سوچ کی غذا

بدھ، 29 جنوری، 2025

جھوٹ بولنے والے کی داڑھی میں "پیکا"

پیکا میں ترمیم کیا ہوئی ہے کہ ہر طرف سے چیخنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں جیسے ہر کسی کا دم گھٹنے لگا ہو۔ صحافی تو کیا سیاستدان بھی بول پڑے ہیں۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمن نے بھی صدر آصف علی زرداری سے جلدی میں دستخط نہ کرنے کی گزارش کر دی ہے اور انہوں نے مان بھی لی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ صحافت اور سیاست جھوٹ کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ سیاست میں بھی بیانیہ بنانا سیاستدانوں کی مجبوری ہوتی ہے اور جب جھوٹ پکڑا جائے تو کہہ دیتے ہیں "وہ سیاسی بیان تھا" اس سے آپ ہماری سیاست کے معیار کا  بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اور صحافت میں بھی جب تک خبر کو تھوڑے سے پر نہ لگائے جائیں وہ اڑتی نہیں اس لئے جھوٹ نہ بھی ہو تو جھوٹ جیسے گماں کا تاثر تو ہر خبر میں ملتا ہے۔ وڈیوز پر تھنب نیل تو کبھی بھی حقائق پر مبنی نہیں ہوتے کیونکہ جب تک چاشنی نہ ہو سودا بکتا ہی نہیں۔

حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کی سنیٹر شیریں رحمان نے بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ وہ تو سیاستدان بھی ہیں اور ماضی میں صحافت بھی کرتی رہی ہیں اس لئے ان کو کچھ زیادہ ہی اندازہ ہوگا کہ اس طرح کے قوانین کے کیا نتائج نکلا کرتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ نون سے بھی اگر ایک دن کے لئے حکومت لے لی جائے تو شائد ان کی آواز سب سے بلند ہو، اگر ان کو اس بات میں شک ہو توتجربہ کیا جا سکتا ہے۔

شور سے لگتا یوں ہے کہ اس قانون میں کچھ ایسا ہے ضرور جو ہر طرف سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے تو پھر اس پر کچھ توقف اور دوبارہ سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورہ اور ان کی معاونت حاصل کر لینے میں حرج ہی کیا ہے؟ حکومت کی جلد بازی بھی بہت سارے سوال اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔

ابھی تو "پیکا" قانون بھی نہیں بنا اور اس کی عملداری کا آغاز دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ ایکٹ تو "چور کی داڑھی میں تنکا" کے مصداق  ایک مثال بن گئی ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جھوٹ بولنے والے ہی سب پریشان ہونگے لیکن یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جس نے جھوٹ بولنا ہی نہ ہو اس کو اپنی داڑھی میں ہاتھ مارنے کی ضروت کیوں پیش آئے گی یا اس کا دم کیوں گھٹنے لگے گا۔ خیر اسے سنجیدہ نہ لیجئے گا مگر جھوٹ کے ماحول کو ضرور سنجیدہ لینا ہو گا۔

کیا جھوٹ صرف خبروں میں ہی بند کرنے کی ضرورت ہے یا ہر سطح پر اس کے سدباب کی ضرورت ہے؟ سیاست یا صحافت میں تو جھوٹ کو کافی حد تک معاشرے کے اندر قبولیت کا درجہ حاصل ہو چکا ہے مگر بدنام زیادہ وکالت ہے۔ لیکن حکومت کی خاموشی بھی جھوٹ سے کم نہیں۔ فیکٹس کو چھپانا بھی جھوٹ کے ضمرے میں آتا ہے۔ کتنے ہی معاملات ہیں جن میں حکومت فیکٹس کو چھپانا چھوڑ دیتی تو شائد ملک و قوم کے حالات ایسے نہ ہوتے۔ ہم عدالت کے بارے تو کچھ کہہ نہیں سکتے مگر توہین عدالت کے خوف سے خاموش ہو جانا جھوٹ نہیں بھی تو سچ کو چھپانا تو تصور ہو سکتا ہے۔ اگر عدالتوں میں انصاف ہو اور کسی پر جھوٹا الزام لگانے پر ہرجانے کے قوانین پر عملدرآمد ہونا شروع ہو جائے تو کوئی کسی کے بارے جھوٹی بات کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حکومت نے اگر کچھ کرنا ہی ہے تو نظام انصاف کو ٹھیک کرے تاکہ جھوٹ اور الزامات کو روکنے کا  ماحول بنایا جا سکے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات اور شفاف انصاف کے بغیر  محض قوانین کسی کام نہیں ہوتے۔

کیا صرف حکومت کے خلاف جھوٹ بولنا ہی قابل گرفت ہے، حکومت کے حق میں بولنے کو استثنیٰ حاصل ہے؟ کیا حکومت کے حق میں جھوٹ بولنے کی بھی گرفت ہوگی؟ اگر ہو گی تو پھر یہ کون کرے گا اس کا اس قانون میں کوئی لائحہ عمل بتایا گیا ہے؟ لگتا یوں ہے کہ اصل معاملہ جھوٹ یا سچ کا نہیں بلکہ قانون کے اطلاق میں جابنداری کے خدشات بارے خوف کا ہے کہ جھوٹ بارے تحقیقات کا معیار کیا ہوگا؟ ماضی میں ایسے قوانین کے اطلاق میں چونکہ  اچھی مثالیں نہیں ملتیں اس لئے تحفظات پائے جار ہے ہیں ۔ پہلے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ 2022  میں پیکا کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور صحافیوں کو جھوٹی خبر کے روکنے کے کسی میکنزم کی ہدایات کی تھیں۔ اس وقت عمران خان کی حکومت  تھی تو اس کو پیکا موافق پڑ رہا تھا اور آج مسلم لیگ نون کی ہے تو اس کو موافق پڑ رہا ہے۔ ایسے قانون جو حکومت ہوتے ہوئے ہی موافق ہوں کی افادیت ،اہمیت اور مقاصد کا اندازہ تو لگایا  ہی جا سکتا ہے۔

جھوٹی خبر سے بھی زیادہ معاملہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کیرجسٹریشن کا ہے جو ناقابل فہم لگتا ہے۔ سوشل میڈیا تو معلومات کو شئیر کرنے یا ان تک رسائی کا ایک زریعہ ہے جس پر جھوٹ کی نشاندہی اور اس کی رپورٹ کرنے کا طریقہ کار بھی پہلے سے موجود ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے ان  کا سدباب ممکن ہے۔ اگرجھوٹی خبریں عام لوگ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنا سکتے ہیں تو کیا حکومت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ان خبروں کی نشاندہی اور رپورٹ کر کے ان کو بند نہیں کروا سکتی اور جس بھی آئی ڈی سے دی گئی ہو اس کو بند بھی تو کروایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی زیادہ تر خبریں ہی فیک نہیں ہوتیں بلکہ ان کو دینے والی آئی ڈی بھی فیک ہوتی ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو حکومت کی پہنچ سے بھی دور ہیں اور سارا غصہ جو پہنچ میں ہیں ان پر نکل جاتا ہے۔

اب رجسٹریش کے عمل میں کئی مسائل ہوتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ تو پاکستان میں حوالوں کا ہے۔ یہاں حوالوں کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتے اور حوالوں کے ساتھ نا جائز بھی نہیں رکتے تو ایسے ماحول میں کسی قانون سے جرائم کے خاتمے کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہی ہو چکا ہوتا۔ کیا بدعنوانی کے لئے قوانین کی کمی ہے یا اس کے سدباب کے لئے ادارے موجود نہیں جو جھوٹ کو روکنے کے لئے اداروں کے قیام اور اتھارٹیز کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس سے اور کچھ ہوا یا نہ ہوا ہماری اخلاقیات بارے دنیا کو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں جھوٹ کو روکنے کے لئے اتھارٹیز کوقیام  میں لایا جا رہا ہے۔

حکومت خبروں کی اشاعت کے متعلق اٹھارٹیز کیوں نہیں بنا دیتی جس کے تحت ہر ادارے، تنظیم یا جماعت کے بارے یہ قانون بنا دیا جائے کہ اس نے اپنی رجسٹریشن کے ساتھ ہی اپنا انفارمیشن کا نظام بھی رجسٹر کروانا ہے  اور وہ براہ راست اتھارٹی کے ویب سائیٹ پر صحیح معلومات کو شئیر کرنے کے پابند ہوں اور میڈیا صرف وہاں سے خبریں لینے کے پابند ہوں اور رپورٹنگ کا نظام ہی ختم ہو جائے۔ اصل مسئلہ خبروں یا جھوٹ کا نہیں بلکہ اصل معاملہ اخلاقیات اور اعتماد کا ہے۔ اگر حکومت کو رپورٹنگ پر اعتماد نہیں تو وہ عوام پر اپنا اعتماد ہی بحال کروالیں تو مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ جہاں اعتماد ختم ہو چکا ہو اور اخلاقیات تباہ ہو چکی ہوں وہاں مسائل قوانین یا اتھارٹیز  کے قیام سے نہیں بلکہ کردار سازی سے  حل ہوتے ہیں۔

'پروجیکٹ عمران' کے تخلیق کاروں کو کوئی معافی نہیں ملنی چاہیے

عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ  تعلق بھی بن رہا ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس گرفتاری کا تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے۔

پاکستان کی سیاست میں حب الوطنی کے نام پر غیر آئینی مداخلت کی تو ایک لمبی داستان ہے جس کے اعتراف بھی بڑے پر تپاک اور تفخرانہ انداز میں کیے جاتے رہے ہیں بلکہ ان مزاجوں کے خلاف عدالتوں کے فیصلے بھی عمل درآمد کو ترس رہے ہیں لیکن عمران خان پروجیکٹ کے بعد اس مداخلت نے ایک ایسا رخ اختیار کر لیا ہے جس سے سیاست کی محبت اداروں کے معاملات کے اندر بھی سرایت کرتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہے اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی پر مبینہ طور پر ایک طویل سیاست کا سلسلہ جاری رہا اور یوں لگتا ہے کہ اس نے ادارے کی ترقی اور تعنیاتیوں کے سلسلے کو بھی سیاست زدہ کر دیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ سیاست کے اندر نظم و ضبط کو خراب کرنے کی غیر آئینی حرکتوں نے ریاست کے تمام اداروں کے نظم و نسق کو ہی سیاست زدہ بنا دیا ہے اور اس کی وجہ ان اداروں کے معززین کے ببانگ دہل کارنامے اور سرعام انکشافات ہیں جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ ان کو ریاست کے اندر کون کون سی شخصیات اور انداز کی سیاست پسند نہیں تھی اور سیاست دانوں کو کبھی عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے کر کے تو کبھی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بے یارو مددگار ڈال کر ان کے بقول وہ سیاست کے توازن کو ٹھیک کرنے میں کردار ادا کرتے رہے جو ان کی آئینی خلاف ورزیوں کے احتساب کے لئے مواد مہیا کرتا رہا مگر طاقت کے عدم توازن کے سبب اس پر سوال اٹھانے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی اور صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایسی سوچوں کے نیٹ ورک نے اداروں کے اندر گہری جڑیں پکڑ لیں اور ریاست کو ان خطرات کا شکار ہو کر 9 مئی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری کو بھی کہا جا رہا ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ تعلق بھی بن رہا ہے مگر تاریخ کی روشنی میں سیاسی اور مالی معاملات پر اس قدر سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی گئی اس لئے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا زیادہ تر تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے جس سے مستقبل میں خطرات کے خدشات کو بریک کرنا مقصد ہو سکتا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے۔

گرفتاری جہاں بظاہر ایک حیران کن خبر کے طور پر گردش کر رہی ہے وہیں ساتھ کچھ قیاس آرائیاں بھی ذہنوں کی سطح پر محو تخیل ہیں کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ کیا اس سے ہمیں قومی سطح پر کوئی سبق آموز مرحلہ بھی میسر آئے گا جو مستقبل میں ایسے واقعات کی راہ کو بند کر سکے یا نہیں؟ یہ ایک بہت ہی اہم نقطہ ہے جس کے لئے ہمیں چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ ابھی تو یہ معاملہ ویسے بھی تحقیقات کے مرحلوں سے گزر رہا ہے اور کسی کے کردار یا اس پر جرم کا الزام لگانا کسی طرح سے بھی جائز نہیں مگر ہمارا ماضی ایسے کرداروں سے بھرا پڑا ہے جو ہمیں اس پر اندازوں کے تعین کے لئے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں اس طرح کی کہانیوں کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ایک کا تعلق آئین و قانون کے اطلاق سے ہوتا ہے تو دوسرے کا تعلق اس کے اہم کردار کے عمل کا ان کی بعد کی زندگی اور عمومی ماحول پر اثرات سے ہوتا ہے جو انتہائی اہم ہے جس سے ایسے ہی کئی دوسرے کرداروں کے اندر خوف اور ندامت کے جنم لینے کا سبب پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ آئین و قانون کے اطلاق میں کبھی امید افزا نہیں رہی جس کی وجہ صرف ہمارے اداروں کی نااہلی اور مختلف سطحوں پر مفادات کا ٹکراؤ ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر سیاسی شعور کی کمی بھی اس کی بہت بڑی وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قومی سطح پر آئینی و قانونی مجرم بھی کچھ ہی وقت کے بعد پھر سے ہیرو کے طور پر دیکھے جانے لگتے ہیں۔

جیسا کہ اس کہانی کے اندر واقعات کی ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس طرح کے کرداروں کو پشیمانی یا ندامت ہوئی ہو یا ان کو اپنے کردار پر کوئی احتساب اور سزا و جزا کا کوئی خوف پیدا ہوا ہو۔ عمران خان کی گرفتاری اور پھر اس کے بعد کا ماحول ایسی ہی سوچ کی غمازی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عمران کے اقتدار کے چند ماہ کے بعد ہی اس پروجیکٹ کو لانے والے اور عوام اس سے تنگ آ گئے تھے مگر جیسے ہی ان کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تو پھر سے ان کی ناصرف ریاستی اداروں کے اندر سے حمایت اور دوبارہ لانے کی کوششیں زور شور سے جاری ہو گئیں بلکہ عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف بھی پھر سے بڑھنے لگا اور اداروں کے اندر موجود ایسے کردار جو ان کی سہولت کاری بلا خوف و تردید کرتے رہے ان کو گویا یقین تھا کہ ان کی گرفتاری عارضی ہے اور وہ دوبارہ سے اقتدار میں آنے والے ہیں جن میں نجومیوں سے لے کر عدالتوں کے معاملات پر گہری نظریں رکھنے والے تجزیہ کاروں کے خیالات سے ابھرتا ہوا تاثر وغیرہ سب کچھ کسی حیرت کدے کے ماحول سے کم معلوم نہیں ہوتا تھا جو انتہائی تشویش ناک پہلو ہے۔

اس کی دلیل ججز کے کچھ فیصلے، 9 مئی کے واقعات، اس کے بعد بھی پر اعتماد احتجاج اور دھرنے، اور اسی طرح حالیہ سہولت کاروں کی گرفتاریاں بھی اس سلسلے کو تقویت بخشتی ہوئی دلیلیں ہیں مگر سب سے بڑھ کر تحریک انصاف کا اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچ جانا بھی عوامی نفسیات کا عکاس ہے جس سے کبھی بھی حالات کے بدلنے کی پشین گوئیوں کی مکمل طور پر حوصلہ افزائی ملنے کے اندازے تذبذب کا شکار ہیں۔

ابھی پچھلے 12 سالوں سے ذہنوں پر کی ہوئی محنت سے بنائے گئے یقین یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ عمران خان پروجیکٹ نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے اور اسی سوچ کو دیکھتے ہوئے عوام کے صدقے جانے کے منظرنامے کی روشنی میں اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں معدوم ہونے کا یقین کر لینا مشکل لگتا ہے۔ جس کی وجہ عوام کی شعوری سطح کے علاوہ ان کہانیوں سے جڑے ہوئے کچھ کرداروں کی مثالیں بھی ہیں جنہوں نے مالی مفادات کے ساتھ ساتھ سیاسی فائدے بھی اٹھائے اور چند سالوں کی معمولی سزاؤں کے بعد وہ پھر سے نئے جذبے اور جوش کے ساتھ میدان عمل میں اترے اور ایک نئی کہانی تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی لئے شاہد اس طرح کے کرداروں میں کبھی خوف یا ملامت دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اب اس گرفتاری کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کہانی کو بھی مٹی پاؤ کے طور پر لے کر جس طرح سے پرویز مشرف کو پورا تحفظ فراہم کیا گیا اسی طرح اس کہانی کو بھی روایتی انداز سے چلایا جائے گا یا پھر اسے مستقبل کو لاحق خدشات اور خطرات سے بچنے کے لئے سبق آموز بنانے کی کوشش کی جائے گی جو اس ریاست کے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے باہمی گٹھ جوڑ سے اقتدار کے ایوانون میں جمہوریت کے نام پر کئے گئے مختلف ریہرسل پروگراموں کی ایک کڑی ہوتے ہیں جن کا تعلق آج کے سیاسی ماحول سے بھی جڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو شاید اس ملک کی تقدیر کا حصہ ہیں کیونکہ ایسے پروجیکٹس کے اختتام کے لئے بھی تو ایک نئے پروجیکٹ کی ضرورت درپیش ہوتی ہے جس کی وجہ شاید سیاست دانوں کی اکیلے سبق آموز کہانیوں کی تخلیق میں نا اہلی سمجھ لیں یا بے بسیاں جن کی پچھلی دو دہائیوں میں کی گئیں تمام کوششیں دم توڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور ان کوششوں میں مصروف عمل سیاسی جماعتیں بھی پھر سے انہیں پرانی بھول بھلیوں کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔

اگر اس کے سیاسی پہلوؤں کو دیکھیں تو اس وقت اقتدار میں موجود سیاسی جماعتوں کے بیانیے ان کو اپنی سیاسی مخالفت کے پیش نظر بولنے پر مجبور کر رہے ہیں مگر ان کے مؤقف میں وزن ہونے کے باوجود ان کو پذیرائی ملتی ہوئی نظر نہیں آتی اور نہ ہی ماضی کی تاریخ کسی ایسے کردار کی سیاسی دخل اندازی پر اس کا محاسبہ کرنے کے یقین کو تقویت دیتی ہے۔ پرویز مشرف والے معاملے میں تو عدالتی فیصلہ بھی موجود تھا مگر اس کے آفٹر شاکس نے اس عدالت کا ہی وہ حشر کیا جو ایک خبردار نشان ہے۔ ہاں البتہ اس میں 9 مئی کے واقعات سے جڑا ہوا کردار شاید کسی طرح بھی ہضم نہ ہو پائے کیونکہ اس سے مستقبل میں ادارے کے کمزور ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے ان کی حمایت کی گنجائش معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ البتہ فیض حمید ایک بہت اہم عہدے پر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ملک کے بہت حساس معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں اس لئے فیصلے سے قبل مفروضوں کی بنیاد پرسزا یا فیصلوں کی پشین گوئیاں کرنا ذمہ دار رویے کی علامت نہیں۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ موجودہ گرفتاریاں ماضی کی کہانیوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہیں یا پھر ان سے کوئی امید افزا وقت دیکھنے کو ملے گا جس کی ابھی تک قوم تیار نہیں ہے مگر ہم نا امید پھر بھی نہیں کیونکہ کوئی جتنا بھی تقدیر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے اس کا مکافات عمل کے انتقام سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے اور قدرت کے کبھی نہ بدلنے والے اصولوں کا شکار ہونا بھی اسی تقدیر کا حصہ ہوتا ہے جس کی تقسیم میں رد و بدل کی کوششوں سے وہ عارضی فائدے اٹھاتا رہتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہر ایسے کردار کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکافات عمل کے شکار بھنور کا حصہ بنانا چاہتا ہے یا اصلاح کی کاوشوں میں مصروف عمل کرداروں کی فہرست میں شمار کرانا چاہتا ہے۔ صاحب اختیار اور اقتدار لوگوں سے فقط اتنی گزارش ہے کہ کم از کم ایسی کہانیوں میں موجود کرداروں کے ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ مالی فوائد کو تو ریاست کو لوٹا دیں تاکہ کسی حد تک مفاد پرست سوچیں رکھنے والوں کی کچھ حوصلہ شکنی ہو اور یہ عمل ان کی سوچوں کی اصلاح کی بنیاد بن سکے۔

آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان مزید ان عام معافیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نہ صرف ملکی معیشت اس حکمت عملی سے اکتا چکی ہے بلکہ یہ ہماری ریاست کے اندر اتحاد اور نظم و نسق کو بھی بری طرح سے تباہ کر چکا ہے۔ غلطیوں کو تحفظ فراہم کرتے کرتے اب غلطیاں حماقت اور بغاوت کا روپ دھارنے لگی ہیں اور معافیوں کے سلسلے نے اداروں کے سربراہان کے اندر حوصلہ افزائی اس قدر بڑھا دی ہے کہ وہ آئین و قانون اور ڈسپلن لفظ کا تمسخر اڑانے لگے ہیں جس سے نہ صرف قومی سطح پر اعتماد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی قومی تشخص بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اس لئے اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ روک ہی لیا جائے تو بہتر ہو گا اور قوم کو اچھے فیصلوں پر اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ان کی تعریف اور تائید کرتے ہوئے داد دینی چاہیے۔

پیر، 20 جنوری، 2025

مذاکرات سے"قومی مفاہمتی معاہدے" کی صورت پائیدار مستقبل کا حل ڈھونڈنا ہوگا

  

مذاکرات میں تیسرے مرحلے کے اندرپی ٹی آئی کی طرف سے تحریری مطالبات بھی دئیے جا چکے ہیں لیکن اب  پھر سے خدشات شر اٹھانے لگے ہیں اور عمران خان نے مذاکرات کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی ہے  جو تشویشناک عمل ہے۔ مذاکر اب رکنے نہیں چاہیں بلکہ سنجیدگی سے کسی بہتری کے حل کو تلاش کرنا ہوگا۔

 جمہوری نظام میں بہتری کی گنجائش ہر مرحلے پر موجود ہوتی ہے ۔ اس میں عوامی نمائندوں کے چناؤ کے مراحل میں مکالمہ کے زریعے اور بعد میں پارلیمان کے اندر ڈسپلن، نگرانی اور جوابدہی کے عمل سےحکومتی امور کو چلانے کے لئے وسیع ترعوامی مفاد میں ہر طرح کے زرائع کو استعمال کرتے ہوئے مناسب فیصلوں کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاسکتی ہے۔ یہ سب تب ہی ممکن ہے جب جمہوریت کے اندر تسلسل ہو۔

اب پارلیمان میں ایسا ماحول پیدا کرنا پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریوں میں آتا ہے تاکہ  قومی سطح پر نہ صرف امن، خوشحال اور ترقی کی پائیداری کو یقینی بنایا جاسکے۔ جس کے لئے انکو ذاتی اختلافات، خواہشات سے بالا تر ہو کر سوچنا چاہیے۔ اور اس کے لئے مستقبل کو در پیش خطرات اور ان کےحل کی بھی ان کو فکر ہونی چاہیے۔  جو ہمارے ہاں قطعاً بھی نہیں کی جاتی اسی لئے ملک ایک قدم آگے جاتا ہے تو دو قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔

اب حکومت نے اپوزیشن کی تمام تر کوششوں اور حربوں کے باوجود معیشت کو سنبھال لیا ہے لیکن اگر اس کو سیاسی طور پر امن کا ماحول میسر ہوتا تو یہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہوتی۔ اسی طرح 2013 میں بھی معیشت کو بہتر بنا لیا گیا تھا مگر 2018 کی سیاسی انجئنیرنگ نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ اس لئے اب بھی مستقبل میں ایسے خطرات سے محفوظ رہنے کی سوچ کے پیش نظر اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے جن کو کامیاب بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہونا چاہیے جس کے لئےمذاکرات انتہائی ضروری تھےجن کا آغازہو چکا ہے اور اب کوشش کر کے ان میں تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کر لینا چاہیے تاکہ جمہوریت سے مستفید ہو کر قومی صلاحیتوں کو ملک کی فلاح اور امن کے لئے استعمال کرنے کا ماحول بنایا جا سکےجس کے لئے محاذ آرائی کی سیاست کو مفاہمتی سیاست میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

اب اقتدار کی جنگ کو ملکی فلاح کی لئے خیر باد کہنا ہوگا۔ جب سب کا دعویٰ جمہوریت کی مضبوطی اور ملک و قوم کی فلاح ہے تو پھر اس پر اکٹھے کوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی حب الوطنی کا دعویٰ  رکھتی ہے اور اگر انکاملک کو درپیش خطرات کے پیش نظر مجبوری کے تحت ایسے اقدامات اُٹھانے کا دعوی سچ ہے تو ایسے میں ان کو بھی جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی نظام کی کڑی نگرانی کے لئے اصلاحات کا ساتھ دے کر ایسی مجبوریوں کی ممکنات کو ختم کرنے کے لئے اپنی تجاویز دینی چاہیے۔ ادارے ریاست کے دست وبازو ہوتے ہیں اس لئے ریاست کے اندر عوام کی نمائندہ حکومت  یا سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیاں محاذ آرائی کی سوچ اور ماحول کسی بھی صورت ملک و قوم کے لئےمناسب نہیں ہوتے۔ لہذا اگر سب کے دعووں کا مطمہ نظر ایک ہی ہے تو پھر اس کے حصول کی خاطر مفاہمت کی کوشش میں رکاوٹ کیوں ہے؟

اس کو مذاکرات کی میز پر ہی جانچا اور اس کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت مفاہمت کے لئے ایک سازگار ماحول ہے۔ متحرک اپوزیشن پی ٹی آئی بھی حکومت کو مجبور کر کے اپنے مطالبات منوانے کے تمام تر حربے استعمال کر چکی ہے اور حکومت اس کے باوجود اپنے معاشی بہتری اور ترقی کے اہداف کی طرف بڑی کامیابی سے بڑھ رہی ہے جس کا بانی پی ٹی آئی نے بھی اعتراف کیا ہے۔

مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق پہنچتا ہے مگر انہیں قومی سوچ کے تحت یہ بھی سوچنا اور سمجھنا ہوگا کہ  محاذآرائی کی سیاست میں وہ اپنے فالوورز کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں ۔ کتنے پڑھے لکھے نوجوان 9 مئی کے بعد سے جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں  اور ابھی 26 دسمبر کو بھی بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا توحالات ناقابل تلافی نقصان کی طرف بھی جا سکتے ہیں ۔مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اگر سمجھا جائے تو یہ مقبولیت قومی اثاثہ  ہوتا ہے اور اس کااستعمال بھی ذاتی یا جماعتی مفادات کی بجائے امانت سمجھتے ہوئے قومی و ملکی مفادات کے لئے ہونا چاہیے  اور عوام کا اگر ان پر اعتماد ہے تو ان کی صحیح راہنمائی کرتے ہوئے ایسا شعور دینا ہوگا جوملک کو اچھی قیادت دینے کے قابل ہو اور اس اثاثے کو ضائع ہونےسے بچانے میں سب سے بڑی ذمہ داری ان کی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کوبھی مقبولیت ضرور ملی قوم نے ان سے بے پناہ محبت کا والہانہ اظہار کیا مگر وہ بھی اس قوم کو وہ شعور نہ دے سکےجو قوموں کی تقدیریں بدلتا ہےوگرنہ اس ملک میں قومی سطح پر اگر شعور کسی نے دیا ہوتا تو  آج یہاں  یوں قیادت کا فقدان نہ ہوتا۔

اب حکومت نے جب ان کے تمام تر مشکلات کھڑی کرنے کے حربوں کے باوجود معیشت کو سنبھال لیا ہے تو عنقریت ملک کے سیاسی حالات اپنی کروٹ بدل بھی سکتے ہیں ۔ اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں ۔

بانی پی ٹی آئی کی اس مقبولیت کو جب بھی دھچکا لگے گا وہ خیبرپختونخواہ سے ہوگاکیونکہ وہاں کے عوام نے ان کو پچھلے بارہ سالوں سے حکومت دی ہوئی ہے اور وہاں کے عوام  کا بھی حق ہے کہ باقی ملک کی طرح ان کو بھی آسائشیں اور سہولتیں میسر ہوں ۔ وہاں اس کے اثرات میں دیر اس لئے لگی کہ وہاں کے عوام محنتی ہیں اور تجارت میں وہ دوسرے صوبوں کے عوام سے آگے ہیں  وگرنہ کے پی کے میں وہ ترقی نہیں ہو پائی جو پنجاب میں مسلم لیگ نون کے حکومتی ادوار میں ہوئی اور ابھی بھی پنجاب دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہے جس کا اثر یقیناً دوسرے صوبوں کے عوام کی سوچوں پر بھی پڑے گا۔

جس کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس  بھی کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔ 

اور اب اس مقبولیت کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی  کی ہمدردیوں کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ وہ مقبولیت سے متوقع فائدے حاصل کرنے میں کامیاب اس لئے نہیں ہو پا رہے کہ یہ مقبولیت خالصتاًشعوری نہیں بلکہ ہمدردانہ ہے بلکل ویسے ہی جس طرح 2008 میں پیپلز پارٹی کو بے نظیر کی شہادت پر ہمدردیوں کے عوض حکومت ملی مگر وہ اس مقبولیت کو سنبھال نہ پائے۔ اسی طرح کاتجربہ ان کو بھی 2018 سے 2022 تک ہو چکا ہے گو اس کے حقائق کچھ مختلف تھے مگر جاتی ہوئی مقبولیت کا نظارہ وہ کرچکے ہیں جو بعد میں دوبارہ ان کو  2022 میں حکومت جانے سے ہمدردیوں کی صورت ملی

اُس وقت تو حکومت کی تبدیلی سے پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان کی بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اب ان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ کے پی کے میں کارکردگی کو دکھا کر اگلے انتخابات کی تیاری شروع کریں یا پھر  مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں جو ان کی مروجہ سیاسی حکمت عملی ہے لیکن یہ ان کی ایک اور بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے ماضی کی نسبت زیادہ مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

حکومت نے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔ لہذا ان کو بھی اپنی مقبولیت کو بحال رکھنے کے لئے مفاہمتی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اور اس پر دوسری جماعتوں کو ممنون ہونے کا رویہ اپناتے ہوئے مذاکرات کے لئے صاف دل کے ساتھ ہاتھ بڑھانے میں پہل کرنی چاہیے۔

 اور باقی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو  بھی اجتماعی سطح پراس  سوچ اور مقبولیت کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی راہ نکالنے میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انکی سیاسی بصیرت کا یہ امتحان ہے کہ وہ ملک و قوم کی بہتری کے لئے کس قدر اپنی خواہشات اور ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرتے ہوئے مفاہمتی عمل کو کامیاب کرواتے ہیں۔

مذاکرات کو کامیاب بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ متنازع مینڈیٹ ہے کہ اس میں ردوبدل کیا گیا ہے جس کو حل کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ ایک "قومی معاہدہ مفاہمت" ترتیب دیا جائے جس کے تحت اگلے پانچ سالوں کے لئے تمام اختلافات کو بھلا کر تمام بڑی جماعتوں کو ملکی فلاح، امن اور سیاسی استحکام کے لئے ایک ہونا پڑے گا اقتدار کے تنازعے کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ  سے بھی گزارش ہےکہ وہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے تمام رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے حالات پر قابو پا لیا ہے تو ان کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں اور عمران خان کی مقبولیت کو اپنے حریف کی نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کو شعور دے کر قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ملکی سلامتی اور خوشحالی میں استعمال ہونے کے ماحول کو پیدا کرنے کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ اپنی سوچ کو اقتدار کی طمع سے آزاد کر کےاسے وسیع تر قومی مفاد سے ہم آہنگ بنائیں۔ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی  سے اگر اختلاف بھی ہو تو بھی ان کی مقبولیت کے پیچھے عوامی مینڈیٹ کا احترام تو ان کا آئینی، شہری اور قانونی حق ہے۔ اگر وہ اپنی سیاسی  ساکھ کی قربانیاں دے کر ملک کو بچانے کے دعوے کا عملی ثبوت دینا چاہتے ہیں تو  پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کو "قومی میثاق مفاہمت" پر ایک ہوجانے سے مشروط کر دیں اور عالمی سطح پر ایک "سافٹ انقلاب" کی نئی مثال قائم کرنے میں اپنے حصےکا کردار ادا کریں ۔ ملک کے مستقل کو سیاسی انتہاءپسندی سے بچانے کا اس سے بہتر اور کوئی حل نہیں۔

اتوار، 19 جنوری، 2025

منبر، مسجد و مدرسے کا انتظام سنجیدہ سوچوں کے سپرد کئے بغیر فرقہ واریت سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔

مدارس کی رجسٹریشن کا نیا قانون بن گیا ہے جس پر مولانا فضل الرحمن، جنہیں پارلیمان میں مذہبی حلقوں کی نمائندگی کا شرف حاصل ہے نے اسے  پارلیمان کی بالادستی کہتے ہوئے مذہبی حلقوں کو مبارکباد دی ہے کہ اس سے ان کی آزادی اور خود مختاری قائم رہے گی۔  اس معاملہ کے متعلق پائے جانے والے دیرینہ فرقہ واریت کے تاثرات بارےخدشات میں کوئی کمی آئے گی یا نہیں بارےحتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا  لیکن محسوس یوں ہو رہا ہے کہ اگر مسالک اور نظریات کی شناخت کے ساتھ رجسٹریش جاری رہتی ہے تو پھر اس سے فرقہ واریت میں فرق پڑنے کی بجائے اسے مزید  تحفظ فراہم   ہوگا۔

 عسکریت پسندی، شدت پسندی، مذہبی منافرت پر مبنی سرگرمیوں میں مدارس کی تعلیم و تربیت کےکردار بارے شکوک شبہات دور کرنے کے لئے قانون میں ترامیم بھی کی گئی ہیں جن کی رو سے مدارس میں عسکریت پسندی، شدت پسندی یا مذہبی منافرت بارے مواد شائع کرنے یاپڑھانے پر پابندی لگائی گئی ہے مگر میرے خیال میں تو پہلے بھی اس طرح کا کوئی خاص نصاب نہیں پڑھایا جاتا جس میں باقاعدہ عسکریت پسندی، شدت پسندی یا فرقہ واریت کی تعلیم دی جاتی ہو۔

دراصل اس طرح کی ذہن سازی تو اسلامی تعلیمات کی تشریحات کے دوران فرضی داستانوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے جس کا زیادہ تر احتمال یا انحصار ہی سینہ بہ سینہ چلنے والی کہانیوں  پر ہوتا ہے جن میں  ایک فرقہ دوسرے کو درود شریف کا منکر تو دوسرا اپنے آپ کو موحد اور دوسروں کو مشرک کہتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے ایمان  و یقین کو پختہ کرتے ہوئے ان خدشات کو ایمان کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور کوئی اہل بیت کی محبت میں صحابہ کی زندگیوں کے متعلق خدشات اور کوئی  صحابہ کے حب میں ان خدشات کو کفر کی بنیاد بنا کر فتوے جاری کر رہا ہوتا ہے جس کی بنیاد ایسا اختلافی لٹریچر ہے جن کے مصنفین کا تعلق مخالف فرقوں سے ہوتا ہے جو نہ تو مدارس میں پڑھایا جا رہا ہوتا ہے اور نہ ہی ڈھونڈنے پر کبھی ملا ہے۔

حالات و واقعات سےمحسوس ایسے ہوتا ہے کہ اس کی حساسیت کا ابھی تک ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پا رہا  اور اس کا حل اس وقت تک ممکن نہیں  جب تک مذہبی حلقوں کو خود یہ احساس نہ ہو کہ مذہبی منافرت سے دین کا نقصان ہو رہا ہے جس کے لئے حکومت کو اس حساس مسئلے کے نقصانات بارےمذہبی حلقوں کو باور کروانا ہوگا جس کی ذمہ داری اسلامی نظریاتی کونسل کو سونپی جا سکتی ہے۔ اور باقائدہ اصلاحات لا کر ایسا ماحول پیدا کرنا پڑے گا جس میں علماء کا حکومت پر اعتماد بڑھ کر مذہبی حلقوں اور حکومت کے درمیان عدم اعتماد کا ماحول ختم ہو اور ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کے اندر ہم آہنگی پیدا کی جائے خواہ وہ دینی مدارس کی تعلیم ہو یا دوسرے سکولوں اور کالجز کی۔ تعلیم میں اس بات پر توجہ دی جائے  کہ ہمارے فارغ التحصیل انسانی ذرائع کا علم و ہنر کیا ہماری قومی ضروریات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ ان مدارس سے فارغ طلباء بھی اس ریاست کے انسانی وسائل ہیں جن کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی لائحہ عمل ہونا چاہیے تاکہ ان کے لئے بھی مواقعے پیدا ہوں  اور جب وہ کسی ذمہ دار عہدے پر ہونگے تو خود بخودہی ریاست کے ضابطہ اخلاق کے اطلاق کے تحت آ جائیں گے۔

مدارس میں تعلیمات کے حصول کے بعد طلبا فارغ اوقات میں  کچھ نہ کچھ تو کریں گے اور کچھ نہیں تو ان کے کسی نہ کسی مذہبی تنظیم کا حصہ بن کر  ان کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کے دور میں زمانے کے انداز بدلنے سے تبلیغ کا انداز بھی بدل گیا ہے جس کے متعلق سب سے بڑا مسئلہ اس وقت نگرانی  کا ہے جو پہلے ہی حکومت کو سیاسی سطح پر بھی درپیش ہے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی پروگراموں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جس سے معاشرے میں ان اختلافی مسائل پر بحث مباحثہ پہلے سے بھی زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر کسی شرعی یا مذہبی نقظے پررائے دینے کے متعلق قانون بنایا جانا چاہیے جس میں مبلغ کے لئے کسی مذہبی مدرسے سے مستند تعلیم، کسی ماڈل مدرسے میں درس وتدریس کا تجربہ اور کسی جامع مسجد میں کم از کم دس سال خطابت کے تجربے کو بنیادی شرائط رکھا جائے  تاکہ سنجیدہ سوچ کے حامل لوگوں کےسوشل میڈیا پر مذہبی معاملات میں رائے دینے کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح کچھ مساجد کی امامت اور خطابت شروع کر دیتے ہیں جہاں ان کی سوچ و عمل کامعاشرے کی تشکیل پر سب سے گہرا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔

مساجد کا کردار صرف عبادات تک ہی  محدودنہیں بلکہ ان کے اندر دی جانے والی تعلیم و تربیت کا ہماری مجموعی معاشرتی زندگی سے لے کر ریاست کے انتظامی معاملات تک گہرا اثر پڑتا ہے۔ آج بھی دیہاتی علاقوں میں بچہ جب بولنے اور چلنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کو مسجد میں بھیجنا شروع کر دیا جاتا ہے جہاں ان کے عقیدوں اور نظریات کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اسلام سے محبت اور دین کی اتباع کا درس دیا جاتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول تک پہنچنے کے لئے مولوی کی اتباع سے مشروط ہے اور دین کو سمجھنے کے لئے ہمارا پورا معاشرہ انہیں مساجد کے اماموں اور خطیبوں کی مرہون منت ہے اور آج بھی ہمارے ملک میں جوانتہا ءپسندی کی شکار سرگرمیاں جاری ہیں ان کا کسی نہ کسی طرح سے ایسی ہی تراغیب سے تعلق نکلتا ہے۔

مذہبی منافرت اور انتہاء پسندی کی سرگرمیوں میں باقائدہ مساجد میں اعلانات کر کے اشتعال انگیزی کی شہادتیں رپورٹ ہوتی ہیں اس لئے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی ذمہ داری کا دینی ماحول سے جڑے ہونے کے تاثر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے نظریات اور عقائد کی تقلید میں دوسرے نظریات اور عقائد کے پیروکاروں پر تشدد اور ان کی جانوں کو لینے کے سلسلے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب علماء کا ہی یہی حال ہے مگر معاشرے کی عمومی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اس معاشرتی تربیت کے متبادل نظام کی اصلاح کی اشد ضرورت  ہے جس کی بدولت  آج ہم اس انتہاء پسندی کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ اگر ہم اس تسلسل کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان تربیت گاہوں کے انتظامی امور کو مثبت سوچوں کے حامل لوگوں کے  سپرد کئے بغیرکنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس کا انتظام ایک اسلامی ریاست کے اندر حکومت کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ اگر تمام مساجد کا انتظام حکومت کے لئے ممکن نہیں تو کم از کم جامع مساجد کے لئے آبادی اور خطیب کے لئے مستند تعلیم یافتہ ہونے کی شرائط تو رکھی جائیں جس کے اندر ریاست کے انتظامی معاملات میں اس کے مثبت کردار کے لئے بھی کوئی ریفریش کورسز کا اجرا کیا جائے تاکہ ان کو اپنے ریاست کے اندر کردار کا اندازہ اور اس کی نزاکت کا احساس تو ہو۔ اسی طرح فتوؤں کے اجراء کے لئے بھی حکومت کو مدارس سے فارغ مفتیاں کی رجسٹریشن کی کوئی اتھارٹی قائم کرنی چاہیے جس میں وہ کم از کم ٹیسٹ کے بعد یہ اہلیت حاصل کریں اور کسی ضابطہ اخلاق کی پابندی بھی ان پر لاگو کی جا سکے۔ اسی طرح نئی مسجد اور مدرسے کی رجسٹریشن سے قبل اس کے امام یا استاد کے متعلق شرائط کو پورا کرنا لازمی قرار دیا جائے۔

جب ایک سکول یا کالج کے استاد کو ساٹھ یا سو کے قریب طلباء کو تربیت دینے کے لئے پیشہ ورانہ تعلیم اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں نفسیات سے لے کر تربیت کی مختلف تھیوریز پڑھائی جاتی ہیں اور ایک استاد کم از کم دس سال کے تجربے کے بعد اسٹنٹ پروفیسر بنتا ہے تو جس نے پورے معاشرے کی عمومی تربیت کرنی ہوتی ہے کیا اس کو کسی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے لئے بس علماء والا حلیہ ہی کافی ہے جس میں داہڑی، ٹوپی اورہاتھ میں تسبیح  ہو۔

جب اس کائنات کے خالق نے اپنی قربت کا معیار تقویٰ رکھا ہے تو کیا اس کے گھر مسجد کا انتظام دیتے ہوئے اس کی قربت کے معیار کا خیال نہیں رکھا جانا چاہیے؟ کیا اس کے گھر کا انتظام سنبھالنے والے کے دل میں اللہ کے رسول کے لقب رحمت العالمیں ہونے کی خوبی کی توقع نہیں کی جانی چاہیے؟ کیا اپنی امت جس میں مسلمان اور کافر دونوں شامل ہیں کی فکر میں کھولتے  ہوئے پانی کی طرح کی آواز دیتے  ہوئے سینے کی لاج نہیں رکھی جانی چاہیے؟ کیا اس سوچ کی اطباع میں مسجد کے امام کے دل میں انسانیت کی محبت کو نہیں دیکھا جانا چاہیے؟ کیا مسجد کا انتظام سونپتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ اس شخص کا معاشرے کی تعمیر و تربیت میں کتنا تجربہ اور  سابقہ کارکردگی   یا سرگرمیاں کیا ہیں؟  کیا اس کو اپنے پیشہ میں ماہر ہونے کے لئے معاشرے کی نفسیات  اور ملکی نظم و ضبط کو سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں؟

دینی مدارس کی رجسٹریشن میں بھی تعلیمی درجات کی مطابقت سے کوئی نگرانی کا عمل ہونا چاہیے اور جید علماء کی نگرانی میں چلنے والے مدارس  جیسا کی جسٹس تقی عثمانی، قاری منیب اور کئی دوسرے علماء شامل ہیں کو ماڈل مدرسوں کا درجہ دیا جائے اور ہر خطیب کے لئے کم از کم ان ماڈل مدارس میں ایک سال کی درس وتدریس کی شرط کو لاگو کیا جائے تاکہ وہاں ان جید علماء کی نگرانی میں ان کے رویوں کواسلامی اقدار کے حامل  معاشرے کی تشکیل کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے مزین کیا جاسکے اور ایک مدرس کی ذمہ داریوں متعلق ان کی تربیت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ مذید ان کی درس و تدریس میں ریاست کے قوانین اور انتظامی معاملات کو جاننے اور سمجھنے کی  قابلیت کو یقینی بنانے کے لئے بھی ریفریش کورسز کا انتظام ہونا چاہیے۔ ان ماڈل مدارس میں درس و تدریس سے منسلک اساتذہ کی باقائدہ تربیت بڑی بڑی یونیوروسٹیوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی طرز پر کی جائے تاکہ تعلیمی نظام میں یکسانیت کی ضرورت کو پورا ہونے کو  بھی یقینی بنیا یا جا سکے۔

اسی طرح ان مدارس سے تعلیم پانے والوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے  کوئی  ایسا میکنزم بھی بنایا جائے جس میں دینی تعلیم والوں کے لئے ذمہ داریوں اور ملازمتوں کے مواقع پیدا  ہوں۔ جن میں عدالتوں میں معاون، شرعی مسائل پر فتوے جاری کرنے کے لئے رجسٹریشن کا ادارہ، قاضی کورٹس، تھانوں کی مصالحتی کمیٹاں، یونین کونسلوں کی ثالثی کمیٹیاں، پولیو یا دوسرے صحت کے مدافعانہ سکیموں کی ٹیموں کی معاونت کا کردار اور اسی طرح تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول کی مساجد کے علماء کو انتظامی کمیٹیوں میں شامل کر کے حکومتی پالیسیوں کے اطلاق میں ان کے مثبت کردار میں مدد لی جا سکتی ہے۔ اگر ان لوگوں کی ایسی جگہوں پر شمولیت ہوگی تو نہ صرف  وہ خود ضابطہ اخلاق کے پابند ٹھہریں گے بلکہ دوسروں کی اخلاقات کی درستگی میں بھی ممدومعاون ہونگے اور اس سے دین اور دنیا کے درمیاں حائل تعصب بھی ختم ہوگا۔

ایسی اصلاھات کے زریعے سے دینی حلقوں کے کردار کو فعال نظام کا حصہ بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے لئے حکومت کو شروعات کرنی چاہیں مگر اس کی کامیابی کا راز مذہبی راہنماؤں کی رضاکارانہ کوششوں سے مشروط ہے اس کے بغیر خاطر خواہ فائدہ تو کیا اس کوشش کو مزاحمت سے بھی نہیں بچایا جا سکتا ہے اور یہی خوف آج تک اس معاشرتی بگاڑ کی اصلاح میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے جس کا تاثرموجودہ قانون سازی کے عمل کے دوران بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

میری اس ملک کے جید علماء جن میں مولنا فضل الرحمن، قاری منیب، جسٹس تقی عثمانی اور داسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران علماء اکرام ہیں سے بھی گزارش ہے کہ جب وہ مدارس دینیہ کو اسلام کے قلعے اور پاکستان کے نظریاتی جغرافیے کے محافظ سمجھتے ہیں تو پھر ان کو ان قلعوں اور محافظوں کے معیار اور آپس کے اختلافات سے اسلام کی شناخت کے بگڑنے کے عمل بارے بھی فکر مند ہونا چاہیے۔ ان قلعوں کے کمانڈروں کے آپس کے اختلافات سے اس طاقت کے کمزور پڑنے کااحساس بھی ہونا چاہیے۔

علماء انبیاء کے وارث ہیں ان کا بہت بڑا مقام ہے اور یہ وراثت قرآن و حدیث کا علم ہے جس کے ثمرات محبت، امن، اخلاق حسنہ، اخوت، بھائی چارہ، برابری، بردباری، تقویٰ، ایثار اور احسان ہیں ۔اس وراثت کی تقسیم اور ذمہ داری کی کارکردگی کو پرکھنے کا پیمانہ ہماری معاشرت جس میں عبادات سے لے کر ہمارے معاملات تک کا ہر عمل شامل ہے سے ابھرتا ہوا عمومی تاثر ہے جس کا اندازہ ہمارے آج کے ماحول سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

اس لئے علماء اگر علماء بر نہ منائیں تو ان کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لئے آپس کے اختلافات کو باہمی گفت شنید کا ماحول دینا ہوگا جو اصلاح کی بنیادی شرط ہے۔ انہیں اپنے علمی اختلافات کو اپنی باہمی نشستوں تک محدود  رکھتے ہوئے عام لوگوں تک  فروعی اختلافات کے نقصانات سے بچنے کا ماحول اخلاق حسنہ کے ثمرات کا پہنچنا یقینی بنانا ہوگا ۔اپنی انبیاء کی وراثت کو اس کا اصل مقام دینا ہوگا جس کی تقسیم اور اگلی نسلوں کے سپرد کرنے کی ذمہ داری انہوں نے خود رضاکارانہ طور پر اٹھائی ہوئی ہے جس کی ان سے یوم حساب کو جوابدہی بھی ہوگی۔

تاریخ کا اگر مطالعہ کریں تو اس وراثت کی ترسیل کے دوران ہمیں نبی آخرالزمان ﷺ اور خلفاء راشدین کے ادوار میں کہیں بھی  کسی کلمہ گو کو کافر، مشرک یا بدعتی کہنے کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی لہذا ہمیں بھی اپنے انداز تبلیغ  کو انہیں اقدار اور معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔ اور اگر کسی کے پاس اس کی توجیح یہ ہو کہ اس وقت اس طرح کے اعمال کئے ہی کب جاتے تھے تو میراسوال ہے کہ یہ اعمال شروع کس نے کئے؟ یہی تو میرے پہلے سوال میں چھپا ہوا مطمع نظر ہے۔

قابل صد احترام ان داعیوں سے گزارش ہے کہ ان تمام تر اعمال جن سے شرک، کفر اور بدعت کے تاثر کا گمان ملتا ہے کا تعلق انہی  کی انفرادی شناخت کے متحمل عقائد سے ہے جن کے اندر اپنے سوا اوروں  کو کافر، مشرک یا بدعتی سمجھنا ہی ایماندار اور پکا مسلمان ہونے کے یقین کی تعلیم و تربیت کی شرط رکھی جاتی ہے، اور اسی سوچ و عمل سے ان فرقوں نے جنم لیا ہے۔

 میں سمجھتا ہوں کہ  ہمارے ملک جس کو اسلامی تعلیمات پر عمل کے لئے حاصل کیا گیا کے اندر اسلام کی شناخت میں یکسانیت کو بحال کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ جس کے لئے فرقوں کی ترجیحات کو چھوڑ کر، مسجدوں سے نظریات اور مسالک کے پہرے اٹھا کر انہیں اللہ کا گھر سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو عبادات کی ادائیگی میں آزادی دینی ہوگی۔ ان کے اندر سے فرقہ واریت کی تعلیمات سے عبادات کی قبولیت کے خوف کو ختم کرکے تقویٰ اور خشوح و خضوع کو ان کی توجہ کا مرکز بننے کا ماحول مہیا کرنا ہوگا تب ہی اسلام کے اصل مقصود انسانیت کی فلاح کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

 اس بگڑتی ہوئی صوتحال کی فکر کرتے ہوئے حکومت کو مساجد کی سرپرستی اور علماء کو اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ دینی حلقوں سے گزارش ہے کہ اپنے مدارس کو شہروں، سلفاء اور اکابریں کے ناموں پر  رکھتے ہوئے اسلام کی شناخت کو فرقوں میں بانٹنے کی بجائے اپنے اعمال اور تعلیم و تربیت سے اسلام کی شناخت میں یکسانیت کو فروغ دیں۔ جب انکی تعلیم و تربیت، تبلیغ اور عمل سے اسلام کی شناخت میں یکسانیت کے ثمرات سے اسلام سرفرازی حاصل کرتے ہوئے امن، بردباری اور بھائی چارے کو فروغ ملے گا تو لوگ ان کی درسگاہوں اور اکابریں کی کاوشوں تک  سراغرسانی کرتے ہوئے خود ہی پہنچ جائیں گے اور پوچھیں گے کہ اسلام کے اس خدمتگار کی تعلیم و تربیت کے حصول کی نسبت کس مدرسے یا بزرگ سے ملتی ہے۔

اور اگر اسی طرح ان ناموں کی نسبت سے فرقہ واریت جاری رہی تو ان سے نفرتوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اور اگر اس حساس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو فرقہ واریت کی آگ میں جھلستے معاشرے کی دین سے بڑھتی ہوئی نفرت سے لوگ اسلام سے دور ہوتے جائیں گے اور حالات کا ذمہ دار ان علماء اور اسلامی تعلمات کو ٹھہرایں گے  جن میں ایک فرقے کا عالم دوسرے فرقے کے مولوی سے نفرت پیدا کر کے دین میں تفریق سے اسلام کی شناخت اور یک جہتی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور نتیجتاً وہی مذاہب کے دخل  سے آزاد سیاست پر زور دیا جانے لگے گا جس کا وقت حکومت اور سنجیدہ علماء دنوں اطراف سے احساس کے جگانے کا تقاضہ کر رہا ہے۔

 

منگل، 14 جنوری، 2025

معلوم اور نامعلوم کے بیچ میں لٹکتا بے بس انصاف

 

کہا جاتا ہے کہ ظلم اور نا انصافی کو مٹانے کے لئے قانون اور انصاف کی تعلیم اور اس کی آگاہی دی جائے۔آج  حکومتی سطح پر  قانون سازیاں بھی ہوتی ہیں سوسائٹی کی سطح پر اس کی آگاہی کے پروگرام بھی ترتیب دئے جاتے ہیں۔  حقائق کو بیان کرتے ہوئے حل دیے جاتے ہیں لیکن جب انصاف کا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہو تو آئین، قانون، ان کی تعلیم و آگاہی اور انصاف مہیا کرنے والے ادارے سب بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔  

جب کسی شہری کو کوئی جانی مالی یا ذہنی اذیت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کی دادرسی کی پہلی امید پولیس سٹیشن سے ہوتی ہے جسے ریاست نے شہریوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری دی ہوئی ہوتی ہے اور قانون یہ کہتا ہے کہ کسی بھی وقوعہ کی اطلاع پر فوراً سب سے پہلے اس کا اندراج عمل میں لایا جائے خواہ اس کی اطلاع دینے والے کا وقوعے سے کوئی تعلق ہو یا  نہ ہو مگر ہمارے ہاں سب سے مشکل کام ہی کسی جرم کی رپورٹ کو درج کروانا ہے بلکہ قومی سطح کا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جہاں جرم کا اندراج ہی نہیں ہوگا وہاں انصاف کے عمل کا آغاز کیسے ہوگا؟

چلیں آپ کو اپنا  ذاتی اور تازہ تجربہ سناتا ہوں۔مجھے کچھ دنوں سے نا معلوم افراد کی طرف سے تعاقب کا خدشہ ہو رہا تھا جو پچھلے منگل کو دھمکیوں تک آن پہنچا جس کی اطلاع کے لئے میں تحریری درخواست لے کر پولیس سٹیشن پہنچا تو  پہلے ڈیوٹی آفیسر سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور جب اپنی روداد سنائی تو ان کا جواب  تھا کہ "ملزم ہی نا معلوم ہوں تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟" جس پر انتہائی حیرت ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی وقوعہ کے ملزم نا معلوم ہوں تو  اس میں جرم سرزد نہیں ہوتا؟ میں نے ان کو بتایا کہ 2018 میں میرے گھر سے لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرےبھی پر اسرار طریقے سے چوری ہوئے تھے جن کے واضح فنگر پرنٹس بھی ملے تھے جن کی رپورٹ اسی تھانے میں درج ہے وہ بھی آج تک نہین ملے۔  بہرحال کچھ عرض گزارشات کے بعد انہوں نے محرر کو میری درخواست وصول کر کے ڈائری نمبر مرحمت فرمانے کی ہدایات دے دیں۔

مجرم کی تو حتیٰ الوسع یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے مگر وہ جتنا بھی چالاق ہو کوئی نہ کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کا سراغ مل جائے۔ مگر ہمارے ہاں نا معلوم ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں یہ ان کی بھی تفخرانہ خاصیت ہے جو شائد قانون اور انتظامی امور کی پہنچ سے بھی بالا تر ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کچھ اور معلوم ہو یا نہ ہو مگر اپنی انسانی، شہری اور صحافتی اوقات اچھی طرح معلوم ہے جس کے ارشد شریف کی روح، مدثرناڑو کا خاندان اور مطیع اللہ جان کا وجود گواہ ہیں۔

بات صرف معلوم نا معلوم کی بھی نہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم میں بھرے مجمعے میں میڈیا کے سامنے چیف جسٹس کو جو خطاب نوازے گئے وہ پوری دنیا نے سنے اور  دیکھے۔

جب ججز کے شعور، اختیار اور بے بسی کا یہ حال ہو کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے سانحات پر کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے خطوط کے زریعے چیف جسٹس کو آگاہ کرنا ہی اپنے منصب کی شان سمجھتے ہوں تو پھر کیا کہنا یا سننا۔ ججز ایگزیکٹو سے سننا چاہتے ہیں اور ایگزیکٹو ویسے ہی آزاد ہیں (اس جھنجھٹ سے) کیونکہ انہوں نے کمیشن بنا ئے ہوئے ہیں جو خود مختار ہیں اور  سب کی بے حسی کا یہ حال کہ ان کو  اپنی توجہ دلاتے سردیوں کی ٹھٹرتی راتوں میں بچے، عورتیں اور بزرگوں بھی دہشت گرد دکھتے ہیں۔

جب ججز کی بھرتیوں، تعیناتیوں اور ترقیوں پر سودے بازی ہوتی ہو اور اپنے بندے ججز لگانے کی ثقافت وجودپا چکی ہو ایسی  عدالتوں سے ہم خیال ججز کی اصطلاحات متعارف کرواتے ہوئے عدالت کے نام پر سیاست  کرنے سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے اور ان کے فیصلوں کی صوتحال یہ ہوتی ہے کہ بنچز کی تشکیل سے ہی ان کے بارے قائم تاثرات ان کے فیصلے سنانے لگتا ہے۔

ایسے ماحول میں انصاف کی توقعات کے پیمانے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں " وکیل کیا کرنا ہے جج کو ہی کر لیتے ہیں "اس لئے وہاں قانون و انصاف کی تعلیمات اور آگاہی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ وہاں صرف قانون سازی کی مشقیں اور اس کی آگاہی کی ورکشاپیں ہی ہوا کرتی ہیں ان کا اطلاق نہیں ہوا کرتا بلکہ ایک قانون بنایا جاتا ہے پھر اس کی ریشہ دوانیوں کو دور کرنے کے لئے نیا قانون، اس کے اطلاق کے لئے ایک ادارہ اور پھر اس کی نگرانی کے لئے ایک اور ادارہ بس یہی مشقیں چلتی رہتی  ہیں کارکردگی صرف بدعنوانی کی صورت میسر آتی ہے۔

بدعنوانی کو ہی لے لیں اس کے متعلق قوانیں اور اداروں کی کوئی کمی ہے؟ لیکن قومی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ساری صلاحیتیں خواہ وہ قانون کے استعمال کی ہوں، اس کے اطلاق یا اس پر انصاف  مہیا کرنے کی سب بدعنوانی کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ تعجب اور شرمساری کا تو یہ مقام ہے کہ ریاست کے وسائل ہی کے استعمال سے ریاست کا کباڑہ کیا جا رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔

جب انصاف کے ماحول کو یقینی بنانے والے اپنی بے بسیوں کے عقب سے عوام کو اصلاحات کے زریعے حل کی بجائے خرابیوں کے حقائق سنانے کے دھوکے میں مصروف ہوں تو معلوم یوں ہوتا ہے کہ پورا نظام ہی پسماندہ ہو چکا ہے جس کی اصلاح سیاسی انقلاب سے ہی ممکن ہے جس کے لئے شعور اور اعلیٰ اخلاقیات درکار ہوتے ہیں جن کے لئے سیاست، جمہوریت اور ریاست کی بنیادوں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر عملی نمونے پیش کر کے ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔

نظام کی اصلاح کی اصل  ذمہ داری سیاسی عمل کا حصہ ہوتی ہے جس کے لئے مخلص، با اصول اور سیاسی شعور رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی شعوری تحریک کی مرہون منت ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ "عوام ووٹ تو دیتے ہیں مگر مینڈیٹ چرا لیا جائے تو وہ کیا کریں؟"لیکن جب کسی مخالف طاقت کے مد مقابل میدان میں نکلے ہوئے ہوں تو اس طرح کی توجیہات بے معنی سی لگتی ہیں۔ جمہوریت میں یہ جنگ سیاستدانوں اور عوام کو اکٹھے مل کر لڑنی ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کی کارکردگی اس کے اندر نگرانی، ڈسپلن، اتحاد، یکجہتی اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اور سیاست میں ڈسپلن لائے بغیر نہ تو آئین کی پاسداری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی سول بالادستی کو۔ آخر میں مختصراً  کہوں گا کہ انصاف کی تعلیم ہو یا عام تعلیم ،  سیاسی  نظام ہو یا ریاستی انتظام اس کی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات سے تزئین و آرائش کرنی کی ضرورت ہے۔

مجھ جیسوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بہتری کے لئے کوشاں کیوں ہیں؟ اور حالات کے ہاتھوں  اب یہ کوشش انتہاء پسندی سے خائف معرفت کی زبان اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سوچ اور ذہانت کی سطح پر شعوری اضطراب میں مبتلا ہو چکی ہے بلکہ اعصاب بھی شل ہو رہے ہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی محبت میں جب اندر گھٹن ہوتی ہے تو اس کو تحریروں میں ڈھال کر بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں اور جب باہر سے دم گھٹتا ہے   تو توقف کر لیتا ہوں۔ آخر میں صرف اتنا ہی

کچھ بھی کہنے سے ڈر لگتا ہے

اپنا گھر بھی دشمن کا گھر لگتا ہے

چاہا بہت نہ کھولوں لب اپنے

پر منافقت اب یہ صبر لگتا ہے

قاضی ملاں، محافظ ہو یا کوئی صحافی

ہر کسی کی باتوں میں شر لگتا ہے

جلا کر رکھ دیا ہےمیرے چمن کو

بےحسی کو تیری جو انداز خبر لگتا ہے

درندوں کو بھی دے گیا ہے مات

دیکھنے میں جو مانند بشر لگتا ہے

شاید بدل گیا ہے قیامت کا تصور

اب تو ہر روز یوم حشر لگتا ہے۔


(شائع ہم سب 14 جنوری 2025)

جمعرات، 9 جنوری، 2025

عمران خان اپنی مقبولیت کو کیسے ناقابل تسخیر اور انقلابی بنا سکتے ہیں؟

 

ان کی مقبولیت کا کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے مگر اس کا احساس اور تشویش ہر سطح پر ضرور موجود ہے لیکن اس کا ان کو متوقع فائدہ کیوں نہیں مل رہا اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ انکی موجودہ سیاسی حکمت عملی جس کا ڈھنگ 2014 والا اور بیانیہ 2022 والا ہے وہ موجودہ سیاسی حالات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے جو سیاسی حکمت عملی 2014 میں بنائی تھی وہ اس وقت کے حالات کے مطابق ٹھیک تھی مگر آج نہیں کیونکہ اس وقت جو سہولیات اور ماحول ان کو میسر تھا  وہ آج نہیں جس کا انہوں نے اپنے تمام تر احتجاج اور ریلیوں اور دوسرے حربے استعمال کر کے اندازہ بھی لگا لیا ہوگا اسی طرح 2022 والا بیانیہ جس کی بنیاد مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں اکٹھی کرنا تھا وہ خوب چلا اور اسی سے ان کی 2022 میں گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملا لیکن اب اس کو نئی توانائی کی ضرورت ہے جس کے لئے حالات کے مطابق کسی نئی حکمت عملی کو اپنانا ہوگا تاکہ مقبولیت کو پائیدار بنایا جاسکے۔

اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں جن کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔  2022 میں تو ان کی حکومت کی تبدیلی سے انکو سیاسی نقصان کی بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اور اگر وہ اپنی صوبائی حکومت کے مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ان کی ایک اور بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے مذید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق پہنچتا ہے مگر اس کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ حکومت نے ان کے تمام حربوں کے اثرات کوزائل کرتے ہوئے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔

انکے آپریٹرز نے بنگلہ دیش ماڈل کو بھی آزمانے کی کوشش کی مگر وہ بھی نہ چل سکا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس مقبولیت کے پیچھے وہ نظریاتی طاقت نہیں جو مقبولیت کو شعوری بنا کر انقلانی بناتی ہے۔ حکومتوں کی طرف سے طاقت کا استعمال اور مزاحمت کا سامنا ہر انقلاب کو ہوتا ہے مگر اس کو عبور کرنے کے لئے اصل طاقت شعور ہی ہوتا ہے۔

جس کی بنیاد ضد۔ ہٹ دھرمی، انا اور شخصیت پرستی نہیں بلکہ حق و باطلا اور صحیح وہ غلط کی پہچان اور بہتری کی نیت ہوتی ہے۔ جس میں اپنا بھی اگر غلط کر رہا ہو تو اس پر تنقید اور مخالف بھی صحیح کر رہا ہوتو اس کی تائید کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کے سامنے کسی سیاسی جماعت کی اندھی تقلید نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے جذبے، نظریے اور شعور کی طاقت تھی جس نے خود ہی قیادت بھی تلاش کر لی اور مشکلات کے با وجود اپنی منزل پا لی۔ نوجوان سیاسی جماعتوں کے ساتھ الحاق سے بالا تر ہو کر نکلے انکا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو درپیش مسائل کا حل اور ملک کی ترقی و خوشحالی تھا۔

معزرت کے ساتھ انکی مقبولیت کو شعوری کہنا قدرے مشکل ہے کیونکہ اس کی بنیاد مظلومیت پر ہمدردی کا بیانیہ ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جسے سمجھنے کے لئے 2018 سے لے کر 2022 تک کے منظرنامے میں جا کر حکومت میں ہوتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر عوامی تاثرات کو دیکھنا پڑے گا۔ جب وہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے انتہائی نالاں تھے حتیٰ کہ انکے ممبران اسمبلی بھی آپ کو چھوڑنے کی راہیں تلاش کر رہے تھے اور اسی کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی مزید انکے ساتھ چلنے سے کنارہ کشی کا فیصلہ کیا جو ایک حقیقت ہے جس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کی وجوہات میں ایک 2018 میں آپ کو حکومت دینے اور آپ کے قبول کرنے کی سیاسی غلطی بھی شامل ہے جس کو شعور کے کینوس پر مقبولیت کی راست بنیاد تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ سہولت کاری کا حصول، امیدیں اور محاذ آرائی کا یک ساتھ کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

اس نئی حکمت عملی میں حقائق کو قوم کے سامنے رکھتے ہوئے جمہوری اقدار اور سیاسی اصولوں پر قائم رہنے والی اپنی سیاست کا آغاز کرنا ہوگا جس میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنے کی بجائے سیاسی حلقوں میں اپنے اثر کو بڑھاتے ہوئے عدالتوں، پارلیمان، الیکشن کمیشن، سوشل میڈیا اور کے پی کے میں اپنی گورننس پر توجہ دیتے ہوئے اپنی سیاسی مقبولیت کو شعوری بنا کر اپنی سیاسی جنگ کو جیتنا ہوگا۔ اپنی دوسرے درجے کی سیاسی قیادت کی صفوں میں پھر سے سنجیدہ سیاستدانون کی جگہہ پیدا کرنے کا ماحول بنانا ہوگا جس سے ملک کی نظریاتی، سیاسی اور جمہوری سطحوں پر ان کی سیاست بارے سنجیدہ تاثر ابھرے۔

اور پارلیمان کی سیاست کو اپنے حق میں کیا جا سکے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں سیاست اور محبت میں سب ممکن ہے۔ اگر ان کے نظریاتی طور پر سب سے بڑی مخالف جماعت جے یو آئی کے ساتھ قربت اور مذاکرات کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جیسا کہ چند ماہ پہلے دیکھا گیا تو باقی جماعتوں کے ساتھ کیوں نہیں؟ حکومت میں شامل بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون کے اتحادی ہونے کے باوجود بھی اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر عوامی پزیرائی کی دوڑ میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے تو ان کو بھی آئین کی بالادستی، عوامی حکمرانی کی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمت عملی کو ترتیب دیتے ہوئے پارلیمان میں اپنی مثبت سوچ و عمل کے زریعے سے اپنی اہمیت کو پیدا کرنا ہوگا اور عوام کو احتجاج اور دھرنوں کی بجائے اس طرف متوجہ کر کے پارلیمان کے اندر 2022 کی طرز پر عدم اعتماد کے زریعے سے حکومت کی تبدیلی کے آثار پیدا کر کے اپنی مقبولیت کو سہارا دینا ہوگا۔ جمہوریت مضبوط ہوگی تو پائیدار سیاست کا ماحول بنے گا۔

اور سیاسی ماحول کی تبدیلی میں جس طرح سے انہوں نے خود صحافی کے سوال پر یہ اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے معیشت کو سنبھال لیا ہے ملک کے سیاسی حالات کو نیا موڑ دینے والے ہیں۔ ان کی اس مقبولیت کو اگر سہارا نہ دیا گیا تو نقصان دینے والے ہیں جن کا آغاز کے پی کے سے ہوگا جہاں انکے پاس پچھلے تین دورانیوں سے حکومت ہے اور عنقریب صوبوں کے درمیان کارکردگی کی بنیادوں پر شعوری مقبولیت کا متحمل مقابلہ ہونے والا ہے جس میں ہر صوبے کے عوام دوسرے صوبوں کے حالات سے متاثر ہوتے ہوئے اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور خرابیوں پر تنقید کرنے پر مجبور ہونگے بلکہ بحث مباحثے اور مذاکرے ہونگے جن کی پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔

اور یہ معیشت کی بہتری کا اعتراف ان سے اپنے سیاسی محاسبے کا تقاضہ کر رہا ہے۔ ان کی طرف سے بہتری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حکمت عملی جس میں انکی صوبائی حکومتوں کی طرف سے آئی ایم ایف کو قرضہ نہ دینے کے خطوط اور ملک کے ڈیفالٹ ہو جانے کا بیانیہ تھا پر ندامت کی بجائے ابھی بھی بیرونی زرمبادلہ میں رکاوٹ بننے کی کوششوں پر قائم ہیں جس کو بدلنا ہوگا۔ اگر انہوں نے معیشت کی بہتری کے اعتراف کے ساتھ مرکزی حکومت کی ترقی پر سوالیہ نشان اٹھایا ہے تو شعوری سطح پر دانشمندی کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ اب خیبر پختونخواہ صوبہ جہاں انکی جماعت پچھلے بارہ سالوں سے بر سراقتدار ہے اپنی ترقی کے وہ نمونے عوام کو دکھائیں جن میں وہ دوسرے صوبوں سے آگے ہوں تاکہ عوام میں ان کو مزید پزیرائی ملے۔

اب ان سب سوالوں کا سامنا کرنے کی تیاری کرنی ہوگی جس کے لئے کے پی کے میں گورننس کو بہتر بنا کر عوام کو سہولتیں دینے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اگر وہاں دوسرے صوبوں میں عدالتوں اور پولیس کو مطلوب افراد کو پناہ مل سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کی حصول کی کوشش کے با وجود تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے تو وہاں پر امن کے لئے اپنے اختیارات اور صلاحیتوں کو کیوں نہیں استعمال کیا جا سکتا تاکہ عوام کو ریلیف دے کر ان کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

فروری 2024 کے انتخابات نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ سوشل میڈیا اب کوئی فرضی بات نہیں رہی بلکہ یہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ ایک عملی سیاست کا حصہ ہے جس پر تکنیکی اعتبار سے خلا پر قابض ہونے کی آپ کی جماعت کو برتری حاصل ہے جس کا فائدہ اٹھانے کے لئے اب اپنی مقبولیت کو شعوری بنانے اور آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کرنا ہونگی۔ اگر اپنے ووٹرز کو انگیج رکھنے کو وہ اپنی مجبوری سمجھتے ہیں تو اسے سوشل میڈیا کے سپیس میں جاری رکھا جا سکتا ہے بلکہ وہاں ہی ان کو پارلیمانی سیاست میں کوششوں سے متوقع نتائج کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اور اس غیر مشروط مقبولیت کو اگر محاذآرائی میں استعمال کرکے فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا تو ملک و قوم کی فلاح میں مفاہمت کا کوئی بیانیہ بنا کر اس سے مستفید ہونے کی راہیں تلاش کی جائیں۔

اگر وہ ملک و قوم کی فلاح کے لئے مثبت سوچ رکھتے ہیں تو   سیاسی استحکام کا کریڈٹ لینا چاہیے اور اس ضمن میں انہیں اپنی طرف سے میثاق مفاہمت پیش کرتے ہوئے سب سیاسی جماعتوں اوراسٹیبلشمنٹ کو یہ تجویز دینی چاہیے کہ آئیں اگلے پانچ سالوں کے لئے سیاست میں محاذ آرائی کو ختم کرتے ہوئے ملکی فلاح کے لئے سب مل کر دنیا کی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے مواقعے تلاش کرتے ہیں تو ان کی مقبولیت ناقابل تسخیر بن جائے گی۔اور وہ اس میثاق کو اپنے اسٹیبلشمنٹ کے حکومت سازی میں دخل اندازی سے باز رہنے اور اصلاحات سے مشروط کر کے اپنے ان مخلصانہ مطالبات پر  دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی ہمدردیاں  حاصل کر سکتے ہیں۔

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اگر وہ دباؤ اور محاذ آرائی سے زیر نہیں کر سکے اور اپنے لئے الٹا مشکلات پیدا کی ہیں تو اس کا سبب ان کی سرگرمیاں اور ان سے ابھرنے والا تاثر ہے وگرنہ ان کی قائدانہ اور ان کی سوشل ٹیم کی اہلیت اور صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں۔ اگر وہ 27 نومبر 2022، 9مئی 2023یا 26نومبر 2024 جیسی سرگرمیوں کے منفی تاثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے تو اتنی مشکلات پیدا ہی نہ ہوتیں۔اب بھی اصل مسئلہ ہی ان کی طرف سے سیاسی استحکام کی یقین دہانی کا ہے اور جو جو ان کی جماعت میں سے کرواتا گیا وہ امن میں ہے۔  لہذا اگر وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی وہ مجبوری بن جائیں تو وہ اپنی ان صلاحتوں کو محض مثبت سمت دے کر اپنی اہمیت کو نمایاں بنا سکتے ہیں۔  حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو انکی ذات سے نہیں بلکہ ان کی محاذ آرائی سے شکوہ ہے ۔

ان کے لئے مرکزی حکومت سے باہر اور اپنی صوبائی حکومت کے پلیٹ فارم سے بھی  مواقع موجود ہیں۔وہ اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کی بے مثال صلاحیتوں کو  مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے آئی ٹی سے منسلک کسی ایسے پراجیکٹ کے ماڈل کی مثال قائم کرکے پاکستان کی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقعوں سے انکی دلچسپیوں کو سہارا دیتے ہوئے ملکی اور عالمی سطح پربحثیت ایک فل ان تھراپسٹ کے شوکت خانم یا نمل یونیورسٹی کی طرز پر  معاشی انقلاب یا پاکستان میں سرمایہ کاری اور ریمیٹنس کی آمد کے لئے اپنا کردار ادا کرکے حکومت کو اپنا احسان مند یاحکومت سے باہر رہ کر بھی عوامی پزیرائی کو اپنے حق میں ٹھہرا سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی مقبولیت کی صلاحتیوں اور اہلیت کا استعمال ہوتے ہوئے پاکستان کو نمایاں فائدہ پہنچے جس کی ایکنالجمنٹ ان کے حریفوں کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پیچھے چھوڑ دے۔

ان سے حکومت لئے جانے کی بنیادی وجہ ہی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال تھی جس کا اعتراف ان کے وزراء بھی کر چکے ہیں کہ "اگر ان کی حکومت نہ جاتی تو بہت خرابی پیدا ہونے والی تھی" وگرنہ جس قدر ان کو سہولتیں دی جاتی رہی ہیں ان کی پاکستان کی آمرانہ جمہوریت میں مثال نہیں ملتی جس کی ایک نئی جہت "ہائبرڈ جمہوریت"انہی کی ان سہولتکاریوں اور ایک پیج پر ہونے کے ماحول سے متعارف ہوئی ہے جس کی مخالفت کے وہ اس وقت سب سے بڑے علم بردار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف جس طرح سے ان کا سیاسی بیانیے میں دعویٰ ہے کہ ان کے جانے کے بعد ان سے نہ سنبھال پانے کی وجہ سے معیشت خراب ہوئی ہے تو اپنی اور اپنی ٹیم کی  صلاحیتوں سے اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اب بھی اگر معیشت میں بہتری کا کوئی ماڈل یا اس میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان کی ہر طرح کی محاذآرائی خود بخود ہی منطقی انجام کو پہنچ جائے گی۔ یا پھر  حکومت کی میثاق معیشت پر ساتھ دینے کی آفر پر انہیں متاثر کن تجاویز دے کرمعیشت کی بہتری کے عمل میں سربراہی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں  یا   اپنی صوبائی حکومت کے لئے مالی امداد یا ترقیاتی پراجیکٹ کے حصول کو مذاکرات میں مدد سے مشروط کرکے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔

اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک مناسب نہیں تو پھر ان کو اپنے دور اقتدار کے حالات کو بھی یاد کرنا چاہیے کہیں یہ مکافات عمل کا ہی تسلسل تو نہیں جس کوختم کرنے کے لئے بھی سیاسی ماحول کو جمہوری اقدار اور اصولی سیاست سے مزین کرنے سے مشروط ہونے کو یقینی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا جو مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ جس کا ان کو 2018 میں اقتدار سنبھالنے سے بھی پہلے سیاسی جماعتوں کی طرف سے عندیہ دیا گیا جس کو انہوں نے نظر انداز کر دیا تھا۔

اگر اس تسلسل میں وہ این آر او کے مرحلے میں داخل ہونا چاہتے ہوں جس کا انہوں نے بظاہر تو انکار بھی کیا ہے لیکن اگر کوئی ایسی امید وابسطہ کی بھی جا رہی ہے تو غیر مناسب نہیں۔ سیاسی بنیادوں پر اسیری کوئی اچھی مثال نہیں اس کا بھی کوئی مستقل حل سیاسی جماعتوں کو باہمی اتفاق رائے سے سیاسی نگرانی والی طرز پر ڈھونڈنا چاہیے تاکہ کل کوئی نیا سیاسی کردار پھر سے اس عمل کا آغاز نہ کر دے۔

بین الاقوامی سطح پر انکی  حمائت کے لئے پی ٹی آئی  سوشل میڈیا کی ٹیم کی کوششیں قابل تعریف ہیں مگر ان کا فائدہ بھی اس لئے نہیں ہو پا رہا کہ پاکستان کے دوست ممالک جن کی پاکستان کے تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے ساتھ مفادات اور دلچسپیاں جڑی ہوئی ہیں بھی ان سے اپنی راہ میں رکاوٹ بننے سے خائف ہونے کی بنیاد پر نالاں ہیں جو وہ ہر دفعہ بیرونی ڈیلیگیشن کی آمد پر احتجاج اور دھرنوں سے مشکلات کی صورت اپنے بارے ایک تاثر بنا چکے ہیں کو بھی اب تبدیل کرنا ہوگا اور بیرونی دباؤ کو ان کے ساتھ ہمدردیوں کی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔

مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اس مقبولیت کو اگر سمجھا جائے تو قومی اثاثہ بھی بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے سیاستدانوں کو اجتماعی سطح پر سوچ کر اس کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ اسے اقتدار کے حصول کی طمع سے آزاد کر کے عمران خان کو وہی 1992 والا عمراں خان سمجھتے ہوئے میثاق مفاہمت کی طرز پر کسی معاہدے پر پہنچ کر اپنا ہیرو بنالیں اور انہیں بھی ایسی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اوراس پرسب کا ممنون ہونے کا رویہ اپنانے میں پہل کرنی چاہیے۔ اقتدار کی جنگ کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ  سے بھی گزارش ہےکہ وہ اس مقبولیت کو اپنے حریف کی نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کو شعور دےکر اپنی افرادی قوت کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو ملکی سلامتی اور خوشحالی میں استعمال ہونے کے ماحول کو پیدا کر کے اگر وہ اپنی سیاسی  ساکھ کی قربانیاں دے کر ملک کو بچانے کے دعوے کا عملی ثبوت دینا چاہتے ہیں تو  پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات کو "قومی میثاق مفاہمت" پر ایک ہوجانے سے مشروط کر دیں اور عالمی سطح پر ایک "سافٹ انقلاب" کی نئی مثال قائم کرنے میں اپنے حصےکا کردار ادا کرنے میں دیر نہ کریں یا اس کا کوئی دوسرا حل ڈھونڈیں۔

اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو آپس کی محاذ آرائی کا رجحان نہ صرف قومی افرادی قوت کےزائل ہونے کی خطرات رہیں گے بلکہ سیاسی عدم استحکام سے معاشی بہتری کی رفتار بھی متاثر ہوگی کیونکہ جہاں ایک طرف حکومت کی کوششوں سے سرمایہ آ رہا ہے وہاں سول نافرمانی جیسی تحریکوں سے فارن ریمٹنس بھی متاثر ہورہی ہے اور عوام میں مایوسی سے لوگ سرمایہ لے کر یہاں سے بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں جس سے اچھے نتائج کی توقعات کم پڑتی جائیں گی۔


میگزین