سوچ کی غذا

‏Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 3 مارچ، 2026

کیا کوئی سرخ لکیر کھینچ پائے گا؟

اس موجودہ جنگ جسے ایران  پر اسرائیل کی یلغار کہا جا رہا ہے جو کافی حد تک ٹھیک اس لئے ہے کہ مذاکرات کے دوران شروع کی گئی جس کا چند سالوں  سے ایک تسلسل جاری ہے مگر اس سے اسلامی دنیا اور بالخصوص مشرق وسطیٰ نے کوئی سبق نہیں سیکھا یا پھر وہ اپنی علمی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں محرومیوں کے سامنے بے بس ہیں سب اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ ان کے دلوں کی حالت کو بھی اس ایمان کا درجہ نہیں کہا جا سکتا جس پر اللہ کی مدد اترنے کے وعدے ہیں۔

اور اِس کی سب سے بڑی وجہ نظریات کے اندر تفرقہ اور قول و فعل میں تضاد ہے جو ان کو مزید کمزور کرتا چلا جا رہا ہے۔ اور جب تک ان کے معاملات اسلامی تعلیمات کی کَسوٹی پر پورے نہیں اترتے اس وقت تک اس آزمائش سے سرخرو ہونے کی کوئی امید لگانا بھی بیکار ہے۔

مگر اس یلغار کے سامنے ایران کی للکار میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ للکار اِس وقت امت مسلمہ میں ایک ولولہ بن کر ابھر رہی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جذبوں اور ولولوں سے کیا اس یلغار کے سامنے کو سرخ لکیر کِھچ پائے گا یا نہیں؟

اس نقطے کو سمجھنے کے لئے صورتحال کے کچھ دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کرنا پڑے گا جو انتہائی توجہ طلب اور اہمیت کے حامل ہیں جن میں سب سے پہلا ہے امریکہ اور اسرائیل کی بالا دستی کی جنگ جو پوری دنیا بشمول یورپ، روس اور چین کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ابھی بھی معیشت اور ٹیکنالوجی میں ان کا کوئی ہمسر نہیں

روس تو ابھی اپنی اُس کھوئی ہوئی طاقت کو بھی یکجا نہیں کر پایا جو اس نے گرم پانیوں پر پہنچنے کے خواب میں گنوائی تھی جس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ جنگ محض نظریات کی نہیں یا اسلام کو اسرائیل اور امریکہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوں یا اس سے اسلامی ممالک کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہو کہ ان کو ملکر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہیں ہر اس قوت سے خطرہ ہے جو ان کی بالا دستی کو چیلنج کرے اور اس وقت چین وہ خاموش تحریک ہے جس سے وہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور یہ طاقت کا استعمال اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک اس کو توازن کرنے کے لئے کوئی واضح لکیر نہیں کھینچ دی جاتی۔

یہ کوشش اس دنیا کے وجود میں آنے سے جاری ہے اور رہے گی لیکن شائد اس محرکے میں کسی حد تک کوئی حد مقرر ہو جائے۔ چین کے آڑے ابھی معاشی مصلحتیں بھی ہیں مگر اس کے با وجود وہ اپنی جنگی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کا جہاں بھی موقع ملے اس کی نمائی کا فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔ ابھی بھی اس کا ایران کی حمائت میں واضح بیان سامنے آیا ہے جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صورتحال کے تھمنے میں یقیناً کوئی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی

جہاں تک جس کے مفادات کو ضرب لگے وہ صلاحیت رکھتا ہو تو ضرور اس پر اپنا اظہار بھی کرتا ہے اور اس کو دنیا اکنالج بھی کرتی ہے جس طرح سے پاکستان کو پزیرائی ملی ہے لیکن اپنی بقاء کی جنگ ہر کسی نے خود ہی لڑنی ہوتی ہے اور پرائی آگ میں کوئی نہیں کودتا۔ اور یہ بالا دستی اور طاقت کی جنگ بھی ایک کوشش مسلسل ہے اور یہ کئی ملکوں کی کمائی کا زریعہ بھی ہے لہذا اس کے بالکل رک جانے کا تصور تو ممکن ہیں نہیں۔

ویسے بھی یہ بالا دستی اور طاقت بھی دوسرے عوامل کی طرح ارتقائی عمل ہے جس میں نئی نئی ایجادات کا مظاہرہ کر کے اس کی مارکیٹنگ بھی ضروری ہے اور جنگی سازو سامان کی فروخت بھی تو جنگوں کے سلسلوں سے ہی جڑی ہوئی ہے وہ خواہ  طاقت کی دہاک بٹھانے کے لئے ہو یا اس کے سامنے سینہ تان کر امن کی کوششوں کا نوبل ایکشن۔

ایٹم کی صلاحیت ہو یا اس کو روک کر دنیا کو امن بخشنے کا بھاشن سبھی اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کے بہانے ہیں اور یہ ایٹمی صلاحیت بھی پچھلی صدی کا ایک ہتھیار تھا اب تو شائد دفاعی ٹیکنالوجی کی ارتقاء کا عمل اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہو اور اپنے وجود کے اظہار کے  لئے شیطانی خواہشوں کے ہاتھوں مجبور انسانی تباہی کے کسی موقعے کی تلاش میں ہو۔

ایران کادعویٰ ہے کہ وہ جنگ جیت چکا ہے جو ٹھیک اس لئے لگتی ہے کہ اس نے اپنی صلاحیت سے بڑھ کر جرات دکھائی ہے  قطع نظر اس کے کہ  مدمقابل ہارے یا جیتے کیونکہ جیت جرات کا نام ہے بقاء اور فنا کا نہیں بالکل اسطرح جیسے مئی 2025 میں پاکستان نے اپنی جرات اور صلاحتیوں کو دنیا پر آشکار کرکے توپوں میں پٹاخوں والی سکت بھی نہیں چھوڑی اور اس وقت پاکستان جب افغانستان کی سرحد پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو ہندوستان کی سرحدوں پر پاکستان کے خوف کی دھاک پہرے دے رہی ہے اور مجال ہے کسی کی کوئی اونچا کھانسے بھی۔

اور جو ایران کے بعد پاکستان کی باری کی نا پختہ سوچ رکھتے ہیں ان کے لئے ہندوستان کی حالت زار ایک خاموش پیغام ہے اور اس کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنی سوچ اور صلاحتیوں کے سامنے ایسی باتوں کو کوئی وزن نہیں دیتے اور پاکستان اللہ کے فضل اور قومی یکجہتی کی قوت کے ساتھ ایسے کئی خطرات کا عملی طور پر سد باب بھی کر چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔ 

منگل، 3 فروری، 2026

پاکستان میں دہشتگردی بارے اسلامی دنیا میں تشویش کی لہر

موجودہ اسلامی ملٹری کاؤنٹرازم کوائلیشن کا دورہ اور خصوصی پروگرامز کی تشکیل اس بات کی تصدیق ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی پر اسلامی ممالک کے اندر انتہائی تشویش پائی جا رہی ہےکیونکہ وہ اس وقت پاکستان کو اپنا بگ برادر کا درجہ دیتے ہیں۔

پاکستان کی حالیہ ہندوستان کے ساتھ جنگ میں کامیابی نے اسلامی دنیا کے اندر اعتماد کو بحال کیا ہے اور ایسا ہو بھی کیوں نہ جب پوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی ہی نہیں بلکہ امن کوششوں کی معترف ہے۔ اسلامی ممالک کے لئے تو یہ بات قابل فخر ہے کہ انکا اسلامی برادر ملک پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی برتری حاصل کر چکا ہے۔

اسلامی ملٹری کاؤنٹرازم اتحاد کے 17 ممبران پر مشتمل یہ وفد دنیا کے 43 اسلامی ممالک کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی وفد سعودی عرب سے سیکرتری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید کی سربراہی میں 2 سے 8 فروری تک پاکستان میں قیام کرے گا اور اپنے اس دورے کے دوران انسداد دہشت گردی کے لئے ایک خصوصی تربیتی پروگرام کا افتتاح بھی کرے گا جس کے ذریعے جدید ترین حکمت عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا جو اسلامی دنیا کی طرف سے بھر ۔ پور حمائت کی علامت ہے۔ وفد کے سربراہ کی چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔

یہ محاذ اسلامی دنیا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط انیشیوٹو ہونے کا ساتھ ساتھ اس بات کی گواہی بھی ہے کہ اسلامی دنیا کی نظریں دہشت گردی کے خلاف مضبوط اتحاد کے لئے پاکستان کی پیشہ ورانہ فوجی صلاحیتوں کی جانب مرکوز ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو وسائل اور تعاون سے مذید مضبوط کر کے اسے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف استعمال  کر کے امن میں کردار ادا کیا جائے۔ اس سے ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان کو بھی سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ 

بدھ، 7 فروری، 2024

عوام مخلص اور جوابدہ قیادت کو منتخب کر کے تبدیلی لا سکتے ہیں

 

ویسے تو سرچشمہ طاقت، جمہوریت کا مغز، سیاست کا محور، ریاست کی ملکہ اور ہر سیاسی جماعت کے منشور کا مرکز عوام ہی ہوتے ہیں مگر پاکستان جیسی ریاست کے اندر محض انتخابات کے دنوں میں اور وہ بھی دکھلاوے کے طور پر اور اس کے بعد سیاستدان عوام کے مینڈیٹ کی تحریم میں حکمران بن جاتے ہیں اور عوام تو پھر بھی عوام ہی رہتی ہے۔

حکمرانوں کی عظمت اور حفاظت کے لئے پولیس کی سکواڈ، رہنے کی جگہہ ریڈ زون جہاں گیدڑ، گدھوں کا داخلہ تو جائز ہے مگر عوام کا ممنوع ہے۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں اور نہ ہی میں از راہ استعارہ کہہ رہا ہوں بلکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے شاہراہ جمہوریت پر پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے دن کی روشنی میں گیدڑ دھونگلے دیتے دیکھے ہیں مگر عام آدمی کا داخلہ وہاں کے لئے خطرے کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ تھومس جیفرسن جو ایک امریکی سفارتکار، وکیل، فلاسفر، ریاست کے بانیوں میں شمار ہونے والا ان کی آزادی کی دستاویزات کا بنیادی مصنف اور امریکہ کے تیسرے صدر کے طور پر اس نے قوم کی خدمت کی ہے نے اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر کہا تھا۔

The democracy will cease to exist when you take away from those who are willing to work and give to those who would not.

جمہوریت اس وقت تباہ ہوجاتی ہے جب اس کی سربراہی، جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ان سے لے کر نکموں کو دے دی جائے۔

اب اس کو دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے ایک تو حکومت کی باگ ڈور جیسا کہ ہماری روائتی سیاست میں ایسے لوگوں کے حوالے کر دی جاتی ہے جو عوامی مینڈیٹ کے اصلی حقدار نہیں ہوتےجیسا کہ 2018 کے انتخابات میں کیا گیا اور دوسرا پہلو ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر کی جمہوریت سے ہے جہاں کارکنوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس سے جمہوریت کے ثمرات مشروط ہوتےہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہوتی تو اس کے نتائج ہماری موجودہ سیاسی صورتحال ہوتے ہیں۔

ہماری جمہوری ابتری ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں اور اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں خود سیاستدان ہیں جن کے اپنے اندر اہلیت نہیں اور الزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔ جب آئین پارلیمان کی بالا دستی کو تسلیم کرتا ہے تو پھر دوسروں پر انگیاں اٹھانے سے پہلے اپنی صفوں میں درستگی لانے کی ضرورت ہے۔ اداروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر گھسے ہوئے جمہوری غداروں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہاں ہمارا اصل مدعا اس کا پرچار نہیں بلکہ اس کا حل تلاش کرنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

اس کے لئے سب سے پہلے جمہوریت کو صحیح معنوں میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

ابراہم لنکن نےجمہوریت کی تعریف یوں کی تھی

Government of the people، by the people، for the people.

عوام کی حکمرانی، عوام کے زریعے، عوام کے لئے

اس کا سادہ لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ جمہوریت میں عوام سرچشمہ طاقت ہوتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ طاقت اتنی کمزور کیوں پڑ چکی ہے؟ اور یہ سب کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے؟

جمہوریت عوام کو حکمرانی کا حق تو دیتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ عوام حکمرانی کی صلاحیت بھی رکھتی ہو، جانتی ہو کہ اپنی طاقت کو کیسے محفوظ ہاتھوں کے سپرد کرنا ہے؟ جیسے ہر کام کے لئے ہنر کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی جمہوریت سے مستفید ہونے کے لئے بھی حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس طاقت کی اصل بنیاد سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاق اورباہمی قومی ربط ہوتے ہیں جو قوموں کو نہ صرف بروقت بلکہ صحیح فیصلے کروانے میں ممدومعاون بنتے ہیں اور طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے گر بھی سیکھاتے ہیں۔

جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کے نتائج کے مطابق حکومت کی تشکیل اور عوامی امنگوں اور ضروریات کے مطابق حکومت سازی کا ایک پورا عمل ہے۔ حکومت ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کا مقصد عوام کو وسائل سے مہیا سہولیات میں برابری، امن، روزگار اور انصاف مہیا کرنا ہے اور اس کے لئے حکمران جمہور کو جوابدہ ہیں۔ ان کے اندر ایسی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے جس سے وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو آسان اور یقینی بنا سکیں۔ اب ان صلاحیتوں کے حامل نمائندوں کا انتخاب عوام نے کرنا ہے۔ عوام نے یہ طے کرنا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں کیونکہ سیاسی قیادت کا کردار عوام نے ڈیفائن کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں تو ان کی جوابدہی کے عمل کو بھی یقینی بنانے کے لئے عوام کے اندر شعور اور اس کو ممکن بنانے کی واقفیت ہونی چاہیے۔

یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب عوام کو ریاست، اس کی املاک اور اس کے اداروں کی ملکیت اور اہمیت کا احساس پیدا ہو جو ان کو حکومت اور ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے کام میں دلچسپی پیدا کرکے اس میں عملی طور پر شمولیت اور اس کی نگرانی کی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ واقفیت کا علم آئین کو سمجھنے سے آتا ہے۔

تب وہ نہ صرف قابل قیادت کو سامنے لانے کی اہل ہوتی ہیں بلکہ ان کا ہر طرح سے محاسبہ کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہوتی ہیں اور یہ سیاسی شعور آئینی و قانونی حقوق اور بحثیت ایک شہری اپنی ذمہ داریوں کو جاننے سے آتا ہے۔ جو عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ترقیاتی پراجیکٹس کی نگرانی سے لے کر قومی سطح کی پالیسیوں اور حکمرانوں کے اختیارات کے استعمال تک کی نگرانی کرنی ہے۔ جیسا کہ آئینی کا آرٹیکل 19 اے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ہر طرح کی سرکاری معلومات تک رسائی کا اختیار رکھتا ہے۔

اگر ان کے علاقے میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں تو وہ متعلقہ محکمے سے یہ معلومات حاصل کر سکتا ہے کہ کتنی لاگت کا یہ منصوبہ ہے اور اس کا کیا معیار ہونا چاہیے اور پھر ان معلومات کی مطابقت سے وہ ٹھیکیدار کو کام کرنے کا پابند بنا سکتا ہے۔ اسی کی ایک حالیہ مثال توشہ خانہ سے لئے گئے تحائف کی معلومات بھی ہیں جن پر ایک صحافی نے آواز اٹھائی اور آج وزراء اور وزیر اعظموں کی جوابدہی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

یہی وہ ترقی کے ماڈلز ہیں جن سے عوام کو اپنی طاقت اور اس کے استعمال کا علم ہوتا ہے تو پھر جمہوریت اپنے ثمرات سے مستفید کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ عوام کااختیار حکمرانی اپنے ہاتھ میں آتا ہے۔


اسی طرح اعلیٰ اخلاقیات ان کو یہ سیکھاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نمائندوں میں چناؤ کے لئے قومی مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دینی ہے اور ایسی خوبیوں کے حامل ممبران کا چناؤ کرنا ہے جن کی بنیاد ان کا کردار، کارکردگی اور ملک و قوم کی فلاح کا جذبہ ہو۔ جیسے اب انتخابات 8 فروری کو ہونے جارہے ہیں تو عوام کو اپنی رائے دیتے ہوئے اپنے سیاسی شعور اور اخلاقیات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کے زریعے سے باصلاحیت قیادت کے چناؤ میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہیں جو عوام کا منشور ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے منشور سے دھوکہ نہیں کھائیں گے بلکہ اس کو ان کی ماضی کی کارکردگی سے جوڑ کر پرکھیں گے وہ عملی طور پر کس قدر ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں۔



اگر عوام کے اندر ریاست کی ملکیت اور اہمیت کا احساس ہوتا تو آج ملک مقروض نہ ہوتا اور آزاد تجارتی اور خارجی امور کی پالیسیاں ہوتیں۔ ہمارے ہمسایہ ممالک میں کوئی بھی اس قدر مقروض نہیں جو ہمارا حال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کو اب یہ موقف اپنا لینا چاہیے کہ جو مہنگائی ہوئی ہے اور عوام کے گھروں کے چولہے بند ہوئے پڑے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں کو کہیں سکوت نہیں آرہا۔ خوردونوش کی قیمتیں ہر لمحے بڑھ رہی ہیں، ہر کوئی دوسرے پر الزام لگا رہا ہے اور اپنے آپ کو بے گناہ کہہ رہا ہے حتیٰ کہ جو اتحادی رہے ہیں وہ بھی ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

اس کی تحقیقات ہونی چاہیں اور جو بھی حکومت اس کی ذمہ دار ہے اس میں شامل ممبران کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور جو ذمہ دار ہیں ان کی جائیدادیں بیچ کر قرضے اتارے جائیں تاکہ مستقبل میں سیاست کا رخ کرنے والے سوچ سمجھ کر قدم رکھیں۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کہ جس کا دل چاہتا ہے منہ اٹھا کر بھاگا چلا آتا ہے اور سیاست کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ انکا شوق سیاست اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک جوابدہی کا سلسلہ شروع نہیں ہوگا۔

جب جوابدہی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا تو میں آپکو یقین سے کہتا ہوں کہ آپکو نمائیندگی کرنے کے لئے ڈھونڈنے سے بھی کوئی نہیں ملے گا یہ زبردستی عوامی نمائندگی کا رجحان ختم ہوجائے گا اور عوام کو اچھے کردار والے لوگ مجبور کرکے ان عہدوں پر بٹھانے پڑیں گے۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ عوام کی خدمت کرنی ہے اور ساتھ ساتھ جوابدہی بھی ہوگی تو صرف خوف خدا رکھنے والے اچھے کردار کے حامل خدمت کا جذبہ رکھنے والے ہی اس ذمہ داری کی حامی بھریں گے۔ ایسے ہی انقلاب آتے ہیں، قوموں کی حالت بدلتی ہے اور اختیار حکمرانی عوام کو میسر آتا ہے۔

اتوار، 25 جون، 2023

قوم حکمرانوں سے شاہی محلات خالی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔

جس ملکی کی دو تہائی  آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہو ۔ ملک بدحال معاشی صورتحال کا شکار ہو ۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں تو اس ملک کے حکمران ، سربراہ یا مقتدر طاقتیں عالی شان محلوں میں نہیں رہتے ۔ مساوات ، محبت اور بھائی چارے کا تقاضہ یہ ہے کہ سب کا طرز زندگی ایک جیسا ہو ۔ سب کو ریاست کے وسائل تک برابر رسائی حاصل ہو جس کی بنیاد ضروریات ہوں ، بحثیت شہری برابری کے حقوق ان کی بنیاد کا پیمانہ ہوں ۔

جب انسان کو آسودگی حاصل ہوتی ہے اور اس کا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے تو اس کو دوسروں کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہوتا ۔ جن کی بجلی کبھی جھمکی بھی نہ ہو ان کو ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال لوگوں کی تکلیفوں کا کیا اندازہ ہو۔جن کے پاس موجود شاہانہ زندگی کے وسائل ریاست کے خزانے سے موجود ہوں خواہ وہ بھاری بھرکم سودی قرضوں سے ہی حاصل ہورہے ہوں ان کو کیا احساس کہ لوگ  کس طرح گزر بسر کررہے ہیں یادو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔

اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسئلہ غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کا سبب عوام  نہیں بلکہ اس کا سبب اس ملک کے وسائل کے بلبوتے پر آسودہ حال لوگوں کے اعمال اور کارنامے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں بائیس کروڑ عوام کے مستقبل کو آج کی اس تاریک صورتحال میں دھکیلا ۔ ان کو یہ احسان نہیں ہوا کہ وہ اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں مگر غریب عوام جن کی جیب سے ان کو آسودگی میسر تھی ان کا کیا بنے گا ۔ وہ عوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے رہے اور خود کو اس ملک کے تمام وسائل کا مالک سمجھتے رہے ۔

اب انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور بشمول تمام سرکاری خزانے سے مستفید ہونے والے محکموں کو شاہی محلات سے باہر نکال کر ایک عام شہری کی طرز زندگی  پر رہن سہن میں لایا جائے تاکہ ان کو احساس ہو کہ اس ملک کے غریب عوام کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اور تب ان سے یہ امید وابسطہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کا کچھ کریں گے وگرنہ محض خالی دعووں اور دلاسوں نے تو ستر سالوں سے اس ملک کا یہ حال کردیا ہے۔

اب بھی ان کے عمل سے کوئی بہتری کا نشان نظر نہیں آتا۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینٹ کے چئیرمین ، وائس چیئرمین اور کمیٹیوں کے سربراہان کی مراعات بارے قانون بنانے کی کوشش کی گئی ہے  جس سے ان کی نیتوں کو خوب بھانپا جاسکتا ہے۔ ان کو تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو باہر کہیں سے قرض نہیں مل رہا ۔ اب یہ صورت حال ہوچکی ہے کہ ان کو کوئی سود پر قرضہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ وگرنہ یہ کفائت شعاری کےتو محض کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں عملی طور پر سب صفر ہے۔  

ان کو رضاکارانہ طور پر تمام سہولتیں اور مراعات ختم کردینی چاہیں اور اجلاس بھی قناتوں اور سائبانوں کے نیچے ہونے چاہیں۔ تمام سیکیورٹی اور پروٹوکول ختم کردینا چاہیے ۔ جان ، مال ، عزت سب کی برابر ہے ۔ اگر کسی کو اپنی جان اتنی ہی پیاری ہے تو کوئی مجبوری نہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے اور اپنے وسائل پر اپنی حفاظت کا بندوبست کرے۔ عوام کو ان کا درد محسوس کرنے والے ان کی حالت زار کو سمجھنے والے عوامی نمائندے چاہیں ۔جو باقی سرکاری محکوں کے لئے سادگی اور مساوات کی مثال قائم کرکے ان کے لئے ترغیب کا سبب بنیں اور ان کو برابری کے پیمانے پر وسائل سے مستفید ہونے کے لئے مجبور کرنے کا اخلاقی اور قانونی جواز بھی رکھتے ہوں ۔

وگرنہ  محض نعرے تو کئی مہینوں سے پارلیمان کی عالی شان عمارت میں لگ رہے ہیں لیکن وہاں سے کوئی سادگی اور برابری کی مثال دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔

قوموں کے مسائل باتوں سے حل نہیں ہوتے عمل سے ہوتے ہیں ، محنت سے ہوتے ہیں ۔ تعجب ہوتا ہے جب حکومت میں موجود قومی اسمبلی کے ممبران یا وزراء بڑے بڑے جلسوں میں بہت ہی اچھی باتیں کرتے ہیں ۔ کہ ایسا ہونا چاہیے ۔ یوں ہونا چاہیے ۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ ملک و قوم کے اختیارات تمھارے پاس ہیں وسائل تمھارے حکم کے تابع ہیں تو پھر یہ انتظام و انتصرام کس نے کرنا ہے۔ 

اگر عمل کرنے والا کوئی ہو تو ایک دن کےانتظام سے ہم سورج کی حدت سے سولر سسٹم کے زریعے اپنی دن بھر کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں اوررات کو مارکیٹوں کو بند کرکے  تقریباًپانچ ہزار میگا واٹ کے سرپلس پر جاسکتے ہیں۔ مگر ہمارے حکمرانوں ترجیحات اگر عوام کی خدمت بنیں تو۔ 

یہ ایک توانائی کے متعلق مثال ہے ۔

آج دنیا میں جو نظام حکومت میں محکموں کا ماڈل ہے اس کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کیا اور ان کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ آپؓ کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ آپؓ کے لیے 40 درہم میں خرید لیا۔ بعد ازاں غلام نے آپؓ کو یہ بتایا کہ آپؓ کا کیا ہوا عہد پورا ہو گیا اور وہ آپؓ کے لیے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا

فتصدق بهما، فانی اکره ان آکل اسرافا،کيف يعنينی شان الرعية اذا لم يمسسنی ما مسهم۔ (المنتظم، 4: 250

ترجمہ: ‘تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں، مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہو گا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے۔

پاکستان کا اصل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس کا نام اور اس کا آئین جو قرآن و سنت کے قوانین کو اس ملک کے نظام کا اساس مانتا ہے اور اس پر عمل کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے وہ یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ  مساوات کو رائج کرنے کے علاوہ کوئی بھی پیمانہ اب قابل عمل نہیں رہا اور نہ ہی اس کے علاوہ موجودہ مشکلات کا کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس سے ہٹ کر  کسی درجے کو رائج رکھنے کے جواز کا حق رکھتا ہے ۔ 

پیر، 19 جون، 2023

حکومت کی کفائت شعاری کا راز بے نقاب ہوگیا۔


ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات اور مراعات کی فکر لگی ہوئی ہے۔باتیں کفائت شعاری کی کرتے ہیں اور عمل شاہانہ ہے۔ کفائت شعاری پر جو کمیٹی بنائی تھی وہ اب سوئی پڑی ہے اور اس کی سفارشات بھی شائد ردی کی ٹوکری کے سپرد ہوگئی ہیں۔

سیلریز اینڈ پریویلیج آف سینٹ ایکٹ 2023 کے نام سے ایک ایکٹ پاس ہوا ہے ۔ یہ ایکٹ نو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کوپیش کرنے والے یوسف رضا گیلانی ، فاروق ایچ نائیک، عطاء الرحمان، ڈاکٹر شہزاد، اعظم نزیر تارڑ، فوزیہ ارشد، رضا ربانی، عبدالغفور حیدری  وغیر جیسے معززین شامل ہیں۔ یہ مراعات موجودہ اور سابق چیئرمین سینٹ کے لئے ہیں ۔اور سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس میں  تمام جماعتیں مشتمل اور متفق ہیں۔ اس کے چند چیدہ چیدہ  نکات درج ذیل ہیں۔  

بارہ ملازم ، آٹھ گارڈز، وی وی پی آئی سیکیورٹی اس کے علاوہ جہاں بھی وہ جائیں گےان وفاقی یا صوبائی حکومت سیکیورٹی دینے کی پابند ہوگی، اپنے اور اپنی فیملی کے سفر کے لئے جہازبھی مانگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ کی فنانس کمیٹی، جو چئیرمیں سینٹ خود بناتا ہے ، جو بھی فیصلہ کرے گی وہ مراعات دی جاسکتی ہیں۔

اسی ایکٹ کی دفعہ 21 ان کی رہائش پر 6 مستقل سیکیورٹی گارڈز اور 4 حکومت کی طرف سے اور اس کے علاوہ پولیس کی طرف سے بھی سیکیورٹی مہیا کی جائے گی ۔ اسی طرح سیکشن 16 کی رو سے فنانس کمیٹی بارہ تک پرسنل سٹاف  مستقل بنیادوں پر یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر دے سکتی ہے۔پھر سیکشن 20 فنانس کمیٹی کو ان مراعات کو بڑھانے کا اختیار بھی دیتا ہے ۔ سالانہ آٹھ لاکھ تک اس کی حد رکھی گئی ہے مگر کمیٹی اس کو ضرورت کے مطابق بڑھانے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال سے علاج  یا وہ گھر پر سہولت چاہتے ہوں تو اس کے لئے حکومت اخراجات برداشت کرے گی۔

سفر کے لئے وہ اگر چاہیں تو حکومت کے اخراجات پر حکومتی یا پرائیویٹ جہاز بھی وہ لے سکتے ہیں اور ان کا پروٹوکول ریاست کے ڈپٹی ہیڈ کا ہوگا۔ اور  وہ ایک سے چار ممبران تک ساتھ لے کر جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر سرکاری گھر میں رہیں تو ٹیلی فون اور گاڑیاں مفت ہونگی اوراگر اپنے گھر میں رہیں گے تو ڈھائی تین لاکھ تک کرایہ بھی ملے گا۔

اس سے پہلے پارلیمان نے اپنی توہین کے لئے قانون منظور کروایا تھا تاکہ کوئی ان پر بات نہ کر سکے۔  شائد ان کو عدلیہ کی عزت دیکھ کر رشک آیا ہو۔ظلم کی انتہا ہورہی ہے ۔ لیکن حکمرانو یاد رکھو یہ تمھاری  قانون سازیاں تمھاری ذہنی استعداد کی خمازی کر رہی ہیں اور تمھارے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ اور اگر آپ لوگوں نے اپنی ان غلطیوں کو نہ روکا تو یہ تمھاری اس بادشاہت کو بھی بہا کر لے جائیں گی ۔

قانون سازی کا معیار دیکھئے کہ قانون بنانے والے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔ پھر باتیں کرتے ہیں عدلیہ کی مراعات کی ۔ تو سن لو اس کے بھی آپ ہی ذمہ دار ہیں ۔ آپکو عوام کی نمائندگی کے لئے حکومت کا قلمدان دیا گیا ہے اور اگر آپ عوام کے مفادات کے لئے کام نہیں کرسکتے تو کسی کو بھی حکومت میں رہنےکا کوئی اختیار نہیں ۔ عوام کو مجبور نہ کرو کہ وہ تمھاری بادشاہت کو نوچ ڈالیں اور تمھارے یہ حفاظتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ اگر عوام کا احساس نہیں تو اس کائنات کے خالق کے غضب سے ڈرو جس کی کائنات سے نکلنا مشکل ہے ۔ کوئی اس کے ساتھ بغاوت نہیں کرسکتا۔

اور جو یہاں سے سب کچھ لوٹ کر باہر لے کر جارہے ہیں وہ یہ مت بھولیں کہ ان کو ان کا یہ مال و دولت کہیں بھی فائدہ نہیں دے سکے گا اور اس کی دنیا میں کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے بھی اپنی ریاستوں سے لوٹ کر دوسری ریاستوں میں جمع کیا ان کو  سب کچھ سے ہاتھ دھونا پڑے اور نہ ان کی عزت رہی اور نہ ہی ان کا مال کام آیا۔ ان کی نسلیں آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور بھوک ہڑتالیں کر رہی ہیں ۔ آپ سب سمجھتے ہیں میں کسی کانام لے کر رسوائی نہیں کرنا چاہتا اور یاد رکھو کہ  جہاں تم پنا ہ لیتے ہو وہ بھی جانتے ہیں کہ جو اپنے ملک اور عوام کے لئے مخلص نہیں وہ ان کے لئے بھی کبھی مخلص نہیں ہوسکتے ۔ ساری دنیا بے وقوف نہیں ہے اور یہ فطرت کا اصول ہے اور یہی انتقام ہے کہ انسان سب کچھ گنوا بھی بیٹھتا ہے اور اس کا حساب پھر بھی اسی کے ذمہ ہوتا ہے ۔

خدا را عوام کے پاس کوئی تو آپشن رہنے دیں کہ وہ آئینی انقلاب کی راہ سے اکتاہٹ محسوس نہ کرنے لگیں اور  جمہوریت اور سیاست کو ہی مسائل سے نکلنے کا زریعہ سمجھے رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی راہ پر چل نکلیں۔

عوام کی نمائندگی اگر آپ کو ملی ہوئی ہے تو اس کو غنیمت جانیں ایسا نہ ہو کہ یہ نمائندگی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے  یا چھین لی جائے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔اور اس کا تجربہ آپ میں سے تمام جماعتیں  کر چکی ہیں مگر شائد آپکو اس سے وہ سبق نہیں ملا جس کا آج کے حالات تقاضہ کر رہے ہیں ۔

موجودہ معاشی حالات میں ان لوگوں کی ایک اس حرکت  نے صرف سیاستدانوں نہیں  بلکہ جمہوریت  اور انصاف سے بھی  عوام کا اعتماد اٹھا دیا ہے اور یہ تمھاری سیاسی قبر کے لئے کافی ہوگا۔عوام کو کفائت شعاری کے درس دئیے جارہے ہیں اور اپنا حال کیا ہے اس کا راز یہ ایکٹ کھول رہا ہے ۔

فضولیات اورعیاشیوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کو بند کر کے قوم کو ممکنہ ایک ہزار ارب کا تحفہ پیش کرتے ہوئے کفایت شعاری کا درس دیتے تو شاید اس کا اثر بھی ہوتا مگر پر عیش ماحول میں بیٹھے ہوئے پالیسی سازوں کو کیا خبر کہ عوام گزارہ کیسے کر رہے ہیں۔ ان کو تو صرف اپنی فضول خرچیوں اور عیاشیوں کے بند ہونے کی فکر نے پریشان کیا ہوا ہے۔ عوام کو ملکی اخراجات کا حقیقی مختصر جائزہ ہی پیش کر دیتے تو شاید تمہارے ضمیر کو ایک لمحے لے لئے ملامت کا سامنا ہو پاتا۔

انصاف اور مساوات کا آغاز سربراہان کے عمل سے شروع ہوتا ہے نہ کہ ان کے کھوکھلے دعوؤں سے جن کا پرچار 75 سالوں سے اور خاص کر پچھلے 5 سالوں سے ہو رہا ہے۔ جس قوم کے قسمت سازوں کو قیام پاکستان سے سفارش، رشوت اور بدعنوانی کی گھٹی سے لے کر کمیشن کی لت کی عملی تربیت سے آراستہ کیا گیا ہو تو پھر ان سے ایمانداری اور اصلاح کی امیدیں وابستہ کرنے سے بڑا بھونڈا پن نہیں ہو سکتا۔

اس قانون کو اگر ختم نہ کیا گیا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب عوام کے پاس وقت ہے کہ ماضی کی تمام نا انصافیوں پر آواز اٹھائیں کہ ریاستی خزانے سے حاصل کردہ تنخواہیں،وضائف اور مراعات میں برابری کے علاوہ کوئی صورت قابل قبول نہیں ۔ خواہ وہ جج ہو، جرنیل ہو ، پارلیمنٹیرین ہویا بیوروکریٹ سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔  

اتوار، 11 جون، 2023

کیا شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟

نو مئی کے سانحہ میں جو کچھ ہوا ، جس نے بھی کیا اس کو نہ تو صحیح کہا جاسکتا ہے اورنہ ہی اس سانحہ کے ملزموں کو عدالتی کاروائی سے بچایا جاسکتا ہے ۔ اس کی تحقیق سے تو کسی کو بھی انکار نہیں مگر اس کی تحقیق کون کرے اس پر تحفظات اور اعتراضات ضرور موجود ہیں ۔ پہلے تو عمران خان اور ان کی جماعت کی طرف سے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ آتا رہا ہے مگر اب ایک لائرز کے فورم نے بھی فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کی مخالفت کر دی ہے ۔ اوراس طرح کی مبینہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ یہ مطالبات اگر پورے نہ ہوئےتووکلاء کےتحفظات تحریک کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں ۔

میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ آئین و قانون اور اپنی حیثیت کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ قانون کی حکمرانی کو اپنی راہ لینے دیں اور جہاں آپ انسانی حقوق کی خلاف ورزی دیکھتے ہیں اس کی نشاندہی ضرور کریں اور ان عدالتوں کے خلاف اپیل کا حق بھی قانون میں موجود ہے ۔لیکن قانون کو  سمجھنے والوں کے مطالبات اور انداز میں بھی آئین و قانون اورانصاف کے اصولوں کی جھلک نظر آن چاہیے ۔

شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل  بارے  جو بحث چل رہی ہے اس پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں ۔ کل اس کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی ہے ۔ لیکن میرے خیال میں تواس کو 184(3) کے تحت نہیں سنا جاسکتا کیونکہ اس معاملے میں نہ تو کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور نہ ہی یہ مفاد عامہ کا مسئلہ  بنتا ہے۔ اس بارےپاکستان کا قانون واضح ہے۔ ہاں اگر کاروائی کے دوران کسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس پر ضرورعدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے ۔

 کے تحت سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے آرمی ایکٹ 1952 کی دفعات

2015 میں کی گئی ترمیم کے مطابق اگر کوئی " پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے،  جنگ کرے یا حملہ کرے۔ پاکستان کی مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے ادارے یا پاکستان میں کسی بھی سول یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرے" تو کسی بھی شہری کے خلاف وفاقی حکومت کی اجازت سے مقدمہ چلایا جاسکتا ہے ۔وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت بھی فوج کو حکم دے سکتی ہے ۔

پہلے بھی ان عدالتوں کی مثال پاکستان میں موجود ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف بھی فوجی ۔ عدالتیں بنائی گئیں تھیں۔اور موجودہ  سانحہ کسی طرح سے بھی دہشت گردی سے کم نہیں۔ 

انسانی حقوق ہر انسان کے بنیادی حقوق ہیں  جن کا تعلق انسان ہونے سے ہے اور دنیا کے تمام  انسان کہیں بھی رہتے ہوں سب   ان کے برابر حق دار ہیں ۔ اور ان حقوق کو انسان سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا لیکن انسان کا شہری  ہونا اس کو اس ملک کے کسی خاص قانون سے استثنیٰ نہیں دیتا۔ شہریت انسانی حقوق میں نہیں آتی۔ اگر کوئی شہری کسی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کواس  کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہاں  انسانی حقوق ان کے خلاف کاروائی میں شفافیت، غیر جانبدار ی اور موقف کو سنے جانے یا اپنی بے گناہی کے ثبوت دینے کے حق کو یقینی بناتے ہیں ۔ لیکن اس میں  وہ یہ موقف نہیں لے سکتا کہ وہ جرم تو کسی اور  علاقے میں کرے اور کہے کہ اس کے خلاف مقدمہ اس کے اپنے علاقے میں چلایا جائے ۔ بلکہ جہاں وہ جرم کرے گا اسی ملک ، علاقے یا قانون کے مطابق اس کے خلاف کاروائی ہوگی۔  

تو میرے چند سوالات ہیں ان لوگوں سے جو سویلین کے مقدمات کوفوجی عدالتوں میں چلانے کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ کیا  جہاں جرم ہوا ہے وہاں پر نافذ قانونی دائرہ اختیار کو نہیں دیکھا جاناچاہیے ؟ کیا ان عدالتوں کی آئینی و قانونی حیثیت موجود نہیں ؟ کیا اس طرح کی پہلے کوئی مثال موجود نہیں ؟ کیا ان فیصلوں کے خلاف کوئی  قانونی ریمیڈی موجود نہیں ؟ ان نقاط کی روشنی میں اگر  ان کے پاس  ان پر اعتراض  کرنے کا جواز موجود ہے تو  ان کو حکومت کے سامنے رکھنا چاہیے یا اس کو عدالت میں چیلنج کریں مگر  سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قطعاً بھی نہیں ہونی چاہیے ۔

ظاہراًتو اس معاملے میں کہیں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں پائی جاتی اور نہ ہی  کوئی قانونی اعتراض ان عدالتوں پر اٹھایا جاسکتا ہے البتہ اس میں سیاسی خدشات ضرور موجود ہیں جن کا حل بھی سیاسی معاملات سے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے  جوپارلیمان میں قانونی اصلاحات ہیں ۔  اور جہاں تک تعلق ہے ہماری سول کورٹس کا تو موجودہ حالات میں ان کی غیر جانبداری ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر ان کاعمل خوب عکاسی کررہا ہے۔ اس وقت اگر کوئی آئینی ادارہ سب سے زیادہ  متنازع نظر آرہا ہے تو وہ عدلیہ  ہے جس پر نہ صرف عوام ،  پارلیمان  بلکہ ادارے کے اندرسے سہولت کاریوں اور جانبداری کی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ عدالتوں کے اندر زیر بحث مقدمات میں ججز پر مفادات کے ٹکراؤ کے اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں مگر ججز ان کا کوئی اثر ہی نہیں لے رہے ۔ تو ایسے حالات میں جب ان واقعات میں ملوث لوگوں کے ہماری عدلیہ کے اندر تعلقات کی مبینہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہوں  اوران کے فیصلوں  پر خود حکومت ثبوتوں کے ساتھ عدالتی کاروائیوں  کو چیلنج کر رہی ہوتو ایسے میں کیا کوئی سول عدالتوں سے شفاف، غیر جانبدارانہ اور انصاف کے اصولوں پر مبنی انصاف کی ضمانت دے سکتا ہے ۔

حکومت کے علاوہ جب وکلاء کی ایک بہت بڑی تعداد خود اس عدلیہ کے نظام میں اصلاحات لانے کا دیرینہ مطالبہ کر رہی تھی  اور جب اس پر قانون لایا گیا تو عدلیہ کے  انہی ختیارات جن پر وکلاء  تحفظات رکھتے تھے  کے بندوبست سے قانون کو ہی معطل کردیا ۔ اور وکلاء خود اس پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ تو پھر کس طرح ایسے حالات میں وہ  معاملات جن کے بارے قوانیں  کئی دہائیوں سے نافذالعمل ہوں ،کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، چند افراد کی خواہشات پر، سول عدالتوں کے حوالے کر دیا جائے ۔ اس کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز بھی تو ہونا چاہیے۔

کیا نو مئی  کے اردگرد د نوں میں جو عدلیہ یا  انتظامی اداروں کے اندر بیٹھے لوگوں کے اعمال سے تاثرات ابھر رہے ہیں ان  کی موجودگی میں انصاف کی توقع وابسطہ کی جاسکتی ہے۔ فوجی عدالتوں پر اعتراض اگر بجا ہے تو پھر کوئی متبادل یا مروجہ نظام بھی تو ہو جس پر بھروسہ کیا جاسکے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر قانون یا حالات میں بہتری لانی ہے تو وہ بھی تو آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی لائی جاسکتی ہے ۔اگر موجودہ آئین و قانون میں چھاؤنی کے اندر واقع ہونے والے جرائم میں ملوث  سول ملزمان کو ٹرائل کرنے کا طریقہ کار موجود ہے تو پھر اس کو محض خواہشات  سے تو شکست نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس کی کوئی منطق ہے ۔

پھر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ان کے اعتراضات کو اگر قانون سے ہٹ کر بھی لیا جائے تو کیا اس پر عوام یا سیاسی جماعتیں  متفق ہیں کہ سول لوگوں کے  مقدمات سول کورٹس میں ہی  چلنے چاہیں ۔ کیا حکومت اور سیاسی جماعتیں سول کورٹس کی کاروائیوں پر جانبداری اور سہولت کاری کا الزام نہیں لگا رہیں اور عدالتیں اپنے عمل سے اس موقف کو تقویت نہیں بخش رہیں ۔ کیا عوام اور سیاستدان عدالتوں کے  سامنے احتجاج نہیں کر رہے۔ کیا لیک ہونے والی مبینہ آڈیوز اس بات کی تصدیق نہیں کر رہیں کہ یہ مبینہ الزامات ٹھیک ہیں ۔ کیا ان آڈیو لیکس کے اندر فوج کے مارشل لاء لگانے کی خواہشات  کا اظہار نہیں کیا جارہا ۔ جس کی مطلب ہوا  کہ ان لوگوں کوبھی  اپنے سول اداروں سے زیادہ عسکری اداروں پر اعتماد ہے ؟

انہی آڈیو لیکس پر حکومت نے عدالت عظمیٰ  اور دو ہائیکورٹس کے ججز پر مشتمل  انکوائری کمیشن بنایا ہے  جس پر عدلیہ کے اندر سے عدم اعتماد اور کام کرنے سے روکا  جارہا ہے ؟  جب خود عدلیہ ہی اپنے ججز پر اعتماد کا تاثر دینے سے قاصر ہے تو پھر اس طرح کے حساس قسم کے معاملات میں ان کو یہ ذمہ داری کیسے دی جاسکتی ہے ۔کیا اس سے معاملات  مزید کشمکش کا شکار نہیں ہونگے؟

آسان سا کام ہے اگر پاکستان کی عوام واقعی نہیں چاہتی کہ چھاؤنیوں پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کاروائی ہو تو پھر پارلیمان تو عوام  ہی کی نمائندہ  ہے ۔ بدل دیجئے اس قانون کو اور ختم کر دیجئے اس قانون  اور فوجی عدالتوں کو۔ لیکن اس طرح کے احتجاجوں اور تحریکوں کا کوئی جواز نہیں ۔ اور کیا جو وکلاء یہ کانفرنسز کر رہے ہیں ان کو پاکستان کے تمام وکلاء کی تائید حاصل ہے ؟

کیا جو لوگ نو مئی کو وہاں دھاوا بولنے کے لئے گئے اور قومی املاک کو نقصان پہنچایا اور ہمارے شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی اس کا کوئی آئینی و قانونی جواز تھا؟ کیا  ان کو سول کورٹس میں مقدمات چلانے یا ان کے ساتھ نرمی برتنے کا عمل  مستقبل کو ایسے سانحات سے محفوظ کرنے کا موجب بنے گا یا ایسی سوچوں کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی کا موجب ۔  کیا جو ان سانحات میں ملوث لوگ ہیں ان کے اپنے خاندانوں کا تعلق فوج سے نہیں ۔ میرا ن سے سوال ہے کہ اگر ان کے اپنے وہ ریٹائرڈ فوجی افسران  آج حاضر سروس ہوتے اور ان کے رشتہ داروں کی بجائے کوئی اور شہری اس سانحہ میں ملوث ہوتے  توپھر  ان کا کیا فیصلہ ہوتا ؟

کیا ماضی میں جو نا انصافیاں ہوئیں وہ ساری فوجی کورٹس نے ہی کی ہیں ۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو  کو سزائے موت کسی فوجی عدالت نے دی تھی ۔کیا پچھلے کئی ہفتوں سے جو تحریک انصاف پر مقدمات درج ہورہے ہیں وہ  سول حکومتوں کے زیر انتظام اداروں میں نہیں ہوئے ۔ کیا وہ سارے مقدمات سول کورٹس میں نہیں چل رہے ۔ کیا ان ساری کاروائیوں پر تمام ملزمان خوش ہیں ۔ کیا یہ فوجی عدالتیں کسی اور ملک کی ہیں یا ان کو آئین پاکستان کا تحفظ حاصل نہیں ۔

شائد کوئی بھی نہ چاہتا ہو کہ سول لوگوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب سویلیں ایسے اعمال کے مرتکب ہونگے تو پھر ان کو کوئی کیسے وہاں سے گھسیٹ کر باہر نکال سکتا ہے جب وہ  خود دوڑ دوڑ کر چھاؤنیوں کی طرف بھاگیں ۔ جیسے وہ کسی دشمن ملک کی فوج کو فتح کرنے جارہے ہوں ۔ اور اگر سول نظام انصاف فوری ، شفاف اور غیر جانبداری کی تاریخ کا اثاثہ رکھتا ہوتا تو  پھر ایسے مخصوس قوانیں بنائے ہی کیوں جاتے ۔ اگر ہمارے عوام کی اخلاقیات  اور ظرف اتنے اعلیٰ ہوتے تو وہ اس قانون کو جاکرکیوں للکارتے ۔ اس پر کوئی بات نہیں کرتا اور سہولتیں تلاش کرنے کے چکر میں ہر کوئی  شیدائی ہوئےجارہاہے ۔

معزرت کے ساتھ مجھے ان لوگوں کی باتوں اور انداز سے ابھرنے والے تاثر سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت ، غیر جانبدار ی اور فوری انصاف سے خوفزدہ ہیں  جس کے یہ عادی نہیں ہیں ۔اگر ان لوگوں پر دوہزار چودہ میں پی ٹی وی ، پولیس اور پارلیمان پر حملہ کرنے کے جرائم میں سول عدالتوں سےسزا دی گئی ہوتی تو آج ان کے لئے  فوجی عدالتوں کے خلاف آواز اٹھانے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ خدا را کوئی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آئین و قانون اور  نظام انصاف اور دفاع کا مذاق نہ بنائیں اور اپنے مفادات اور خواہشات کے خاطر ملکی امن و سلامتی کو داؤ پر لگانے کی کوشش نہ کریں ۔

کسی کی خواہشات یا خاص  ماحول کی نسبت سے قوانیں تو نہیں بدلے جاسکتے اور نہ ہی آئین و قوانیں کسی خاص طبقہ کے لئےہوتے ہیں  ہیں ۔ لہذا اب اس فضول کی بحث میں پڑنے کی بجائے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی گناہ گار کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو اور کسی بے گناہ کو کوئی سز انہ دی جائے ۔ جو جائز مطالبہ ہے ۔ ابھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا اور اس کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اگر کسی کو ناانصافی کی کوئی معلومات ملتی ہیں تو پھر اس پر ضرور بات ہوسکتی ہے اور اس کو عدالت میں چیلنج کرکے سول کوٹس کےشوق بھی پورے کئے جاسکتے ہیں ۔

ہمیں سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور جب ہم نے سب کو آزما لیا ہے تو ایک دفعہ آئین پر عملداری اور قانون کی حکمرانی کو بھی یقینی بنا کر آزما لیں ۔ خواہ مخواہ کے تماشے لگانا چھوڑ دیں اور آئین و قانون کو اپنی راہ لینے دیں ۔اگر یہ لوگ واقعی فوجی عدالتوں کے خلاف کوئی قانونی جواز رکھتے ہیں تو پھر اس پر احتجاج کی بجائے کسی ڈائیلاگ کا بندوبست کریں ۔ وکلاء اپنی برادری کی تائید حاصل کریں  ، ان کے قیام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں  ۔ پارلیمان کے اندر کوئی حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں ۔ عدلیہ کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں ۔مگر خدا را ملک کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش مت کریں ۔ سیاسی استحکام کو بحال ہونے دیں تاکہ ملک کی معیشت کو سنبھالنے  کی صورتحال پیدا ہوسکے ۔

بدھ، 7 جون، 2023

ہر کوئی بے نقاب ہو رہا ہے،یہی نظام فطرت ہے


قدرت کا نظام انصاف  و انتقام بھی کیسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو ہی بے نقاب کرنا شروع کردیتا ہے۔ ایک معقولہ تو ہر کسی نے سنا ہی ہوگا کہ انسان جب بھی کوئی کام فطری اصولوں کے خلاف کرتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے  جو ایک الارم ہوتا ہے کہ وہ اس کام سے باز رہے مگر جب وہ اس سے نہیں رکتا تو پھر اس کے اپنے اندر ایک افسوس سا ضرور موجود رہتا ہے ۔جو ایک حد پر پہنچنے کے بعد اس کے اندر سے اخراج چاہتا ہے ۔وہ خواہ اس کے اپنے اعتراف کی صورت ہو یا اس کے کسی شریک جرم کی طرف سے۔ اور  اگر دونوں صورتوں کا سبب نہ بن سکے تو پھر نظام فطرت خود ہی اس کے رازوں کو فاش کرنا شروع کردیتا ہے ۔

ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔پچھلے دس سالوں کی سیاسی غلطیوں کی اب اخیر ہوچکی ہے اور اب یہ یکے بعد دیگرے افشا ہورہی ہیں ۔ بعض کردار تو اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے خود ہی اعتراف کرنے لگے ہیں اور بعض اپنے ساتھ دوسروں کو بھی  بے نقاب کررہے ہیں اور بعض کے جرائم نظام فطرت کا نشانہ بن رہے ہیں  اور ان کے اعمال ان کو بے نقاب کرنے لگے ہیں ۔ مگر افسوس کہ بے نقاب ہونے اور ان جرائم کے ثبوت سامنے آجانے کے باوجود  بھی ہر کوئی آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو تسلیاں دینے کی کوشش کررہا ہے  کہ شائد لوگ اس کو جھوٹ ہی سمجھ لیں ۔مگر وہ شائد نظام فطرت کے اگلے مرحلے سے ناواقف ہیں کہ ان  رازوں کے افشا    ہونے کا مقصد ہی گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔ انسان اور معاشرے پر ان کے بد اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ یہ فطرت کا ایک احسان ہے کہ انسانی اور معاشرتی بیماری کی تشخیص  در اصل اس کے علاج کا تقاضہ کر رہی ہوتی ہے ۔ وہ خواہ اس کی معافی تلافی سے ہو یا  جزا و سزا سے ۔

لیکن جو انسان یا معاشرے اس کی تشخیص کے بعد بھی اس پر توجہ نہیں دیتے تو وہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ بیماری کے علاج  کی پہلی ذمہ داری انسان کے اپنے اوپر آتی ہے یا جو اس کا علم رکھتے ہیں ۔ جس طرح معاشروں کی بیماریوں کا علاج  انسانوں  کی اجتماعی ذمہ داریوں  پر ہوتا ہے اسی طرح ریاستی  جرائم کا علاج عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ اور ایک ریاست اور اس کے شہریوں کی عزت، شہرت اور دولت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اس ریاست کے ذمہ داروں پر ہوتی ہے کہ وہ اس جرم کو معقول منطقی انجام تک پہنچائیں ۔جس سے ریاست کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ ہو جو عوام کا ایک اجتماعی نقصان ہوتا ہے اور افراد کے ذاتی نقصان کا بھی ازالہ اور داد رسی ہوسکے۔

ریاست کے انتظامات کو سنبھالنا کوئی  کھیل یامشغلہ نہیں بلکہ عوام کی دی ہوئی ایک ذمہ داری ہے  جس کی جوابدہی بھی ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریوں  میں کوتاہی  یا شفافیت ، غیرجانبداری اور برابری کی بنیاد پر سرانجام دینے سے ناکامی  کی صورت میں پھر وہ  ذمہ داران بھی اسی طرح جرم کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں جس طرح سے ان کے درپیش غلطیوں  ، گناہوں یا جرائم کے مرتکب ۔ اپنے فرائض سے کوتاہی کی صورت وہ بھی فطرت کے نظام کی پکڑ میں آسکتے ہیں اور پھر ان کی جوابدہی اور احتساب کے لئے جب نظام   فطرت حرکت میں آتا ہے تو نئے ذمہ داران ان کی جگہ لے چکے ہوتے ہیں ۔

اب حکومت پر یہ ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ وہ بے نقاب ہونے والوں کا احتساب  آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر شروع کریں اور اس کو شفافیت، غیر جانبداری اور برابری کی بنیاد پر قائم نظام کے حوالے کردیں۔آگے جس جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اپنے اختیارات کو قوم کی امانت سمجھ کر ان کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  آگے بڑھاتا چلا جائے اور اپنے آپ کو نظام فطرت  اور نظام ریاست سے سرخرور کروانے کا انتظام کرے ۔ ہر انسان موجود وقت  اور اختیار کو اللہ کا احسان سمجھے کہ ابھی یہ اس  کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اعمال کا انصاف اپنے ہاتھ سے کرلے اس سے پہلے کہ وقت اور اختیار اس کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اور کوئی اوراس کے اعمال پر فیصلے کر رہا ہو ۔ 

اسی طرح سے یہاں ہر کوئی بے نقاب ہوتا ہے ، فطرت کے نظام انصاف ، انتقام ااور مکافات عمل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے  اگر کوئی سمجھے تو۔

کوئی جج ہو، جرنیل  ہو، بیوروکرٹ ہو یا سیاستدان سب کے پاس اسی ریاست کے مہیا کردہ اختیارات اور وسائل ہیں جواس قوم کی امانت ہیں جن کا مقصد ریاست اور عوام کی فلاح و بہبود ہے نہ کہ ذاتی مفادات کے لئے انکا استعمال ۔ اور کوئی بھی اگر ان کے استعمال میں کوتاہی ،من مانی  یا ان کا غلط استعمال کرے گاتو وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بچا نہیں پائے گا۔ غور کریں تو ہمارے ارد گرد  ہماری آنکھوں کو دیکھنے اور ذہنوں کو سمجھنے کے لئے مشاہدے موجود ہیں اور کوئی بھی آج سے سو سال پہلے والا موجود نہیں مگر اس کے اعمال تاریخ کی امانت بن چکے ہیں ۔ اس کے دنیا کے اسباب پیچھے رہ گئے ہیں ۔اس نے ان کو کس طرح اکٹھا کیا اس کا حساب وہ خود دے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے ۔ تاریخ کا  نظام انصاف اپنے فیصلے سنا رہا ہے اور ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کر رہا ہے ۔

حکمران ، جج ، جرنیل ، بیوروکریٹ ، سیاستدان یا جس جس کے پاس بھی جو ذمہ داری ہے ۔ یاد رکھیں کہ  ہم کسی کو بھی اپنی ذات کی حد تک کے نقصان اور سرزد ہونے والی غلطی کو تومعاف کر سکتے ہیں مگر ریاستی املاک کو پہنچے والے نقصان میں پوری قوم کا حصہ ہے اور کسی کو کوئی اپنی مرضی ،اس کے ساتھ تعلق، اس کی حیثیت یا اس کے رتبے کے لحاظ سے کوئی رعائت نہیں دے سکتا۔ اور جو کوئی اس نظام قدرت کے توازن میں بگاڑ کی کوشش کرتا ہے  تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

جب اللہ کے رسول ﷺکے پاس ایک لڑکی کے چوری کے جرم میں سزا پر سفارش کی گئی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی اپنی  بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہوتیں تو یہی سزا ملتی۔ اور وعید بھی سنائی کہ پہلے والی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ انہوں نے انصاف نہیں کیا۔ 

حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ اللہ  انسان کی عیبوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا ہے جب تک وہ  اخیر نہ کردے۔بالآخر وہ بے نقاب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ آج  جو لوگ اپنی زندگی میں بے نقاب ہو رہے ہیں ان پر بھی اللہ کا احسان ہے ،انکو موقع دیا گیا ہے کہ جن کی انہوں نے حق تلفی کی ہے ، ان سے معافی تلافی  کر لیں   تاکہ کل تاریخ یا آخرت کے کٹہرے میں ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ، غلطی یا جرم نہ ہو اور وہ اس دنیا سے سرخرو ہو کر جائیں ۔

بدھ، 3 اگست، 2022

ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ ایک سبق آموز مثال

آج تحریک انصاف کے بانی رکن کی طرف سے اپنی ہی جماعت پر ممنوعہ فنڈنگ کے الزامات کا فیصلہ سنایا گیا جس میں الزامات کو درست تسلیم کیا گیا ہے اور اکاونٹس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں ۔ اس معاملے میں جو بات دلچسپی کی ہے وہ یہ ہے کہ جماعت کے اپنے ہی ممبر نے جمہوریت کا حق استعمال کرتے ہوئے جماعت کے اندر غیر قانونی اقدامات کی نشاندہی کی اور ان کو نظرانداز کیا گیا تو اس نے ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن جانے کا فیصلہ کیا اور یوں آٹھ سال کی طویل کوشش کے بعد آج وہ عوام اور قانون کی نظر میں سرخرو ہوئے ہیں ۔

یہ ایک سبق ہے ، جمہوری کتاب کا ایک باب ہے کہ جمہوریت کے اندر سیاسی جماعتوں کے اندر کس طرح کے لوگ ہونے چاہیں اور ان کے جماعتوں کے اندر کیا حقوق اور ذمہ داریاں ہیں اور ان کو کیسے اپنی جماعت کی نگرانی ، تصیح اور نظر انداز کئے جانے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کرنی ہے ۔ پھر اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو کس طرح اندرونی اور بیرونتی کرداروں کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر کیا کیا کمزوریاں ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

توا اکبر ایس بابر نے ایک قائد ، جمہوری کارکن اور محب وطن ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے قوم اور سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کی تربیت کی ہے ۔ اور پھر اس ساری قانونی کاروائی کے دوران کن کن مشکلات کا ان کو سامنا کرنا پڑا کی بھی نشاندہی ہوتی رہی ہے ۔ کیسےاس طرح کے مقدموں کو لٹکایا جاتا ہے ۔ آٹھ سال لگ گئے اور جماعت کن کن آئینی اور غیر آئینی مراحل سے گزرتی ہوئی حکومت سازی میں بھی کامیاب ہوگئی ۔ اگر اس مقدمے کا فیصلہ وقت پر ہوجاتا تو بر وقت اصلاح سے جماعت کے اندر جوابدہی کی سوچ پیدا ہوتی اور کتنے ہی غیر آئینی الزامات سے بچ جاتی ۔ تو معلوم ہوا کہ ہمارے جمہوری نظام پر ابھی بہت زیادہ توجہ دینے اور محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔

میں سمجھتا ہوں کہ عوام کواکبر ایس بابر کی جرآت پر داد دینی چاہیے کہ انہوں نے اپنی ہی جماعت کے خلاف بات اٹھائی ۔ ان پر یقیناً ہر طرح کے دباؤ بھی آتے رہے ہونگے مگر انہوں نے آٹھ سال ان تمام کے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا حالانکہ جماعت اقتدار میں تھی اور اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اب ان کو چاہیے کہ پارٹی کی قیادت کا بھی دعویٰ کریں اور جماعت کے قوانیں کے مطابق پارٹی کے ناراض کاکنوں کا اجلاس بلائیں اور جماعت کے فیصلے کریں ۔ حکومت کو ایسے کرداروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے اکبر ایس بابر کو جمہوری ایوارڈ سے نوازنا چاہیے تاکہ دوسری جماعتوں کے اندر بھی اس طرح کی نگرانی کی روایات شروع کرنے کی سوچ اور جذبہ پیدا کیا جاسکے ۔

سیاسی جماعتیں عوامی اثاثہ ہوتی ہیں ۔ عوام ، ورکروں اور ووٹرز نے پارٹی کے لئے وقت اور پیسہ لگایا ہوا ہوتا ہے ۔ پارٹی کے ساتھ ان کی ہمدردیاں اور امیدیں وابسطہ ہوتی ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ملک و قوم کے ساتھ وفادار اور عوامی فلاح کے مقصد پر قائم رکھنے کے لئے ریاستوں کے اندر آئین اور سیاسی جماعتوں کی نگرانی کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح کے قوانین پاکستان میں بھی موجود ہیں اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ اگر کوئی جماعت عوامی یا ملکی مفادات کے خلاف کام کرتے ہوئے پائی جائے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی کرے ۔ جس کے تحت آج فیصلہ سنایا گیا ۔ مگر تاخیر کی وجہ سے اصل جمہوری سوچ رکھنے والا عدالتوں میں دھکے کھاتا رہا اور غیر آئینی اقدامات کرنے والے حکومتیں کرتے رہے ۔

ایسے فیصلے جمہوریت کی مضبوطی کے ضامن ہوتے ہیں ۔ ان سے نہ صرف سیاسی جماعتیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ سیاسی جماعتیں  جمہوری اور قانونی راستے پر چلنے پر مجبور ہوتی ہیں ۔ اورسیاسی جماعتوں کی مضبوطی اور آئین کی پاسداری سے قانونی سازی کے عمل میں بھی پختگی اور بہتری آتی ہے جس سے ملکی اداروں کو بھی پھلنے پھولنے میں مدد ملتی ہے ۔

اس فیصلے پر تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں کے رد عمل سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے کہ وہ کس طرح سے اپنی صفائی میں مختلف حیلوں بہانوں کا سہارا لے رہے ہیں ۔ جیسا کہ تحریک انصاف کی قیادت اسے معممولی لے رہی ہے اور دوسری جماعتوں کے بارے فیصلے کا بھی مطالبہ کررہی ہے ۔ ان کا مطالبہ ٹھیک ہے مگر اس مفروضے کی بنیاد پر کہ ان کو بھی ممنوعہ فنڈنگ ہوتی رہی ہے یا الزامات کی بنیاد کو کسی جرم کا جواز تو کسی صورت بھی پیش نہیں کیا جاسکتا ۔

پھر حالیہ دنوں میں آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ کس طرح سے پنجاب اسمبلی اور کے پی کے سے الیکشن کمشنر کے خلاف قرادادیں منظور کروائی گئیں ۔ جسے وقت کی مناسبت کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے پر اثر انداز ہونے سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ اور ادارے پر مسلسل دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ الیکشن کمشنر متعدد بار عدم تحفظ کا اظہار کرچکے ہیں اور آج انہوں نے کہا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو پی ٹی آئی ذمہ دار ہوگی ۔ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اداروں کو تحفظ فراہم کرے تاکہ انصاف کے عمل کو یقینی اور بے خطر بنایا جاسکے اور اگر حکومتیں خود ہی دباؤ اور دھمکیوں پر اتر آئیں تو پھر انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔

تحریک انصاف کی قیادت کو الیکشن کمیشن پر الزامات لگانے کی بجائے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی قانونی سقم رہ گیا ہے یا کسی دستاویز کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے تواس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے اپیل کرنی چاہیے نہ کہ ادارے کو بے بنیاد الزامات کے زریعے سے کمزور کرنے کی کوشش کی جائے ۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے اور اگر الزامات لگائے جاتے ہیں تو ادارے کو اختیار حاصل ہے کہ بلا کر الزامات کے حق میں شواہد طلب کرے اور ناکامی کی صورت میں وہ سزا بھی تجویز کر سکتا ہے لہذا اپنے لئے مزید مسائل پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

بلکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ وہ اداروں کے تقدس کا خیال رکھیں اور اداروں کو آئین و قانون کے اندر رہ کر کام کرنے اور غیر جانبداری اور شفافیت کے لئے ہر ممکن مدد کریں اور بے جا تنقید سے گریز کریں ۔۔

میرے خیال میں ایسی صورتحال میں جماعتوں کی بجائے ان کرداروں پر پابندی لگنی چاہیے جو ان غیر قانونی عوامل کے مرتکب ٹھہرے ہوں انکو نشان عبرت بنانا چاہیے ۔ ممنوعیہ فنڈنگ کو ضبط کیا جاسکتا   ہے اور ملوث کرداروں کو نااہل بھی قرار دیا جاسکتا ہے مگر جماعتیں تو عوامی اثاثہ ہوتی ہیں انکو آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرتے رہنے دینا چاہیے ۔

پیر، 1 اگست، 2022

خادم پاکستان کے نام (2)


انسان کی پہلی ضرورت صحت ہے جو اس کی تمام تر توانائیوں کی ضامن اور ملکی ترقی کی بنیادی شرط ہے کے بارے کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور سب کو مفت اور برابر سہولیات ملنی چاہیں ۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک کے غریب اور متوسط عوام تو خوار ہورہے ہوں اور خاص لوگ جو اس ملکی کی ملازمت اور خدمت کے لئے چنے گئے ہیں عوام کے پیسے پر خاص سہولیات حاصل کررہے ہوں اور ایک ہی ریاست میں حکمرانوں کا جہاں اور ہو اور عوام کا جہاں اور ۔


نظام انصاف کسی بھی ریاست کے اندر ہر قسم کے تحفظات اور حقوق کی پاسداری کا ضامن ہوتا ہے اور ملکوں کے مالی اور سیاسی استحکام کا بھی بہت بڑا سبب ہوتا ہے ۔ اس کے لئے بھی اصلاحات اور انتظامات ہونے چاہیں ۔  


مالی ناانصافیوں اور بے ضابطگیوں کو روکنے کے لئے خود کار ٹیکنالوجی پر منحصر نظام ترتیب دینا چاہیے جس پر عوام کو دسترس حاصل ہو تاکہ شفافیت اور عوامی جوابدہی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ جس سے اس طرح کی ثقافت کو قائم کیا جا سکے جس میں سرکاری ملازمین کے اندر یہ احساس اجاگر ہو کہ وہ عوامی خدمتگار ہیں اور عوام کو یہ تاثر اور اعتماد اور اطئمان ملے کہ حکومتی ادارے ان کی فلاح کے لئے کوشاں ہیں ۔  


ہمارے نظام تعلیم نے ہمارے اندر نظریاتی اور طبقاتی تقسیم کو جنم دیا ہے جس کے اثرات آج آپ کے سامنے ہیں کہ دین ہماری اخوت اور بھائی چارے کی بجائے تفرقہ بازی کا سبب بن گیا ہے ۔ ہمارا شعور آگہی کے بجائے خود اعتمادی کے نام پر بداخلاقی اور بد زبانی کا موجب بن گیا ہے ۔ ہمارا قومی جزبہ غیرت ، حمیت کی بجائے منافقت اور بدتہذیبی کا شکار ہوگیا ہے۔ آج ہم اپنے اس علم اور علمی درسگاہوں جنہوں نے ہماری ترقی کا سبب بننا تھا ہماری نظریاتی اور طبقاتی تقسیم کا سبب بنتی جارہی ہیں ۔ علوم اور علمی اداروں کو علم اور اساتذہ کی قابلیت کے اعتبار سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے دولت مندوں اور غریبوں کی پہچان کے طور پر سمجھا اور دیکھا جاتا ہے ۔


اس خرابی کو اس کی بنیاد سے ہی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے یکساں ںظام تعلیم کو صحیح معنوں میں لاگو کرنا ہوگا ۔ پرائمری نصاب تعلیم اور تعلیم اداروں کو نجی تحویل سے آزاد کرانا ہوگا ۔ اس پر حکومت کو جتنے بھی اخراجات اٹھانے پڑیں عمل کو یقینی بنانا ہوگا ۔ اور جن سرمایہ داروں نے اس کو زریعہ معاش بنایا ہوا ہے انکو اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی طرف مرغوب کروانا ہوگا ۔ اعلیٰ تعلیم کی سطح پر وہ اپنے کاروبار کو رواج دیں  مگر بنیادی سطح سے لے کر سیکنڈری سطح تک کو ان سرمایہ داروں کے چنگل سے نکالنا ہوگا اور دولت کے بلبوتے پر انسانی امتیاز کی سوچ کی بحرحال حوصلہ شکنی کرنی ہوگی جس کو میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر ملازم پیشہ طبقہ کی ترقی کے عمل کو فعال کرنے سے ہی شکست دی جاسکتی ہے ۔ 


جیسا کہ آپکو معلوم ہے کہ اس وقت پاکستان کے بہت سارے مسائل میں سے سب سے اہم مسئلہ مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت ہے جس کا خاتمہ تحریک عدم اعتماد کا بنیادی مقصد تھا جس نے عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔ میں آپکا شکر گزار ہوں کہ آپ نے جنگی بنیادوں پر اس کے قلع قمع کا عندیہ دیتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں ۔


آپ بھی جانتے ہیں کہ اس مہنگائی اور بیروزگاری میں کافی حد تک بیرونی قرضوں کا کردار ہے اور اس کا حصول ہرسابقہ حکومت کا ، مجبوری یا نااہلی کی بنیاد پر، کارنامہ رہا ہے کہ انہوں نے اس کو ختم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کیا ہے ۔ تو اس کو ختم کرنے کا کوئی پلان ہونا چاہیے ،  اس کے لئے کوئی جامع حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے اور اس غرض سے معاشی علم و تجربہ رکھنے والے نامور اچھی شہرت اور کردار کے ماہرین اور دانشوروں کا ایک بورڈ بنایا جانا چاہیے جس میں اسلامی معاشی نظام کے دانشوروں اور ماہرین کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ ہم اگر فی الفور سود کی لعنت سے مکمل طور پر چھٹکارہ حاصل نہیں بھی کر سکتے تو کم از کم ایک روڈ میپ تو بنایا جاسکے جو مستقبل میں ہمیں اپنی منزل کا دیتا ہو ۔


حکومت چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا ، ان ماہرین کی سفارشات کی روشنی میں انویسٹمنٹ بورڈز اور خصوصی بینک بھی بنایا جاسکتا ہے جس میں اندرونی قرضوں سے بیرونی قرضوں کی واپسی میں مدد لی جاسکتی ہے اور  جس میں مختلف زرائع سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لئے پرکشش پیکیجز شروع کئے جائیں ، جن میں عوام سے لے کر اسلامی دوست ممالک یا دوسرے خیر خواہ ممالک سے سرمایہ کاری حاصل کرکے مضاربہ کی شرائط کے تحت کاروباری شراکت کے بانڈز جاری کئے جاسکتے ہیں اور اسطرح اس سے حاصل ہونے والے منافع کو خاص طور پر ان بیرونی قرضوں کو اتارنے کے لئے استعمال کیا جائے ۔


پرکشش پالیسیز بنائیں، بیرونی زرائع سے انوسٹمنٹس کے لئے مراعات دی جائیں تاکہ انڈسٹری کا آغاز ہو جس سے انسانی وسائل کے استعمال  میں مدد ملے جس سے ٹیکس کم بھی ملے تو بے روزگاری کا خاتمہ تو ہوگا 
سود کی لعنت کو ختم کرنے میں خاص کوشش کرنی چاہیے ، کیونکہ خدا سے جنگ کی حالت میں ہم اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانے ، کامیاب ہونے یا ترقی کے خواب کا پورا ہونے  کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔


 اس تمہید کا مقصد آپکی توجہ متبادل زرائع کر طرف مبذول کروانا ہے ، روائتی طریقوں سے بیرونی قرضوں سے چھٹکارہ ممکن نہیں اس کے لئے ہر متبادل طریقہ کے بارے گہری سوچ کے ساتھ غور کرنا  پڑے گا۔


پٹرول کی ضرورت کو کم کرنے کے لئے ٹراسپورٹ کو الیکٹرک کی طرف لے کر جائیں جس میں خاص کر چائینہ کی طرز پر موٹر سائیکلز کو عام کیا جائے جس پر رجسٹریشن اور دوسرے ٹیکسز کی چھوٹ دے کر کم خرچ بنا یا جائے تاکہ ہر خاص و عام کی دسترس میں ہو ۔ اس سے اس انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور حکومتی آمدن وہاں سے پوری ہوسکتی ہے اور ساتھ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا جس سے ان کی آمدنی کے زرائع میں اضافہ ہوا اور خوشحالی میں بھی مدد ملے گی ۔ (جاری ہے)

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین