- یہ دھرتی ہم سے پوچھتی ہے
- حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے
- قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں
- ہمارا قومی تشخص عالمی تناظر میں
- ترقی ، کامیابی اور اس کا راز
- ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟
- عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا
- عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے
- معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی
- سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟
- قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
کامیاب انسانی ماڈل
سوچ کی غذا
منگل، 25 نومبر، 2025
بین الصوبائی مقابلہ ترقی و کارکردگی کے انعقاد کو یقینی بنایا جانا چاہیے
ہفتہ، 15 نومبر، 2025
بشریٰ بی بی بارے عالمی جریدے میں چھپنے والی رپورٹ کی تحقیقات کروائی جانی چاہیں
میں سمجھتا ہوں کہ اتنے معتبر بین الاقوامی جریدے میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد وزراء کو سیاسی مخالفت کی بنا پر طعنہ زنی کی بجائے اسے سنجیدہ لیتے ہوئے حکومتی سطح پر تحقیقات کی ہدایات جاری کرنی چاہیں۔ یہ بانی پی ٹی آئی کا معاملہ تو ہوگا ہی مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم اور ایک ایٹمی طاقت کی حامل ریاست اور اسکے اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں جن میں ریاست کا وزیر اعظم حساس ادارے کے اہلکاروں کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا ہے اور چند افراد اپنی خواہشات کے تحت ریاستی امور پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں گویا ریاست کی سربراہی ماہرین کی بجائے جادو ٹونے کے تحت چلائی جاتی رہی ہے۔
اس دوران پاکستان کے سفارتی سطح پر تعلقات سے لے کر بیرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو ٹھپ کرنے تک کے فیصلے ہوتے رہے اور ملکی معیشت کا ستیا ناس ہونے کے علاوہ بیرونی قرضوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا جو انتہائی تحقیق طلب معاملہ ہے۔
اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس کو من گھڑت بیان قرار دیتے ہوئے جریدے کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے جو ان کا بنیادی حق ہےلیکن اس معاملے کو فقط ان پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ اگر ان کو کسی طرح کی مدد بھی چاہیے تو حکومت کو مہیا کرنی چاہیے۔
اعتقاد اور نظریات اپنی جگہ مگر ان کے ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور وہ بھی ایک سراسر دھوکہ دہی اور جانتے بوجھتے ہوئے ایک ریا ست کے سربراہ کو دھوکے میں رکھ کر فیصلوں پر اثر انداز ہونا تو انتہائی سنگین جرم ہے اور پھر وزیراعظم ایک ریاست کا سربراہ ہوتا ہے لہذا اس میں اس قدر بھی سادگی نہیں ہونی چاہیے کہ ان کو اتنی جلدی سے بے وقوف بنا لیا جائے اور وہ من گھڑت کہانیوں جن کی بنیاد جادو ٹونے پر ہو کو اس قدر ترجیح دیتا پھرے۔
لہذا اس بارے پہلے تو ریاست کو خفیہ طور پر تحقیقات کروانی چاہیں اگر تو یہ محض الزامات ہیں تو پھر کسی کی عائلی زندگی اور شہرت کو اچھالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف ایک سیاسی جماعت کی قیادت اور کارکنان کو ذہنی اذیت پہنچے گی بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔
لیکن اگر یہ سب کچھ سچ ثابت ہوتا ہے تو پھر حکومت کو اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کو عمل میں لانا چاہیے اور مستقبل میں کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے کہ ریاست کے فیصلوں کی بنیاد اس قدر غفلت کی شکار نہ ہو پائے اور نہ ہی کبھی ریاست کے حساس ادارے کے اس طرح کے جرائم میں ملوث پائے جانے کا تاثر ابھر سکے۔ اس سے نہ صرف اداروں کی ساکھ خراب ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملکی تشخص بھی تباہ ہوتا ہے۔
تحقیقات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ اگر ان سنگین جرائم کی وجہ سے ملک کو مالی نقصان پہنچا ہو تو عوام کو اس بارے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے فیصلے دانشن مندانہ سوچ کے تحت کرنے کے قابل ہو سکیں اور ریاست کی غیر شعوری مقبولیت سے جان چھوٹے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا تاثر ابھرے
جمعہ، 14 نومبر، 2025
صدر پاکستان نے اپنے بالائے قانون ہونے کی آئینی ترمیم پر دستخط کر دئیے
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ جناب صدر پاکستان نے اپنےعہدہ کے بالائے قانون و آئین ہونے کی آئینی ترمیم پر دستخط کر کے اپنے ہی اختیار سے اپنے آپ کو بالائے آئین و قانون اور احتساب بنا لیا ہے جس پر عوام، آئین و قانون اور نظام انصاف سراپا حیرت میں مبتلاقدرت کے فیصلوں کی طرف متوجہ دکھائی دے رہی ہے۔
عقل وشعور یہ منطق سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان کے کون سے کارناموں کی بدولت خوف و ہراس سے چھٹکارہ دلوانے کے لئے یہ تحفظ فراہم کرکے آئینی و اخلاقی اور اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں
ویسے تو اس ملک کی روایات میں اس طرح کے تحفظ کے بندوبست کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں مگر تحریری طور پر آئینی جواز کی ایک نئی مثال قائم کر کے انہوں نے اپنے پر ماضی میں لگائے جانے والے الزامات کو تقویت دینے کا تاثر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے اپنا نام اس اشتثنیٰ سے نکلوا کر جمہوریت اور قانون و انصاف میں سب برابر ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے جو قابل ستائیش ہے مگر عوامی نمائندوں سے اس طرح کی ترمیم پر نظام عدل کا عدم اعتماد کا تاثر جو عدلیہ سے استعفوں کی صورت ابھر رہا ہے خوش آئیند نہیں۔ ویسے بھی یہ استثنیٰ کی ترمیم آئین کے دیباچے ، قرآن و سنت سے مطابقت اور شہریوں کے برابری کے حقوق کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
صدر پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اس آئینی ترمیم پر یہ اعتراض لگا کر واپس کر دیتے کہ وہ پارلیمان سے اپنے استثنیٰ کو ختم کرنے کی درخواست کرتے ہیں جس سے ان کا اور ان کی سیاسی جماعت کا قد کاٹھ بڑھتا۔


