سوچ کی غذا

پیر، 29 اگست، 2022

تحریک انصاف کی معاشی سرنگ بے نقاب

آجکل پاکستان ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ایک تو پاکستان کی معاشی صورتحال بہت خراب تھی اور اوپر سے سیلاب کی صورت میں آزمائش قوم کے کاندھوں پر آن پڑی  جس سے بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے اور کروڑوں لوگ خوراک اور بنیادی ضروریات کی انتظار میں ہیں ۔ پوری قوم اس مشکل گھڑی میں اپنی اپنی استعداد کے مطابق حصہ لے رہی ہے مگر ایسے میں تحریک انصاف سے شکوہ کیا جارہا تھا کہ وہ اب بھی اپنی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ابھی  ان شکوؤں کا سلسلہ جارہی ہی تھا کہ ایک اور انکشاف سامنے آگیا ہے ۔

جس میں تحریک انصاف کے مالی امور کے ماہر اور سابق خزانہ شوکت ترین کی آڈیو ریکارڈنگ جس میں وہ  خیبر پخوتنخواہ کے وزیر خزانہ  تیمور جھگڑا سے بات کر رہے ہیں جو بڑے کھل کر مرکزی حکومت کے ساتھ جھگڑنے کا پوری جرات اور توانائی کے ساتھ  اظہار اور عمل کا یقین دلا رہے ہیں ۔ اور ساتھ ہی وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بھی یہی بات کی ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھنا ہے جس میں معاہدے کی پاسداری سے معذرت کرنی ہے کہ وہ اس پر عمل نہیں کر سکتے کیونکہ سیلاب کی وجہ سے ان کے اب اخراجات بڑھ گئے ہیں ۔ اور ساتھ ہی بہت قابل اعتراض الفاظ میں وفاقی حکومت کو سبق سکھانے اور مشکلات پیدا کرنے کی نیت کا بھی اظہار کرتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ پنجا ب کے وزیر خزانہ سے بھی بات کرتے ہیں مگر پنجاب کے وزیر خزانہ اس پر اسرار کر تے ہیں کہ اس سے  ملک کی معیشت کو نقصان تو نہیں ہوگا ۔ اور پھر یہ بھی  پتا  چلتا ہے کہ وہ اس طرح کے کسی خط کو لکھنے سے انکار بھی کردیتے ہیں جو  بہت ہی احسن سوچ ہے اور اس سے پنجاب حکومت کی مثبت سوچ کی داد دینی چاہیے اور اس کا کریڈٹ یقیناً وزیر اعلیٰ کو بھی جاتا ہے ۔ اب تو ویسے بھی انکشاف کے بعد اس طرح کے معاملات کو جاری رکھنا دونوں حکومتوں کے لئے مشکل ہوجائے گا ۔

اب اگر تحریک انصاف کے اس اقدام کو  سیاق و سباق کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا اظہار فواد چوہدری بھی  ایک پروگرام میں کرچکے ہیں اور پھر ان کی اس نیت کے تانے بانے ان کے حکومت میں ہوتے ہوئے کئے گئے فیصلوں سے بھی جڑتے ہیں جس میں وفاقی  حکومت کو ہاتھ سے جاتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے سب سڈیز کے زریعے سے جو معاشی سرنگیں بچھائی تھیں جس کا پی ڈی ایم کی حکومت اکثر ذکر کرتی ہے ، کی تصدیق بھی ملتی ہے ۔ کہ جو حالیہ انکشاف   کی طرح کی نیت رکھتے ہوں ان سے  کوئی بھی توقع  کی جاسکتی ہے ۔

اب اس انکشاف کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ جماعت کے طرف سے اس  بارے کیا وضاحت آتی ہے ؟  ابھی تک جو اسد عمر اور  کے پی کے کے وزیرخزانہ  نے ایک  ساتھ جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں وضاحت کرنے کی بجائے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں  جو کہ ان کی حسب معمول عادت ہے ۔۔ جیسا کہ شہباز گل کے بیان پر بھی انہوں نے مزمت کی بجائے مخالفیں بارے  ماضی کے ایسے ہی واقعات کا پرچار کرتے رہے ۔ اب بالکل اسی طرح سے وہ اس معاملے کو بھی چلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

پاکستان کے  غیر جانبدار حلقے تو حیرانگی کا اظہار کر ہی رہے ہیں مگر اس پر تحریک انصاف کو کہاں تک شرمندگی ہوتی ہے یہ عمل سے ظاہر ہوگا جس کی کوئی توقع نہیں کیونکہ ان کی نیت صاف ظاہر ہورہی ہے ۔ عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے لئے کوئی من گھڑت کہانی بنا سکتے ہیں جس کو حسب معمول یو ٹرن کا نام دے کر اعلیٰ صلاحیت سے تشبیہ دینے کی کوشش کریں گے مگر ابھی تک کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جماعت کی سطح کی پالیسی تھی جس میں جماعت کی اعلیٰ قیادت بھی شریک تھی ۔

اب اس میں کہاں تک وفاقی حکومت کے لئے وہ مشکل کھڑی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یہ تو بعد کی بات ہے مگر ان کے بے نقاب ہوجانے سے لگتا یوں ہے کہ اب تحریک انصاف کی مقبولیت کا پہیہ الٹا چلنا شروع ہوگیا ہے ۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی غلطیوں پر اس وقت تک پردہ ڈالتا رہتا ہے جب تک وہ انتہا نہ کردے ۔ تواس ریکارڈنگ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی سازشوں کی انتہا ہونے کو ہے ۔ کیونکہ شوکت ترین جیسا تجربہ کار آدمی اتنی بڑی بات فون پر کر کے بے نقاب ہورہا ہے ۔

پاکستان کی قومی سطح کی  جماعت کی طرف سے اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ عمل کوئی چھوٹی بات نہیں ۔ ان کی چار سالہ کارکردگی پر تو پردہ پڑ گیا تھا ۔ جس کی وجہ  وفاقی حکومت  کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی تھی مگر اب تحریک انصاف اپنی ماضی کی زیرو  کارکردگی کے طرح سے خود ہی اپنے عملوں سے بے نقاب ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ اور عوام کے سامنے کھل کر آنا شروع ہوگئی ہے ۔ عوام جو ان کی کارکردگی کو بھول چکی تھی اس کو انہوں نے پھر سے اپنی صلاحیتوں اور نیتوں کے زریعے سے سمجھانا شروع کر دیا ہے ۔

اس سے اب تحریک انصاف ہی صرف بے نقاب نہیں ہوگی بلکہ عوام بھی بے نقاب ہوگی کہ وہ اتنے بڑے انکشاف کے باوجود بھی اگر تحریک انصاف کی ہی حمائت کرتے ہیں تو پھر کہنا پڑے گا کہ

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

”ظَهر الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَهم بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهم یَرْجِعُوْنَ“․(الروم:۴۱)

ترجمہ: ”خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب خرابی پھیل رہی ہے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھادے؛تاکہ وہ باز آجائیں“۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے : ”وَمَآ أَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ“․ (الشوریٰ:۳۰)

ترجمہ:”اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے کاموں سے (پہنچتی ہے) اور بہت سارے (گناہوں) سے تو وہ (اللہ تعالیٰ) درگزر کردیتا ہے“۔

تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ حسن بصری کے الفاظ میں حکمران عوام کے اعمال کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں ۔ اگر عوام اب بھی کسی کے عمل سے نہ سمجھ سکے تو پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام ابھی اس امتحان سے سرخرو ہونے کے قابل ہی نہیں ہوئے ۔

ایک حکومت کے اعمال کی بدولت مشکلات سے جان چھوٹتی ہے تو دوسرے میں پھنس جاتی ہے ۔ سب ایک ہی ڈگر پر چلتے نظر آتے ہ

یں ۔ جس کی مثال موجودہ حکومت کی مخالفت میں اندر سے ہی  آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں ۔ اور قرض کے حصول کے لئے بڑی بڑی شرائظ کی قبولیت کوئی قابلیت کی نشانی بھی نہیں ۔

اس وقت تحریک انصاف کسی خوش فہمی میں  نہ رہے کہ عوام ان کے ساتھ ہے ۔ عوام ان کے ساتھ نہیں بلکہ مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت کے خلاف ہے اور اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں چونکہ اکٹھی ہیں اور وفاقی حکومت میں شامل ہیں جس نے بیرونی اور ملکی مالی معاملات کو چلانا ہوتا ہے لہذا ان کی مخالفت  میں وہ اکیلے ہیں تو ان کو فائدہ ہورہا ہے ۔ اور دوسری طرف اس وقت بھی پاکستان کے دو تہائی میں ان کی صوبائی حکومتیں ہیں اور ان کی کارکردگی بھی دیکھ جانی ہے جو کہ ابھی سیلاب میں اور مالی معاملات میں وفاق کے ساتھ رویے سے بخوبی ظاہر ہورہی  ہیں ۔

وفاقی حکومت  میں شامل جماعتوں کو بھی چاہیے کہ پاکستانی عوام کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے تحریک انصاف کو حکومتی پالیسیوں کی مخالفت میں اکیلے نہ چھوڑیں بلکہ عوام کو کوئی آپشن مہیا کریں ۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس پر نواز شریف توجہ دینگے اور عوام کے درد کا ساتھ دینے کے لئے میدان میں نکلیں گے  اور عوام کے دکھوں کا مداوا  بنیں گے  جیسا کہ ان کے حامیوں کی طرف سے آوازیں آنا شروع بھی ہوگئی ہیں ۔  

 


ہفتہ، 27 اگست، 2022

ترقی ، کامیابی اور اس کا راز

ترقی ایک لا متناہی جہاں کی منزل کو پا لینے کے لئے ایک دوڑ کا نام ہے ۔ جو کبھی نہ ختم ہونے کا سلسلہ ہے۔ جس میں ہر کوئی اپنی سوچ اور ہمت کے مطابق دوڑ رہا ہے۔

اچھی بات ہے دوڑنے اور اپنے آپ کو گرم رکھنے میں ہی زندگی کی لزت ہے ۔حرکت میں برکت ہے مگر با مقصد ہونی چاہیے۔ دوڑ بھی نظم وضبط اور ربط کے ساتھ ہونی چاہیے۔ ہار جیت بھی انکی ہی ہوتی ہے جو ایک خاص سمت میں نظم و ضبط اور ربط کا حصہ ہوتے ہیں ۔

باقی دنیا کی ترقی اور ہماری ترقی میں یہی فرق ہے کہ وہ نظم وضبط اور ربط کے ساتھ ایک خاص سمت میں بامقصد دوڑ رہے ہیں مگر ہم بغیر نظم وضبط ، بے ربط اور بے مقصد دوڑ رہے ہیں ۔ قومیں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر دوڑ رہی ہیں مگر ہم ایک دوسرے سے روپوش اور بھاگ جانے یا ایک دوسرے کو پکڑنے اور پچھاڑ پھینکنے کے لئے دوڑ رہے ہیں۔

فرق صرف سوچ اورطریقہ کار کا ہے توانائیاں ہم بھی صرف کر رہے ہیں مگر حاصل کچھ نہیں ہورہا ۔قومیں اپنی سمت کاتعین کرکے دوڑتی ہیں اور ترقی کا تھوڑا یا زیادہ سفر طے کر رہی ہیں اور ہم ایک ہی دائرے میں دوڑتے جا رہے ہیں۔

جسکا کوئی مقصد ہو اور منزل کا تعین ہو اس کو اس دوڑ میں کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی اس کا مقصد اور منزل کو پالینے کی جستجو ان کو کبھی سست نہیں پڑنے دیتے بلکہ انکے ارادوں کو پختگی اور ہمت کو توانائی بخشے رکھتی ہیں۔ اور جو بے ربط و قائدہ اور سمت کا تعین کئے بغیر بے مقصد دوڑتے ہیں وہ ترقی کی دوڑ کا حصہ نہیں بلکہ چھپن چھپائی ، پکڑن پکڑائی کا کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں اور ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہوتے ہیں۔

اس کائنات کا ایک نظام فطرت ہے اور اس سے مستفید ہونے کا راز اس کے قوانین کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے میں ہے۔ گو کہ اس وقت ترقی اور کامیابی کے نام نہاد دعوے دار بھی محض علامتی اور دھوکے والی ترقی کی راہ پر عمل پیرا ہیں مگر ہم تو اس نقلی دوڑ میں بھی بہت پیچھے ہیں۔

ہمارے ارد گرد اس ترقی کو پانے یا کامیابی کے بے بہا راز ہماری راہنمائی کے لئے موجود ہیں بشرطیکہ ہم ان کو سمجھنے کی کوشش اور سکت رکھتے ہوں۔ ہمارا انسانی بدن بذات خود ایک روشن مثال ہے۔ ہمارے جسم کے اعضاء جب تک ایک ربط اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرتے ہیں تو نتائج فائدہ بخش اور بدن سکون میں رہتا ہے۔ دل و دماغ ہاتھ ، پاؤں ، بازو ، اور ٹانگیں سب اعضاء اپنی اپنی جگہ پر رہ کر اپنا اپنا کام سرانجام دے رہے ہوتے ہیں تو بدن طاقت میں ، توانا اور چہرہ روپ میں ہوتا ہے۔ رگوں میں بہنے والا لہو اور روح جب تک بدن کا حصہ رہتے ہیں توانائی کو رواں اور خوبصورتی کو قائم رکھتےہیں اور جب بہہ جاتا ہے یا ضائع ہوجاتا ہے روح پرواز کر جاتی ہے تو۔ توانائیاں اور رنگ وروپ بھی ساتھ ہی بہہ جاتے ہیں یا مانند پڑ جاتے ہیں ۔ اگر اعضاء ربط سے ہٹ جائیں تو بدن کی کارکردگی اپنا فائدہ کھونے لگتی ہے۔ مگر تندرست و توانا مثبت سوچ والا بدن خود بھی سکون میں ہوتا ہے اور دوسرے انسانوں ، مخلوقوں بلکہ کائنات کے فطری نظام زندگی کے لئے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر ہم انسان خاندان ، معاشرے ، قوم ، ملک یا دنیا کے اندر اپنی جگہ پر بدن کے اعضاء کی طرح اپنے کام کو سر انجام دے کر اپنے خاندان ، معاشرے ، قوم ، ملک یا دنیا کے بدن کو تقویت اور راعنائی بخشتے رہیں گے تو اس بدن کے مجموعی اعمال کے نتیجے میں بے ہہا فوائد حاصل ہوتے رہیں گے اور بدن بھی سکون میں رہیں گے۔

اس سے اور آگے بڑھتا ہوں

اور اگر ہم اس دنیا کے ان چھوٹے بڑے بدنوں کو فطری تقاضوں کے مطابق رکھیں اور چلائیں گے تو توانائیاں اور لزتیں اپنی حقیقت سے آشناء ہو کر دوام اور دائم ہوجائیں گیں۔

اس اکیسویں صدی میں دوڑ سے الگ ہونا تو ممکن نہیں البتہ اس دوڑ کو با مقصد ، درست سمت اور فطری اصولوں کے مطابق بنا کر ترقی کی کامیاب دوڑ میں شامل اور بہترین نمونے کی مثال ضرور قائم کی جا سکتی ہے۔ ذہانت ، اچھی سوچ اور دوسروں کو فائدہ دینے کا عمل ہی وہ بنیادی عناصر ہیں جن سے انسان نہ صرف انسانیت کی بلندیوں پر فائز ہوتا ہے بلکہ رہتی دنیا کے انسانوں تک حقیقی انسانی ترقی کا ایک نمونہ بن جاتا ہے ۔

اس دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے ۔ اس دنیا میں بہت سارے کردار آئے جن کو اس کائنات کے خالق نے آج کے انسان کی نسبت زیادہ توانائی اور صلاحیتیں دی ہوئی تھیں ، ان کی زندگیاں بھی آج کے دور سے لمبی تھیں ، کئی قومیں آئیں اور جنہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے کام کیا ان کا نام آج بھی زندہ ہے اور جنہوں نے اپنی خواہشات کی تکمیل اور بڑائی تکبر کا راستہ اپنایا ان کا نام اور مثال انسانیت کے لئے عبرت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اور اس کی نشانیاں انسانیت کو سبق دینے کے لئے آج بھی موجود ہیں ۔

ان انسانی تاریخ کی مثالوں میں کوئی بھی ترقی کا باب مادی ترقی کا نہیں بلکہ تمام کے تمام کامیابیوں کے باب انسانی سوچوں کے اعلیٰ ہونے اور انسانی فلاح کی سوچ اور عمل کو زندہ کرنے والوں کے ہیں ۔ جنہوں نے اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو سمجھ کر انسانیت کو اپنی علمی ارتقاء میں معاون ہوئے جن میں سر فہرست نام محمدﷺکی ہستی ہے جو آج بھی دنیا کی پر اثرترین شخصیت ہیں ۔

اسی طرح بتدریج نیوٹن ، عیسییٰ علیہ السلام اور بدھا آتے ہیں جن کی تاریخ آج گواہی ان کی سوچ ، تعلیمات اور عمل کی وجہ سے دے رہی ہے جس کا محور انسان اور انسانی کی بھلائی تھی ۔ اور جو اس سوچ ، تعلیم اور عمل سے ٹکرائے وہ رہتی دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنے ۔

آج کی مادی ترقی بھی ماضی کی طرح  مکمل طور پر سرمایہ دارانہ نظام اور فیشن کے نرغے میں آچکے ہیں اور ہر شے بشمول انسان کی زندگی کم ہوتی جارہی ہے ۔ دکھلاوہ اور آگے بڑھنے کی دوڑ اور دوسرے کو پچھاڑنے کی سوچ نے انسانیت کی پہچان کی خصوصیات کو پس پشت ڈال دیا ہوا ہے ۔ انسان کی بنیادی ضرورت خوراک تک بناوٹی اور نقصان دہ ہوچکی ہے جس میں پورے کا پورا کاروبار اور ظاہری دکھلاوے کے سوا کچھ بھی نہیں رہا ۔ اسی طرح انسان کے مسکن کو لے لیجئے ۔ بڑی بڑی عمارتوں کے اندر فیشن کی حد عمر پانچ سال رہ گئی ہے اور اس کے بعد ریوونیشن لازمی ہوچکی ہے کیوںکہ ہر چیز بوسیدہ فیشن ہو کر عجیب عجیب سی لگنی شروع ہوجاتی ہے ۔

ان تمام مسائل کا حل سادگی اور فطرتی عوامل کی طرف واپس لوٹنا ہے جس کا خیال بذات خود ایک دقیانوسی کی چھاپ کی زد میں آچکا ہے اور اس کی طرف توجہ دینا بھی نئی نسل وقت کا ضیاع سمجھتی ہے مگر اس کا حل انسانی کی بنیاد ، فطرت اور سادگی کی طرف لوٹنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔

منگل، 23 اگست، 2022

کیا عمراں خان حدود عبور کر رہے ہیں؟

ویسے تو یہ عمران خان کا نیا اندازو بیان نہیں مگر شائد وقت تبدیل ہوگیا ہے یا پھر قانون کا حرکت میں آنا مجبوری بنتا جارہا ہے جو ان کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس لے لیا ہے ۔

عمران خان صاحب کوئی عام آدمی نہیں بلکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ان کے بقول پاکستان کی واحد قومی سطح کی جماعت کے سربراہ ہیں ۔ اور ان کا ایک خاتون جج کے خلاف کاروائی کا بھرے جلسے میں کہنا کوئی قانونی رائے نہیں جیسا کہ بہت سارے قانون دان اس کی خود ساختہ تشریح کررہے ہیں ۔ کہ انہوں نے قانونی ایکشن کی بات کی ہے ۔قانونی ایکشن کی دھمکی اور وہ بھی ایک سابق وزیراعظم اور پارٹی کے سربراہ کی طرف سے  اس طرح کا بیان دینا  اتنا بھی سادہ معاملہ نہیں ۔  

مگر بہت سادہ ہیں میرے وطن کے قانون دان   جو سادگی میں کیا سے کیا کہہ جاتے ہیں ۔ ججز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں کی جاتی ہیں نہ کہ ان کی ذات کو نشانہ اور جج کا نام لے کر اسے ڈرایا جاتا ہے ۔ اور وہ ریمانڈ کے خلاف پہلے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کر چکے ہیں ۔ اور ریمانڈ کو دئے ہوئے بھی دو تین دن گزر چکے تھے جس پر جو بھی قانونی کاروائی کی جانی تھی وہ ہوچکی تھی ۔ یہ فیصلے کے خلاف جانے کی بات نہیں بلکہ جج کے خلاف کاروائی کی بات ہے ۔

بلکہ اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ وہ خاتون جج کو ریمانڈ دینے پر اس کے نتائج سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں  اور اس سے باقی عدلیہ کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر وہ باز نہ آئے تو پھر ہمارے ارادے خطرناک ہیں ۔ ان کے ماضی کے عمل سے یہ بھی تاثر لیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے عدلیہ کو یہ باور کروایا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے پر ان کے خلاف تادیبی کاروائی کا آغاز بھی شروع کروا سکتے ہیں ۔ جس کی ماضی میں مثالیں بھی موجود ہیں ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے جج  قاضی فائز عیسیٰ پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی بھیجا تھا اور اب حکومت  سے فارغ ہونے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا ہے ۔

اس کے علاوہ پولیس کو بھی دھمکی  دی گئی ہے جس پر پولیس کی طرف سے  عمران خان کی سیکورٹی سے معزرت کی  مبینہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں ۔اور اگر ماضی کے حوالوں کے ساتھ دیکھا جائے تو عمران خان اپنی نگرانی میں اسلام آباد پولیس کے آفیسر پر تشدد بھی کروا چکے ہیں اور پھر اپنے حکومت کے دوران ان مقدمات سے بری بھی ہوچکے ہیں ۔ اسی طرح ماضی میں بھی وہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی توہین کے بھی مرتکب ٹھہرے ہیں جس پر وہ معافی بھی طلب کر چکے ہیں ۔ پولیس کے بارے انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ پیچھے سے دباؤ ہے  اور پیچھے سے بوٹ لگنے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ جس سے فوج کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے ۔

اگر ماضی پر نظر دوڑایں تو فوج کی چونکہ سیاست میں مداخلت  پائی جاتی رہی ہے  اور عمران خان خود اپنے دور اقتدار میں کئئ مثالوں کی طرف بھی اشارے دے چکے ہیں کہ ان سے کچھ فیصلے  بھی کروائے جاتے رہے ہیں لہذا یہ معاملہ قابل تحقیق ہے جس کی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے کہ وہ اس طرح کے تمام الزامات کی تحقیق کروایں اور الزامات بارے حقائق کو قوم کے سامنے لائیں ۔ کیونکہ یہ الزامات کا معاملہ نیا نہیں اور تحقیقات کے بغیر الزامات سے چھٹکارہ ممکن بھی نہیں ۔ جب فوج نے نیوٹرل ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو پھر اب ان پر اٹھنے والے الزامات پر قانونی کاروائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ۔

ان کے نیوٹرل  ہونے کی دلیل ان پر عمران خان کی طرف سے غیر جانبداری کے الزامات اور امداد کی اپیلوں سے بھی  ثابت ہوتی ہے۔ اور ان کے اندازو بیان  پاکستان کی معاشی صورتحال کے لئے انتہائی قابل تشویش ہیں کیونکہ سیاسی عدم استحکام سے معاشی صورتحال کا بہت گہرا تعلق ہے ۔اداروں کے ساتھ اس طرح کے  حملوں اور برتاؤ کی پہلے مثال نہیں ملتی جو قابل مذمت ہے ۔

اسی طرح کے تشویشناک بیانات علی امین گنڈا پور اور کئی دوسرے کارکنان کی طرف سے بھی آئے ہیں جو انتہائی جارحانہ ہیں جن سے حکومت اور اداروں کے خلاف اکسانے کے رجحان کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ جس کا اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اظہار کیا ہے ۔

عمران خان نے دو دن قبل ہی عدلیہ کی آزادی متعلق سیمینار سے خطاب کے دوران عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر زور دے کر کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالا تر نہ ہو اور عدلیہ کسی  بھی شخصیت کے دباؤ میں نہ آئے تب ہی انصاف کا بول بالا ہوسکتا ہے ۔ جس پر انہوں نے ویسٹرن ممالک کی مثالیں بھی دیں اور سویٹزرلینڈ کا ذکر کرتے ہوئے  کہا کہ وہاں قانون کی حکمرانی کی وجہ سے دنیا کا سب سے پر سکون ملک ہے اور دنیا سے سیاح وہاں امن کی وجہ سے جاتے ہیں جس سے ان کو زرمبادلہ ملتا ہے ۔ ہمارا نادرن ایریا  سویٹزرلینڈ سے بھی بڑا اور خوبصورت ایریا ہے مگر ہم فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ۔

تو اب ان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے آج توہین عدالت کا نوٹس بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا جاری ہوگیا ہے  جس میں ان کے لئے بہتریں موقعہ ہے کہ اپنی ذات سے قانون کے سامنے سرنگون ہوکر مثال قائم کریں ۔

عدلیہ کی توہین بارے بھی پاکستان کی ایک تاریخ ہے جس میں کئی سیاستدانوں کو سزا اور نااہلی بھی ہوچکی ہے ۔ جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ خدشات اور تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ عمران خان کے بارے عدلیہ نرم گوشہ رکھتی آئی ہے ۔ اور عدلیہ پر    بائیکاٹ کے زریعے سے دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے ۔ اب بھی شائد یہ نرم گوشہ قاتم رہتا مگر انہوں نے اداروں کے ساتھ چھیڑا چھاڑی معمول بنا لیا ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے کو کس طرح لیتی ہے اور اپنی ماتحت عدلیہ کو اختیارات کے آزادانہ استعمال میں اعتماد بحال کرنے کی خاطر کیا اقدامات اٹھاتی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ادارے آزاد ، غیر جانبدار اور خود مختار نہ ہوں ریاست کے اندر قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق کی پاسداری اور مضبوط جمہوریت کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا ۔ مگر ہمارے حکمرانوں کو جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو اس کا خیال کم ہی آتا ہے اور  جب وہ خود اس طرح کی کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں تو پھر ان کو سب کچھ یاد آجاتا ہے اور وہ اس کے پرچار میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ لیکن دور اقتدار میں  اکثر ان کو اس طرح کی اصلاحات فراموش ہی ہوجاتی ہیں ۔

مگر رانا ثناءاللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ  شہباز گل کے معاملے میں تحقیقات کروایں گے اور ان کی حکومت اس طرح کی کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتی لیکن اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا کہ وہ اپنے دعوے میں کتنے  مخلص ہیں ۔  

جمعرات، 18 اگست، 2022

پولیس کی حراست میں تشدد

آجکل شہباز گل پر پولیس کی حراست میں تشدد کا الزام تحریک انصاف  اور ان کے وکلاء کی طرف سے سامنے آرہا ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ اس پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے   لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں  اور پاکستان میں گھریلو تشدد سے لے کر دفاتر اور حتیٰ کہ پولیس جس کی ذمہ داری  عوام کی جان مال کی عزت و آبرو کی حفاظت ہے  تک   ملتا ہے ۔  پولیس  کی حراست اور نگہداشت میں اس طرح کےجرم  کا  واقع ہونا جرم تو ہے ہی بلکہ عالمی سطح پر قابل شرم فعل بھی ہے ۔

سیاسی طور پر یہ ہر حکومتی دور میں کم و بیش ہوتا آرہا ہے ۔ سیاسی انتقام کی یہاں ایک لمبی داستان ہے ۔ موجودہ وزیراعظم سے لے کر وزیر داخلہ تک اس کا نشانہ رہے ہیں ۔ تواگر ان کو اب بھی اس کی سنگینی کا احساس نہیں تو پھر کیا کہا جاسکتا ہے ۔

تشدد صرف جسمانی ہی نہیں ہوتا بلکہ ذہنی تشدد بھی جرم کی تعریف میں آتا ہے ۔ یہ   انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کے تدارک کا عالمی سطح پر قانون موجود ہے جس کا پاکستان بارہ سال سے سگنیٹری ہے اور ابھی پچھلے سال اس پر پاکستان میں قانونی بل بھی پاس ہوا ہے ۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل چودہ  ضمنی جز دو  کسی بھی شہادت کے حصول کے لئے تشدد کی واضح طور پر ممانعت کرتا ہے ۔ 

اگر تشدد کے شواہد ملیں تو کیس کو سیشن جج کی طرف بھیجا جائے گا اور وہ پندرہ دن کے اندر اس کی انکوائری کو یقینی بنائیں گے ۔ پھر روزانہ کی بنیاد پر کاروائی کرکے دو ماہ کے اندر اس کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا ۔ ہر طرح  کےتشدد کی سزا تین سال سے لے کر دس سال تک ہوسکتی ہے  ۔ پولیس کی حراست میں تشدد ثابت ہوجانے سے بیس لاکھ جرمانہ اور دس سال تک سزا ہوسکتی ہے اورپولیس کی  حراست میں تشدد سے موت واقع ہونے پر تیس لاکھ جرمانہ اور عمر قید کی سزا  ہوسکتی ہے ۔ یہ تھا پاکستان کا قانون ۔

پاکستان میں قوانیں کی کوئی کمی نہیں مگر اس پر عمل درآمد کے معاملے میں ہم سے بڑا کوئی لاپرواہ بھی نہیں ۔ قانون صرف کتابوں کی زینت کی حد تک ہماری لائبریریوں کو سجائے ہوئے ہیں ۔ ہم قوانیں بنانے کے بہت  ماہر ہیں ۔  عملدرآمد کروانے کی بجائے قانون کی خلاف ورزی پر ایک اور قانون بنا دیتے ہیں اور پھر اس  کی خلاف وزری پر ایک اور ۔ یوں یہ سلسلہ چلتے چلتے پاکستان میں ایسے قانون بھی بن چکے ہیں جن کاکوئی سر پیر ہی نہیں ۔ جن کا جواز انسانی  تاریخ اور شعور بھی پانے سے قاصر ہیں۔ نیب کا قانون ہی دیکھ لیجئے ، شک کی بنیاد پر کسی کو بھی  بغیر شوائد کے پکڑ کر اندر کر دیجئے اور  یہ ملزم کی ذمہ داری ہے  کہ وہ   ثابت کرے مجرم ہے یا نہیں  جس کی پاداش میں سیاسی انتقام کی حوس زندہ وہ جاوید ہے ۔

پولیس کی حراست میں تشدد  تو  یہاں معمول کی بات ہے ۔ یہاں جس کو اپنے خلاف درخواست کی اطلاع ہوجائے اس کے لئے تشدد کا آغاز اسی لمحے سے شروع ہوجاتا ہے جس کی بنیاد ہماری پولیس کا رویہ اور برتاؤ ہے جس کے بارے اپنی ایک آپ بیتی آپ کے ساتھ شئیر کرتا ہوں ۔

میں قانون کی تعلیم کے آخری سال میں تھا تو میرے چھوٹے کزنز کے ایک محلے کے دوست کے چھوٹے بھائی  کی ایک دکاندار سے منہ ماری  ہوئی  معاملہ ہاتھہ پائی   تک پہنچ گیا اور اس نے کوئی شے اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری جس  پر اس نے اس کے خلاف درخواست دے دی اور میرے  ایک کزن کا بھی اس درخواست میں نام دے دیا گیا ۔ جو موقعے پر موجود ہی نہیں تھا ۔ ہم یہاں تعلیم کی غرض سے اکیلے رہتے تھے اور کھانے کے لئے ایک خانسامہ رکھا  ہوا تھا ۔ میں بڑا تھا اس لے لئے مجھے شام کو پولیس انکوائری کے لئے تھانے جانے کا اتفاق ہوا ۔ ہماری موجودگی میں مخالفین میں سے ایک نے میرے کزن کے دوست کو گالی دے دی ۔ ۔ جس پر  وہ اس کی طرف بڑھا مگر بیچ بچاؤ ہوگیا ۔

میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں نے کہا سر آپ دیکھ نہیں رہے کہ اس نے گالی دی ہے ۔ جس پر تھانیدار صاحب کا فرمان تھا کہ گالیاں تو لوگ ہمیں بھی دیتے  رہتے ہیں جس پر میری زبان سے صرف یہ الفاظ سر زد ہوگئے کہ " بات تو غیرت کی ہے جس میں جتنی غیرت ہو" جو ان کے مزاج پر بھاری گزری ۔ اب پولیس کی حمائت ان کے ساتھ تھی لہذا گالی کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ انہوں نے اس وقت تو  اس پر کوئی خاص رد عمل نہ دیا مگر اگلے دن میں جب  یونیورسٹی سے واپس آیا تو ابھی بیٹھا ہی تھا کہ باہر گھنٹی کا آواز آئی اور اوپر نیچے بجتی ہی جارہی تھی جیسے کوئی طوفان آیا ہو ۔ میں یہ کہتا ہوا باہر نکلا کہ آرہا ہوں ۔ تھوڑا صبر کرلیں ۔

جب دروازہ کھولا تو گیٹ پر پولیس ہی پولیس تھی ۔ ایک بڑی گاڑی ، تین چار موٹر سائیکل ۔ اور چھوٹے تھانیدار صاحب بنفس نفیس تشریف لائے ہوئے تھے ۔ جیسے ہی میں نے گیٹ کھولا ، ادھر  سے آواز آئی پکڑ لو اسے ۔ وہ مجھ پر ایسے جھپٹ پڑے جیسے کوئی دہشت گرد پکڑ لیا ہو ، میری قمیض شرٹ بن گئی  ۔ پولیس تو بادشاہ ہے اس ملک کی اس کو کون پوچھ سکتا ہے ۔ کہیں سے میرا کان بھی زد میں آگیا اور مجھے سنائی  میں بھی مشکل ہونے لگی ۔ جاتے ہی  ضمنی درخواست کے اوپر میری گرفتاری ڈال دی گئی ، اگلے روز ایک دن کا ریمانڈ لیا گیا اور اس کے بعد  جوڈیشل بھیج دیا گیا  ۔ ساتھ یہ پیغام بھی کان میں گھول دیا گیا کہ ابھی ایک اور مقدمے میں بھی آپ کا ریمانڈ لینا ہے جو ضمانت کے بعد لیں گے تاکہ اس کو یہ احساس رہے کہ پولیس کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لانی ۔

میرے لئے تو آخری امتحان ، جو شروع ہونے والے تھے  ،سے غیر حاضری بھی ،  بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے قوانین و ضوابط کے مطابق ،   کیرئیر کی تباہی کے لئے کافی تھا ۔  جی پی اے کم ہوجانےکی صورت میں  پچھلا سارا کچھ ضائع ہونے  کابھی احتمال تھا ۔بھلا ہو مجسٹریٹ صاحب کا جنہوں نے ڈیٹ شیٹ کی بنیاد پر فوری ضمانت لے لی ۔ یوںمجھے  وکالت میں عملی قدم رکھنے سے پہلے ہی پولیس کے برتاؤ اور جیل کے ماحول کا تجربہ ہوگیا تھا ۔

تشدد تو یہاں اتنی بڑی بات ہی نہیں یہاں تو پولیس مقابلے بنا کر سیاسی اور خاندانی دشمنیوں کے بدلے  لئے جانے کے مبینہ الزامات اور واقعات معمول کی کاروائی  سمجھے جاتے ہیں ۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سیاستدان خود اس کا نشانہ بھی بنتے ہیں مگر پھر بھی پولیس اصلاحات کےزریعے سے اس کے سدباب کے لئے کوئی واضح کوشش  نہیں کرتے ۔



 

منگل، 16 اگست، 2022

ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟

انصاف کے معنی برابری ،   غیر جانبداری ، ہر ایک ساتھ ایک جیسا  برتاؤ رکھنا ، ٹکڑے کرنا  ،  حق ادا کرنا   اور ہر شے کے اس کی صحیح جگہ پر ہونے کے  لئے جاسکتے ہیں ۔ اس کےلئے لفظ عدالت کا بھی استعمال ہوتا ہے  گرچہ تکنیکی طور پر ان میں فرق ہے۔ انصاف کا متضاد ظلم ہے ۔

انصاف کا مفہوم بہت گہرا ہے جس  کے دائرے میں ہمارےکردار ، گفتار اور قضاء کے پہلو   بھی آجاتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنے اعمال میں انصاف کے پہلوؤں کا ذمہ دار ہے اور اگر وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں ناکام رہتا ہے  جس کے نتیجے میں کسی کا حق تلفی ہو تو پھر اس کو یہ حق پہنچتا ہے  کہ وہ اپنے حق کے بارے مطالبہ کر سکے اور اگر اس کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو پھر  وہ عدل کے لئے صاحب اختیارات اور  ذمہ داران  سے رجوع کرسکتا ہے ۔ اور ایسے حالات میں ذمہ داران جن  میں مقامی صاحب اختیار سے لے کر حکومت اور عدلیہ تک  کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اگر کوئی انصاف کے حصول کے لئے ان کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو غیرجانبداری ، برابری اور اچھے برتاؤ کے ساتھ اس کو اس کا حق دلوایں ۔

آج ہم صرف عدالتوں کو ہی انصاف کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں  اور ہر کوئی اپنے  معاملے کے بارے کوئی فکر نہیں کرتا نہ ہی کسی کو  یہ خیال ہوتا ہے کہ آیا اس کے اعمال میں انصاف کا پہلو موجود ہے یا نہیں ۔

انصاف کا اخلاقیات سےبھی بہت گہرا تعلق ہے اور اسکے معاشرے کے اندر فضائل میں ، امن و سکون ، زندگی کی آسانیاں ، عمر کا طویل ہونا ، رزق میں برکت ، دنیا و آخرت میں کامیابی ، محبت و دوستی میں اضافہ اور مخالفت و دشمنیوں کے خاتمے جیسےفوائد کا موجب کہا گیا ہے ۔ اور اگر ہم اس کے بارے غور کریں اور ہر کوئی اپنے معاملات میں انصاف کو قائم کرے تو پھر ہماری زندگیوں میں کتنا سکون ہوجائے گا ۔ جب ہمارے اخلاقیات اعلیٰ ہوجائیں گے تو پھر ہمارے تھانے اور عدالتیں خالی ہوجائیں گی ۔

اور تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ  دنیا کے جن ممالک میں اخلاقیات اعلیٰ ہیں  اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں  وہاں کے تھانے اور عدالتیں ویران ہوتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں ہمیشہ سے عدالتوں کی کمی ہی محسوس کی جاتی رہی ہے ۔ ہر کوئی دوسرے پر تنقید کرتا ہے مگر اپنے عمل کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ جاپان  اور کئی دوسرے ترقی یافتہ ممالک موجود ہیں جہاں اخلاق اعلیٰ ہیں یا پھر انصاف صحیح معنوں میں دستیاب ہے تو وہاں جرائم کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔

ہمارے ہاں انصاف کا خیال تو کجا  گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے ۔عدالتوں میں کتنے ہی مقدمات  ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد ہی انصاف نہیں بلکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننا ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ انصاف کا بر وقت نہ ملنا ہے ۔ جس کو سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ اس کا حق نہیں بنتا وہ انصاف کے نظام کی خرابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت کا سہارا لے کر تاخیری حربوں کے زریعوں سے معاملے کو کئی کئی دہائیوں تک لٹکائے رکھتا ہے ۔ اور جس کا حق بنتا ہے وہ خواہ مخواہ ہی وقت ، توانائیاں اور اپنا مال ضائع کرتا رہتا ہے ۔ کتنے ہی لوگ اس انصاف کے نظام سے بد دل اور نا امید ہو کر اپنے حق کی آواز ہی نہیں اٹھاتے اور خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔

ہمارے اداروں اور عدالتوں کے اندر کیا صورتحال ہے کسی سے بھی پوشیدہ نہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام مظلوم کی بجائے ظالم کو زیادہ فائدہ دے رہا ہے جس سے ظلم کم ہونے کی بجائے کئی گنا صرف اس  لئے بڑھ رہا ہے کہ کسی کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔

تو جیسے میں عرض کر رہا تھا کہ انصاف کا آغاز ہمارے انفرادی اعمال سے شروع ہوتا ہے اور اگر اس میں کوئی رکاوٹ یا حصول میں مشکل ہو تو پھر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انصاف کو یقینی بنائیں اور حکومتیں اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے عدالتیں قائم کرتی ہیں ۔

اور عدل کے منصب کو بہت ہی ذمہ دارانہ سمجھا جاتا ہے ۔ بلکہ اچھی سوچ  ، جوابدہی کا خیال اور غیر جانبداری کو روا رکھنے کے لئے فکر مند لوگ تو اس منصب سے دور بھاگتے ہیں ۔ اس منصب کی وجہ سے وہ عام شہریوں میں گھلنا ملنا ، عوامی معلومات کے زرا ئعے جیسا کہ آج کے جدید دور میں میڈیا کا کردار ہے سے  ان کو اپنے آپ کو مکمل الگ تھلگ رکھنا پڑتا ہے ۔ حکومتی عہدیداروں سے اپنے آپ کو دور رکھنا پڑتا ہے ۔ ہر اس معاملے سے اپنے  آپ کو دور رکھنا ہوتا ہے جس سے انصاف پر منفی اثرات مرتب ہونے کا  احتمال ہے ۔

مگر آج ہمارے اخلاقیات کا کیا حال ہے  سب کے سامنے ہے ۔ کس طرح لوگ اس کو عزت و تکریم اور جاہ و جلال کا زریعہ سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے کیا کیا سفارشات اور پیشکشیں کرتے ہیں ۔ اور پھر انتظامیہ اور عدلیہ کے آپس کے تعلقات اور ایک دوسرے سے فائدے اٹھانے کے قصے ہر کوئی جانتا ہے ۔

تو اس کا ذمہ دار ہم اپنی اجتماعی اخلاقی صورتحال سے لے کر اس   میں ملوث اور  ذمہ دار   ہرکردار کو ٹھہرا سکتے ہیں  ۔ اور جتنا جس کا کردار ہے لیکن زیادہ ذمہ داری عدلیہ پر ہی آتی ہے ۔ جن کے بارے یہ وعید سنائی گئی ہے کہ دو طرح کے قاضی جہنم میں جائیں گے جو یا تو اہلیت نہیں رکھتے یا پھر اہلیت کے باوجود فیصلے صحیح نہیں کرتے اور صرف تیسری قسم کے قاضی جو اہلیت بھی رکھتے ہیں اور فیصلے بھی انصاف پر مبنی کرتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے ۔ تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اخلاقی اعلیٰ اقدار  کو ہی اہمیت دی گئی ہے اور ہر ایک کو اپنی انفرادی حیثیت میں اپنا احتساب کرنے پر زور دیا  گیا ہے  کہ ہر کوئی انصاف کے عمل میں اپنی ذمہ داریوں اور اس معاملے کی نزاکت کی نوعیت کو سمجھے اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس سے انصاف نہیں ہو سکے گا تو وہ اس منصب کو لینے سے اجتناب کرے اور اسی لئے اعلیٰ اخلاق کے لوگ  کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو دور رکھیں ۔  

ہفتہ، 13 اگست، 2022

چودہ اگست کا دن ایک خواب کی تعبیر ہے(2)


چودہ اگست کا دن ایک خواب کی تعبیر ہے(1) 

ہماری غلامی کے ایک نئے دور کا آغاز آزادی کا ہنی مون منانے سے بھی پہلے شروع ہوگیا تھا جب ہمارے محسن عالمی مالیاتی اداروں کے باہر کشکول ہاتھ میں لئے قطار میں لگ گئے تھے ۔ پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں آکر ہماری قسمت کو خریدا اور اب ایک آزاد ریاست کے طور پر ہم اپنی آزادی کو رہن رکھنے خود ان کے پاس پہنچ گئے ۔

آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم بھاری سود اور سخت شرائط پر قرضہ کے حصول کو ہی اپنی ساری توانائیوں کا شاخسانہ سمجھتے ہیں ۔ آج ہماری قابلیت کے اعلیٰ ہونے کا انحصار حصول قرض ہے تو اندازہ لگا لئجیے ہماری آزاد اور خود مختار سوچ کا ۔ ہمارے قومی مالیاتی ادارے اپنی آزاد سوچ کے ساتھ کوئی پالیسی نہیں بنا سکتے ۔ یہاں تک کہ قرض میں لی گئی رقم بھی ہم اپنی مرضی سے استعمال نہیں کرسکتے ۔ اس سے بڑھ کر شرمناک غلامی اور کس کو کہتے ہیں ۔ اور ہمارے موصوف معاشی ماہرین آج قرضوں کے حصول کو ناگزیر سمجھتے ہی نہیں بلکہ ایمان کی حد تک یقین بھی رکھتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ہم اس چنگل میں اس طرح سے جکڑے جا چکے ہیں کہ ہمیں پچھلے قرضوں کی قسطیں دینے کے لئے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں اور یوں یہ قرضوں کی ترقی کا عمل پوری وسعت کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔  

جب ہم آزاد معاشی پالیسی نہیں بنا سکتے تو پھر حقیقی آزاد ریاست کہنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ ایک بات اور جو مشاہدے میں آتی ہے وہ یہ ہے یہاں افراد ریاست سے زیادہ مضبوط نظر آتے ہیں ۔ جس طرح پرصغیر میں اپنی وفاداریوں کے بدلے نوازشات لے کر ایک قانونی شکل کے تحت اپنے آقاؤں کے سردار غلاموں نے اپنی ہی قوم کو یرغمال بنا لیا اسی طرح آزادی کے بعد اسی ڈگر پر چلتے ہوئے صاحب اختیار ، صاحب اقتدار قومی وسائل کی تقسیم میں نقب زنی لگا کر اس کو قانونی تحفظ فراہم کرتے رہے اور آج نوبت یہ آن پہنچی ہے کہ ایک ریاست کے اندر دو ریاستیں بن چکی ہیں ۔ عوام غریب ہوتی چلی جارہی ہے اور مراعات یافتہ طبقے کی حوص پوری ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔

معاشروں کے اندر مساوات ہی وہ بنیادی اثاثہ ہوتا ہے جو عوام کے اندر خود اعتمادی ، انصاف پر اعتماد اور اندرونی و بیرونی خطرات کے خلاف ڈھال بننے کے جذبے کا موجب بنتا ہے ۔ اور جب مساوات نہیں رہتی تو پھر معاشرے تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

مفاد پرست طبقوں کی ان ناانصافیوں نے معاشرت ، سیاست ، حکومت اور صحافت سب کچھ تباہ کردیا اور اب صورتحال یہ ہےکہ لٹ مار کا ایک بازار لگا ہوا ہے ہر کوئی ایک دوسرے کو لوٹ رہا ہے ۔ ہر کوئی بدعنوانی کے سرکل میں گھوما جارہا ہے ۔ ایک طرف سے لوٹ رہا ہے تو دوسری طرف سے وہ لوٹا جارہا ہے ۔

اس ناانصافی در ناانصافی کی پہلی وجہ تو ناانصافی ہی کی پیداوار وہ طبقہ ہے جن کو اپنے مفادات سے غرض ہے اور ان کو کوئی بھی دور ہو ، آمریت کا ہو یا جمہوریت کا وہ اس کا حصہ رہے ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کرتے رہے ہیں ۔

دوسری وجہ ہماری سوچ ہے جو قومی نہیں بن سکی جس کا میں اکثر ذکر کرتا رہتا ہوں جو قوموں کے عوامی انقلاب کا سبب بنا کرتی ہے اور ان ناانصافیوں کے خلاف ایک ڈھال کی بنیاد کا کام دیتی ہے ۔ ظلم کے خلاف للکار بن کر اٹھتی ہے اور عوامی نمائندوں اور حکومتوں کے اندر جوابدہی کا خوف بٹھا دیتی ہے اور بڑے بڑے آمر حکمرانوں کو ناکوں چنے چبوا دیتی ہے ۔ اور یوں ملکوں کے نظام حکومت درست سمت چل پڑتے ہیں ۔

اس کے علاوہ ذیلی وجوہات میں احتساب کے عمل کا کمزور ، غیرشفاف اور جانبدار ہونا ہے جس سے انصاف کی بجائے ناانصافیوں کو مزید تقویت ملتی ہے ۔ اس کے علاوہ وہ قومی بے وقوفیاں ہیں جن کا ہم اکثر پرچار تو کرتے ہیں مگر ان کا سدباب نہیں کر سکے اور بار بار ان ظلمتوں کا شکار ہوتے رہے حتیٰ کہ یہ آج بھی جاری ہیں ۔  

جھوٹ کی سیاست نے اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔ جس طرح سے آج سوشل میڈیا پر ملکی اداروں کو نشانہ بنا کر بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انتہائی قابل مذمت ہے ۔ ماضی میں بھی جھوٹے بیانیوں سے عوام کو گمراہ بنا یا جاتا رہا ہے مگر موجودہ دور کی سوشل میڈیا کی تباہیوں نے تو حد ہی کر دی ہے ۔

ایک نظریاتی ریاست کے اندر اگر آج بھی سیاسی قیادت جھوٹ کا سہارا لے رہی ہو تو پھر حالات کا بدلنا ابھی حقائق سے بہت دور ہے ۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ابھی ہماری قوم اس قابل نہیں ہوئی کہ اچھی قیادت مہیا کر سکے ۔ اور نہ ہی وہ صلاحیتیں رکھتی ہے کہ اچھے اور برے کی تمیز کرکے بہروپیوں کی حوصلہ شکنی اور جھوٹ کی سیاست کا خاتمہ کر سکیں ۔

ہمیں یہ ملک چونکہ بغیر محنت اور قربانیوں کے مل گیا ہے اس لئے ہمیں آزاد ریاست کی اہمیت کا اندازہ نہیں اور جنہوں نے محنت اور قربانیاں دی ہوئی تھیں وہ اب رہے نہیں اور نہ ہی ہم نے ان کے ساتھ اوران کے نظریے کے ساتھ وفا کی ہے ۔ اگر کسی نے آزادی کی قیمت اور اہمیت کا اندازہ لگا نا ہے تو کشمیریوں ، برما اور فلسطین کے مسلمانوں سے پوچھیں ۔  


جمعہ، 12 اگست، 2022

پاکستان کی سیاست سنجیدگی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔

ہماری سیاست کئی سالوں سے جس نہج پر چل رہی تھی وہ شائد اب ممکنات سے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی تھی اور سہولتیں کمزوری محسوس ہونے لگ گئی تھیں ۔ جرات اپنی حدیں عبور کرکے غلط فہمیوں میں سول نافرمانیوں کی طرف اور جمہوریت کی عار میں ملکی سالمیت کی ڈومین کو متاثر کرنے کی کوششیں جاری ہوچکی تھیں ۔

اس کی کیا وجوہات ہیں یا یہ کس کی ایما پر ہورہا تھا یہ فیصلہ تو تاریخ کرے گی مگر ملکی سیاسی صوتحال سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہر کوئی محتاط لگ رہا ہے ۔ سیاسی وفاداریاں اپنا رنگ بدلنا شروع ہوگئی ہیں جس سے معاملہ سنجیدہ ہونے کی طرف شواہد مل رہے ہیں ۔

شہباز گل کی گرفتاری کے بعد اے آر وائی نے بھی مذمت کردی اور تحریک انصاف کے سربراہ نے بھی گرفتاری کی مذمت تو کی ہے مگر شہباز گل کے بیانیے پر اپنا موقف واضح نہیں کیا ۔ تحریک انصاف کا ٹرولنگ ونگ کی طرف سے اس پر وضاحت کی بجائے اپنے مخالفیں کے ماضی کی بیان بازیوں کی تشہیر کے زریعے سے جواز ڈھونڈنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جو ابھی بھی سمجھتے ہیں کہ وہ قانون کی پہنچ سے دور ہیں وہ تو اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں مگر جن کو قانون کا بدلتا رنگ نظر آرہا ہے ان کا سافٹ وئیر بدلا بدلا لگ رہا ہے ۔

تحریک انصاف کا ایک دبنگ سپوک پرسن گرفتار ہوگیا ہے جبکہ دوسرے ان کے بیان کو جماعت کا بیانیہ ماننے سے انکاری ہوگئے ہیں بلکہ  تاثر حیران کن صورتحال سے دوچار ہے ۔ جناب محترم فواد چوہدری صاحب نے تو شہباز گل کی بجائے خود اور حبیب کے تحریک انصاف کا سپوک پرسن ہونے کا اعلان کرتے ہوئے عوامی رائے کو بدلنے اور حکومت کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کی ہے کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ شہباز گل تحریک انصاف کا سپوک پرسن ہے ہی نہیں ۔

مگر حکومت ، قانون اور انصاف اتنا بھولا بھی نہیں کہ جب حساب چکانے کا وقت آیا ہے تو وہ بھول بھلیوں میں پڑ جائے ۔ کون نہیں جانتا کہ شہباز گل ہی عمران خان کو پرنسپل سیکرٹری تھا مگر شائد اب اس کی قربانی کے بعد ان کو احساس ہوا ہے کہ یہ قربانی تو قانونی طور پر جائز ہی نہیں  تھی تو انہوں نے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں ۔ لیکن شائد وہ بھول گئے ہیں کہ اس طرح جان چھڑوانے کی بجائے جان مزید پھنسنے کا خطرہ ہے ۔

جس کا آغاز یوں ہوگیا ہے کہ مبینہ طور پر یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ شہباز گل بھی تحریک انصاف اور قائدین کی نیت کو بھانپ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے کچھ کچھ سچ اگلنے شروع کردئیے ہیں ۔ اور اس طرح تحریک انصاف لگتا تھا کہ جو خود کو اداروں کو بلیک میلنگ کے زریعے سے فوائد اٹھانے کی کوشش کررہے تھے اب دفاعی صوتحال سے دوچار ہیں ۔ ابھی واضح صورتحال تو اس وقت سامنے آئے گی جب شہباز گل اپنا جوڈیشل بیان ریکارڈ کروایں گے ۔

اسی طرح کچھ اور خبریں بھی گردش کررہی ہیں تحریک انصاف کو سہولیات کا زریعہ بننے والے صحافت پیشہ لوگ بھی پریشان پریشان ہیں اور ریسکیو کے طریقے ڈھونڈنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں جن میں چند جیسا کہ ارشد شریف کے بارے یہ بات چل رہی ہے کہ وہ پشاور ائیرپورٹ سے دبئی کی طرف روانہ ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں ، اپنے تاؤ پیج کھینا شروع ہوگئے ہیں ۔ جس سے لگ رہا ہے کہ سیاسی تھرما میٹر دردہ حرارت کے بدلا بدلا ہونے کا اشارہ دے رہا ہے ۔

تو یوں اب پاکستان کی سیاست میں ایک نئی لہر چل پڑی ہے اور ماضی کی تاریخ کے پیش نظر جیسے جیسے ضرورت پڑے گی نئے نئے انکشافات اور شواہد نیند سے بیدار ہونا شروع ہوجائیں گے اور اگر تو کہیں سے ریسکیو کی کوشش شروع ہوگئی تو پھر کئی کردار محفوظ راستہ ملنے سے اپنے اپنے مستقبل کی پناہ گاہوں کی طرف روانہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس کا مکمل واضح منظر نامہ آہستہ آہستہ سامنے آئے گا ۔

پرویز الہی صاحب کی بیانات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ان کو صورتحال کا معلوم ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ جیسا کہ میں نے اپنے پچھلے کالم یہ کہا تھا کہ وہ ایک منجھے ہوئے اور وضعدار سیاستدان ہیں ان سے عثمان بزدار والی سیاست کی توقع نہیں کی جاسکتی تو وہ اشارے آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ ان کو حکومت سازی کی یقین دہانی یک طرفہ نہیں بلکہ متعدد طرفہ ہوسکتی ہے لہذا ان کو کسی بھی طرف سے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ اس وقت پاکستان کی سیاست کے دھارے کو بدلنے کا اہم مہرہ ہونگے ۔ ان کی سیاست کو دیکھ کر پاکستان کی سیاست کے اتار چڑھاؤ اور بدلتے رنگوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

تحریک انصاف نے اپنی پالیسی کی وجہ سے فی الحال تمام زرائعے ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مفلوج کر لیا ہے میں تحریک انصاف اورعمراں خان کو یہ ان کے رویے اور مواقعوں کے بارے اپنی سیاسی سوجھ بوجھ اور تجربے کی روشنی میں آگاہ کرتا رہا ہوں ۔ مگر انہوں نے کیا معلوم کن تسلیوں یا وژن کی بنیاد پر جارحانہ سیاست کو جاری رکھا ہوا تھا جس کی پاکستانی قومی ، اخلاقی اور سیاسی اقدار میں جگہہ نظر نہیں آرہی تھی ۔

اب تحریک انصاف کے بارے کئی نئے انکشافات اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سے ان کے مطالبات میں بھی وہ پہلے والی شدت نہیں رہی ۔ وہ اپنی انتخابی کمپین کو تو جاری رکھے ہوئے ہیں مگر نئے انتخابات کا مطالبہ جیسا کہ میں نے پچھلے کالم میں بھی کہا تھا کہ ان کے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے سے سردمہری کا شکار ہوتے جائیں گے ۔

معاشی صورتحال کا بہتر سمت میں متحرک ہونا بھی اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہورہا ہے اور عالمی سطح پر بہتری بھی آنا شروع ہوگئی ہے ۔  اور نواز شریف کی واپسی کی خبریں بھی اسی تبدیلی کا حصہ ہیں ۔

اب یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں کہ عمراں خان نواز شریف سے بے نظیر اور نوازشریف کے میثاق جمہوریت طرز پر کوئی معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہاں سے انکار ہوگیا ہے اور وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ میں عمران خان کے سیاسی رویہ کی طرف اشارہ بھی کرتا رہا ہوں اور اب ان کا اپنا رویہ ہی ان کی سیاست کو بچانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جارہا ہے جو انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں اور اداروں کےساتھ اپنا یا ہوا تھا ۔

اب امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی سیاست سنجیدگی کی طرف بڑھے گی اور موسمی کردار اپنے ٹھکانوں کی طرف بڑھنے کے لئے متحرک نظر آنے شروع ہو جائیں گے ۔ اور ایک دفعہ پھر سے جمہوریت کو توانا کرنے کا موقعہ ابھرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ اب یہ سیاستدانوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، جمہوریت کو درپیش خطرات کو کم کرنے یا ختم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں مگر موجودہ حکمت عملیوں سے تو اس کے ابھی تک واضح خدوخال نظر نہیں آرہے ۔ لیکن امید ابھی موجود ہے کیونکہ  مجبوراً ہی سہی جمہوریت کی ضرورت کا احساس انگڑائیاں لیتا ہوا نظر آرہا ہے ۔   

جمعرات، 11 اگست، 2022

عمران خان نااہل ہوچکے بس فیصلہ سنایا جانا باقی ہے؟

 

اگر الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں دیکھا جائے تو بادی النظر میں عمران خان اور ان کی جماعت  کے بچنے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی کیونکہ ایک تو ان کی سربراہی میں ان کی جماعت پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوچکی ہے جبکہ عمراں خان اس فنڈنگ کے صحیح ہونے کی تصدیق کرتے ہیں ۔ جوجھوٹ ثابت ہوچکا ہے اور یہ بیان حلفیہ ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ باسٹھ تریسٹھ کی رو سے جھوٹ بولنا ہی کافی ہے ۔

جہاں تک حساب میں جمع تفریق کا تعلق ہے وہ تو اکاونٹ کے متعلق ماہرین کی معلومات پر اکتفا کرتے ہوئے عمران خان نے سرٹیفکیٹ دیا ہوگا مگر مالی بے ضابطگیوں اور ممنوعہ زرائعے سے وصول ہونے کے کچھ شواہد ایسے ہیں جن سے انکار ممکن نہیں جس پرحتمی فیصلہ عدالت ثبوتوں کی روشنی میں  کرے گی کہ ان کی نااہلی بنتی ہے یا نہیں مگر سوشل میڈیا کی اکثریتی رائے سے یوں لگتا ہے کہ وہ نا اہل ہوچکے ہیں بس فیصلہ سنایا جانا باقی ہے ۔

اس پر قانونی ماہرین کی آراء میں جس طرح سے ہماری عدالت عالیہ نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے میں انصاف کا معیار قائم کیا ہوا ہے اس کی روشنی میں تو عمران خان کے بچنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں مگر تحریک انصاف کے قائدین جس دیدہ دلیری سے دعویٰ کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ حسب معمول اپنی صادق اور امین ہونے کی عدالتی سند پر پوری طرح سے مطمئن ہیں ۔

یہ ان کے خلاف نااہلی کا پہلا مقدمہ نہیں بلکہ کچھ اپنے منظقی انجام کو پہنچ چکے ہیں اور کچھ زیر التوا بھی ہیں جن میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت کی طرف سے مشہورزمانہ عمران خان کی مبینہ بیٹی ٹیرن وائٹ کا معاملہ بھی ہے جسے وہ دستاویزی طور پر ماننے سے انکاری ہیں مگر عملی طور پر وہ انکے سابقہ سسرال اور ان کے بچوں کے نگہبان گولڈ سمتھ  خاندان کی کفالت میں ہے ۔

ہمارے عدالتی ماحول میں قانونی کے عطا کردہ صوابدیدی اختیارات کے حاوی ہونے کا تاثر ملتا ہے جس نے ہمارے نظام عدل کو بری طرح سے متاثر کیا ہوا ہے اور انصاف کا گراف عالمی سطح پر انتہائی نیچے جا چکا ہے ۔

الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے کئی سیاستدان نااہل ہوچکے ہیں مگر اصل معاملہ متعلقہ کیس میں موجود شواہد سے ثابت کرنے کا ہے ۔ وگرنہ تو کئی اور بھی ایسے معاملات اور شواہد موجود ہوتے ہیں جن سے جھوٹ ثابت ہوتا ہے ۔ ان میں کچھ معاملات علیحیدہ سے مقدمات میں زیر التوا ہوتے ہیں اور جب تک ان کا فیصلہ نہیں آجاتا ان معاملات کو بھی زیر بحث نہیں لایا جاسکتا اور اگر ان کو زیر بحث لانا ہوتو پھر ان کو دعویٰ میں شامل بھی کرنا ہوتا ہے ۔  

سیاسی مبصرین کے اندازے اور پشینگوئیاں ابھی تک بھٹکی ہوئی ہیں اور انہیں کوئی واضح منزل نہیں مل رہی اس کی وجہ ماضی کے وہ فیصلے ہیں جن کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے لئے انصاف کا جو معیار رہا ہے ان سے سزا کے اشارے نہیں ملتے ۔ جیسا کہ مزکورہ کیس کا فیصلہ ہوتے ہوتے بھی آٹھ سال لگ گئے ۔ تو اس طرح کی نوعیتیں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں ۔

دراصل عمران خان عجلت میں اپنے لئے خود مسائل پیدا کرتے جارہے ہیں وگرنہ جتنا ان کے ساتھ نرم رویے سے برتاؤ کی جاتا رہا ہے بلکہ ابھی بھی کیا جارہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ کچھ ماہرین تو موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی ان کو دوبارہ حکومت میں لانے کے لئے ہر طرح کا تعاون میسر ہے ۔ بہرحال یہ سب تو تبصرے ہیں جن کا صحیح فیصلہ وقت کرے گا ۔

پچھلے چند دنوں کی سیاست سے یہ لگتا ہے کہ نہ صرف مرکزی حکومت کی طرف سے جارحابہ رویہ اپنایا گیا ہے بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے بھی اداروں پر حملے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ جس طرح کہ ایک دن قبل ڈاکٹر شہباز گل نے اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے ایک بیان دیا جس پر فوج کے اندر بغاوت پر اکسانے کے الزامات لگائے جارہے ہیں اور شہباز گل کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور خبروں کے مطابق انہوں نے یہ اعتراف بھی کرلیا ہے کہ عمران خان کے کہنے پر انہوں نے یہ بیان جاری کیا تھا ۔

ادھر سے حکومت نے بھی کل پریس کانفرنس میں کچھ اسطرح کے مبینہ الزامات کا اظہار کیا ہے جس میں یہ سب کچھ باقائدہ مشورے سے کیا گیا ہے ۔ اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس کے پیچھے کیا سیاسی چالیں کارفرما ہیں اور تحریک انصاف اس سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے اس کا تعلق گرفتاریوں سے عوامی ہمدردی بھی ہوسکتا ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ ان گرفتاریوں سے وہ عوامی دباؤ کو بڑھا کر عمران خان کی گرفتاری سے دھیان ہٹانا چاہتے ہیں اور سیاسی معاملات کو کشمکش میں مبتلاء کرکے کسی درمیانی راستے یا ڈیل کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہوں ۔

حکومت بھی مجبوراً یا شوقیہ جن حالات کا سامنا کررہی ہے وہ نہ تو ان کے حق میں ہیں اور نہ وہ موجودہ صوتحال میں ان کو نظر انداز کر سکتی ہے ۔ کیوںکہ اگر وہ ان کو نظر انداز کرتی ہے تو ان کے لئے مزید خرابی پیدا کرسکتے ہیں ۔  

لیکن یہ طریقہ کار ملک و قوم کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوگا ۔ سیاسی عدم استحکام سے معیشت  متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے ۔

عمران خان کو نئے بیانیے سے جو پزیرائی ملی تھی اس کو سنبھال نہیں پائے اور اداروں پر بے جا تنقید سے نقصان کر بیٹھے ہیں ۔ شہداء کے بارے جس طرح سے سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز رویے کا اظہار کیا گیا وہ کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں اور اب عوام میں بنا بنایا کھیل خراب ہوتا جارہا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر تمام کے تمام مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں جو ان کی بھول ہے ۔ اب انکو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی اگر تو یہ سب کچھ ان کی مرضی کے خلاف ہوا ہے تو اس کی مذمت کریں اور اگر ان کے علم میں ہے تو پھر اس پر معزرت کرنی چاہیے اور قانونی کاروائی کےلئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیے ۔

اب حکومتی جماعتیں بھی اپنے اندازوبیان سے اداروں میں برابری کی بنیاد پر برتاؤ کی راہ کو ہموار کرنے میں کامیاب نظر آرہی ہیں ۔

میں ذاتی طور پر سیاسی جماعتوں کے عہدیداران کے جرائم کی صورت میں ان کی نااہلی کا قائل ہوں مگر سیاسی جماعتوں پر پابندی سے عوامی نمائندگی کے متاثر ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف ہوں ۔  

شہباز گل نے جو بھی کہا ہے اگر اس میں فوج کی طرف اشارہ نہ ہوتا تو یہ نہ صرف معمول کی سیاست تھی بلکہ قانونی اعتبار سے کوئی بھی حکومتی اہکار غیرقانونی حکم کو ماننے کا پابند نہیں یہ ایک قانونی رائے یا اظہار رائے کے حق کا استعمال بھی ہوسکتا ہے مگر آئین ہی اس کی حدود وقیود بھی متعین کرتا ہے جس کو عبور کرنے سے قانون کی گرفت بھی لاگو ہوجاتی ہے ۔

جب ملکی سالمیت کے اداروں کے اندر حکم عدولی کی بات کی جائے تو یہ ایک علیحدہ سے جرم کے ضمرے میں آتا ہے ۔ اور اس پر اے آر وائی نے بھی مذمت کر دی ہے ۔ ان کا یہ موقف ہے کہ ان کو کسی کے خیال کا تو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہنے جارہا ہے ۔ مگر شہباز گل کے مبینہ بیان میں تو انہوں نے اظہار کیا ہے کہ ان کو یہ بتایا گیا کہ ان کو بیان دینے میں کوئی خلل نہیں ڈالا جائے گا۔ جس سے لگتا ہے کہ یہ سب ملی بھگت سے ہی ہوا ہے ۔ جو واقعی قابل تشویش اور قابل مذمت ہے ۔

لیکن یہ بیان ایکسٹرا جوڈیشل ہے اور اب شہباز گل کو عدالت میں پیش کردیا گیا ہے ۔ دیکھیں وہ وہاں مجسٹریٹ کے سامنے جو بیان دیتے ہیں قانونی اعتبار سے وہ زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا ۔ جب کہ دوسری طرف تحریک انصاف کی طرف سے بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کا بیان جماعت کا پالیسی بیان نہیں بلکہ ان کا اپنا ذاتی خیال ہے ۔

اگر حکومتی دعوے اور شہباز گل کے مبینہ ایکسٹرا جوڈیشل بیان کے مطابق جماعت میں مشورے سے یہ بیان دینے کے لئے کہا گیا تھا تو میرا شہباز گل سے سوال ہے کہ وہ دوسروں کو تو مشورے دیتے ہیں کہ وہ کسی کے غیرقانونی اور غیر آئینی اقدام کو ماننے کے پابند نہیں مگر خود ایک ایسی غلطی کر بیٹھے ہیں جس سے ہر کوئی جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ توپھر کہاں گئی ان کی اپنی سوجھ بوجھ ، اخلاقی ذمہ داریاں اور اسلامی تعلیمات کا علم ۔

 

میگزین