سوچ کی غذا

جمعہ، 16 ستمبر، 2022

علم نجوم کی سیاسی، سائنسی اور قانونی حیثیت

قسمت اور مستقبل کا حال بتانے کو کچھ لوگ علم کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں ۔ جن میں سیاستدان اور مشہور شخصیات بھی شامل ہیں اور آجکل پاکستان کی سیاست میں اس کی بنیاد پر بڑے بڑے مشہور ٹی وی چینلز پر نام نہاد نجومیوں کو بلا کر پروگرام کئے جاتے ہیں اور پھر ان کی تشہیر بھی کی جاتی ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی سچائی کے بھی خود ساختہ دعوے اور چرچے کئے جاتے ہیں ۔

سادہ عوام ان کو دیکھ کر یقیناً تاثرات بھی لیتے ہونگے اور ان کی بنیاد پر جب بڑے بڑے نامی گرامی اینکرز پروگرامز میں ان کا پرچار کرتے ہیں اور پھر ان کو ماضی سے جوڑ کر ان نام نہاد نجومیوں کے دعووں کو سچا بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف عوام میں رائے ہموار ہوتی ہے بلکہ لوگوں کی ذہن سازی بھی کی جارہی ہوتی ہے ۔ اور لوگ اس پر یقین کرتے ہوئے اپنے خیالات اور سوچوں کو بھی بدلتے ہیں اور اس سے متاثر ہوکر اس کے پرچار کا حصہ بھی بنتے ہیں اور پھر ایک رجحان کے زریعے سے خود بھی اس قسمت کا حال جاننے کے علم کا حصہ بنتے ہیں اور ان نجومیوں کے ہتھے چڑھ کر نہ صرف اپنی دولت ضائع کرتے ہیں بلکہ مختلف توہمات پرستی پر مبنی شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔

میں یہ بتاتا چلوں کہ ایک بات بہت ہی واضح ہے کہ اس کی اب تک کوئی بھی سائنسی طور پر حیثیت نہیں اور نہ ہی سائنس اس کو تسلیم کرتی ہے ۔ اور نہ ہی اس کو دنیا میں یا پاکستان میں کوئی قانونی تحفظ حاصل ہے ۔ نہ ہی ان خدشات کو کسی عدالت میں ثبوت کا درجہ حاصل ہے ۔

پہلے سیاسی بابے ہوا کرتے تھے اور طوطوں سے فالیں نکلوانے کے لئے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر جہالت کے سہارے اپنی دال روٹی چلا رہے ہوتے تھے اب تو جوانیاں گھائل ہوتی جارہی ہیں اور جدید نام نہاد علم نجوم کے ماہرین فائیو سٹار ہوٹلز میں قیام کرتے ہیں اور لوگوں کے نصیبوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں ۔

اب تو یہ سائنسی علوم کی بھی ایسی تیسی کر رہے ہیں ۔ ہماری سیاست میں سیاسی علوم اور اصول و اسلوب بھی ان کی مرہون منت لگ رہے ہیں ۔ اپنی افواہوں اور پشینگوئیوں سے یہ کسی کو وزیر اعظم کی خوشخبری دے رہے ہوتے ہیں تو کسی کو جیل میں بند کروارہے ہوتے ہیں کسی کے جہاز کو گرا رہے ہوتے ہیں تو کسی کو گولی مروا رہے ہوتے ہیں۔ اتنی چالاکی سے تمام ممکنات کو گوں مگوں کے مسالے میں تڑکہ لاگا کر پیش کرتے ہیں کہ کل اگر غلط بھی ثابت ہوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی شک کے شبہ کا جواز مہیا کرکے اپنے جھوٹوں پر پردہ ڈال سکیں ۔

اور پھر ان پشینگوئیوں سے سیاسی انتشار اور غیر یقینی کی صورتحال کو جنم دے رہے ہوتے ہیں ۔ کچھ اسی سوچ کے صحافی بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور جیسے صحافیوں پر لفافی کے الزامات لگتے رہتے ہیں اسی طرح کیا پتا ان کے بھی مقاصد کے پیچھے لفافوں کا ہی ہاتھ ہو کہ یہ اپنے اندازوں سے کسی کو نقصان تو کسی سے فائدہ دینے کی اجرت وصول کر رہے ہوں ۔

 کچھ اس کو مذہب کا درجہ دینے کی بات کرتے ہیں وہ ان خیالات اور سوچوں کو اخلاقی پہلوؤں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں تو اس کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس طرح کی سوچوں والے خود علم نفسیات کے ابواب کا موضوع ہیں اور ان کے اندر ایک خاص سوچ اور خیال غالب ہوتا ہے جو نفسیاتی مرض کا درجہ رکھتا ہے ۔  مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں اس کی چیدہ چیدہ مثالیں تو تھیں مگر اس کی دور جدید میں اصل بنیاد بھی انڈیا سے شروع ہوئی ہے اور اس طرح اس کو توہمات پرستی کی ایک جدید صورت کہا جاسکتا ہے ۔

بلکہ مذاہب نے تمام علوم کی حوصلہ افزائی کی ہے مگر علم نجوم اور ہاتھوں کی لکیروں کے زریعے سے احوال کو جاننے اور جادو ٹونے وغیر  کی طرز کے اعمال کی حوصلہ شکنی کی ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ اگر اس طرح کے علوم انسان کے لئے فائدہ مند ہوتے تو ادیان الہی میں ان کی نفی نہ کی گئی ہوتی ۔

اگر جھوٹی خبروں کو پھیلانا جرم ہے تو پھر خدشات کی بنیاد پر جھوٹی افواہوں کو پھیلانا کیا جرم نہیں؟ اور ان کی بنیاد پر افراتفری کو ہوا دینا ملک کی سیاسی صورتحال کو خراب کرنا اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا جرم نہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بھی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ۔

ویسے بھی جو علم احوال کے بارے خدشات تو رکھتا ہو مگر ان کی تبدیلی بارے کوئی اس کے پاس اختیار یا حل نہ ہوتو ایسے علم سے تذبذب ، انتشار اور مایوسیوں کی امید تو کی جاسکتی ہے مگر بہتری کی توقع ممکن نہیں ۔

کسی بھی طرح کے خیالات اور سوچوں پر عمل پیرا لوگوں کے پاس اپنی تسلی اور پیروکاروں کے اطمنان کی خاط دلائل تو موجود ہوتے ہیں مگر ان کی بنیاد پر سائنسی ہونے کی کوئی شہادت نہیں ملتی اور نہ ہی کوئی عقلی جواز سے رشتہ بنتا ہے  لہذا بہتر یہی ہے کہ معاشرے کو اس طرح کے بگاڑ پیدا کرنے والے خیالات پر مبنی لٹریچر سے دور ہی رکھا جائے اور عوام کو اس کے نقصانات سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے

لہذا حکومت کو اس پر نوٹس لینا چاہیے اور پیمرا کو بھی اس طرح کے پروگرامز پر پابندی لگانی چاہیے ۔ پاکستان میں اس طرح کے اندازوں کی قبولیت یا ان کے سدباب کا کوئی واضح قانون تو موجود نہیں مگر اس طرح کے خدشات اور افواہیں جو انتشارپھیلانے کا باعث بن رہی ہوں بارے قوانین ضرور موجود ہیں جن کے اطلاق سے ان مداریوں سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکتا ہے

اتوار، 11 ستمبر، 2022

زبان سیکھنے کا فن

زبانیں انسانوں کے آپس میں روابط اور معاشرت کی تعمیر کا زریعہ ہوتی ہیں ۔ زبانیں تہذیب تمدن کے پروان چڑھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور کسی بھی قوم یا قبیلے کی پیچان بھی ہوتی ہیں ۔

اور اگر کسی کے ساتھ رابطہ یا معلومات کو شئیر کرنا ہوتو اسکی زبان کو جاننا ضرورت بن جاتا ہے ۔  علم کا حصول بھی زبان کے علم کے بغیر ممکن نہیں اور اس وقت دنیا  میں جس زبان کو سیکھنا ہر اعتبار سے دنیا کی مجبوری بنی ہوئی ہے وہ انگریزی زبان ہے ۔ گو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے  اس ضرورت کو کافی حد تک  پورا کردیا ہے مگر زبان کو سیکھنے کی افادیت سے پھر بھی انکار ممکن نہیں ۔ کچھ آسان سے طریقے درج ذیل ہیں 

کوئی بھی زبان سیکھنے کے لئے پانچ سے چھ سو لفظوں کو سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اتنا زیادہ زخیرہ الفاظ نہیں ۔ اور یہ زبان دانوں کی تحقیق ہے کہ بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو وہ پہلے پانچ چھ ماہ صرف سنتا رہتا ہے اور پھر چھ ماہ کے بعد وہ چھوٹے  چھوٹے ٹوٹے پھوٹے فقرے بنانا شروع کرتا ہے  ۔ لیکن چند باتیں قابل غور ہیں جن میں پہلی بات یہ ہے کہ بچے بغیر کسی کوشش کے  سیکھتے ہیں اور دوسرا ن کا سیکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا  جس کی وجہ سے وہ ذہن پر اس کا دباؤ بھی نہیں لیتا ۔ اس کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ وہ کتنا مشکل کارم کر رہا ہے بلکہ وہ شوق سے کر رہا ہوتا ہے ۔ وہ بلا ارادہ ماحول سے سنتا رہتا ہے اور اس طرح یہ سننا اس کے زبان سیکھنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ دوسری توجہ طلب  بات یہ ہے کہ  بچے کو یہ احساس نہیں ہوتا  کہ وہ غلط کہہ رہا ہے یا صحیح تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بولنے کی مشق کرتے ہوئے یہ پریشانی نہ ہو کہ میں صحیح بول رہا ہوں یا نہیں ۔

اسی طرح ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی زبان سیکھتے وقت غیرزبان دانوں کو نہ سنیں ۔ ہمیشہ   اہل زبان کو ہی سنیں ۔ اور اہل زبان میں سے بھی کسی  اپنی پسند کی مشہور شخصیت کو  جس کی آواز  اور لب و لہجہ آپ کو پسند ہو اس کو سننے کی عادت بنا لیں ۔ جس طرح سیرت کی کتابوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ اس وقت بچوں کو دیہاتی علاقوں میں بھیجنے کی ثقافت تھی ۔ جس طرح حضورور اکرم  ﷺکو بھی  حلیمہ سعدیہ کے ساتھ بھیجا گیا تھا ۔ اس کا مقصد خالص زبان اور ثقافت کو سیکھنا ہوتا تھا ۔

آپ نے مشاہدہ کیا  ہوگا کہ بچے جس طرح کے ماحول میں رہتے ہیں اسی طرح کی زبان بولنا شروع کردیتے ہیں بلکہ الفاظ اور لہجہ و انداز بھی وہی ہوتا ہے ۔  اسی لئے  کہتے ہیں کہ ہمیشہ کوئی بھی زبان سیکھنی ہو تو اہل زبان  سے سیکھیں ۔ اگر ہم اپنے جیسوں سے سیکھنے کی کوشش کریں گے تو ان کی کمیاں بھی ہمارے اندر آجائیں گی اور پھر ان کی اصلاح  نئے سرے سے سیکھنے سے بھی زیادہ مشکل ہوگی ۔  

اور کبھی بھی شروع میں  اس بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ سمجھ نہیں آرہی ۔ کیوں کہ جیسا میں نے پہلے بھی بتا یا ہے کہ  بلا کوشش زبان سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بغیر کسی پریشانی اور تعطل کے چھ مہینے تک یہ سننے کا سلسلہ جاری رکھیں تو چھ مہینے کے بعد خود بخود ہی بولنا شروع کر دیں گے اور اس سلسلے کو  کبھی بھی صحیح غلط کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے ۔

پھر ایک اور اہم راز یہ ہے کہ زبان ہمیشہ مجبوری کی صورت میں ہی سیکھنا آسان ہوتی ۔ میر ا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ماحول میں آپ کے پاس جب اس زبان کے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ہوتا تو پھر زبان جلدی بولنا آتی ہے ۔ دوسرا راز شوق میں ہے جب اس کے ساتھ شوق بھی شامل ہوجائے تو پھر کبھی انسان تھکتا نہیں ہے ۔ انسان ہمیشہ نا پسند چیزوں سے اکتا ہٹ محسوس کرتا ہے ۔ محبت اور شوق سے کبھی تنگ نہیں آتا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مہارت کے لئے مشق کی ضرورت ہوتی ہے اور جتنی زیادہ مشق ہوتی جاتی ہے زبان میں روانی آتی جاتی ہے ۔ جس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے وگرنہ کوئی بھی زبان ہو اس کے لئے جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ پانچ سے لے کر چھ سو تک زخیرہ الفاظ چاہیے ہوتے ہیں ۔ اور ان ہی الفاط سے فقرے ترتیب پاتے ہیں جو  بار بار ہماری گفتگو میں دہرائے جاتے ہیں ۔ اور جب ہم کسی زبان  میں روانی کو پا لیتے ہیں تو پھر ہم بغیر سوچے سمجھے بولے جارہے ہوتے ہیں ۔

اس مہارت کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اندر یہ احساس ختم ہو کہ ہم کوئی نئی زبان بول رہے ہیں یا یہ ہمارے لئے نئی زبان ہے یا اس کو بولنے میں ہمیں مشکل درپیش ہے ، یا اس کو میں غلط بول سکتا ہوں ۔  ہمارے ذہن کے اندر یہ وہ خدشات اور خوف ہوتا ہے جو ہمیں بولنے سے دور رکھتا ہے یا مشکل کاسبب بنتا ہے ۔

سیکھنے میں ہمیشہ دو باتیں رکاوٹ بنتی ہیں ایک خوف اور دوسرا یقین ۔ آپ کہیں گے کہ خوف کی حد تک سمجھ آتی ہے مگر یقین کی سمجھ نہیں آرہی تو اس پر پھر کبھی بات کریں گے ۔ اشارہ دیتا چلوں جب انسان یہ یقین بنا لیتا ہے کہ وہ جو کچھ جانتا ہے ، دیکھ رہا ہے یا سن رہا ہے وہ ہی ٹھیک ہے تو پھر یہ یقین ہی اس کے سیکھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔  

تو ان خدشات اور خوف کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک تو ہم اس فکر کے بغیر کہ ہم نے کوئی زبان سیکھنی ہے  فقط اس زبان کو سننا شروع کردیں ، اہل زبان کو سنیں اور حقیقی عملی زندگی کے بارے پروگرامز کو سنیں ۔ جن میں خبروں اور تبصروں والے پروگرام بھی مدد گار ہوسکتے ہیں  لیکن اگر ہم بول چال سیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں فلمیں اور ڈرامے سننے چاہیں ۔ کیونکہ عملی بول چال میں استعمال ہونے والے الفاظ اور فقروں کا سٹرکچر روزمرہ کی بول چال سے ہی مل سکتا ہے ۔

شروع میں سمجھ آئے یا نہ آئے  ۔ اس مشق کو جاری رکھنا چاہیے ۔ یہ مشق مشکل ضرور ہے مگر زبان سیکھنے کا صحیح اور پائیدار حل صرف یہی ہے ۔ تھوڑا وقت لگے یا زیادہ اس کی صحیح اپروچ یہی ہے ۔

تو ان ڈراموں اور فلموں کے زریعے سے ہم نے اپنا ماحول بنانا ہوتا ہے ۔

ایک اور اہم راز یہ ہے کہ جب آپ کو تھوڑی بہت سمجھ آنا شروع ہوجائے تو  کبھی بھی بولنے میں جھجک محسوس نہ کریں ۔ اور دوسرا یہ کہ آپ سوچنا بھی اسی زبان میں شروع کردیں ۔ صحیح طرح سے زبان آتی ہو یا نہ آتی ہو ، جیسی بھی آتی ہو اس کو اپنی سوچوں میں شامل کر لیں ۔ سوچوں کا ساتھی بنا لیں ۔

اس سے ایک جو پہلا فائدہ ہوگا وہ یہ ہے کہ ہمارے اندر سے یہ احساس آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جائے گا کہ ہم کوئی اجنبی زبان بول رہے ہیں جو ہمارے بولنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتا ہے ۔ اور آہستہ آہستہ یہ  مشق ہماری عادت بننا شروع ہوجائے گی اور اس طرح یہ خود اعتمادی میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے گی ۔ اور ہم یہ محسوس کرنا شرع کر دیں گے کہ ہم بول سکتے ہیں ۔

جب اعتماد بحال ہوگا تو سمجھ لیں کہ  وہ زبان سیکھنا آپ کے لئے آسان ہوگیا ہے ۔

اور سوچتے سوچتے ایک موڑ ایسا آجائے گا کہ بلا سوچے سمجھے آپ بولنا شروع کردیں گے اور یہ ہی کامیابی کی طرف پہلا قدم اور  ثبوت ہوگا ۔

لیکن کوئی بھی کام سیکھتے وقت اس کے طریقہ کار کو صحیح رکھنا چاہیے تاکہ یہ جب آپ کی پختہ عادت بنے تو اس کے اندر غلطیوں کا احتمال بلکل نہ ہو یا کم سے کم ہو ۔ کیونکہ اصل خطرات غلطیوں کا پختہ عادت بن جانا ہوتا ہے ۔

مثلاً اگر آپ ڈرائیوری سیکھنا شروع کریں تو چاہیے کہ گاڑی  کو اصولوں کے مطابق چلانا سیکھیں ۔  اگر شروع سے اصولوں کے مطابق عادات پختہ ہونگی تو پھر کبھی ڈرائیونگ کے دوران غلطیوں کی گنجائش نہیں ہوگی ۔ اور جب غلطیوں کے ساتھ ڈرائیونگ پختہ ہوجائے گی تو پھر اس کو درست کرنا انتہائی مشکل ہوجائے گا ۔

اسی طرح اگر شروع سے ہی غلط تلفظ اور غلط سٹرکچر کی عادت بن جائے گی تو پھر  بعد میں ان کی تصحیح انتہانی مشکل ہوجائے گی ۔ ایک تو اہل زبان کو سمجھانا مشکل ہوگا اور دوسرا  سمجھنے میں بھی دشوار ی ہوگی ۔

تو اگلے مضمون میں ہم ان الفاظوں کا زخیرہ حاصل کرنا شروع کریں گے اور کوشش کریں گے کہ کسی اہل زبان کی آواز میں سننا شروع کریں اور میں کوشش کرونگا کہ آپ کو شروع میں آسان سی وڈیوز تجویز کروں جن کو سننے میں دقت بھی کم ہو اور سمجھ بھی زیادہ آئے

منگل، 6 ستمبر، 2022

ذہانت کو کیسے بڑھایا جائے؟

انسان کے اندر بے بہا خصوصیات ہیں اور جو سب سے بڑھ کر  ہے وہ اس کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہے  جو اس کو دوسری مخلوقوں سے اشرف بناتی ہے ۔

آپ کے ماحول  میں کئی ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی ذہانت کی بنیا د پر معاملہ فہم ہونے کی وجہ سے معاشرے میں عزت کی   نگاہ سے دیکھے اور پہچانے جاتے ہیں اور یقینا  آپ کو ان پر رشک  بھی آتا ہوگا ۔

اس ذہنی استعداد کو انسان کا  آئی کیو  (انٹیلی جنس کوشنٹ) کہا جاتا ہے جس کو دیکھنے کے لئے انسانی کی نفسیاتی ، علمی اور معاملہ فہمی کی  استعداد کو دیکھا جاتا ہے ۔ جس کا فارمولا کچھ یوں ہے 

آج ترقی یافتہ ممالک میں آئی کیو کے زیادہ ہونے کی وجہ ان کا ماحول تربیت اور اس بارے مشقیں ہی ہیں ۔ اور اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آئی کیو لیول سنگا پور میں ہے جو۱۰۸ ہے ، جاپان کا ۱۰۵ہے اور امریکہ کا نمبر ۹۸ ہے

اور ہمارا پاکستان کا ۸۲ ہے اور دنیا میں ہمارا بہترواں نمبر ہے اسی طرح انڈیا کا  ۸۱  ہے اسکا دنیا میں چھہترواں نمبر ہے ۔

اسی طرح دنیا کی مشہور شخصیات مین سے ایلن مسک کا آئی کیو لیول ایک سوپینسٹھ ہے اور بل گیٹس کا ایک سو ساٹھ اور آئن سٹائین کا ایک سو باسٹھ تھا ۔ ایک ایورج بندے کا آئی کیو لیول پچاسی سے ایک سو دس کے درمیان میں ہوتا ہے ۔

جس طرح سے ہم  کسی بھی جسمانی استعداد کو بڑھانے کے لئے اس کی مشق کرتے ہیں مثلاً اعصاب کو مضبوط کرنے کے لئے ہم جم جاتے ہیں ورزش کرتے ہیں  با لکل اسی طرح ذہنی استعداد کو بڑھانے کے لئے بھی ذہنی سرگرمیوں کی مشق کی جاتی ہے ۔ اور ان مشقوں میں سوچنے اور مطالعہ کی عادت ہے ۔ جس کی یہ عادت جتنی زیادہ مشق سے گزرے گی اتنی ہی ذہانت  بڑھتی چلی جائے گی ۔

اگر آپ بھی اپنی اس صلاحیت کو بڑھا لیں گے تو  اپنی مشکلات کو حل کرنے  کے ساتھ ساتھ  دوسروں کی مدد کرکے  نہ صرف معاشرے میں  مناسب مقام حاصل کرلیں گے  بلکہ روزمرہ کی بہت ساری دشواریوں سے بھی بچ جائیں گے لوگوں کی چالاکیوں اور  شاطرانہ چالوں سے بچنے کی صلاحیت بھی پالیں گے ۔ اگر طالب علم ہیں تو پڑھائی میں بہتر ہوجائیں گے ۔

آپ نے محاورہ سنا ہوگا کہ

 ہیلدی باڈی ہیلدی مائنڈ

نیورو سائنس بہت ہی واضح طور پر کہتی ہے کہ جب ورزش سے آپکے جسم  میں خون کی گردش تیز ہونے سے تمام اعغا مضبوط ہوتے ہیں اسی طرح انسانی دماغ کے خلیے بھی مضبوط ہوتے ہیں ۔ لہذا ضروری ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کی جائے جن میں ایربک ایکسرسائز ، واک وغیرہ آتی ہیں ۔

اس کے لئے نیند کا پورا کرنا بھی بہت فائدہ مند ہے تاکہ دماغ کو بھی آرام کرنے کا موقعہ ملے ۔

سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔ انسانی ذہن جتنا دیکھنے سے سیکھتا ہے وہ پڑھنے اور سننے سے بھی نہیں سیکھ سکتا ۔  

پھراس میں  اچھی خوراک کا بھی بہت عمل دخل ہے جس طرح جسمانی طاقت کے لئے مختلف وٹامنز ، پروٹینز اور منرلز کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دماغ کے خلیوں کو بھی متوازن غذا جس میں اینٹی آکسیڈنٹس  ، وٹامنز، پروٹین اور منرلز وغیرہ  شامل ہوں انتہائی ضروری ہیں ۔

اس کے بعد جب ذہن کی طبی ضروریات پوری ہوجائیں گی تو پھر دماغ کو ذہانت کے حصول کے لئے  سوچنے اور مطالعہ کرنے کی مشق کی ضرورت ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ جو شخص سوچنا چھوڑ دے اس دن سے وہ کند ذہن اور جس دن وہ پڑھنا چھوڑ دے اس دن سے وہ جاہل شمار ہوگا ۔ تو یہ ہی وہ دو صلاحیتیں ہیں جن سے انسان کے پاس علم  اور ذہانت دونوں بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔  

تو اس کی مشق میں خیالی طور پر اپنے آ پکو چیلنجز سے کھیلنے والا بنانا پڑتا ہے ۔ اپنے اردگرد کے ماحول کے مسائل کے حل کو تلاش کرنے کی عادت کو اپنا لیں

اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ روزانہ پندرہ منٹ سے لے کر پنجتالیس منٹ تک اس بارے مشق کرنی چاہیے جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ کسی بھی خیالی مشق پر کام شروع کریں اور اپنے تمام تر حواس خمسہ کو استعمال کرتے ہوئے اس پر غور کریں ۔ جس سے آ پکے دماغ کی تمام کی تمام صلاحیتیں بڑھتی چلی جائیں گی ۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہا ہے  کہ انسانی دماغ کے اندر بھی باقی بدن کی طرح کے سیلز ہی ہوتے ہیں جو استعمال ہونے سے اپنی طاقت کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں ۔ بلکہ اسی طرح جیسے جسمانی ورزش سے آپکے بدن کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں اسی طرح سے دماغ کے خلیوں کو استعمال کرنے سے دماغ کے خلیے بھی اپنی صلاحیتں بڑھاتے چلے جاتے ہیں ۔

اس کا طریقہ کار یہی ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ آپ کوئی بھی خیالی یا حقیقی مسئلہ کو اپنے  ذہن میں لائیں اور اس کے حل کو تلاش کرنے کی کوشش کریں اور خیالوں میں ہی اپنی ذہن پر دباو ڈالیں اور آپکی مشق اس طرح کی ہونی چاہیے جس سے تمام کے تمام حواس خمسہ کا استعمال ہو جن میں سونگھنے ، سننے ، دیکھنے ، چھونے  اور محسوس کرنے کی صلاحیتیں ہیں جن کو آپ تخیلیاتی طور پر سر انجام دے سکتے ہیں  ۔

مثبت سوچ کا ذہانت بڑھانے میں بہت اہم کردار ہے ۔ اور تحقیق سے یہ بھی ثابت ہے کہ بغض، حسد ، نفرت، لالچ ، غیبت اور جھوٹ جیسی سماجی برائیوں میں ملوث ہونے سے بھی دماغ کے اندر خوف کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور اس سے ذہانت پر برے اثرات پڑتے ہیں ۔ لہذا ان سے دور رہنا بھی ضروری ہے

اس کے علوہ حساب کتاب کی مشق ، میتھ کے مضمون کو اپنا پسندیدہ بنا لیں  اس سے دماغ کو لوجیکل حل ڈھونڈنے کی مشق سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ شطرنج کا کھیل  اور دماغی ماہرین نے آجکل کمپیوٹر پر  پزلز اور کراس ورڈ کی طرز پر بہت ساری گیمز بنائی ہوئی ہیں جو ذہانت کو بڑھانے میں مدد کرتی ہیں ۔

ان تمام کو ایک مضمون میں شامل کرنا مشکل ہوتا ہے جس پر علیحدہ تفصیل سے لکھوں گا۔نئے مضمون کی بروقت اطلاع کے لئے آپ  میرے ویب سائیٹ کو فالو کا بٹن دبا کر فالورز میں شامل ہوجائیں

مشق ہی انسان کو ماہر بناتی ہے ۔

ان صلاحیتوں کے حامل لوگ ہی اس وقت دنیا میں راج کر رہے ہیں ۔ اور وہ  نئے نئے طریقوں اور اندازوں سے ترقی کی دوڑ میں دوسروں کو پیچھے پچھاڑ کر  آگے ہیں ۔  

آج کے جدید دور کے غلاموں اور حکمرانوں میں بنیادی فرق ہی یہی ہے کہ اعلیٰ دماغ والے محض ڈجٹس کی بنیاد پر دنیا کے سرمایے پر قابض ہیں اور دماغی طور پر کمزور لوگ مزدوری کرکے ان کی آسائشوں کا بندوبست مہیا کر رہے ہیں ۔

آخر میں اگر کسی کو خود یا اس کے طالب علم پچے کو پڑھا ہوا یاد نہ رہتا ہو تو وہ نیچے دئیے گئے فارم کے زریعہ سے رابطہ کرے یا نیچے کمنٹس میں بتائے اس کا مسئلہ انشاٗاللہ حل ہوجائے گا۔ 

میگزین