سوچ کی غذا

‏society لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏society لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 25 جنوری، 2026

فوج کے خلاف تعصب ملک دشمنی سے کم نہیں

مضبوط فوج اور آزاد ریاست کی قدر ان سے جانیں جو اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں یا ان کے پاس اپنی فوج نہیں تھی بلکہ ان کے اندر بھی ریاست اور فوج کے خلاف تعصب کی آگ بڑھکائی گئی اور آج اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔

دور کی بات نہیں ابھی ایک دہائی پہلے کی بات ہے جب لیبیا کی عوام ایک مثالی زندگی گزار رہی تھی اور پھر چند نام نہاد انسانی حقوق فوبیا کی شکار سول سوسائٹی کے نا عاقبت اندیشوں نے عالمی ایوارڈز اور ذاتی تشہیر کی حوس میں سوشل میڈیا پر تحریک چلا کر عوام کو حکومت کے خلاف بڑھکایا اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ آج تیرہ سال کے لگ بھگ ہونے والے ہیں ملک خانہ جنگی سے دوچار ہے اور قوم اچھے وقتوں کو یاد کر کے واپسی کے لئے ترس رہی ہے۔ ایسی ہی کئی دوسری مثالیں موجود ہیں جن کو  دہرانے کی ضرورت نہیں

ضرورت ہے تو ان سے سبق حاصل کرنے کی اور ایسے نام نہاد انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئنز یا ملک سے دور نا معلوم جگہوں پر چھپ کر ملک پر تعصباتی جنگ مسلط کرنے والے وی لاگرز جو شخصیت پرستی کی مرض کے شکار زیرو کارکردگی والوں کی حمائت میں ریاست کے خلاف سرد جنگ کا علم اٹھائے ہوئے ہیں ان کی چالوں کو سمجھ کر اپنے آپ کو ایسی سوچوں سے لا تعلق کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت عالمی سطح پر پزیرائی کی بنیاد سیاسی اور عسکری قیادت کی ڈپلومیسی اور جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستانی فوج کی بہادری کے قصے اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا  دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ 

ملک میں بہتری کی کوششوں سے انکار نہیں مگر یہ آئین و نظام کے اندر رہتے ہوئے کی جاتی ہیں اور ان کے اصل محرکات سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ہوتے ہیں جن کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا اور عوام کو خوشحالی دینا ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ ان کو خدمت کا موقع نہیں ملا بلکہ اس وقت بھی تمام کے پاس مرکز نہیں تو صوبائی سطح پر تو ابھی بھی اس کے نمونے پیش کرنے کا موقع موجود ہے۔ 

سندھ میں پیپلز پارٹی، کے پی میں تحریک انصاف اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے پاس حکومت ہے تو پھر کیوں ناں پہلے کارکردگی میں مقابلہ کے زریعے عوام میں پزیرائی حاصل کرتے ہوئے اگلے انتخابات کی تیاری کی جانی چاہیے جو اب زیادہ دور نہیں۔ اور اگر کسی کو اداروں کے خلاف تحفظات یا شکایات ہیں تو ان کو آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق موجود فورمز جن میں تمام صوبوں کو نمائندگی میسر ہے رکھے جائیں۔

اور جمہوریت کی یہ بھی خوبصورتی ہیں کہ اگر اختلافات کے با وجود اکثریتی فیصلہ کر لیا جائے تو پھر اس پر کار بند ہو کر اسے کامیابی سے ہم کنار کروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ اور ریاست اور اداروں کے خلاف تعصب کے تاثر کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی اس وقت پہلی ترجیح ہونی چاہیے جس کے لئے باقائدہ قومی سطح پر تحریک چلائی جانی چاہیے۔  تمام تر تعصبات کا خاتمہ انتہائی نا گزیر ہے۔

ریاست کی سطح پر کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کیس سٹڈی کی جانی چاہیے اور اس وقت جس طرح سے پاکستان پر اسلامی دنیا کا اعتماد بڑھا ہے اور وہ پاکستان کو اپنا بگ برادر کہہ رہے ہیں یہ ایک بے مثال کامیابی ہے۔ پاکستان جہاں ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہا ہے وہیں ان کے ساتھ عوامی اور ثقافتی سطح پر تقابلی پروگرام کئے جانے چاہیں جن میں ان ریاستوں میں استحکام کے خاتمے اور خانہ جنگی کا سبب بننے والے عوامل پر تحقیق اور ان کو دوسرے اسلامی ممالک یا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ریاستوں کے عوام کے اندر شعور اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ 

اگر ممکن ہو تو ریاستوں کے اندر باہمی ثقافتی ایکسچیج پروگرامز ترتیب دئے جائیں اور ملکوں کے اندر تعصبات پر مبنی نا پختہ سوچوں کے حامل لوگوں کو بھیجا جائے۔ وہ نہ صرف تبادلہ خیالات کر سکیں بلکہ وہاں رہ کر عملی طور پر مشکلات کا مشاہدہ کریں تاکہ ان کے اندر یہ احساس جاگے کہ آزاد ریاست اور مضبوط فوج کتنی بڑی اللہ کی نعمت ہے۔       

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔

وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔ 

انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔

 انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ  اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی  نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔ 

انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو

درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔  اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔ 

اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔ 

اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 

جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔

ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے

لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔

جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔

کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔

عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو  جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ 

نا اہلی  اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟ 

سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔ 

ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔ 

شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی  اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔ 

مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر  بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں  انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔

لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔

یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔    

مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔



پیر، 7 اکتوبر، 2024

معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

 

اس وقت ملک عدم برداشت اور انتہا پسندی کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ کہیں سیاست کے نام پر بد تہذیبی تو کہیں مذہب کے نام پر اپنی نفسیاتی کمزوریوں اور جاہلیت کو مذہبی جواز بنا کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش سے ملک و قوم کو معاشرتی بگاڑ کے ذریعے نا قابل تلافی نقصان کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

چند دن قبل سندھ سے ڈاکٹر شاہنواز کو توہین مذہب کے الزام کے بعد جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا اور اس کی لاش کو اس کا وارثان سے چھین کر بے لگام ہجوم کی طرف سے جلانا توہین مذہب کی آڑ میں توہین انسانیت کا ارتکاب ہے جو انتہائی قابل تشویش بیمار معاشرے کی علامت ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، دو ہفتے قبل کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ میں پولیس کی حفاظت میں ملزم کی جان کا دشمن قانون کا رکھوالا اہلکار ہی بن گیا تھا۔

ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو ایک ہجوم کی جانب سے تشدد کر کے قتل کر دیا گیا اور وہاں بھی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔

رواں برس ہی مئی میں سرگودھا کے علاقے مجاہد کالونی میں ایک فیکٹری کے باہر زمین پر گرے مقدس اوراق کی نشاندہی پر کچھ ہی گھنٹوں میں حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے۔ اس واقعے میں بھی ملزم ہجوم کے تشدد کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔

فروری میں لاہور میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون پر اچھرہ بازار میں دوران شاپنگ اس کے لباس پر ڈیزائن کی وجہ سے مشتعل ہجوم کی جانب سے توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون کے لباس کے پرنٹ پر قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔

اس صورت حال میں اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی کی جانب سے بروقت کارروائی نے صورت حال کو ناصرف بگڑنے سے بچایا بلکہ خاتون کو بھی مشتعل ہجوم سے بحفاظت نکالنا ممکن بنایا۔ یہ واقعہ تو معاشرتی جہالت کی ایک بدترین مثال ہے کہ ہحوم جس کی راہنمائی باریش نام نہاد دین کے ٹھیکیدار عربی حروف کو قرآن سمجھ کر انسانی جان لینے کے درپے تھے۔

اگست 2023 میں پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں توہین مذہب کے الزام میں مسیحی آبادی پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں مشتعل ہجوم نے متعدد گرجا گھروں اور مسیحی عبادت گاہوں کے علاوہ 86 مکانات کو آگ لگائی اور ان میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔

2021 میں اسی نوعیت کا واقعہ سیالکوٹ میں بھی پیش آیا تھا جب ایک فیکٹری میں بطور مینجر کام کرنے والے سری لنکن شہری پریانتھا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔

اسی طرح صوابی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ اور یونیورسٹی کے کچھ ملازمین پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ رسالت کے الزامات لگانے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

ان تمام توہین مذہب کے واقعات میں جو باتیں مشترک پائی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ان سانحات کی بنیاد غلط بیانی، غلط فہمی، اشتعال انگیزی، ذاتی رنجشیں اور بے بنیاد الزامات تھے جن میں ملزموں کو سنا تک نہیں گیا اور نا ہی ان کو اپنی وضاحت کا موقع دیا گیا جبکہ قانون اور انتظامی ادارے تحفظ دینے میں بری طرح ناکام رہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ صورت حال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے جس سے معاشرتی بگاڑ کی نشاندہی ہو رہی ہے اور اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ مرض گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ نہ لاشوں کو چھوڑا جاتا ہے اور نہ ہی قبروں کی حفاظت ممکن رہی ہے۔

سب سے بڑھ کر تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ کسی ملزم کو اپنی صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا گیا جو ریاست کے انتظامی امور میں ناکامی کی طرف اشارہ ہے۔ جب سزا یافتہ مجرموں کے گلے میں ہار ڈالے جائیں، ان کی قبروں پر دربار بن جائیں اور لوگ وہاں پھولوں کی چادریں چڑھانا شروع کر دیں تو پھر ریاست کے انتظامات، حکومت کی رٹ اور عدالتوں کے نظام انصاف پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں جس کا لا محالہ شہریوں کی نفسیات پر بھی اثر پڑتا ہے اور ان کے دلوں میں ریاست اور اس کے اداروں کی عظمت اور عزت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سیاسی اور مذہبی قائدین کے رویے اس حد تک غیرذمہ دارانہ ہو چکے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر قومی تشخص کو خراب کر رہے ہیں۔ جیسا کہ چند روز قبل ڈنمارک کی ایک عدالت کی طرف سے پاکستان کے دو مذہبی راہنماؤں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ جب سفارتی آداب اور قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے اداروں کے اہلکاروں اور سربراہان پر قتل کے فتوے صادر کرنا شروع کر دیے جائیں تو پھر ان کی سزاؤں کے لئے گواہیوں اور ثبوتوں کا سامان ان کی اپنی جذبات سے بھری حواس باختہ بڑھکیں ہی بن جاتی ہیں جن میں وہ قتل و غارت کو دین اور سیاست کے نام پر دوش دے رہے ہوتے ہیں۔ جوش خطابت میں ان کو نہ اپنی قومی اور مذہبی ذمہ داریوں کے تقاضوں کا احساس رہتا ہے، نہ دوسروں کے حقوق اور انصاف کے اصولوں کا تو پھر وہ نا صرف اپنی سزاؤں کے ثبوت فراہم کر رہے ہوتے ہیں بلکہ قومی تشخص کی تباہی کا بھی سبب بن جاتے ہیں۔

اقلیتیں تو پہلے ہی عدم برداشت اور انتہا پسندی والے رویوں سے انتہائی خائف تھیں، اب تو الزام تراشیوں کا رجحان اکثریتی مذہب اسلام کے اپنے ماننے والوں کے لئے بھی وبال جان بن چکا ہے۔ واقعات اور حقائق کی روشنی میں اگر اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق مذہبی پہلوؤں سے نہیں بلکہ تنزلی کا شکار ہماری اخلاقیات سے ہے جو ہمیں ایسے نا سمجھی اور جہالت کی طرز پر سانحات کا شکار کر رہے ہیں۔

یہ انتہا پسندی مذہبی حلقوں میں ہی نہیں، سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین سول نافرمانی کی تحریکیں چلاتے ہوئے شہریوں کو لے کر اداروں اور قومی املاک پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ترغیبیں اور ہلا شیری کو سیاسی اور جمہوری جدوجہد کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ریاستی وسائل شہریوں کے امن و سلامتی پر استعمال ہونے کی بجائے سیاسی اور ذاتی مفادات، انتقامی معاملات اور باہمی اختلافات کے لئے استعمال ہونا شروع ہیں۔

پھر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دے، پولیس ایسے ملزمان کو جعلی مقابلوں میں مارنا شروع کر دے، سرکاری عہدے داروں کی حفاظت پر مامور ریاست کے سکیورٹی ملازمین ہی ان کی جان لینے کے درپے ہو جائیں تو ایسے میں سیاسی استحکام کے لئے قانون سازیوں یا اس پر عمل درآمد سے زیادہ اس کی وجوہات پر تحقیق اور معاشرے کے نفسیاتی علاج سے معاشرے کی مثبت تشکیل کی طرف توجہ دے کر عدم برداشت کے رویے کی اصلاح کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تاکہ قانون، عمل درآمد کرنے والے اداروں اور عدالتوں سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کا ماحول پیدا کر کے عدم استحکام کی وجوہات کو ختم کیا جا سکے۔

عوامی نفسیات کی اصلاح کی غرض سے ان کے شعور میں گھس کر ان کی سوچ اور خواہشات پر سزا و جزا کے خوف کا قدغن لگانا پڑے گا تاکہ وہ ان انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے لئے آئین، قانون اور انتظامی امور میں اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس میں انتہا پسندی کی وضاحت کر کے اس کے لئے قانون کو حرکت میں لانا ہوگا اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی رجسٹریشن کے اداروں کو یہ اختیارات دینا ہوں گے کہ اس طرح کے سانحات میں ملوث لوگوں کا اگر کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق بنتا ہے تو ان کو خبردار کرنے کے لئے ان کو تنبیہ کے طور پر ان کی رجسٹریشن پر سرخ نشان لگا دیا جائے جس کا وہ اپنے جھنڈوں اور دوسرے لٹریچرز پر ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے تاکہ عوام کو یہ پتہ چلے کہ اس جماعت کے کارکنان انتہا پسندی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

جہاں عوام کے سیاسی الحاق اور جماعتوں کی مقبولیت کے لئے سروے کروائے جاتے ہیں وہاں یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ کون سی سیاسی جماعت جمہوریت اور کون سی مذہبی جماعت مذہب کے نام پر عدم برداشت کو فروغ دینے میں ملوث ہے اور ان کی سرگرمیاں اور انسانی جانوں سے کھیلنے کا مکروہ فعل سیاست اور مذہب کو استعمال کر کے ملک و قوم اور مذہب کو بدنام کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

قومی سطح پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور علماء کی ایک کانفرنس بلائی جائے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں برداشت، بھائی چارے، رواداری، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت، قانون کی پاسداری، انتظامی امور میں ریاست کے سربراہ کی اطاعت پر محیط قومی سطح کا بیانیہ مرتب کیا جائے جس پر تمام مکاتب فکر کی تائید کا تاثر موجود ہو اور اسے قومی نشریاتی اداروں کے ذریعے سے عام کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے اور اگر اس کے بر خلاف کسی علاقے سے عوام کو بھڑکانے یا ان کے ذہنوں کو خراب کرنے کی رپورٹس ملتی ہیں تو ایسے مولوی، عالم یا سیاسی قائد کی امامت، خطابت یا عوامی اجتماعات سے خطاب پر مستقل پابندی لگا دی جائے تاکہ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی خرابیوں کا بر وقت کوئی محاسبہ کیا جا سکے اور پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتا تو اس کو پابند سلاسل کر دینا چاہیے۔

اس انتہا پسندی کے ماحول اور سوچوں کی فوری تحقیقات کے لئے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کی خصوصی تحقیاتی ٹیمیں بنائی جائیں جو جائے وقوعہ پر جا کر حقائق کی تہہ تک پہنچیں اور مؤثر اور تیز رفتار انصاف کی فراہمی کے لئے مقدمات کی کارروائی کے لئے وسیع تجربہ رکھنے والے ججز پر مشتمل ایک سپیشل عدالت قائم کی جائے جو روزانہ کی بنیاد پر براہ راست نشریات کے ساتھ ان مقدمات کی سماعت کرے اور اس کے فیصلوں پر فوری عمل درآمد بھی ہو تاکہ ایسے سانحات میں ملوث لوگوں کو عبرت اور معاشرے کے اندر خوف پیدا کر کے سدباب کو ممکن بنانے کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔


ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین