سوچ کی غذا

منگل، 24 فروری، 2026

رمضان کی آمد، شیطان قید مہنگائی آزاد

قوموں کی تقدیریں ان کے اعمال سے جڑی ہوتی ہیں جن کا دارو مدار ان کی سوچ، حکمت عملی اور معاملات پر ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں برکتوں کا مہینہ رمضان جیسے ہی آتا ہے مہنگائی بھی زورآور ہو کر عوام پر ایک عذاب بن کر آن پڑتی ہے۔ اگر شکوہ کریں تو ہر کوئی کہے گا کہ پیچھے سے ہی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب پیچھے والا کون ہے اس کا کسی کو بھی علم نہیں۔ 

ایک دم اچانک ناں تو ہماری درآمدات پر کوئی اضافی ٹیکس لگ جاتا ہے، ناں ڈالر کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور ناں ہی اندرون ملک کوئی ٹرانسپورٹ، گوداموں کے کرائے یا دوسرے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ کتنی ہی شرمناک فلاسفی ہے جیسے ہی رمضاں ختم ہوتا ہے وہ پیچھے والا بھی غائب ہو جاتا ہے۔ گویا یوں سمجھیں کہ شیطان نے اس مہنگائی کو جکڑا ہوا تھا اور جیسے ہی وہ قید ہوا تو مہنگائی بے قابو ہو گئی یا پھر ہم یہ سمجھیں کہ شیطان اور مسلمان کا لفظی اور عملی مفہوم ادل بدل گئے ہیں۔ شیطان خود تو قید ہو جاتا ہے مگر اس کی شاگرد فعال ہوجاتے ہیں۔ 

ہمارے ہاں زیادہ تر مہنگائی معاشی عمل نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ہماری معاشرتی برائیوں کی ہی ایک قسم ہے جسے شعور لعنت سمجھتا ہے اور جاہل نعمت سمجھ کر اس سے مستفید ہونے لگتے ہیں۔ 

چائینہ میں چینی کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا جب زخیرہ اندوزی کے سبب چینی کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں تو ان کے قائد نے قوم کو خطاب کرتے ہوئے چینی کو نہ کھانے کی قسم کھائی جس پر قوم نے بھی چینی کو کھانا چھوڑ دیا۔ تو وہی چینی ایک فضول سی چیز بن کر رہ گئی جس سے ذخیرہ اندوزوں کو ایسا سبق ملا کہ پھر کسی نے مصنوعی مہنگائی کی جرات نہیں کی۔ 

ہمارے ہاں بھی کبھی کبھار کسی خاص پراڈکٹ کا بائیکاٹ کر کے وقتی فائدہ اٹھانے کی مثالیں تو موجود ہیں مگر ہمیں اس برائی سے مکمل نجات اس لئے  حاصل نہیں ہو رہی کہ ہم اس اصول کو اپنی سوچ و عمل پر پوری طرح سے رائج نہیں کر پا رہے۔

چاہیے تو یہ کہ جیسے ہی کسی شے کی قیمت بڑھنا شروع ہو اس کی خریداری کو کم کر دیا جائے چہ جائے کہ اس کی کمی کے خوف سے ضرورت سے بھی زیادہ خریدنی شروع کر دی جائے۔ ایسی معاشرتی برائیاں در اصل ہماری اجتماعی زندگی کی عکاس ہو تی ہیں۔ کیونکہ ہم خود ہی زخیرہ اندوز، نا جائز منافع خور اور اس برائی کے موجد ہیں

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی  دل چاہتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں۔ 

جب تک ہم ان معاشرتی برائیوں سے عشق کے پیچ لڑاتے رہیں گے یا انہیں کاروبار کے کامیاب ماڈلز سمجھتے رہیں گے اس وقت تک مثبت نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔   

رمضان کا مہینہ تو در اصل تربیت کا مہینہ ہے جس میں بھوک پیاس والوں کی تکلیف کا احساس جاگتا ہے اور اگر ہم سحری اور افطاری پر عام مہینوں کے معمول سے بھی زیادہ کھانا شروع کر دیں گے تو پھر روضے کی اصل روح اور مقصد ہماری سوچوں کو بدلنے میں کیسے فائدہ دے سکتے ہیں؟

احساس جاگنے کی نشانی تو یہ ہے کہ دن پھر کی بھوک کے بعد ہم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی غرض سے جن کے پاس یہ نہیں ان کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر پہنچائیں۔ خاص کر ان تک جو اپنی خود داری کو اپنی سفید پوشی کے پیچھے چھپائے ہوئے ہیں۔ تاجروں کی سوچ تو یہ ہونی چاہیے کہ سارا مہینہ کمائی کریں لیکن رمضان کے دوران اللہ کی رضا کے لئے منافع لینا چھوڑ دیں۔ 

انتظامی امور کی حد تک قیمتوں اور کوالٹی کو کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر اس پر عملدرآمد کروانے میں ساتھ دینا  عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عملی طور پر اس مکروہ دھندے کی حوصلہ شکنی کریں۔ جس کے لئے سب سے پہلے تو خود فضول خرچی کو بند کریں، ناجائز منافع خوروں کی حوصلہ شکنی اور اگر کوئی حکومت کے متعین کردہ نرخوں سے زیادہ وصول کر رہا ہے تو اس کی متعلقہ محکمے کو شکائت لگائی جائے تاکہ وہ اس پر بر وقت کاروائی کر سکیں۔

صدقہ خیرات کو راشن کی بجائے نقدی کی صورت دیا جائے تاکہ وہ اس کا صَرف اپنی ضروریات کے مطابق کر سکیں۔ ہمارے ہاں جو راشن کے زریعے سے مدد کا رواج شروع ہو گیا ہے اس سے نہ صرف دکھاوا آتا ہے بلکہ اس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح دعوتوں کا سلسلہ بھی کوئی اچھا رواج نہیں۔دعوتیں بھی فضول رسموں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ مساجد اور بازاروں میں افطاریوں سے فضول خرچی اور دکھلاوے کے ساتھ ساتھ عبادات، اعمال اور اسلامی اقدار بھی متاثر ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ حق رشتہ داروں، محتاجوں اور ہمسائیوں کا ہے جن کی آپ نقدی  کے زریعے سے مدد کریں صحیح حقدار کو خود جا کر دیں تاکہ اس کی عزت نفس بھی متاثر نہ ہو جس سے دکھلاوا اور فضول خرچیوں کا خاتمہ اور پیشہ ور مانگنے والوں کا راستہ بند ہو جائے گا چہ جائے کہ اسے دعوتوں کی صورت رسم و رواج کی نظر کر کے صاحب استطاعت لوگوں کی خوشںودیوں پر جھونک دیا جائے۔   

ایک اندازے کے مطابق ان دعوتوں میں 40 فیصد کھانا ضائع ہو جاتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر 870 کلو گرام بنتا ہے اور سالانہ 4 ارب ڈالر کے خوراک کے ضیاع میں 9 فیصد رمضان میں ہماری بے احتیاطیوں کا بھی حصہ ہے جس سے خوراک کے زخیرے کے علاوہ ملکی زرمبادلہ پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں جو قومی دولت کا ضیاع ہے اس پر بھی شادیوں کی طرز پر زیادہ ڈشز کی پابندی لگائی جانی چاہیے۔

اسلام میں کھل کر خرچنے کی جو ترغیب دی گئی ہے اس کا قطعاً بھی مقصد فضول خرچی، دکھلاوا، خوراک کا ضیاع اور دولت کو حریص لوگوں کے حوالے کرنا نہیں بلکہ اس سے مراد انسانوں کی ضرورتوں، بھوکوں اور محتاجوں کا خیال رکھنا ہے جس میں غیر مسلموں کا بھی حصہ ہے 

چونکہ مہنگائی کی بنیاد ڈیمانڈ کا بڑھنا بھی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجر اور  دکاندار نرخوں کو بڑھا دیتے ہیں اور جب خریداری کم ہوگی تو وہ خود بخود ہی نرخ کم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے خاص کر سبزیوں ، فروٹ اور ایسے اشیاء جن کے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ان کی قیمتوں میں تو فی الفور کمی واقعہ ہو جاتی ہے جو کئی تجربات سے ماضی میں ثابت بھی ہو چکا ہے۔  

یہ مہینہ نہ صرف بھوکا رہ کر بھوک کے احساس کو اجاگر کرنے کا ہے بلکہ اس کے اندر طبی لحاظ سے بھی بہت سارے فوائد چھپے ہوئے ہیں جن کو ہم کھانے کے اوقات میں زیادہ کھا کر ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ بھوکے رہنے سے انسانی جسم کے اندر بہت سارے ایسے طبی عوامل شروع ہوتے ہیں جو ہمارے جسم سے فالتو اور نقصان دہ مرکبات کو ختم اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد گار ہوتے ہیں۔

یہ جو وزن کے کم ہونے اور وقتی طور پر کمزوری کے احساس سے پریشانی لاحق ہونے لگتی ہے خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت میں بھوکے رہنے سے جو کمزوری محسوس ہوتی ہے یہ آٹو فیگی کے عمل کے شروع ہونے کی نشانی ہے جس سے مدافعتی نظام کے مضبوط ہونے کا عمل شروع  ہوتا ہے جو جسمانی نظام کی بہتری کا موجب بن کر سالوں تک بہتر صحت کی ضمانت بنتا ہے۔  

ہفتہ، 21 فروری، 2026

مریم نے عوام کو گُڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے؟

آجکل مریم کے لگژری جہاز کے تذکرے بھی بسنت کی گڈیوں کی طرح اونچی اڑان پر ہیں۔  یہی رویہ قوم کے شعوری ہونے کی نشانی ہوتا ہے۔ سوال کرنا قوم کا حق اوراس کا تسلی بخش جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اس پر پنجاب حکومت کا وضاحتی جواب بھی آچکا ہے جس میں وہ اس طیارے کی خریداری کے مقصد کو پنجاب ائیر میں شمولیت بتا رہے ہیں جبکہ اس طیارے کو ابھی تک پاکستان میں رجسٹر نہیں کروایا گیا لیکن اس مختصر وضاحت کے بعد عوامی سطح پر کئی اور سوال جنم لے رہے ہیں مثلاً یہ کہ یہ طیارہ عوامی مسافروں کے لئے نہیں بلکہ کاروباری یا اداروں کے ذاتی استعمال والا ہے یا اگر پنجاب حکومت میں اتنی صلاحیت تھی تو وہ پی آئی اے کو ہی خرید کر اپنا شوق پورا کر لیتے لیکن اب اس میں کیا حکمت ہے کہ انہوں نے قومی ائیر لائین خریدنے کی بجائے اپنی نئی ائیر لائین متعارف کروانے کو ترجیح دیا اس کی تفصیلی وضاحت تو بہرحال پنجاب حکومت ہی دے سکتی ہے۔

حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لئے طیارے خریدتی رہتی ہیں اور سوشل میڈیا پر جہاں حکومت پر تنقید کی جارہی ہے وہیں لوگ حکومت کے حق میں بھی رائے دے رہے ہیں لیکن اس میں بنیادی نقظہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری تنقید یا تائید غیر جانبدارانہ ہو جو مکمل طور پر انا پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی سے آزاد ہو جس کا مقصد اصلاح ہو اور یہ  ہدف سے کسی بھی طرح کے تعلق یا واسطے سے مکمل طور پر بے نیاز ہو اور ایسی سوچوں کے قومی سطح پر یقیناً مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

عوامی شعور کے اس رویہ سے عوامی احتساب کے عمل کو تقویت ملتی ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس سے عوام کے اندر ملکی املاک کی ملکیت اور اہمیت کے احساس کی طرف اشارہ ملتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملکی معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

حکومت کو اب چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ وزیر سے پریس کارنفرنس کروایں اور عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے عوامی حوصلہ افزائی کے زریعے سے شعور کو اپنا موثر ہتھیار بنا کر ترقیاتی اور فلاحی کاموں میں مثبت نتائج کے لئے استعمال کریں تاکہ عوام اپنی صلاحیتوں کو فضول بحثوں میں استعمال کرنے کے بجائے اس کا اطلاق ترقیاتی کاموں کی نگرانی اوران میں شرکت کرتے ہوئے فعال بنانے میں استعمال کر سکیں۔

لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب حکومت عوامی سوالوں پر ان کو مطمئن کرتے ہوئے مکمل اعتماد حاصل کر کے ان کی سوچوں کی سمت کو درست کر سکیں اور حکومت پنجاب نے اس کے لئے کئی عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن میں وزیر اعلیٰ سے شکایات کا پورٹل اور صوبائی محتسب کو با اختیار بنانے کے اقدامات ہیں۔ 

اب یہ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ کس قدر اپنے شفافیت، برابری اور خود احتسابی کے دعووں میں مخلص ہیں اور اسے بہترین موقعہ سمجھتے ہوئے اس سے عوامی مقبولیت اور خدمت کے مواقعوں کو تلاش کرنا ہوگا یہی وہ موڑ ہے جہاں اکثر حکومتیں لا پرواہی اور اپنے آپ کو جوابدہی کے عمل سے ماورا سمجھتے ہوئے ناکام ہو جا یا کرتی ہیں اور قوم یہ کہنے میں بجا ہو گی کہ مریم نے قوم کو گڈیوں پر لگا کر خود جہاز اُڑانا شروع کر دئے ہیں

بدھ، 18 فروری، 2026

پی ٹی آئی کا شعور نِکھرنے لگا ہے

بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت اپنی جگہ مگر اس کے شعوری ہونے سے اختلاف کو بھی آزادی اظہار رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اب تو پی ٹی آئی کے اندر قائدین کی سطح پر اختلافات اور ابھرتی آوازوں کی گونج سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا شعور نکھرنے لگا ہے۔

 2022 میں جب پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اپنی جمہوری سمت کا رخ صحیح کرنے کی کوشش کی تو ملک کے معززین نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر مرکز میں حکومت کو آئینی طور پر تبدیل ہونے کی راہ میں رکاوٹ کو آزادانہ چھوڑ دیا جس سے پارلیمان کے اندر عدم اعتماد کی تحریک سے عمراں خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا

لیکن اس پر بانی پی ٹی آئی اپنے رجیم چینج کے بیانیے کی ہمدردیوں سے ایک بار پھر عوام کی مقبولیت کا رخ اپنی طرف موڑنے میں کامیاب ہو گئے جس کو وہ مختلف حیلوں بہانوں سے قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔

حالانکہ انکی کارکردگی کو بے نقاب کرنے کے لئے کے پی کی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ہی اب خدمت کا وقت نہ ملنے کا ان کے پاس کوئی جواز ہے مگر حیران کن طور پر وہ اب بھی سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال عوام کو جھوٹے بیانیے کے زریعے سے ذہنی سہارا مہیا کئے ہوئے ہیں جس کی بنیاد کبھی بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کو بنا لیا جاتا ہے تو کبھی بیماری کو مگر اب یہ ہتھکنڈے زیادہ دیر چلنے والے نہیں 

اسکی وجہ یہ ہے کہ کے پی کے علاوہ دوسرے صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی حکمت عملیوں سے کافی دل برداشتہ ہو چکی ہے کیونکہ ان کو دی جانے والی اذیتوں پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کئی ان مصیبتوں سے بچنے کے لئے خود ساختہ صوبائی جلاوطنی میں کے پی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

جب بھی حکومت کی طرف سےمذاکرات اور رعائت کی امید نظر آتی ہے تو بانی پی ٹی آئی فوج مخالف بیان دینا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ کل ان کی بہنوں نے پریس کانفرنس میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر مروانے کا خوف اور اس کا الزام فیلڈ مارشل پر لگانے کا اظہار کیا جس سے دوبارہ مذاکرات کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جن سے پارٹی قیادت اور ورکرز کے ذہنوں میں بانی کی حکمت عملی پر شکوے جنم لینا شروع ہوئے جو اب کافی پختہ ہو چکے ہیں۔ 

جن کا اظہار اب پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات کی صورت میں بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ ویسے اس کی ابتداء تو کافی عرصہ پہلے سے پی ٹی آئی کی کال پر لوگوں کے کان نہ دھرنے سے شروع ہو چکی تھی جس پر تصدیق کی مہر ضمنی انتخابات نے لگا دی مگر اس پر کچھ حلقوں میں یہ گماں تھا کہ شائد لوگ خوف کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے اور ضمنی انتخابات میں کامیابی کے اندر حکومت کے اثر رسوخ اور بندوبست کا کمال ہے۔

لیکن اب پارلیمانی ممبران کا اسلام آباد کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنوں کے اندر کھلے اختلافات اور کے پی میں سڑکوں کی بندش پر انسانی جانی نقصان پر پی ٹی آئی کے اندر سے غلطیوں کا اعتراف وہ اشارے ہیں جو شعور کے نکھرنے کی گواہی دے رہے ہیں۔ 

کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کھل کر بولے ہیں۔ جس میں انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات سے لے کر پارٹی پر ملکیت کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ دیا ہے اور کچھ وی لاگرز پر کھلی تنقید کرتے ہوئے ان کو کہا کہ اگر تمھارے اندر جذبہ ہے تو ادھر پاکستان میں آؤ وہاں بیٹھ کرعوم کو نہ ورغلاؤ۔ عوام کو تلقین کی کہ ان کی خبروں پر تحقیق کر لیا کریں۔

وہاں کے پی میں سڑکوں کی بندش کے دوران کئی پی ٹی آئی ورکرز بھی کھل کر مخالفت کرتے رہے اور عوامی مشکلات اور دباؤ کے پیش نظر پشاور ہائی کورٹ نے بھی سڑکوں کو کھولنے کے احکامات جاری کئے جس پر پولیس نے عملدرآمد کرواتے ہوئے سڑکوں اور موٹر وے کو خالی کروا دیا جس پر کچھ لوگ یہ بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ شائد پولیس کے پی کی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی جو میں سمجھتا ہوں کہ غلط بات ہے کیونکہ سڑکوں کو کھلوانے میں عدالتی فیصلے کا کردار ہے۔

مگر اس سے لوگوں کی سوچوں پر مثبت تاثرات اور انتظامیہ کی رٹ بارے خیالات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور خاص کر پولیس کی کاروائی کے خلاف مزمت کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عوام بھی اب ان دھرنوں سے عوامی مشکلات پیدا کرنے والی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہوئی سیاست اور جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے اختلاف رکھنے والی پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی ضرور حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کھل کر گنڈاپور کی طرح بولنے لگیں گے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے 2026 کو نوجوانوں کے نام کر کے پرواز کارڈ، سکل ڈویلپمنٹ کے کورسز، آسان بلاسود قرضوں کی فراہمی، سکالرشپس جیسے کئی ایسے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن سے نوجوانوں کی ترجیحات اور توجہ کو مثبت اور ترقی پسند سوچ ملی ہے اور اب وہ جھوٹ اور دھرنوں کی سیاست کو جہالت شمار کرنے لگے ہیں۔

نوجوانوں کو مریم کی طرف سے دیئے جانے والے حوصلے نے ان کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور وہ اب اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے اپنی ماں، بہن اور قائد کی امنگوں پر اپنی صلاحیتوں کو نچھاور کرنے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں جس کی گواہی اس کا ہر طرف والہانہ استقبال دے رہا ہے۔ وہ خواہ بسنت کی تفریحی سرگرمیاں ہوں یا اس کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پنجاب کے دور دراز ضلعوں کے عوامی دورے ہر جگہ اس کو پزیرائی مل رہی ہے۔  

عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوال بھی بجا ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بیٹے باہر بیٹھے ہیں اور یہاں نوجوان بے یار و مددگار جیلوں میں پڑے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جادو ٹونے کے زریعے سے حکومت چلانے سے لے کر کرپشن تک عالمی جریدوں میں چھپنے والی رپورٹس پر بانی پی ٹی آئی کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس کی وضاحت بہرحال عوامی ذہنوں میں ایک خلش کی صورت  موجود ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ ہندوستان کے خلاف فوج کی کاروائی پر عالمی پزیرائی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جان کی قربانیوں پر فوج مخالف بیانیہ بھی عوام کے دلوں میں فوج سے والہانہ محبت کے ہاتھوں بری طرح پِٹ چکا ہے اور اب کوئی فوج کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ اب تو ملک کے اندر یکجہتی کی ضرورت کے پیش نظرتمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہونے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی آوازوں کو بھی غداری کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

 

بدھ، 11 فروری، 2026

میڈیا پر غیراخلاقی کرداروں کی پزیرائی کا رجحان پریشان کن ہے


اگر ہم  میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو اداکاروں متعلق خبروں کے رجحان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا یہ طبقہ معاشرے کا رول ماڈل بنتے جا رہے ہیں۔ خاص کر میڈیا پر غیر اخلاقی کرداروں کا پرچار کرتی ان کی ادائیں، ناز و نخرے، عشقیہ داستانیں اور بالآخر ایک دوسرے سے علیحدگی پر مبنی معاشرت ہماری نئی نسل کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں اداکاری کا معاشروں کی تشکیل میں اہم کردار ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسا قطعاً بھی نظر نہیں آرہا جس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو ہمارے لکھاریوں کی ترجیحات اور ہدائتکاری کی سمت درست نہیں رہی یا پھر ہمارے معاشرے کے اندر منفی پہلوؤں کی مقبولیت کا رجحان غالب آ چکا ہے۔

ڈرامے اور فلمیں کسی بھی معاشرے کے اندر ماحول کی عکاسی کر رہی ہوتی ہیں مگر ان کے پس پردہ اصل مقاصد معاشرتی اصلاح ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے گماں ہوتا ہے کہ گویا ہم اس اصلاحی ہتھیار کو برائی کی تشہیر یا اس میں کشش پیدا کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ 

اس کی بنیادی وجہ معاشرے میں برائی کی قبولیت کا دوستانہ ماحول بھی ہو سکتا ہے مگر ایسے حالات میں میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے نہ کہ ایسے پہلووں کو جو ہماری قومی اور شرعی اقدار کے خلاف ہوں۔

میڈیا کو ہمیشہ سادگی، دانشمندی اور حکمت پر مبنی معاشرتی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے فضول خرچی، جاہلانہ رسم و رواج اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ عوام کے اندر مثبت رجحان پیدا کیا جا سکے

ڈرامہ اور فنون لطیفہ معاشروں کی تشکیل میں ایک موثر ہتھیار ہوتے اور اگر ان کا استعمال ٹھیک سے نہ ہو رہا ہو تو تباہی اس قدر سرائیت کر جاتی ہے کہ اس سے چھٹکارہ صدیوں کی محنت سے بھی ممکن نہیں رہتا۔

پچھلے دو دہائیوں سے اداکاری کے اثرات جہاں مختلف طبقہ زندگی پر پڑے ہیں وہاں ان سے سیاست بھی محفوظ نہیں رہ سکی اور کارکردگی سے بے نیاز محض کھوکھلے نعروں اور رقص و سرور کی محفلوں کو ہی سیاست سمجھا جانے لگا تھا جس کے اثرات اس قدر غالب آ چکے ہیں کہ ان کے خلاف اب بات کرنا بھی فضول کوشش سمجھا جانے لگا ہے۔ کارکردگی دکھانے والوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال کی طرف اشارہ ہے۔

حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پہلو کی طرف توجہ دیں اور علمی و ادبی لوگوں کا ایک ایسا ریسرچ یونٹ بنائیں جو میڈیا، تھیٹر اور فلم انڈسٹری کی سرگرمیوں اور کارکردگی پر نظر رکھتے ہوئے اصلاح کے پیمانوں کو رائج کروائے اور ایسی اداکاری جس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہوں کی حوصلہ شکنی اور جوابدہی کو ممکن بنائے تاکہ معاشرے میں بہتری لانے کے عمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

میڈیا کو بھی چاہیے کہ اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بنائے جس میں مثبت تاثر کو عام کرنے کی ترغیب ہو تاکہ تعمیری معاشرہ پرورش پا سکے جو ملک کی ترقی و خوشحالی کے عمل میں ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ سیاست، گورننس اور ترقی کے عمل میں نگرانی اور محاسبے کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو چہ جائے کہ تماشائی بن کر اپنی نسلوں کی تباہی پر تالیاں بجاتے رہیں۔  

منگل، 10 فروری، 2026

زندہ و جاوید ہونا

زندہ و جاوید ہونے کے لئے مقصد کو زندہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر دنیا کی تمام آسائشیں بھی مل جائیں تو بھی زندگی مقصد کے بغیر بے معنی سی رہتی ہے یہی وہ راز ہے جو اس  زندگی میں خوبصورت رنگ بھرتا ہے۔ زندگی کے ان خوبصورت رنگوں میں ڈھلنے  کے لئے خاص سوچ، دل اور نگاہ چاہیں جنہیں ان سب رنگوں کے دلکش حسین امتزاج کا ادراک ہو سوچ کی غذاء

جمعہ، 6 فروری، 2026

دہشت گردی سے قوم اور اداروں کو مل کر نمٹنا ہوگا

ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر دراصل ملکی دفاعی صلاحیتوں کے حاسدین اور ترقی مخالف سرگرمیوں کا گٹھ جوڑ ہے اور ترلائی اسلام آباد میں مذہبی عبادت گاہ پر نہتے معصوم شہریوں کی جانیں لینے والا دہشت گردی کا قیامت خیز واقعہ بھی اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

اب جب میں کالم لکھ رہا ہوں تو اس وقت تک 31 شہادتیں اور 169 زخمی ہسپتالوں میں پڑے ہیں جن میں سے بہت سارے انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں جس سے پورے اسلام آباد میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور کہرام مچا ہوا ہے جس پر اس کے پیچھے مذموم کرداروں کو اپنی بزدلانہ حرکتوں پر شرم آنی چاہیے۔

مگر چونکہ بیرونی سربراہاں پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اور اربوں کے منصوبوں کے معاہدے ہونا شروع ہو چکے ہیں جو ہندوستان اور اسے کے حواریوں کی سازشوں کی ناکامی اور مقاصد پر مئی میں لگے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اس طرح کی مزموم کوششیں انکی مجبوری ہے جس کا ہمیں پوری تیاری کے ساتھ جواب دینا پڑھ گا 

ہم دکھ بھرے صدمے سے ضرور گزر رہے ہیں مگر ہماری سیکورٹی فورسز کا مورال بلند ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ بہت جلد اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے  جہنم واصل کریں گے

ان دردناک لمحات میں پوری قوم سوگران کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ان مشکل لمحات میں ہم تہیا کرتے ہیں کہ ہم اپنی فوج اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اس سفاکی کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور ایمرجنسی نمبرز ہر چھوٹے بڑے کو یاد کروانے کے ساتھ انہیں موبائلز پر ایمرجنسی بٹن کی صورت میں انسٹال کرکے اس کے استعمال کی سوشل میڈیا کے زریعے سے ٹریننگ بھی دی جائے تاکہ جب بھی وہ کسی مشکوک شخص کو دیکھیں تو سب سے پہلے اس سے خود الرٹ ہو ں پھر دوسروں کو آگاہ کریں اورساتھ ہی سیکورٹی اداروں کو اطلاع دینے میں کبھی دیر نہ کریں۔

اس کے لئے سماجی تنظیموں کو بھی آگے بڑھنا چاہیے اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے عام شہریوں کی تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی طبی امداد کے لئے بھی سکولوں اور کالجز کے طلبہ و طالبات کی تربیت کرنی چاہیے۔ 

سکاؤٹ کی طرز پر ان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے خصوصی ٹریننگ بھی دی جانی چاہیے جس میں ہمارے ریٹائرڈ فوجی تنظیموں کے ممبران اہم کردا ادا کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لئے فنڈز کے لئے پاکستان کے بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوائے جائیں اور قوم ان کی اپیل پر مالی امداد کے لئے کبھی بھی ان کو مایوس نہیں کرے گی۔

اسی طرح اب یہ وقت ہے کہ اس چیلج سے نمٹنے کے لئے تمام تر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بھلا کر تمام صوبوں اور مرکز میں ایک آواز ہوکر اس دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ اور مل کر ان دہشت گردوں کو ڈھونڈھ کر جہنم واصل کریں۔ 

دیہاتی علاقوں میں تو عموماً سب لوگوں کو ایک دوسرے کی پہچان ہوتی ہے اور اجنبی کا وہاں رہنا ویسے ہی مشکل ہوتا ہے مگر شہروں کے اندر دہشت گردوں کی پہچان کرنا تھوڑا مشکل ہے مگر ناممکن قطعاً بھی نہیں ۔ اس کے لئے بھی سماجی تنظیمیں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ 

شہریوں کی میڈیا، سوشل میڈیا اور مقامی زرائع جن میں مساجد کے اندر اکھٹے نمازیں پڑھنے والوں بازاروں میں دکانداروں کی کمیٹیاں بنائی جائیں جو اجنبیوں پر نظر رکھیں اور شہریوں کو یہ ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ کوشش کریں اپنے علاقے کی مسجد جہاں ان کی جان پہچان ہو نمازیں ادا کریں اور حتی الوسع خریداری بھی اپنی جان پہچان والی قریبی دکانوں سے کریں تاکہ وہاں کی کمیٹیوں کو نظر رکھنے میں دقت نہ ہو۔ اور اگر کوئی شہری سفر میں ہو تو وہ کوشش کرے کہ جماعت کے علاوہ اکیلے میں کہیں مسجد سے باہر یا جماعت کے اوقات سے ہٹ کر نماز ادا کر لے۔

اسی طرح محلوں کے اندر ایک دوسرے سے ملاقاتوں اور ہمسائگی میں ایک دوسرے سے جان پہچان کے عمل کو شروع کیا جائے تاکہ اجنبی مشکوک لوگوں کی آسانی سے نشاندہی کی جا سکے۔  اسی طرح ہر علاقے کی ضروریات اور مسائل کی مطابقت سے حکمت عملیاں ترتیب دی جا سکتی ہیں جس میں وہاں کی مقامی پولیس اور دوسری ایجنسیوں کی صلاحیتوں سےفائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز ترتیب دیئے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح ماضی کی طرز پر مساجد اور دوسرے عوامی مقامات پر مقامی لوگوں اور ایجنسیز کی باہمی کوشش سے سیکورٹی کا انتظام کیا جا سکتا ہے تاکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بر وقت ایکشن کی ہر سطح پر مکمل تیاری ہو۔ اس کے لئے ہمیں پورے ملک کے ماحول کو بدلنا پڑے گا تاکہ دہشت گردی اور اس کی سہولت کاری کو نا ممکن بنا دیا جائے اور پوری قوم اگر اس کے لئے اٹھ کھڑی ہو تو اس کا قلع قمع کرنا کوئی مشکل کام ہی نہیں۔

پوری قوم سے گزارش ہے کہ وہ اداروں اور حکومت کے ساتھ نہ صرف مکمل تعاون کریں بلکہ ان کے دست و بازو بن کر ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق اس میں اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت اس کے لئے ایک خصوصی سیل بنائے جو شہریوں کی تجاویز کی روشنی میں ایک مکمل لائحہ عمل بنا کر اس کو اپ ڈیٹ کرتا رہے۔  

بدھ، 4 فروری، 2026

مریم کی گُڈی اب بلندیوں پر ہے۔

مریم نہ صرف ایک بہتریں ایڈمنسٹریٹر ثابت ہوئی ہیں بلکہ ان کے دل میں عوام کا درد ان کے چہرے پر چھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس کی دلیل ان کے اقتدار کے دو سالوں کا ایک ایک لمحہ بذات خود ہے۔ وہ خواہ شریف شہریوں کی عزت و مال کی حفاطت کا معاملہ ہو یا بنیادی ضروریات تک رسائی ہو کہیں بھی مریم کی کارکردگی پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی

حقیقیت تو یہ ہے کہ خود شہریوں کے وہم و گمان میں بھی وہ سہولیات، خواہشات یا مراعات نہیں تھیں جو مریم نے بلا مانگے عوام کو دے دی ہیں۔ یہ سب کہنا تو آسان ہے مگر کرنا بہت مشکل ہے جسکی پنجاب کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی مستقبل میں کوئی مریم کی ان مثالوں کا مقابلہ کر پائے گا۔ سب سے حیران کن بات تو یہ ہے کہ ان کی ترقی وا امن کا ماڈل بیوروکریسی کے ہاتھوں کامیاب ہو رہا ہے۔

مریم کے الفاظ عوام کے دلوں میں سرایت کرتے ہوئے ایسے دکھائی دیتے ہیں گویا شیسے کے برتن میں پانی اتر رہا ہو۔ اس کی وجہ ان کے الفاظ کا وہ تاثر ہے جو وہ عوام کے دلوں پر چھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ نوجوان لڑکیوں کو کہہ رہ ہوتی ہیں کہ جو جی چاہے خواب دیکھو ان کو پورا کرنے کے لئے تمھاری ماں مریم ہے ناں تو پھر وہ صدیوں سے سہمی ہوئی صنف نازک کے دلوں کی گہرائی سے نکلنے والی دعائیں آسمانوں سے فیصلوں کے رخ کیوں نہ موڑ دیں۔

جب بے سہارا بیواؤں، یتیموں اور بیماروں کے دلوں سے مریم کی کامیابی کے لئے دعائیں نکلتی ہیں تو روائیتی سیاست کہاں ان کے سامنے ٹھہر سکتی ہے جس سے عوام کئی دہائیوں پہلے ہی تنگ آچکی تھی۔ عوام نے عمراں خان سے اپنی امیدیں وابسطہ تو کیں مگر وہ بھی کھوکھلے نعرے ہی ثابت ہوئے اور آخر ان امیدوں کو ڈھارس پہچانا مریم کا ہی مقدر ٹھہرا۔

نفسیات یہ تو کہتی ہے اور سب نے سنا بھی ہوگا کہ عورت مرد کی نسبت زیادہ بہتر ایڈمنسٹریٹر ثابت ہوتی ہے مگر یہ پہلی دفع لوگ سمجھیں گے کہ عورت انسانیت کے دلوں کے حال کو بھی مردوں کی نسبت زیادہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب مریم جو کرنے جارہی وہ اگر کامیاب ہو گیا تو پنجاب کی تاریخ میں ایک عجوبہ ہی ہوگا
۔
عوام کو ایک ایسی تفریح دینے جا رہی ہے جو پنجاب کی ثقافت میں اہمیت کی حامل تو ہے ہی مگر لاہوریوں کے تو دلوں کی دھڑکن ہے۔ بسنت کا منانا تو گویا خون کی ہولی کھیلنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے سیاستدان ہمیشہ اس سے خائف ہی رہے ہیں کیونکہ اس کی سیسہ چڑھی ڈوریں قیامت کا سماں ثابت ہوتی رہی ہیں مگر پہلی دفعہ صوبے کی چیف منسٹر اپنی نگرانی میں بسنت کو منانے جا رہی ہے اور وہ بھی 8 فروری سے ایک دن پہلے جس دن پی ٹی آئی کے ہمیشہ کے اقتدار کے خواب چکنا چور ہوئے تھے۔

بسنت کے دن اتنی خوشی گڈیاں اڑانے کی نہیں ہوا کرتی جتنی دوسروں کی کاٹنے کی ہوا کرتی ہے۔ میوزک کی ہلکی ہلکی سر تو بسنت کا اصل حسن ہے مگر ڈھول کی دلوں کو چیرتی ہوئی تھاپ اس وقت ہی گونجتی ہے جب مد مقابل کی گڈی کٹ جائے۔
 7فروی کو مریم کی گڈی جو پہلے ہی بلندیوں پر چڑھ چکی ہے وہ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کی گڈی کو بو کاٹا کرنے جا رہی ہے۔ 2018 کی جعلی حکومت جن خوش فہمیوں کا شکار ہو چکی تھی ان کے نتائج ان کو 8 فروری 2024 کو جب سنائی دیئے تو ان کے حواس اڑ گئے جس کے اثرات ابھی بھی ان کے دماغوں سے نہیں جا رہے جو یقیناً 7 فروری کو مریم کی گڈی اڑا  کر رکھ دے گی۔

جس طرح مریم نے پی ٹی آئی کے اقتدار میں تن تنہا دلیری سے ان کی ظلم و بربریت کا مقابلہ کیا تھا وہ تو ان کو یاد ہی ہوگا مگر انکو آج کے بعد کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ جو پنجاب کے عوام کو اتنی خطرناک تفریح دے کر اپنے اقتدار سے بھی کھیل  رہی ہو اس کا مقابلہ کرنا کھوکھلے نعرے لگانے والوں کے بس کی بات نہیں۔
  
عوامی مینڈیٹ ہی اصل طاقت ہے جس کے حصول کے لئے کارکردگی سے بہتر کوئی حکمت عملی نہیں اور کھوکلے نعروں سے عوام کو زیادہ دیر بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا کل خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ کو یونیورسٹی کے طالبہ نے آئینہ دکھا کر اصلیت بھی دکھائی ہے اور اب یہ پاکستان کے ہر شہری کی زبان پر ہوگا اور وہ ہے کارکردگی اور بس کارکردگی

منگل، 3 فروری، 2026

پاکستان میں دہشتگردی بارے اسلامی دنیا میں تشویش کی لہر

موجودہ اسلامی ملٹری کاؤنٹرازم کوائلیشن کا دورہ اور خصوصی پروگرامز کی تشکیل اس بات کی تصدیق ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی پر اسلامی ممالک کے اندر انتہائی تشویش پائی جا رہی ہےکیونکہ وہ اس وقت پاکستان کو اپنا بگ برادر کا درجہ دیتے ہیں۔

پاکستان کی حالیہ ہندوستان کے ساتھ جنگ میں کامیابی نے اسلامی دنیا کے اندر اعتماد کو بحال کیا ہے اور ایسا ہو بھی کیوں نہ جب پوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی ہی نہیں بلکہ امن کوششوں کی معترف ہے۔ اسلامی ممالک کے لئے تو یہ بات قابل فخر ہے کہ انکا اسلامی برادر ملک پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی برتری حاصل کر چکا ہے۔

اسلامی ملٹری کاؤنٹرازم اتحاد کے 17 ممبران پر مشتمل یہ وفد دنیا کے 43 اسلامی ممالک کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی وفد سعودی عرب سے سیکرتری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید کی سربراہی میں 2 سے 8 فروری تک پاکستان میں قیام کرے گا اور اپنے اس دورے کے دوران انسداد دہشت گردی کے لئے ایک خصوصی تربیتی پروگرام کا افتتاح بھی کرے گا جس کے ذریعے جدید ترین حکمت عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا جو اسلامی دنیا کی طرف سے بھر ۔ پور حمائت کی علامت ہے۔ وفد کے سربراہ کی چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔

یہ محاذ اسلامی دنیا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط انیشیوٹو ہونے کا ساتھ ساتھ اس بات کی گواہی بھی ہے کہ اسلامی دنیا کی نظریں دہشت گردی کے خلاف مضبوط اتحاد کے لئے پاکستان کی پیشہ ورانہ فوجی صلاحیتوں کی جانب مرکوز ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو وسائل اور تعاون سے مذید مضبوط کر کے اسے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف استعمال  کر کے امن میں کردار ادا کیا جائے۔ اس سے ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان کو بھی سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ 

پیر، 2 فروری، 2026

حکومتی سطح پر کی جانے والی عوام سے آئینی و قانونی نا انصافیاں


 پاکستان میں ریاستی سطح پر قانونی اور آئینی تحفظ کے  ساتھ نا انصافیاں ہو رہی ہیں جو عوام کی نمائیندہ حکومتوں
    نے باقاعدہ ترامیم کے زریعے سے نافذ کی ہوئی ہیں جس کی کئی مثآلیں ہیں جس میں سے ایک  ٹیکس کے نطام  سے لی جا سکتی ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بنتی ہیں بلکہ معاشرے کے اندر رائج رسم و رواج کے پیمانوں پر بھی پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔

مثلاً اگر کوئی شہری سر چھپانے کی خاطر اپنا کوئی مکان بنانے کے لئے زمیں خریدنا چاہتا ہو تو اس کو کئی ایسے ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے جو انکم ٹیکس کے گوشوارے نہ جمع کروانے والوں پر لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ دہائیوں پر محیط محنت مزدوری سے حاصل کردہ آمدن جس پر ٹیکس لاگو ہی نہیں ہوتا تھا سے خرید رہا ہو۔ بھلے وہ پُشتوں سے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہو اس کی  آمدن ٹیکس کی ادائیگی کے زمرے میں نہ آتی تھی اس لئے وہ نان فائلر ہی رہا مگر اب اس کو فائلر نہ بننے کی وجہ سے خواہ مخواہ کے  ٹیکسز ادا کرنا پڑیں گے۔ حالانکہ یہ قانون آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے متعلق آرٹیکز کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہا ہے؟


میگزین