سوچ کی غذا

‏jutice لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏jutice لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔

وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔ 

انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔

 انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ  اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی  نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔ 

انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو

درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔  اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔ 

اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔ 

اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 

جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔

ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے

لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔

جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔

کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔

عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو  جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ 

نا اہلی  اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟ 

سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔ 

ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔ 

شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی  اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔ 

مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر  بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں  انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔

لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔

یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔    

مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔



جمعہ، 2 جون، 2023

عمران خان کاچیلنج اور حکومت کا مینج

عمران خان نے حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ دو تین ہفتوں کے دوران پی ٹی آئی کے جتنے لوگ توڑنا چاہتے ہیں توڑ لیں پھر الیکشن کروائیں اور عوام کا فیصلہ دیکھ لیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت سمجھے کہ پی ٹی آئی الیکشن کے قابل نہیں رہی تب الیکشن کروا لینا اور ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں یہ کون سا قانون ہے کہ جو پہلے دہشت گرد قرار دیا گیا اگر وہ شخص پی ٹی آئی چھوڑنے کی پریس کانفرنس کر دے تو اس کا سب کچھ معاف ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک کا یہ بنیادی حق ہےکہ وہ اپنی آزاد مرضی سے کسی جماعت کو جائن کرنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کرےاور یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے مگر عمران خان کی یہ بات سن کر تو لگتا ہے کہ جمہوریت کے حسن کو میک اپ کرکے پیش کیا جارہا ہے یہ کوئی قدرتی حسن نہیں ہے ۔ عمران خان کو ان سیاستدانوں کے جانےکا غم تو ہوگا مگر لگتا ہے کہ کوئی پچھتاوا نہیں کیونکہ جب ان کو تحریک انصاف کے بانیوں کے جانے کا بھی غم نہیں ہوا تو ان میں اکثریت تو ویسے بھی آنے جانے والوں کی تھی جو ہمارے ملک کے برانڈڈ سیاستدان ہیں جن کا آزادی ہی برانڈ ہے وہ جب چاہتے ہیں اپنی جماعتیں بدلتے رہتے ہیں ۔ ان کی اصل پہچان ان کا برانڈ ہی ہے ۔ انکی کمپنی کا جہاں معاہدہ ہوجائے گا وہ وہیں اپنے برانڈ کی مشہوری کے لئے پہنچ جائیں گے ۔ ان کی کمپنی کا نام ہی کافی ہے اور شائد اسی لئے بقول عمران خان ان کی پریس کارنفرنس ان پر الزامات بھی دھو دیتی ہے ۔ پی ڈی ایم اور ان کے اتحادیوں کو حکومت تو مل گئی انہوں نے اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی ہے مگر اب تحریک انصاف کی سیاسی غلطیوں سے ان کو حالات کے بہتر ہونے کی امید لگی تھی مگر جو سلسلہ چل رہا ہے اس سے ایک بار پھر حکومتی جماعتوں کے لئے مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کی سیاسی و پارلیمانی تاریخ میں جب بھی کسی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا،کچھ عرصہ بعد وہ جماعت اسی تیزی کے ساتھ دوبارہ ابھر کر سامنے آئی، جس کی روشنی میں ان کو سخت محنت طلب مینج کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان کی تاریخ کے اوراق جو منظر نامہ پیش کرتے ہیں ان میں تو پیپلزپارٹی کو دس سالہ طویل ضیا آمریت ختم نہ کرسکی۔اسی طرح ایم کیو ایم کے خلاف تاریخی کراچی آپریشن سب کے سامنے تھا،مگر نو سالہ مشرف دور میں ایم کیو ایم پوری طاقت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئی ۔مشرف دور میں مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگادیا گیا۔لاہور جیسے شہر میں مسلم لیگ ن کا جھنڈا اٹھانے پر پابندی تھی۔مگرپھر قدرت نے وہ منظر بھی دیکھا کہ جس نواز شریف کو آرمی سے نہ بننے کی وجہ سے ہٹایا جاتا رہا وہی آرمی کے چیف کا تکرر کرتا رہا۔ حکومت مینج ضرور کرے مگر گورننس کے فطری توازن کو نہ بگڑنے دے کیونکہ اس کا بگاڑکسی کو راس آ نہیں سکتا اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں جسے ہم مکافات عمل کہتے ہیں ۔ اگر کوئی غیر فطری مینجمنٹ کے زریعے سے توڑا یا جوڑا جائے گا تو اس کا جوڑ مضطوط ثابت ہو نہیں سکتا اور اس پر جب کبھی بھی دباؤ پڑے گا تو ٹوٹنا اسکا قدرتی عمل ہوگا۔ اور تحریک انصاف کو چھوڑنے والوں کی مثال بھی اس تسلسل کی ایک مثال ہے ۔ انسانی حقوق کی پامالی ، جمہوریت کے حسن کے میک اپ اور قانون کی حکمرانی کے غیر آئینی اور غیر قانونی بندوبست بھی اسی توازن کی بگاڑ کی ایک مثال ہے ۔ اگر آج موجودہ حکومت کے دور میں یہ سب کچھ ہوگا تو کل پھر ان کے پاس بھی ان خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہوگا اور مکافات عمل کا لقمہ بننا پڑے گا۔ کل کے جلسے میں "رانا جی تُن کے رکھو" جیسے نعروں سے جو تاثر ابھر رہا ہے وہ کسی صورت بھی ایک جمہوری ریاست میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اس غلط روائت کو ختم کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ اصولی سیاست کا دامن نہ چھوڑا جائے اور اپنی ذمہ داریوں کو ریاست کی امانت سمجھا جائے ۔ اختلافات اور حمائت کی بنیاد اصول ہوں ۔ آئینی اختیارات اور ریاستی وسائل ملک و قوم کی امانت ہوتے ہیں اور عوام جس کو بھی ریاست کے انتظامات کے لئے ان کے استعمال کی ذمہ داری سونپتی ہے اس کو انتہائی ایمانداری، خلوص اور جرات کے ساتھ ملکی مفادات کی خاطر استعمال کرنا چاہیے اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں اپنے آپ کو جوابدہ بھی سمجھنا چاہیے ۔ حکومت کو 9 مئی کے سانحہ کے ذمہ داران کو سزا ملنی چاہیے مگر اس میں کسی بے گناہ کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچنا چاہیے۔اور دوسری طرف اگر تحریک انصاف اب بھی اپنی ماضی کی غلطیوں کو چھوڑ کر اصولی سیاست کا دامن نہیں پکڑتی تو پھر ان کو بھی نظام فطرت میں بگاڑ پیدا کرنے کے نتائج سے باخبر رہنا چاہیے ۔ریاست کا رویہ سمجھنا ہوگا۔ ماضی میں بھی انہوں نے پی ٹی وی اور پارلیمان پر حملہ کیا تھا مگر اس وقت ان سے نرمی برتی گئی جس سے شائد ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے مگر اب وہ رعائت میسر نہیں ہے ۔ کل اعجاز الحق کا تحریک انصاف سے علیحدہ ہونا بھی قوی اشارہ ہے ۔ اس وقت ملک انتہائی سیاسی الجھنوں کا شکار ہے اور یہ الجھنیں پہلے سے معاشی بدحالی کے شکارملک کو مزید مسائل سےدوچار کرتی جارہی ہیں ۔ ہر کوئی اس وقت تذبذب کا شکار نظر آتا ہے ۔ کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی کہ ان الجھنوں کو سلجھانے کے لئے کہاں سےآغاز کیا جائے کہیں سے کوئی سرا نظر نہیں آرہا اور جلدی بازی میں ہر کوئی ان الجھنوں کو گھمانے میں لگا ہوا ہے ۔اور یاد رکھیں الجھنیں گھمانے سے نہیں سلجھانے سے نکلتی ہیں۔سب کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا اور ٹھنڈے دل سے مسائل کا حل ڈھونڈنا پڑے گا۔

منگل، 16 اگست، 2022

ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟

انصاف کے معنی برابری ،   غیر جانبداری ، ہر ایک ساتھ ایک جیسا  برتاؤ رکھنا ، ٹکڑے کرنا  ،  حق ادا کرنا   اور ہر شے کے اس کی صحیح جگہ پر ہونے کے  لئے جاسکتے ہیں ۔ اس کےلئے لفظ عدالت کا بھی استعمال ہوتا ہے  گرچہ تکنیکی طور پر ان میں فرق ہے۔ انصاف کا متضاد ظلم ہے ۔

انصاف کا مفہوم بہت گہرا ہے جس  کے دائرے میں ہمارےکردار ، گفتار اور قضاء کے پہلو   بھی آجاتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنے اعمال میں انصاف کے پہلوؤں کا ذمہ دار ہے اور اگر وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہتا ہے  جس کے نتیجے میں کسی کا حق تلفی ہو تو پھر اس کو یہ حق پہنچتا ہے  کہ وہ اپنے حق کے بارے مطالبہ کر سکے اور اگر اس کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو پھر  وہ عدل کے لئے صاحب اختیارات اور  ذمہ داران  سے رجوع کرسکتا ہے ۔ اور ایسے حالات میں ذمہ داران جن  میں مقامی صاحب اختیار سے لے کر حکومت اور عدلیہ تک  کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اگر کوئی انصاف کے حصول کے لئے ان کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو غیرجانبداری ، برابری اور اچھے برتاؤ کے ساتھ اس کو اس کا حق دلوایں ۔

آج ہم صرف عدالتوں کو ہی انصاف کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں  اور ہر کوئی اپنے  معاملے کے بارے کوئی فکر نہیں کرتا نہ ہی کسی کو  یہ خیال ہوتا ہے کہ آیا اس کے اعمال میں انصاف کا پہلو موجود ہے یا نہیں ۔

انصاف کا اخلاقیات سےبھی بہت گہرا تعلق ہے اور اسکے معاشرے کے اندر فضائل میں ، امن و سکون ، زندگی کی آسانیاں ، عمر کا طویل ہونا ، رزق میں برکت ، دنیا و آخرت میں کامیابی ، محبت و دوستی میں اضافہ اور مخالفت و دشمنیوں کے خاتمے جیسےفوائد کا موجب کہا گیا ہے ۔ اور اگر ہم اس کے بارے غور کریں اور ہر کوئی اپنے معاملات میں انصاف کو قائم کرے تو پھر ہماری زندگیوں میں کتنا سکون ہوجائے گا ۔ جب ہمارے اخلاقیات اعلیٰ ہوجائیں گے تو پھر ہمارے تھانے اور عدالتیں خالی ہوجائیں گی ۔

اور تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ  دنیا کے جن ممالک میں اخلاقیات اعلیٰ ہیں  اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں  وہاں کے تھانے اور عدالتیں ویران ہوتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہمیشہ سے عدالتوں کی کمی ہی محسوس کی جاتی رہی ہے ۔ ہر کوئی دوسرے پر تنقید کرتا ہے مگر اپنے عمل کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ جاپان  اور کئی دوسرے ترقی یافتہ ممالک موجود ہیں جہاں اخلاق اعلیٰ ہیں یا پھر انصاف صحیح معنوں میں دستیاب ہے تو وہاں جرائم کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔

ہمارے ہاں انصاف کا خیال تو کجا  گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے ۔عدالتوں میں کتنے ہی مقدمات  ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد ہی انصاف نہیں بلکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننا ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ انصاف کا بر وقت نہ ملنا ہے ۔ جس کو سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ اس کا حق نہیں بنتا وہ انصاف کے نظام کی خرابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت کا سہارا لے کر تاخیری حربوں کے زریعوں سے معاملے کو کئی کئی دہائیوں تک لٹکائے رکھتا ہے ۔ اور جس کا حق بنتا ہے وہ خواہ مخواہ ہی وقت ، توانائیاں اور اپنا مال ضائع کرتا رہتا ہے ۔ کتنے ہی لوگ اس انصاف کے نظام سے بد دل اور نا امید ہو کر اپنے حق کی آواز ہی نہیں اٹھاتے اور خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔

ہمارے اداروں اور عدالتوں کے اندر کیا صورتحال ہے کسی سے بھی پوشیدہ نہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام مظلوم کی بجائے ظالم کو زیادہ فائدہ دے رہا ہے جس سے ظلم کم ہونے کی بجائے کئی گنا صرف اس  لئے بڑھ رہا ہے کہ کسی کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔

تو جیسے میں عرض کر رہا تھا کہ انصاف کا آغاز ہمارے انفرادی اعمال سے شروع ہوتا ہے اور اگر اس میں کوئی رکاوٹ یا حصول میں مشکل ہو تو پھر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انصاف کو یقینی بنائیں اور حکومتیں اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے عدالتیں قائم کرتی ہیں ۔

اور عدل کے منصب کو بہت ہی ذمہ دارانہ سمجھا جاتا ہے ۔ بلکہ اچھی سوچ  ، جوابدہی کا خیال اور غیر جانبداری کو روا رکھنے کے لئے فکر مند لوگ تو اس منصب سے دور بھاگتے ہیں ۔ اس منصب کی وجہ سے وہ عام شہریوں میں گھلنا ملنا ، عوامی معلومات کے زرا ئعے جیسا کہ آج کے جدید دور میں میڈیا کا کردار ہے سے  ان کو اپنے آپ کو مکمل الگ تھلگ رکھنا پڑتا ہے ۔ حکومتی عہدیداروں سے اپنے آپ کو دور رکھنا پڑتا ہے ۔ ہر اس معاملے سے اپنے  آپ کو دور رکھنا ہوتا ہے جس سے انصاف پر منفی اثرات مرتب ہونے کا  احتمال ہے ۔

مگر آج ہمارے اخلاقیات کا کیا حال ہے  سب کے سامنے ہے ۔ کس طرح لوگ اس کو عزت و تکریم اور جاہ و جلال کا زریعہ سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے کیا کیا سفارشات اور پیشکشیں کرتے ہیں ۔ اور پھر انتظامیہ اور عدلیہ کے آپس کے تعلقات اور ایک دوسرے سے فائدے اٹھانے کے قصے ہر کوئی جانتا ہے ۔

تو اس کا ذمہ دار ہم اپنی اجتماعی اخلاقی صورتحال سے لے کر اس   میں ملوث اور  ذمہ دار   ہرکردار کو ٹھہرا سکتے ہیں  ۔ اور جتنا جس کا کردار ہے لیکن زیادہ ذمہ داری عدلیہ پر ہی آتی ہے ۔ جن کے بارے یہ وعید سنائی گئی ہے کہ دو طرح کے قاضی جہنم میں جائیں گے جو یا تو اہلیت نہیں رکھتے یا پھر اہلیت کے باوجود فیصلے صحیح نہیں کرتے اور صرف تیسری قسم کے قاضی جو اہلیت بھی رکھتے ہیں اور فیصلے بھی انصاف پر مبنی کرتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے ۔ تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اخلاقی اعلیٰ اقدار  کو ہی اہمیت دی گئی ہے اور ہر ایک کو اپنی انفرادی حیثیت میں اپنا احتساب کرنے پر زور دیا  گیا ہے  کہ ہر کوئی انصاف کے عمل میں اپنی ذمہ داریوں اور اس معاملے کی نزاکت کی نوعیت کو سمجھے اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس سے انصاف نہیں ہو سکے گا تو وہ اس منصب کو لینے سے اجتناب کرے اور اسی لئے اعلیٰ اخلاق کے لوگ  کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو دور رکھیں ۔  

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین