سوچ کی غذا

‏polititcians لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏polititcians لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 22 دسمبر، 2025

کیا تحریک تحفظ آئین پاکستان کارکردگی دکھا پائے گی؟

کیا پاکستان میں جمہوریت صرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا نام  ہے خواہ وہ اسٹیبلشمنت کی گود میں بیٹھ کر ہی داغے جا رہے ہوں یا جمہوری اقدار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے؟ 

ابھی چند سال پہلے ہی وہ اپنے دائیں بیٹھی جماعت تحریک انصاف کے خلاف سڑکوں پر تھے جبکہ وہ ہائبرڈ جمہوریت کی ایک نئی اصطلاح متعارف کروانے میں مصروف تھے۔کیا ان سے اب جمہوری اقدار پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی حاصل کر لی گئی ہے؟ 

کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے مطلوبہ ہدف کی راہ میں رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی سطح کی طاقت کا ہونا ضروری ہے جس کے بغیر کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔ اور پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے۔ 

اب ایسا کیوں ہے اس کی ایک بہت ہی سادہ سی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خواہ اس کا آئینی درجہ کم ہی سہی مگر اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت موجود ہے جو حاوی رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں جبکہ جمہوریت میں سیاستدانوں کے اندر وہ صلاحیتیں اور اہلیت ہی نہیں۔ 

سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے منشور کی بنیاد پر باہمی اختلافات بھی ہوتے ہیں مگر ملکی سطح پر جمہوریت کے آپریٹر ہوتے ہوئے انکی ایک تنظیم کی حیثیت ہوتی ہے۔ جس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت ہونی چاہیں جو جمہوریت کے خلاف کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اب یہ صرف ہارڈ پاور سے ہی ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے سافٹ پاور کا ہونا بھی ضروری ہے جس کی بنیاد اعلیٰ اخلاقیات اور سیاسی شعور ہیں۔

آئین کی پاسداری اور تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کا خود عمل ہو پھر وہ دوسرے اداروں سے اس پر عمل کو یقینی بنوا سکتی ہیں۔ 

پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو ان کو عدم اعتماد کے زریعے سے ہٹایا گیا جو آئین کے عین مطابق تھا اور یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے ایسا کروایا ایک انتہائی نا مناسب بات ہے جو غیر سیاسی اور نا اہل سوچ کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اگر سیاستدان استعمال ہوئے تو وہ استعمال کرنے والے کو گالیاں دینے کی بجائے  استعمال ہونے والوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرتے؟میرے خیال میں تو ایسا کہنا بھی گویا اپنی نا اہلی کو ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو دنگل اپنے زور بازو پہ جیتنے ہوتے ہیں اس وقت یہ جواز کوئی حیثیت نہیں رکھتے کہ ہمیں زور نہیں لگانے دیا جا رہا۔       

جب آئینی طور پر ان کی حکومت گرائی گئی تھی اسے تسلیم کیا جا نا چاہیے تھا۔ محمود خان اچکزئی اس وقت حکومت ہٹانے والوں میں شامل تھے ااور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ محمود خان اچکزئی خود اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے استعمال ہونے والوں میں تھے۔

 اگر یہ سب ٹھیک ہے تو پھر اس کا اعتراف بھی تو ضروری ہے۔ اور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک نہیں تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ آئین کی حالت سے اتنا فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو سیاستدانوں کے کردار سےکہ وہ کس قدر جمہوری ہیں۔ 

 کسی بھی ریاست کا آئین اس کے چلانے کے لئے ایک انسٹرومنٹ ہوتا ہے جس کا تحریری صورت میں ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ تحریری صورت میں ہونا محض ایک فارمیلٹی ہے۔ اصل ضرورت اس کے تقدس کا احساس ہے جس کی موجودگی میں اس کا تحریری ہونا اپنی حیثیٹ کھو جاتا ہے اور اگر یہ احساس نہ ہو تو تحریری ہونا بھی اپنی حیثیت کو منوانے میں نا کام رہتا ہے۔

جس کی مثال انگلینڈ اور ہمارے آئینی سے واضح ہو سکتی ہے۔ ان کا آئین تحریری نہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں قومی سطح پر تقدس ہونے سے اپنی حیثیت کو منوانے میں کامیاب ہے مگر ہمارا آئین تحریری ہونے کے با وجود بھی تقدس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت کو منوانے میں ہمیشہ نا کام رہا ہے۔

اس تقدس کی سب سے زیادہ موجودگی سیاستدانوں کے اندر ضروری ہوتی ہے کیونکہ ان کی عوامی مینڈیٹ کے حصول کے بعد اہم ذمہ داری اس پر عملدرآمد، حفاظت اور اس میں ملک و قوم کی فلاح کے لئے اصلاحات لانا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل نہ ہوں تو پھر آئین کے تقدس کو یقینی بنانا ممکن نہیں رہتا بلکہ وہ خود ہی اس کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اور یہی سب کچھ پاکستان کے آئین کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اب اس کا حل آئین کی حفاظت بارے محض ڈھنڈورا پیٹنے سے ہونے والا نہیں بلکہ سیاستدانوں کو اپنے اندر اور قومی سطح پر شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کو یقینی بنانا ہوگا یا پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے انہیں ملکی سیاست میں مستقل طور پر کوئی کردار دینا ہوگا جس کے ایک بہترین حل کے طور پر ہم اپنی جمہوریت کو چائنا کی طرز پر استوار کر سکتے ہیں۔

اخلاقیات اور شعور پر کام کرنے کے لئے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے قوم سے معافی مانگنا ہوگی اور پھر سیاسی برادری کے اندر  اپنے بارے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جب قوموں کے اندر اعلیٰ اخلاقیات اور شعور ہوتا ہے تو پھر وہاں نظام خود بخود ہی مضبوط ہو جاتے ہیں جس کی مثال ہم سکینڈیوین یا نارتھ امریکن ممالک سے لے سکتے ہیں۔ وہاں آپ کو جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اس کی بنیاد ان کی اخلاقی اور جمہوری اقدار ہیں۔   

اگر ہم کہیں کہ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کی بھی حالت تسلی بخش نہیں یا سب نے ہی کسی نہ کسی دور میں جمہوری اقدار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار کے حصول کے عمل میں شرکت کی ہے تو یہ بجا ہوگا

   مگر ماضی میں سیاسی جماعتوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کسی نہ کسی حد تک جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوششیں بھی تو کی ہیں جن میں سب سے نمایاں میثاق جمہوریت کے نام پر پاکستان کی بڑی دو سیاسی جماعتوں میں ایک معاہدہ بھی ہے جس کے بعد جمہوریت کی مضبوطی کے عملی اقدامات اور نتائج بھی دیکھنے کو ملتے رہے جن کو نقصان پی ٹی آئی کی سرگرمیوں نے پہنچایا ہے۔ 

ہائبرد جمہوریت کی اصطلاح انہیں کی جمہوریت مخالف سرگرمیوں کی پیداوار ہے جس نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی کوشش کی کامیابی کے چانسز بہت ہی کم ہونگے

پی ٹی آئی کی ان سرگرمیوں سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے اداروں جن میں فوج اور خاص طور پر عدلیہ شامل ہے کی ساکھ بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ 

موجودہ حکومت کو جو ہائبرڈ جمہوریت کے طعنے دئیے جارہے ہیں وہ ٹھیک موقف نہیں کیونکہ جب اس اصطلاح کی حامل حکومت کو ختم کیا گیا تو ان کوششوں کے جناب محمود خان اچکزئی بھی گواہ ہیں جس کے اندر جرنیلوں کا کوٹ مارشل کر کے ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ اگر کوئی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوشش کرے تو تنقید کی بجائے اس کو داد دی جانی چاہیے  بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ ہوئی ہے۔

عمران خان کی سیاست میں سوشل میڈیائی سرگرمیاں جن میں فوج کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیا پاکستان کے حق میں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو عمران خان کی سیاست کو موجودہ ماحول سے موافق بنانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

کیا ابھی جو محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی شرط پر مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کو آگے بڑھ کر مزاکرات کی دعوت دی ہے ان سرگرمیوں کی موجودگی میں کام یاب ہو سکتی ہے؟ قطعاً بھی نہیں کیونکہ عمراں خان کی تو ساری سیاست کی بنیاد ہی اپنے سیاسی مخالفین اور نئی اسٹیبلشمنٹ جن سے ان کو سہولتکاری میسر نہیں آ رہی کے ٹرولنگ ہے جس کے بغیر وہ اپنی سیاست کی موت سمجھیں گے۔جن کو انہوں ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔ اور انکے موقف اور سرگرمیوں میں تبدیلی یا اس کی یقینی دہانی کے بغیر ساتھ چلنا بھی خطرات سے خالی نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پر اعتماد نہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔


بدھ، 7 فروری، 2024

عوام مخلص اور جوابدہ قیادت کو منتخب کر کے تبدیلی لا سکتے ہیں

 

ویسے تو سرچشمہ طاقت، جمہوریت کا مغز، سیاست کا محور، ریاست کی ملکہ اور ہر سیاسی جماعت کے منشور کا مرکز عوام ہی ہوتے ہیں مگر پاکستان جیسی ریاست کے اندر محض انتخابات کے دنوں میں اور وہ بھی دکھلاوے کے طور پر اور اس کے بعد سیاستدان عوام کے مینڈیٹ کی تحریم میں حکمران بن جاتے ہیں اور عوام تو پھر بھی عوام ہی رہتی ہے۔

حکمرانوں کی عظمت اور حفاظت کے لئے پولیس کی سکواڈ، رہنے کی جگہہ ریڈ زون جہاں گیدڑ، گدھوں کا داخلہ تو جائز ہے مگر عوام کا ممنوع ہے۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں اور نہ ہی میں از راہ استعارہ کہہ رہا ہوں بلکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے شاہراہ جمہوریت پر پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے دن کی روشنی میں گیدڑ دھونگلے دیتے دیکھے ہیں مگر عام آدمی کا داخلہ وہاں کے لئے خطرے کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ تھومس جیفرسن جو ایک امریکی سفارتکار، وکیل، فلاسفر، ریاست کے بانیوں میں شمار ہونے والا ان کی آزادی کی دستاویزات کا بنیادی مصنف اور امریکہ کے تیسرے صدر کے طور پر اس نے قوم کی خدمت کی ہے نے اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر کہا تھا۔

The democracy will cease to exist when you take away from those who are willing to work and give to those who would not.

جمہوریت اس وقت تباہ ہوجاتی ہے جب اس کی سربراہی، جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ان سے لے کر نکموں کو دے دی جائے۔

اب اس کو دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے ایک تو حکومت کی باگ ڈور جیسا کہ ہماری روائتی سیاست میں ایسے لوگوں کے حوالے کر دی جاتی ہے جو عوامی مینڈیٹ کے اصلی حقدار نہیں ہوتےجیسا کہ 2018 کے انتخابات میں کیا گیا اور دوسرا پہلو ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر کی جمہوریت سے ہے جہاں کارکنوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس سے جمہوریت کے ثمرات مشروط ہوتےہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں ہوتی تو اس کے نتائج ہماری موجودہ سیاسی صورتحال ہوتے ہیں۔

ہماری جمہوری ابتری ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں اور اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں خود سیاستدان ہیں جن کے اپنے اندر اہلیت نہیں اور الزام دوسروں پر لگاتے ہیں۔ جب آئین پارلیمان کی بالا دستی کو تسلیم کرتا ہے تو پھر دوسروں پر انگیاں اٹھانے سے پہلے اپنی صفوں میں درستگی لانے کی ضرورت ہے۔ اداروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر گھسے ہوئے جمہوری غداروں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہاں ہمارا اصل مدعا اس کا پرچار نہیں بلکہ اس کا حل تلاش کرنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

اس کے لئے سب سے پہلے جمہوریت کو صحیح معنوں میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

ابراہم لنکن نےجمہوریت کی تعریف یوں کی تھی

Government of the people، by the people، for the people.

عوام کی حکمرانی، عوام کے زریعے، عوام کے لئے

اس کا سادہ لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ جمہوریت میں عوام سرچشمہ طاقت ہوتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ طاقت اتنی کمزور کیوں پڑ چکی ہے؟ اور یہ سب کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے؟

جمہوریت عوام کو حکمرانی کا حق تو دیتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ عوام حکمرانی کی صلاحیت بھی رکھتی ہو، جانتی ہو کہ اپنی طاقت کو کیسے محفوظ ہاتھوں کے سپرد کرنا ہے؟ جیسے ہر کام کے لئے ہنر کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی جمہوریت سے مستفید ہونے کے لئے بھی حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس طاقت کی اصل بنیاد سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاق اورباہمی قومی ربط ہوتے ہیں جو قوموں کو نہ صرف بروقت بلکہ صحیح فیصلے کروانے میں ممدومعاون بنتے ہیں اور طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے گر بھی سیکھاتے ہیں۔

جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کے نتائج کے مطابق حکومت کی تشکیل اور عوامی امنگوں اور ضروریات کے مطابق حکومت سازی کا ایک پورا عمل ہے۔ حکومت ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کا مقصد عوام کو وسائل سے مہیا سہولیات میں برابری، امن، روزگار اور انصاف مہیا کرنا ہے اور اس کے لئے حکمران جمہور کو جوابدہ ہیں۔ ان کے اندر ایسی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے جس سے وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو آسان اور یقینی بنا سکیں۔ اب ان صلاحیتوں کے حامل نمائندوں کا انتخاب عوام نے کرنا ہے۔ عوام نے یہ طے کرنا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں کیونکہ سیاسی قیادت کا کردار عوام نے ڈیفائن کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں تو ان کی جوابدہی کے عمل کو بھی یقینی بنانے کے لئے عوام کے اندر شعور اور اس کو ممکن بنانے کی واقفیت ہونی چاہیے۔

یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب عوام کو ریاست، اس کی املاک اور اس کے اداروں کی ملکیت اور اہمیت کا احساس پیدا ہو جو ان کو حکومت اور ملک و قوم کی فلاح و ترقی کے کام میں دلچسپی پیدا کرکے اس میں عملی طور پر شمولیت اور اس کی نگرانی کی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ واقفیت کا علم آئین کو سمجھنے سے آتا ہے۔

تب وہ نہ صرف قابل قیادت کو سامنے لانے کی اہل ہوتی ہیں بلکہ ان کا ہر طرح سے محاسبہ کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہوتی ہیں اور یہ سیاسی شعور آئینی و قانونی حقوق اور بحثیت ایک شہری اپنی ذمہ داریوں کو جاننے سے آتا ہے۔ جو عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ترقیاتی پراجیکٹس کی نگرانی سے لے کر قومی سطح کی پالیسیوں اور حکمرانوں کے اختیارات کے استعمال تک کی نگرانی کرنی ہے۔ جیسا کہ آئینی کا آرٹیکل 19 اے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ہر طرح کی سرکاری معلومات تک رسائی کا اختیار رکھتا ہے۔

اگر ان کے علاقے میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں تو وہ متعلقہ محکمے سے یہ معلومات حاصل کر سکتا ہے کہ کتنی لاگت کا یہ منصوبہ ہے اور اس کا کیا معیار ہونا چاہیے اور پھر ان معلومات کی مطابقت سے وہ ٹھیکیدار کو کام کرنے کا پابند بنا سکتا ہے۔ اسی کی ایک حالیہ مثال توشہ خانہ سے لئے گئے تحائف کی معلومات بھی ہیں جن پر ایک صحافی نے آواز اٹھائی اور آج وزراء اور وزیر اعظموں کی جوابدہی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

یہی وہ ترقی کے ماڈلز ہیں جن سے عوام کو اپنی طاقت اور اس کے استعمال کا علم ہوتا ہے تو پھر جمہوریت اپنے ثمرات سے مستفید کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ عوام کااختیار حکمرانی اپنے ہاتھ میں آتا ہے۔


اسی طرح اعلیٰ اخلاقیات ان کو یہ سیکھاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نمائندوں میں چناؤ کے لئے قومی مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دینی ہے اور ایسی خوبیوں کے حامل ممبران کا چناؤ کرنا ہے جن کی بنیاد ان کا کردار، کارکردگی اور ملک و قوم کی فلاح کا جذبہ ہو۔ جیسے اب انتخابات 8 فروری کو ہونے جارہے ہیں تو عوام کو اپنی رائے دیتے ہوئے اپنے سیاسی شعور اور اخلاقیات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کے زریعے سے باصلاحیت قیادت کے چناؤ میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہیں جو عوام کا منشور ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے منشور سے دھوکہ نہیں کھائیں گے بلکہ اس کو ان کی ماضی کی کارکردگی سے جوڑ کر پرکھیں گے وہ عملی طور پر کس قدر ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں۔



اگر عوام کے اندر ریاست کی ملکیت اور اہمیت کا احساس ہوتا تو آج ملک مقروض نہ ہوتا اور آزاد تجارتی اور خارجی امور کی پالیسیاں ہوتیں۔ ہمارے ہمسایہ ممالک میں کوئی بھی اس قدر مقروض نہیں جو ہمارا حال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کو اب یہ موقف اپنا لینا چاہیے کہ جو مہنگائی ہوئی ہے اور عوام کے گھروں کے چولہے بند ہوئے پڑے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں کو کہیں سکوت نہیں آرہا۔ خوردونوش کی قیمتیں ہر لمحے بڑھ رہی ہیں، ہر کوئی دوسرے پر الزام لگا رہا ہے اور اپنے آپ کو بے گناہ کہہ رہا ہے حتیٰ کہ جو اتحادی رہے ہیں وہ بھی ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

اس کی تحقیقات ہونی چاہیں اور جو بھی حکومت اس کی ذمہ دار ہے اس میں شامل ممبران کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور جو ذمہ دار ہیں ان کی جائیدادیں بیچ کر قرضے اتارے جائیں تاکہ مستقبل میں سیاست کا رخ کرنے والے سوچ سمجھ کر قدم رکھیں۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کہ جس کا دل چاہتا ہے منہ اٹھا کر بھاگا چلا آتا ہے اور سیاست کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ انکا شوق سیاست اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک جوابدہی کا سلسلہ شروع نہیں ہوگا۔

جب جوابدہی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا تو میں آپکو یقین سے کہتا ہوں کہ آپکو نمائیندگی کرنے کے لئے ڈھونڈنے سے بھی کوئی نہیں ملے گا یہ زبردستی عوامی نمائندگی کا رجحان ختم ہوجائے گا اور عوام کو اچھے کردار والے لوگ مجبور کرکے ان عہدوں پر بٹھانے پڑیں گے۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ عوام کی خدمت کرنی ہے اور ساتھ ساتھ جوابدہی بھی ہوگی تو صرف خوف خدا رکھنے والے اچھے کردار کے حامل خدمت کا جذبہ رکھنے والے ہی اس ذمہ داری کی حامی بھریں گے۔ ایسے ہی انقلاب آتے ہیں، قوموں کی حالت بدلتی ہے اور اختیار حکمرانی عوام کو میسر آتا ہے۔

پیر، 29 جنوری، 2024

پاکستان کو سوشل میڈیا کے محاذ پر سرد جنگ کا سامنا ہے

سوشل میڈیا یوں تو علم، ادب، معلومات تک رسائی اور عوامی رائے کو ہموار کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور انسانی علم و تربیت اور ترقی میں اس کا نمایاں کردار ہے لیکن بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح ہو رہا ہو، وگرنہ یہ تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس کی ایک جھلک ہماری موجودہ سیاسی صورت حال بھی ہے جس کے پیچھے ہماری اپنی ہی 10 سالہ محنت کے ثمرات ہیں۔ اس کے تحت ایک خاص سوچ و عمل، رویے اور مزاج کی قومی سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ ریاست کے وسائل اس کے ہاتھ میں تھے، عدالتوں نے اسے صادق و امین کی سند دی، صحافت نے اسے واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا، سوشل میڈیا کی جادوگری نے اسے امت مسلمہ کا لیڈر ڈیکلئیر کر دیا اور قوم نے ریاستی اداروں، انصاف کے عملبرداروں اور نام نہاد مدبروں کے فرمودات کی روشنی میں اسے تسلیم کر لیا۔ جس کسی نے اس کی مخالفت کی اس کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

اب اداروں کو جب اس اکھڑ، متکبرانہ اور تضحیک آمیز مزاج کا سامنا کرنا پڑا ہے تو انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں مگر ایک لمبے عرصے پر محیط محنت کے اثرات ختم ہوتے ہوتے بھی وقت درکار ہو گا۔ کیونکہ اس مزاج کی امامت میں اب عوام کی کثیر تعداد لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں اتر چکی ہے۔ جو اُس وقت بچے تھے وہ اب جوان ہو چکے ہیں اور ملک و قوم کا مستقبل ہیں جن میں سے کئی اہم ذمہ داریوں پر بھی فائز ہو چکے ہوں گے۔ جو اس وقت جوان تھے وہ اب کوئی ماں تو کوئی باپ بن کر اگلی نسل کی تربیت کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ جو سبق ان کو دیا گیا تھا وہ اب اگلی نسلوں کو منتقل کر رہے ہیں اور کئی اپنی بزرگی کے باعث قبیلوں کی تربیت کے کارنامے سرانجام دے رہے ہوں گے۔

ان کو اگلی دہائیوں تک اقتدار کے دکھائے گئے خواب اب ایک ضد بن چکے ہیں اور ان کے نزدیک اب سیاست کی تعریف ہی حصول اقتدار ہے جس پر عمل درآمد کے لیے وہ انتہائی اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ ان کی پیدا کردہ سیاسی تفرقہ بازی، انتشار پسندی اور عدم استحکام ملک و قوم کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرنے پر قادر ہو چکا ہے۔

اس سے متاثر ہونے والوں میں اچھی خاصی تعداد ایسے نام نہاد پڑھے لکھوں کی بھی ہے جو سوشل میڈیا کو آسمانی صحیفہ سمجھ کر اس کے مقدس فرمودات کو اپنے یقین کا حصہ بناتے رہے۔ ان میں استاد، ڈاکٹر اور سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں جو معاشرے کا ایک با اثر طبقہ ہیں مگر وہ بھی اس سیاسی تفرقہ بازی اور انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس سے قومی سطح پر ہی نقصانات نہیں ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارا قومی تشخص خراب ہوا ہے جس میں ہمارے بیرون ملک مقیم دوستوں کا بھی اچھا خاصا ہاتھ ہے جس نے ہمارے بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

اب انتخابات کو جس طرح سے متنازعہ بنا کر ایک نہ ختم ہونے والی انتشاری سیاست کو مزید طول دیا جا رہا ہے اس کا آغاز یوں تو 2014 سے ہی ہو گیا تھا مگر موجودہ منظرنامے میں 10 اپریل 2022 کو ایک آئینی طریقے سے ختم کی جانے والی حکومت کے بعد چند ووٹوں کے فرق والی قومی اسمبلی میں بیٹھنے کے بجائے چوک چوراہوں کی سیاست کو ترجیح دینے سے یہ شروع ہوا اور اپنی ہی صوبائی حکومتوں کو ختم کر کے جیلوں میں پہنچنے سے اب تک کا ہے۔

اگر ہم سمجھیں تو ہمارے لئے اس کے اندر ایک بہت بڑا سبق موجود ہے کہ کیسے اداروں اور ریاست کی باگ ڈور غلط سوچوں کے ہاتھوں میں آ جانے سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کا مزاج قوموں کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے اور ان کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ جس کی مثال 9 مئی ہے جو ایک لیبیا ماڈل کی سازش تھی جس میں اِسی طرح سوشل میڈیا سے عوامی ذہنوں کو سیاسی شعور کے نام پر انسانی حقوق اور جمہوریت کے جھانسے میں نظام کے خلاف ورغلا کر آزادی کی تحریک شروع کروا کر عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کر دیا گیا جس کو کنٹرول کرنے کے لئے ریاست کو سخت اقدامات اٹھانے پڑے اور جانی نقصانات سے ابھرنے والے عوامی اشتعال پر حکومت کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔ اب 13 سال ہونے والے ہیں اور ملک خانہ جنگی کی حالت میں ہے۔ اس انتشار پسندانہ جمہوریت نے لوگوں کا جینا محال بنا دیا ہوا ہے۔

ہماری فوج کی اعلیٰ صلاحیتوں، بروقت اقدامات اور کامیاب حکمت عملی سے 9 مئی کے فسادات پر قابو پا لیا گیا، وگرنہ اگر تھوڑی سی بھی دیر ہو جاتی تو اس انتشاری سیاست کی تباہیاں جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل جاتیں اور مشتعل عوام کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ ریاست کے اداروں نے اس نام نہاد شعور، جنون، آزادی اور مقبولیت کے غبارے سے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو بروقت بند کر کے ہوا نکال دی اور ان سازشیوں کے آپس کے روابط اور نیٹ ورک کو توڑ کر ان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ، جاہلانہ اور تباہ کن استعمال کا ظلم دیکھیے کہ کہا جاتا ہے یہ سب کچھ فوج نے خود کروایا۔ اب اس طرح کے مزاج سے عوام کے ذہنوں میں گھولے گئے زہر کا اندازہ لگا لیجیے کہ یہ کتنا خطرناک ہے اور ان کے ہم مزاج لوگ اس پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔

کیمرے کی آنکھ نے جو شواہد اکٹھے کئے ہوئے ہیں وہ تو جھوٹ نہیں بولتے۔ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی وڈیوز وائرل کرتے رہے ان کے اپنے اکاؤنٹس کا ریکارڈ اور ان کے سیاسی الحاق کے شواہد موجود ہیں جن میں کوئی بھی نامعلوم نہیں بلکہ درجہ اول کی قیادت کی رہنمائی میں کارواں رواں دواں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پھرسادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنے جرموں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ مظاہرین ٹریپ ہو گئے تھے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو کس نے ٹریپ کیا؟ ان کے ٹریپ ہونے کا سبب کیا بنا؟ ان کی قیادت کس نے کی؟ ان کو یہ سوچ کسی نے دی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جو بھی جواب تلاش کرے گا اس کو حقائق معلوم ہو جائیں گے۔

کچھ سیاسی جماعتیں محض جھوٹے بیانیے سے عوامی نفسیات کو ٹارگٹ کر کے مظلومیت کی ہمدردیوں سے عوامی سوچوں کو یرغمال بنانا اپنی کامیاب سیاسی حکمت عملی سمجھتی ہیں جس کا شکار ہو کر عوام سوشل خانہ جنگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں. عالمی سیاست میں ایسے ہتھکنڈوں سے تیسری دنیا کو بے وقوف بنا کر جغرافیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں جس کی مثال دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو علیحدگی کی تحریکوں کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔

اب اس بیانیے کے غلط ہونے پر کوئی شک نہیں مگر ان سادہ ذہنوں کو کون یقین دلائے اور کون انہیں ملک دشمنوں کے چنگل سے نکال کر آزاد کروائے۔ سوشل میڈیا نے ہماری قوم کو غلام بنایا ہوا ہے جس کا ان کو شعور کے گھمنڈ میں احساس بھی نہیں ہو رہا۔ کئی اینکرز بھی اپنی ریٹنگ کے چکر میں اس جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور مقبولیت کے لئے اس بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے نام نہاد صحافی اور سیاست دان اپنی صحافت اور سیاست کو جن خطوط پر چلا رہے ہیں اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ایسی سوچوں کو پہچاننے کا آسان سا حل ہے کہ دیکھا جائے جب پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو خراب کیا جا رہا ہو یا پاکستانی اداروں پر بے جا الزامات لگائے جا رہے ہوں تو خوشی کا اظہار کون کرتا ہے اور ایسے لوگوں کا تعلق کن سیاسی دھڑوں سے ہے۔ ایسی سوچیں کہیں بھی پائی جا سکتی ہیں۔ ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ مثلاً چند روز قبل ایران کی طرف سے حملہ ہوا تو اس سے ایسی سوچیں بے نقاب ہونے لگیں جن کو پہچاننے کے لئے قوم کو شعور دینے کی ضرورت ہے اور ایسی سوچ و عمل کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچوں کے علاج کے لئے ان کی وجوہات کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ ان کے پیچھے کون سے اندرونی و بیرونی عوامل کارفرما ہیں۔

ایسی سوچوں سے سادہ لوح عوام تو اپنی سادگی کے باعث یرغمال بنے ہی ہیں مگر جو اس کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئے وہ ایسا طبقہ ہے جس کو ریاست کے وسائل سے آسودہ اور خوشحال زندگی میسر تھی جن کا مسئلہ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری تھا ہی نہیں بلکہ وہ ایسے ماحول کی پیداوار تھے جن کا اس ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی جہاں ہی اور ہے۔ ان کی سوچیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے مزید وسائل کی تاک میں ذہنی محرومیوں کا شکار تھیں اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر وسائل پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ان میں غلط معلومات کی شکار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جنہیں پاکستان کے حالات بارے معلومات تک رسائی میڈیا کے ذریعے سے ہوتی رہی ہے۔

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ریاست اور عوام کی سوچوں میں یکسوئی لانے کے لئے ریاستی وسائل سے مہیا تنخواہوں، وظائف اور مراعات میں امتیازی سلوک کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سب کو ایک جیسے مسائل سے واسطہ پڑے اور ان کو معلوم ہو کہ ایک عام آدمی کی زندگی کیسی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ان کو عام آدمی جیسی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔

اس مزاج کو بدلنے کے لئے قوم کو ان بنیادی سنہری اصولوں سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے جن سے ان کو یہ ادراک ہو کہ کبھی بد اخلاقی کو شعور، کارکردگی سے خالی نعروں کے حامل کو نجات دہندہ اور قول و فعل میں تضاد رکھنے والے کو صادق و امین نہیں کہا جا سکتا۔

سیاست دانوں کو اگر اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے تو پھر ان کو اپنے رویوں سے اس کا ثبوت دینا ہو گا اور اپنا قبلہ درست کر کے پختہ اور سنجیدہ سیاست کی سمت بڑھنا ہو گا۔

اس میں قصور سوشل میڈیا کا نہیں بلکہ ان کا ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال سے ایسی سوچوں کو اس طرف موڑا اور شعور کے نام پر جہالت کو رواج دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا محاذ کھولا جس نے پاکستان کو ایک سرد جنگ کی طرف دھکیل دیا جو انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ قصور ہمارا بحثیت قوم بھی ہے جن کے شعور کی بنیاد قومیت نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے، جس کی بنیاد عقل و دانش نہیں بلکہ مسحور کن سبز باغات ہیں جن کا حقائق سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں، کردار و کارکردگی نہیں بلکہ دھوکے پر مبنی وعدے اور دعوے ہیں جن کی ماضی سے کوئی مطابقت ہی نہیں۔ ہم نے سوشل میڈیا سے دھوکہ کھانے کی راہ کا انتخاب خود کیا۔ ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ ہمیں معلومات دینے والے کی تعلیم، تجربہ یا معلومات کا ذریعہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہماری ذہنی صلاحیتوں کا وہ معیار ہی نہیں تھا جو مثبت تبدیلی کا موجب بنتا۔ اس میں کچھ کردار ہماری تعلیم و تربیت کی بنیاد پر وجود پانے والے مزاج کا بھی ہے جن کو اپنے ہم خیال مزاج کی طرف کشش محسوس ہوئی۔ اس میں دوسری جماعتوں سے مایوسی بھی ہو سکتی ہے اور کچھ نفسیاتی مسائل بھی ہیں جو ان کی محرومی کا سبب بنے ہوئے تھے اور ان کو جیسے ہی اپنی ہم مزاج سوچ ملی تو وہ کھنچے چلے گئے۔

اس کا حل اب انتہائی محتاط مگر پائیدار خطوط پر ڈھونڈنے کی ضرورت ہے اور اسے ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مہارتوں سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کو سوشل میڈیا کے محاذ پر ہی لڑنا ہوگا۔ قوانین اور اختیارات کے استعمال کے ساتھ ساتھ جھوٹ، تشدد اور فسادات کے سوچ و عمل کو بے نقاب کر کے معصوم ذہنوں میں بنائے گئے خاکے کے بناوٹی رنگوں کو مٹا کر ان میں نئے رنگوں کو بھر کر حقیقی نقوش ابھارنا ہوں گے جس کے لئے عقل و دانش اور عوامی نفسیات کے مطالعے کا سہارا لینے کی ضرورت ہو گی۔

وہ لوگ جو ان حقائق کو سمجھتے ہیں ان کو ریاست اور ریاست کے اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔ اس وقت ان کی سربراہی ذمہ دار اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ان کے لئے معاملات کو سنبھالنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن وقت درکار ہے۔ ماضی میں وہ غلط سوچوں کے زیر سایہ تھے اور قومی صلاحیتوں کا استعمال غلط ہوتا رہا لیکن اب بہتر کارکردگی حالات کے بارے مثبت اشارے دی رہی ہے۔

اتوار، 25 جون، 2023

قوم حکمرانوں سے شاہی محلات خالی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔

جس ملکی کی دو تہائی  آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہو ۔ ملک بدحال معاشی صورتحال کا شکار ہو ۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں تو اس ملک کے حکمران ، سربراہ یا مقتدر طاقتیں عالی شان محلوں میں نہیں رہتے ۔ مساوات ، محبت اور بھائی چارے کا تقاضہ یہ ہے کہ سب کا طرز زندگی ایک جیسا ہو ۔ سب کو ریاست کے وسائل تک برابر رسائی حاصل ہو جس کی بنیاد ضروریات ہوں ، بحثیت شہری برابری کے حقوق ان کی بنیاد کا پیمانہ ہوں ۔

جب انسان کو آسودگی حاصل ہوتی ہے اور اس کا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے تو اس کو دوسروں کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہوتا ۔ جن کی بجلی کبھی جھمکی بھی نہ ہو ان کو ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال لوگوں کی تکلیفوں کا کیا اندازہ ہو۔جن کے پاس موجود شاہانہ زندگی کے وسائل ریاست کے خزانے سے موجود ہوں خواہ وہ بھاری بھرکم سودی قرضوں سے ہی حاصل ہورہے ہوں ان کو کیا احساس کہ لوگ  کس طرح گزر بسر کررہے ہیں یادو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔

اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسئلہ غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کا سبب عوام  نہیں بلکہ اس کا سبب اس ملک کے وسائل کے بلبوتے پر آسودہ حال لوگوں کے اعمال اور کارنامے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں بائیس کروڑ عوام کے مستقبل کو آج کی اس تاریک صورتحال میں دھکیلا ۔ ان کو یہ احسان نہیں ہوا کہ وہ اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں مگر غریب عوام جن کی جیب سے ان کو آسودگی میسر تھی ان کا کیا بنے گا ۔ وہ عوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے رہے اور خود کو اس ملک کے تمام وسائل کا مالک سمجھتے رہے ۔

اب انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور بشمول تمام سرکاری خزانے سے مستفید ہونے والے محکموں کو شاہی محلات سے باہر نکال کر ایک عام شہری کی طرز زندگی  پر رہن سہن میں لایا جائے تاکہ ان کو احساس ہو کہ اس ملک کے غریب عوام کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اور تب ان سے یہ امید وابسطہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کا کچھ کریں گے وگرنہ محض خالی دعووں اور دلاسوں نے تو ستر سالوں سے اس ملک کا یہ حال کردیا ہے۔

اب بھی ان کے عمل سے کوئی بہتری کا نشان نظر نہیں آتا۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینٹ کے چئیرمین ، وائس چیئرمین اور کمیٹیوں کے سربراہان کی مراعات بارے قانون بنانے کی کوشش کی گئی ہے  جس سے ان کی نیتوں کو خوب بھانپا جاسکتا ہے۔ ان کو تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو باہر کہیں سے قرض نہیں مل رہا ۔ اب یہ صورت حال ہوچکی ہے کہ ان کو کوئی سود پر قرضہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ وگرنہ یہ کفائت شعاری کےتو محض کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں عملی طور پر سب صفر ہے۔  

ان کو رضاکارانہ طور پر تمام سہولتیں اور مراعات ختم کردینی چاہیں اور اجلاس بھی قناتوں اور سائبانوں کے نیچے ہونے چاہیں۔ تمام سیکیورٹی اور پروٹوکول ختم کردینا چاہیے ۔ جان ، مال ، عزت سب کی برابر ہے ۔ اگر کسی کو اپنی جان اتنی ہی پیاری ہے تو کوئی مجبوری نہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے اور اپنے وسائل پر اپنی حفاظت کا بندوبست کرے۔ عوام کو ان کا درد محسوس کرنے والے ان کی حالت زار کو سمجھنے والے عوامی نمائندے چاہیں ۔جو باقی سرکاری محکوں کے لئے سادگی اور مساوات کی مثال قائم کرکے ان کے لئے ترغیب کا سبب بنیں اور ان کو برابری کے پیمانے پر وسائل سے مستفید ہونے کے لئے مجبور کرنے کا اخلاقی اور قانونی جواز بھی رکھتے ہوں ۔

وگرنہ  محض نعرے تو کئی مہینوں سے پارلیمان کی عالی شان عمارت میں لگ رہے ہیں لیکن وہاں سے کوئی سادگی اور برابری کی مثال دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔

قوموں کے مسائل باتوں سے حل نہیں ہوتے عمل سے ہوتے ہیں ، محنت سے ہوتے ہیں ۔ تعجب ہوتا ہے جب حکومت میں موجود قومی اسمبلی کے ممبران یا وزراء بڑے بڑے جلسوں میں بہت ہی اچھی باتیں کرتے ہیں ۔ کہ ایسا ہونا چاہیے ۔ یوں ہونا چاہیے ۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ ملک و قوم کے اختیارات تمھارے پاس ہیں وسائل تمھارے حکم کے تابع ہیں تو پھر یہ انتظام و انتصرام کس نے کرنا ہے۔ 

اگر عمل کرنے والا کوئی ہو تو ایک دن کےانتظام سے ہم سورج کی حدت سے سولر سسٹم کے زریعے اپنی دن بھر کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں اوررات کو مارکیٹوں کو بند کرکے  تقریباًپانچ ہزار میگا واٹ کے سرپلس پر جاسکتے ہیں۔ مگر ہمارے حکمرانوں ترجیحات اگر عوام کی خدمت بنیں تو۔ 

یہ ایک توانائی کے متعلق مثال ہے ۔

آج دنیا میں جو نظام حکومت میں محکموں کا ماڈل ہے اس کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کیا اور ان کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ آپؓ کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ آپؓ کے لیے 40 درہم میں خرید لیا۔ بعد ازاں غلام نے آپؓ کو یہ بتایا کہ آپؓ کا کیا ہوا عہد پورا ہو گیا اور وہ آپؓ کے لیے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا

فتصدق بهما، فانی اکره ان آکل اسرافا،کيف يعنينی شان الرعية اذا لم يمسسنی ما مسهم۔ (المنتظم، 4: 250

ترجمہ: ‘تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں، مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہو گا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے۔

پاکستان کا اصل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس کا نام اور اس کا آئین جو قرآن و سنت کے قوانین کو اس ملک کے نظام کا اساس مانتا ہے اور اس پر عمل کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے وہ یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ  مساوات کو رائج کرنے کے علاوہ کوئی بھی پیمانہ اب قابل عمل نہیں رہا اور نہ ہی اس کے علاوہ موجودہ مشکلات کا کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس سے ہٹ کر  کسی درجے کو رائج رکھنے کے جواز کا حق رکھتا ہے ۔ 

پیر، 19 جون، 2023

حکومت کی کفائت شعاری کا راز بے نقاب ہوگیا۔


ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات اور مراعات کی فکر لگی ہوئی ہے۔باتیں کفائت شعاری کی کرتے ہیں اور عمل شاہانہ ہے۔ کفائت شعاری پر جو کمیٹی بنائی تھی وہ اب سوئی پڑی ہے اور اس کی سفارشات بھی شائد ردی کی ٹوکری کے سپرد ہوگئی ہیں۔

سیلریز اینڈ پریویلیج آف سینٹ ایکٹ 2023 کے نام سے ایک ایکٹ پاس ہوا ہے ۔ یہ ایکٹ نو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کوپیش کرنے والے یوسف رضا گیلانی ، فاروق ایچ نائیک، عطاء الرحمان، ڈاکٹر شہزاد، اعظم نزیر تارڑ، فوزیہ ارشد، رضا ربانی، عبدالغفور حیدری  وغیر جیسے معززین شامل ہیں۔ یہ مراعات موجودہ اور سابق چیئرمین سینٹ کے لئے ہیں ۔اور سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس میں  تمام جماعتیں مشتمل اور متفق ہیں۔ اس کے چند چیدہ چیدہ  نکات درج ذیل ہیں۔  

بارہ ملازم ، آٹھ گارڈز، وی وی پی آئی سیکیورٹی اس کے علاوہ جہاں بھی وہ جائیں گےان وفاقی یا صوبائی حکومت سیکیورٹی دینے کی پابند ہوگی، اپنے اور اپنی فیملی کے سفر کے لئے جہازبھی مانگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ کی فنانس کمیٹی، جو چئیرمیں سینٹ خود بناتا ہے ، جو بھی فیصلہ کرے گی وہ مراعات دی جاسکتی ہیں۔

اسی ایکٹ کی دفعہ 21 ان کی رہائش پر 6 مستقل سیکیورٹی گارڈز اور 4 حکومت کی طرف سے اور اس کے علاوہ پولیس کی طرف سے بھی سیکیورٹی مہیا کی جائے گی ۔ اسی طرح سیکشن 16 کی رو سے فنانس کمیٹی بارہ تک پرسنل سٹاف  مستقل بنیادوں پر یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر دے سکتی ہے۔پھر سیکشن 20 فنانس کمیٹی کو ان مراعات کو بڑھانے کا اختیار بھی دیتا ہے ۔ سالانہ آٹھ لاکھ تک اس کی حد رکھی گئی ہے مگر کمیٹی اس کو ضرورت کے مطابق بڑھانے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال سے علاج  یا وہ گھر پر سہولت چاہتے ہوں تو اس کے لئے حکومت اخراجات برداشت کرے گی۔

سفر کے لئے وہ اگر چاہیں تو حکومت کے اخراجات پر حکومتی یا پرائیویٹ جہاز بھی وہ لے سکتے ہیں اور ان کا پروٹوکول ریاست کے ڈپٹی ہیڈ کا ہوگا۔ اور  وہ ایک سے چار ممبران تک ساتھ لے کر جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر سرکاری گھر میں رہیں تو ٹیلی فون اور گاڑیاں مفت ہونگی اوراگر اپنے گھر میں رہیں گے تو ڈھائی تین لاکھ تک کرایہ بھی ملے گا۔

اس سے پہلے پارلیمان نے اپنی توہین کے لئے قانون منظور کروایا تھا تاکہ کوئی ان پر بات نہ کر سکے۔  شائد ان کو عدلیہ کی عزت دیکھ کر رشک آیا ہو۔ظلم کی انتہا ہورہی ہے ۔ لیکن حکمرانو یاد رکھو یہ تمھاری  قانون سازیاں تمھاری ذہنی استعداد کی خمازی کر رہی ہیں اور تمھارے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ اور اگر آپ لوگوں نے اپنی ان غلطیوں کو نہ روکا تو یہ تمھاری اس بادشاہت کو بھی بہا کر لے جائیں گی ۔

قانون سازی کا معیار دیکھئے کہ قانون بنانے والے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔ پھر باتیں کرتے ہیں عدلیہ کی مراعات کی ۔ تو سن لو اس کے بھی آپ ہی ذمہ دار ہیں ۔ آپکو عوام کی نمائندگی کے لئے حکومت کا قلمدان دیا گیا ہے اور اگر آپ عوام کے مفادات کے لئے کام نہیں کرسکتے تو کسی کو بھی حکومت میں رہنےکا کوئی اختیار نہیں ۔ عوام کو مجبور نہ کرو کہ وہ تمھاری بادشاہت کو نوچ ڈالیں اور تمھارے یہ حفاظتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ اگر عوام کا احساس نہیں تو اس کائنات کے خالق کے غضب سے ڈرو جس کی کائنات سے نکلنا مشکل ہے ۔ کوئی اس کے ساتھ بغاوت نہیں کرسکتا۔

اور جو یہاں سے سب کچھ لوٹ کر باہر لے کر جارہے ہیں وہ یہ مت بھولیں کہ ان کو ان کا یہ مال و دولت کہیں بھی فائدہ نہیں دے سکے گا اور اس کی دنیا میں کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے بھی اپنی ریاستوں سے لوٹ کر دوسری ریاستوں میں جمع کیا ان کو  سب کچھ سے ہاتھ دھونا پڑے اور نہ ان کی عزت رہی اور نہ ہی ان کا مال کام آیا۔ ان کی نسلیں آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور بھوک ہڑتالیں کر رہی ہیں ۔ آپ سب سمجھتے ہیں میں کسی کانام لے کر رسوائی نہیں کرنا چاہتا اور یاد رکھو کہ  جہاں تم پنا ہ لیتے ہو وہ بھی جانتے ہیں کہ جو اپنے ملک اور عوام کے لئے مخلص نہیں وہ ان کے لئے بھی کبھی مخلص نہیں ہوسکتے ۔ ساری دنیا بے وقوف نہیں ہے اور یہ فطرت کا اصول ہے اور یہی انتقام ہے کہ انسان سب کچھ گنوا بھی بیٹھتا ہے اور اس کا حساب پھر بھی اسی کے ذمہ ہوتا ہے ۔

خدا را عوام کے پاس کوئی تو آپشن رہنے دیں کہ وہ آئینی انقلاب کی راہ سے اکتاہٹ محسوس نہ کرنے لگیں اور  جمہوریت اور سیاست کو ہی مسائل سے نکلنے کا زریعہ سمجھے رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی راہ پر چل نکلیں۔

عوام کی نمائندگی اگر آپ کو ملی ہوئی ہے تو اس کو غنیمت جانیں ایسا نہ ہو کہ یہ نمائندگی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے  یا چھین لی جائے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔اور اس کا تجربہ آپ میں سے تمام جماعتیں  کر چکی ہیں مگر شائد آپکو اس سے وہ سبق نہیں ملا جس کا آج کے حالات تقاضہ کر رہے ہیں ۔

موجودہ معاشی حالات میں ان لوگوں کی ایک اس حرکت  نے صرف سیاستدانوں نہیں  بلکہ جمہوریت  اور انصاف سے بھی  عوام کا اعتماد اٹھا دیا ہے اور یہ تمھاری سیاسی قبر کے لئے کافی ہوگا۔عوام کو کفائت شعاری کے درس دئیے جارہے ہیں اور اپنا حال کیا ہے اس کا راز یہ ایکٹ کھول رہا ہے ۔

فضولیات اورعیاشیوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کو بند کر کے قوم کو ممکنہ ایک ہزار ارب کا تحفہ پیش کرتے ہوئے کفایت شعاری کا درس دیتے تو شاید اس کا اثر بھی ہوتا مگر پر عیش ماحول میں بیٹھے ہوئے پالیسی سازوں کو کیا خبر کہ عوام گزارہ کیسے کر رہے ہیں۔ ان کو تو صرف اپنی فضول خرچیوں اور عیاشیوں کے بند ہونے کی فکر نے پریشان کیا ہوا ہے۔ عوام کو ملکی اخراجات کا حقیقی مختصر جائزہ ہی پیش کر دیتے تو شاید تمہارے ضمیر کو ایک لمحے لے لئے ملامت کا سامنا ہو پاتا۔

انصاف اور مساوات کا آغاز سربراہان کے عمل سے شروع ہوتا ہے نہ کہ ان کے کھوکھلے دعوؤں سے جن کا پرچار 75 سالوں سے اور خاص کر پچھلے 5 سالوں سے ہو رہا ہے۔ جس قوم کے قسمت سازوں کو قیام پاکستان سے سفارش، رشوت اور بدعنوانی کی گھٹی سے لے کر کمیشن کی لت کی عملی تربیت سے آراستہ کیا گیا ہو تو پھر ان سے ایمانداری اور اصلاح کی امیدیں وابستہ کرنے سے بڑا بھونڈا پن نہیں ہو سکتا۔

اس قانون کو اگر ختم نہ کیا گیا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اب عوام کے پاس وقت ہے کہ ماضی کی تمام نا انصافیوں پر آواز اٹھائیں کہ ریاستی خزانے سے حاصل کردہ تنخواہیں،وضائف اور مراعات میں برابری کے علاوہ کوئی صورت قابل قبول نہیں ۔ خواہ وہ جج ہو، جرنیل ہو ، پارلیمنٹیرین ہویا بیوروکریٹ سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔  

بدھ، 7 جون، 2023

ہر کوئی بے نقاب ہو رہا ہے،یہی نظام فطرت ہے


قدرت کا نظام انصاف  و انتقام بھی کیسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو ہی بے نقاب کرنا شروع کردیتا ہے۔ ایک معقولہ تو ہر کسی نے سنا ہی ہوگا کہ انسان جب بھی کوئی کام فطری اصولوں کے خلاف کرتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے  جو ایک الارم ہوتا ہے کہ وہ اس کام سے باز رہے مگر جب وہ اس سے نہیں رکتا تو پھر اس کے اپنے اندر ایک افسوس سا ضرور موجود رہتا ہے ۔جو ایک حد پر پہنچنے کے بعد اس کے اندر سے اخراج چاہتا ہے ۔وہ خواہ اس کے اپنے اعتراف کی صورت ہو یا اس کے کسی شریک جرم کی طرف سے۔ اور  اگر دونوں صورتوں کا سبب نہ بن سکے تو پھر نظام فطرت خود ہی اس کے رازوں کو فاش کرنا شروع کردیتا ہے ۔

ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔پچھلے دس سالوں کی سیاسی غلطیوں کی اب اخیر ہوچکی ہے اور اب یہ یکے بعد دیگرے افشا ہورہی ہیں ۔ بعض کردار تو اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے خود ہی اعتراف کرنے لگے ہیں اور بعض اپنے ساتھ دوسروں کو بھی  بے نقاب کررہے ہیں اور بعض کے جرائم نظام فطرت کا نشانہ بن رہے ہیں  اور ان کے اعمال ان کو بے نقاب کرنے لگے ہیں ۔ مگر افسوس کہ بے نقاب ہونے اور ان جرائم کے ثبوت سامنے آجانے کے باوجود  بھی ہر کوئی آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو تسلیاں دینے کی کوشش کررہا ہے  کہ شائد لوگ اس کو جھوٹ ہی سمجھ لیں ۔مگر وہ شائد نظام فطرت کے اگلے مرحلے سے ناواقف ہیں کہ ان  رازوں کے افشا    ہونے کا مقصد ہی گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔ انسان اور معاشرے پر ان کے بد اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ یہ فطرت کا ایک احسان ہے کہ انسانی اور معاشرتی بیماری کی تشخیص  در اصل اس کے علاج کا تقاضہ کر رہی ہوتی ہے ۔ وہ خواہ اس کی معافی تلافی سے ہو یا  جزا و سزا سے ۔

لیکن جو انسان یا معاشرے اس کی تشخیص کے بعد بھی اس پر توجہ نہیں دیتے تو وہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ بیماری کے علاج  کی پہلی ذمہ داری انسان کے اپنے اوپر آتی ہے یا جو اس کا علم رکھتے ہیں ۔ جس طرح معاشروں کی بیماریوں کا علاج  انسانوں  کی اجتماعی ذمہ داریوں  پر ہوتا ہے اسی طرح ریاستی  جرائم کا علاج عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ اور ایک ریاست اور اس کے شہریوں کی عزت، شہرت اور دولت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اس ریاست کے ذمہ داروں پر ہوتی ہے کہ وہ اس جرم کو معقول منطقی انجام تک پہنچائیں ۔جس سے ریاست کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ ہو جو عوام کا ایک اجتماعی نقصان ہوتا ہے اور افراد کے ذاتی نقصان کا بھی ازالہ اور داد رسی ہوسکے۔

ریاست کے انتظامات کو سنبھالنا کوئی  کھیل یامشغلہ نہیں بلکہ عوام کی دی ہوئی ایک ذمہ داری ہے  جس کی جوابدہی بھی ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریوں  میں کوتاہی  یا شفافیت ، غیرجانبداری اور برابری کی بنیاد پر سرانجام دینے سے ناکامی  کی صورت میں پھر وہ  ذمہ داران بھی اسی طرح جرم کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں جس طرح سے ان کے درپیش غلطیوں  ، گناہوں یا جرائم کے مرتکب ۔ اپنے فرائض سے کوتاہی کی صورت وہ بھی فطرت کے نظام کی پکڑ میں آسکتے ہیں اور پھر ان کی جوابدہی اور احتساب کے لئے جب نظام   فطرت حرکت میں آتا ہے تو نئے ذمہ داران ان کی جگہ لے چکے ہوتے ہیں ۔

اب حکومت پر یہ ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ وہ بے نقاب ہونے والوں کا احتساب  آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر شروع کریں اور اس کو شفافیت، غیر جانبداری اور برابری کی بنیاد پر قائم نظام کے حوالے کردیں۔آگے جس جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اپنے اختیارات کو قوم کی امانت سمجھ کر ان کا صحیح استعمال کرتے ہوئے  آگے بڑھاتا چلا جائے اور اپنے آپ کو نظام فطرت  اور نظام ریاست سے سرخرور کروانے کا انتظام کرے ۔ ہر انسان موجود وقت  اور اختیار کو اللہ کا احسان سمجھے کہ ابھی یہ اس  کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اعمال کا انصاف اپنے ہاتھ سے کرلے اس سے پہلے کہ وقت اور اختیار اس کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اور کوئی اوراس کے اعمال پر فیصلے کر رہا ہو ۔ 

اسی طرح سے یہاں ہر کوئی بے نقاب ہوتا ہے ، فطرت کے نظام انصاف ، انتقام ااور مکافات عمل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے  اگر کوئی سمجھے تو۔

کوئی جج ہو، جرنیل  ہو، بیوروکرٹ ہو یا سیاستدان سب کے پاس اسی ریاست کے مہیا کردہ اختیارات اور وسائل ہیں جواس قوم کی امانت ہیں جن کا مقصد ریاست اور عوام کی فلاح و بہبود ہے نہ کہ ذاتی مفادات کے لئے انکا استعمال ۔ اور کوئی بھی اگر ان کے استعمال میں کوتاہی ،من مانی  یا ان کا غلط استعمال کرے گاتو وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بچا نہیں پائے گا۔ غور کریں تو ہمارے ارد گرد  ہماری آنکھوں کو دیکھنے اور ذہنوں کو سمجھنے کے لئے مشاہدے موجود ہیں اور کوئی بھی آج سے سو سال پہلے والا موجود نہیں مگر اس کے اعمال تاریخ کی امانت بن چکے ہیں ۔ اس کے دنیا کے اسباب پیچھے رہ گئے ہیں ۔اس نے ان کو کس طرح اکٹھا کیا اس کا حساب وہ خود دے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے ۔ تاریخ کا  نظام انصاف اپنے فیصلے سنا رہا ہے اور ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کر رہا ہے ۔

حکمران ، جج ، جرنیل ، بیوروکریٹ ، سیاستدان یا جس جس کے پاس بھی جو ذمہ داری ہے ۔ یاد رکھیں کہ  ہم کسی کو بھی اپنی ذات کی حد تک کے نقصان اور سرزد ہونے والی غلطی کو تومعاف کر سکتے ہیں مگر ریاستی املاک کو پہنچے والے نقصان میں پوری قوم کا حصہ ہے اور کسی کو کوئی اپنی مرضی ،اس کے ساتھ تعلق، اس کی حیثیت یا اس کے رتبے کے لحاظ سے کوئی رعائت نہیں دے سکتا۔ اور جو کوئی اس نظام قدرت کے توازن میں بگاڑ کی کوشش کرتا ہے  تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

جب اللہ کے رسول ﷺکے پاس ایک لڑکی کے چوری کے جرم میں سزا پر سفارش کی گئی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی اپنی  بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہوتیں تو یہی سزا ملتی۔ اور وعید بھی سنائی کہ پہلے والی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ انہوں نے انصاف نہیں کیا۔ 

حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ اللہ  انسان کی عیبوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا ہے جب تک وہ  اخیر نہ کردے۔بالآخر وہ بے نقاب ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ آج  جو لوگ اپنی زندگی میں بے نقاب ہو رہے ہیں ان پر بھی اللہ کا احسان ہے ،انکو موقع دیا گیا ہے کہ جن کی انہوں نے حق تلفی کی ہے ، ان سے معافی تلافی  کر لیں   تاکہ کل تاریخ یا آخرت کے کٹہرے میں ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ، غلطی یا جرم نہ ہو اور وہ اس دنیا سے سرخرو ہو کر جائیں ۔

ہفتہ، 23 جولائی، 2022

سیاستدانوں کی اعلیٰ ظرفی دیکھئے

 


ممبران نے اپنی بات کی لاج رکھ لی اور چوہدری شجاعت نے اپنی بات کی لاج اور وعدے کا مان رکھ لیا ۔ بلکہ پرویز الہی اور شجاعت دونوں نے ہی اپنی روایات کا مان رکھ لیا اور کسی کوبھی گھر سے خالی نہیں بھیجا ۔ چوہدری پرویز الہی نے پی ڈی ایم کی بھی مٹھائی کھا لی اور عمران خان کو بھی خوش کر لیا ۔ شجاعت نے وعدہ نبھا لیا اور ساجد بھٹی نے اپنی وفا نبھا دی ۔ ممبران بھی نا اہلی سے بچ گئے اور چوہدری پرویز الہی بھی ووٹ کی اکثریت سے جیت گئے ۔ چوہدری شجاعت نے بھی پارٹی کے صدر ہونے کا حق اور اختیار جتلا لیا ۔

ڈپٹی سپیکر نے بھی کیا خوب فیصلہ کیا ہے ۔ پرویز الہی کا دعویٰ بھی مان لیا کہ ان کے پاس اکثریت ہے اور پارٹی سربراہ کے خط کی بھی توقیر رکھ لی ۔ اب اس کےعلاوہ وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ غیر جانبداری کی ایک اعلیٰ مثال قاتم کردی ۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی سب کی آراء پر آمین کہہ دی کہ اگر سب کو یہی مقصود ہے تو پھر ان کو وزارت اعلیٰ پر کیا اعتراض ہوسکتا تھا ۔

آصف زرداری کی ضمانتوں کی بھی عزت رہ گئی ۔ انہوں نے ہی تو نواز شریف کو پرویز الہی کی وزارت اعلیٰ پر منایا تھا جس پروہ اپنی  ذمہ داری کو نبھانا جانتے تھے مگر پرویز الہیٰ کے سامنے اپنی مجبوریاں آڑے آگئی تھیں ۔ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں جوہر کسی کی سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر ان کو سینٹ کے الیکشن اور دو دفعہ عدم اعتماد کے واقعات یاد ہوں تو اسے مکافات عمل ہی سمجھئے ۔ لیکن بقول انکے انکی تو حکومت ہی خاص فونز پر چلتی رہی ہے تو وہ اختیار تو اب بھی ان کے ہی حق میں گیا ہے ۔ کیونکہ چوہدری پرویز الہی فون پر ہی تو ان کے پاس آئے تھے ۔ پھر ناراضگی اور حیرانگی کی کیا بات ہوئی ۔

ویسے بھی ممبران نے تو ان کو پورے ووٹ دیئے ہیں اگر چوہدری شجاعت کا پارٹی سربراہ کا اختیار آڑے آگیا ہے تو اس میں ممبران کا تو کوئی قصور نہیں ۔ عمران خان خود بھی تو پارٹی سربراہ ہیں اور ان کو اختیارات کے استعمال اور نتائج تو معلوم ہی ہیں جن کی بدولت ابھی چند روز پہلے ہی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں ۔ مسلم لیگ قائداعظم پھر بھی سمجھدار نکلی ہے اپنے ممبران کو بھی بچا لیا ہے اور اپنی وزارتیں بھی بچالی ہیں ۔ وزارت اعلیٰ تو ان کو پھر بھی مل ہی جائے گی ۔

عدالت سے ملے یا ریاضت سے ملے ۔ عدل کی کمان سے 63 کا تیر تو پہلے ہی چل چکے ہیں اور عدالت اپنی تحریف بھی کرکے اپنے پاس رکھے ہوئے ہے جب چاہے گی جیسے چاہے گی اپلائی کر لے گی ۔ مجلس قانون ساز پہلے ہی عدالت کے ہر فیصلے پر من عن عمل کرنے کے لئے بہرصورت تیار بیٹھی ہے ۔ انہوں نے جو کہا سر آنکھوں پر ۔ وگرنہ سب جانتے ہی ہیں ثاقب نثار کے الفاظ کہ " دو تین ایم پی اے تو میں ویسے ہی گھر بھیج دونگا " ممبر پارلیمان کی جرات ہی کیا ہے جو عالی جاہ کے سامنے بولیں ۔

زرداری صاحب کو قدرت نے موقع دیا ہے سینٹ  کا اور پی ڈی ایم کو عدم اعتماد کا حساب پورا کرنے کا ۔ سیاست میں اس طرح کے حساب کتاب تو چلتے ہی رہتے ہیں ۔

 قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے سفیر کے خط پر رولنگ دی تھی اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے ایک پارٹی کے سربراہ کے خط پر فیصلہ دے دیا ۔ دونوں کی ایک بات مشترک ہے کہ دونوں ہی پی ٹی آئی کی جماعت کے ڈپٹی سپیکر تھے اور ایک پر تو پہلے ہی وہ خوش ہیں اس سے سب کچھ خود کروایا تھا اور اب دوسرے پر بھی اگر حوصلہ پڑے تو خوش ہو لیں وہ بھی اپنا ہی تو ہے پھر کیا ہوا اگر اس نے تھوڑی سی سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ میں اپنی مرضی کرلی ہے تو ۔ بہرحال  اس پر ڈنڈے  اٹھائیں تو ان کی مرضی اور اگر خوشیاں منائیں تو ان کی مرضی

احتجاج کرنا چاہیں تو بھی ان کا حق ہے ۔  مولانا نے بھی تھوڑا ہنستے ہنسے ا ور تھوڑا سنجیدہ رہ کر انتباہ کردیا ہے مگر ایک بات پر میں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ احتجاج کرونگا کہ ان کو تتلیوں کا ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا وہ ان کے شایان شان نہیں اگر تو ان کا بقول انکے آنٹیوں کی طرف اشارہ ہے تو خواتین کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے البتہ یوتھیوں کو کہنا ان کا حق بنتا ہے کیوں کہ وہ بھی ان کو ڈیزل کہنے سے باز نہیں آرہے ۔

بہرحال ایسوں کا علاج ایسا ہی ہوتا ہے جو اچھی روائت تو بہرحال نہیں ہے مگر پی ڈی ایم نے اب بوجوہ مجبوری وہی جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جو تحریک انصاف کا ہے ۔ انہوں نے مزید حکیم ثناء اللہ کی گولیوں کا بھی ذکر کیا جس کو ایک مزاح کا رنگ بھی دیا جاسکتا ہے مگر شہباز شریف کو یہ کہنا کہ وہ غیر ضروری شریف بنے ہوئے ہیں کچھ عجیب ضرور ہے کیوں کہ شریف تو ان کے نام کا حصہ ہے تو اس کے اثرات کردار میں بھی تو ہونے چاہیں ۔

لیکن یہاں ہوسکتا ہے انہوں نے شہباز شریف کا نام لے کر پی ڈی ایم کی پالیسی کا اظہار اور اپنے غصے کا اظہار کرنا چاہا ہو جو پہلے کچھ مصلحتوں کی نظر تھا مگر اب اپنے ہی غلط فیصلوں سے اپنا ہی بھٹہ بھٹا کرضمنی الیکشنز کے نتائج ان کو پریشان کئے ہوئے ہیں ۔ اب وہ حتی الوسع انتخابات کو لیٹ کرنا چاہتے ہونگے تاکہ عوام کا درجہ حرارت کچھ کم ہوجائے ۔

مگر چونکہ یہ درجہ حرارت تحریک انصاف کے حق میں ہے لہذا وہ اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔ تو اس طرح یہ اب سیاست کے ساتھ ساتھ جارحیت کے مقابلے کا بھی ماحول بن رہا ہے جو کسی بھی صورت میں کسی کے بھی حق میں نہیں ۔ لہذا تحریک انصاف کو بھی حکیم کی گولیوں کا مقابلہ حکمت سے ہی کرنا چاہیے اور اپنے رویے کو اب بدلنا چاہیے ۔

کیوںکہ ایم این ایز ہوسٹلز ، لاہور ہائی کورٹ اور پھر میریٹ جیسے واقعات سے ان کو اندازہ ہوجانا چاہیے کہ جارحیت کے مقابلوں سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں اور احتجاجات کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ہمارا قومی اخلاق احتجاج کی سیاست کو وہ مقام نہیں دیتا جو ایک جمہوری ریاست کے اندر ہونا چاہیے اور اس میں تحریک انصاف کی چار سالہ تاریخ بھی قابل رشک نہیں ۔ اپوزیشن کے احتجاجوں کو کوئی اہمیت نہیں دی ، صحافیوں پر تشدد ہوا ، اغوا ہوئے اور گولیاں چلائی گئیں ۔

ویسے تو عمراں خان صحافیوں بارے کسی بھی طرح کے عمل دخل سے انکاری ہیں مگر ایک سربراہ کے طور پر  اپنے آپ کو اس طرح سے بری الزمہ کرار دے لینا  بھی آسان نہیں ۔ یہ تو ان کی ایک ادائے سیاست ہے جس میں یو ٹرن ایک اہم خصوصیت ہے لہذا ان کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا اور نہ ہی ان کے بارے کوئی ٹھوس نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اور شائد اسی لئے انکا وہ صفحہ بھی پھٹ گیا ہے جس کے بلبوتے پر انہوں نے پونے چار سال نکالے ہیں اور اب  ان سے ہی گلہ اوپر سے سونے پہ سہاگہ

بہرحال اب سب سیاستدانوں کو صحیح والی اعلیٰ طرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمکش کی سیاست کو ختم کرنا چاہیے اور سنجیدگی اور پختگی کے ساتھ اس  کا آئینی حل ڈھونڈنا چاہیے تاکہ ملکی کی معیشت اور سلامتی خطرے سے باہر نکل سکے کیونکہ ملک مضبوط  ہوگا تو ان کے سیاسی بکھیڑوں کو برداشت کر سکے گا

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین