سوچ کی غذا

منگل، 25 نومبر، 2025

بین الصوبائی مقابلہ ترقی و کارکردگی کے انعقاد کو یقینی بنایا جانا چاہیے

کچھ ہفتے قبل صوبائی سطح پر ترقی و کارکردگی میں مقابلے کے نام پر عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیاں نوک جھوک جاری رہی جس کے حلقے پھلکے مظاہرے ابھی بھی عوام یا سیاستدانوں کی زبانی ہوتے رہتے ہیں کہ کس جماعت نے اپنے صوبے میں زیادہ ترقیاتی کام کروائے ہیں جس میں خاص طور پر  کے پی کے بمقابلہ پنجاب تجزیوں کے زد میں ہے جس کو تقویت تحریک انصاف کے اپنے ہی چند سابقہ قائدین نے بخشی ہے جن میں افضل مروت پیش پیش ہیں۔ جس پر تحریک انصاف کا موقف ہے کہ وہ جماعت سے ناراضگی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں جو بجا ہے مگر حقائق کو محض ناراضگی کی بنیاد پر جھٹلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کسی کے آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کو ختم کیا جا سکتا ہے۔  
اس کے علاوہ مرکزی سطح پر حکومت میں شریک پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون میں بھی کافی حد تک ایک دوسرے پر کارکردگی کی بنیاد پر تنقید کی جنگ باہمی اختلافات کا موجب بنی رہی ہے مگر بعد میں دونوں جماعتوں کے اعلیٰ سطح کےقائدین کو مرکزی حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے بیچ بچاؤ کرنا پڑا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جنگ کی وجہ سے مرکزی اتحاد کو خطرہ لاحق ہو جائے۔
دیکھا جائے تو اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتوں جن میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ شامل ہیں کی ایک ایک صوبے میں حکومت ہے اور کسی کے پاس بھی اب یہ جواز نہیں بنتا کہ ان کو موقع نہیں ملا اور صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کی حد تک تو قطعاً بھی کوئی بہانہ قابل قبول نہیں کہا جا سکتا۔
تحریک انصاف کو چونکہ سب سے بڑا عوامی مینڈیٹ رکھنے پر فخر  بھی ہے اور پچھلے بارہ سالوں سے کے پی کے میں ان کے پاس حکومت ہے لہذا اب کارکردگی چھپانے کے ایسے بہانے عقل و دانش کے پیمانوں پر پورا اترتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر وہ دوسری جماعتوں کو اقتدار میں رہنے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو پھر ان کو اپنے دور اقتدار کا بھی عوامی عدالت میں حساب دینا پڑے گا۔ 
پیپلز پارٹی بھی کئی دہائیوں سے سندھ کے تخت پر براجمان ہےاور پاکستان مسلم لیگ بزدار کے چار سال نکال کر عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر پنجاب میں حکومت سازی کی لمبی تاریخ رکھتی ہے۔ اور اسے یہ بھی دعویٰ ہے کہ کارکردگی کی بنیاد پر وہ عوامی مینڈیٹ کی زیادہ حقدار  ہے۔ اس کے تحفظات ہے ہیں انہوں نے مرکز میں 2022 میں حکومت سنبھال کر اپنے مینڈیٹ کی قربانی دی ہے۔ لیکن اب دوبارہ حکومت سازی کے بعد بھی ان کو کارکردگی دکھا کر عوام کے رائے کو ہموار کرنے کا اچھا خاصہ وقت مل چکا ہے
شعوری سیاست کا یہ تقاضہ ہے کہ ایسے مواقعوں پر عوامی سطح پر جماعتی الحاق سے ہٹ کر سوچا جائے مگر بدقسمتی سے ہماری سیاست ابھی اس پختگی اور سنجیدگی کی حامل نہیں بن سکی کہ ہم کارکردگی کی بنیاد پر اپنے ووٹ کے استعمال کا حق استعمال کریں
اگر اس نوک جھوک کی جنگ کو جمہوری پیمانے پر دیکھا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت عمل ہے اور اس طرح کے نہ صرف لفظوں اور سیاسی بیانیوں تک مقابلے ہونے چاہیں بلکہ اس پر قومی سطح پر ڈائیلاگ اور مناظرے بھی ہونے چاہیں ایسے مناظروں کا انتظام بھی مرکزی حکومت کو کروانا چاہیے جس کی براہ راست نشریات ہوں اور پوری قوم ان کو دیکھے تاکہ سیاسی جماعتوں کے اندر کارکردگی کی بنیاد پر جمہوری مینڈیٹ کا احترام سیاست کے اندر پنپنے کا رجحان عام ہو۔
 اگر ضروری سمجھیں تو مستقبل میں اس مشق کو جاری رکھنے کے لئے صوبوں کے مشورے سے کوئی قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے تاکہ اس پر باقائدہ پانچ سالہ دورانیے میں کم از کم  درمیان اور اخیر میں دو دفعہ رپورٹ جاری کی جائے جس میں عوامی نمائندوں کی مرکزی اور صوبائی سطح پر کارکردگی اور قانون سازی کے عمل میں ان کی شرکت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ عوام سیاسی جماعتوں کی مجموعی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے نمائندوں کی کارکردگی کی بنیاد پر اگلے انتخابات میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرنے میں مدد حاصل کر سکیں۔ 
اگر ممکن ہو تو تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اتفاق سے بین الاقوامی سطح پر غیرجانبدار مبصرین کی ایک کمیٹی کو صوبوں کے درمیاں اس مقابلےاور چیلنج پر فیصلہ کن نتائج کا کام سونپا جانا چاہیے تاکہ قوم کو یہ معلوم ہو سکے کہ کون سی جماعت کارکردگی میں بہتر ہےتاکہ عوام کے اندر شعور اجاگر ہو اور عوامی مینڈیٹ کو شعوری بنانےکی راہ ہموار ہو سکے۔
پچھلی ایک دو دہائیوں کی سیاسی تاریخ میں جس طرح سے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انکو جمہوریت کی مضبوطی کی خاطر میثاق اور قربانیوں کے بعد مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ مک مکا کے طعنے بھی سننے پڑے ہیں۔اس کے علاوہ ہر جماعت کو کسی نہ کسی حد تک یہ شکوہ اور تحفظ رہا  ہے  کہ ان کا میریٹ چرایا گیا ہے۔ جیسا کہ مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں ان کا مینڈیٹ چرایا گیا جبکہ تحریک انصاف کا دو ہزار بائیس کے انتخابات میں مینڈیٹ کے چرائے جانے کا دعویٰ ہے۔ جس کو اس تقابلی مقابلے کے رجحان سے جمہوری اقدار کو مضبوط اور شعور کو اجاگر کرکے سد باب کرنے میں بھی مدد ملے گی

ہفتہ، 15 نومبر، 2025

بشریٰ بی بی بارے عالمی جریدے میں چھپنے والی رپورٹ کی تحقیقات کروائی جانی چاہیں

 میں سمجھتا ہوں کہ اتنے معتبر بین الاقوامی جریدے میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد وزراء کو سیاسی مخالفت کی بنا پر طعنہ زنی کی بجائے اسے سنجیدہ لیتے ہوئے حکومتی سطح پر تحقیقات کی ہدایات جاری کرنی چاہیں۔ یہ بانی پی ٹی آئی کا معاملہ تو ہوگا ہی مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم اور ایک ایٹمی طاقت کی حامل ریاست اور اسکے اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں جن میں ریاست کا وزیر اعظم حساس ادارے  کے اہلکاروں کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا ہے اور چند افراد اپنی خواہشات کے تحت ریاستی امور پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں گویا ریاست کی سربراہی  ماہرین کی بجائے جادو ٹونے کے تحت چلائی جاتی رہی ہے۔

اس دوران پاکستان کے سفارتی سطح پر تعلقات سے لے کر بیرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو ٹھپ کرنے تک کے فیصلے ہوتے رہے اور ملکی معیشت کا ستیا ناس ہونے کے علاوہ بیرونی قرضوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا جو انتہائی تحقیق طلب معاملہ ہے۔ 

اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس کو من گھڑت بیان قرار دیتے ہوئے جریدے کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے جو ان کا بنیادی حق ہےلیکن اس معاملے کو فقط ان پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ اگر ان کو کسی طرح کی مدد بھی چاہیے تو حکومت کو مہیا کرنی چاہیے۔

اعتقاد اور نظریات اپنی جگہ مگر ان کے ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور وہ بھی ایک سراسر دھوکہ دہی اور جانتے بوجھتے ہوئے ایک ریا ست کے سربراہ کو دھوکے میں رکھ کر فیصلوں پر اثر انداز ہونا تو انتہائی سنگین جرم ہے اور پھر وزیراعظم ایک ریاست کا سربراہ ہوتا ہے لہذا اس میں اس قدر بھی سادگی نہیں ہونی چاہیے کہ ان کو اتنی جلدی سے بے وقوف بنا لیا جائے اور وہ من گھڑت کہانیوں  جن کی بنیاد جادو ٹونے پر ہو کو اس قدر ترجیح دیتا پھرے۔ 

لہذا اس بارے پہلے تو ریاست کو خفیہ طور پر تحقیقات کروانی چاہیں اگر تو یہ محض الزامات ہیں تو پھر کسی کی عائلی زندگی اور شہرت کو اچھالنے کی کسی کو  اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف ایک سیاسی جماعت کی قیادت اور کارکنان کو ذہنی اذیت پہنچے گی بلکہ  پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ 

لیکن اگر یہ سب کچھ سچ ثابت ہوتا ہے تو پھر حکومت کو اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کو عمل میں لانا چاہیے اور مستقبل میں کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے کہ ریاست کے فیصلوں  کی بنیاد اس قدر غفلت کی شکار نہ ہو پائے اور نہ ہی کبھی ریاست کے حساس ادارے کے اس طرح کے جرائم میں ملوث پائے جانے کا تاثر ابھر سکے۔ اس  سے نہ صرف اداروں کی ساکھ  خراب ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملکی تشخص بھی تباہ ہوتا ہے۔ 

تحقیقات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ اگر ان سنگین جرائم کی وجہ سے ملک کو مالی نقصان پہنچا ہو تو عوام کو اس بارے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے فیصلے دانشن مندانہ سوچ کے تحت کرنے کے قابل ہو سکیں اور ریاست کی غیر شعوری مقبولیت سے جان چھوٹے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا تاثر ابھرے

جمعہ، 14 نومبر، 2025

صدر پاکستان نے اپنے بالائے قانون ہونے کی آئینی ترمیم پر دستخط کر دئیے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ جناب صدر پاکستان نے اپنےعہدہ کے بالائے قانون و آئین ہونے کی آئینی ترمیم پر دستخط کر کے اپنے ہی اختیار سے اپنے آپ کو بالائے آئین و قانون اور احتساب بنا لیا ہے جس پر عوام، آئین و قانون اور نظام انصاف سراپا حیرت میں مبتلاقدرت کے فیصلوں کی طرف متوجہ دکھائی دے رہی ہے۔

عقل وشعور یہ منطق سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان کے کون سے کارناموں کی بدولت خوف و ہراس سے چھٹکارہ دلوانے کے لئے یہ تحفظ فراہم کرکے آئینی و اخلاقی اور اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں

ویسے تو اس ملک کی روایات میں اس طرح کے تحفظ کے بندوبست کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں مگر تحریری طور پر آئینی جواز کی ایک نئی مثال قائم کر کے انہوں نے اپنے  پر ماضی میں لگائے جانے والے الزامات کو تقویت دینے کا تاثر دیا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنا نام اس اشتثنیٰ سے نکلوا کر جمہوریت اور قانون و انصاف میں سب برابر ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے جو قابل ستائیش ہے مگر عوامی نمائندوں سے اس طرح کی ترمیم پر نظام عدل کا عدم اعتماد کا تاثر جو عدلیہ سے استعفوں کی صورت ابھر رہا ہے خوش آئیند نہیں۔ ویسے بھی یہ استثنیٰ کی ترمیم آئین کے دیباچے ، قرآن و سنت سے مطابقت اور شہریوں کے برابری کے حقوق کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

صدر پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اس آئینی ترمیم پر یہ اعتراض لگا کر واپس کر دیتے کہ وہ پارلیمان سے اپنے استثنیٰ کو ختم کرنے کی درخواست کرتے ہیں جس سے ان کا اور ان کی سیاسی جماعت کا قد کاٹھ بڑھتا۔ 

میگزین