سوچ کی غذا

بدھ، 29 اپریل، 2026

نظامِ عدل کی مہاڑ نہیں معیار بدلنا ہوگا


"جب انصاف ترازو سے نہیں بلکہ تعلقات سے تولنا شروع ہو جائے—تو مسئلہ قانون نہیں، نظام کا معیار ہوتا ہے۔" 

پاکستان میں آئینی ترامیم ایک معمول کا حصہ رہی ہیں، مگر حالیہ برسوں میں یہ عمل محض قانونی ضرورت کے بجائے ادارہ جاتی کشمکش کا مظہر بنتا جا رہا ہے۔ آئین کی روح “اختیارات کی تقسیم” (Separation of Powers) میں ہے، جہاں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے پر توازن قائم رکھتے ہیں۔ لیکن جب یہ توازن بگڑ جائے تو نظام انصاف محض ایک نظریہ بن کر رہ جاتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی نے اس توازن کو شدید متاثر کیا۔ جب پارلیمان نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے آئینی ترامیم کا راستہ اختیار کیا تو عدلیہ کی جانب سے اس میں مداخلت نے اداروں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا۔

منگل، 28 اپریل، 2026

اسلامی تعلیمات عقائد اور ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی ہیں، نہ کہ افراد پر کفر و شرک کے فتوے جاری کرنے کا اختیار۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو نہ صرف اللہ سے جوڑتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک وحدت میں پروتا ہے۔ اس کی بنیادی روح اتحاد، اعتدال اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا:

“اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو” (آل عمران: 103)

اور ایک اور مقام پر سخت تنبیہ کی گئی:
“جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقے بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں”
(الانعام: 159) یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں اصل چیز وحدتِ امت ہے، نہ کہ گروہ بندی۔

اتوار، 26 اپریل، 2026

اللہ کا ولی بننے میں ایک لمحہ درکار ہے

اللہ کے ولیوں کا مقام بہت بلند ہے—اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس مقام تک پہنچنا کوئی پیچیدہ یا ناممکن کام نہیں۔ یہ کوئی میرا دعویٰ نہیں، بلکہ قرآن کی واضح تعلیم ہے۔ اس کے لیے نہ کسی سفارش کی ضرورت ہے، نہ کسی بڑے اہتمام کی، نہ کسی معاہدے یا گواہ کی۔ یہ تو بس ایک لمحے کا فیصلہ ہے: دل کا جھک جانا، اور کیفیتِ دل کا بدل جانا۔

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ۔ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(وہ دن جب نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے حضور قلبِ سلیم لے کر آئے)

سوال یہ ہے کہ قلبِ سلیم کیسے حاصل ہو؟

جمعرات، 23 اپریل، 2026

کائنات کی چار حقیقتیں

 

کائنات کو سمجھنے کی انسانی کوشش اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ ہر دور میں مفکرین نے اس سوال کا جواب تلاش کیا کہ آخر وہ کون سی بنیادی حقیقتیں ہیں جن پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اگر ہم اس سوال کو سادہ مگر گہری نظر سے دیکھیں تو چار ایسی حقیقتیں سامنے آتی ہیں جو نہ صرف کائنات بلکہ انسانی زندگی کی تفہیم میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں: ذات، عمل، موت اور مقصد۔

سب سے پہلی حقیقت انسان کی اپنی ذات ہے۔ یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے ہر شعور جنم لیتا ہے۔ انسان اپنی سوچ، اپنے احساسات اور اپنے ادراک کے ذریعے ہی کائنات کو معنی دیتا ہے۔ اگر شعور نہ ہو تو کائنات محض ایک خاموش منظر بن کر رہ جائے۔ اس لیے ذات محض ایک وجود نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں پوری کائنات کا عکس جھلکتا ہے۔

دوسری حقیقت عمل ہے۔ کائنات ایک جامد شے نہیں بلکہ مسلسل حرکت اور تبدیلی کا نام ہے۔ ہر شے کسی نہ کسی عمل کا نتیجہ ہے اور ہر عمل ایک نئے نتیجے کو جنم دیتا ہے۔ یہی تسلسل کائنات کے نظام کو برقرار رکھتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بھی عمل ہی وہ قوت ہے جو خوابوں کو حقیقت میں بدلتی ہے اور خیالات کو دنیا میں اثر انداز کرتی ہے۔

بدھ، 22 اپریل، 2026

ایک لفظ، دو جملے، اور چار حقیقتیں

 اقراء

ہم بحیثیت انسان اور مسلمان جب بھی حکمت و دانائی کی بات کرتے ہیں تو ایک لفظ ہمارے ذہن میں ابھرتا ہے: اقراء۔

یہ کوئی عام لفظ نہیں، بلکہ علم و شعور کے دروازے کھولنے والی کنجی ہے۔ یہی وہ پہلا حکم ہے جس سے قرآنِ کریم کا آغاز ہوا اور جس نے انسانی فکر کو نئی سمت عطا کی۔

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ

پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا

اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ

پڑھ، اور تیرا رب بڑا کریم ہے

ان دو آیات میں بظاہر سادہ الفاظ ہیں، مگر اگر انہیں کھولا جائے تو پوری کائنات کا فکری نقشہ سامنے آ جاتا ہے:

اتوار، 19 اپریل، 2026

دنیا کو جنگی تجربوں کے بجائے امن کے تجربے کرنے چاہئیں

 

اگر پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ایک بار جنگ بندی ممکن ہو چکی ہے تو اس کے دوبارہ آغاز کے امکانات یقیناً کم ہو جاتے ہیں، تاہم انہیں مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ اگر جنگ دوبارہ بھڑکتی ہے تو یہ محض ایک خطے کی ناکامی نہیں بلکہ پوری دنیا کی اجتماعی ناکامی تصور ہوگی، جو ایک وسیع تر عالمی تصادم کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اگر اس پر مزید دباؤ پڑا تو یہ کمزور معیشتوں کو شدید بحران کی طرف دھکیل دے گا، جس کے نتیجے میں مزید ممالک اس کشیدگی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یوں عالمی سطح پر دھڑے بندی اور بلاکس کی سیاست مزید واضح ہو جائے گی۔

مزید برآں، غلط فہمیوں میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ماضی میں بھی یہ خدشات سامنے آئے کہ بعض حملوں کا مقصد خلیجی ریاستوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا تھا۔ ایسے حساس حالات میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، جو قابلِ تحسین ہے۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2026

کائنات، شعور اور عمل: ایک سائنسی و فلسفیانہ کالم

 

دنیا میں انسان ہمیشہ سے ایک بنیادی سوال کے ساتھ جڑا رہا ہے: حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ وہ جامد اشیاء ہیں جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، یا پھر یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے جو ہر لمحہ نئی صورت اختیار کر رہا ہے؟

جدید فلسفہ اور سائنسی فکر اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ کائنات کو محض ٹھہری ہوئی اشیاء کا مجموعہ سمجھنا ایک محدود تصور ہے۔ زیادہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ پوری کائنات ایک مسلسل “process” یعنی جاری عمل ہے، جس میں ہر شے “ہونے” کے مرحلے سے گزر رہی ہے، نہ کہ کسی حتمی حالت میں موجود ہے۔

کائنات: ایک مسلسل عمل

اس تصور کے مطابق کائنات کوئی جامد ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک بہتا ہوا وجود ہے۔ یہاں ہر چیز حرکت میں ہے، ہر شے تبدیلی کے اندر ہے، اور ہر لمحہ نئی تشکیل لے رہا ہے۔ وجود دراصل “ہونا” ہے، نہ کہ “ہو چکا ہونا”۔

جمعرات، 16 اپریل، 2026

پاکستان امن مذاکرات میں ثالثی نہیں بلکہ امن کی تاریخ رقم کر رہا ہے

 پاکستان نے حالیہ امن مذاکرات کو محض ثالثی کے طور پر نہیں بلکہ ایک نئے عالمی امن بیانیے کے آغاز کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ ان مذاکرات کا انعقاد غیر مشروط تھا، جس کا بنیادی مقصد دنیا میں امن کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے—ایک ایسا مقصد جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے پاکستان کے کردار کا اعتراف اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان اس عالمی پذیرائی کو نہ صرف دنیا میں امن اور تحفظ کے احساس کے فروغ کے لیے استعمال کر رہا ہے بلکہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ بروقت اور درست فیصلوں کے ذریعے عالمی معاملات کا رخ کس طرح مثبت سمت میں موڑا جا سکتا ہے۔ عالمی دانشور بھی اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے کردار میں سامنے آ رہا ہے جو کسی حد تک اقوام متحدہ کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے—جو بلاشبہ ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2026

واللہ! پاکستان جیت گیا ہے


10 مئی 2025 کو پاکستان نے اشتعال انگیزی کو شکست دی تھی، اور 10 اپریل 2026 کو امن اور فتح کا پرچم بلند کیا ہے۔

اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کروانا بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی تھی—ایک ایسا لمحہ جب چند ہی لمحوں کے فاصلے پر تیسری عالمی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب محسوس ہو رہی تھی۔ دنیا کی نظریں اس امر پر جمی ہوئی تھیں کہ کب امریکی صدر ایران پر بڑے حملے کا حکم دیتے ہیں، مگر اسی دوران یہ پیغام سامنے آیا کہ پاکستان کے وزیرِاعظم کی درخواست پر دو ہفتوں کے لیے سیزفائر کر دیا گیا ہے۔

یہ ایک ایسا غیر متوقع سفارتی موڑ تھا جس نے عالمی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انتشار اور تصادم کی خواہاں سوچیں دم توڑتی نظر آئیں، جبکہ امن، تدبر اور مکالمے کا راستہ روشن ہونے لگا۔

پاکستان: ایک ریاست نہیں، ایک زندہ مشن ہے

 الحمدللہ!

پاکستان محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک زندہ و متحرک مشن کا نام ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے صرف جغرافیائی حدود میں قید نہیں کیا جا سکتا، یہ وہ تصور ہے جو حوصلے کو جِلا بخشتا ہے، جرات کو مہمیز دیتا ہے اور ذمہ داری کا احساس بیدار کرتا ہے۔

آج کے غیر یقینی عالمی حالات میں پاکستان دنیا کو صرف امن کا پیغام ہی نہیں دے رہا بلکہ حوصلے، جرات، تحفظ اور ذمہ دارانہ رویّے کی عملی مثال بھی پیش کر رہا ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی قوم کو باوقار اور معتبر بناتے ہیں، اور پاکستان ان صفات کے ساتھ عالمی برادری میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی مہمان نوازی محض ایک رسم یا روایت نہیں، بلکہ یہ ہماری تہذیب و تمدن کا ایک نمایاں وصف ہے۔ اس کے پسِ پشت ایک طویل تاریخی تسلسل موجود ہے، جو ہماری اقدار، روایات اور فکری پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو ہمیں دیگر اقوام سے ممتاز کرتی ہیں اور ہماری قومی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔

جمعہ، 10 اپریل، 2026

“محمد ﷺ کی تعلیمات: انسانی کامیابی کا سب سے مکمل اور روشن ماڈل”


انسان ہمیشہ سے ایک ایسے نمونے کی تلاش میں رہا ہے جو نہ صرف رہنمائی کرے بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں قابل عمل بھی ہو۔ صدیوں کی فکری جستجو، انسانی تاریخ کے تجربات اور سوچ و بچار کے بعد دنیا آج بھی اس حقیقت پر متفق ہے کہ محمد ﷺ سب سے زیادہ اثر انگیز، ہمہ گیر اور مثالی رہنمائی فراہم کرنے والی شخصیت ہیں۔ یہ اتفاقِ رائے صرف عقیدت کا نتیجہ نہیں، بلکہ عملی زندگی میں توازن اور جامعیت کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔

اسی طویل فکری سفر کے بعد دنیا آج بھی اس حقیقت پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ محمد ﷺ سب سے زیادہ اثر انگیز، ہمہ گیر اور مثالی رہنمائی فراہم کرنے والی شخصیت ہیں۔ یہ اتفاقِ رائے محض عقیدت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسی عملی حقیقت کا اعتراف ہے جو تاریخ کے ہر دور میں اپنی معنویت منواتی رہی ہے۔

پاکستان: عالمی امن کی ابھرتی ہوئی علامت

 دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی تھی جہاں کشیدگی کے بڑھتے سائے تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو جنم دے رہے تھے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی علامت بن چکا تھا۔ مایوسی، بے یقینی اور خوف نے عالمی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

ایسے میں پاکستان ایک منفرد حیثیت کے ساتھ سامنے آیا۔ ایک ایسا ملک جس کے دونوں فریقین سمیت مشرقِ وسطیٰ کے اکثر ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں، اس بحران کو محض دور سے دیکھنے کے بجائے عملی کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ ابتدا ہی سے پاکستان نے غلط فہمیوں کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کر دیا۔

یہ بحران صرف سیاسی نہیں تھا؛ اس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل رہے تھے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، تجارتی بے یقینی اور سرمایہ کاری میں جمود نے دنیا کو ایک بڑے اقتصادی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے باوجود پاکستان نے نہ صرف ان خطرات کو سمجھا بلکہ انسانیت کو درپیش ممکنہ تباہی کا بھی ادراک کیا۔

بدھ، 8 اپریل، 2026

Global Situations Demanding 'The Adam Accord'

The twenty-first century appears to be a masterpiece of scientific progress and digital globalization, yet deep sociological observation reveals that humanity is suffering from its most acute intellectual, racial, and geographical fragmentation in history. To establish peace, the world forged numerous material frameworks, from the League of Nations to the United Nations (UN). Recently, multilateral treaties like the "Abraham Accords" were introduced to safeguard political and economic interests. However, these material endeavors failed miserably in yielding sustainable peace, as they remain bound by specific geographical confines and material imperialism. They attempt to impose external laws by viewing man merely as an economic animal, whereas the genuine threats confronting the world—cognitive deviance, moral decline, and absolute Atheism—are brewing inside human hearts. In these volatile global conditions, the final verses of Surah Al-Baqarah (verses 285 and 286) alongside Surah Ali 'Imran (verse 64) present a revolutionary and alternative narrative to the cosmos, termed here as "The Adam Accord." This Accord is a universal manifesto designed to unite humanity under the bond of "Adamhood," transcending material boundaries.

شکریہ شہباز شریف، شکریہ پاکستان

"شکریہ شہباز شریف، شکریہ پاکستان" — یہ وہ جملے ہیں جو آج عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں غیر معمولی طور پر گونج رہے ہیں۔

اس کی وجہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ ایک ایسا عالمی پس منظر ہے جہاں دنیا پہلے ہی شدید اقتصادی دباؤ کا شکار تھی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، سکڑتی ہوئی معیشتیں اور حکومتی آمدنی کے کم ہوتے ذخائر نے کئی ریاستوں کو داخلی و خارجی خطرات سے دوچار کر رکھا تھا۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتی تو تیل کی قیمتیں دوگنا ہونے اور عالمی معیشت کو سالانہ تین ٹریلین ڈالر تک کے نقصان کا خدشہ موجود تھا۔ بظاہر حالات ایسے تھے کہ اس بحران کے خاتمے کی کوئی واضح امید دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

طاقت، توازن اور انسانیت: ایک نئے فکری فریم ورک کی ضرورت

اگر طاقت انسانیت کے تابع نہ ہو تو وہ ہمیشہ تباہی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ 


دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن بظاہر موجود تو ہے، مگر انصاف، اخلاقیات اور انسانیت کا توازن تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر جاری تنازعات، اقتصادی مفادات کی کشمکش، اور طاقت کے بے دریغ استعمال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا موجودہ عالمی نظام واقعی انسانیت کی فلاح کے لیے کام کر رہا ہے یا محض طاقت کے ارتکاز کا ذریعہ بن چکا ہے؟

یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ طاقت کا استعمال زیادہ تر اقتصادی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ہو رہا ہے، جبکہ انسانی اقدار، ریاستی خود مختاری اور اخلاقی اصول ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:
کیا طاقت کو کسی اخلاقی اور انسانی توازن کے تابع کیا جا سکتا ہے؟

اسی سوال کے تناظر میں ایک نئے فکری زاویے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جسے ہم “Human-Centric Balance Framework” کا نام دے سکتے ہیں۔

جمعہ، 3 اپریل، 2026

اُلو کا پَٹھا

اُلو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی نے اسے دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، مگر "الو کا پٹھا" ہر کسی نے ضرور سنا ہوگا۔ البتہ "پٹھا" کے مفہوم سے شاید ہر کوئی واقف نہ ہو، اور اسے سمجھنے کے لیے کسی نہ کسی کی شاگردی درکار ہوتی ہے۔

اب یہ واضح نہیں کہ ہم اُلو کو بے وقوف سمجھتے ہیں یا سادہ لوح، مگر معاشرتی طور پر اسے عموماً بے وقوفی کے معنوں میں ہی لیا جاتا ہے۔ ادب کی خوبی دیکھیے کہ اس نے سخت لفظ "بے وقوف" کو بھی ایک نرم اور نسبتاً شائستہ انداز میں بدل دیا، تاکہ بات بھی ہو جائے اور دل بھی نہ دکھے۔

اگرچہ ناگواری تو پھر بھی پیدا ہوتی ہے، مگر ردِعمل میں واضح فرق آ جاتا ہے۔ اگر آپ کسی کو سیدھا "بے وقوف" کہیں یا "الو"، تو دونوں صورتوں میں ردِعمل مختلف ہوگا۔ اگر مخاطب کو ذرا سا بھی ادبی ذوق ہو، تو وہ "الو" کہنے پر اپنے ردِعمل میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑے گا۔

جمعرات، 2 اپریل، 2026

خوش کر دِتا ای ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں

آج پاکستان دنیا میں سفارتکاری کا مرکز بنا ہوا ہے، امن کی تلاش میں مڈل ایسٹ سے لے کر نارتھ امریکہ تک ہر کسی کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ ایران میں بارود کے دھوئیں کے اندر سے بھی سبز ہلالی پرچم لہراتی انسانی آوازوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ بھی اس جنگ کے خاتمے کا حل پاکستان کے پاس سمجھ رہا ہے۔ 

یہ ایک مصمم حقیقت ہے کہ پاکستان خطے میں دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے یکتا ہوتے ہوئے دنیا کی دفاعی ٹیکنالوجی میں مہارتوں کا استعارہ بن چکا ہے۔

دنیا کی تاجر برادری پاکستان کو ایک محفوظ ترین ٹرانزٹ سپاٹ سمجھ رہی ہے اور اس وقت سبز ہلالی پرچم کے حامل بحری جہاز سمندروں کے سکوت میں دنیا کی معیشت کی روانی کا واحد سہارا بن کر خطرات سے کھیلتے ہوئے اپنی سفارتی حکمت عملیوں کی بدولت بقا کی امید بنے ہوئے ہیں۔

میگزین