سوچ کی غذا

استفسار آئین کی عزت کیلئے تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ مناسبت کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں
استفسار آئین کی عزت کیلئے تاریخ کے لحاظ سے چھانٹی کردہ اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ مناسبت کے لحاظ سے چھانٹی کریں سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 19 جون، 2026

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا!

سوشل میڈیا آج کے دور میں معاشرتی اور سیاسی رجحانات کا عکاس بن چکا ہے۔ گزشتہ روز انٹرنیٹ پر حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیتے ہوئے میری نظروں سے دو مختلف ویڈیوز گزریں، جنہوں نے مجھے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری اخلاقی و سیاسی حالتِ زار پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔

پہلا کلپ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا تھا، جہاں ان کی روایتی تفخرانہ ہنسی کے پیچھے چھپی بے عزتی، مایوسی اور بے بسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ یہ اس وقت کا منظر تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی تعریف میں چند کلمات کہنے کے فوراً بعد اپنے مخصوص کاٹ دار اور سنجیدہ مزاحیہ انداز میں انہیں "کلر" (قاتل) کہہ دیا۔ مودی کے چہرے کے تاثرات دیدنی تھے، انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس اچانک ہزیمت پر کیا ردعمل دیں۔ ٹرمپ کا یہ اندازِ کلام مشہور ہے کہ وہ انتہائی سنجیدہ معاملات کو بھی طنز کے پیرائے میں کہہ جاتے ہیں، اور وہاں مودی کے اختیار میں کچھ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اس تذلیل کو خاموشی سے ہضم کرتے۔

منگل، 17 مارچ، 2026

جھوٹے پراپیگنڈا کا حل

مجھے کل پنجاب حکومت کی سنئیر وزیر مریم اورنگزیب کا بیان پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ اب غلط خبریں پھیلا کر حکومت کو بدنام کرنے والوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات دائر کریں گے۔

دیر آئید درست آئید میرے خیال میں الزامات سے اس وقت تک چھٹکارہ حاصل ہی نہیں کیا جا سکتا جب تک ان کی تحقیقات کر کے ان کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا جائے۔ اب جس قدر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات تک رسائی تیزر ہو گئی ہے اس ضرورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ عوام کو ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں سے محفوظ بنایا جا سکے 

ہمارے ہاں غلط معلومات پر مبنی الزام تراشیوں کا سلسلہ ایک رواج بن چکا ہے اور سیاستدانوں سے لے کر نام نہاد صحافیوں تک ہر کسی نے اسے معمولی لیتے ہوئے دوسروں کی عزتوں سے کھیلنا شغل بنایا ہوا ہے۔ سیاستدانوں کی ذہنی سطح کا یہ حال ہے کہ وہ جھوٹ پر مشتمل الزام تراشیوں کو بعد میں سیاسی بیان کا نام دے دیتے ہیں۔ گویا سیاست میں جھوٹ اور الزام تراشی سب جائز ہے۔ 

جب سیاست کا یہ معیار ہوگا تو پھر اس کی پیدوار پارلیمان کے تقدس کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہی حال ہماری صحافت کا ہے جو جھوٹ بول کر جتنا زیادہ تجسس اور حیرانگی پیدا کر لے گا اتنا بڑا مقبولیت کے درجوں پر فائز ہوگا جو بظاہر ہماری اجتماعی معاشرت ہی کی عکاسی ہے جو حقیقت بھی ہے۔ مگر حکومتوں کو ان برائیوں کو ختم کرکے بہتری کو یقینی بنانے کے لئے عوامی مینڈیٹ سونپا جاتا ہے جو پنجاب حکومت احسن طریقے سے نبھا بھی رہی ہے۔ 

حکومت کو الزام تراشیوں کے خاتمے کے لئے ان قوانیں پر عمل کو یقینی بنانا ہوگا بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے قبضہ مافیا سے عوام کی جان چھڑوائی ہے۔ جس کے لئے پہلے عدالتی نظام کے اندر اصلاحات لانی ہونگی تاکہ اس کو تیز رفتار اور موثر بنایا جا سکے کیونکہ ہمارا موجودہ نظام اس قدر قابل بھروسہ نہیں جو اس مقصد پر پورا اتر سکے

موجودہ نظام میں تین قسم کے قوانیں رائج ہیں جن میں ایک فوجداری ہے جس میں تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت مقدمہ درج کروایا جاتا ہے جس کے تحت دوسال قید اور جرمانہ یا دونوں اکٹھے بھی سزا کے طور پر لاگو ہو سکتے ہیں، ایک سول جو ڈیفمیشن ایکٹ 2024 کے تحت دائر ہوتا ہے جو سول عدالتوں میں ہرجانے کے لئے کیا جاتا ہے جس کا فیصلہ نوے دنوں میں کیا جانا ہوتا ہے مگر اس پر سالوں لگ جاتے ہیں۔ اور تیسرا سائبر سیکورٹی ایکٹ 2026 (پیکا) کی دفعہ 20 کے تحت ایف آئی اے کے پاس مقدمہ درج کروایا جا سکتا ہے۔

مئی 2024 میں پنجاب حکومت نے ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 متعارف کروایا جس بارے میڈیا میں بہت کچھ لکھا گیا یہاں تک کہ اس ڈریکونین قانون کہا گیا جس پر حکومت کو تحفظات دور کرنے کے لئے اسے لاگو کر تے ہوئے مفاد عامہ نوعیت کے مقدمات میں پراسیکوشن کے ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے عوامی اعتماد کو اس پر بحال کرنے کے لئے ماڈلز بنانا ہونگے تاکہ عوام میں اس کا رواج پنپ سکے۔

خاص طور پر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو ان کی مطابقت میں لانے کے لئے ایڈووکیٹ جنرلز اور اٹارنی جنرل کے دفاتر کو محنت کرنا ہوگی تاکہ وہ حکومت کی رٹ، عدلیہ کی ساکھ اور مفاد عامہ کے اندر ہم آہنگی کو یقینی بنا سکیں۔  

اسی طرح صحافتی حلقوں کے تحفظات پر بھی توجہ دینا ہوگی جیسا کہ ان کے نزدیک اس سے بھاری جرمانے لاگو کر کے یا ان کے سوشل میڈیا کے اکاونٹس کو بند کر کے اسے ان کے خلاف دباؤ پیدار کرنے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس تاثر کو اس کی پاسداری میں شفافیت اور غیر جانبداری لا کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ اور اکاونٹس کو بند کرنے کی بجائے پہلے ان کے خلاف مواد کو انہیں اکاونٹس سے ان کی سزا کے طور پر چلوانا چاہیے تاکہ ان کے دیکھنے اور سننے والوں کو حقائق کو جاننے کا موقع ملے اور پھر بعد میں جب جرم ثابت ہو جائے تو ان اکاؤنٹ پر بند ہونے وجوہات کو ثبت کر دیا جائے۔

صحافتی برادری کے ایسے تاثرات کو عدالتی کمنٹس سے بھی تقویت دی گئی ہے جن میں ہتک عزت اور آزادی اظہار رائے میں توازن لانے کی ضرورت ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اس کا استعال سیاسی انتقام یا آزادی اظہار رائے کو سلب کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے مفادہ عامہ میں استعمال کر کے عوامی اعتماد کو حاصل کیا جائے۔

صحافتی حلقوں کی رائے کو مقدم بنانے کے لئے انہیں تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے بھی کوئی حکمت عملی بنائی جانی چاہیے جسے کے تحت انہیں اپنے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بنا کر سوشل میڈیا پر اکاونٹ بنانے سے پہلے جس میں صحافتی نوعیت کے رائے یا تبصروں کو شائع کرنا مقصود ہو کے لئے کوئی ریفریش کورس کو لازمی قراد دیا جائے جس میں صحافتی ایتھکس سکھائے جائیں اور مجھے امید ہے کہ اس کو صحافتی حلقے بہت خوشی سے مان لیں گے۔

پولیس ریفارم پر بھی پنجاب حکومت نے کافی کام کیا ہے اسی طرح سول عدالتی شعبہ میں بھی مفاد عامہ یا عام شہریوں کی عزتوں کو محفوظ کرنے کے لئے فری قانونی خدمت کی سہولت پہنچائی جانی چاہیے تاکہ الزامات تراشیوں کے سدباب کے لئے نمونے کے طور پر مثالیں قائم کی جا سکیں۔

ہتک عزت کے سول رائٹس کی پاسداری کے لئے جدید دنیا کے اندر رائج نظام جیسا کہ برطانیہ میں بہت ہی پر اثر نظام موجود ہے کی طرز پر اصلاحات لاگو کی جانی چاہیں جس میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جس میں نہ صرف پرائیویسی کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ درخواستوں کی دائرگی اور اس کی کاروائی کو بھی آن لائن کیا جائے تاکہ وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 14، 19 اور 19 اے کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔    

منگل، 23 دسمبر، 2025

عدالت عالیہ کا جذباتی اور جارحانہ حکمنامہ

عدالت عالیہ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے تحت فیصلوں کو نہ صرف روک دیا بلکہ کئے گئے فیصلوں کو بھی واپس کر دیا جو ایک انتہائی حیران کن انصاف ہے جس کے اندر قانون و انصاف کے تقاضے کہاں تک پورے کئے گئے وہ بہتر جاتنی ہونگی مگر ان کے اخبارات کی زینت بننے والے کمنٹس سے ابھرتے جذبات اور جارحانہ انداز سے بہت ہی مختلف اشارہ مل رہا ہے۔

انکا یہ کہنا کہ اگر آرڈیننس رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروا لیا جائے گا بالکل اسی طرح کا انداز منصفی ہے جو بابا رحمتے قانون ساز اسمبلی کے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ دو چار ایم پی اے تو میں کھڑے کھڑے گھر بھیج دونگا۔ 

انہوں نے مبینہ طور پر چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کمیٹی کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کو زیادہ انصاف کا شوق ہے تو ایل ایل بی کا امتحان دیں جج لگ جائیں۔ میرے خیال میں تو وہ امتحان  دے کر ہی اس عہدے پر بیٹھے ہیں لیکن جج بننے کے لئے امتحان دینا کوئی شرط نہیں جس کی مثال کے لئے عدالت عالیہ یا عظمیٰ کے کسی بھی جج کا عہدہ کافی ہے۔

عدالت عالیہ سے عرض ہے کہ  ایل ایل بی قانون کو سمجھنے کے لئے ہوتی ہے لوگوں کے تنازعات ختم کرنے کے لئے ضروری نہیں اور اگر کسی کو ایل ایل بی کرنے کے بعد بھی قانون کی سمجھ نہ آئے تو پھر اس کا کیا کیا جائے یا جو جج بننے کے بعد بھی قانون کی دھجیاں اڑاتا پھرے اس کا کیا کیا جائے؟ کیا ایل ایل بی پڑھنے کے بعد آئین کی ایک ہی جج دو تشریحات کر سکتا ہے؟ قانون تو کیا یہ عقل کے پیمانوں پر بھی پورا اترتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ ایل ایل بی تو قانون ساز اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے بھی ضروری نہیں جو قانون و آئین کے خالق ہیں۔ جن کے قلم کی جنبش سے آئین و قانون ہی نہیں بلکہ عدالتیں معرض وجود میں آئیں۔

ایل ایل بی میں تو انہی قوانین کے مجموعے کا علم اور اس کے استعمال اور ڈاکٹرائن پڑھائی جاتی ہیں جسکا عملی اطلاق ہو رہا ہوتا تو آج ہمارے ملک کا یہ حال ہوتا؟ 

عصر حاضر کے قاضی کے لئے علم و تجربہ سے زیادہ ریفرنس چاہیے ہوتے ہیں۔ اگر قاضی کی اہلیت کی شرائط کو دیکھا جاتے تو اس میں پہلی شرط ہی یہ ہے کہ اس کو اس عہدے کی خواہش نہ ہو۔ آج ہمارے نظام عدل میں کتنے ایسے ججز ہونگے جو اس شرط پر پورے اترتے ہونگے؟

اگر آرڈیننس کو پڑھا جائے تو ان کمیٹیوں کو ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیوں کا نام دیا گیا ہے جو چھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، متعلقہ اسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، علاقے کا متعلقہ ڈپٹی پولیس آفیسر اور ایک کسی سرکاری ایجنسی سے کمیٹی کی طرف سے لیے گئے ممبر پر مشتمل ہوتی ہے۔ 

پاکستان کا آئین و قانون ہی کمشنرز کو زمینوں کے متعلق تنازعات کے فیصلوں کا اختیار دیتا ہے اور ان کی تعناتیوں کے لئے ایل ایل بی کا ہونا کوئی شرط نہیں۔

تنازعات کو ختم کرنے کے لئے تو عدالت کا ہونا بھی ضروری نہیں پولیس کو تنازعات نمٹانے کا اختیار ہے اور ان کی تنازعات متعلق تفتیشیں ہی عدالتی فیصلے کی بنیاد ہوتی ہیں اور ان کی رائے پر عدالتیں انصاف کی مہر ثبت کرتی ہیں۔

ہم نے پنچائتوں کے ایسے ایسے انصاف دیکھے ہیں جن پر عدالتیں بھی بڑے فخر سے اپنی مہر ثبت کرتی ہیں۔ انکی ساکھ ہی انکے فیصلوں کی اتھارٹی ہوتی ہے۔ انکی غیر جانبداری، شفافیت اور برابری کا عمل ہی ان کا برانڈ ہوتا ہے۔ 

ان کمیٹیوں اور ٹربیونلز نے ریاست کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے کتنی محنت سے معاملات کو نمٹایا ہوگا۔ یہ کمیٹیاں تو حقوق ملکیت کے ریکارڈ پر فیصلے کرتی ہیں جن کے اندر نا انصافی کے نہ ہونے کے برابر چانس ہوتے ہیں۔

اب اگر کسی کی طبیعت یا رسم و رواج پر بھاری اترے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں تو بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینا یا مانگنا بھی بے غیرتی اور بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ ایسی عزت اور غیرت کی رکھوالی کے لئے عدالتوں کے سہارے سال ہا سال مقدمات زیر التوا رہتے ہیں۔ 

ہو سکتا ہے اس آرڈیننس میں قانونی سقم ہوں مگر ان کی نشاندہی کر کے اصلاح کی کوشش کی جاتی۔ ہو سکتا ان کے قریب یہ بھی سقم ہو کہ اس میں وکیل کے زریعے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی قانونی سقم ہو کہ عدالت میں اگر کوئی معاملہ زیر التوا ہو تو عدالت کو عرض کر سکتے ہیں کہ وہ معاملہ ان کو بھیج دیں۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہو گا کہ وہ طوالت پر مبنی ضابطوں کا نہیں اپناتے جن میں بابے آدم کے دور کے اخباری اشتہارات وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ فیصلہ 90 دنوں میں کرنا انصاف کا تقاضہ ہے۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ قبضہ کا حصول فیصلے کا حصہ ہے ایسا نہیں کہ سائل کے ہاتھ میں فیصلہ تھما دیا جائے اور وہ اس پر عمدرآمد کے لئے در بدر دھکے کھاتا پھرے۔

مگر یہ قانونی سقم نہ تو اس آئین و قانون کی خالق قانون ساز اسمبلی کے نزدیک ہے اور نہ اس آئین کی اتھارٹی کے نزدیک جس کو آئین ہی آرڈینس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے اور نہ ہی اس غریب عوام کے نزدیک جن کے مظلوم، بے یارومددگار اور بے کس افراد اپنے حقوق کے حصول کے لئے سالہا سال عدالتوں کے باہر دھکے کھاتے ہیں مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ 

کیا روائتی نظام انصاف میں کوئی سقم نہیں جس کے اندر دادا انصاف کے لئے جاتا ہے اور پوتا فیصلہ تو شائد حاصل کر لے مگر اس کو یہ کئی نسلوں تک سمجھ نہیں آتی کہ اب اس پر عملدرآمد کیسے اور کب ہونا ہے؟ 

آپ کو معلوم ہے کہ اس آرڈیننس کے زریعے سے اپنا حق حاصل کرنے والوں کے عدالت عالیہ کے اس حکم امتناہی پر کیا ریمارکس ہیں؟ آج کل سوشل میڈیا پر کھل کر عدلیہ بارے عوامی اعتماد پر بات ہو رہی ہے۔ چند فیس بک کے حوالے سے شئیر کرتا ہوں۔

"تم لوگوں کو عدالتی سپریمیسی کی فکر ہے لیکن جس غریب کے پلاٹ کا قبضہ عدالت چھڑوانے میں 30 30 سال لگا دیتی ہے کسی قتل کے ملزم کو سزا دینے میں عدالت 20 20 سال ٹرائل کرتی ہے کسی غریب کی جمع پونجی لوٹی جانے پر عدالتیں ریکوریوں میں 5 5 سال گھسیٹتی ہے

کسی طاقتور سے غریب کے حق حلال کے پیسے دلوانے میں عدالتیں ملزمان سے حلفیہ بیان لیکر چھوڑ دیتی ہوں ایسے عدالتی نظام پر بلڈوزر پھیر دینا چاہیے"۔(عظمت علی)

"عدالتی بالا دستی کے نام پر نہ خود دھائیوں سے کچھ کیا نہ کسی اور کو کرنے دینا ہے سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اگر ہماری عدالتیں اپنا کام کرتیں تو اس قانون کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟"(ناصر بٹ)

"آخر ججوں اور وکیلوں نے بھی تو روزی روٹی کمانی ہے۔ قتل، اغوا برائے تاوان جیسے مقدمات سی سی ڈی حل کر دے، تجاوزات اور قبضے پیرافورس چھڑوا دے تو ان دیوانی مقدمات کا کیا بنے گا جو یہ جج اور وکیل ملی بھگت سے سے تاریخ در تاریخ دے کر لٹکائے رکھتے ہیں؟ با اثر مجرم ہی پیسے والا ہوتا ہے ریٹ بھی زیادہ وہی دیتا ہے اب اگر حکومت ان طاقتور پارٹیوں کو فِکس کرنے لگے تو ہمارا نظام انصاف تو بے روزگار ہو جائے گا۔ عدلیہ اپنی برادری کے معاشی قتل عام پر خاموش کیسے رہ سکتی ہے۔

یقین کریں کہ پاکستان میں ہر خرابی کی جڑ ہماری عدلیہ ہے اور ہر جُرم کے سرپرست مسند عدل پر بیٹھے انصاف فروش درندے ہیں"۔(ظفر الاسلام)

 ان میں سے بہت سارے سخت فقرے میں حزف کئے ہیں۔ ان کی باتیں ٹھیک ہیں کیونکہ ہمارا مروجہ نظام انصاف ظالم کی حمائت میں زیادہ اور مظلوم کے حق میں کم ہے۔ ظالم جائیدادوں پر قبضے کرکے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے لیتے ہیں اور پھر سالوں اس پر طوالت کے زریعے فائدے اٹھاتے رہتے ہیں۔

اگر قانونی سقم ہوں تو بھی کوئی جج اپنے سامنے مقدمے پر تو حکم امتناہی جاری کر سکتا ہے مگر کسی آئینی و قانونی انتظامی عہدیدار یا کسی آئینی و قانونی کمیٹی، ٹربیونل یا اتھارٹی کے ایسے فیصلے جن کا ان کو علم ہی نہ ہو کو بغیر دیکھے کیسے ختم کر سکتا ہے؟ 

میرا یہ بھی سوال ہے کہ زمینوں کے تنازعات کے فیصلےکرنے کا جو اختیار محکمہ مال کے پاس ہے وہ آئینی و قانونی ہے یا نہیں اور کیا عدالتیں ان کے ریکارڈ کے بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں؟ 

کمیٹیوں کو مبینہ طور پر اس بنیاد پر کام کرنے سے روکا گیا ہے کہ اس سے سول رائٹس اور جوڈیشل سپرمیسی ختم کی گئی ہے حالانکہ آرڈیننس میں اگر کمیٹی فیصلہ نہ کر پائے تو ٹربیونل کو بھیج سکتی ہے جس کو سول کورٹ کا درجہ حاصل ہے جس میں لاء گریجویٹ ہی ہونگے اور اس کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے جسے چیف جسٹس کا بنایا ہوا ڈویژن بنچ سنے گا۔ 

عدالت عالیہ نے کیس کو فل کورٹ بنچ کو بھیج دیا ہے جو خوش آئیند ہے کہ کم از کم انہوں نے اپنے جذباتی اور جارحانہ سوچ کی طبع آزمائی کی بجائے فل کورٹ کو ایک اجتماعی رائے قائم کرنے کا موقع دیا اور یقیناً یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں کیس سٹڈی ثابت ہوگا۔ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لئے اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ ان کے آئینی و قانونی رتبے کے تقدس کا بھی احساس ہے مگر اس بھی زیادہ اپنی عزت کا خیال ہے۔

حکومت سے گزارش ہے کہ یہ آرڈنینس مفادات عامہ کا معاملہ ہے اس لئے اس پر پوری تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور اس معاملے کو وفاقی آئینی عدالت کو ریفر کیا جانا چاہیے تاکہ قانون ساز اسمبلی اور عدالتوں کے اختیارات کی تشریح احسن طریقے سے ہو سکے۔ اس کیس کی کاروائی بھی قومی نشریاتی اداروں کے زریعے سے براہ راست دکھائی جانی چاہیے۔

منگل، 14 جنوری، 2025

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف

 

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج  حکومتی سطح پر  قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔  حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔  

جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا  نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟

چلیں آپ کو اپنا  ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو  پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب  تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو  اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔  بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔

مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔

بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور  دیکھے۔

جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور  سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو  اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔

جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی  عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست  کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔

ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی  ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔

بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف  مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔

نظام کی اصلاح کی اصل  ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً  کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ،  سیاسی  نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔

مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں  اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے   تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی

کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے

اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو

بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔


(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)

پیر، 16 دسمبر، 2024

عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ جائز مطالبات کے لئے آواز اٹھانا، احتجاج کرنا اور ریلیاں نکالنا سیاست اور جمہوریت کا حسن ہی نہیں بلکہ یہ عوام اور سیاسی جماعتوں کا جمہوری اور بنیادی حق ہے مگر ان میں ملک و قوم کے مفادات سے ہٹ کر ذاتی مفادات، ضد اور انتقامی جذبے کا شامل حال ہو جانا ان کی اہمیت کو ختم کر دیتا ہے۔ اور اسی طرح اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو مایوسی، بددلی اور انصاف کو طاقت کے ذریعے سے حاصل کرنے کی جستجو سیاست اور جمہوریت کو فائدہ دینے کی بجائے اسے جتھوں کی سیاست کا شکار کر دیتی ہیں جو معمول ہمارے ملک میں پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھنے کو مل رہا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے معاشی بدحالی، انتہا پسندی اور دہشت گردی جنم لے کر ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔

اگر ہم جمہوریت کی تاریخ اور دور جدید میں کامیاب جمہوری نمونوں کا مطالعہ کریں تو اس کی مثالیں ہمیں نارتھ امریکہ اور یورپ میں ملتی ہیں جن میں سر فہرست ہم سکینڈی نیوین ممالک کو دیکھتے ہیں اور وہاں پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات بہت واضح ملتے ہیں جس سے اس حقیقت کا پتا چلتا ہے کہ جمہوریت سے فائدہ اٹھانے کے لئے عوام کے اندر ان دو خوبیوں کا ہونا ناگزیر ہے۔

ہم جمہوریت کے نعرے بھی لگاتے ہیں اور اس کی طرز پر انتخابات کا ڈرامہ رچا کر حکومتیں بھی تشکیل دے لیتے ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ڈکٹیٹر بھی ریاست کا نظام سنبھالے تو اس کو بھی اپنی آمریت کو جمہوریت کی کوئی نہ کوئی شکل دینی ہی پڑتی ہے جو عالمی سطح پر تعلقات کو بحال رکھنے کے لئے ہماری مجبوری ہیں لیکن ہم نے کبھی جمہوریت پر نہ تو یقین رکھا ہے اور نہ ہی اس کو حقیقت میں پنپنے بڑھنے دیا ہے۔

اس دوغلی جمہوریت کی سیاست میں بھی ہمیں جو تسلسل کے ساتھ سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ فلاں سیاسی قائد نے عوام کو شعور دیا ہے خواہ وہ خود آمریت ہی کی پیداوار ہو، وہ خود اقتدار تک جمہوریت نہیں بلکہ آمرانہ مفادات اور کوششوں ہی کی بدولت پہنچا ہو۔ اگر کسی نے عوام کو سیاسی شعور دیا ہوتا تو آج اس ملک و قوم کی یہ حالت نہ ہوتی۔ یہ شعور ہی کی خرابی ہے کہ عوام ان مفادات پرست مداریوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے۔ دراصل یہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے میڈیا کے ذریعے رائے ہموار کر کے عوامی جذبات کے اندر اپنی ہمدردیاں حاصل کی گئی ہوتی ہیں یا عوام کی بنیادی ضروریات کے پورا کرنے کا جھانسہ دے کر ان کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے جسے شعور کا نام دے کر عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھا گیا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریت سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھائیں تو ہمیں جمہوریت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کو اصلی حالت میں ان کی شمولیت کے ذریعے سے عوامی شعور کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ وہ صحیح سیاسی قیادت کو پہچان سکیں۔

سیاسی شعور اس کو کہتے ہیں جس کے اندر اگر مخالفین میں بھی اچھا کردار ہو تو اس کی تعریف، حوصلہ افزائی اور حمایت ملے اور اگر اپنا بھی کوئی غلط کر رہا ہو تو اس کی تنقید، حوصلہ شکنی اور مخالفت کی جائے۔ اگر تو یہ سیاسی شعور موجودہ عوامی آرا میں دیکھنے کو ملتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوام کے اندر سیاسی شعور پایا جاتا ہے اور اگر اس کے برعکس حمایت یا مخالفت کی بنیاد انا پرستی، سیاسی الحاق اور ضد ہے تو پھر اسے سیاسی شعور نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر جمہوریت سے مستفید ہو کر اچھے سیاست دان یا ریاست کے نظام کو چلانے کے لئے اچھے حکمران تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ اسے جمہوریت نہیں بلکہ کسی بد تہذیب معاشرے کے اندر جتھوں کے زور کی بنیاد پر اقتدار کے حصول کا نظام کہا جا سکتا ہے۔

عوامی شعور کو صحیح سمت دے کر جتھوں کی سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو ناصرف صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی ترغیب دی جائے بلکہ عملی طور پر ان کی آواز کو بامقصد بنانے اور انہیں اہمیت دینے کا عملی ماحول پیدا کیا جائے۔ ان کو جمہوریت کی بنیاد سیاسی جماعتوں سے لے کر وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کے عمل تک میں عملی طور پر شمولیت دے کر ان کے اندر شعور کو اجاگر کرنا ہو گا۔ اس کے لئے میڈیا کے علاوہ فنون لطیفہ اور ڈراموں و فلموں کے اندر بھی جمہوریت اور سیاست کو موضوع بنایا جا سکتا ہے۔

عوام کی طرف سے جائز اور آئینی مطالبات کو اہمیت دیتے ہوئے پارلیمان میں زیر بحث لا کر ان کو حکمت عملی سے منطقی انجام تک پہنچانے کی پالیسی بنائی جانی چاہیے۔ اگر کسی بھی مطالبے پر قومی اسمبلی کے کسی حلقے کے ووٹرز کی تعداد کے برابر عوامی تائید حاصل ہوتی ہے تو اسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایجنڈے میں شامل کر کے ان پر بحث کی جائے۔ اگر وہ عوامی مطالبہ آئین و قانون کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے تو اس کے پورا ہونے کا عملی ثبوت دیا جائے اور جو مطالبات غلط ہوں وہ خواہ کسی بھی جماعت کی طرف سے ہوں ان کے منفی پہلوؤں کو دلائل کی روشنی میں میڈیا پر آشکار کر کے قوم کے اندر با شعور رائے کو ہموار کرنے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے اور اگر کوئی جماعت اپنے مطالبات کو عدالت میں لے کر جاتی ہے تو اس کی کارروائی کو براہ راست دکھایا جائے اور اس پر قومی سطح کے غیر جانبدار آئینی ماہرین کا ایک پینل قومی میڈیا پر اپنی آرا دے تاکہ عوام کی شعوری اصلاح کر کے ان کی سوچوں کو صحیح سمت دی جا سکے۔

عوامی شعور کی اصلاح کے لئے پارلیمان اور اداروں کے ماحول کے اندر اس کی جھلک ملنی چاہیے۔ اس کے لئے سب سے پہلے سیاسی قائدیں خواہ ان کا اپوزیشن سے تعلق ہو یا حکومت میں شامل جماعتوں سے، ان کے خلاف ہر طرح کے زیر التوا مقدمات کی سپریم کورٹ یا ہائیکورت کے غیر متنازع اور غیر جانبدار ججز کے کمیشن سے سکروٹنی کروائی جانی چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ وہ تعصب اور سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں یا ان میں آئین و قانون کی خلاف ورزی کا کوئی مواد موجود ہے جس پر وہ ان کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کی رپورٹ جاری کریں تاکہ عوام کے اندر پائے جانے والے تعصبانہ اور سیاسی انتقام والے تاثر کو ٹھیک کیا جا سکے اور اس کا آغاز حکومت میں موجود جماعتوں کے قائدین کو اپنے آپ کو انکوائری تک پارلیمانی عہدوں سے علیحدہ ہو کر پیش کرنا چاہیے تاکہ عوام میں ان کے بارے اچھا تاثر پیدا ہو۔

سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین جمہوریت کا اثاثہ ہوتے ہیں اس لئے ان کے اندر بھی بہتری لانا انتہائی ناگزیر ہے جس کے لئے الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کی نگرانی کا کوئی میکنزم ہونا چاہیے جس کے تحت سیاسی قائدین کے بیانات اور قول و فعل کو آئین و قانون، جمہوریت اور سیاست سے ہم آہنگ بنانے کے لئے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے اور اس کا اپنی ویب سائٹ پر ایک ڈیش بورڈ لگائیں جسے تواتر کے ساتھ اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اس کی سالانہ رپورٹ کو پارلیمان میں پیش کیا جائے جس پر بحث کے بعد ایسے سیاست دان جو اپنے قول و فعل میں آئین و قانون، جمہوریت اور سیاست کی اساس کو جھوٹ، غلط فہمیاں اور بے بنیاد الزامات کی سیاست کرنے کے مرتکب پائے جائیں، پر پانچ سالوں کے لئے پابندی لگا دی جائے جسے اگر وہ تعصبانہ، غلط یا بے بنیاد سمجھیں تو الیکشن کمیشن میں ثبوتوں کے ساتھ وضاحت پیش کر کے ہٹوا بھی سکتے ہوں اور اس فیصلے کے خلاف عدالتوں میں جانے کا حق بھی موجود ہو۔ اس حکمت عملی سے سیاسی جماعتوں کے اندر با کردار سیاست دانوں کی گرفت کو مضبوط کرنے کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی شعور سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ جمہوریت کو محض سیاست دانوں کی نہیں بلکہ اچھے با کردار سیاست دانون کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی شعور اس قابل بھی ہونا چاہیے کہ اس سے یہ توقع رکھی جا سکے کہ عوام سیاست دانوں اور ان کے آباؤاجداد کے ماضی پر بھی نظر رکھیں تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ان کا خاندانی ڈی این اے کتنا جمہوری ہے اور ان کے سیاسی دعوے ان کے اپنے یا ان کے آباؤاجداد کے ماضی سے کتنی مطابقت رکھتے ہیں۔

اداروں کو سیاست سے پاک کر کے آئین و قانون اور عوامی فلاح و بہبود کا پابند بنانے کی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاست، جمہوریت اور حب الوطنی کے نام پر ذاتی مفادات کی آنکھ مچولی کا کھیل ختم کیا جا سکے۔ جب ملک کے انتظامی امور پر مامور افسران کے عمل سے عوامی فلاح و بہبور ہوتی ہوئی دکھائی دے گی تو یقیناً عوام کے دل میں ناصرف سیاست اور جمہوریت کی قدر بڑھے گی بلکہ پارلیمان کی بالادستی کا شوق اور جمہوری انقلاب کا جذبہ پیدا ہوگا جو آمریت کے خلاف جمہوریت کے لئے ڈھال ثابت ہوگا اور جب تک سیاسی جماعتوں، سیاسی قائدین اور ممبران پارلیمان کا اپنا کردار ان سے مطابقت کے معیار پر پورا نہیں اترتا ہوگا تب تک یہ سیاسی انتقام کے مکافات عمل سے جان چھڑانا ممکن نہیں اور یہ باریاں اسی طرح چلتی رہیں گی۔

اداروں کے سربراہان کے اندر عہدوں کی طلب اور طمع کے ماحول اور پارلیمان سے اس کی تائید کی سرتوڑ کوششوں کو شعور کی علامت قطعاً بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عہدے ذمہ داریوں کا نام ہوتے ہیں اور کوئی بھی با شعور انسان اگر ایمانداری، خدمت اور جوابدہی کی سوچ رکھتا ہو تو ذمہ داریوں کو وہ شوق سے قبول نہیں کرے گا چہ جائے کہ اس کو اس پر مجبور کیا جائے۔ یہ عہدوں کی طلب اور طمع ہماری قومی سطح کی عمومی صورت حال کی عکاس ہیں جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہمارے اندر احساس ذمہ داری ختم ہو چکا ہے۔ اگر یہ عہدوں کا شوق عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ہوتا تو آج ملک و قوم کی یہ حالت نہ ہوتی۔ آج بھی اگر قومی سطح پر اس کا شعور اجاگر ہو جائے تو ان عہدوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ملے گا، سب ان سے بھاگیں گے اور با کردار لوگوں کو مجبور کر کے عہدے دینے پڑیں گے۔ تب جو ماحول پیدا ہوگا اس میں احتجاج اور دھرنوں کی نوبت ہی نہیں آئے گی، محض کسی پر انگلی اٹھا دینا ہی اس کے منصب سے علیحدہ ہو جائے کے لئے کافی ہو گا اور نہ ہی کوئی محض جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کسی کی عزت کو اچھالنے کی کوشش کرے گا کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ اسے ثبوت دینا پڑیں گے یا پھر سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔

پیر، 7 اکتوبر، 2024

معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

 

اس وقت ملک عدم برداشت اور انتہا پسندی کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ کہیں سیاست کے نام پر بد تہذیبی تو کہیں مذہب کے نام پر اپنی نفسیاتی کمزوریوں اور جاہلیت کو مذہبی جواز بنا کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش سے ملک و قوم کو معاشرتی بگاڑ کے ذریعے نا قابل تلافی نقصان کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

چند دن قبل سندھ سے ڈاکٹر شاہنواز کو توہین مذہب کے الزام کے بعد جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا اور اس کی لاش کو اس کا وارثان سے چھین کر بے لگام ہجوم کی طرف سے جلانا توہین مذہب کی آڑ میں توہین انسانیت کا ارتکاب ہے جو انتہائی قابل تشویش بیمار معاشرے کی علامت ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، دو ہفتے قبل کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ میں پولیس کی حفاظت میں ملزم کی جان کا دشمن قانون کا رکھوالا اہلکار ہی بن گیا تھا۔

ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو ایک ہجوم کی جانب سے تشدد کر کے قتل کر دیا گیا اور وہاں بھی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔

رواں برس ہی مئی میں سرگودھا کے علاقے مجاہد کالونی میں ایک فیکٹری کے باہر زمین پر گرے مقدس اوراق کی نشاندہی پر کچھ ہی گھنٹوں میں حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے۔ اس واقعے میں بھی ملزم ہجوم کے تشدد کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔

فروری میں لاہور میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون پر اچھرہ بازار میں دوران شاپنگ اس کے لباس پر ڈیزائن کی وجہ سے مشتعل ہجوم کی جانب سے توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون کے لباس کے پرنٹ پر قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔

اس صورت حال میں اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی کی جانب سے بروقت کارروائی نے صورت حال کو ناصرف بگڑنے سے بچایا بلکہ خاتون کو بھی مشتعل ہجوم سے بحفاظت نکالنا ممکن بنایا۔ یہ واقعہ تو معاشرتی جہالت کی ایک بدترین مثال ہے کہ ہحوم جس کی راہنمائی باریش نام نہاد دین کے ٹھیکیدار عربی حروف کو قرآن سمجھ کر انسانی جان لینے کے درپے تھے۔

اگست 2023 میں پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں توہین مذہب کے الزام میں مسیحی آبادی پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں مشتعل ہجوم نے متعدد گرجا گھروں اور مسیحی عبادت گاہوں کے علاوہ 86 مکانات کو آگ لگائی اور ان میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔

2021 میں اسی نوعیت کا واقعہ سیالکوٹ میں بھی پیش آیا تھا جب ایک فیکٹری میں بطور مینجر کام کرنے والے سری لنکن شہری پریانتھا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔

اسی طرح صوابی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ اور یونیورسٹی کے کچھ ملازمین پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ رسالت کے الزامات لگانے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

ان تمام توہین مذہب کے واقعات میں جو باتیں مشترک پائی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ان سانحات کی بنیاد غلط بیانی، غلط فہمی، اشتعال انگیزی، ذاتی رنجشیں اور بے بنیاد الزامات تھے جن میں ملزموں کو سنا تک نہیں گیا اور نا ہی ان کو اپنی وضاحت کا موقع دیا گیا جبکہ قانون اور انتظامی ادارے تحفظ دینے میں بری طرح ناکام رہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ صورت حال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے جس سے معاشرتی بگاڑ کی نشاندہی ہو رہی ہے اور اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ مرض گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ نہ لاشوں کو چھوڑا جاتا ہے اور نہ ہی قبروں کی حفاظت ممکن رہی ہے۔

سب سے بڑھ کر تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ کسی ملزم کو اپنی صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا گیا جو ریاست کے انتظامی امور میں ناکامی کی طرف اشارہ ہے۔ جب سزا یافتہ مجرموں کے گلے میں ہار ڈالے جائیں، ان کی قبروں پر دربار بن جائیں اور لوگ وہاں پھولوں کی چادریں چڑھانا شروع کر دیں تو پھر ریاست کے انتظامات، حکومت کی رٹ اور عدالتوں کے نظام انصاف پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں جس کا لا محالہ شہریوں کی نفسیات پر بھی اثر پڑتا ہے اور ان کے دلوں میں ریاست اور اس کے اداروں کی عظمت اور عزت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سیاسی اور مذہبی قائدین کے رویے اس حد تک غیرذمہ دارانہ ہو چکے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر قومی تشخص کو خراب کر رہے ہیں۔ جیسا کہ چند روز قبل ڈنمارک کی ایک عدالت کی طرف سے پاکستان کے دو مذہبی راہنماؤں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ جب سفارتی آداب اور قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے اداروں کے اہلکاروں اور سربراہان پر قتل کے فتوے صادر کرنا شروع کر دیے جائیں تو پھر ان کی سزاؤں کے لئے گواہیوں اور ثبوتوں کا سامان ان کی اپنی جذبات سے بھری حواس باختہ بڑھکیں ہی بن جاتی ہیں جن میں وہ قتل و غارت کو دین اور سیاست کے نام پر دوش دے رہے ہوتے ہیں۔ جوش خطابت میں ان کو نہ اپنی قومی اور مذہبی ذمہ داریوں کے تقاضوں کا احساس رہتا ہے، نہ دوسروں کے حقوق اور انصاف کے اصولوں کا تو پھر وہ نا صرف اپنی سزاؤں کے ثبوت فراہم کر رہے ہوتے ہیں بلکہ قومی تشخص کی تباہی کا بھی سبب بن جاتے ہیں۔

اقلیتیں تو پہلے ہی عدم برداشت اور انتہا پسندی والے رویوں سے انتہائی خائف تھیں، اب تو الزام تراشیوں کا رجحان اکثریتی مذہب اسلام کے اپنے ماننے والوں کے لئے بھی وبال جان بن چکا ہے۔ واقعات اور حقائق کی روشنی میں اگر اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق مذہبی پہلوؤں سے نہیں بلکہ تنزلی کا شکار ہماری اخلاقیات سے ہے جو ہمیں ایسے نا سمجھی اور جہالت کی طرز پر سانحات کا شکار کر رہے ہیں۔

یہ انتہا پسندی مذہبی حلقوں میں ہی نہیں، سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین سول نافرمانی کی تحریکیں چلاتے ہوئے شہریوں کو لے کر اداروں اور قومی املاک پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ترغیبیں اور ہلا شیری کو سیاسی اور جمہوری جدوجہد کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ریاستی وسائل شہریوں کے امن و سلامتی پر استعمال ہونے کی بجائے سیاسی اور ذاتی مفادات، انتقامی معاملات اور باہمی اختلافات کے لئے استعمال ہونا شروع ہیں۔

پھر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دے، پولیس ایسے ملزمان کو جعلی مقابلوں میں مارنا شروع کر دے، سرکاری عہدے داروں کی حفاظت پر مامور ریاست کے سکیورٹی ملازمین ہی ان کی جان لینے کے درپے ہو جائیں تو ایسے میں سیاسی استحکام کے لئے قانون سازیوں یا اس پر عمل درآمد سے زیادہ اس کی وجوہات پر تحقیق اور معاشرے کے نفسیاتی علاج سے معاشرے کی مثبت تشکیل کی طرف توجہ دے کر عدم برداشت کے رویے کی اصلاح کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تاکہ قانون، عمل درآمد کرنے والے اداروں اور عدالتوں سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کا ماحول پیدا کر کے عدم استحکام کی وجوہات کو ختم کیا جا سکے۔

عوامی نفسیات کی اصلاح کی غرض سے ان کے شعور میں گھس کر ان کی سوچ اور خواہشات پر سزا و جزا کے خوف کا قدغن لگانا پڑے گا تاکہ وہ ان انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے لئے آئین، قانون اور انتظامی امور میں اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس میں انتہا پسندی کی وضاحت کر کے اس کے لئے قانون کو حرکت میں لانا ہوگا اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی رجسٹریشن کے اداروں کو یہ اختیارات دینا ہوں گے کہ اس طرح کے سانحات میں ملوث لوگوں کا اگر کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق بنتا ہے تو ان کو خبردار کرنے کے لئے ان کو تنبیہ کے طور پر ان کی رجسٹریشن پر سرخ نشان لگا دیا جائے جس کا وہ اپنے جھنڈوں اور دوسرے لٹریچرز پر ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے تاکہ عوام کو یہ پتہ چلے کہ اس جماعت کے کارکنان انتہا پسندی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

جہاں عوام کے سیاسی الحاق اور جماعتوں کی مقبولیت کے لئے سروے کروائے جاتے ہیں وہاں یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ کون سی سیاسی جماعت جمہوریت اور کون سی مذہبی جماعت مذہب کے نام پر عدم برداشت کو فروغ دینے میں ملوث ہے اور ان کی سرگرمیاں اور انسانی جانوں سے کھیلنے کا مکروہ فعل سیاست اور مذہب کو استعمال کر کے ملک و قوم اور مذہب کو بدنام کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

قومی سطح پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور علماء کی ایک کانفرنس بلائی جائے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں برداشت، بھائی چارے، رواداری، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت، قانون کی پاسداری، انتظامی امور میں ریاست کے سربراہ کی اطاعت پر محیط قومی سطح کا بیانیہ مرتب کیا جائے جس پر تمام مکاتب فکر کی تائید کا تاثر موجود ہو اور اسے قومی نشریاتی اداروں کے ذریعے سے عام کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے اور اگر اس کے بر خلاف کسی علاقے سے عوام کو بھڑکانے یا ان کے ذہنوں کو خراب کرنے کی رپورٹس ملتی ہیں تو ایسے مولوی، عالم یا سیاسی قائد کی امامت، خطابت یا عوامی اجتماعات سے خطاب پر مستقل پابندی لگا دی جائے تاکہ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی خرابیوں کا بر وقت کوئی محاسبہ کیا جا سکے اور پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتا تو اس کو پابند سلاسل کر دینا چاہیے۔

اس انتہا پسندی کے ماحول اور سوچوں کی فوری تحقیقات کے لئے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کی خصوصی تحقیاتی ٹیمیں بنائی جائیں جو جائے وقوعہ پر جا کر حقائق کی تہہ تک پہنچیں اور مؤثر اور تیز رفتار انصاف کی فراہمی کے لئے مقدمات کی کارروائی کے لئے وسیع تجربہ رکھنے والے ججز پر مشتمل ایک سپیشل عدالت قائم کی جائے جو روزانہ کی بنیاد پر براہ راست نشریات کے ساتھ ان مقدمات کی سماعت کرے اور اس کے فیصلوں پر فوری عمل درآمد بھی ہو تاکہ ایسے سانحات میں ملوث لوگوں کو عبرت اور معاشرے کے اندر خوف پیدا کر کے سدباب کو ممکن بنانے کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔


بدھ، 9 اگست، 2023

ملکی حالات سے ابھرتے سیاسی خدوخال جمہوری نہیں لگ رہے۔

زمینی حقائق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد جمہوری اقدار ہمیں موافق آتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہیں۔ اس کی ایک وجہ تو قومی سطح پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کا فقدان بھی ہے جو ایک جمہوری نظام کے اندر کامیابی کے لئے لازم ہوتے ہیں لیکن جو ہماری پارلیمان قانونی اصلاحات کر  رہی ہے ان سے ابھرتے ہوئے تاثر سے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں  خود بھی یا تو جمہوریت سے نا امید ہوچکی ہیں یا پھر فی الحال ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ موجودہ  ملکی معاشی حالات میں  ریاست پچھلے ڈیڑھ سال سےجاری سیاسی عدم استحکام کی سوچ اور سرگرمیوں میں  مزید کسی چھوٹ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

جس کی سب سے بڑی وجہ خود سیاسی جماعتیں ہی ہیں جن کو اس دوران کافی موقع دیا گیا کہ وہ اصولی سیاست کی طرف لوٹ آئیں ، جن میں تحریک ا انصاف کا رویہ تو انتہائی قابل تشویش رہا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اپنے آپ کو سیاست سے الگ رکھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے مگرسیاسی حلقوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے مذاج  اس طرح کی آزاد، حساس اور با ختیار سیاست کے عادی نہیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پچھلی سات دہائیوں سےرائج روائتی  سیاست کے عادی ہوچکے ہیں ، جس میں جمہوریت کی روح رواں طاقت اسٹیبلشمنٹ رہی ہے جس  کا انہوں نے  خود بھی کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ہر فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق ہوتا رہا ہے جس کے پیش نظراب ہمارے سیاستدان  بھی ان سہولت کاریوں کے عادی ہوچکے ہیں ۔

نیوٹرل ہوئی ہےتو اس خلا کو پر کرنے کے لئے دوسرے اداروں نے وہی کردار اپنا لیا ہے اور ایسے حالات بنائے جارہے ہیں جن سے یہ پیغام جارہا ہےکہ وہ سیاست کو آزاد نہ چھوڑیں وگرنہ سیاست کا سنبھلنا ممکن نہیں رہے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر سیاست کو جمہوری اور اصولی رکھنے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے

اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری سیاسی جماعتیں یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے  اپنے آپ کو سیاست سے دور رہنے کے دعوے پر یقین رکھتے ہوئے اپنے عمل  سے یہ ثابت کرتیں کہ وہ ان کی اس فیصلے سے خوش ہیں اور وہ آپس میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کراصولی سیاست  وجمہوریت  اور اس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی مستقبل بارے لائحہ عمل دیتیں ۔ اور اگر پھر بھی کوئی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اشارہ ملتا تو ان کو جوابدہ بھی ٹھہراتیں۔مگر وہ نہ تو آپس میں مذاکرات کرسکیں اور نہ ہی پر امن سیاسی اور جمہوری ماحول بنا سکیں۔ جس کو اقتدار مل جاتا ہے وہ دوسروں کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور جن سے اقتدار چلا جاتا ہے انکی سیاست کا محور ملکی فلاح کی بجائے اقتدار کا حصول ہوجاتا ہے اورسیاست کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے زبردستی تحریک انصاف کو حکومت کے ساتھ انتخابات کے انعقاد کے لئے مذاکرات  پر بٹھایا مگر اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہ ہوسکا۔ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہے تھی  لیکن تحریک انصاف کے کچھ قائدین کی طرف سے اب یہ بیانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ عمران خان نے جان بوجھ کر یہ موقع ضائع کردیا  اور پھر 9 مئی کے واقعہ کے دوران ان کے کارکنان کی سرگرمیوں نے تو ان کی ساری کی ساری سیاست کا کٹہ چھٹہ کھول کر رکھ دیا ہے کہ جیسے وہ اس گھمنڈ میں تھے کہ اپنی مقبولیت کے زور پر سب کچھ زبردستی منوا لیں گےاور وہ کسی بھی صورت اقتدر  کے حصول سے کم کسی بھی حالت  میں امن کے حق میں نہیں تھے۔ جس کی ایک دلیل ان کی وہ ساری سیاسی سرگرمیاں ہیں جن کو وہ  وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہوجانے کے بعد سے جاری رکھے ہوئے تھے جس میں ان کی مکملسیاست چوک چوراہوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔جس میں انہوں کئی بیانیے بنائے جن میں ایک سائفر کا بھی تھا جس پر اب ان کے اپنے لوگ ہی سیاسی کھیل کا انکشاف کر رہے ہیں اور عمران خان نے خود کئی یو ٹرن بھی لئے ہیں ۔جس کا آج وہ نقصان بھی اٹھا رہے ہیں ۔

;ان کو چاہیے تھا کہ وہ اگلے انتخابات عوام کی نمائندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوتے۔ جس میں; وہ مکمل طور پر ناکام رہے اور ان کی سرگرمیوں کی بدولت جس میں وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش اور بلا حدود و قیود تنقید کی وجہ سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کا اعتماد کھو بیٹھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب بھی اپنا اعتماد ضائع کر بیٹھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار پر تو اعتراض کیا جاسکتا ہے جس کاعمران خاں سمیت سب حصہ رہےہیں مگر ان کے ایک ریاستی ادارے کے کردار اور ذمہ داریوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر بے جا تنقید کرنی چاہیے۔ عمران خاں وزیر اعظم کے اعلیٰ منصب پر رہ چکے ہیں اس لئے ان کی سوچ اور عمل میں پختگی ہونی چاہیے ۔جب وہ خود اقتدار میں تھے تو وہ فوج کی حکومتی امداد کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور فوج پر تنقید کو ملک دشمنی سے تشبیہ دیتے تھے  ۔ویسے بھی ریاست کے کسی ادارے کے سربراہ کے ساتھ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے  کی خواہش یا  سیاست میں کردار کا مطالبہ نہ تو آئینی طور پر جائز ہے اور نہ ہی جمہوری اور اخلاقی اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں ۔  بلکہ وہ خود  عسکری ادارے کے سربراہ کی اپوزیشن سے ملاقاتوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اب لگتا یوں ہے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال اور خاص کر 9مئی کے بعد کے سیاسی حالات کے پیش نظر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ جب تک ملک کی معیشت سنبھل نہیں جاتی اور پاکستان ترقی کے سفر پرمستقل گامزن نہیں ہوجاتا یا کوئی پائیدار حل نہیں مل جاتا غیر سنجیدہ اور غیرجمہوری سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس سے ابھرنے والا تاثر پھر سے ایک ہائبرڈ جمہوریت   کے خدوخال پیش کر رہا ہے جس کا وزیراعظم شہباز شریف سے صحافیوں کی طرف سے سوال بھی کیا گیا جس پر انہوں نے مبینہ طور پرکہا کہ اگر ایسا تاثر ابھرتا بھی ہے تو وہ یہ سب کچھ ملک کی بہتری کے لئے کر رہے ہیں۔ پھر حکومت میں موجود سیاسی جماعتوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے سخت فیصلے کئے ہیں جن سے وجود پانے والی مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات نے ان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہےاور  ان کے ساتھ رکھے گئے غیر مساویانہ رویوں اورتحریک انصاف کو مہیا کی گئی سہولت کاریوں سے وجود پانے والی صورتحال کے ذمہ داران  کوہی اپنے کئے کو سنبھالنا ہوگا۔

سیاسی جماعتیں 2018 کے انتخابات کےحقیقی  نتائج کے تناسب والے مینڈٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اگر انہوں نے سخت فیصلے کرکے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے تو اس کی وجہ 2018 کے انتخابات کی دھاندلی تھی  جس کا وہ صلہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔جس  کا حل  وہ قوانین میں ترامیم کے زریعے سے  ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس سے مستقبل میں جمہوری حلقوں کو مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عہدے اور سوچیں بدلنے سے حالات بھی بدل جاتے ہیں اور پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسی ایسی قانونی ترامیم کی جارہی ہیں جو بنیادی انسانی حقوق سے بھی  متصادم ہیں جن کی موجودہ حکومت کو قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

"ووٹ کو عزت دو" کا نظریہ بھی بدلا بدلا لگ رہا ہے بلکہ اس کی جگہ اب"طاقت کو عزت دو" کا عملی ماحول بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا مبینہ سول مارشل لاء کا کا تاثر ختم کرنے  کے لئے لاء کو مارشل کیاجارہا ہےتاکہ قانون پرعملدرآمد کے لئے عسکری طاقت میسر ہوکیونکہ جب عدالتوں تک "قانون کی طاقت "کی بجائے "طاقت کے قانون" کی  اشیر باد کو باعث شرف سمجھا جاتا ہے تو پھر قانون کو بھی اسی طاقت سے ہم آہنگ کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اس پر مریم نوازاپنی خاموشی سے شائد حکومت کے موجودہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت سے متصادم قانونی اصلاحات کے گناہوں سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنے کا جواز پیدا کر رہی ہوں مگر انکی آج کی  خاموشی سے  کل لا تعلقی کا دعویٰ کرنا مشکل ہوجائے گا۔  اسی طرح حکومت میں موجود سیاستدانوں کو بھی اگرکل  انہی قوانیں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھریہ مکافات عمل ہی ہوگا۔

مانا کہ اب پاکستان کے پاس زیادہ وقت نہیں کہ وہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور اعتماد کو بحال کرنے اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کے حاصل شدہ مواقعوں کو ضائع کرے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ جس نے بھی سیاست کرنی ہے وہ  آئینی، اصولی اور جمہوری اقدار کے حدود کے اندر رہ کر ملکی مجبوریوں کے پیش نظر اپنی سرگرمیوں کو حالات کی مطابقت میں رکھے ۔ یہاں تک کی سوچ تو جائز ہےاور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسوقت  ریاست کے لئے  معیشت جمہوریت سے بھی زیادہ اہم  ہے مگر اس کی بہتری کا راستہ بھی جمہوریت کی پگڈنڈیوں سے ہی گزرتا ہوا تلاش کرنا ہوگا۔ جمہوریت کو ریگولرائز کرنے کی سوچ تو قابل برداشت ہوسکتی ہے مگر اس کو پابند سلاسل کرنے کی سوچ مزید سیاسی گھٹن پیدا کرے گی۔

اگر ہم پائیدارامن، ترقی اور خوشحالی چاہیتے ہیں تو پھر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا اور اس کے لئے طاقت کے ایوانوں کو با اختیار بنانے کی بجائےپارلیمان اور الیکشن کمیشن کو مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا اور اس کی سربراہی کسی عوامی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی شخصیت کے حوالے کرنا ہوگا اور اس طرح طاقت کے ایوانوں کو بھی محفوظ سوچ کے تحت رکھنے کے لئے وہاں بھی اصلاحات لانا ہونگی جن سے ر یاست کے اداروں کی طاقت کو  آئین کے تحت لا کر اسے پارلیمان کے دست و بازو بنانا ہوگا۔  اختیارات اور ذمہ داریوں کی شراکت اورجوابدہی کاکوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ جمہوریت کو اپنے قومی اقدار سے ہم آہنگ تو بنایا جا سکتا ہے مگر اس کوانسانی حقوق کی پاسداری اورقانونی کی حکمرانی سے جدا کرکے فائدےحاصل نہیں کیا جاسکتے 

جمعرات، 13 جولائی، 2023

سولہ ستمبر کے بعد سپریم کورٹ کا نیا دور شروع ہوگا

قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں عدلیہ آزاد اور مضبوط ہوگی

اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وہی ملک ترقی کرتے ہیں  جہاں انصاف یقینی ہو۔ انصاف ہی جمہوریت، قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق کی پاسداری  اور سیاسی استحکام کو یقینی بناتا ہے۔اور جب یہ تمام شرائط پوری ہوجائیں توعوام کے اندر وہ اعتماد پیدا ہوتا ہے جس سے حق بات کہنے اور سننے کا حوصلہ پیدا ہو ۔پھر عالمی سطح پر اعتماد بحال ہوکر بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوجاتی ہیں  اور حکومت نے شائد اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ کا بحثیت اگلے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن وقت سے پہلے جاری کر دیا ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو۔ ان کے چیف جسٹس بننے سے یقیناً حالات بہتر ہونگے مگرمکمل غیر جانبدار ی اور شفافیت کے لئے عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ جس میں ججز کی تعیناتی کے عمل کو موثر بنانے کی انتہائی ضرورت ہے ۔  

نامزد چیف جسٹس فائزعیسیٰ سولہ ستمبر کو اپنا چارج سنبھالیں گے اور پاکستان میں بہتری کی ایک نوید کا آغاز ہوگا۔ اس بات کو میں کسی مفروضے کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا بلکہ اس کے گواہ ان کے وہ فیصلے ہیں جن کی بنیاد پر کوئی بھی اس ملک کا مقتدر حلقہ ماضی میں ان سے خوش نہیں رہا جس کی وجہ ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف ہے جس کے ہم عادی نہیں ہیں ۔

فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف، فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان ناراض ہوگئے تھے  کیونکہ اس میں انہوں نے واضح طور پر کہاتھا کہ آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آرسیاست میں دخل اندازی بند کریں اور انہوں نے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کا بھی حکم دیا تھا جس کی وجہ سے  ان کو عہدے سے ہٹانے کی کوششیں تیز ترہوتی ہوئی دکھائی دیں اورکئی مفاد پرست ججز کی لاٹریاں بھی نکلیں اور مستقبل کے بندوبست کے پیش نظر ججز کی تعیناتیوں اور بھرتیوں کی منڈی لگی رہی جس کے نتائج آج ہم بھگت رہے ہیں ۔

میمو گیٹ کے فیصلے پر پیپلزپارٹی ان سے ناراض ہوئی ۔کوئٹہ بم دھماکے میں مسلم لیگ کی حکومت ان سے ناراض ہوئی تھی۔ اور ابھی ان کو آڈیو لیک کمیشن  کی سربراہی دینے پر سپریم کورٹ کے اندر پریشانی لاحق ہے جس کو محض ایک پریکٹس کی بنیاد پر  اپنی پریشانی کو سہارا دینے کے لئے قاضی جسٹس فائز عیسیٰ کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح قاضی فائز عیسیٰ کو وکلاء کی ہڑتال پر سخت چڑ ہے کہ سائلین سے بھاری فیس لے کر جب وہ عدالت میں اپنی تاریخ پر آئیں تو وکلاء کی طرف سے ان کے ساتھ پیشی پر اس لئے انکار کر دیا جائے کہ وہ  ہڑتال پر ہیں انتہائی ظالمانہ رویہ ہے ۔

پارلیمان کی طرف سے ان کو دستور کی گولڈن جوبلی پر بلایا گیا اور جس پر ان کو ان کے مخالفیں کی طرف سےتنقید کا نشانہ بھی بنایاگیا۔ وہاں انہوں نے حکومت کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا تھا کہ اگر آپ کل میرے فیصلوں سے کوئی بے جا  نرمی یااصولی مزاحمت سے بچنے  کی امید وابسطہ رکھے ہوئے ہیں تو وہ ختم کردیں ۔   

پھر ان کوان سے مشورہ کئے بغیر  فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں کو سننے والے بنچ میں شامل کرلیاگیا جو ان کی دلیری اور بہادری کی ایک اور مثال بن گئی ۔ ان کو شامل کرنے کی وجہ ایک سلگتی ہوئی خواہش تھی  جس پر ان سے مہر ثبت کروانے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ فوجی عدالتوں بارے ایک واضح موقف رکھتے ہیں ۔ لیکن ان کی آئین و قانون  کی پاسداری کی مثال نے  سب کو بے نقاب کر دیا اور انہوں وہ ساری باتیں بھری عدالت کے سامنے رکھ دیں جو چہ مگوئیوں میں کہی جارہی تھیں ۔ انہوں نے  سپریم کورٹ کے آج کل بنائے جانے والے تمام بنچز پر اپنی عدالتی رائے  کو واضح کردیا کہ ان کے نزدیک بنچز قانونی طور پر جائز نہیں ہیں ۔اور پھر ان کے اس نوٹ کو سپریم کورٹ کے ویب سائیٹ سے بھی ہٹا دیا گیا جس سے تمام نیتوں کی وضاحت  قوم کو مل گئی کہ کس طرح سے سپریم کورٹ کے اندر لوگ ان کی قانونی  رائے سے خائف اور پریشان ہیں ۔

جس بندے نے خود کوئی پلاٹ نہیں لیا وہ  پلاٹوں  کی بندر بانٹ اور ریاستی وسائل سے کھیلنےوالوں کے لئے کیسے قابل برداشت ہوسکتے ہیں ۔ جنہوں نے حفاظ کرام کو بیس نمبروں سے اس لئے محروم کر دیا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے  جس سے اقلیتوں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے ۔

انکے خلاف معزولی کا ریفرنس بھی ان سے ظالمو کو ممکنہ لاحق خطرات کے پیش نظر ہی تھا جو ان کی انصاف کے معاملے میں شفافیت سے خائف تھے۔ جس میں جسٹس فائز عیسیٰ  اور ان کے خاندان کو رسوائی اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر اللہ کی طرف سے ان کی  بے گناہی کا فیصلہ بھی ہوا۔ انہوں نے ایک وقت پر استعفیٰ بھی دینے کا ارادہ کر لیا تھا مگر پھر اس کو صرف اور صرف اس ملک اور عوام کی خدمت کی خاطر ترک کر دیا۔ اب اگر ان کوخدمت کا موقع مل رہا ہے تو یقیناً وہ  عوام کی مشکلات کو کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے اس ریفرنس میں ملوث لوگ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہے  اور سب ایک دوسرے کو بے نقاب کرتے رہے اور اپنی صفائی میں تسلیاں دینے کی کوشش کرتے رہے ۔ اس وقت کی ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے بیانات بھی تاریخ کا حصہ ہیں  جن میں وہ قصورواروں کو بے نقاب کرتے رہے ۔

27 اپریل 2021 کو میرا ایک کالم "مجاہد قاضی فائز عیسیٰ" کے عنوان سے چھپا تھا جس میں نے ان کے اندر ان صلاحیتوں کا ذکر بھی کیا تھا جو ایک جج کے اندر ہونی چاہیں مثلاً اس کو اس عہدے کی خواہش نہ ہو، وہ اہلیت اور قابلیت رکھتا ہو اور  پھر انصاف پر مبنی فیصلے بھی کرتا ہو۔ اسی  کالم سے ایک پیرا   ریفرنس کے طور پر ملاحظہ فرمائیں۔

 قلات کا شہزادہ، بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل جس کو گھٹی میں قضاء ملی اور جب ان کو قاضی کے عہدے کے لئے چنا گیا تو ایک اطلاع کے مطابق انکی تین کروڑ ماہانہ آمدن تھی ۔ ان کے کھاتے میں کئی منفردات جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو براہ راست چیف جسٹس آف بلوچستان ہائی کورٹ لگایا گیا جس کو بعد میں چیلنج بھی کیا گیا مگر وہ اس سے سرخ رو ہوئے اوروہ جن کو نہ تو عزت کی کمی تھی اور نہ مال و دولت کی بلکہ ان کو لانے کا مقصد ہی پاکستان کی عدلیہ کو ایک ایسا جج دینا تھا جس کی واقعی ضرورت تھی "

آج ہماری وہ ضرورت صحیح معنوں میں پوری ہونے کی صورت دکھائی دے رہی ہے ۔ 

جس کو جان کے خطرے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں مگر وہ اپنی رہائش سے پیدل سپریم کورٹ  واک کرتے پہنچ جاتے ہیں ۔ جن کا خدا اور موت کے دن پر مصمم یقین ہے جن کے نزدیک خوشامد اور تعلق  انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ جس کے نزدیک آئین و قانون اور  اس کی پاسداری کا حلف ہی انصاف کا معیار ہو  پھر اس  سے بہتری کی نوید کیوں نہ لگائی جائے ۔ دعا ہے کہ اللہ قاضی فائز عیسیٰ کا حامی و ناصر ہو۔

اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ بہتری کی امیدوں کے لئے ماحول کی زرخیزی کے آثار موجود ہیں مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان  فوائد حاصل کرنے کے لئے مثبت اور جائز اصلاحات کے زریعے سے لاحق خطرات کا سد باب کر سکے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ وہ عدلیہ کا احترام بحال کرنے کے ساتھ ساتھ عام شہری کا احترام بھی بحال کریں گے۔ نظام انصاف کے ماحول میں لاء آف ٹارٹ پرعملدرآمد عدلیہ کی ترجیحات میں شامل ہوگا تاکہ اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی  کو یقینی بنایا جاسکے اور الزامات کی ثقافت اور سیاست کا خاتمہ ہو۔ ریاست کے وسائل کی طاقت سے بنائے گئے قلعے ٹوٹیں گے اورسول بالادستی کو فروغ ملےگا۔

مگر اس کے لئے سیاستدانوں کو بھی پارلیمان کو مضبوط بنانا ہوگا اپنا خوف ختم کرکے احتساب کے عمل میں آزاد اور مضبوط عدلیہ کے قیام کے لئے ان کا ساتھ دینے کی تیاری کرنی ہوگی۔ فیض آباد دھرنا کیس جیسے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے حکمت عملی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ  اس ملک کے ساتھ ہونے والے کھلواڑکا حساب برابر کرکے اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کیا جاسکے۔

اس کے لئے سازگار ماحول 16 ستمبر کے بعد مہیا ہونے والا ہے اور اس کی راہ میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی بظاہر کوئی رکاوٹ دیکھنے میں نہیں آرہی مگر اس کا حوصلہ بہر صورت پارلیمان کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنا ہوگا۔اداروں پر محض تنقید ہی نہیں کرنی ہوتی بلکہ ان کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات  بھی کرنے ہوتے ہیں  تب ہی آئین کی بالادستی کے ثمرات حاصل ہوتے ہیں ۔آئین کے اندر چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو مکمل طور پر فعال اور موثر بنانے کے لئے اصلاحات لانے کا ماحول بھی سازگار اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے   نظام کو بہتر بنانے کا بہتریں موقعہ ہوگا۔مکمل اور آزاد عدلیہ کے لئے احتساب کے عمل کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے جس کا آغاز بھی نظام عدل سے ہی ہونا چاہیے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ ججوں کی تعیناتی اور بنچز کی تشکیل وغیرہ بارے اپنی سوچ کا اظہار متعدد بار کر چکے ہیں اور وہ یقیناً اس کے لئے  کوشش بھی کریں گے مگر  پارلیمان کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت ہے ۔

سپریم کورٹ  کے اندر کی تقسیم  محض چیف جسٹس کے بدل جانے سے ختم نہیں ہوجائے گی۔ اس تقسیم کی بنیاد وہ بندوبست ہے جس کو دہائیوں پر مشتمل اقتدار کے خواب کے پیش نظر عمل میں لایا گیا۔ عدلیہ کے ساتھ اس اقتدار کو ہم آہنگ بنائے رکھنے کے لئے ہم خیال ججز کو بھرتی بھی کیا گیا اور اعلیٰ عدلیہ میں تعینات بھی کیاگیا جس کے مبینہ شواہد بھی گردش کر رہے ہیں اور ان کی سب سے بڑی وجہ ان تعنیاتیوں میں سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی ہے جس نے ان تمام خدشات کو جنم دیا۔ اب ان مبینہ شواہد کی بنیاد پر عدالتوں کی غیر جانبداری اور شفافیت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی ضروری ہے  تاکہ عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کرکے ادارے کی ساکھ کو بچایاجاسکے۔جس کے لئے قاضی فائز عیسیٰ پر ایک بھاری ذمہ داری ہے جس کے لئے  سپریم کورٹ کے ججز اورحکومت کو بھی ساتھ دینا چاہیے  تاکہ ملک میں آئین و قانون کی پاسدار کو یقینی بنایا جاسکے۔  تمام وہ فیصلے جو عدلیہ کی بدنامی کا سبب بنے ان کی تلافی بھی ضروری ہے۔ 

اتوار، 25 جون، 2023

قوم حکمرانوں سے شاہی محلات خالی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔

جس ملکی کی دو تہائی  آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہو ۔ ملک بدحال معاشی صورتحال کا شکار ہو ۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں تو اس ملک کے حکمران ، سربراہ یا مقتدر طاقتیں عالی شان محلوں میں نہیں رہتے ۔ مساوات ، محبت اور بھائی چارے کا تقاضہ یہ ہے کہ سب کا طرز زندگی ایک جیسا ہو ۔ سب کو ریاست کے وسائل تک برابر رسائی حاصل ہو جس کی بنیاد ضروریات ہوں ، بحثیت شہری برابری کے حقوق ان کی بنیاد کا پیمانہ ہوں ۔

جب انسان کو آسودگی حاصل ہوتی ہے اور اس کا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے تو اس کو دوسروں کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہوتا ۔ جن کی بجلی کبھی جھمکی بھی نہ ہو ان کو ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال لوگوں کی تکلیفوں کا کیا اندازہ ہو۔جن کے پاس موجود شاہانہ زندگی کے وسائل ریاست کے خزانے سے موجود ہوں خواہ وہ بھاری بھرکم سودی قرضوں سے ہی حاصل ہورہے ہوں ان کو کیا احساس کہ لوگ  کس طرح گزر بسر کررہے ہیں یادو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔

اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسئلہ غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کا سبب عوام  نہیں بلکہ اس کا سبب اس ملک کے وسائل کے بلبوتے پر آسودہ حال لوگوں کے اعمال اور کارنامے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں بائیس کروڑ عوام کے مستقبل کو آج کی اس تاریک صورتحال میں دھکیلا ۔ ان کو یہ احسان نہیں ہوا کہ وہ اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں مگر غریب عوام جن کی جیب سے ان کو آسودگی میسر تھی ان کا کیا بنے گا ۔ وہ عوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے رہے اور خود کو اس ملک کے تمام وسائل کا مالک سمجھتے رہے ۔

اب انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور بشمول تمام سرکاری خزانے سے مستفید ہونے والے محکموں کو شاہی محلات سے باہر نکال کر ایک عام شہری کی طرز زندگی  پر رہن سہن میں لایا جائے تاکہ ان کو احساس ہو کہ اس ملک کے غریب عوام کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اور تب ان سے یہ امید وابسطہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کا کچھ کریں گے وگرنہ محض خالی دعووں اور دلاسوں نے تو ستر سالوں سے اس ملک کا یہ حال کردیا ہے۔

اب بھی ان کے عمل سے کوئی بہتری کا نشان نظر نہیں آتا۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینٹ کے چئیرمین ، وائس چیئرمین اور کمیٹیوں کے سربراہان کی مراعات بارے قانون بنانے کی کوشش کی گئی ہے  جس سے ان کی نیتوں کو خوب بھانپا جاسکتا ہے۔ ان کو تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو باہر کہیں سے قرض نہیں مل رہا ۔ اب یہ صورت حال ہوچکی ہے کہ ان کو کوئی سود پر قرضہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ وگرنہ یہ کفائت شعاری کےتو محض کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں عملی طور پر سب صفر ہے۔  

ان کو رضاکارانہ طور پر تمام سہولتیں اور مراعات ختم کردینی چاہیں اور اجلاس بھی قناتوں اور سائبانوں کے نیچے ہونے چاہیں۔ تمام سیکیورٹی اور پروٹوکول ختم کردینا چاہیے ۔ جان ، مال ، عزت سب کی برابر ہے ۔ اگر کسی کو اپنی جان اتنی ہی پیاری ہے تو کوئی مجبوری نہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے اور اپنے وسائل پر اپنی حفاظت کا بندوبست کرے۔ عوام کو ان کا درد محسوس کرنے والے ان کی حالت زار کو سمجھنے والے عوامی نمائندے چاہیں ۔جو باقی سرکاری محکوں کے لئے سادگی اور مساوات کی مثال قائم کرکے ان کے لئے ترغیب کا سبب بنیں اور ان کو برابری کے پیمانے پر وسائل سے مستفید ہونے کے لئے مجبور کرنے کا اخلاقی اور قانونی جواز بھی رکھتے ہوں ۔

وگرنہ  محض نعرے تو کئی مہینوں سے پارلیمان کی عالی شان عمارت میں لگ رہے ہیں لیکن وہاں سے کوئی سادگی اور برابری کی مثال دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔

قوموں کے مسائل باتوں سے حل نہیں ہوتے عمل سے ہوتے ہیں ، محنت سے ہوتے ہیں ۔ تعجب ہوتا ہے جب حکومت میں موجود قومی اسمبلی کے ممبران یا وزراء بڑے بڑے جلسوں میں بہت ہی اچھی باتیں کرتے ہیں ۔ کہ ایسا ہونا چاہیے ۔ یوں ہونا چاہیے ۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ ملک و قوم کے اختیارات تمھارے پاس ہیں وسائل تمھارے حکم کے تابع ہیں تو پھر یہ انتظام و انتصرام کس نے کرنا ہے۔ 

اگر عمل کرنے والا کوئی ہو تو ایک دن کےانتظام سے ہم سورج کی حدت سے سولر سسٹم کے زریعے اپنی دن بھر کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں اوررات کو مارکیٹوں کو بند کرکے  تقریباًپانچ ہزار میگا واٹ کے سرپلس پر جاسکتے ہیں۔ مگر ہمارے حکمرانوں ترجیحات اگر عوام کی خدمت بنیں تو۔ 

یہ ایک توانائی کے متعلق مثال ہے ۔

آج دنیا میں جو نظام حکومت میں محکموں کا ماڈل ہے اس کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کیا اور ان کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ آپؓ کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ آپؓ کے لیے 40 درہم میں خرید لیا۔ بعد ازاں غلام نے آپؓ کو یہ بتایا کہ آپؓ کا کیا ہوا عہد پورا ہو گیا اور وہ آپؓ کے لیے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا

فتصدق بهما، فانی اکره ان آکل اسرافا،کيف يعنينی شان الرعية اذا لم يمسسنی ما مسهم۔ (المنتظم، 4: 250

ترجمہ: ‘تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں، مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہو گا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے۔

پاکستان کا اصل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس کا نام اور اس کا آئین جو قرآن و سنت کے قوانین کو اس ملک کے نظام کا اساس مانتا ہے اور اس پر عمل کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے وہ یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ  مساوات کو رائج کرنے کے علاوہ کوئی بھی پیمانہ اب قابل عمل نہیں رہا اور نہ ہی اس کے علاوہ موجودہ مشکلات کا کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس سے ہٹ کر  کسی درجے کو رائج رکھنے کے جواز کا حق رکھتا ہے ۔ 

ہمارے قومی مسائل کا حل کیا ہے؟

میرے نزدیک ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہماری سوچ ہے، جو عموماً ذات تک محدود رہتی ہے۔ ذاتی مفادات فطری ہیں، مگر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انہیں قومی اور اجتماعی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ اسی سوچ کے باعث ہم نہ صرف اجتماعی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے نقصان بھی پہنچاتے ہیں، جو ایک قوم بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقی قومی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنے اندر ملک اور اس کے وسائل کے ساتھ وابستگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں۔

میڈیا لنکس

میگزین