جس ملکی کی دو تہائی آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہو ۔ ملک بدحال معاشی صورتحال کا شکار ہو ۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں تو اس ملک کے حکمران ، سربراہ یا مقتدر طاقتیں عالی شان محلوں میں نہیں رہتے ۔ مساوات ، محبت اور بھائی چارے کا تقاضہ یہ ہے کہ سب کا طرز زندگی ایک جیسا ہو ۔ سب کو ریاست کے وسائل تک برابر رسائی حاصل ہو جس کی بنیاد ضروریات ہوں ، بحثیت شہری برابری کے حقوق ان کی بنیاد کا پیمانہ ہوں ۔ جب انسان کو آسودگی حاصل ہوتی ہے اور اس کا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے تو اس کو دوسروں کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہوتا ۔ جن کی بجلی کبھی جھمکی بھی نہ ہو ان کو ملک کے دور دراز علاقوں میں لوڈ شیڈنگ سے پریشان حال لوگوں کی تکلیفوں کا کیا اندازہ ہو۔جن کے پاس موجود شاہانہ زندگی کے وسائل ریاست کے خزانے سے موجود ہوں خواہ وہ بھاری بھرکم سودی قرضوں سے ہی حاصل ہورہے ہوں ان کو کیا احساس کہ لوگ کس طرح گزر بسر کررہے ہیں یادو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسئلہ غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری کا سبب عوام نہیں بلکہ اس کا سبب اس ملک کے وسائل کے بلبوتے پر آسودہ حال لوگوں کے اعمال اور کارنامے ہیں ۔ جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں بائیس کروڑ عوام کے مستقبل کو آج کی اس تاریک صورتحال میں دھکیلا ۔ ان کو یہ احسان نہیں ہوا کہ وہ اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں مگر غریب عوام جن کی جیب سے ان کو آسودگی میسر تھی ان کا کیا بنے گا ۔ وہ عوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے رہے اور خود کو اس ملک کے تمام وسائل کا مالک سمجھتے رہے ۔ اب انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور بشمول تمام سرکاری خزانے سے مستفید ہونے والے محکموں کو شاہی محلات سے باہر نکال کر ایک عام شہری کی طرز زندگی پر رہن سہن میں لایا جائے تاکہ ان کو احساس ہو کہ اس ملک کے غریب عوام کس کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اور تب ان سے یہ امید وابسطہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کا کچھ کریں گے وگرنہ محض خالی دعووں اور دلاسوں نے تو ستر سالوں سے اس ملک کا یہ حال کردیا ہے۔ اب بھی ان کے عمل سے کوئی بہتری کا نشان نظر نہیں آتا۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سینٹ کے چئیرمین ، وائس چیئرمین اور کمیٹیوں کے سربراہان کی مراعات بارے قانون بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے ان کی نیتوں کو خوب بھانپا جاسکتا ہے۔ ان کو تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو باہر کہیں سے قرض نہیں مل رہا ۔ اب یہ صورت حال ہوچکی ہے کہ ان کو کوئی سود پر قرضہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ وگرنہ یہ کفائت شعاری کےتو محض کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں عملی طور پر سب صفر ہے۔ ان کو رضاکارانہ طور پر تمام سہولتیں اور مراعات ختم کردینی چاہیں اور اجلاس بھی قناتوں اور سائبانوں کے نیچے ہونے چاہیں۔ تمام سیکیورٹی اور پروٹوکول ختم کردینا چاہیے ۔ جان ، مال ، عزت سب کی برابر ہے ۔ اگر کسی کو اپنی جان اتنی ہی پیاری ہے تو کوئی مجبوری نہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھے اور اپنے وسائل پر اپنی حفاظت کا بندوبست کرے۔ عوام کو ان کا درد محسوس کرنے والے ان کی حالت زار کو سمجھنے والے عوامی نمائندے چاہیں ۔جو باقی سرکاری محکوں کے لئے سادگی اور مساوات کی مثال قائم کرکے ان کے لئے ترغیب کا سبب بنیں اور ان کو برابری کے پیمانے پر وسائل سے مستفید ہونے کے لئے مجبور کرنے کا اخلاقی اور قانونی جواز بھی رکھتے ہوں ۔ وگرنہ محض نعرے تو کئی مہینوں سے پارلیمان کی عالی شان عمارت میں لگ رہے ہیں لیکن وہاں سے کوئی سادگی اور برابری کی مثال دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔ قوموں کے مسائل باتوں سے حل نہیں ہوتے عمل سے ہوتے ہیں ، محنت سے ہوتے ہیں ۔ تعجب ہوتا ہے جب حکومت میں موجود قومی اسمبلی کے ممبران یا وزراء بڑے بڑے جلسوں میں بہت ہی اچھی باتیں کرتے ہیں ۔ کہ ایسا ہونا چاہیے ۔ یوں ہونا چاہیے ۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ ملک و قوم کے اختیارات تمھارے پاس ہیں وسائل تمھارے حکم کے تابع ہیں تو پھر یہ انتظام و انتصرام کس نے کرنا ہے۔ اگر عمل کرنے والا کوئی ہو تو ایک دن کےانتظام سے ہم سورج کی حدت سے سولر سسٹم کے زریعے اپنی دن بھر کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں اوررات کو مارکیٹوں کو بند کرکے تقریباًپانچ ہزار میگا واٹ کے سرپلس پر جاسکتے ہیں۔ مگر ہمارے حکمرانوں ترجیحات اگر عوام کی خدمت بنیں تو۔ یہ ایک توانائی کے متعلق مثال ہے ۔ آج دنیا میں جو نظام حکومت میں محکموں کا ماڈل ہے اس کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کیا اور ان کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ آپؓ کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ آپؓ کے لیے 40 درہم میں خرید لیا۔ بعد ازاں غلام نے آپؓ کو یہ بتایا کہ آپؓ کا کیا ہوا عہد پورا ہو گیا اور وہ آپؓ کے لیے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا فتصدق بهما، فانی اکره ان آکل اسرافا،کيف يعنينی شان الرعية اذا لم يمسسنی ما مسهم۔ (المنتظم، 4: 250 ترجمہ: ‘تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں، مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہو گا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے۔ پاکستان کا اصل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس کا نام اور اس کا آئین جو قرآن و سنت کے قوانین کو اس ملک کے نظام کا اساس مانتا ہے اور اس پر عمل کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے وہ یہ تقاضہ کر رہا ہے کہ مساوات کو رائج کرنے کے علاوہ کوئی بھی پیمانہ اب قابل عمل نہیں رہا اور نہ ہی اس کے علاوہ موجودہ مشکلات کا کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس سے ہٹ کر کسی درجے کو رائج رکھنے کے جواز کا حق رکھتا ہے ۔
- یہ دھرتی ہم سے پوچھتی ہے
- حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے
- قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں
- ہمارا قومی تشخص عالمی تناظر میں
- ترقی ، کامیابی اور اس کا راز
- ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟
- عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا
- عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے
- معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی
- سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟
- قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
کامیاب انسانی ماڈل
سوچ کی غذا
اتوار، 25 جون، 2023
قوم حکمرانوں سے شاہی محلات خالی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔
پیر، 19 جون، 2023
حکومت کی کفائت شعاری کا راز بے نقاب ہوگیا۔
ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو اپنے
مفادات اور مراعات کی فکر لگی ہوئی ہے۔باتیں کفائت شعاری کی کرتے ہیں اور عمل
شاہانہ ہے۔ کفائت شعاری پر جو کمیٹی بنائی تھی وہ اب سوئی پڑی ہے اور اس کی
سفارشات بھی شائد ردی کی ٹوکری کے سپرد ہوگئی ہیں۔
سیلریز اینڈ پریویلیج آف سینٹ ایکٹ 2023 کے نام سے ایک ایکٹ
پاس ہوا ہے ۔ یہ ایکٹ نو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کوپیش کرنے والے یوسف رضا گیلانی ،
فاروق ایچ نائیک، عطاء الرحمان، ڈاکٹر شہزاد، اعظم نزیر تارڑ، فوزیہ ارشد، رضا
ربانی، عبدالغفور حیدری وغیر جیسے معززین
شامل ہیں۔ یہ مراعات موجودہ اور سابق چیئرمین سینٹ کے لئے ہیں ۔اور سب سے زیادہ
عجیب بات یہ ہے کہ اس میں تمام جماعتیں
مشتمل اور متفق ہیں۔ اس کے چند چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔
بارہ ملازم ، آٹھ گارڈز، وی وی پی آئی سیکیورٹی اس کے علاوہ
جہاں بھی وہ جائیں گےان وفاقی یا صوبائی حکومت سیکیورٹی دینے کی پابند ہوگی، اپنے
اور اپنی فیملی کے سفر کے لئے جہازبھی مانگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹ کی فنانس
کمیٹی، جو چئیرمیں سینٹ خود بناتا ہے ، جو بھی فیصلہ کرے گی وہ مراعات دی جاسکتی
ہیں۔
اسی ایکٹ کی دفعہ 21 ان کی رہائش پر 6 مستقل سیکیورٹی گارڈز
اور 4 حکومت کی طرف سے اور اس کے علاوہ پولیس کی طرف سے بھی سیکیورٹی مہیا کی جائے
گی ۔ اسی طرح سیکشن 16 کی رو سے فنانس کمیٹی بارہ تک پرسنل سٹاف مستقل بنیادوں پر یا کنٹریکٹ کی بنیاد پر دے
سکتی ہے۔پھر سیکشن 20 فنانس کمیٹی کو ان مراعات کو بڑھانے کا اختیار بھی دیتا ہے ۔
سالانہ آٹھ لاکھ تک اس کی حد رکھی گئی ہے مگر کمیٹی اس کو ضرورت کے مطابق بڑھانے
کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال سے علاج یا وہ گھر پر سہولت چاہتے ہوں تو اس کے لئے
حکومت اخراجات برداشت کرے گی۔
سفر کے لئے وہ اگر چاہیں تو حکومت کے اخراجات پر حکومتی یا
پرائیویٹ جہاز بھی وہ لے سکتے ہیں اور ان کا پروٹوکول ریاست کے ڈپٹی ہیڈ کا ہوگا۔
اور وہ ایک سے چار ممبران تک ساتھ لے کر
جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر سرکاری گھر میں رہیں تو ٹیلی فون اور گاڑیاں مفت ہونگی
اوراگر اپنے گھر میں رہیں گے تو ڈھائی تین لاکھ تک کرایہ بھی ملے گا۔
اس سے پہلے پارلیمان نے اپنی توہین کے لئے قانون منظور
کروایا تھا تاکہ کوئی ان پر بات نہ کر سکے۔ شائد ان کو عدلیہ کی عزت دیکھ کر رشک آیا ہو۔ظلم
کی انتہا ہورہی ہے ۔ لیکن حکمرانو یاد رکھو یہ تمھاری قانون سازیاں تمھاری ذہنی استعداد کی خمازی کر
رہی ہیں اور تمھارے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ اور اگر آپ لوگوں نے
اپنی ان غلطیوں کو نہ روکا تو یہ تمھاری اس بادشاہت کو بھی بہا کر لے جائیں گی ۔
قانون سازی کا معیار دیکھئے کہ قانون بنانے والے اپنے
مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں ۔ پھر باتیں کرتے ہیں عدلیہ کی مراعات کی ۔ تو سن
لو اس کے بھی آپ ہی ذمہ دار ہیں ۔ آپکو عوام کی نمائندگی کے لئے حکومت کا قلمدان
دیا گیا ہے اور اگر آپ عوام کے مفادات کے لئے کام نہیں کرسکتے تو کسی کو بھی حکومت
میں رہنےکا کوئی اختیار نہیں ۔ عوام کو مجبور نہ کرو کہ وہ تمھاری بادشاہت کو نوچ
ڈالیں اور تمھارے یہ حفاظتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ اگر عوام کا احساس
نہیں تو اس کائنات کے خالق کے غضب سے ڈرو جس کی کائنات سے نکلنا مشکل ہے ۔ کوئی اس
کے ساتھ بغاوت نہیں کرسکتا۔
اور جو یہاں سے سب کچھ لوٹ کر باہر لے کر جارہے ہیں وہ یہ
مت بھولیں کہ ان کو ان کا یہ مال و دولت کہیں بھی فائدہ نہیں دے سکے گا اور اس کی
دنیا میں کئی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے بھی اپنی ریاستوں سے لوٹ کر دوسری ریاستوں
میں جمع کیا ان کو سب کچھ سے ہاتھ دھونا
پڑے اور نہ ان کی عزت رہی اور نہ ہی ان کا مال کام آیا۔ ان کی نسلیں آج بھیک
مانگنے پر مجبور ہیں اور بھوک ہڑتالیں کر رہی ہیں ۔ آپ سب سمجھتے ہیں میں کسی
کانام لے کر رسوائی نہیں کرنا چاہتا اور یاد رکھو کہ جہاں تم پنا ہ لیتے ہو وہ بھی جانتے ہیں کہ جو
اپنے ملک اور عوام کے لئے مخلص نہیں وہ ان کے لئے بھی کبھی مخلص نہیں ہوسکتے ۔
ساری دنیا بے وقوف نہیں ہے اور یہ فطرت کا اصول ہے اور یہی انتقام ہے کہ انسان سب
کچھ گنوا بھی بیٹھتا ہے اور اس کا حساب پھر بھی اسی کے ذمہ ہوتا ہے ۔
خدا را عوام کے پاس کوئی تو آپشن رہنے دیں کہ وہ آئینی
انقلاب کی راہ سے اکتاہٹ محسوس نہ کرنے لگیں اور جمہوریت اور سیاست کو ہی مسائل سے نکلنے کا
زریعہ سمجھے رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی راہ پر چل نکلیں۔
عوام کی نمائندگی اگر آپ کو ملی ہوئی ہے تو اس کو غنیمت
جانیں ایسا نہ ہو کہ یہ نمائندگی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے یا چھین لی جائے اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔اور
اس کا تجربہ آپ میں سے تمام جماعتیں کر
چکی ہیں مگر شائد آپکو اس سے وہ سبق نہیں ملا جس کا آج کے حالات تقاضہ کر رہے ہیں
۔
موجودہ معاشی حالات میں ان لوگوں کی ایک اس حرکت نے صرف سیاستدانوں نہیں بلکہ جمہوریت
اور انصاف سے بھی عوام کا اعتماد
اٹھا دیا ہے اور یہ تمھاری سیاسی قبر کے لئے کافی ہوگا۔عوام کو کفائت شعاری کے درس
دئیے جارہے ہیں اور اپنا حال کیا ہے اس کا راز یہ ایکٹ کھول رہا ہے ۔
فضولیات اورعیاشیوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کو بند
کر کے قوم کو ممکنہ ایک ہزار ارب کا تحفہ پیش کرتے ہوئے کفایت شعاری کا درس دیتے
تو شاید اس کا اثر بھی ہوتا مگر پر عیش ماحول میں بیٹھے ہوئے پالیسی سازوں کو کیا خبر
کہ عوام گزارہ کیسے کر رہے ہیں۔ ان کو تو صرف اپنی فضول خرچیوں اور عیاشیوں کے بند
ہونے کی فکر نے پریشان کیا ہوا ہے۔ عوام کو ملکی اخراجات کا حقیقی مختصر جائزہ ہی
پیش کر دیتے تو شاید تمہارے ضمیر کو ایک لمحے لے لئے ملامت کا سامنا ہو پاتا۔
انصاف اور مساوات کا آغاز سربراہان کے عمل سے
شروع ہوتا ہے نہ کہ ان کے کھوکھلے دعوؤں سے جن کا پرچار 75 سالوں سے اور خاص کر
پچھلے 5 سالوں سے ہو رہا ہے۔ جس قوم کے قسمت سازوں کو قیام پاکستان سے سفارش، رشوت
اور بدعنوانی کی گھٹی سے لے کر کمیشن کی لت کی عملی تربیت سے آراستہ کیا گیا ہو تو
پھر ان سے ایمانداری اور اصلاح کی امیدیں وابستہ کرنے سے بڑا بھونڈا پن نہیں ہو
سکتا۔
اس قانون کو اگر ختم نہ کیا گیا بلکہ میں سمجھتا
ہوں کہ اب عوام کے پاس وقت ہے کہ ماضی کی تمام نا انصافیوں پر آواز اٹھائیں کہ ریاستی
خزانے سے حاصل کردہ تنخواہیں،وضائف اور مراعات میں برابری کے علاوہ کوئی صورت قابل
قبول نہیں ۔ خواہ وہ جج ہو، جرنیل ہو ، پارلیمنٹیرین ہویا بیوروکریٹ سب کے لئے
برابر ہونا چاہیے۔
منگل، 13 جون، 2023
احتساب کہاں سے شروع ہونا چاہیے
کسی بھی ریاست کے اندر احتساب کے بغیر حکومت سازی یا انصاف کے نظام کو شفاف اور غیر جانبدار نہیں بنایا جاسکتا بلکہ احتساب کا عمل خود بھی انصاف کا ہی ایک جز ہے ۔ احتساب کا عمل ہی مساوات کو یقینی بنا سکتا ہےجو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی پہلی شرط ہے ۔
احتساب کا تعلق چونکہ انصاف کے عمل سے ہے اس لئے اگر نظام انصاف پرہی سوال اٹھ رہے ہوں اور ججز پر مبینہ الزامات کے انکشافات ہورہے ہوں تو پھر چاہیے تو یہ کہ احتساب کے عمل کا آغاز بھی نظام انصاف سے ہی شروع ہو۔ کیونکہ نظام انصاف ہی ریاستی معاملات کو آئین و قانون کے مطابق چلانے کی ضمانت دے سکتا ہے ۔ اگر کہیں بدعنوانی ہوتی ہے یا کسی کا حق مارا جاتا ہے تو اس کی دار رسی کا آخری سہارا عدالتیں ہی ہوتی ہیں ۔اور اگر عدالتیں خود ہی خطرات کا شکار ہوچکی ہوں تو پھر ریاست کے امن ، تحفظ اورترقی کی ضمانت کون دے گا۔ ہمارے آئین میں نظام انصاف کو خود مختار حیثیت دی گئی ہے اور اس میں احتساب کےعمل کو بھی بہت ہی شفاف ،غیرجانبدارانہ اورخوددار طریقہ سے متعارف کروایا گیا ہے مگراس پرعمل درآمد تعطل کا شکار ہوچکا ہے جس کی وجوہات اختیارات کی اجارہ داری ہے جس نے غیر جانبداری، شفافیت اورانصاف کے اصولوں کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور صورتحال دن بدن انتہائی تشویش ناک ہوتی جارہی ہے ۔ حال ہی میں ججز کے خلاف متعدد درخواستین آچکی ہیں اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کاروائی کا باقاعدہ آغاز بھی ہوگیا ہے ۔ جس سے عوام میں ابھرتا ہوا یہ تاثر کم ہوگاکہ چیف جسٹس شائد اپنے ساتھی ججوں کے خلاف درخواستوں کو نظر انداز کرنے کی غرض سے اجلاس نہیں بلا رہے ۔ ماضی میں اس طرح کے جو فیصلے ہوئے ان میں حیران کن روایات ہیں کہ اگر جج صاحب اپنی مرضی سے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تو پھر ان کے خلاف کاروائی بھی غیر موثر ہوجاتی ہے ۔ تو گویا کاروائی ان کے عہدے کے ساتھ مشروط ہو کر رہ گئی ہے اگر تو وہ اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر کاروائی بھی آگے بڑھے گی اور اگر وہ اپنی ریٹائر منٹ کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر کاروائی غیر موثر ہوجائے گی اور ججز کو تمام فوائد اور مراعات کے ساتھ باعزت طور پر ریٹائرمنٹ مل جائے گی ۔ ججز کا عہدہ یقیناً قابل احترام ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیےلیکن اگر ان کے خلاف کوئی سنگین قسم کے الزامات آجاتے ہیں جو بادئ نظر میں صحیح لگ رہے ہوں تو پھر کاروائی کو ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ قطعاً بھی مشروط نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے ۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک دو ججز کے احتساب کی مثالیں ہیں جن میں سے ایک تو حال ہی میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا ہے جن کو ایک سچ بولنے کی پاداش میں سزا سنائی گئی جس میں ان کے ساتھ نواز شریف کے خلاف نیب کورٹس کے فیصلے بارے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی مشورہ کرتے ہیں اور وہ اس کو عوامی طور پر فاش کردیتے ہیں ۔ جس کو جج کے کندکٹ کے خلاف کہا گیا۔ جس تندہی اور جلدی میں ان کو عہدے سے فارغ کیا گیا وہ بھی اپنے اندر ایک منفرد مثال رکھتی ہے ۔ نواز شریف کو سزا دینے والا فیصلہ بھی پاکستان کی تاریخ کا انتہائی شرمناک قسم کا فیصلہ ہے جس نے نہ صرف ہمارے نظام احتساب کو بلکہ احتساب کرنے والوں اور اس کی نگرانی پر مامور ججز کو بھی بے نقاب کر دیا ۔ ایک وزیر اعظم کو اس لئے نااہل کیا گیا کہ اس نے اپنے بیٹھے سے تنخواہ لینی تھی اور نہیں لی اس لئے ان کو نہ لینے والی تنخواہ کا انکم ٹیکس گوشوارے میں نہ بتانے کی وجہ سے نااہل کردیا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ اس کی تنخواہ بنتی تھی اس لئے اس کو ظاہر کرنی چاہیے تھی۔ کتنا ہی مضحکہ خیز فیصلہ ہے ۔ اوراس فیصلے کی سپریم کورٹ کے ججز نگرانی کرتے رہے ہیں ۔ فیصلہ کرنے والے احتساب کورٹ کے جج نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس کو بلیک میل کرکے اس سے فیصلہ کروایا گیا۔ اس مقدمے کا آغاز پانامہ لیکس پر ہواجس مین چارسو چھتیس لوگوں کی لسٹ تھی اورصرف نواز شریف کو سزا ہوئی وہ بھی پانامہ پر نہیں بلکہ آقامہ پراورباقی لوگوں کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا جس کی پچھلے ہفتے سات سال بعد سماعت شروع ہوئی ہے اور ججز کے ریمارکس دل کو دہلا دینے والے ہیں۔ احتساب کے ادارے تو ماضی میں بھی سیاسی انتقام کے الزامات کا نشانہ رہے ہیں مگراس معاملے میں جس طرح سے ہماری اعلیٰ عدلیہ پر مبینہ الزامات ہیں انتہائی قابل افسوس بات ہے ۔ اور یہی وہ حقائق ہیں جو احتساب کے عمل کا عدلیہ سے شروع ہونے کا تقاضہ کرتے ہیں کیونکہ ججز کے احتساب سےشفافیت اورغیرجانبداری کی توقعات مزید بڑھ جائیں گی۔ پچھلے چند سالوں میں جس طرح سے احتساب کی ہولی کھیلی گئی اوراس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رنگوں کا چھڑکاؤ کرتے رہے ۔ جس پر دل چاہا لال رنگ چھڑک دیا اور جس پر دل چاہا سبز چھڑک دیا۔ اس کھیل سے انصاف کے عمل کو جس طرح سے سبوتاژ کر دیا گیا ہے اس کی صفائی کے لئے کئی سال لگیں گے ۔ اس دوران بےاصولیوں کے بوئے گئے بیج اب کونپلیں نکالنے لگے ہیں ۔جن کو اب اکھاڑنا بھی کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ ان کے خیر خواہ اکھاڑنے والوں سے زیادہ بھی اور بااختیار ہیں حکومت احتساب کے عمل میں دلچسپی تو دکھا رہی ہے اور اس بارے مختلف قانونی ترامیم بھی کر رہے ہیں جن میں سےکچھ عدالتی پکڑ کا شکار بھی ہیں ۔عدالتوں کا کام آئین کی تشریح اور قانون کے بننے کے عمل پر اٹھنے والے اعتراضات اور تحفظات کو دیکھنا ہوتا ہے اوریہ سب کچھ یقیناً وہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کر رہے ہونگے ، لیکن جب وہ احتساب کے عمل کی شفافیت ، غیر جانبداری اور انصاف کے اصولوں سے مطابقت بارے اتنے محتاط ہیں تو پھر ان کو اپنی عدالت اورساتھی ججز کے اوپر اٹھنے والے الزامات بارے بھی محتاط ہونا چاہیے کیونکہ یہ نظام انصاف اور ریاست کی عدالت عظمیٰ کی ساکھ کا معاملہ ہے ۔ حکومتیں جس طرح سے انتقامی احتساب کے عمل میں ملوث رہنے سے بدنام ہوچکی ہیں تو ایسے حالات میں آخر ی امید فقط اعلیٰ عدلیہ ہی ہوسکتی ہے مگر اس پر بھی عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے پہلے ان کی ساکھ کو بحال کرنا ہوگا ۔ ایک اور بات جو انتہائی پریشان کن ہے وہ حکومت یا اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی سوچ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی توہین ہے اگر انکے احتساب کی بات کی جائے ۔ حالانکہ احتساب سے تو کسی کو بھی کوئی استثنیٰ نہیں مل سکتا اور نہ ہی کسی کو استثنیٰ کی بات کرنی چاہیے مگر ہمارے ملک میں یہ مضحکہ خیز حرکت بھی بڑے فخر سے کی جاتی ہے بلکہ ایک فیشن بن چکا ہے۔جب خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق سے خطبہ جمعہ کے دوران ایک عام شہری یہ سوال کر سکتا ہے کہ بیت المال سے ملنے والے کپڑے سے ہماری قمیض نہیں بنی تو آپ کی کیسے بن گئی ؟ تو آج کا حکمران ، جرنیل، بیوروکریٹ یا جج عہدے اور رتبے کے لحاظ سے ان سے زیادہ بڑا تو نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے برا نہیں مانا اور اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کاجواب وہ دے گا۔ اور بیٹے نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ انہوں نے اپنے حصے کا کپڑا بھی حضرت عمر فاروق کو دیا تھا جس سے یہ قمیض بنی۔ اس مثال میں احتساب کے علاوہ برابری اور مساوات کی مثال بھی ملتی ہے کہ ہمارے اقتدار اور اختیارات کے ایوانوں میں خزانے سے اٹھائے جانے والے اخراجات میں بھی ایک عام شہری کی زندگی کی جھلک ہونی چاہیے ۔ اب وزیر اعظم صاحب نے ملک عرفان قادر کو احتساب کا مشیر مقرر کیا ہے جو ایک تجربہ کار وکیل ہیں ۔ وہ اٹارنی جنرل اور جج بھی رہ چکے ہیں ۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ احتساب کے عمل بارے اپنی سفارشات سے اصلاحات لانے میں مددگار ثابت ہونگے جن سے احتساب کے عمل کو تیز ، غیر جانبداراور شفاف بنایا جاسکے ۔ اسی طرح سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھی فعال بنانے میں کوئی کردار ادا کریں گے تاکہ ججز کی ساکھ کو مزید بہتر بناکر نظام عدل کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جاسکے ۔
اتوار، 11 جون، 2023
کیا شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟
نو مئی کے سانحہ میں جو کچھ ہوا ، جس نے بھی کیا اس کو نہ
تو صحیح کہا جاسکتا ہے اورنہ ہی اس سانحہ کے ملزموں کو عدالتی کاروائی سے بچایا
جاسکتا ہے ۔ اس کی تحقیق سے تو کسی کو بھی انکار نہیں مگر اس کی تحقیق کون کرے اس
پر تحفظات اور اعتراضات ضرور موجود ہیں ۔ پہلے تو عمران خان اور ان کی جماعت کی
طرف سے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ آتا رہا ہے مگر اب ایک لائرز کے فورم نے بھی
فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کی مخالفت کر دی ہے ۔ اوراس طرح کی مبینہ
افواہیں گردش کررہی ہیں کہ یہ مطالبات اگر پورے نہ ہوئےتووکلاء کےتحفظات تحریک کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں ۔
میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ آئین و قانون اور اپنی حیثیت کو سیاست زدہ کرنے
کی کوشش نہ کریں ۔ قانون کی حکمرانی کو اپنی راہ لینے دیں اور جہاں آپ انسانی حقوق
کی خلاف ورزی دیکھتے ہیں اس کی نشاندہی ضرور کریں اور ان عدالتوں کے خلاف اپیل کا
حق بھی قانون میں موجود ہے ۔لیکن قانون کو
سمجھنے والوں کے مطالبات اور انداز میں بھی آئین و قانون اورانصاف کے اصولوں کی جھلک نظر
آن چاہیے ۔
شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل بارے جو بحث چل رہی ہے اس پر مختلف آراء سامنے آرہی
ہیں ۔ کل اس کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی ہے ۔ لیکن میرے
خیال میں تواس کو 184(3) کے تحت نہیں
سنا جاسکتا کیونکہ اس معاملے میں نہ تو کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے
اور نہ ہی یہ مفاد عامہ کا مسئلہ بنتا ہے۔ اس بارےپاکستان کا قانون واضح ہے۔ ہاں
اگر کاروائی کے دوران کسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس پر ضرورعدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے ۔
کے تحت سویلین کا
فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے آرمی ایکٹ 1952 کی دفعات
2015 میں کی گئی ترمیم کے مطابق اگر کوئی " پاکستان کے
خلاف ہتھیار اٹھائے، جنگ کرے یا حملہ کرے۔
پاکستان کی مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے ادارے یا پاکستان میں کسی بھی سول
یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرے" تو کسی بھی شہری کے خلاف وفاقی حکومت کی اجازت
سے مقدمہ چلایا جاسکتا ہے ۔وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت بھی فوج کو حکم
دے سکتی ہے ۔
پہلے بھی ان عدالتوں کی مثال پاکستان میں موجود ہے ۔ دہشت
گردی کے خلاف بھی فوجی ۔ عدالتیں بنائی گئیں تھیں۔اور موجودہ سانحہ کسی طرح سے بھی دہشت گردی سے کم نہیں۔
انسانی حقوق ہر انسان کے بنیادی حقوق ہیں جن کا تعلق انسان ہونے سے ہے اور دنیا کے تمام انسان کہیں بھی رہتے ہوں سب ان کے برابر حق دار ہیں ۔ اور ان حقوق کو
انسان سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا لیکن انسان کا شہری ہونا اس کو اس ملک کے کسی خاص قانون سے استثنیٰ
نہیں دیتا۔ شہریت انسانی حقوق میں نہیں آتی۔ اگر کوئی شہری کسی قانون کی خلاف ورزی
کرے گا تو اس کواس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہاں انسانی حقوق ان کے خلاف کاروائی میں شفافیت،
غیر جانبدار ی اور موقف کو سنے جانے یا اپنی بے گناہی کے ثبوت دینے کے حق کو یقینی
بناتے ہیں ۔ لیکن اس میں وہ یہ موقف نہیں
لے سکتا کہ وہ جرم تو کسی اور علاقے میں
کرے اور کہے کہ اس کے خلاف مقدمہ اس کے اپنے علاقے میں چلایا جائے ۔ بلکہ جہاں وہ
جرم کرے گا اسی ملک ، علاقے یا قانون کے مطابق اس کے خلاف کاروائی ہوگی۔
تو میرے چند سوالات ہیں ان لوگوں سے جو سویلین کے مقدمات کوفوجی عدالتوں
میں چلانے کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ کیا جہاں جرم ہوا ہے وہاں پر نافذ قانونی دائرہ
اختیار کو نہیں دیکھا جاناچاہیے ؟ کیا ان عدالتوں کی آئینی و قانونی حیثیت موجود
نہیں ؟ کیا اس طرح کی پہلے کوئی مثال موجود نہیں ؟ کیا ان فیصلوں کے خلاف
کوئی قانونی ریمیڈی موجود نہیں ؟ ان نقاط
کی روشنی میں اگر ان کے پاس ان پر اعتراض
کرنے کا جواز موجود ہے تو ان کو
حکومت کے سامنے رکھنا چاہیے یا اس کو عدالت میں چیلنج کریں مگر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قطعاً بھی
نہیں ہونی چاہیے ۔
ظاہراًتو اس معاملے میں کہیں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی
نہیں پائی جاتی اور نہ ہی کوئی قانونی
اعتراض ان عدالتوں پر اٹھایا جاسکتا ہے البتہ اس میں سیاسی خدشات ضرور موجود ہیں
جن کا حل بھی سیاسی معاملات سے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے جوپارلیمان میں قانونی اصلاحات ہیں ۔ اور جہاں تک تعلق ہے ہماری سول کورٹس کا تو
موجودہ حالات میں ان کی غیر جانبداری ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر ان کاعمل خوب
عکاسی کررہا ہے۔ اس وقت اگر کوئی آئینی ادارہ سب سے زیادہ متنازع نظر آرہا ہے تو وہ عدلیہ ہے جس پر نہ صرف عوام ، پارلیمان بلکہ ادارے کے اندرسے سہولت کاریوں اور جانبداری
کی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ عدالتوں کے اندر زیر بحث مقدمات میں ججز پر مفادات کے
ٹکراؤ کے اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں مگر ججز ان کا کوئی اثر ہی نہیں لے رہے ۔ تو
ایسے حالات میں جب ان واقعات میں ملوث لوگوں کے ہماری عدلیہ کے اندر تعلقات کی
مبینہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہوں اوران
کے فیصلوں پر خود حکومت ثبوتوں کے ساتھ عدالتی
کاروائیوں کو چیلنج کر رہی ہوتو ایسے میں
کیا کوئی سول عدالتوں سے شفاف، غیر جانبدارانہ اور انصاف کے اصولوں پر مبنی انصاف
کی ضمانت دے سکتا ہے ۔
حکومت کے علاوہ جب وکلاء کی ایک بہت بڑی تعداد خود اس عدلیہ
کے نظام میں اصلاحات لانے کا دیرینہ مطالبہ کر رہی تھی اور جب اس پر قانون لایا گیا تو عدلیہ کے انہی ختیارات جن پر وکلاء تحفظات رکھتے تھے کے بندوبست سے قانون کو ہی معطل کردیا ۔ اور
وکلاء خود اس پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ تو پھر کس طرح ایسے حالات میں وہ معاملات جن کے بارے قوانیں کئی دہائیوں سے نافذالعمل ہوں ،کو قانون کی
خلاف ورزی کرتے ہوئے، چند افراد کی
خواہشات پر، سول عدالتوں کے حوالے کر دیا جائے ۔ اس کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز
بھی تو ہونا چاہیے۔
کیا نو مئی کے
اردگرد د نوں میں جو عدلیہ یا انتظامی
اداروں کے اندر بیٹھے لوگوں کے اعمال سے تاثرات ابھر رہے ہیں ان کی موجودگی میں انصاف کی توقع وابسطہ کی جاسکتی
ہے۔ فوجی عدالتوں پر اعتراض اگر بجا ہے تو پھر کوئی متبادل یا مروجہ نظام بھی تو
ہو جس پر بھروسہ کیا جاسکے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر قانون یا حالات میں بہتری
لانی ہے تو وہ بھی تو آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی لائی جاسکتی ہے ۔اگر موجودہ
آئین و قانون میں چھاؤنی کے اندر واقع ہونے والے جرائم میں ملوث سول ملزمان کو ٹرائل کرنے کا طریقہ کار موجود
ہے تو پھر اس کو محض خواہشات سے تو شکست
نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس کی کوئی منطق ہے ۔
پھر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ان کے اعتراضات کو اگر قانون سے
ہٹ کر بھی لیا جائے تو کیا اس پر عوام یا سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ سول لوگوں کے مقدمات سول کورٹس میں ہی چلنے چاہیں ۔ کیا حکومت اور سیاسی جماعتیں سول
کورٹس کی کاروائیوں پر جانبداری اور سہولت کاری کا الزام نہیں لگا رہیں اور
عدالتیں اپنے عمل سے اس موقف کو تقویت نہیں بخش رہیں ۔ کیا عوام اور سیاستدان
عدالتوں کے سامنے احتجاج نہیں کر رہے۔ کیا
لیک ہونے والی مبینہ آڈیوز اس بات کی تصدیق نہیں کر رہیں کہ یہ مبینہ الزامات ٹھیک
ہیں ۔ کیا ان آڈیو لیکس کے اندر فوج کے مارشل لاء لگانے کی خواہشات کا اظہار نہیں کیا جارہا ۔ جس کی مطلب ہوا کہ ان لوگوں کوبھی اپنے سول اداروں سے زیادہ عسکری اداروں پر اعتماد
ہے ؟
انہی آڈیو لیکس پر حکومت نے عدالت عظمیٰ اور دو ہائیکورٹس کے ججز پر مشتمل انکوائری کمیشن بنایا ہے جس پر عدلیہ کے اندر سے عدم اعتماد اور کام کرنے
سے روکا جارہا ہے ؟ جب خود عدلیہ ہی اپنے ججز پر اعتماد کا تاثر
دینے سے قاصر ہے تو پھر اس طرح کے حساس قسم کے معاملات میں ان کو یہ ذمہ داری کیسے
دی جاسکتی ہے ۔کیا اس سے معاملات مزید
کشمکش کا شکار نہیں ہونگے؟
آسان سا کام ہے اگر پاکستان کی عوام واقعی نہیں چاہتی کہ
چھاؤنیوں پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کاروائی ہو تو پھر
پارلیمان تو عوام ہی کی نمائندہ ہے ۔ بدل دیجئے اس قانون کو اور ختم کر دیجئے
اس قانون اور فوجی عدالتوں کو۔ لیکن اس
طرح کے احتجاجوں اور تحریکوں کا کوئی جواز نہیں ۔ اور کیا جو وکلاء یہ کانفرنسز کر
رہے ہیں ان کو پاکستان کے تمام وکلاء کی تائید حاصل ہے ؟
کیا جو لوگ نو مئی کو وہاں دھاوا بولنے کے لئے گئے اور قومی
املاک کو نقصان پہنچایا اور ہمارے شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی اس کا کوئی
آئینی و قانونی جواز تھا؟ کیا ان کو سول
کورٹس میں مقدمات چلانے یا ان کے ساتھ نرمی برتنے کا عمل مستقبل کو ایسے سانحات سے محفوظ کرنے کا موجب
بنے گا یا ایسی سوچوں کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی کا موجب ۔ کیا جو ان سانحات میں ملوث لوگ ہیں ان کے اپنے
خاندانوں کا تعلق فوج سے نہیں ۔ میرا ن سے سوال ہے کہ اگر ان کے اپنے وہ ریٹائرڈ
فوجی افسران آج حاضر سروس ہوتے اور ان کے
رشتہ داروں کی بجائے کوئی اور شہری اس سانحہ میں ملوث ہوتے توپھر ان کا کیا فیصلہ ہوتا ؟
کیا ماضی میں جو نا انصافیاں ہوئیں وہ ساری فوجی کورٹس نے
ہی کی ہیں ۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو
سزائے موت کسی فوجی عدالت نے دی تھی ۔کیا پچھلے کئی ہفتوں سے جو تحریک انصاف پر
مقدمات درج ہورہے ہیں وہ سول حکومتوں کے
زیر انتظام اداروں میں نہیں ہوئے ۔ کیا وہ سارے مقدمات سول کورٹس میں نہیں چل رہے
۔ کیا ان ساری کاروائیوں پر تمام ملزمان خوش ہیں ۔ کیا یہ فوجی عدالتیں کسی اور ملک
کی ہیں یا ان کو آئین پاکستان کا تحفظ حاصل نہیں ۔
شائد کوئی بھی نہ چاہتا ہو کہ سول لوگوں کے فوجی عدالتوں
میں مقدمات چلیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب سویلیں ایسے اعمال کے مرتکب ہونگے تو پھر
ان کو کوئی کیسے وہاں سے گھسیٹ کر باہر نکال سکتا ہے جب وہ خود دوڑ دوڑ کر چھاؤنیوں کی طرف بھاگیں ۔ جیسے
وہ کسی دشمن ملک کی فوج کو فتح کرنے جارہے ہوں ۔ اور اگر سول نظام انصاف فوری ،
شفاف اور غیر جانبداری کی تاریخ کا اثاثہ رکھتا ہوتا تو پھر ایسے مخصوس قوانیں بنائے ہی کیوں جاتے ۔
اگر ہمارے عوام کی اخلاقیات اور ظرف اتنے
اعلیٰ ہوتے تو وہ اس قانون کو جاکرکیوں للکارتے ۔ اس پر کوئی بات نہیں کرتا اور
سہولتیں تلاش کرنے کے چکر میں ہر کوئی شیدائی
ہوئےجارہاہے ۔
معزرت کے ساتھ مجھے ان لوگوں کی باتوں اور انداز سے ابھرنے
والے تاثر سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت ، غیر جانبدار ی اور
فوری انصاف سے خوفزدہ ہیں جس کے یہ عادی
نہیں ہیں ۔اگر ان لوگوں پر دوہزار چودہ میں پی ٹی وی ، پولیس اور پارلیمان پر حملہ
کرنے کے جرائم میں سول عدالتوں سےسزا دی گئی ہوتی تو آج ان کے لئے فوجی عدالتوں کے خلاف آواز اٹھانے کی نوبت ہی نہ
آتی ۔ خدا را کوئی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آئین و
قانون اور نظام انصاف اور دفاع کا مذاق نہ
بنائیں اور اپنے مفادات اور خواہشات کے خاطر ملکی امن و سلامتی کو داؤ پر لگانے کی
کوشش نہ کریں ۔
کسی کی خواہشات یا خاص ماحول کی نسبت سے قوانیں تو نہیں بدلے جاسکتے
اور نہ ہی آئین و قوانیں کسی خاص طبقہ کے لئےہوتے ہیں ہیں ۔ لہذا اب اس فضول کی بحث میں پڑنے کی بجائے
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی گناہ گار کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو اور
کسی بے گناہ کو کوئی سز انہ دی جائے ۔ جو جائز مطالبہ ہے ۔ ابھی فوجی عدالتوں میں
ٹرائل شروع ہی نہیں ہوا اور اس کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اگر کسی کو ناانصافی
کی کوئی معلومات ملتی ہیں تو پھر اس پر ضرور بات ہوسکتی ہے اور اس کو عدالت میں
چیلنج کرکے سول کوٹس کےشوق بھی پورے کئے جاسکتے ہیں ۔
ہمیں سب کو اپنے
اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور جب ہم نے سب کو آزما لیا ہے تو ایک دفعہ
آئین پر عملداری اور قانون کی حکمرانی کو بھی یقینی بنا کر آزما لیں ۔ خواہ مخواہ
کے تماشے لگانا چھوڑ دیں اور آئین و قانون کو اپنی راہ لینے دیں ۔اگر یہ لوگ واقعی
فوجی عدالتوں کے خلاف کوئی قانونی جواز رکھتے ہیں تو پھر اس پر احتجاج کی بجائے
کسی ڈائیلاگ کا بندوبست کریں ۔ وکلاء اپنی برادری کی تائید حاصل کریں ، ان کے قیام کے خلاف قانونی چارہ جوئی
کریں ۔ پارلیمان کے اندر کوئی حل ڈھونڈنے
کی کوشش کریں ۔ عدلیہ کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں ۔مگر خدا را ملک کے امن کو
تباہ کرنے کی کوشش مت کریں ۔ سیاسی استحکام کو بحال ہونے دیں تاکہ ملک کی معیشت کو
سنبھالنے کی صورتحال پیدا ہوسکے ۔
جمعہ، 9 جون، 2023
وکلاء کواپنی ساکھ بچانے کے لئے مفاداتی سیاست سے لا تعلق ہونا ہوگا
وکلاء برادری
مفاداتی سیاست کا شکار ہوتی جارہی ہے ۔ جوان کو گروہ بندیوں میں ڈال کر ان
کی اجتماعی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ وکلاء
کا مقام صف اول کی قیادت ہے ۔ ان کی سیاست اقبال اور قائد کے فرمودات کی روشنی میں
جمہوریت۔ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا ایک نمونہ ہونی
چاہیے وکلاء کو ہمیشہ یاد رکھناچاہیے ، ان کا منصب یہ تقاضہ کرتا ہے "کہ وہ اپنے پیشے کے وقار
اور اعلیٰ مقام کے ساتھ ساتھ اس کے ممبر کی حیثیت سے اپنے وقار اور بلند مقام کو
ہر وقت برقرار رکھے"۔ وکلاء کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کا ملکی معاملات پر موقف
ان کی اکثریتی برادری کی تائید رکھتا ہو۔
اگر کوئی وکیل انفرادی طور پر یا
ایک گروہ کی شکل میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی الحاق رکھتا ہے تو اس کو ان کے پروگرام میں شرکت کے
وقت کبھی بھی وکلاء برادری کے موقف کا
تاثر دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ بارز تو انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی
علامت سمجھی جاتی ہیں ۔ غیر جانبداری ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر عملدرآمد
کروانے کی تاریخ ان کا ورثہ ہے ۔ بارز توانسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کو
فریڈم ایوارڈز دیتی ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کی بحالی کا سہرا ان کے سر ہے
۔ ہر زمانے کے آمروں کی آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر بات کرنا ان کی پہچان رہی ہے۔وکلاء کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی اصل
طاقت ان کی یکجہتی ، خودداری ، استقامت اور آئین وقانون کی پاسداری ہے جس نے نظام انصاف کو ان کی ڈھال بنایا ہوا ہے ۔۔
بارایسوسی ایشنز اور کونسلز وکلاء کی نمائندہ ضرور ہیں مگر ان کے لئے بھی کوئی موقف
اپنانے سے پہلے برادری کی تائید حاصل کرنا ضروری ہے ۔ آج جو کچھ وکلاء کر
رہے ہیں اس سے پوری برادری بدنام ہورہی ہے ۔ کیا
وکیل کا یہ معیار رہ گیا ہے کہ وہ
سیاستدان اور جج کے درمیان رابطے کے پل کے طور پر استعمال ہورہا ہو۔ سیاستدانوں کے
غلط کاموں کو تحفظ فراہم کرکے سیاست
،جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی راہ کی رکاوٹ بن کربدنامی کا سبب بن رہا ہو رابطوں یا تعلقات کا ہونا کوئی بری بات نہیں مگر ان کا
استعمال سیاست کے لئے اس طرح سے ہونا جس سے وکلاء برادری کی اجتماعی پہچان اور
مفادات متاثر ہوں ٹھیک نہیں ہے۔ جو وکلاء سیاست کرنا چاہتے
ہیں وہ ضرور کریں یہ انکا بنیادی حق ہے مگر وہ اس کے لئے وکلاء برادری کے
نام کو استعمال نہ کریں بلکہ وہ اپنے آپ
کو سیاسی جماعت کی ایک ونگ کے طور پر رجسٹرڈ کروایں اور جب بھی وہ کسی سیاسی مقصد
کے لئے ہڑتال یا مظاہرے کا حصہ بنیں تو ان
کی سیاسی ونگ کا نام استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ وکلاء کی تنظیم کے طور پر۔ اس
سے ان وکلاء کی پہچان پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں
ہوتا بلکہ وہ ایک غیر جانبدار تنظیم اور سوچ کے حامی ہوتے ہیں ۔ اس وقت صورتحال یہ بن چکی ہے کہ کسی بھی جماعت کا کوئی بھی
دھرنا ہو یا احتجاج اس میں وکلاء بھی پہنچے ہوتے ہیں اور یہ ظاہر کیا جارہا ہوتا
ہےکہ وکلاء اس مطالبے یا احتجاج کا حصہ ہیں ۔ اور ان وکلاء کے الحاق کے پیچھے انکے
نظریاتی مقاصد سے زیادہ ذاتی مقاصد ہوتے ہیں جن میں سرکاری عہدوں کا حصول ہوتا ہے۔
اب یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ جس سیاسی
جماعت کو حکومت بنانے کا موقع ملتا ہے وہ آتےہی
سب سے پہلے تمام عدالتوں میں اٹارنیز، ایڈوکیٹ جنرلز اور پراسیکوشن کے عہدوں پر تعینات افراد کو تبدیل کرکے اپنی
جماعت کی وکلاء ونگ کو ابلائج کرتے ہیں اور پھر وہ ان کی سیاسی کاز کے لئے کوشاں
ہوجاتے ہیں ۔ الحاق ،ہمدردیاں اور تعلقات اپنی جگہ مگر ان کی بنیاد پر نظام
انصاف کو استعمال کرنے کی تو قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ اس میں بار ایسوسی ایشنز کی بھی ذمہ داری بنتی ہے اور خاص
کر ان وکلاء کی جن کی کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی وابسطگی نہیں ہوتی وہ بارز
کی سیاست سے سیاسی جماعتوں کے غالب اثرات
کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ اور ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو وکلاء کے اجتماعی
مفادات اور مسائل پر کام کو ترجیح دیں ۔
جو منتخب ہونے کے بعد کسی خاص جماعت یا گروہ کے مفادات کے لئے کام نہ کریں بلکہ
وکلاء برادری اور انصاف کا فروغ ان کی ترجیح ہو۔ بارز ایک ایسا ادارہ ہے جو وکلاء کی تربیت کا کام سر انجام
دیتا ہے ۔ ا ن بار ایسوسی ایشن کی قیادت کرنے والے بعد میں بڑے بڑے آئینی عہدوں پر
پہنچتے ہیں اور وہاں آئینی اور قانونی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں ۔ لہذا بارز کی
سیاست سے یہ تاثر ملنا چاہیے کہ وہاں کی قیادت سے ابھرنے والے افراد غیر جانبدار، شفافیت، انسانی حقوق،
جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا ایک عملی
نمونہ ہوتے ہیں ۔ تاکہ وکلاء کی برادری بارے
معاشرے میں ایک مثبت تاثر بنے اور
یہ کہا جائے کہ جہاں بھی انصاف کی فراہمی
مقصود ہو وہاں وکلاء میں سے تعیناتیاں کی
جائیں چہ جائے کہ جس طرح آج اعتراض کیا
جارہا ہے کہ ججز چونکہ وکلاء میں سے آتے ہیں اور ان کی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے
ساتھ الحاق ہوتے ہیں لہذا یہ ان آئینی
عہدوں پر بیٹھ کر انصاف کی فراہمی میں غیر
جانبداری اور شفافیت کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں ۔ بلکہ آج کل ججز کی تعیناتیوں کے عمل کو نظام انصاف پر اٹھنے
والا سب سے اہم سوال سمجھا جا رہا ہے ۔ اور یہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ اس طریقہ
کار کو بدلا جائے ۔ بارز ایسوسی ایشنز کو تو چاہیے کہ اس طرح کے لوگوں کا
انتخاب کریں جن کو ان آئینی عہدوں کی خواہش نہ ہو بلکہ وہ اپنی بارز کی قیادت کی
حیثیت کو ان آئینی عہدوں سے زیادہ معتبر سمجھتے ہوں اور ان کے اندر اپنی پوری
برادری کے اجتماعی مفادات اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں غیر جانبداری ، شافیت
اور انصاف کے اصولوں کی پیروی پہلی ترجیح
ہو۔ اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ وہ ایک ایسی برادری کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس معاشرے کے باشعور اور
آئین و قانون کو سمجھنے والا طبقہ سمجھے جاتے ہیں اور ان کے شعبہ کے لحاظ سے اس
ملک میں انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے کوشش ان کا ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری اور فرض ہے ۔ بلکہ وکلاء
بارز اور تنظیموں کے اندر ریسرچ کی
کمیٹیاں ہونی چاہیں جو ہماری سیاست ،
معاشرت اور نظام انصاف میں درپیش مسائل
کی تحقیق پر کام کریں اور اس پر اپنی
اجتماعی قانونی آراء کی روشنی میں سفارشات مرتب کرکے اعلیٰ عدلیہ اور
پارلیمان کو بھیجیں ۔ جن کو ایک دانشمندانہ
رائے کے طور پر لیا جاتا ہو۔ جب بارز ایسوسی ایشنز کو معاشرے اور عدالتی نظام کے اندر اس
طرح کا مقام مل جائے گا تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی ان کا منتخب نمائندہ کسی
جج ، اٹارنی یا ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے میں کوئی کشش محسوس کرے گا۔ میری بار کونسلز اور وزیر قانون سےگزارش ہے کہ اصلاحات لائی
جائیں کیونکہ اپنی ذاتی خواہشات اور پسند نا پسند کی بنیاد پر پوری برادری کی
پہچان کو خراب کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا اور نہ ہی اس کی اجازت دی
جاسکتی ہے ۔ جو بھی یونیفارم پہن کر وکیل کے منصب کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا
ہے اس کے خلاف ڈسپلنری ایکشن ہونا چاہیے ۔ یونیفارم صرف عدالت میں ایک لاء آفیسر
کے طور پر پیش ہونے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ وکلاء کی خدمات کو عدالتوں
کی بجائے وہاں پر پہنچائی جائیں جہاں پر تنازعات اور قانونی پیچیدگیا ں
پیدا ہوتی ہیں ۔وکلاء اپنے دائرہ پریکٹس کو عدالتوں کی بجائے نچلی سطح پر بھی رائج
کریں ۔ ججز کے رشتہ داروں ، دوستوں اور انکی لاء فرمز کے فیلوز کو
ججز کے سٹیشنز پر پریکٹس کی حوصلہ
شکنی ہونی چاہیے ۔ وکالت کو سیاست زدہ ہونے سے بچانا ہوگا۔ جرنیل سیاست زدہ
ہوا تو اس کی عزت گئی ، جج سیاست زدہ ہوا تو اس کا مقام بھی ختم ہوا اور اگر وکیل
بھی سیاست زدہ ہوگا تو اسے کا مقام بھی
ختم ہوجائے گا ۔ جب کوئی شعبہ ایک دفعہ عوام کی نظروں میں اپنا مقام کھو جائے تو پھر اس کا معاشرتی اصلاح
کا کردار مفقود ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ہر صورت اپنے اداروں کو سیاست زدہ یا سیاست گرد ہونے
سے بچانا ہوگا۔ مانا کہ وکیل آزاد ہیں مگر اتنے آزاد بھی نہیں کہ کالا کوٹ
پہن کر مجرموں کو ہار پہناتے پھریں۔ کالا کوٹ انصاف کی علامت ہے اور انصاف کبھی
بھی جانبدار، غیر شفاف اور اصولوں کے خلاف نہیں ہوسکتا ۔
بدھ، 7 جون، 2023
ہر کوئی بے نقاب ہو رہا ہے،یہی نظام فطرت ہے
قدرت کا نظام انصاف
و انتقام بھی کیسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو ہی بے نقاب کرنا شروع کردیتا
ہے۔ ایک معقولہ تو ہر کسی نے سنا ہی ہوگا کہ انسان جب بھی کوئی کام فطری اصولوں کے
خلاف کرتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے
جو ایک الارم ہوتا ہے کہ وہ اس کام سے باز رہے مگر جب وہ اس سے نہیں رکتا
تو پھر اس کے اپنے اندر ایک افسوس سا ضرور موجود رہتا ہے ۔جو ایک حد پر پہنچنے کے
بعد اس کے اندر سے اخراج چاہتا ہے ۔وہ خواہ اس کے اپنے اعتراف کی صورت ہو یا اس کے
کسی شریک جرم کی طرف سے۔ اور اگر دونوں
صورتوں کا سبب نہ بن سکے تو پھر نظام فطرت خود ہی اس کے رازوں کو فاش کرنا شروع
کردیتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔پچھلے دس سالوں کی
سیاسی غلطیوں کی اب اخیر ہوچکی ہے اور اب یہ یکے بعد دیگرے افشا ہورہی ہیں ۔ بعض
کردار تو اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے خود ہی اعتراف کرنے لگے ہیں اور بعض
اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بے نقاب کررہے
ہیں اور بعض کے جرائم نظام فطرت کا نشانہ بن رہے ہیں اور ان کے اعمال ان کو بے نقاب کرنے لگے ہیں ۔
مگر افسوس کہ بے نقاب ہونے اور ان جرائم کے ثبوت سامنے آجانے کے باوجود بھی ہر کوئی آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو تسلیاں
دینے کی کوشش کررہا ہے کہ شائد لوگ اس کو
جھوٹ ہی سمجھ لیں ۔مگر وہ شائد نظام فطرت کے اگلے مرحلے سے ناواقف ہیں کہ ان رازوں کے افشا
ہونے کا مقصد ہی گناہوں اور
غلطیوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔ انسان اور معاشرے پر ان کے بد اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔
یہ فطرت کا ایک احسان ہے کہ انسانی اور معاشرتی بیماری کی تشخیص در اصل اس کے علاج کا تقاضہ کر رہی ہوتی ہے ۔ وہ
خواہ اس کی معافی تلافی سے ہو یا جزا و
سزا سے ۔ لیکن جو انسان یا معاشرے اس کی تشخیص کے بعد بھی اس پر توجہ
نہیں دیتے تو وہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ بیماری کے علاج کی پہلی ذمہ داری انسان کے اپنے اوپر آتی ہے یا
جو اس کا علم رکھتے ہیں ۔ جس طرح معاشروں کی بیماریوں کا علاج انسانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں پر ہوتا ہے اسی طرح ریاستی جرائم کا علاج عوام کی منتخب کردہ حکومت کے پاس
ہوتا ہے ۔ اور ایک ریاست اور اس کے شہریوں کی عزت، شہرت اور دولت کو پہنچنے والے
نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اس ریاست کے ذمہ داروں پر ہوتی ہے کہ وہ اس جرم کو
معقول منطقی انجام تک پہنچائیں ۔جس سے ریاست کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ ہو
جو عوام کا ایک اجتماعی نقصان ہوتا ہے اور افراد کے ذاتی نقصان کا بھی ازالہ اور
داد رسی ہوسکے۔ ریاست کے انتظامات کو سنبھالنا کوئی کھیل یامشغلہ نہیں بلکہ عوام کی دی ہوئی ایک
ذمہ داری ہے جس کی جوابدہی بھی ہے ۔ اور
اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی یا شفافیت ، غیرجانبداری اور برابری کی بنیاد
پر سرانجام دینے سے ناکامی کی صورت میں
پھر وہ ذمہ داران بھی اسی طرح جرم کے
مرتکب ہورہے ہوتے ہیں جس طرح سے ان کے درپیش غلطیوں ، گناہوں یا جرائم کے مرتکب ۔ اپنے فرائض سے
کوتاہی کی صورت وہ بھی فطرت کے نظام کی پکڑ میں آسکتے ہیں اور پھر ان کی جوابدہی
اور احتساب کے لئے جب نظام فطرت حرکت میں آتا ہے تو نئے ذمہ داران ان کی
جگہ لے چکے ہوتے ہیں ۔ اب حکومت پر یہ ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ وہ بے نقاب ہونے
والوں کا احتساب آئین و قانون کے دائرے
میں رہ کر شروع کریں اور اس کو شفافیت، غیر جانبداری اور برابری کی بنیاد پر قائم
نظام کے حوالے کردیں۔آگے جس جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اپنے اختیارات کو قوم کی
امانت سمجھ کر ان کا صحیح استعمال کرتے ہوئے
آگے بڑھاتا چلا جائے اور اپنے آپ کو نظام فطرت اور نظام ریاست سے سرخرور کروانے کا انتظام کرے
۔ ہر انسان موجود وقت اور اختیار کو اللہ
کا احسان سمجھے کہ ابھی یہ اس کا فیصلہ اس
کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اعمال کا انصاف اپنے ہاتھ سے
کرلے اس سے پہلے کہ وقت اور اختیار اس کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ میں چلا
جائے اور کوئی اوراس کے اعمال پر فیصلے کر رہا ہو ۔ اسی طرح سے یہاں ہر کوئی بے نقاب ہوتا ہے ، فطرت کے نظام
انصاف ، انتقام ااور مکافات عمل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اگر کوئی سمجھے تو۔ کوئی جج ہو، جرنیل
ہو، بیوروکرٹ ہو یا سیاستدان سب کے پاس اسی ریاست کے مہیا کردہ اختیارات
اور وسائل ہیں جواس قوم کی امانت ہیں جن کا مقصد ریاست اور عوام کی فلاح و بہبود
ہے نہ کہ ذاتی مفادات کے لئے انکا استعمال ۔ اور کوئی بھی اگر ان کے استعمال میں
کوتاہی ،من مانی یا ان کا غلط استعمال کرے
گاتو وہ اپنے آپ کو کبھی بھی بچا نہیں پائے گا۔ غور کریں تو ہمارے ارد گرد ہماری آنکھوں کو دیکھنے اور ذہنوں کو سمجھنے کے
لئے مشاہدے موجود ہیں اور کوئی بھی آج سے سو سال پہلے والا موجود نہیں مگر اس کے
اعمال تاریخ کی امانت بن چکے ہیں ۔ اس کے دنیا کے اسباب پیچھے رہ گئے ہیں ۔اس نے
ان کو کس طرح اکٹھا کیا اس کا حساب وہ خود دے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی
زندگی بھی ہمارے سامنے ہے ۔ تاریخ کا نظام
انصاف اپنے فیصلے سنا رہا ہے اور ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کر رہا ہے
۔ حکمران ، جج ، جرنیل ، بیوروکریٹ ، سیاستدان یا جس جس کے
پاس بھی جو ذمہ داری ہے ۔ یاد رکھیں کہ ہم
کسی کو بھی اپنی ذات کی حد تک کے نقصان اور سرزد ہونے والی غلطی کو تومعاف کر سکتے
ہیں مگر ریاستی املاک کو پہنچے والے نقصان میں پوری قوم کا حصہ ہے اور کسی کو کوئی
اپنی مرضی ،اس کے ساتھ تعلق، اس کی حیثیت یا اس کے رتبے کے لحاظ سے کوئی رعائت
نہیں دے سکتا۔ اور جو کوئی اس نظام قدرت کے توازن میں بگاڑ کی کوشش کرتا ہے تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ جب اللہ کے رسول ﷺکے پاس ایک لڑکی کے چوری کے جرم میں سزا
پر سفارش کی گئی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہوتیں تو
یہی سزا ملتی۔ اور وعید بھی سنائی کہ پہلے والی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ انہوں
نے انصاف نہیں کیا۔ حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ اللہ انسان کی عیبوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا ہے جب
تک وہ اخیر نہ کردے۔بالآخر وہ بے نقاب
ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ آج جو لوگ اپنی زندگی میں بے نقاب ہو رہے ہیں ان پر
بھی اللہ کا احسان ہے ،انکو موقع دیا گیا ہے کہ جن کی انہوں نے حق تلفی کی ہے ، ان
سے معافی تلافی کر لیں تاکہ کل تاریخ یا آخرت کے کٹہرے میں ان کے نامہ
اعمال میں کوئی گناہ، غلطی یا جرم نہ ہو اور وہ اس دنیا سے سرخرو ہو کر جائیں ۔