اس سے قبل صورتِ حال یہ تھی کہ دنیا عالمی اور بالخصوص علاقائی سطح پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو ہی اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتی تھی، اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا کوئی متبادل نظر نہیں آتا تھا۔ مشترکہ نظریات، ضروریات اور تحفظات کے باوجود، پاکستان کی معاشی مشکلات کے باعث کئی اسلامی ممالک بھی اسے نظر انداز کر کے بھارت سے تعلقات استوار کرنا اپنی مجبوری سمجھتے تھے۔ ان میں سعودی عرب، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی دیگر ریاستیں بھی شامل تھیں۔
- یہ دھرتی ہم سے پوچھتی ہے
- حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے
- قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں
- ہمارا قومی تشخص عالمی تناظر میں
- ترقی ، کامیابی اور اس کا راز
- ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟
- عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا
- عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے
- معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی
- سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟
- قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
کامیاب انسانی ماڈل
سوچ کی غذا
ہفتہ، 8 اگست، 2026
نئی عالمی صف بندی میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار
منگل، 3 مارچ، 2026
کیا کوئی سرخ لکیر کھینچ پائے گا؟
اس موجودہ جنگ جسے ایران پر اسرائیل کی یلغار کہا جا رہا ہے جو کافی حد تک ٹھیک اس لئے ہے کہ مذاکرات کے دوران شروع کی گئی جس کا چند سالوں سے ایک تسلسل جاری ہے مگر اس سے اسلامی دنیا اور بالخصوص مشرق وسطیٰ نے کوئی سبق نہیں سیکھا یا پھر وہ اپنی علمی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں محرومیوں کے سامنے بے بس ہیں سب اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ ان کے دلوں کی حالت کو بھی اس ایمان کا درجہ نہیں کہا جا سکتا جس پر اللہ کی مدد اترنے کے وعدے ہیں۔
اور اِس کی سب سے بڑی وجہ نظریات کے اندر تفرقہ اور قول و فعل میں تضاد ہے جو ان کو مزید کمزور کرتا چلا جا رہا ہے۔ اور جب تک ان کے معاملات اسلامی تعلیمات کی کَسوٹی پر پورے نہیں اترتے اس وقت تک اس آزمائش سے سرخرو ہونے کی کوئی امید لگانا بھی بیکار ہے۔
مگر اس یلغار کے سامنے ایران کی للکار میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ للکار اِس وقت امت مسلمہ میں ایک ولولہ بن کر ابھر رہی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جذبوں اور ولولوں سے کیا اس یلغار کے سامنے کو سرخ لکیر کِھچ پائے گا یا نہیں؟
اس نقطے کو سمجھنے کے لئے صورتحال کے کچھ دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کرنا پڑے گا جو انتہائی توجہ طلب اور اہمیت کے حامل ہیں جن میں سب سے پہلا ہے امریکہ اور اسرائیل کی بالا دستی کی جنگ جو پوری دنیا بشمول یورپ، روس اور چین کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ابھی بھی معیشت اور ٹیکنالوجی میں ان کا کوئی ہمسر نہیں
روس تو ابھی اپنی اُس کھوئی ہوئی طاقت کو بھی یکجا نہیں کر پایا جو اس نے گرم پانیوں پر پہنچنے کے خواب میں گنوائی تھی جس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ جنگ محض نظریات کی نہیں یا اسلام کو اسرائیل اور امریکہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوں یا اس سے اسلامی ممالک کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہو کہ ان کو ملکر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔
انہیں ہر اس قوت سے خطرہ ہے جو ان کی بالا دستی کو چیلنج کرے اور اس وقت چین وہ خاموش تحریک ہے جس سے وہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور یہ طاقت کا استعمال اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک اس کو توازن کرنے کے لئے کوئی واضح لکیر نہیں کھینچ دی جاتی۔
یہ کوشش اس دنیا کے وجود میں آنے سے جاری ہے اور رہے گی لیکن شائد اس محرکے میں کسی حد تک کوئی حد مقرر ہو جائے۔ چین کے آڑے ابھی معاشی مصلحتیں بھی ہیں مگر اس کے با وجود وہ اپنی جنگی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کا جہاں بھی موقع ملے اس کی نمائی کا فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔ ابھی بھی اس کا ایران کی حمائت میں واضح بیان سامنے آیا ہے جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صورتحال کے تھمنے میں یقیناً کوئی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی
جہاں تک جس کے مفادات کو ضرب لگے وہ صلاحیت رکھتا ہو تو ضرور اس پر اپنا اظہار بھی کرتا ہے اور اس کو دنیا اکنالج بھی کرتی ہے جس طرح سے پاکستان کو پزیرائی ملی ہے لیکن اپنی بقاء کی جنگ ہر کسی نے خود ہی لڑنی ہوتی ہے اور پرائی آگ میں کوئی نہیں کودتا۔ اور یہ بالا دستی اور طاقت کی جنگ بھی ایک کوشش مسلسل ہے اور یہ کئی ملکوں کی کمائی کا زریعہ بھی ہے لہذا اس کے بالکل رک جانے کا تصور تو ممکن ہیں نہیں۔
ویسے بھی یہ بالا دستی اور طاقت بھی دوسرے عوامل کی طرح ارتقائی عمل ہے جس میں نئی نئی ایجادات کا مظاہرہ کر کے اس کی مارکیٹنگ بھی ضروری ہے اور جنگی سازو سامان کی فروخت بھی تو جنگوں کے سلسلوں سے ہی جڑی ہوئی ہے وہ خواہ طاقت کی دہاک بٹھانے کے لئے ہو یا اس کے سامنے سینہ تان کر امن کی کوششوں کا نوبل ایکشن۔
ایٹم کی صلاحیت ہو یا اس کو روک کر دنیا کو امن بخشنے کا بھاشن سبھی اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کے بہانے ہیں اور یہ ایٹمی صلاحیت بھی پچھلی صدی کا ایک ہتھیار تھا اب تو شائد دفاعی ٹیکنالوجی کی ارتقاء کا عمل اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہو اور اپنے وجود کے اظہار کے لئے شیطانی خواہشوں کے ہاتھوں مجبور انسانی تباہی کے کسی موقعے کی تلاش میں ہو۔
ایران کادعویٰ ہے کہ وہ جنگ جیت چکا ہے جو ٹھیک اس لئے لگتی ہے کہ اس نے اپنی صلاحیت سے بڑھ کر جرات دکھائی ہے قطع نظر اس کے کہ مدمقابل ہارے یا جیتے کیونکہ جیت جرات کا نام ہے بقاء اور فنا کا نہیں بالکل اسطرح جیسے مئی 2025 میں پاکستان نے اپنی جرات اور صلاحتیوں کو دنیا پر آشکار کرکے توپوں میں پٹاخوں والی سکت بھی نہیں چھوڑی اور اس وقت پاکستان جب افغانستان کی سرحد پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو ہندوستان کی سرحدوں پر پاکستان کے خوف کی دھاک پہرے دے رہی ہے اور مجال ہے کسی کی کوئی اونچا کھانسے بھی۔
اور جو ایران کے بعد پاکستان کی باری کی نا پختہ سوچ رکھتے ہیں ان کے لئے ہندوستان کی حالت زار ایک خاموش پیغام ہے اور اس کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنی سوچ اور صلاحتیوں کے سامنے ایسی باتوں کو کوئی وزن نہیں دیتے اور پاکستان اللہ کے فضل اور قومی یکجہتی کی قوت کے ساتھ ایسے کئی خطرات کا عملی طور پر سد باب بھی کر چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔
اتوار، 25 جنوری، 2026
فوج کے خلاف تعصب ملک دشمنی سے کم نہیں
دور کی بات نہیں ابھی ایک دہائی پہلے کی بات ہے جب لیبیا کی عوام ایک مثالی زندگی گزار رہی تھی اور پھر چند نام نہاد انسانی حقوق فوبیا کی شکار سول سوسائٹی کے نا عاقبت اندیشوں نے عالمی ایوارڈز اور ذاتی تشہیر کی حوس میں سوشل میڈیا پر تحریک چلا کر عوام کو حکومت کے خلاف بڑھکایا اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ آج تیرہ سال کے لگ بھگ ہونے والے ہیں ملک خانہ جنگی سے دوچار ہے اور قوم اچھے وقتوں کو یاد کر کے واپسی کے لئے ترس رہی ہے۔ ایسی ہی کئی دوسری مثالیں موجود ہیں جن کو دہرانے کی ضرورت نہیں
ضرورت ہے تو ان سے سبق حاصل کرنے کی اور ایسے نام نہاد انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئنز یا ملک سے دور نا معلوم جگہوں پر چھپ کر ملک پر تعصباتی جنگ مسلط کرنے والے وی لاگرز جو شخصیت پرستی کی مرض کے شکار زیرو کارکردگی والوں کی حمائت میں ریاست کے خلاف سرد جنگ کا علم اٹھائے ہوئے ہیں ان کی چالوں کو سمجھ کر اپنے آپ کو ایسی سوچوں سے لا تعلق کرنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت عالمی سطح پر پزیرائی کی بنیاد سیاسی اور عسکری قیادت کی ڈپلومیسی اور جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستانی فوج کی بہادری کے قصے اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
ملک میں بہتری کی کوششوں سے انکار نہیں مگر یہ آئین و نظام کے اندر رہتے ہوئے کی جاتی ہیں اور ان کے اصل محرکات سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ہوتے ہیں جن کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا اور عوام کو خوشحالی دینا ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ ان کو خدمت کا موقع نہیں ملا بلکہ اس وقت بھی تمام کے پاس مرکز نہیں تو صوبائی سطح پر تو ابھی بھی اس کے نمونے پیش کرنے کا موقع موجود ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی، کے پی میں تحریک انصاف اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے پاس حکومت ہے تو پھر کیوں ناں پہلے کارکردگی میں مقابلہ کے زریعے عوام میں پزیرائی حاصل کرتے ہوئے اگلے انتخابات کی تیاری کی جانی چاہیے جو اب زیادہ دور نہیں۔ اور اگر کسی کو اداروں کے خلاف تحفظات یا شکایات ہیں تو ان کو آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق موجود فورمز جن میں تمام صوبوں کو نمائندگی میسر ہے رکھے جائیں۔
اور جمہوریت کی یہ بھی خوبصورتی ہیں کہ اگر اختلافات کے با وجود اکثریتی فیصلہ کر لیا جائے تو پھر اس پر کار بند ہو کر اسے کامیابی سے ہم کنار کروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ اور ریاست اور اداروں کے خلاف تعصب کے تاثر کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی اس وقت پہلی ترجیح ہونی چاہیے جس کے لئے باقائدہ قومی سطح پر تحریک چلائی جانی چاہیے۔ تمام تر تعصبات کا خاتمہ انتہائی نا گزیر ہے۔
ریاست کی سطح پر کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کیس سٹڈی کی جانی چاہیے اور اس وقت جس طرح سے پاکستان پر اسلامی دنیا کا اعتماد بڑھا ہے اور وہ پاکستان کو اپنا بگ برادر کہہ رہے ہیں یہ ایک بے مثال کامیابی ہے۔ پاکستان جہاں ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رہا ہے وہیں ان کے ساتھ عوامی اور ثقافتی سطح پر تقابلی پروگرام کئے جانے چاہیں جن میں ان ریاستوں میں استحکام کے خاتمے اور خانہ جنگی کا سبب بننے والے عوامل پر تحقیق اور ان کو دوسرے اسلامی ممالک یا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ریاستوں کے عوام کے اندر شعور اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔
اگر ممکن ہو تو ریاستوں کے اندر باہمی ثقافتی ایکسچیج پروگرامز ترتیب دئے جائیں اور ملکوں کے اندر تعصبات پر مبنی نا پختہ سوچوں کے حامل لوگوں کو بھیجا جائے۔ وہ نہ صرف تبادلہ خیالات کر سکیں بلکہ وہاں رہ کر عملی طور پر مشکلات کا مشاہدہ کریں تاکہ ان کے اندر یہ احساس جاگے کہ آزاد ریاست اور مضبوط فوج کتنی بڑی اللہ کی نعمت ہے۔
منگل، 14 جنوری، 2025
معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف
کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج حکومتی سطح پر قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔ حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔
جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟
چلیں آپ کو اپنا ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔ بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔
مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔
بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور دیکھے۔
جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔
جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔
ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔
بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔
جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔
نظام کی اصلاح کی اصل ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ، سیاسی نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔
مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی
کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے
اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے
چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے
پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے
قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی
ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے
جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو
بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے
درندوں کو بھی دے گیا ہے مات
دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے
شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور
اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔
(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)
بدھ، 26 اکتوبر، 2022
عاصمہ جہانگیر کانفرنس آزادی اظہار رائے کا استعارہ ۔
یہ کانفرنس عاصمہ
جہانگیر کی وفات سے جاری ہے اور ہر سال اس کانفرنس میں انسانی حقوق کی آوازیں پہلے
سے زیادہ بلند ہوتی جارہی ہیں ۔ اور مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ عاصمہ جہانگیر کا مقصد
زندگی ان کی موت کے بعد اور بھی زیادہ سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔
کارنفرنس کے دنوں کا ماحول دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں انسانی حقوق کے
عملدار آواز حق کو بلند کرنے کے لئے اس
ساز گار ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلا خوف خوب دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔ ایسی
ایسی آوازوں کو موقعہ ملتا ہے جن کا بوجھ عام حالات میں میڈیا تو کیا سوشل میڈیا
بھی اٹھانے سے گھبراتا ہے ۔
کوئی تو ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں ان خوفوں ، نفرت کے لاوؤں ، شہریوں کے تحفظات ، اپنوں کے
شکووں اور ڈر کے خوف سے چھپے اور دبے ہوئے خیالات کو باہر آنے کا موقعہ ملے وگرنہ
یہ بہت بڑا خطرہ بن جاتے ہیں ۔ حد سے
زیادہ خوف کا ماحول بھی ریاست کی
کمزوری ہوتی ہے جو کبھی بھی دشمن کے ہاتھ
لگ سکتی ہے ۔
اس لحاظ سے تو یہ ٹھیک ہی ہے کہ شکوے شکایتیں کرنے اور دل کا حال جاننے کا موقعہ ملتا ہے ۔ دل کی حالتیں زبان پر آتی ہیں اور اندر ہی اندر دبے لاووں کے
پریشیر کو کم ہونے کا موقعہ ملتا ہے ۔مگرعقل وشعور کا
یہ تقاضہ ہے کہ اس کو محض ایک روائتی مشق سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اس
پر توجہ دیتے ہوئے دکھتی نبض کی علامات سے قومی بیماریوں کی تشخیص اور اس کا صحیح
علاج ڈھونڈنا چاہیے تاکہ پوشیدہ خطرات کو ختم کیا
جاسکے ۔
اس دفعہ پچھلی کانفرنس
کی بجائے شکائتوں اور شکووں میں تیزی
نظر آتی ہے ۔ پچھلی دفعہ تو وہاں زیادہ تر مقررین اپوزیشن سے تھے اور جن
حکومتی شخصیات کو بلایا گیا تھا انہوں نے
بھی اجتناب ہی برتا تھا اور جو چیف جسٹس صاحبان کی موجودگی میں تحفظات نے بے قابوپن کا مظاہرہ کیا تھا جس کی گونج بعد میں بھی کافی مہینے سنائی دیتی رہی ۔ مگر اس دفعہ حکومتی شخصیات کی
انتظامی سربراہی میں یہ حقوق کے
اظہار کا سلسلہ جاری رہا۔
اور جو نعرے وہاں
گونجتے رہے وہ دہرانے یا بیان کرنے کے قابل نہیں ۔اور وہ ہمارے سیاسی و انتظامی حالات میں تو شائد پبلش کرنے کی اجازت ، جرات یا
درجہ نہ رکھتے ہوں مگر دوسری طرف اس بات
سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج سوشل میڈیا کے دور میں کچھ بھی کسی سے چھپا
ہوا نہیں اور لمحوں میں پاکستان ہی نہیں
دنیا کے کونے کونے میں پھیل بھی چکے ہونگے۔
حکومتی نمائندوں کو وہاں ان کی موجودگی میں صحافت کی زبان سے ان کے منہ پر تھپڑ پڑنے تک کی بات ہوئی اور ان کو وہ آئینہ دکھانے کی کوشش
کی گئی جس سے وہ چہرہ چھپا رہے تھے ۔ اور لوگوں نے وہاں ان کی بے بسی کو منہ چھپاتے بھی دیکھا ۔ وہ ڈھٹائی سے سب کچھ سنتے رہے اور کچھ خوددار
وہاں سے اپنے عہدے کا خیال رکھتے ہوئے اندر باہر کے چکر بھی لگاتے رہے ۔
یہ کانفرنس پچھلی کانفرنسز سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ
اس کی پاداش میں وزیر قانون کو اپنے عہدے کی قربانی بھی دینی پڑی اور وزیر
خارجہ پر دباؤ بھی سننے میں آرہا ہے ۔ سپریم
کورٹ بار کے صدر محمد احن بھون نے تو اس کی وجہ ججز کی تعیناتی میں دیئے جانے والے
ووٹ کو کہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ اثر کانفرنس
میں ان کی موجودگی میں قابل اعتراض تقاریرکا ہے جن میں اداروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ ووٹ اسلئے وجہ
نہیں کیونکہ وہاں تو انہوں نے اپنے بیانیے کے خلاف استعمال کرکے اپنی وزارت کو بچانے کی کوشش کی تھی وگرنہ ان کو
ووٹ دینے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا ۔ اور اس ووٹ کی سیاست نے عاصمہ جہانگیر گروپ کی وکلاء کے اندر مقبولیت کو بھی متاثر کیا ہے جس کا اندازہ ان کو اگلے الیکشن میں معلوم ہوگا
۔
ایک اور بات جو نوٹ کرنے کے قابل نظر آئی وہ یہ تھی کہ
پچھلی کانفرنس میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اور صوبائی اعلیٰ عدالتوں کی چیف
صاحبان نے بھی شرکت کی مگر اس دفعہ فقط جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہی نظر آئے جنہوں نے
ہوش ربا اور سبق آموز خیالات کے زریعے سے تاریخ کے حوالوں سے ریاست کے ہر ذمہ دار کو باور کرانے اور عوام
کو ان کے حقوق کی نشاندہی کرکے جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی
پاسداری میں ممد و معاون قوانیں اور طریقہ کار کو مختصراً مثالوں اور حوصلہ
افزاء انداز بیان سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جو واقعی سامعین کے لئے ہمارے نظام عدل کے مستقبل کے متعلق ایک امید کی
کرن تھی۔
اس کانفرنس میں پاکستان کی تاریخ کے حوالوں کے سہارے ریاست
کے ہر جبر، آمریت، لاقانونیت، جمہوریت کو لاحق خطرات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جس جرات کے
ساتھ بیان اور للکارا جاتارہا ہے وہ نہ تو جھوٹ ہے ، نہ ہی کسی سے پوشیدہ ہیں اور نہ ہی ان کو
دبانے کی کوئی تدبیر کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔
وہاں جن خیالات اور سوچوں کا اظہار ہوتا رہا وہ قطعاً بھی
نظر انداز کرنے والی نہیں ۔ اور ان پیچھے
چھپی بے بسی خطرات کا عندیہ دیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ اس پر ریاست کے انتظامی امور
کی حامل طاقتوں کا صرف یہ کہہ دینا کہ اداروں پر تنقید اچھی نہیں ہوتی کافی نہیں ۔
بلکہ حقائق کو سمجھتے ہوئے اس کے سدباب کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔
ان سوچوں اور خیالات سے چھلکتی نفرتوں کو محبتوں کی چادر کی
ضرورت ہے ۔ ان کو اگر غلط فہمیاں ہیں تو بھی ان کو دور کرکے ان کو گلے لگانے کی ضرورت ہے
۔ قانون انسانوں اور معاشروں کی بھلائی کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ سزا و جزا کا تصور خوف پیدا کرکے معاملات کو صحیح رکھنے کی غرض سے متعارف کروایا جاتا ہے ۔ ان کے بے جا
یا تسلسل کے ساتھ استعمال سے ان کے پیچھے پوشیدہ جرائم سے بچاؤ اور ان سے نمٹنے کی حکمت
عملی کمزور پڑتی جاتی ہے ۔
ہماری تاریخی قومی بے وقوفیوں نے اعتماد ، باہمی محبت
، رواداری اور یکجہتی کو بری طرح
سے متاثر کیاہے اور اب وہ تمام حربے جو ناانصافیوں اور غیر مساویانہ اعمال کے نتائج کو دبانے کے کام لائے جاتے رہے
ہیں وہ بے اثر ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔
کسی انسان کو تکلیف یا موت سے ڈرایا ہی جاسکتا ہے اور اگر وہ خود ہی سولی پر لٹکنے کے لئے تیار ہوجائے تو وہ ناقابل تسخیر بن جاتا ہے ۔ ماضی
کی غداری اور حب الوطنی کی تعریفیں اور مثالیں اب اپنے اثرات کھوتی ہوئی دکھتی ہیں
۔ اب ان قائم کی گئی حدود کو کراس کرنے کا خدشہ ہی نہیں بلکہ عبور ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں اب ان کا علاج صرف اور صرف محبت ، انصاف اور مساویانہ برتاؤ سے ہی ممکن
ہے ۔
صاحب اختیار اور اقتدار طاقتوں سے گزارش ہے کہ اب تادیبی
کاروائیوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اس
کا پائیدار حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو مخلصانہ طور پر یقینی بنا کر ان شکائتوں ، خدشات ، غلط فہمیوں اور تحفظات کو دور کرنے
میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے وگرنہ کہیں
ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے ۔
اور اس میں سب سے زیادہ ذمہ داری سیاسی طاقتوں پر آتی ہے کہ
وہ اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر
مخلصانہ کوشش میں اپنی نیت اور عمل
سے اس کو تقویت بخشیں ۔




