سوچ کی غذا

‏rights لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏rights لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 7 جون، 2023

ہر کوئی بے نقاب ہو رہا ہے،یہی نظام فطرت ہے


قدرت کا نظام انصاف  و انتقام بھی کیسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو ہی بے نقاب کرنا شروع کردیتا ہے۔ ایک معقولہ تو ہر کسی نے سنا ہی ہوگا کہ انسان جب بھی کوئی کام فطری اصولوں کے خلاف کرتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے  جو ایک الارم ہوتا ہے کہ وہ اس کام سے باز رہے مگر جب وہ اس سے نہیں رکتا تو پھر اس کے اپنے اندر ایک افسوس سا ضرور موجود رہتا ہے ۔جو ایک حد پر پہنچنے کے بعد اس کے اندر سے اخراج چاہتا ہے ۔وہ خواہ اس کے اپنے اعتراف کی صورت ہو یا اس کے کسی شریک جرم کی طرف سے۔ اور  اگر دونوں صورتوں کا سبب نہ بن سکے تو پھر نظام فطرت خود ہی اس کے رازوں کو فاش کرنا شروع کردیتا ہے ۔

ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔پچھلے دس سالوں کی سیاسی غلطیوں کی اب اخیر ہوچکی ہے اور اب یہ یکے بعد دیگرے افشا ہورہی ہیں ۔ بعض کردار تو اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے خود ہی اعتراف کرنے لگے ہیں اور بعض اپنے ساتھ دوسروں کو بھی  بے نقاب کررہے ہیں اور بعض کے جرائم نظام فطرت کا نشانہ بن رہے ہیں  اور ان کے اعمال ان کو بے نقاب کرنے لگے ہیں ۔ مگر افسوس کہ بے نقاب ہونے اور ان جرائم کے ثبوت سامنے آجانے کے باوجود  بھی ہر کوئی آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو تسلیاں دینے کی کوشش کررہا ہے  کہ شائد لوگ اس کو جھوٹ ہی سمجھ لیں ۔مگر وہ شائد نظام فطرت کے اگلے مرحلے سے ناواقف ہیں کہ ان  رازوں کے افشا    ہونے کا مقصد ہی گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔ انسان اور معاشرے پر ان کے بد اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ یہ فطرت کا ایک احسان ہے کہ انسانی اور معاشرتی بیماری کی تشخیص  در اصل اس کے علاج کا تقاضہ کر رہی ہوتی ہے ۔ وہ خواہ اس کی معافی تلافی سے ہو یا  جزا و سزا سے ۔

لیکن جو انسان یا معاشرے اس کی تشخیص کے بعد بھی اس پر توجہ نہیں دیتے تو وہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ بیماری کے علاج  کی پہلی ذمہ داری انسان کے اپنے اوپر آتی ہے یا جو اس کا علم رکھتے ہیں ۔ جس طرح معاشروں کی بیماریوں کا علاج  انسانوں  کی اجتماعی ذمہ داریوں  پر ہوتا ہے اسی طرح ریاستی  جرائم کا علاج عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ اور ایک ریاست اور اس کے شہریوں کی عزت، شہرت اور دولت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اس ریاست کے ذمہ داروں پر ہوتی ہے کہ وہ اس جرم کو معقول منطقی انجام تک پہنچائیں ۔جس سے ریاست کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ ہو جو عوام کا ایک اجتماعی نقصان ہوتا ہے اور افراد کے ذاتی نقصان کا بھی ازالہ اور داد رسی ہوسکے۔

ریاست کے انتظامات کو سنبھالنا کوئی  کھیل یامشغلہ نہیں بلکہ عوام کی دی ہوئی ایک ذمہ داری ہے  جس کی جوابدہی بھی ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریوں  میں کوتاہی  یا شفافیت ، غیرجانبداری اور برابری کی بنیاد پر سرانجام دینے سے ناکامی  کی صورت میں پھر وہ  ذمہ داران بھی اسی طرح جرم کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں جس طرح سے ان کے درپیش غلطیوں  ، گناہوں یا جرائم کے مرتکب ۔ اپنے فرائض سے کوتاہی کی صورت وہ بھی فطرت کے نظام کی پکڑ میں آسکتے ہیں اور پھر ان کی جوابدہی اور احتساب کے لئے جب نظام   فطرت حرکت میں آتا ہے تو نئے ذمہ داران ان کی جگہ لے چکے ہوتے ہیں ۔

اب حکومت پر یہ ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ وہ بے نقاب ہونے والوں کا احتساب  آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر شروع کریں اور اس کو شفافیت، غیر جانبداری اور برابری کی بنیاد پر قائم نظام کے حوالے کردیں۔آگے جس جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اپنے اختیارات کو قوم کی امانت سمجھ کر ان کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  آگے بڑھاتا چلا جائے اور اپنے آپ کو نظام فطرت  اور نظام ریاست سے سرخرور کروانے کا انتظام کرے ۔ ہر انسان موجود وقت  اور اختیار کو اللہ کا احسان سمجھے کہ ابھی یہ اس  کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اعمال کا انصاف اپنے ہاتھ سے کرلے اس سے پہلے کہ وقت اور اختیار اس کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اور کوئی اوراس کے اعمال پر فیصلے کر رہا ہو ۔ 

اسی طرح سے یہاں ہر کوئی بے نقاب ہوتا ہے ، فطرت کے نظام انصاف ، انتقام ااور مکافات عمل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے  اگر کوئی سمجھے تو۔

کوئی جج ہو، جرنیل  ہو، بیوروکرٹ ہو یا سیاستدان سب کے پاس اسی ریاست کے مہیا کردہ اختیارات اور وسائل ہیں جواس قوم کی امانت ہیں جن کا مقصد ریاست اور عوام کی فلاح و بہبود ہے نہ کہ ذاتی مفادات کے لئے انکا استعمال ۔ اور کوئی بھی اگر ان کے استعمال میں کوتاہی ،من مانی  یا ان کا غلط استعمال کرے گاتو وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بچا نہیں پائے گا۔ غور کریں تو ہمارے ارد گرد  ہماری آنکھوں کو دیکھنے اور ذہنوں کو سمجھنے کے لئے مشاہدے موجود ہیں اور کوئی بھی آج سے سو سال پہلے والا موجود نہیں مگر اس کے اعمال تاریخ کی امانت بن چکے ہیں ۔ اس کے دنیا کے اسباب پیچھے رہ گئے ہیں ۔اس نے ان کو کس طرح اکٹھا کیا اس کا حساب وہ خود دے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے ۔ تاریخ کا  نظام انصاف اپنے فیصلے سنا رہا ہے اور ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کر رہا ہے ۔

حکمران ، جج ، جرنیل ، بیوروکریٹ ، سیاستدان یا جس جس کے پاس بھی جو ذمہ داری ہے ۔ یاد رکھیں کہ  ہم کسی کو بھی اپنی ذات کی حد تک کے نقصان اور سرزد ہونے والی غلطی کو تومعاف کر سکتے ہیں مگر ریاستی املاک کو پہنچے والے نقصان میں پوری قوم کا حصہ ہے اور کسی کو کوئی اپنی مرضی ،اس کے ساتھ تعلق، اس کی حیثیت یا اس کے رتبے کے لحاظ سے کوئی رعائت نہیں دے سکتا۔ اور جو کوئی اس نظام قدرت کے توازن میں بگاڑ کی کوشش کرتا ہے  تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

جب اللہ کے رسول ﷺکے پاس ایک لڑکی کے چوری کے جرم میں سزا پر سفارش کی گئی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی اپنی  بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہوتیں تو یہی سزا ملتی۔ اور وعید بھی سنائی کہ پہلے والی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ انہوں نے انصاف نہیں کیا۔ 

حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ اللہ  انسان کی عیبوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا ہے جب تک وہ  اخیر نہ کردے۔بالآخر وہ بے نقاب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ آج  جو لوگ اپنی زندگی میں بے نقاب ہو رہے ہیں ان پر بھی اللہ کا احسان ہے ،انکو موقع دیا گیا ہے کہ جن کی انہوں نے حق تلفی کی ہے ، ان سے معافی تلافی  کر لیں   تاکہ کل تاریخ یا آخرت کے کٹہرے میں ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ، غلطی یا جرم نہ ہو اور وہ اس دنیا سے سرخرو ہو کر جائیں ۔

منگل، 16 اگست، 2022

ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟

انصاف کے معنی برابری ،   غیر جانبداری ، ہر ایک ساتھ ایک جیسا  برتاؤ رکھنا ، ٹکڑے کرنا  ،  حق ادا کرنا   اور ہر شے کے اس کی صحیح جگہ پر ہونے کے  لئے جاسکتے ہیں ۔ اس کےلئے لفظ عدالت کا بھی استعمال ہوتا ہے  گرچہ تکنیکی طور پر ان میں فرق ہے۔ انصاف کا متضاد ظلم ہے ۔

انصاف کا مفہوم بہت گہرا ہے جس  کے دائرے میں ہمارےکردار ، گفتار اور قضاء کے پہلو   بھی آجاتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنے اعمال میں انصاف کے پہلوؤں کا ذمہ دار ہے اور اگر وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہتا ہے  جس کے نتیجے میں کسی کا حق تلفی ہو تو پھر اس کو یہ حق پہنچتا ہے  کہ وہ اپنے حق کے بارے مطالبہ کر سکے اور اگر اس کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو پھر  وہ عدل کے لئے صاحب اختیارات اور  ذمہ داران  سے رجوع کرسکتا ہے ۔ اور ایسے حالات میں ذمہ داران جن  میں مقامی صاحب اختیار سے لے کر حکومت اور عدلیہ تک  کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اگر کوئی انصاف کے حصول کے لئے ان کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو غیرجانبداری ، برابری اور اچھے برتاؤ کے ساتھ اس کو اس کا حق دلوایں ۔

آج ہم صرف عدالتوں کو ہی انصاف کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں  اور ہر کوئی اپنے  معاملے کے بارے کوئی فکر نہیں کرتا نہ ہی کسی کو  یہ خیال ہوتا ہے کہ آیا اس کے اعمال میں انصاف کا پہلو موجود ہے یا نہیں ۔

انصاف کا اخلاقیات سےبھی بہت گہرا تعلق ہے اور اسکے معاشرے کے اندر فضائل میں ، امن و سکون ، زندگی کی آسانیاں ، عمر کا طویل ہونا ، رزق میں برکت ، دنیا و آخرت میں کامیابی ، محبت و دوستی میں اضافہ اور مخالفت و دشمنیوں کے خاتمے جیسےفوائد کا موجب کہا گیا ہے ۔ اور اگر ہم اس کے بارے غور کریں اور ہر کوئی اپنے معاملات میں انصاف کو قائم کرے تو پھر ہماری زندگیوں میں کتنا سکون ہوجائے گا ۔ جب ہمارے اخلاقیات اعلیٰ ہوجائیں گے تو پھر ہمارے تھانے اور عدالتیں خالی ہوجائیں گی ۔

اور تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ  دنیا کے جن ممالک میں اخلاقیات اعلیٰ ہیں  اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں  وہاں کے تھانے اور عدالتیں ویران ہوتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہمیشہ سے عدالتوں کی کمی ہی محسوس کی جاتی رہی ہے ۔ ہر کوئی دوسرے پر تنقید کرتا ہے مگر اپنے عمل کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ جاپان  اور کئی دوسرے ترقی یافتہ ممالک موجود ہیں جہاں اخلاق اعلیٰ ہیں یا پھر انصاف صحیح معنوں میں دستیاب ہے تو وہاں جرائم کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔

ہمارے ہاں انصاف کا خیال تو کجا  گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے ۔عدالتوں میں کتنے ہی مقدمات  ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد ہی انصاف نہیں بلکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننا ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ انصاف کا بر وقت نہ ملنا ہے ۔ جس کو سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ اس کا حق نہیں بنتا وہ انصاف کے نظام کی خرابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت کا سہارا لے کر تاخیری حربوں کے زریعوں سے معاملے کو کئی کئی دہائیوں تک لٹکائے رکھتا ہے ۔ اور جس کا حق بنتا ہے وہ خواہ مخواہ ہی وقت ، توانائیاں اور اپنا مال ضائع کرتا رہتا ہے ۔ کتنے ہی لوگ اس انصاف کے نظام سے بد دل اور نا امید ہو کر اپنے حق کی آواز ہی نہیں اٹھاتے اور خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔

ہمارے اداروں اور عدالتوں کے اندر کیا صورتحال ہے کسی سے بھی پوشیدہ نہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام مظلوم کی بجائے ظالم کو زیادہ فائدہ دے رہا ہے جس سے ظلم کم ہونے کی بجائے کئی گنا صرف اس  لئے بڑھ رہا ہے کہ کسی کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔

تو جیسے میں عرض کر رہا تھا کہ انصاف کا آغاز ہمارے انفرادی اعمال سے شروع ہوتا ہے اور اگر اس میں کوئی رکاوٹ یا حصول میں مشکل ہو تو پھر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انصاف کو یقینی بنائیں اور حکومتیں اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے عدالتیں قائم کرتی ہیں ۔

اور عدل کے منصب کو بہت ہی ذمہ دارانہ سمجھا جاتا ہے ۔ بلکہ اچھی سوچ  ، جوابدہی کا خیال اور غیر جانبداری کو روا رکھنے کے لئے فکر مند لوگ تو اس منصب سے دور بھاگتے ہیں ۔ اس منصب کی وجہ سے وہ عام شہریوں میں گھلنا ملنا ، عوامی معلومات کے زرا ئعے جیسا کہ آج کے جدید دور میں میڈیا کا کردار ہے سے  ان کو اپنے آپ کو مکمل الگ تھلگ رکھنا پڑتا ہے ۔ حکومتی عہدیداروں سے اپنے آپ کو دور رکھنا پڑتا ہے ۔ ہر اس معاملے سے اپنے  آپ کو دور رکھنا ہوتا ہے جس سے انصاف پر منفی اثرات مرتب ہونے کا  احتمال ہے ۔

مگر آج ہمارے اخلاقیات کا کیا حال ہے  سب کے سامنے ہے ۔ کس طرح لوگ اس کو عزت و تکریم اور جاہ و جلال کا زریعہ سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے کیا کیا سفارشات اور پیشکشیں کرتے ہیں ۔ اور پھر انتظامیہ اور عدلیہ کے آپس کے تعلقات اور ایک دوسرے سے فائدے اٹھانے کے قصے ہر کوئی جانتا ہے ۔

تو اس کا ذمہ دار ہم اپنی اجتماعی اخلاقی صورتحال سے لے کر اس   میں ملوث اور  ذمہ دار   ہرکردار کو ٹھہرا سکتے ہیں  ۔ اور جتنا جس کا کردار ہے لیکن زیادہ ذمہ داری عدلیہ پر ہی آتی ہے ۔ جن کے بارے یہ وعید سنائی گئی ہے کہ دو طرح کے قاضی جہنم میں جائیں گے جو یا تو اہلیت نہیں رکھتے یا پھر اہلیت کے باوجود فیصلے صحیح نہیں کرتے اور صرف تیسری قسم کے قاضی جو اہلیت بھی رکھتے ہیں اور فیصلے بھی انصاف پر مبنی کرتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے ۔ تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اخلاقی اعلیٰ اقدار  کو ہی اہمیت دی گئی ہے اور ہر ایک کو اپنی انفرادی حیثیت میں اپنا احتساب کرنے پر زور دیا  گیا ہے  کہ ہر کوئی انصاف کے عمل میں اپنی ذمہ داریوں اور اس معاملے کی نزاکت کی نوعیت کو سمجھے اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس سے انصاف نہیں ہو سکے گا تو وہ اس منصب کو لینے سے اجتناب کرے اور اسی لئے اعلیٰ اخلاق کے لوگ  کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو دور رکھیں ۔  

اتوار، 10 جولائی، 2022

سیاست چھوڑیں، آئیں مل کر قومی معاشی پالیسی بناتے ہیں

 

تجارتی منصوبہ بندی کی نئے سرے سے تجدید کرنا ہوگی جس کا مرکز ٹیکسز کے حصول سے زیادہ لوگوں کی آمدن بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہو تاکہ اگر حکومت کے محصولات میں کچھ کمی بھی آئے تو کم از کم عوام کی آمدن، روزگار اور رہن سہن میں تو بہتری آئے۔ اور اس سے جب تجارتی ماحول بہتر ہوگا تو محصولات خود بخود ہی بڑھ جائیں گے۔

انقلاب، آزادی اور ترقی قومیں مل کر حاصل کیا کرتی ہیں۔ معاشی منصوبہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے لہذا سب کو مل کر اسے تیار کرنا ہوگا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں سب برابری کی بنیاد پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

میں نے پہلے بھی اپنے کالمز میں عرض کیا ہے کہ قومی سطح پر ایک غیر جانبدار اور غیر سیاسی معاشی ماہرین کا بورڈ بنایا جائے جو پوری قوم سے تجاویز حاصل کرکے ان کی بنیاد پر حکومت کے لئے سفارشات ترتیب دے اور پھر وہ معاشی بورڈ اس منصوبے کی نگرانی بھی کرے اور قوم کو وقتاً فوقتاً اس بارے معلومات بھی فراہم کرتا رہے کہ آیا اشارے درست سمت بتا رہے ہیں۔

اس معاشی بورڈ کو اگر ممکن ہو تو آئینی حیثیت بھی دی جائے جو تمام سیاسی جماعتیں بلا تفریق انجام دے سکتی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے لہذا تجاویز اکٹھی کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور اچھی تجاویز دینے والوں کو قومی سطح پر سراہا جانا چاہیے تاکہ ایک مثبت مقابلے کا ماحول بنے اور سب بڑھ چڑھ کر اس کار خیر میں حصہ لیں۔



عرض کیا تھا کہ روایتی منصوبہ بندی جو ستر سالوں سے چل رہی ہے جس کی بنیاد قرضوں اور ٹیکسز پر ہے، سے موجودہ معاشی بحران کا حل نکالنے کی امید لگانا وقت کا ضیاع ہوگا۔ ہمیں متبادل ذرائع اور حکمت عملی دیکھنا ہوگی اور اپنے قومی وسائل، اخراجات اور آمدن کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔


ہمارے وسائل میں سب سے بڑا وسیلہ ہماری آبادی ہے۔ اس کو اثاثے کا درجہ دے کر اس کو تیار کرنا ہوگا اور موجودہ وقت کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے لہذا اپنے انسانی وسائل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرکے ترقی کے باب کا بہتریں آغاز کیا جا سکتا ہے۔ تعلیم وتربیت کے لئے قومی مواصلات کے نظام سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اس کو ہر طرح کی بنیاد کے لوگوں کے لئے ترتیب دیا جائے۔

اسی طرح بیرونی قرضوں کو کم اور ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کو بروئے کار لاتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ مقروض قومیں کبھی بھی اپنی آزاد منصوبہ بندی ترتیب نہیں دے سکتیں۔ اس کے لئے ہمیں اپنے اخراجات کو انتہائی ممکن حد تک ختم کرنا ہوگا اور اس کے لئے پوری قوم کو ساتھ دینا ہوگا۔ ہر شہری سے لے کر اداروں تک کو قربانی دینا ہوگی۔



قرضوں کو کم کرنے کے لئے ہمیں قومی سطح پر کوئی ایسا نظام ترتیب دینا ہوگا جس سے بیرونی قرضوں کو اندرونی قرضوں میں تقسیم کیا جاسکے تاکہ قرضوں پر جو سود کی مد میں اپنا زرمبادلہ ہم عالمی مالیاتی اداروں کو دے رہے ہیں وہ ملک کے اندر رہے۔

تجارتی منصوبہ بندی کی نئے سرے سے تجدید کرنا ہوگی جس کا مرکز ٹیکسز کے حصول سے زیادہ لوگوں کی آمدن بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہو تاکہ اگر حکومت کے محصولات میں کچھ کمی بھی آئے تو کم از کم عوام کی آمدن، روزگار اور رہن سہن میں تو بہتری آئے۔ اور اس سے جب تجارتی ماحول بہتر ہوگا تو محصولات خود بخود ہی بڑھ جائیں گے۔


اور اگر دھیان سارا محصولات پر ہوگا تو کاروبار متاثر ہونگے اور ایسے میں محصولات کا بڑھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔ تجارتی منصوبہ بندی ایسی بنانا ہوگی جس میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے دلکشی پیدا ہو اور ہمارے بیرون ملک پاکستانیوں سے لے کر عالمی کاروباریوں تک کو پرکشش منصوبوں کے منصوبے سے متوجہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ان کو مکمل مالی تحفظ، اعتماد اور ان کے سرمائے کی ترسیل میں مکمل آزادی اور خود مختاری دینا ہوگی۔

تمام تر سبسڈیز، مراعات، خوراک، زراعت اور بنیادی ضروریات کی اشیا کی طرف موڑنا ہونگی تاکہ ہم قومی سطح پر خود کفالت کو قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ جس سے تجارتی خسارے سے لے کر بجٹ خسارے تک کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

قومی سطح پر سادگی، مطالعہ اور علم وتربیت کے ماحول کو رواج دینا ہوگا۔ قائدین کو چاہیے کہ وہ مہینے میں ایک دن قومی سطح کی یونورسٹیز میں اپنی اپنی منسٹریز سے متعلقہ فیکلٹیز میں گزاریں اور وہاں طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کریں۔

اگر ہم جنیٹک سائنسی علوم کی مناسبت سے دیکھیں تو میں آپ کو یاد دہانی کروانا چاہوں گا کہ البیرونی جیسے جید سائنسی علوم کے ماہر آپ کے آباء واجداد سے سیکھنے کے لئے جہلم اور چکوال کے علاقے میں آکر رہے اور ان کی سائنسی لیبارٹریز کے آثار قدیمہ آج بھی چیخ چیخ کر ہمیں جہالت کی نیند سے بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان جینز کا مشاہدہ آج بھی ہماری قومی طاقت اور کماند کی صورت میں موجود ہے اور ان ہیروں کو مزید تراشنے اور ان کی توانائیوں اور صلاحیتوں کو صحیح سمت دے کر فائدے اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اس وقت مایوسیاں اور عدم استحکام پھیلانے والے سب سے بڑے ملک وقوم کے دشمن ہیں۔ ان کو قومی دھارے میں لانے کے لئے دعوت، تجاویز دے کر ساتھ چلانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر وہ مثبت جواب نہیں دیتے تو ان کو قومی سطح پر مکمل طور پر نظر انداز کر دینا چاہیے مگر کسی کو بھی قانون اور امن عامہ سے کھیلنے کی قطعاً بھی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

جلسے جلوسوں پر پابندی لگا کر عوام کو حکومت تک رسائی، اپنے تحفظات اور مطالبات پہنچانے کے لئے آن لائن خلا مہیا کیا جانا چاہیے اور اس نظام کو اعتماد دینے کے لئے لوگوں کے جائز مطالبات کا بروقت رسپانس دے کر ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے سیاسی ماحول کو بدلا جا سکے۔

حکمرانوں کا جہاں اور ہے، عوام کا جہاں اور

اگر کوئی پاکستان کے حالات کو بدلنے کا ارادہ یا سوچ رکھتا ہے تو پہلے ان جہانوں کو بدلنا ہوگا تاکہ سب ایک جہاں میں رپنے والے بن جائیں اور ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے والے بن جائیں ۔ جب یہ محلوں سے نکل کر عوام کی سطح پر آئیں گے تو ان کی سوچ بھی عوام سے ملے گی ۔

پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جو ایک خاص طبقے کے لئے تو معجزے سے کم نہیں اور باقی طبقہ عوام ہے جن کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے اوریوں یہ بات کس عجوبے سے بھی کم نہیں۔

یہ خاص طبقہ جس میں حکمران ، سرمایہ دار ، اداروں کے عہدیداران اور محافظاں جہاں رہتے ہیں ان کا جہاں ہی اور ہے ۔ ان کے جہاں کے سکول اور ہسپتال بھی علیحدہ ہیں اب تو وہ کاروبار میں بھی خود کفیل ہیں ۔

حکمرانوں کے لئے اسلام آباد کی خوبصورت ترین ، مارگلہ کے دامن میں ، صاف ستھری فضاء میں موجود علاقہ ، جو کبھی بے کار پڑا ہوا ہوتا تھا ، صدر ایوب خان نے عوام کے حکمرانوں جن میں وہ خود بھی شامل تھے ، پر ترس کھاتے ہوئے ان کے نام کردیا ۔ اور جب اس کی تعمیر کی گئی اس وقت دنیا کے بڑے بڑے مالیاتی اداروں میں پاکستان کے کھاتے کھل چکے تھے ، لہذا بہت ہی فراخدلی سے غریب عوام کے شاہی نمائندوں کے لئے محل تعمیر کئے گئے جن میں وزیراعظم کی رہائش اور دفتر ، ایوان صدر ، کیبنٹ اور نمائندوں کے لئے عالی شان رہائشوں کے علاوہ سپریم کورٹ اور سیکریٹیریٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ جسے سیکورٹی کے نام پر "ریڈ زون ” کا علاقہ کہا جاتا ہے اور وہاں عوام کا جانا ممنوع ہے ۔ اور وہاں کا ماحول کسی بڑے سے بڑے ترقی یافتہ ملک کے ماحول کو بھی شرمندہ کرنے سے کم نہیں یہ خاص طبقہ جب عوام سے نکل کر وہاں پہچتا ہے تو ان کے رہن سہن سے انکی سوچ ہی بدل جاتی ہے ۔ ان کا ماحول ان کو یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتا کہ وہ کسی غریب ملک میں رہتے ہیں ان کی رہائشیں ، کام کرنے کی جگہ ، ان کے سفر کرنے کے لئے نئی جدید گاڑیاں ان کی سوچوں کو ہی بدل کر رکھ دیتی ہیں ۔ پھر ان کی پالیسی یہ بن جاتی ہے کہ سب اچھا ہے ۔ ان کو عوام کی غربت نظر نہیں آتی ، انکو سب کچھ تیار ملتا ہے ، ان کی کنٹین کے نرخ بھی پاکستان کے کم تریں نرخ ہوتے ہیں ۔

یہ غلامی اور حکمرانی کا انداز وہ ہی ہے ۔ ہم نے جغرافیائی آزادی تو حاصل کی ہے مگر ذہنی غلامی سے ابھی بھی نجات نہیں ملی اور نہ ہی اس بارے کبھی ہم نے سوچا ہے ۔ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی چل کر آئی تھی اور جاتے جاتے وہ ہمیں مالیاتی اداروں کی غلامی میں دے گئے ہیں ۔ اب ہم چل کر ان کے پاس جاتے ہیں اپنے آپ کو اور اپنے اساسے گروی رکھ کر ان سے قرض لیتے ہیں ۔ پہلے بھی انہوں نے ہمی میں سے لوگوں کو ہماری حکمرانی کے لئے چنا ہوا تھا اور اب بھی ہم میں سے ہی ان کے آلہ کار ہیں ۔

پاکستان کے میڈیا ہاؤسز بھی اس خاص طبقے کی ملکیت ہیں اور وہاں پر کام کرنے والوں کو خاص ہدایات دی گئی ہیں کہ پاکستان کے امیج کو مثبت دکھانا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ اور سوشل میڈیا پر اگر کوئی آواز اٹھتی بھی ہے تو اس کو ان کے ایوانوں تک رسائی کہاں ، وہ تو غریب عوام کی حوصلہ افزائی کا سامان ہے ۔ انہوں نے اپنی تسکین کے سامان کے لئے عوام کے پیسے پر میراثی بٹھائے ہوئے ہیں جو ان کی تعریفوں سے ان کی موج مستی کا سامان مہیا کئے ہوئے ہیں ان کو یہ مبارک اور عوام کو وہ مبارک۔


وزیر اعظم اور ان کے وزراء کی فوج کے اندر ایک خاص قسم کا سافٹ وئیر انسٹال کیا گیا ہے جس میں اپنی ذات اور ایک دوسرے کی تعریفوں سے لے کر سب اچھا ہے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا شامل ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی پروگرام ان کے سافٹ ویئر پر چلتا ہی نہیں ۔ آپ عوام کے جتنے بھی مسائل گنوا لیں وہ ان میں سے کوئی نہ کوئی بہتری اور اپنی نیک نامی کا پہلو نکال ہی لیں گے اور آپ کو آخرکار قائل ہونا ہی پڑے گا کہ سب ٹھیک ہے۔ان کی شاہ خرچیوں کے لئے عالمی مالیاتی اداروں میں کھاتے کھلے ہوئے ہیں لہذا ان کو کوئی پریشانی نہیں اور قسطوں کی ادائیگی یا نیا قرضہ لینے کے لئے کبھی کبھی مشکلات پیش آتی ہیں جس کا بوجھ وہ عوام کے کاندہوں پر اس لئے ڈال دیتے ہیں کہ یہ ملک آخر ہے تو ان کا ہی ۔ ان خاص لوگوں کا کیا اعتبار وہ کب اس جہاں سے اپنے آقاؤں کے جہاں کوچ کرجائیں ۔ہے ۔

جب وہ ان محلوں سے نکلتے ہیں تو ان کی ٹھاٹھ باٹھ ، جس میں آگے پیچھے پولیس اور رینجرز کی گاڑیاں ہوتی ہیں ، ان کے لئے سڑکیں صاف ہوجاتی ہیں ، اشارے کھل جاتے ہیں ۔ وہ اپنی اوقات کو بھول جاتے ہیں کہ کبھی وہ بھی اس عوام کا حصہ ہی تھے۔ ان کو اپنے بھائی ، محلے دار ، رشتہ دار اور عوام چھوٹے چھوٹے کیڑے لگتے ہیں ۔

پاکستان میں جس طرح جہاں مختلف ہیں اس طرح ظاہر ہے ذمہ داریاں اور حقوق بھی تو مختلف ہی ہیں۔ ایک کے حصے میں سہولتیں اور مراعات آئی ہیں اور دوسرے کے کھاتے میں ان مراعات اور سہولتوں کا بندوبست۔ عوام اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، سوتے جاگتے ٹیکس دیتے ہیں اور حکمران اب بھی شائق ہیں کہ ٹیکس ادا نہیں ہوتا ۔ ٹیکس چور وہ خود یا ان ہی کے طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں ان سے وصولی کی ہمت نہیں اور عوام کو سناتے رہتے ہیں کہ ٹیکس وصولی نہیں ہوتی۔

عوام کہاں ٹیکس نہیں دیتے ، ان سے تو وصول کرتے ہوئے پوچھا اور بتایا بھی نہیں جاتا۔ پاکستان میں عوم کی ضرورت کی کون سی ایسی چیز ہے جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہو۔ پاکستان کی عوام تو دور دراز کے دیہاتی علاقوں میں رہتی ہے، کھیتی باڑی اور مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں ۔ کھیت سے گنا نکلتا ہے تو اس پر ٹیکس شروع ہوتے ہیں، پھر فیکٹری میں چینی کے بننے سے لے کر مارکیٹ تک پہنچنے تک ٹیکسز، پھر مارکیٹ میں اس کی فروخت پر ٹیکس، پھر جب وہ اپنے ہی گنے کی بنی ہوئی چینی خریدتا ہے تو ٹیکس۔ یہ سب کون ادا کرتا ہے ، بے چاری عوام ہی تو ہے ، یہی حال گندم ، چاول اور دوسری اجناس کا ہے۔ اور پھر یہ خاص طبقہ اس میں بھی خورد برد کے زریعے مال اکٹھا کرتا ہے۔

انہوں نے نوٹوں کے خزانے اکٹھے کئے ہوئے ہیں ان کو کیا معلوم کہ بے روزگاری اور مہنگائی کیا ہوتی ہے ۔ لوگ کس طرح گزارہ کرتے ہیں ۔ کبھی کبھار وہاں سے گزر ہو تو کم تنخواہ طبقہ اپنا رونا دھونا کرنے کے لئے ان محلات کے سامنے گداگروں کی طرح بیٹھا ہوتا ہے اور وہ جب اپنے محلوں سے نکلتے ہیں تو اتنا گوارہ بھی نہیں کرتے کہ ان کی فریاد تک ہی سن لیں ۔ تف ہے ایسے نظام پر جس کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے رہتی ہو اور حکمران عالی شان محلوں میں رہتے ہوں ۔

اب تو یہ تعداد آدھی آبادی سے بھی بڑھ چکی ہوگی۔ غریبوں کو پھر بھی زندہ اور چپ رہنے کے لئے احساس کا سہارا دئے ہوئے ہیں۔ اب زیادہ تو سفید پوش طبقہ ظلم کی چکی میں پس رہا ہے جو اپنی غربت کو عزت کی چادر میں لپیٹے گم سم بے سدھ پڑا ہے ۔

اب تو انہوں نے نوٹوں کی طرز پر ووٹوں کے خزانے والی ای وی ایم مشین بھی بنا لی ہے اور عوام کو اس جھنجھٹ سے بھی آزاد کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ عوام کی سردردی ختم ہوجائے گی اور وہ جہاں چاہیں گے ان کے نام پر ان کا حق استعمال کرلیں گے ۔ وہ بھی خوش اور عوام بھی ۔

اگر عوم کو چینی ، آٹا یا دوائی نہیں ملتی تو بڑے بڑے محلوں میں رہنے والوں کو کیا ۔ اگر ان کے چولہے گیس کو ترس رہے ہیں تو ان کو کیا خبر ، اور خبر ہو بھی کیسے ، ان کا جہاں اور عوام کا جہاں اور۔

اور اگر کوئی پاکستان کے حالات کو بدلنے کا ارادہ یا سوچ رکھتا ہے تو پہلے ان جہانوں کو بدلنا ہوگا تاکہ سب ایک جہاں میں رپنے والے بن جائیں اور ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے والے بن جائیں ۔ جب یہ محلوں سے نکل کر عوام کی سطح پر آئیں گے تو ان کی سوچ بھی عوام سے ملے گی ۔ اور اس کوشش کی ان کو تو ضرورت نہیں وہ تو اسی حال میں خوش اور فائدے میں ہیں ۔ یہ مسئلہ تو عوام کا ہے اور ان کو ہی اس بارے کچھ سوچنا
ہوگا اگر ان کو کبھی اس بارے سوچنے کی صورت اور ماحول ملے تو ۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین