سوچ کی غذا

‏supreme court decision لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏supreme court decision لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔

وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔ 

انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔

 انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ  اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی  نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔ 

انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو

درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔  اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔ 

اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔ 

اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 

جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔

ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے

لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔

جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔

کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔

عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو  جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ 

نا اہلی  اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟ 

سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔ 

ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔ 

شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی  اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔ 

مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر  بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں  انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔

لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔

یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔    

مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔



اتوار، 22 ستمبر، 2024

ججز کمیٹی سے متعلق نیا آرڈیننس سپریم کورٹ کے بندوبست کی نئی کوشش ہے

 


حکومت نے سپریم کورٹ کے معاملات کے متعلق آرڈیننس جاری کر کے بظاہر یوں لگتا ہے کہ کسی خاص بندوبست کا انتظام کیا ہے جس میں خاص طور پر پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184(3) کے کیسز کی سماعت کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں چیف جسٹس کے ساتھ دو سنئیرترین ججز شامل کئے گئے تھے جو یہ طے کریں گے کہ کون سا مقدمہ کس بنچ کے سامنے سماعت کے لئے لگایا جائے گا۔ جس کو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے معطل کر دیا تھا اور بعد میں قاضی فائز عیسیٰ کے چیف کے اختیارات سنبھالنے کے بعد اس مقدمے کی براہ راست فل کورٹ بنچ میں سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا کہ پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین کو عدالت ختم نہیں کر سکتی جس پر قاضی فائز عیسیٰ کو بہت سراہا گیا تھا لیکن اب اس کمیٹی میں آرڈینینس کے زریعے سے

دو سنئیر ترین ججز کی بجائے ایک سنئیر ترین جج کے علاوہ تیسرا جج چیف جسٹس کی مرضی کا شامل کیا جائے گا۔ جو پرانے چیف جسٹس کے اختیارات کی ایک جدید قسم کہا جا سکتا ہے کہ اب چیف جسٹس تنہا نہیں بلکہ ایک اپنے ہی ہم خیال جج کی ساتھ رائے کو شامل کر کے مقدمات پر فیصلوں کے بندوبست کی راہ ہموار کرے گا۔

اس آرڈیننس میں کچھ مثبت چیزیں بھی متعارف کروائی گئی ہیں جن میں مقدمات کی سماعت کا ترتیب سے کیا جانا،  184(3)  کے تحت دائر پٹیشنز کا مفادعامہ کے تحت ہونےپر سماعت اس پر اپیل اور سپریم کورٹ کی کاروائی کی سکرپٹ کا تیار کرنا خوش آئیند بات ہیں ان سے یقیناً سپریم کورٹ کے فیصلوں میں شفافیت آئے گی مگر اس میں کمیٹی کے متعلق رکھے گئے جز نے اس آرڈیننس کے پیچھے چھپے کسی خاص مقصد، خوف یا بندوبست کی کوشش کی طرف اشارہ دیا ہے جو یقیناً حکومت کی اخلاقی کمزوری ہے جس میں مبینہ طور پر عدالت عظمیٰ پر چیف جسٹس کے زریعے سے اپنی من مرضی کروانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ہی چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور پارلیمان کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ان پر عدم اعتماد کیا جارہا تھا جس کو اس آرڈنینس سے مزید تقویت ملی ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کے بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کے بندوبست کئے جاتے رہے ہیں اور ہم خیال ججز کا بنچ بنتے ہی فیصلے بارے پشینگوئیاں ہونی شروع ہو جاتی تھیں جو بعد میں سچ بھی ثابت ہوتی تھیں اور یوں سپریم کورٹ کے فیصلے اپنی اہمیت کھو بیٹھے تھے اور اگر پھر سے دوبارہ حکومت 184(3) کے تحت دائر کی گئی پٹیشنز پر مرضی کے بنچز بنوا کر فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی تو اس سے نہ صرف حکومت بلکہ عدلیہ کے متعلق پھر سے منفی تاثر پیدا ہوگا۔

اس صورتحال کے ججز خود بھی ذمہ دار ہیں کیوں کہ ججز کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابسطگی اور فیصلوں میں ان کی طرفداری سے ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے تک جاری رہا اور ایک خاص مقصد کے تحت ججز کی بھرتیاں، تعیناتیاں اور ترقیاں کی جاتی رہیں جس سے سپریم کورٹ کے اندر ہم خیال ججز کے گروپس کی تقسیم اور تفریق کے الزمات لگائے جاتے رہےاور ادارے کے اندر ججز کی آپس میں محازآرائی تک نوبت پہنچ گئی اور اس کی بنیاد کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ججز کے روابط کی وڈیوز بھی لیک ہوئیں اور ان کے بنچز پر اعتراضات اٹھائے جاتے رہے مگر انہوں نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا بلکہ ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ ججز کو حکومتیں بنانے اور ختم کرنے کے لئے آئین کی تشریحات میں تضاد پر مبنی فیصلے جاری کرنے پڑے جو عدلیہ کی تاریخ کا ایک بدترین مذاق بنا اور یوں آخر کار اس مرضی کے پنچز کی تشکیل سے فیصلے حاصل کرنے کے بندوبست کو توڑنے اور شفافیت لانے کے لئے بنچز کی تشکیل کے لئے کمیٹی بنائی گئی جس کو ہر سطح پر سراہا گیا مگر اب اسی کمیٹی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لئے آرڈینینس کا سہارا لیا جا رہا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خرابی کی اصل وجہ آئین، قانون یا پروسیجرز نہیں بلکہ ہماری اخلاقیات ہیں کہ ہم فیصلوں کو آئین و قانون، میرٹ اور شفافیت کے تحت کرنا اور ہوتا ہوا دیکھنا ہی نہیں چاہتے بلکہ ہمیں اپنے مفادات ان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں اور حالات کے مطابق ہمیں اپنے مفادات کی خاطر آئین میں ترامیم کرکے کبھی پروسیجرز کی تبدیلی کے زریعے سے تو کبھی سربراہ کی تبدیلی کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس کو کسی اچھی سوچ کے تحت کسی خاص سوچ یا وابسطگی رکھنے والوں کی طاقت کو کم کرنا بھی نیت ہو تو بھی اس کو پائیدار حل نہیں کہا جا سکتا۔

اس سارے ماجرے کے پیچھے ہماری قومی سطح پر سوچ و تربیت کا کردار تو ہے ہی مگر عدلیہ میں خرابی کی بنیادی وجہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی بھرتیوں کا طریقہ کار بھی ہے جس میں انکی تعلیمی صلاحیتوں اور کردار کو ملحوظ خاطر لانے کی بجائے ان کی سیاسی وابسطگیوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور ایسے ججز بھرتی کئے جاتے ہیں اور پھر ان کی سنیارٹی سے ہٹ کر سپریم کورٹ میں تعیناتی کی جاتی ہے جس کا مقصد ہی اس طرح کے بندوبست ہوتا ہے۔ جن ججز کی سیاسی وابسطگیاں ہوں ان سے غیر جانبدارانہ فیصلوں کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے پھر اس کے نتائج یہی نکلتے ہیں کہ ججز کی گروہ بندیاں ہوتی ہیں اور کوئی عمرانڈو جج کہلاتا ہے تو کوئی ہم خیال اب اس نئے آرڈینینس کے بعد یقیناً ججز کے گروہ کی کوئی نئی اصطلاح متعارف ہوگی اور انصاف اور ادارے کا ایک اور مذاق بنے گی۔

ادارے کی ساکھ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ججز پر آتی ہے انکو تعصب، وابسطگیوں اور جانبداری سے ماورا فیصلے دے کر اپنے ساتھ لگے ہوئے القابات اور اپنے اوپر اٹھائے جانے والے الزامات، خدشات اور سولات کا جواب اپنے فیصلوں کے زریعے سے دے کر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ جب وہ کسی بنچ کا حصہ بن کر مقدمہ سن رہے ہوتے ہیں تو ان کے تعلقات، پسند نا پسند اور طرفداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہی ہو سکتا اور ان کے فیصلے ان کی جگہ بول رہے ہوں۔ جب وہ میرٹ پر بلا خوف و وابسطگی آئین و قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ان سے ان پر لگائے گئے وابسطگی کے الزامات والوں کے خلاف فیصلے کریں گے تو پھر ان کی ایمانداری کی ضمانت ان کے مخالفیں بن جائیں گے اور اگر وہ اپنے تعلق والوں کو اپنے فیصلوں سے خوش کرتے رہیں گے تو پھر کل ان کی غیر جانبداری ایمانداری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کی گواہی ان کے اپنے بھی نہیں دے سکیں گے کیونکہ جب وہ ان سے اپنے فیصلوں کا تھوڑا سا بھی رخ بدلیں گے تو وہ ان کو آڑے ہاتھوں لیں گے اور وہ خود ہی ان کی نا انصافیوں اور جانبداریوں کے ڈھنڈورے پیٹنے لگیں گے اور یہی سب کچھ ہمارے اداروں کے معاملات میں ہوتا رہا ہے جس سے ادارے آج اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں اور اگر ساکھ اندر سے خراب ہوئی ہے تو اسی کی بحالی بھی اندر ہی سے ممکن ہے جس کی واحد شرط اپنے آئینی حلف کی پاسداری ہے۔

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ججز کے خط سے کھلنے والے پنڈورا باکس سے کیا کچھ نکلے گا؟

 

اب یہ جو ججز پر دباؤ کا معاملہ ہے یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے کبھی اسلام آباد میں پولیس اصلاحات سے قبل اسلام آباد ٹریفک پولیس کے منتظمین جناح اور جمہوریت کے نام پر منسوب شاہراہوں کے سنگم میں چوک  جسے ڈی چوک اور انصاف کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور فیصل ایوینو چوک میں کھڑے مال اکٹھا کر رہے ہوتے تھے، ان کی پینٹوں کی جیبیں پھٹ کر نوٹ باہر جھانک رہے ہوتے تھے اور حیرت کی بات ہے کہ یہاں سے پاکستان کی ساری مقتدرہ گزر کر کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر واقع انصاف اور جمہوریت کے نام پر قائم ایوان زیریں و بالا اور انصاف کے ایوانوں میں جاتے تھے جن میں وزیراعظم، صدر پاکستان، چیف جسٹس، چیف آف آرمی سٹاف، پولیس کے محکمے کے سربراہ اور اینٹی کرپشن  محکمے کے اہلکار کسی کو وہ رشوت ستانی نظر نہیں آتی تھی۔ ایسا ہی معاملہ مجھے تو یہ عدلیہ کے ججز پر دباؤ والا بھی لگتا ہے گویا پہلے تو یہ کسی کے علم میں ہی نہیں تھا اور اب ججز کے خطوط سے اس پر یوں شوروغوغا شروع ہوگیا ہے جیسے کوئی بہت بڑی انہونی ہوگئی ہے۔

ہاں پہلے والا عدالتی اور سیاسی کلچر کچھ اس طرح کا تھا جس میں سرگوشیوں میں ایسی  باتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس کلچر سے بغاوت کرتے ہوئے بار روم میں یہ بھانڈا پھوڑ دیا جس کے بعد جو انکے ساتھ ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ ان کے اپنے ہی ججز ساتھی جنہوں نے بقول انکے اس مروجہ ثقافت سے انحراف کے پیش نظر ان سے سوشل بائیکاٹ کر دیا اور یہی لوگ ان کوعہدے سے بھی فارغ کرنے کے نظام انصاف کا حصہ تھے۔ اس کے نتائج یہ نکلے کہ ایک  کا ہندسہ چھ میں بدل گیا اور آج جب شوکت عزیز صدیقی کئی سال کے بعد اپنی مراعات کے حقدار بن چکے ہیں تو  یہ لوگ اب ان کے لگائے گئے الزامات کی تحقیق کا مطالبہ کر رہے ہیں "بدلتا ہے آسمان رنگ کیسے کیسے" جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ذاتی مشکلات کے مدنظر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے موقف کی تائید کرنی پڑ رہی ہے جس کا وہ پہلے مذاق اڑاتے رہے ہیں بلکہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے تو ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ "روندی یاراں نوں ناں لے لے کے بھراواں دا"  اگر یہ چھ اس وقت اس معاملے کو سنجیدہ لیتے تو شائد آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور نہ ہی ہمارے نظام عدل کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس طرح کی خبروں سے قوموں کے چہرے کس قدر مسخ ہوتے ہیں اور تشخص سے اس کے بد نماداغ مٹانے مشکل ہوجاتے ہیں۔

ججز اورحکومت کے مشورے کے بعد کمیشن ترتیب دیا گیا جس کی سربراہی کی تجویز بھی سپریم کورٹ نے دی تھی اور اس کے بعد میڈیا، وکلاء اور سیاستدانوں کی طرف سے اعتراضات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سپریم کورٹ کو سوؤموٹو لینا پڑگیا۔ اس ساری مشق کا فائدہ کیا ہوا؟ یہیں نہیں ملک کے انتظام انصرام میں ہر سطح پرقوم کی صلاحیتیں ایسی ہی فضول سرگرمیوں میں ضائع ہو رہی ہیں، وجہ کیا ہے؟ "اعتماد کا فقدان" اور مفادات کی حوس" ہر کوئی دوسرے پر شاکی ہے جیسے ججز پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں کبھی حاضر سروس جج ہونے پر تو کبھی ریٹائرڈ جج ہونے پر کبھی کمیشن کے ٹی او آرز پر تو کبھی سابقہ کمیشن کی رپورٹس پر استدلال کرتے ہوئے شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔

اگر غور کریں تو اس اعتماد کے فقدان کا اصل سبب ہی ججز، جرنیل ، بیورکریٹ ، سیاستدانوں کی اپنی سوچ اور ان کا عمل ہے۔ کیا جو ججز سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ رہے ہیں ان کو قانون ایسے دباؤ سے نمٹنے کا اختیار نہیں دیتا اور اگر وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس پر قابوپانے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں تو قصور دباؤ ڈالنے والے کا زیادہ ہے یا اس دباؤ کولینے والے کا۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے۔  کون آئینی و قانونی طور پر عہدے اور منصب کے لحاظ سےاس مسئلے کے حل کا ذمہ دار ہے؟ اگر ججز کو اپنے منصب اور رتبے کا احساس اور اندازہ ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔

کیا کوئی خفیہ مقتدرہ سے ہو یا وردی میں ملبوس اس دھرتی کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ دینے والے ذمہ داران سب  کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر قائم بڑے بڑے ایوانوں میں اپنی خفیہ اور ظاہر سرگرمیوں کی رپورٹس لے کر پیش نہیں ہوتے جن کے گواہ ان ایوانون میں  ایک پیج پر ہونے کے گونجتےنعرے ہیں جو اس پیج پر موجود شخصیات کے بدل جانے کے حالات  سےتذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی آپس کی بدشگونیوں کا بھی خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑ جاتا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی خواہ وہ جج ہو، سیاستدان یا خفیہ اداروں کا سربراہ ہو  ان معززین میں سے بہت سارے پورا سچ بولنے کے لئے تیار ہی نہیں اور آئین و قانون اور اختیارات میں سے جو بات اپنے مطلب، خواہش اور مقصد سے مواقفت رکھتی ہے اس کی تعریفیں اور پر چار شروع کر دیتے ہیں اور جو ناموافق پڑتی ہے اس پر شورو غوغا گونج اٹھتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اب سوؤ موٹو کے بعد معاملہ تھم جائے گا؟ اب بنچ میں بیٹھے ہوئے ججز پر اعتراضات نہیں اٹھیں گے بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھا بھی دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ انصاف کے معیار کا ہے جس پرتاریخ اعتماد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانونی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جانے والے کمیشن میں سپریم کورٹ کا ریٹارئرڈ جج ہوتے ہوئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر تمام اختیارات رکھتا ہوگا جس کے تحت وہ کسی بھی طرح کی معلومات کے لئے کسی کو بھی طلب کرنے یا ریکارڈ منگوانے کا مجاز ہوگا اور اپنے احکامات پر عملدارآمد کروانے کے لئے توہین عدالت کی کاروائی سمیت تمام اختیارات رکھتا ہوگا۔ اس لئے یہ خدشات اخذ کر لینا کہ ماضی کے کمیشنز کی طرح کچھ حاصل نہیں ہو گا انتہائی نا مناسب ہے اور اس طرح کے خدشات کا علاج تو آئین و قانون کے پاس بھی موجود نہیں سوائے، جرات اور اعلیٰ اخلاقیات کی پاسداری کے جسکی ذاتی مفادات اور خواہشات کی سوچیں رکھنے والوں سے امید نہیں کی جا سکتی جس کا ریٹائرڈ یا حاضر سروس ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

بلکہ میں سمجھاتا ہوں کہ جب خط میں موجودہ عدلیہ کے اندر ابھی بھی دباؤ کا تاثر دیا گیا ہے تو پھر عدلیہ کے اندر تو سپریم کورٹ بھی شامل ہے تو ایسے میں کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیق تو مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے تاکہ موجودہ عدلیہ میں سے اگر کوئی الزامات لگاتا ہے تو اس سے شواہد طلب کئے جا سکیں اور اگر حاضر سروس کوئی جج دباؤ کے تحت فیصلے کرنے میں ملوث پایا جاتا ہے تو پھر اس بارے حکومت رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج سکے اور اگر کوئی عدلیہ کے باہر سے دباؤ میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی کاروائی کو عمل میں لانے کی ہدایات جاری ہوں اور اسی طرح اگر کسی ادارے پر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو الزامات لگانے والے کے خلاف بھی تادیبی کاروائی کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خط کے مندرجات میں ایک انتہائی سنگین مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ججز پر دباؤ کی تو جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو کیا اسے نظام عدل میں ججز کی اپنی ہی زبانی انصاف کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑوں کی مخبری یا گواہی نہ سمجھا جا ئے جس کا آغاز جسٹس منیر اور جسٹس ارشاد حسن خان سے شروع ہوتا ہے اور اسی فہرست میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ نے حال ہی میں بھٹو کی سزا پر اپنے ادارے کی کوتاہیوں کو دھونے کی کوشش کی ہے۔  کیا اس سے ان کے عہدے اور منصب پر بھی سوال کھڑے نہیں ہوتے  جن کا انکو خود بھی احساس نہیں ہو رہا جس کی وجہ شائد ان کی تعیناتیوں کا طریقہ کار بھی ہے کہ وہ خود سیاست کی کوکھ سے جنم لئے ہوئے ہوتے ہیں جو بعد میں نہ صرف ان کی مجبوریاں بنتی ہیں بلکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹ کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے اختیارات کے استعمال کی سکت نہیں رکھتے ہوتے اور اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جج کا عہدہ اور منصب ہر طرح کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے بالا تر ہوتا ہے۔ اصل معاملہ محض دخل اندازی کا ہی نہیں بلکہ ججز کی کریڈیبلیٹی اور ان خدشات کی بنیاد پر ایک عام آدمی کے نظام انصاف پر اعتماد کا بھی ہے۔ اگر ججز دباؤ کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تو پھر ان سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے یا ان کا اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز کیسے باقی بچتا ہے۔

ہمارے ماضی قریب کے نظام عدل نے تو فلسفہ قانون کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جرائم کے پیچھے موٹو کا تو سنا ہوا تھا لیکن ان سالوں میں تو فیصلوں کے پیچھے بھی موٹو نظر آرہا ہوتا ہے۔ حالات سے یوں لگتا ہے کہ ججز پر دباؤ اصل مسئلہ نہیں بلکہ دباؤ کی موافقت دکھائی دے رہا ہے اور دباؤ بھی صرف ایجنسیز کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ماضی میں لیک ہونے والی وڈیوز میں ججز کے خاندان کے لوگ بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدانوں سے تعلقات بھی ہوتے ہیں اور جوڈیشری اور حکمرانوں کا ایک دوسرے سے مفادات کا لین دین بھی ہوتا ہے اور اب یہ سارا کچھ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے معاشرے کے معیار بھی فلسفہ قانون کے ساتھ ساتھ بدلے بدلے لگتے ہیں۔

قانون کی تشریحات بھی انہیں معاشرے کے معیاروں کی مطابقت سے بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ جس کی مثالیں حالیہ سالوں میں تو فراخدلی سے ملتی ہیں۔ ججز کے مذاج، حالات، حوالاجات، خواہشات حتیٰ کہ سوشل میڈیا کا بیانیہ بھی اب تو قانون کی تشریحات کے زرائعے کے طور پر دکھائی دیتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر بنائے گئے بنچز کے فیصلوں کی صحت پر اثرات تو کسی سے چھپے ڈھکے نہیں۔  ججز کے بدل جانے سے فیصلے بدل جاتے ہیں اور بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کی پشینگوئیاں ہونے لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ سو فیصد ٹھیک بھی نکلتی ہیں۔ انصاف بھی موسموں کی طرح بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہی واقعات، ملزمان اور شواہد ہوتے ہیں اورکبھی سزاؤں پر سزائیں سنائی جا رہی ہوتی ہیں تو پھر اچانک انصاف کا موسم ایسے بدلتا ہے کہ سزائیں بریت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

جہاں اتنے بڑے دباؤ ہوں تو کبھی کبھی دباؤ کے زرائعے کی آپس میں چپقلش بھی کوئی انہونی بات نہیں ۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ موسم بدلنے سے یہی دباؤ جو آج موافق نہیں پڑ رہا یکدم موافق پڑنا شروع ہو جائے۔ کیونکہ دباؤ کی موافقت کو قائم کرنے کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ججز کے خطوط کے بعد وکلاء کے خطوط شروع ہوگئے ہیں اور ان خطوط کی روشنی میں اداروں کی آراء بھی بدلنا شروع ہوگئی ہیں اور فیصلوں کے متن بھی موسموں کی تبدیلیوں کے اشارے دینے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ جو دباؤ کو  اچانک اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اس کے پچھے بھی کسی خاص موٹو کا شک ہو رہا ہےکیونکہ  سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اُس وقت اِس طرح کا کوئی دباؤ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر موجود تھا تو کیا وہ ان کے جانے کے بعد ختم ہو گیا تھا یا اسی دباؤ کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی قوم ان سے اس تحقیق کے دوران سچ بتانے کی توقع رکھتی ہے جس کے بغیر یہ تاثر  لیاجائے گا کہ وہ اپنی حیثیت کو مضبوط تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر جوابدہی کا ان کے اندر کوئی احساس موجود نہیں۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو  کیا اس سے ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کا حلف مشکوک نہیں ہو چکا؟ 

 خط  کو لکھنے کا وقت بھی کئی  خدشات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں مبینہ طور پر ایک سو کے قریب درخواستں دائر ہو چکی ہیں جن میں سے چند ان ججز کے خلاف بھی ہیں جس سے یہ تاثر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مقصد دباؤ اور بیرونی اثرات سے آزادی نہیں بلکہ حکومت، عدلیہ، اداروں اور سپریم جوڈیشل کونسل پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس خط کا یوں جوڈیشل کونسل کا رخ کرتے ہوئے میڈیا کے ہتھے چڑھ جانا بھی شکوک شبہات پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے جس کا جواب دینا بھی ججز کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اور ان سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب ان کا کام ہی انصاف کی فراہمی ہے تو انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا قانونی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

سپریم کورٹ میں کئی اور درخواستیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں سے ایک  مبینہ طور پر میاں داؤد ایڈووکیٹ کی بھی ہے جس  میں کچھ ایسے نقطے بھی اٹھا دئے گئے ہیں جو اس خط کو عدلیہ اور ملک کی عمومی سیاست سے جوڑنے کا منظر نامہ  پیش کر رہے ہیں جن کی پاکستان کی عدلیہ اور عدالتی رائے کے اصولوں کے اندر کوئی نظیر نہیں ملتی جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہی عمران خان کی ضمانت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں انکی طرف سے مستقبل میں کئے جانے والے تمام فرضی جرموں کی بھی پیشگی ضمانت دے دی گئی تھی اور اسی طرح کچھ لاہور ہائیکورٹ کے بھی فیصلے ہیں جن پر تحریک انصاف کی سہولت کاری کے الزامات پر آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں اور جن میں ایک فیصلہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد سے روکنے کا اسٹے آرڈر بھی تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اس پر سخت کمنٹس دیتے ہوئے انتخابات کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کو نا کام بنایا تھا جس سے ہائیکورٹس کو اس طرح کے سہولت کاری کے تاثر والے فیصلوں بارے محتاط انداز اپنانے پر مجبور کر دیا گیا تھا

ایسا بھی نہیں کہ ججز کے موقف کی تائید نہیں  ہو رہی جیسا کہ میڈیا پر ان کے موقف کو سراہا بھی جا رہا ہے اور اب تو اس خط کی حمائت میں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی طرف سے اعلامیے بھی جاری ہو چکے ہیں اور بعض سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست کو آکسیجن دینے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دے رہی ہیں۔ ججز نے اپنے فیصلوں پر دباؤکا اظہار کرکے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے بلکہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نے تو بانی تحریک انصاف کو دی جانے والی سزاؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جس کا یقیناً ان کو فائدہ ملے گا۔ تو ایسے منظرنامے میں یہ بھی دیکھنا ضروری نظر آتا ہے کہ ماضی میں اگر دباؤ تھا تو اس وقت اس کے بینیفشریز کون تھے اور آج اگر عدلیہ پر دباؤ ہے یا ججز اس خط کے زریعے سے اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے بینیفیشریز کون بنتے ہیں؟

ان الزامات میں ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر انتظامی اختیارات کی آڑ میں عدالتی رائے پر حاوی ہونے کی طرف اشارہ ہے جو دباؤ کا حصہ بن کر فیصلوں کو متاثر کرنےکی ایک مثال ہے جس کا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت عدالت عظمیٰ میں حل تلاش کیا گیا اسی طرح کی اصلاحات کا اطلاق ہائکورٹس پر بھی ہونا چاہیے تاکہ انصاف کو شفاف اور یقینی بنایا جاسکے۔ اختیارات سےصحیح اور جائز فائدے اٹھانے کے لئے اخلاقیات کا  گہرا تعلق ہوتا ہے اور جہاں اخلاقیات کمزور ہوں وہاں  اختیارات بے لگام ہو جاتے ہیں اور پھر قانونی اصلاحات کے زریعے سے بہتری کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اس صورتحال کا حل دخل اندازی کرنے والوں کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ  اس بات میں بھی ہے کہ ججز کی تعنیاتیوں میں نہ صرف جج کی تعلیم و تجربہ کو دیکھا جائے بلکہ ایسی شخصیات کو لیا جائے جن کے اندر اس عہدے اور منصب کی خواہش نہ ہو اور وہ اعلیٰ اخلاقیات کے مالک ہوں تاکہ اگر وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکیں تو کم از کم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے جائیں لیکن نا انصافی کا حصہ تو نہ بنیں۔ جب ججز خوف خدا کے تحت اپنے فیصلوں پر اپنے آپ کو خدا کے حضور جوابدہ سمجھنے والے ہونگے تویہ شکایات خود بخود ہی ختم ہوجائیں گی۔ جس طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اگر ماحول سے مدد نہیں ملی تو مشکلات بھی جھیلیں مگر کم از کم کسی کے ساتھ نا انصافی کاحصہ تو نہیں بنے۔ لیکن ماضی کے واقعات پر استدلال کرکے سبھی ججز کو الزامات کا نشانہ بنا دینا بھی جائز نہیں۔ آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے اس لئے بغیر شواہد کے الزامات کا بھی سلسلہ بند ہونا چاہیے اور یہ سب شفاف تحقیقات کے بعد ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کسی کو  خاص کر میڈیا کو ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے اداروں کے سربراہان ہر ایک کے الزام پر وضاحت تو جاری نہیں کر سکتے۔

اگر اس دباؤ کو وسیع منظرنامے میں دیکھا جائے تو یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ حکومت میں یا عدلیہ میں موجود لوگ جو اپنے ہی آئینی رتبے اور عہدے کے ماتحت سے ڈر کر انصاف نہ دے سکیں یا جوابدہی کا عمل یقینی نہ بنا سکیں تو ان پرایک خود مختار  جمہوری ریاست کے انتظامات محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے معززین جو طاقت کے نشے میں من مانیاں کرتے ہوئے ہر حد کراس کر جاتے ہیں ان کو سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ حب الوطنی اور ریاست سے وفا کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے معاملات کو چلانے کا معیار جو آئین نے متعین کیا ہوا ہے اس کو معتبر سمجھا جائے اور ریاست کے وسائل کو عوام اور ریاست کی امانت سمجھتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے استعمال کیا جائے نا کہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لئے اور ایسا کرنے والوں کی زندگیاں مکافات عمل کی صورت ہمارے سامنے ہیں اور اگر ہم اب بھی اس سے سبق حاصل نہیں کریں گے تو پھر قدرت کا اصلاح کا عمل ہر کسی کے لئے تکلیف دہ ہوگا اور اس کا دکھ صرف ہمیں ہی نہیں اگلی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا

۔

جمعہ، 15 جولائی، 2022

آئین کی عزت سے ہی ملک و قوم کی عزت ہے

 

آئینی اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کی ترغیبیں دینے والے سیاستدانوں نے ملک کے سب سے بڑے آئینی ، عوامی نمائندہ اور انتظامی ادارے پارلمنٹ اور ملکی انتظام انتصرام کے اعلیٰ عہدوں کی تضیک کی حدیں پار کردیں ۔ آئینی کا مذاق اڑایا اور پارلیمان کی رکھوالی کے منصب پر مامور سپیکر کو استعمال کرتے ہوئے  حکومت کو بچانے کے لئے ایک ایسا کھیل کیھلا جس کی جمہوری ادوار میں مثال نہیں ملتی ۔

اور پھر صرف یہ ہی نہیں بلکہ آئین کی حفاظت اور اپنے حلف کی پاسداری میں عدالتوں کے آئینی دائرہ اختیار کو بھی نظر انداز اوراس کا مذاق اڑایا گیا اور ابھی تک وہ روش اپنی جگہ پر قائم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس اخلاقی ، سیاسی اور آئینی بحران کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے  کاروائی کرکے پاکستان کو اخلاقی پستی کے شکار سیاستدانوں کی غیرآئینی اور غیر دانشمندانہ سرگرمیوں سے جان چھڑانے کے لئے اپنے حالیہ فیصلے میں حکومت اور پارلیمان کو  ایک واضح حکمت عملی وضع کرنے کا موقع فراہم کیا ہے تاکہ اس طرح کے خطرات کا مستقبل میں راستہ بند کیا جاسکے ۔

اب حکومت پر منحصر ہے کہ وہ آئین اور عدالت عالیہ کے رائے کی روشنی میں اقدامات اٹھا کر آئین ،جمہوریت اور قانون کی عملداری کو یقینی بناتی ہے یا پھر اس کوایک بار پھر اپنی سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ اب وقت ہے اداروں کو تقویت ، اعتماد اور ایک آخری انتباہ دینے کا کہ اب مزید سیاسی کھلواڑوں کی کوئی گنجائش نہیں ۔

آئین اور قانون کو اس کی روح کے مطابق حرکت میں لاکر نظام انصاف کو اپنی طاقت استعمال کرنے کا موقع دینا ہوگا تاکہ کوئی ایسی مثال بن سکے جو ماضی کے تمام طعنوں کو دھو سکے اور سات دہائیوں سے ہونے والی قومی بےوقوفیوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے ۔

اس ملک میں اگر ججز اور جرنیلوں کی مثالیں خوش آئیند نہیں تو سیاستدان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں لیکن اس کا مورد الزام اداروں کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور نہ ہی شخصیات کی غلطیوں کے ادارے جوابدہ ہیں البتہ اس پر اداروں کو اپنے عمل سے پشیمانی کا اظہار ضرور کرنا چاہیے جس کا طریقہ یہی ہے کہ ادارے اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں خدشات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس کے سدبات کے لئے کوئی لائحہ عمل بنانے میں ساتھ دیں ۔

اب پارلیمنٹ کو چاہیے کہ اداروں کی امامت کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے قانونی کاروائی کو عمل میں لائے لیکن اس میں ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس میں انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے اور کسی بھی قسم کے سیاسی انتقام کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں ہونی چاہیے ۔

 حکومت کو ایک بات کا انتہائی سنجیدگی سے خیال رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی عمل ایسا نہ ہو جس کو تاریخ کے کٹہرے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور حکومتی وزرا کو اپنی آراء دینے سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہیے اور ان کے بیانوں سے حکومت کی پالیسی کی جھلک ملنی چاہیے جس کے پیچھے کابینہ کے فیصلوں کی طاقت ہو وگرنہ یہ سیاسی کشیدگی کا سلسلہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا ۔  

تحریک انصاف نے اپنے خلاف ایک بہت بڑا محاذ کھول لیا ہے جس کا پس منظر سیاسی انتقام اور غیر آئینی اقدامات سے تو ہے ہی جس کا وہ اب خود ہی اعتراف کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں مگر زیادہ تراس کا تعلق ان کے رویوں سے ہے جس کا سلسلہ ابھی بھی نہ صرف جسلے جلوسوں میں بلکہ صدر ہاؤس سے بھی جاری ہے ۔

اتنی ساری الجھنوں کو شروع کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ جن حقائق کی بنیاد پر وہ سازشی خدشات کا اظہار کررہے ہیں ان حقائق کا حصہ وہ خود بھی رہے ہیں ۔ اور ثبوتوں میں جرم کے شواہد ہی نہیں اعتراف جرم کا بھی ساماں ہے ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سپیکر کی رولنگ کو کالعدم دیا جاچکا ہے اور سپریم کورٹ نے اصول وضع کردیا ہے کہ اکلیت اکثریت پر اپنے فیصلے نہیں ٹھونس سکتی اور جس رولنگ کے پیچھے پارلیمان کی طاقت نہ ہو اس کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ۔ مزید اضافی نوٹ میں صدر سابق وزیراعظم اور ڈپٹی سپیکر پر آرٹیکل کی دفعات کے لگنے کی رائے کا اظہار کوئی چھوٹی بات نہیں اور پھر سینٹ میں اس پر قراداد بھی جمع ہوچکی ہے جسے تحریک انصاف کو سنجیدہ لینا ہوگا ۔

اور اب رویوں کو بدلنے کا آخری موقعہ ہے جس کے آثار بحرحال نظر نہیں آرہے ۔ آج بھی فواد چوہدری کے رویے میں دھمکی آمیز انداز سے ان کے لئے مشکلات میں اور بھی اضافہ ہونے کے خدشات ہیں کیونکہ نرمی تب ہی ممکن ہوگی اگر الجھنوں میں کمی آئے وگرنہ پھر مصلحتیں ، محبتیں اور مفاہمتوں کی نیتیں کمزوری دکھنے لگتی ہیں اور اسی مشق نے حالات کو اس سنگینی تک پہنچایا ہے ۔ فواد چوہدری کی غیر سنجیدہ حرکتوں کا بہرحال خمیازہ تو اب محرک کرداروں کو ہی بھگتنا پڑے گا ۔

اچھی بات ہے اگر اس اسمبلی میں ایک فوجی ڈکٹیٹر پر غداری کا مقدمہ چلانے کی بات ہوئی اور اس پر کاروائی عمل میں لائی گئی تھی تو پھر سیاستدانوں کو بھی استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے اور یہی آئین کی روح کی منشاء ہے ۔ مگر میں پھر کہوں گا کہ اس میں انصاف اور غیر شفافیت ہونی ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتی ہوئی نظر بھی آنی چاہیے کیوںکہ یہ اسمبلی مستقل رہنے کی جگہ نہیں بلکہ یہاں شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں مستقل حکمرانی اگر ہے تو وہ آئین کی ہے اور اسی میں ہم سب کی بہتری کا راز پوشیدہ ہے ۔  

ماضی کے واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے اب جو بھی فیصلے ہوں سیاسی ہوں ، عدالتی ہوں یا ادارہ جاتی ان میں آئین کی عزت کے بارے رعایات کا پہلو قطعاً نہیں ہونا چاہیے ۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین