استعمال قومی اسمبلی ، بلوچستان اسمبلی میں ہوا ہے اور کسی بھی وقت کسی بھی اسمبلی میں ہوسکتا ہے ۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین