سوچ کی غذا

‏supreme court لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏supreme court لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔

وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔ 

انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔

 انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ  اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی  نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔ 

انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو

درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔  اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔ 

اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔ 

اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 

جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔

ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے

لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔

جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔

کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔

عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو  جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ 

نا اہلی  اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟ 

سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔ 

ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔ 

شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی  اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔ 

مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر  بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں  انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔

لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔

یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔    

مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔



بدھ، 29 جنوری، 2025

جھوٹ بولنے والے کی داڑھی میں "پیکا"

پیکا میں ترمیم کیا ہوئی ہے کہ ہر طرف سے چیخنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں جیسے ہر کسی کا دم گھٹنے لگا ہو۔ صحافی تو کیا سیاستدان بھی بول پڑے ہیں۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمن نے بھی صدر آصف علی زرداری سے جلدی میں دستخط نہ کرنے کی گزارش کر دی ہے اور انہوں نے مان بھی لی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ صحافت اور سیاست جھوٹ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ سیاست میں بھی بیانیہ بنانا سیاستدانوں کی مجبوری ہوتی ہے اور جب جھوٹ پکڑا جائے تو کہہ دیتے ہیں "وہ سیاسی بیان تھا" اس سے آپ ہماری سیاست کے معیار کا  بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اور صحافت میں بھی جب تک خبر کو تھوڑے سے پر نہ لگائے جائیں وہ اڑتی نہیں اس لئے جھوٹ نہ بھی ہو تو جھوٹ جیسے گماں کا تاثر تو ہر خبر میں ملتا ہے۔ وڈیوز پر تھنب نیل تو کبھی بھی حقائق پر مبنی نہیں ہوتے کیونکہ جب تک چاشنی نہ ہو سودا بکتا ہی نہیں۔

حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کی سنیٹر شیریں رحمان نے بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ وہ تو سیاستدان بھی ہیں اور ماضی میں صحافت بھی کرتی رہی ہیں اس لئے ان کو کچھ زیادہ ہی اندازہ ہوگا کہ اس طرح کے قوانین کے کیا نتائج نکلا کرتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ نون سے بھی اگر ایک دن کے لئے حکومت لے لی جائے تو شائد ان کی آواز سب سے بلند ہو، اگر ان کو اس بات میں شک ہو توتجربہ کیا جا سکتا ہے۔

شور سے لگتا یوں ہے کہ اس قانون میں کچھ ایسا ہے ضرور جو ہر طرف سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے تو پھر اس پر کچھ توقف اور دوبارہ سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورہ اور ان کی معاونت حاصل کر لینے میں حرج ہی کیا ہے؟ حکومت کی جلد بازی بھی بہت سارے سوال اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

ابھی تو "پیکا" قانون بھی نہیں بنا اور اس کی عملداری کا آغاز دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ ایکٹ تو "چور کی داڑھی میں تنکا" کے مصداق  ایک مثال بن گئی ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جھوٹ بولنے والے ہی سب پریشان ہونگے لیکن یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جس نے جھوٹ بولنا ہی نہ ہو اس کو اپنی داڑھی میں ہاتھ مارنے کی ضروت کیوں پیش آئے گی یا اس کا دم کیوں گھٹنے لگے گا۔ خیر اسے سنجیدہ نہ لیجئے گا مگر جھوٹ کے ماحول کو ضرور سنجیدہ لینا ہو گا۔

کیا جھوٹ صرف خبروں میں ہی بند کرنے کی ضرورت ہے یا ہر سطح پر اس کے سدباب کی ضرورت ہے؟ سیاست یا صحافت میں تو جھوٹ کو کافی حد تک معاشرے کے اندر قبولیت کا درجہ حاصل ہو چکا ہے مگر بدنام زیادہ وکالت ہے۔ لیکن حکومت کی خاموشی بھی جھوٹ سے کم نہیں۔ فیکٹس کو چھپانا بھی جھوٹ کے ضمرے میں آتا ہے۔ کتنے ہی معاملات ہیں جن میں حکومت فیکٹس کو چھپانا چھوڑ دیتی تو شائد ملک و قوم کے حالات ایسے نہ ہوتے۔ ہم عدالت کے بارے تو کچھ کہہ نہیں سکتے مگر توہین عدالت کے خوف سے خاموش ہو جانا جھوٹ نہیں بھی تو سچ کو چھپانا تو تصور ہو سکتا ہے۔ اگر عدالتوں میں انصاف ہو اور کسی پر جھوٹا الزام لگانے پر ہرجانے کے قوانین پر عملدرآمد ہونا شروع ہو جائے تو کوئی کسی کے بارے جھوٹی بات کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حکومت نے اگر کچھ کرنا ہی ہے تو نظام انصاف کو ٹھیک کرے تاکہ جھوٹ اور الزامات کو روکنے کا  ماحول بنایا جا سکے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات اور شفاف انصاف کے بغیر  محض قوانین کسی کام نہیں ہوتے۔

کیا صرف حکومت کے خلاف جھوٹ بولنا ہی قابل گرفت ہے، حکومت کے حق میں بولنے کو استثنیٰ حاصل ہے؟ کیا حکومت کے حق میں جھوٹ بولنے کی بھی گرفت ہوگی؟ اگر ہو گی تو پھر یہ کون کرے گا اس کا اس قانون میں کوئی لائحہ عمل بتایا گیا ہے؟ لگتا یوں ہے کہ اصل معاملہ جھوٹ یا سچ کا نہیں بلکہ قانون کے اطلاق میں جابنداری کے خدشات بارے خوف کا ہے کہ جھوٹ بارے تحقیقات کا معیار کیا ہوگا؟ ماضی میں ایسے قوانین کے اطلاق میں چونکہ  اچھی مثالیں نہیں ملتیں اس لئے تحفظات پائے جار ہے ہیں ۔ پہلے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ 2022  میں پیکا کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور صحافیوں کو جھوٹی خبر کے روکنے کے کسی میکنزم کی ہدایات کی تھیں۔ اس وقت عمران خان کی حکومت  تھی تو اس کو پیکا موافق پڑ رہا تھا اور آج مسلم لیگ نون کی ہے تو اس کو موافق پڑ رہا ہے۔ ایسے قانون جو حکومت ہوتے ہوئے ہی موافق ہوں کی افادیت ،اہمیت اور مقاصد کا اندازہ تو لگایا  ہی جا سکتا ہے۔

جھوٹی خبر سے بھی زیادہ معاملہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کیرجسٹریشن کا ہے جو ناقابل فہم لگتا ہے۔ سوشل میڈیا تو معلومات کو شئیر کرنے یا ان تک رسائی کا ایک زریعہ ہے جس پر جھوٹ کی نشاندہی اور اس کی رپورٹ کرنے کا طریقہ کار بھی پہلے سے موجود ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے ان  کا سدباب ممکن ہے۔ اگرجھوٹی خبریں عام لوگ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنا سکتے ہیں تو کیا حکومت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ان خبروں کی نشاندہی اور رپورٹ کر کے ان کو بند نہیں کروا سکتی اور جس بھی آئی ڈی سے دی گئی ہو اس کو بند بھی تو کروایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی زیادہ تر خبریں ہی فیک نہیں ہوتیں بلکہ ان کو دینے والی آئی ڈی بھی فیک ہوتی ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو حکومت کی پہنچ سے بھی دور ہیں اور سارا غصہ جو پہنچ میں ہیں ان پر نکل جاتا ہے۔

اب رجسٹریش کے عمل میں کئی مسائل ہوتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ تو پاکستان میں حوالوں کا ہے۔ یہاں حوالوں کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتے اور حوالوں کے ساتھ نا جائز بھی نہیں رکتے تو ایسے ماحول میں کسی قانون سے جرائم کے خاتمے کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہی ہو چکا ہوتا۔ کیا بدعنوانی کے لئے قوانین کی کمی ہے یا اس کے سدباب کے لئے ادارے موجود نہیں جو جھوٹ کو روکنے کے لئے اداروں کے قیام اور اتھارٹیز کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس سے اور کچھ ہوا یا نہ ہوا ہماری اخلاقیات بارے دنیا کو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں جھوٹ کو روکنے کے لئے اتھارٹیز کوقیام  میں لایا جا رہا ہے۔

حکومت خبروں کی اشاعت کے متعلق اٹھارٹیز کیوں نہیں بنا دیتی جس کے تحت ہر ادارے، تنظیم یا جماعت کے بارے یہ قانون بنا دیا جائے کہ اس نے اپنی رجسٹریشن کے ساتھ ہی اپنا انفارمیشن کا نظام بھی رجسٹر کروانا ہے  اور وہ براہ راست اتھارٹی کے ویب سائیٹ پر صحیح معلومات کو شئیر کرنے کے پابند ہوں اور میڈیا صرف وہاں سے خبریں لینے کے پابند ہوں اور رپورٹنگ کا نظام ہی ختم ہو جائے۔ اصل مسئلہ خبروں یا جھوٹ کا نہیں بلکہ اصل معاملہ اخلاقیات اور اعتماد کا ہے۔ اگر حکومت کو رپورٹنگ پر اعتماد نہیں تو وہ عوام پر اپنا اعتماد ہی بحال کروالیں تو مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ جہاں اعتماد ختم ہو چکا ہو اور اخلاقیات تباہ ہو چکی ہوں وہاں مسائل قوانین یا اتھارٹیز  کے قیام سے نہیں بلکہ کردار سازی سے  حل ہوتے ہیں۔

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ججز کے خط سے کھلنے والے پنڈورا باکس سے کیا کچھ نکلے گا؟

 

اب یہ جو ججز پر دباؤ کا معاملہ ہے یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے کبھی اسلام آباد میں پولیس اصلاحات سے قبل اسلام آباد ٹریفک پولیس کے منتظمین جناح اور جمہوریت کے نام پر منسوب شاہراہوں کے سنگم میں چوک  جسے ڈی چوک اور انصاف کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور فیصل ایوینو چوک میں کھڑے مال اکٹھا کر رہے ہوتے تھے، ان کی پینٹوں کی جیبیں پھٹ کر نوٹ باہر جھانک رہے ہوتے تھے اور حیرت کی بات ہے کہ یہاں سے پاکستان کی ساری مقتدرہ گزر کر کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر واقع انصاف اور جمہوریت کے نام پر قائم ایوان زیریں و بالا اور انصاف کے ایوانوں میں جاتے تھے جن میں وزیراعظم، صدر پاکستان، چیف جسٹس، چیف آف آرمی سٹاف، پولیس کے محکمے کے سربراہ اور اینٹی کرپشن  محکمے کے اہلکار کسی کو وہ رشوت ستانی نظر نہیں آتی تھی۔ ایسا ہی معاملہ مجھے تو یہ عدلیہ کے ججز پر دباؤ والا بھی لگتا ہے گویا پہلے تو یہ کسی کے علم میں ہی نہیں تھا اور اب ججز کے خطوط سے اس پر یوں شوروغوغا شروع ہوگیا ہے جیسے کوئی بہت بڑی انہونی ہوگئی ہے۔

ہاں پہلے والا عدالتی اور سیاسی کلچر کچھ اس طرح کا تھا جس میں سرگوشیوں میں ایسی  باتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس کلچر سے بغاوت کرتے ہوئے بار روم میں یہ بھانڈا پھوڑ دیا جس کے بعد جو انکے ساتھ ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ ان کے اپنے ہی ججز ساتھی جنہوں نے بقول انکے اس مروجہ ثقافت سے انحراف کے پیش نظر ان سے سوشل بائیکاٹ کر دیا اور یہی لوگ ان کوعہدے سے بھی فارغ کرنے کے نظام انصاف کا حصہ تھے۔ اس کے نتائج یہ نکلے کہ ایک  کا ہندسہ چھ میں بدل گیا اور آج جب شوکت عزیز صدیقی کئی سال کے بعد اپنی مراعات کے حقدار بن چکے ہیں تو  یہ لوگ اب ان کے لگائے گئے الزامات کی تحقیق کا مطالبہ کر رہے ہیں "بدلتا ہے آسمان رنگ کیسے کیسے" جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ذاتی مشکلات کے مدنظر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے موقف کی تائید کرنی پڑ رہی ہے جس کا وہ پہلے مذاق اڑاتے رہے ہیں بلکہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے تو ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ "روندی یاراں نوں ناں لے لے کے بھراواں دا"  اگر یہ چھ اس وقت اس معاملے کو سنجیدہ لیتے تو شائد آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور نہ ہی ہمارے نظام عدل کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس طرح کی خبروں سے قوموں کے چہرے کس قدر مسخ ہوتے ہیں اور تشخص سے اس کے بد نماداغ مٹانے مشکل ہوجاتے ہیں۔

ججز اورحکومت کے مشورے کے بعد کمیشن ترتیب دیا گیا جس کی سربراہی کی تجویز بھی سپریم کورٹ نے دی تھی اور اس کے بعد میڈیا، وکلاء اور سیاستدانوں کی طرف سے اعتراضات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سپریم کورٹ کو سوؤموٹو لینا پڑگیا۔ اس ساری مشق کا فائدہ کیا ہوا؟ یہیں نہیں ملک کے انتظام انصرام میں ہر سطح پرقوم کی صلاحیتیں ایسی ہی فضول سرگرمیوں میں ضائع ہو رہی ہیں، وجہ کیا ہے؟ "اعتماد کا فقدان" اور مفادات کی حوس" ہر کوئی دوسرے پر شاکی ہے جیسے ججز پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں کبھی حاضر سروس جج ہونے پر تو کبھی ریٹائرڈ جج ہونے پر کبھی کمیشن کے ٹی او آرز پر تو کبھی سابقہ کمیشن کی رپورٹس پر استدلال کرتے ہوئے شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔

اگر غور کریں تو اس اعتماد کے فقدان کا اصل سبب ہی ججز، جرنیل ، بیورکریٹ ، سیاستدانوں کی اپنی سوچ اور ان کا عمل ہے۔ کیا جو ججز سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ رہے ہیں ان کو قانون ایسے دباؤ سے نمٹنے کا اختیار نہیں دیتا اور اگر وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس پر قابوپانے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں تو قصور دباؤ ڈالنے والے کا زیادہ ہے یا اس دباؤ کولینے والے کا۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے۔  کون آئینی و قانونی طور پر عہدے اور منصب کے لحاظ سےاس مسئلے کے حل کا ذمہ دار ہے؟ اگر ججز کو اپنے منصب اور رتبے کا احساس اور اندازہ ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔

کیا کوئی خفیہ مقتدرہ سے ہو یا وردی میں ملبوس اس دھرتی کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ دینے والے ذمہ داران سب  کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر قائم بڑے بڑے ایوانوں میں اپنی خفیہ اور ظاہر سرگرمیوں کی رپورٹس لے کر پیش نہیں ہوتے جن کے گواہ ان ایوانون میں  ایک پیج پر ہونے کے گونجتےنعرے ہیں جو اس پیج پر موجود شخصیات کے بدل جانے کے حالات  سےتذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی آپس کی بدشگونیوں کا بھی خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑ جاتا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی خواہ وہ جج ہو، سیاستدان یا خفیہ اداروں کا سربراہ ہو  ان معززین میں سے بہت سارے پورا سچ بولنے کے لئے تیار ہی نہیں اور آئین و قانون اور اختیارات میں سے جو بات اپنے مطلب، خواہش اور مقصد سے مواقفت رکھتی ہے اس کی تعریفیں اور پر چار شروع کر دیتے ہیں اور جو ناموافق پڑتی ہے اس پر شورو غوغا گونج اٹھتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اب سوؤ موٹو کے بعد معاملہ تھم جائے گا؟ اب بنچ میں بیٹھے ہوئے ججز پر اعتراضات نہیں اٹھیں گے بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھا بھی دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ انصاف کے معیار کا ہے جس پرتاریخ اعتماد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانونی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جانے والے کمیشن میں سپریم کورٹ کا ریٹارئرڈ جج ہوتے ہوئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر تمام اختیارات رکھتا ہوگا جس کے تحت وہ کسی بھی طرح کی معلومات کے لئے کسی کو بھی طلب کرنے یا ریکارڈ منگوانے کا مجاز ہوگا اور اپنے احکامات پر عملدارآمد کروانے کے لئے توہین عدالت کی کاروائی سمیت تمام اختیارات رکھتا ہوگا۔ اس لئے یہ خدشات اخذ کر لینا کہ ماضی کے کمیشنز کی طرح کچھ حاصل نہیں ہو گا انتہائی نا مناسب ہے اور اس طرح کے خدشات کا علاج تو آئین و قانون کے پاس بھی موجود نہیں سوائے، جرات اور اعلیٰ اخلاقیات کی پاسداری کے جسکی ذاتی مفادات اور خواہشات کی سوچیں رکھنے والوں سے امید نہیں کی جا سکتی جس کا ریٹائرڈ یا حاضر سروس ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

بلکہ میں سمجھاتا ہوں کہ جب خط میں موجودہ عدلیہ کے اندر ابھی بھی دباؤ کا تاثر دیا گیا ہے تو پھر عدلیہ کے اندر تو سپریم کورٹ بھی شامل ہے تو ایسے میں کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیق تو مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے تاکہ موجودہ عدلیہ میں سے اگر کوئی الزامات لگاتا ہے تو اس سے شواہد طلب کئے جا سکیں اور اگر حاضر سروس کوئی جج دباؤ کے تحت فیصلے کرنے میں ملوث پایا جاتا ہے تو پھر اس بارے حکومت رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج سکے اور اگر کوئی عدلیہ کے باہر سے دباؤ میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی کاروائی کو عمل میں لانے کی ہدایات جاری ہوں اور اسی طرح اگر کسی ادارے پر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو الزامات لگانے والے کے خلاف بھی تادیبی کاروائی کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خط کے مندرجات میں ایک انتہائی سنگین مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ججز پر دباؤ کی تو جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو کیا اسے نظام عدل میں ججز کی اپنی ہی زبانی انصاف کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑوں کی مخبری یا گواہی نہ سمجھا جا ئے جس کا آغاز جسٹس منیر اور جسٹس ارشاد حسن خان سے شروع ہوتا ہے اور اسی فہرست میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ نے حال ہی میں بھٹو کی سزا پر اپنے ادارے کی کوتاہیوں کو دھونے کی کوشش کی ہے۔  کیا اس سے ان کے عہدے اور منصب پر بھی سوال کھڑے نہیں ہوتے  جن کا انکو خود بھی احساس نہیں ہو رہا جس کی وجہ شائد ان کی تعیناتیوں کا طریقہ کار بھی ہے کہ وہ خود سیاست کی کوکھ سے جنم لئے ہوئے ہوتے ہیں جو بعد میں نہ صرف ان کی مجبوریاں بنتی ہیں بلکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹ کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے اختیارات کے استعمال کی سکت نہیں رکھتے ہوتے اور اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جج کا عہدہ اور منصب ہر طرح کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے بالا تر ہوتا ہے۔ اصل معاملہ محض دخل اندازی کا ہی نہیں بلکہ ججز کی کریڈیبلیٹی اور ان خدشات کی بنیاد پر ایک عام آدمی کے نظام انصاف پر اعتماد کا بھی ہے۔ اگر ججز دباؤ کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تو پھر ان سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے یا ان کا اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز کیسے باقی بچتا ہے۔

ہمارے ماضی قریب کے نظام عدل نے تو فلسفہ قانون کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جرائم کے پیچھے موٹو کا تو سنا ہوا تھا لیکن ان سالوں میں تو فیصلوں کے پیچھے بھی موٹو نظر آرہا ہوتا ہے۔ حالات سے یوں لگتا ہے کہ ججز پر دباؤ اصل مسئلہ نہیں بلکہ دباؤ کی موافقت دکھائی دے رہا ہے اور دباؤ بھی صرف ایجنسیز کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ماضی میں لیک ہونے والی وڈیوز میں ججز کے خاندان کے لوگ بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدانوں سے تعلقات بھی ہوتے ہیں اور جوڈیشری اور حکمرانوں کا ایک دوسرے سے مفادات کا لین دین بھی ہوتا ہے اور اب یہ سارا کچھ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے معاشرے کے معیار بھی فلسفہ قانون کے ساتھ ساتھ بدلے بدلے لگتے ہیں۔

قانون کی تشریحات بھی انہیں معاشرے کے معیاروں کی مطابقت سے بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ جس کی مثالیں حالیہ سالوں میں تو فراخدلی سے ملتی ہیں۔ ججز کے مذاج، حالات، حوالاجات، خواہشات حتیٰ کہ سوشل میڈیا کا بیانیہ بھی اب تو قانون کی تشریحات کے زرائعے کے طور پر دکھائی دیتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر بنائے گئے بنچز کے فیصلوں کی صحت پر اثرات تو کسی سے چھپے ڈھکے نہیں۔  ججز کے بدل جانے سے فیصلے بدل جاتے ہیں اور بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کی پشینگوئیاں ہونے لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ سو فیصد ٹھیک بھی نکلتی ہیں۔ انصاف بھی موسموں کی طرح بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہی واقعات، ملزمان اور شواہد ہوتے ہیں اورکبھی سزاؤں پر سزائیں سنائی جا رہی ہوتی ہیں تو پھر اچانک انصاف کا موسم ایسے بدلتا ہے کہ سزائیں بریت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

جہاں اتنے بڑے دباؤ ہوں تو کبھی کبھی دباؤ کے زرائعے کی آپس میں چپقلش بھی کوئی انہونی بات نہیں ۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ موسم بدلنے سے یہی دباؤ جو آج موافق نہیں پڑ رہا یکدم موافق پڑنا شروع ہو جائے۔ کیونکہ دباؤ کی موافقت کو قائم کرنے کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ججز کے خطوط کے بعد وکلاء کے خطوط شروع ہوگئے ہیں اور ان خطوط کی روشنی میں اداروں کی آراء بھی بدلنا شروع ہوگئی ہیں اور فیصلوں کے متن بھی موسموں کی تبدیلیوں کے اشارے دینے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ جو دباؤ کو  اچانک اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اس کے پچھے بھی کسی خاص موٹو کا شک ہو رہا ہےکیونکہ  سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اُس وقت اِس طرح کا کوئی دباؤ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر موجود تھا تو کیا وہ ان کے جانے کے بعد ختم ہو گیا تھا یا اسی دباؤ کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی قوم ان سے اس تحقیق کے دوران سچ بتانے کی توقع رکھتی ہے جس کے بغیر یہ تاثر  لیاجائے گا کہ وہ اپنی حیثیت کو مضبوط تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر جوابدہی کا ان کے اندر کوئی احساس موجود نہیں۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو  کیا اس سے ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کا حلف مشکوک نہیں ہو چکا؟ 

 خط  کو لکھنے کا وقت بھی کئی  خدشات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں مبینہ طور پر ایک سو کے قریب درخواستں دائر ہو چکی ہیں جن میں سے چند ان ججز کے خلاف بھی ہیں جس سے یہ تاثر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مقصد دباؤ اور بیرونی اثرات سے آزادی نہیں بلکہ حکومت، عدلیہ، اداروں اور سپریم جوڈیشل کونسل پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس خط کا یوں جوڈیشل کونسل کا رخ کرتے ہوئے میڈیا کے ہتھے چڑھ جانا بھی شکوک شبہات پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے جس کا جواب دینا بھی ججز کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اور ان سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب ان کا کام ہی انصاف کی فراہمی ہے تو انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا قانونی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

سپریم کورٹ میں کئی اور درخواستیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں سے ایک  مبینہ طور پر میاں داؤد ایڈووکیٹ کی بھی ہے جس  میں کچھ ایسے نقطے بھی اٹھا دئے گئے ہیں جو اس خط کو عدلیہ اور ملک کی عمومی سیاست سے جوڑنے کا منظر نامہ  پیش کر رہے ہیں جن کی پاکستان کی عدلیہ اور عدالتی رائے کے اصولوں کے اندر کوئی نظیر نہیں ملتی جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہی عمران خان کی ضمانت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں انکی طرف سے مستقبل میں کئے جانے والے تمام فرضی جرموں کی بھی پیشگی ضمانت دے دی گئی تھی اور اسی طرح کچھ لاہور ہائیکورٹ کے بھی فیصلے ہیں جن پر تحریک انصاف کی سہولت کاری کے الزامات پر آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں اور جن میں ایک فیصلہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد سے روکنے کا اسٹے آرڈر بھی تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اس پر سخت کمنٹس دیتے ہوئے انتخابات کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کو نا کام بنایا تھا جس سے ہائیکورٹس کو اس طرح کے سہولت کاری کے تاثر والے فیصلوں بارے محتاط انداز اپنانے پر مجبور کر دیا گیا تھا

ایسا بھی نہیں کہ ججز کے موقف کی تائید نہیں  ہو رہی جیسا کہ میڈیا پر ان کے موقف کو سراہا بھی جا رہا ہے اور اب تو اس خط کی حمائت میں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی طرف سے اعلامیے بھی جاری ہو چکے ہیں اور بعض سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست کو آکسیجن دینے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دے رہی ہیں۔ ججز نے اپنے فیصلوں پر دباؤکا اظہار کرکے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے بلکہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نے تو بانی تحریک انصاف کو دی جانے والی سزاؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جس کا یقیناً ان کو فائدہ ملے گا۔ تو ایسے منظرنامے میں یہ بھی دیکھنا ضروری نظر آتا ہے کہ ماضی میں اگر دباؤ تھا تو اس وقت اس کے بینیفشریز کون تھے اور آج اگر عدلیہ پر دباؤ ہے یا ججز اس خط کے زریعے سے اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے بینیفیشریز کون بنتے ہیں؟

ان الزامات میں ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر انتظامی اختیارات کی آڑ میں عدالتی رائے پر حاوی ہونے کی طرف اشارہ ہے جو دباؤ کا حصہ بن کر فیصلوں کو متاثر کرنےکی ایک مثال ہے جس کا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت عدالت عظمیٰ میں حل تلاش کیا گیا اسی طرح کی اصلاحات کا اطلاق ہائکورٹس پر بھی ہونا چاہیے تاکہ انصاف کو شفاف اور یقینی بنایا جاسکے۔ اختیارات سےصحیح اور جائز فائدے اٹھانے کے لئے اخلاقیات کا  گہرا تعلق ہوتا ہے اور جہاں اخلاقیات کمزور ہوں وہاں  اختیارات بے لگام ہو جاتے ہیں اور پھر قانونی اصلاحات کے زریعے سے بہتری کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اس صورتحال کا حل دخل اندازی کرنے والوں کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ  اس بات میں بھی ہے کہ ججز کی تعنیاتیوں میں نہ صرف جج کی تعلیم و تجربہ کو دیکھا جائے بلکہ ایسی شخصیات کو لیا جائے جن کے اندر اس عہدے اور منصب کی خواہش نہ ہو اور وہ اعلیٰ اخلاقیات کے مالک ہوں تاکہ اگر وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکیں تو کم از کم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے جائیں لیکن نا انصافی کا حصہ تو نہ بنیں۔ جب ججز خوف خدا کے تحت اپنے فیصلوں پر اپنے آپ کو خدا کے حضور جوابدہ سمجھنے والے ہونگے تویہ شکایات خود بخود ہی ختم ہوجائیں گی۔ جس طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اگر ماحول سے مدد نہیں ملی تو مشکلات بھی جھیلیں مگر کم از کم کسی کے ساتھ نا انصافی کاحصہ تو نہیں بنے۔ لیکن ماضی کے واقعات پر استدلال کرکے سبھی ججز کو الزامات کا نشانہ بنا دینا بھی جائز نہیں۔ آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے اس لئے بغیر شواہد کے الزامات کا بھی سلسلہ بند ہونا چاہیے اور یہ سب شفاف تحقیقات کے بعد ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کسی کو  خاص کر میڈیا کو ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے اداروں کے سربراہان ہر ایک کے الزام پر وضاحت تو جاری نہیں کر سکتے۔

اگر اس دباؤ کو وسیع منظرنامے میں دیکھا جائے تو یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ حکومت میں یا عدلیہ میں موجود لوگ جو اپنے ہی آئینی رتبے اور عہدے کے ماتحت سے ڈر کر انصاف نہ دے سکیں یا جوابدہی کا عمل یقینی نہ بنا سکیں تو ان پرایک خود مختار  جمہوری ریاست کے انتظامات محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے معززین جو طاقت کے نشے میں من مانیاں کرتے ہوئے ہر حد کراس کر جاتے ہیں ان کو سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ حب الوطنی اور ریاست سے وفا کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے معاملات کو چلانے کا معیار جو آئین نے متعین کیا ہوا ہے اس کو معتبر سمجھا جائے اور ریاست کے وسائل کو عوام اور ریاست کی امانت سمجھتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے استعمال کیا جائے نا کہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لئے اور ایسا کرنے والوں کی زندگیاں مکافات عمل کی صورت ہمارے سامنے ہیں اور اگر ہم اب بھی اس سے سبق حاصل نہیں کریں گے تو پھر قدرت کا اصلاح کا عمل ہر کسی کے لئے تکلیف دہ ہوگا اور اس کا دکھ صرف ہمیں ہی نہیں اگلی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا

۔

بدھ، 7 جون، 2023

ہر کوئی بے نقاب ہو رہا ہے،یہی نظام فطرت ہے


قدرت کا نظام انصاف  و انتقام بھی کیسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو ہی بے نقاب کرنا شروع کردیتا ہے۔ ایک معقولہ تو ہر کسی نے سنا ہی ہوگا کہ انسان جب بھی کوئی کام فطری اصولوں کے خلاف کرتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے  جو ایک الارم ہوتا ہے کہ وہ اس کام سے باز رہے مگر جب وہ اس سے نہیں رکتا تو پھر اس کے اپنے اندر ایک افسوس سا ضرور موجود رہتا ہے ۔جو ایک حد پر پہنچنے کے بعد اس کے اندر سے اخراج چاہتا ہے ۔وہ خواہ اس کے اپنے اعتراف کی صورت ہو یا اس کے کسی شریک جرم کی طرف سے۔ اور  اگر دونوں صورتوں کا سبب نہ بن سکے تو پھر نظام فطرت خود ہی اس کے رازوں کو فاش کرنا شروع کردیتا ہے ۔

ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔پچھلے دس سالوں کی سیاسی غلطیوں کی اب اخیر ہوچکی ہے اور اب یہ یکے بعد دیگرے افشا ہورہی ہیں ۔ بعض کردار تو اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے خود ہی اعتراف کرنے لگے ہیں اور بعض اپنے ساتھ دوسروں کو بھی  بے نقاب کررہے ہیں اور بعض کے جرائم نظام فطرت کا نشانہ بن رہے ہیں  اور ان کے اعمال ان کو بے نقاب کرنے لگے ہیں ۔ مگر افسوس کہ بے نقاب ہونے اور ان جرائم کے ثبوت سامنے آجانے کے باوجود  بھی ہر کوئی آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو تسلیاں دینے کی کوشش کررہا ہے  کہ شائد لوگ اس کو جھوٹ ہی سمجھ لیں ۔مگر وہ شائد نظام فطرت کے اگلے مرحلے سے ناواقف ہیں کہ ان  رازوں کے افشا    ہونے کا مقصد ہی گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔ انسان اور معاشرے پر ان کے بد اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ یہ فطرت کا ایک احسان ہے کہ انسانی اور معاشرتی بیماری کی تشخیص  در اصل اس کے علاج کا تقاضہ کر رہی ہوتی ہے ۔ وہ خواہ اس کی معافی تلافی سے ہو یا  جزا و سزا سے ۔

لیکن جو انسان یا معاشرے اس کی تشخیص کے بعد بھی اس پر توجہ نہیں دیتے تو وہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ بیماری کے علاج  کی پہلی ذمہ داری انسان کے اپنے اوپر آتی ہے یا جو اس کا علم رکھتے ہیں ۔ جس طرح معاشروں کی بیماریوں کا علاج  انسانوں  کی اجتماعی ذمہ داریوں  پر ہوتا ہے اسی طرح ریاستی  جرائم کا علاج عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ اور ایک ریاست اور اس کے شہریوں کی عزت، شہرت اور دولت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اس ریاست کے ذمہ داروں پر ہوتی ہے کہ وہ اس جرم کو معقول منطقی انجام تک پہنچائیں ۔جس سے ریاست کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ ہو جو عوام کا ایک اجتماعی نقصان ہوتا ہے اور افراد کے ذاتی نقصان کا بھی ازالہ اور داد رسی ہوسکے۔

ریاست کے انتظامات کو سنبھالنا کوئی  کھیل یامشغلہ نہیں بلکہ عوام کی دی ہوئی ایک ذمہ داری ہے  جس کی جوابدہی بھی ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریوں  میں کوتاہی  یا شفافیت ، غیرجانبداری اور برابری کی بنیاد پر سرانجام دینے سے ناکامی  کی صورت میں پھر وہ  ذمہ داران بھی اسی طرح جرم کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں جس طرح سے ان کے درپیش غلطیوں  ، گناہوں یا جرائم کے مرتکب ۔ اپنے فرائض سے کوتاہی کی صورت وہ بھی فطرت کے نظام کی پکڑ میں آسکتے ہیں اور پھر ان کی جوابدہی اور احتساب کے لئے جب نظام   فطرت حرکت میں آتا ہے تو نئے ذمہ داران ان کی جگہ لے چکے ہوتے ہیں ۔

اب حکومت پر یہ ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ وہ بے نقاب ہونے والوں کا احتساب  آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر شروع کریں اور اس کو شفافیت، غیر جانبداری اور برابری کی بنیاد پر قائم نظام کے حوالے کردیں۔آگے جس جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اپنے اختیارات کو قوم کی امانت سمجھ کر ان کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  آگے بڑھاتا چلا جائے اور اپنے آپ کو نظام فطرت  اور نظام ریاست سے سرخرور کروانے کا انتظام کرے ۔ ہر انسان موجود وقت  اور اختیار کو اللہ کا احسان سمجھے کہ ابھی یہ اس  کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اعمال کا انصاف اپنے ہاتھ سے کرلے اس سے پہلے کہ وقت اور اختیار اس کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اور کوئی اوراس کے اعمال پر فیصلے کر رہا ہو ۔ 

اسی طرح سے یہاں ہر کوئی بے نقاب ہوتا ہے ، فطرت کے نظام انصاف ، انتقام ااور مکافات عمل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے  اگر کوئی سمجھے تو۔

کوئی جج ہو، جرنیل  ہو، بیوروکرٹ ہو یا سیاستدان سب کے پاس اسی ریاست کے مہیا کردہ اختیارات اور وسائل ہیں جواس قوم کی امانت ہیں جن کا مقصد ریاست اور عوام کی فلاح و بہبود ہے نہ کہ ذاتی مفادات کے لئے انکا استعمال ۔ اور کوئی بھی اگر ان کے استعمال میں کوتاہی ،من مانی  یا ان کا غلط استعمال کرے گاتو وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بچا نہیں پائے گا۔ غور کریں تو ہمارے ارد گرد  ہماری آنکھوں کو دیکھنے اور ذہنوں کو سمجھنے کے لئے مشاہدے موجود ہیں اور کوئی بھی آج سے سو سال پہلے والا موجود نہیں مگر اس کے اعمال تاریخ کی امانت بن چکے ہیں ۔ اس کے دنیا کے اسباب پیچھے رہ گئے ہیں ۔اس نے ان کو کس طرح اکٹھا کیا اس کا حساب وہ خود دے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے ۔ تاریخ کا  نظام انصاف اپنے فیصلے سنا رہا ہے اور ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کر رہا ہے ۔

حکمران ، جج ، جرنیل ، بیوروکریٹ ، سیاستدان یا جس جس کے پاس بھی جو ذمہ داری ہے ۔ یاد رکھیں کہ  ہم کسی کو بھی اپنی ذات کی حد تک کے نقصان اور سرزد ہونے والی غلطی کو تومعاف کر سکتے ہیں مگر ریاستی املاک کو پہنچے والے نقصان میں پوری قوم کا حصہ ہے اور کسی کو کوئی اپنی مرضی ،اس کے ساتھ تعلق، اس کی حیثیت یا اس کے رتبے کے لحاظ سے کوئی رعائت نہیں دے سکتا۔ اور جو کوئی اس نظام قدرت کے توازن میں بگاڑ کی کوشش کرتا ہے  تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

جب اللہ کے رسول ﷺکے پاس ایک لڑکی کے چوری کے جرم میں سزا پر سفارش کی گئی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی اپنی  بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہوتیں تو یہی سزا ملتی۔ اور وعید بھی سنائی کہ پہلے والی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ انہوں نے انصاف نہیں کیا۔ 

حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ اللہ  انسان کی عیبوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا ہے جب تک وہ  اخیر نہ کردے۔بالآخر وہ بے نقاب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ آج  جو لوگ اپنی زندگی میں بے نقاب ہو رہے ہیں ان پر بھی اللہ کا احسان ہے ،انکو موقع دیا گیا ہے کہ جن کی انہوں نے حق تلفی کی ہے ، ان سے معافی تلافی  کر لیں   تاکہ کل تاریخ یا آخرت کے کٹہرے میں ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ، غلطی یا جرم نہ ہو اور وہ اس دنیا سے سرخرو ہو کر جائیں ۔

اتوار، 24 جولائی، 2022

تخت پنجاب اور آئین و عدل کے تقاضے

پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے انتخابات ایک   متنازع صورتحال اختیار کرچکے ہیں ۔ ظاہری طور پر عدم اعتماد ایک واضح اور سادہ طریقہ ہے مگر  پارلیمانی ممبران کی جماعت سے وفاداریوں کی تبدیلی کی صورت میں یہ الجھن کا شکار ہوا اور  بالآخر سپریم کورٹ پہنچ گیا  جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اس کا حتمی اعلان ضمنی انتخاب کے نتائج کے بعد کیا جائے جو بظاہر بہت ہی عجیب لگتا تھا کہ عدم اعتماد کے ووٹنگ ہوچکی تھی اور حمزہ شہباز کو زیادہ ووٹ پڑے تھے مگر اس  کے نتائج  کو مستقبل کے عوامل پر چھوڑا جارہا تھا ۔ فیصلہ اس وقت موجود اعدادوشمار پر ہی ہونا چاہیے تھا  مگر سپریم کورٹ نے تریسٹھ اے کی تشریح میں یہ طے کیا تھا کہ نااہل ہونے والے اراکین کے ووٹ کوئی حیثیت نہیں رکھتے  جس کی بنیاد پر عدم اعتماد کی ووٹنگ کو پھر سے چیلنج کر دیا گیا  اور پھر سپریم کورٹ نے  دونوں اطراف کی رضامندی  سے یہ کہا  تھا کہ ضمنی انتخابات کے بعد دوبارہ ووٹنگ ہوگی لہذا اس کا فیصلہ اب بائیس کو ضمنی انتخابات کے بعد ہونا تھا جو ہوا

جس کے نتیجے میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا اور اس کی آئینی صورتحال کو واضح کرنے کے لئے اب معاملہ  پھر سے ایک بار عدالت عالیہ میں ہے اور عدالت نے چیف منسٹر کو  سوموار تک عبوری عہدے کے طور پر کام کرنے کا کہا ہے اور سوموار کے دوبارہ اس معاملے پر عدالتی کاروائی شروع ہوگی ۔  اور یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا کہ اس کی رو سے پارٹی سربراہ کے خط  کے نتیجہ میں مسلم لیگ قائداعظم کے ووٹ سربراہ کی ہدائت کے خلاف استعمال  ہوئے اور گنے نہیں جاسکتے لہذا انہوں نے ان کو منسوخ کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو اپنا عہدہ  مستقل اور جاری رکھنے کا اعلان کیا جس پر انہوں نے اگلی صجح دوبارہ سے حلف بھی لے لیا  ہے۔

اب اس معاملے کے آئینی پہلو کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے بنچ پر تحفظات کے دعوے بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جن میں نمایاں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے بیانات ہیں جو بہت ہی سخت ہیں ۔  اور اب تو حکومتی اتحاد نے فل بنچ کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ سے باقائدہ رجوع کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔ اس کا بہرحال سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے ۔ اور متنازع ججز کو اپنے آپ کو اس بنچ سے علیحدہ کر لینا چاہیے یا پھر ان کے مطالبے کے مطابق موجود ججز کا فل بنچ بنا دیا جائے  اور جو ججز چھٹیوں پر ہیں ان کو بھی اگر چیف جسٹس چاہیں تو وڈیو لنک کے زریعے سے بنچ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بنایا تھا ۔ بہرحال یہ سپریم کورٹ کی صوابدید ہے اور وہ اس کا استعمال خوب جانتے ہیں ۔ لیکن سیاسی راہنماؤں کی طرف سے اس طرح کھل کر بولنا کوئی عام بات نہیں بلکہ ان کی پالیسی کی جھلک ملتی ہے جس میں شائد اب انہوں نے اپنے تحفطات اور خدشات کا اظہار کرنا ہی مناسب سمجھ لیا ہے ۔

اور جہاں تک آئینی پہلوؤں کا تعلق ہے تو اس میں اس بات پر تو کوئی دوسری رائے ہی نہیں کہ اگر کسی جماعت کا ممبر پارٹی کی ہدایات کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا دینے سے اجتناب کرتا ہے تو وہ اپنے عہدے سے فارغ ہوجائے گا ۔ اور اس کا طریقہ کار بھی آئین میں دیا گیا ہے جس کو آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کو دو ہزار دس  کی اٹھارویں ترمیم میں  سیاسی جماعتوں کے اراکین  کو وفاداریاں تبدیل کرنے سے روکنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے شامل کیا گیا تھا ۔  اور اسی کی تشریح کے لئے  صدر پاکستان نے دو ہفتے پہلے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجا تھا جس پر کاروائی عمل میں لائی گئی  اور فیصلہ یہ آیا تھا کہ وہ ممبران اپنی اہلیت کھو بیٹھے ہیں جس پر ضمنی انتخاب ہوئے اور نتیجتاً یہ نیا مسئلہ معرض وجود میں آیا ۔

اب تحریک انصاف کے امیدوار کو اختلاف  طریقہ کار اور اس بات پر ہے کہ یہ ہدایات کس کے طرف سے ہونی چاہیں اور کون کرے گا ۔ اس کے بارے میں آئین کے اندر  صاف موجود ہے کہ جماعت کا سربراہ ہدایات جاری کرے گا ۔ اور پارلیمانی قائد بھی سربراہ کی ہدائت اور مرضی سے ہی ڈیکلریشن جاری کرتا ہے ۔

تفصیل میں جانے سے پہلے دیکھ لیتے ہیں  کہ آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے کے متعلقہ اجزا کہتے کیا ہیں ۔

تریسٹھ ون  (اے)  بی کہتی ہے

Votes or abstain from voting in the House contrary to any direction issued by the Parliamentary Party to which he belongs in relating to…………….

اب اس میں پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی لیڈر کا

اب بنیادی نقطہ یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ قائد اعظم کے ممبران کی طرف سے  پارٹی ہدایات کے خلاف دئیے گئے ووٹ پرویز الہی کے حق میں   سمجھے یا گنے جائیں گے یا نہیں ۔ اس بارے سپریم کورٹ نے اپنے پچھلے فیصلے میں یہ کہا تھا کہ تحریک انصاف کے حمزہ شہباز کے حق میں دئے گئے ووٹ ریگارڈ نہیں کئے جائیں گے اسی لئے ضمنی الیکشن کے بعد دوبارہ ووٹس کے بارے حتمی فیصلہ ہوا تھا ۔  

He may be declared in writing by the Party Head to have defected from the political party, and the Head of the Parliamentary Party may forward a copy of the declaration to the Presiding Officer, and shall similarly forward a copy thereof to the member concerned:

اب اس وضاحت  کی رو سے یہ اختیار جماعت کے سربراہ کو دیا گیا ہے اس کا القاب کوئی  بھی ہوسکتا ہے ۔ اور اس میں پارلیمانی جماعت کا ذکر ہوا ہے نہ کہ پارلمانی قائد کا جو کہ بہت ہی واضح ہے جس کا شور تحریک انصاف کے کچھ اراکین مچا رہے ہیں کہ ساجد بھٹی نے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا تھا ۔

Provided that before making the declaration, the Party Head shall provide such member with an opportunity to show cause as to why such declaration may not be made against him.

اب اس میں پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت سے اس بارے وضاحت طلب کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے پرووائزو کی   روشنی میں نوٹس  کے زریعے سے اطلاع اور ان کووضاحت پیش کرنے کا وقت دیا ہے یا نہیں  ۔ اس بارے چند میڈیا خبروں سے تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نےممبران کے نام خطوط لکھے ہیں اور انتخاب سے پہلے چوہدری مونس الہی کا چوہدری شجاعت کو ملنے کے بعد جاری کیا جانے والا بیان بھی ہے جس میں انہوں نے اپنی اور عمران خان کی شکست اور زرداری کی جیت کا ذکر کیا ہے ۔ ان پر ملاقات کے بعد ساری صورتحال واضح ہو چکی تھی ۔ دوسرا جماعت کے اندر  اختلافات کوئی نئی یا پوشیدہ بات نہیں تھی  ۔ قومی اسمبلی میں بھی مسلم لیگ قائد اعظم کے ممبران نے چوہدری شجاعت کی اجازت سے ہی ساتھ دیا تھا اور ان کے پاس قومی سطح کی وزارتیں بھی ہیں ۔ چوہدری شجاعت نے اس وقت بھی پرویز الہی کے فیصلے کی مخالفت کی تھی ۔ اگر کسی کو ان کی سربراہی یا قومی اسمبلی کے ممبران کے ووٹ پر اعتراض یا اختیار ہوتا تو ان کے خلاف کوئی ایکشن بھی لیا گیا ہوتا ۔

ساجد بھٹی کی طرف سے ووٹ دینے کی ہدایات کسی طرح بھی پارٹی سربراہ کی اجازت یا باہمی مفاہمت سے ہونے کا کسی طرح سے بھی جواز موجود نہیں ہے اور نہ ہی پارلیمانی قائد کے پارٹی سربراہ کی مرضی کے بغیر یا خلاف فیصلے کی کوئی اہمیت ہے ۔ 

پارٹی سربراہ کی بھی وضاحت کی گئی ہے ۔

Explanation: "Party Head" means any person, by whatever name called, declared as such by the Party.

اور  اس میں جو وضاحت  کی گئی ہے  وہ بھی  پارٹی سربراہ کے بارے ہی ہے ۔ اگر یہاں پر پارلیمانی قائد کا کوئی کردار ہوتا تو اس کا ذکر اور اس کی وضاحت بھی موجود ہوتی ۔

میرے خیال میں اگر تو یہ ثابت ہو کہ ممبران کو ہدایات بارے اطلاع نہیں دی گئی تو ان کے خلاف ڈیفیکشن کی کاروائی میں رعائت ہوسکتی ہے لیکن ووٹوں کے گنے جانے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ آئین کے مطابق جماعت کے سربراہ نے پریزائیڈنگ آفیسر کو خط کے زریعہ سے باقائدہ اطلاع دے دی تھی جو کہ ان کا استحقاق ہے ۔

سپریم کورٹ کے ہی آٹھ رکنی بنچ کا پارٹی سربراہ کے اختیارات کے حق میں فیصلہ موجود ہے

لہذا آئینی طور پر حمزہ شہباز  کی وزارت  اعلیٰ مکمل طور پر آئین کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ اور اس کو کال عدم  قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ عدالت کی ایک اپنی اپروچ ہے اب دیکھئے وہ کیا فیصلہ کرتی ہے ۔ ہوسکتا ہے دوبارہ رجوع کے زریعے سے کچھ رعائت کی صورت نکال لی جائے مگر گنجائش موجود نہیں ہے ۔ 

ویسے اگر تو مسلم لیگ قائداعظم اگر فیصلہ کرے کہ انہوں نے پرویز الہی کی حمائت کرنی ہے اور حکومت کو ختم کرنے کے حق میں ہوں تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ قائد اعظم کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے اور وہ کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے حکومت تبدیل کی جاسکتی ہے  جو کہ آئینی طریقہ کار ہے  ۔ اس اختیار کا استعمال قومی اسمبلی ، بلوچستان اسمبلی میں ہوا ہے اور کسی بھی وقت کسی بھی اسمبلی میں ہوسکتا ہے ۔

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین