سوچ کی غذا

پیر، 16 دسمبر، 2024

عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ جائز مطالبات کے لئے آواز اٹھانا، احتجاج کرنا اور ریلیاں نکالنا سیاست اور جمہوریت کا حسن ہی نہیں بلکہ یہ عوام اور سیاسی جماعتوں کا جمہوری اور بنیادی حق ہے مگر ان میں ملک و قوم کے مفادات سے ہٹ کر ذاتی مفادات، ضد اور انتقامی جذبے کا شامل حال ہو جانا ان کی اہمیت کو ختم کر دیتا ہے۔ اور اسی طرح اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو مایوسی، بددلی اور انصاف کو طاقت کے ذریعے سے حاصل کرنے کی جستجو سیاست اور جمہوریت کو فائدہ دینے کی بجائے اسے جتھوں کی سیاست کا شکار کر دیتی ہیں جو معمول ہمارے ملک میں پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھنے کو مل رہا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے معاشی بدحالی، انتہا پسندی اور دہشت گردی جنم لے کر ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔

اگر ہم جمہوریت کی تاریخ اور دور جدید میں کامیاب جمہوری نمونوں کا مطالعہ کریں تو اس کی مثالیں ہمیں نارتھ امریکہ اور یورپ میں ملتی ہیں جن میں سر فہرست ہم سکینڈی نیوین ممالک کو دیکھتے ہیں اور وہاں پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات بہت واضح ملتے ہیں جس سے اس حقیقت کا پتا چلتا ہے کہ جمہوریت سے فائدہ اٹھانے کے لئے عوام کے اندر ان دو خوبیوں کا ہونا ناگزیر ہے۔

ہم جمہوریت کے نعرے بھی لگاتے ہیں اور اس کی طرز پر انتخابات کا ڈرامہ رچا کر حکومتیں بھی تشکیل دے لیتے ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ڈکٹیٹر بھی ریاست کا نظام سنبھالے تو اس کو بھی اپنی آمریت کو جمہوریت کی کوئی نہ کوئی شکل دینی ہی پڑتی ہے جو عالمی سطح پر تعلقات کو بحال رکھنے کے لئے ہماری مجبوری ہیں لیکن ہم نے کبھی جمہوریت پر نہ تو یقین رکھا ہے اور نہ ہی اس کو حقیقت میں پنپنے بڑھنے دیا ہے۔

اس دوغلی جمہوریت کی سیاست میں بھی ہمیں جو تسلسل کے ساتھ سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ فلاں سیاسی قائد نے عوام کو شعور دیا ہے خواہ وہ خود آمریت ہی کی پیداوار ہو، وہ خود اقتدار تک جمہوریت نہیں بلکہ آمرانہ مفادات اور کوششوں ہی کی بدولت پہنچا ہو۔ اگر کسی نے عوام کو سیاسی شعور دیا ہوتا تو آج اس ملک و قوم کی یہ حالت نہ ہوتی۔ یہ شعور ہی کی خرابی ہے کہ عوام ان مفادات پرست مداریوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے۔ دراصل یہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے میڈیا کے ذریعے رائے ہموار کر کے عوامی جذبات کے اندر اپنی ہمدردیاں حاصل کی گئی ہوتی ہیں یا عوام کی بنیادی ضروریات کے پورا کرنے کا جھانسہ دے کر ان کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے جسے شعور کا نام دے کر عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھا گیا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریت سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھائیں تو ہمیں جمہوریت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کو اصلی حالت میں ان کی شمولیت کے ذریعے سے عوامی شعور کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ وہ صحیح سیاسی قیادت کو پہچان سکیں۔

سیاسی شعور اس کو کہتے ہیں جس کے اندر اگر مخالفین میں بھی اچھا کردار ہو تو اس کی تعریف، حوصلہ افزائی اور حمایت ملے اور اگر اپنا بھی کوئی غلط کر رہا ہو تو اس کی تنقید، حوصلہ شکنی اور مخالفت کی جائے۔ اگر تو یہ سیاسی شعور موجودہ عوامی آرا میں دیکھنے کو ملتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوام کے اندر سیاسی شعور پایا جاتا ہے اور اگر اس کے برعکس حمایت یا مخالفت کی بنیاد انا پرستی، سیاسی الحاق اور ضد ہے تو پھر اسے سیاسی شعور نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر جمہوریت سے مستفید ہو کر اچھے سیاست دان یا ریاست کے نظام کو چلانے کے لئے اچھے حکمران تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ اسے جمہوریت نہیں بلکہ کسی بد تہذیب معاشرے کے اندر جتھوں کے زور کی بنیاد پر اقتدار کے حصول کا نظام کہا جا سکتا ہے۔

عوامی شعور کو صحیح سمت دے کر جتھوں کی سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو ناصرف صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی ترغیب دی جائے بلکہ عملی طور پر ان کی آواز کو بامقصد بنانے اور انہیں اہمیت دینے کا عملی ماحول پیدا کیا جائے۔ ان کو جمہوریت کی بنیاد سیاسی جماعتوں سے لے کر وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کے عمل تک میں عملی طور پر شمولیت دے کر ان کے اندر شعور کو اجاگر کرنا ہو گا۔ اس کے لئے میڈیا کے علاوہ فنون لطیفہ اور ڈراموں و فلموں کے اندر بھی جمہوریت اور سیاست کو موضوع بنایا جا سکتا ہے۔

عوام کی طرف سے جائز اور آئینی مطالبات کو اہمیت دیتے ہوئے پارلیمان میں زیر بحث لا کر ان کو حکمت عملی سے منطقی انجام تک پہنچانے کی پالیسی بنائی جانی چاہیے۔ اگر کسی بھی مطالبے پر قومی اسمبلی کے کسی حلقے کے ووٹرز کی تعداد کے برابر عوامی تائید حاصل ہوتی ہے تو اسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایجنڈے میں شامل کر کے ان پر بحث کی جائے۔ اگر وہ عوامی مطالبہ آئین و قانون کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے تو اس کے پورا ہونے کا عملی ثبوت دیا جائے اور جو مطالبات غلط ہوں وہ خواہ کسی بھی جماعت کی طرف سے ہوں ان کے منفی پہلوؤں کو دلائل کی روشنی میں میڈیا پر آشکار کر کے قوم کے اندر با شعور رائے کو ہموار کرنے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے اور اگر کوئی جماعت اپنے مطالبات کو عدالت میں لے کر جاتی ہے تو اس کی کارروائی کو براہ راست دکھایا جائے اور اس پر قومی سطح کے غیر جانبدار آئینی ماہرین کا ایک پینل قومی میڈیا پر اپنی آرا دے تاکہ عوام کی شعوری اصلاح کر کے ان کی سوچوں کو صحیح سمت دی جا سکے۔

عوامی شعور کی اصلاح کے لئے پارلیمان اور اداروں کے ماحول کے اندر اس کی جھلک ملنی چاہیے۔ اس کے لئے سب سے پہلے سیاسی قائدیں خواہ ان کا اپوزیشن سے تعلق ہو یا حکومت میں شامل جماعتوں سے، ان کے خلاف ہر طرح کے زیر التوا مقدمات کی سپریم کورٹ یا ہائیکورت کے غیر متنازع اور غیر جانبدار ججز کے کمیشن سے سکروٹنی کروائی جانی چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ وہ تعصب اور سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں یا ان میں آئین و قانون کی خلاف ورزی کا کوئی مواد موجود ہے جس پر وہ ان کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کی رپورٹ جاری کریں تاکہ عوام کے اندر پائے جانے والے تعصبانہ اور سیاسی انتقام والے تاثر کو ٹھیک کیا جا سکے اور اس کا آغاز حکومت میں موجود جماعتوں کے قائدین کو اپنے آپ کو انکوائری تک پارلیمانی عہدوں سے علیحدہ ہو کر پیش کرنا چاہیے تاکہ عوام میں ان کے بارے اچھا تاثر پیدا ہو۔

سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین جمہوریت کا اثاثہ ہوتے ہیں اس لئے ان کے اندر بھی بہتری لانا انتہائی ناگزیر ہے جس کے لئے الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کی نگرانی کا کوئی میکنزم ہونا چاہیے جس کے تحت سیاسی قائدین کے بیانات اور قول و فعل کو آئین و قانون، جمہوریت اور سیاست سے ہم آہنگ بنانے کے لئے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے اور اس کا اپنی ویب سائٹ پر ایک ڈیش بورڈ لگائیں جسے تواتر کے ساتھ اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اس کی سالانہ رپورٹ کو پارلیمان میں پیش کیا جائے جس پر بحث کے بعد ایسے سیاست دان جو اپنے قول و فعل میں آئین و قانون، جمہوریت اور سیاست کی اساس کو جھوٹ، غلط فہمیاں اور بے بنیاد الزامات کی سیاست کرنے کے مرتکب پائے جائیں، پر پانچ سالوں کے لئے پابندی لگا دی جائے جسے اگر وہ تعصبانہ، غلط یا بے بنیاد سمجھیں تو الیکشن کمیشن میں ثبوتوں کے ساتھ وضاحت پیش کر کے ہٹوا بھی سکتے ہوں اور اس فیصلے کے خلاف عدالتوں میں جانے کا حق بھی موجود ہو۔ اس حکمت عملی سے سیاسی جماعتوں کے اندر با کردار سیاست دانوں کی گرفت کو مضبوط کرنے کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی شعور سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ جمہوریت کو محض سیاست دانوں کی نہیں بلکہ اچھے با کردار سیاست دانون کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی شعور اس قابل بھی ہونا چاہیے کہ اس سے یہ توقع رکھی جا سکے کہ عوام سیاست دانوں اور ان کے آباؤاجداد کے ماضی پر بھی نظر رکھیں تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ان کا خاندانی ڈی این اے کتنا جمہوری ہے اور ان کے سیاسی دعوے ان کے اپنے یا ان کے آباؤاجداد کے ماضی سے کتنی مطابقت رکھتے ہیں۔

اداروں کو سیاست سے پاک کر کے آئین و قانون اور عوامی فلاح و بہبود کا پابند بنانے کی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاست، جمہوریت اور حب الوطنی کے نام پر ذاتی مفادات کی آنکھ مچولی کا کھیل ختم کیا جا سکے۔ جب ملک کے انتظامی امور پر مامور افسران کے عمل سے عوامی فلاح و بہبور ہوتی ہوئی دکھائی دے گی تو یقیناً عوام کے دل میں ناصرف سیاست اور جمہوریت کی قدر بڑھے گی بلکہ پارلیمان کی بالادستی کا شوق اور جمہوری انقلاب کا جذبہ پیدا ہوگا جو آمریت کے خلاف جمہوریت کے لئے ڈھال ثابت ہوگا اور جب تک سیاسی جماعتوں، سیاسی قائدین اور ممبران پارلیمان کا اپنا کردار ان سے مطابقت کے معیار پر پورا نہیں اترتا ہوگا تب تک یہ سیاسی انتقام کے مکافات عمل سے جان چھڑانا ممکن نہیں اور یہ باریاں اسی طرح چلتی رہیں گی۔

اداروں کے سربراہان کے اندر عہدوں کی طلب اور طمع کے ماحول اور پارلیمان سے اس کی تائید کی سرتوڑ کوششوں کو شعور کی علامت قطعاً بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عہدے ذمہ داریوں کا نام ہوتے ہیں اور کوئی بھی با شعور انسان اگر ایمانداری، خدمت اور جوابدہی کی سوچ رکھتا ہو تو ذمہ داریوں کو وہ شوق سے قبول نہیں کرے گا چہ جائے کہ اس کو اس پر مجبور کیا جائے۔ یہ عہدوں کی طلب اور طمع ہماری قومی سطح کی عمومی صورت حال کی عکاس ہیں جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہمارے اندر احساس ذمہ داری ختم ہو چکا ہے۔ اگر یہ عہدوں کا شوق عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ہوتا تو آج ملک و قوم کی یہ حالت نہ ہوتی۔ آج بھی اگر قومی سطح پر اس کا شعور اجاگر ہو جائے تو ان عہدوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ملے گا، سب ان سے بھاگیں گے اور با کردار لوگوں کو مجبور کر کے عہدے دینے پڑیں گے۔ تب جو ماحول پیدا ہوگا اس میں احتجاج اور دھرنوں کی نوبت ہی نہیں آئے گی، محض کسی پر انگلی اٹھا دینا ہی اس کے منصب سے علیحدہ ہو جائے کے لئے کافی ہو گا اور نہ ہی کوئی محض جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کسی کی عزت کو اچھالنے کی کوشش کرے گا کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ اسے ثبوت دینا پڑیں گے یا پھر سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔

پیر، 7 اکتوبر، 2024

معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

 

اس وقت ملک عدم برداشت اور انتہا پسندی کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ کہیں سیاست کے نام پر بد تہذیبی تو کہیں مذہب کے نام پر اپنی نفسیاتی کمزوریوں اور جاہلیت کو مذہبی جواز بنا کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش سے ملک و قوم کو معاشرتی بگاڑ کے ذریعے نا قابل تلافی نقصان کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

چند دن قبل سندھ سے ڈاکٹر شاہنواز کو توہین مذہب کے الزام کے بعد جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا اور اس کی لاش کو اس کا وارثان سے چھین کر بے لگام ہجوم کی طرف سے جلانا توہین مذہب کی آڑ میں توہین انسانیت کا ارتکاب ہے جو انتہائی قابل تشویش بیمار معاشرے کی علامت ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، دو ہفتے قبل کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ میں پولیس کی حفاظت میں ملزم کی جان کا دشمن قانون کا رکھوالا اہلکار ہی بن گیا تھا۔

ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو ایک ہجوم کی جانب سے تشدد کر کے قتل کر دیا گیا اور وہاں بھی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔

رواں برس ہی مئی میں سرگودھا کے علاقے مجاہد کالونی میں ایک فیکٹری کے باہر زمین پر گرے مقدس اوراق کی نشاندہی پر کچھ ہی گھنٹوں میں حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے۔ اس واقعے میں بھی ملزم ہجوم کے تشدد کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔

فروری میں لاہور میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون پر اچھرہ بازار میں دوران شاپنگ اس کے لباس پر ڈیزائن کی وجہ سے مشتعل ہجوم کی جانب سے توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون کے لباس کے پرنٹ پر قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔

اس صورت حال میں اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی کی جانب سے بروقت کارروائی نے صورت حال کو ناصرف بگڑنے سے بچایا بلکہ خاتون کو بھی مشتعل ہجوم سے بحفاظت نکالنا ممکن بنایا۔ یہ واقعہ تو معاشرتی جہالت کی ایک بدترین مثال ہے کہ ہحوم جس کی راہنمائی باریش نام نہاد دین کے ٹھیکیدار عربی حروف کو قرآن سمجھ کر انسانی جان لینے کے درپے تھے۔

اگست 2023 میں پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں توہین مذہب کے الزام میں مسیحی آبادی پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں مشتعل ہجوم نے متعدد گرجا گھروں اور مسیحی عبادت گاہوں کے علاوہ 86 مکانات کو آگ لگائی اور ان میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔

2021 میں اسی نوعیت کا واقعہ سیالکوٹ میں بھی پیش آیا تھا جب ایک فیکٹری میں بطور مینجر کام کرنے والے سری لنکن شہری پریانتھا کو ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔

اسی طرح صوابی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ اور یونیورسٹی کے کچھ ملازمین پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ رسالت کے الزامات لگانے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

ان تمام توہین مذہب کے واقعات میں جو باتیں مشترک پائی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ان سانحات کی بنیاد غلط بیانی، غلط فہمی، اشتعال انگیزی، ذاتی رنجشیں اور بے بنیاد الزامات تھے جن میں ملزموں کو سنا تک نہیں گیا اور نا ہی ان کو اپنی وضاحت کا موقع دیا گیا جبکہ قانون اور انتظامی ادارے تحفظ دینے میں بری طرح ناکام رہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ صورت حال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے جس سے معاشرتی بگاڑ کی نشاندہی ہو رہی ہے اور اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ مرض گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ نہ لاشوں کو چھوڑا جاتا ہے اور نہ ہی قبروں کی حفاظت ممکن رہی ہے۔

سب سے بڑھ کر تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ کسی ملزم کو اپنی صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا گیا جو ریاست کے انتظامی امور میں ناکامی کی طرف اشارہ ہے۔ جب سزا یافتہ مجرموں کے گلے میں ہار ڈالے جائیں، ان کی قبروں پر دربار بن جائیں اور لوگ وہاں پھولوں کی چادریں چڑھانا شروع کر دیں تو پھر ریاست کے انتظامات، حکومت کی رٹ اور عدالتوں کے نظام انصاف پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں جس کا لا محالہ شہریوں کی نفسیات پر بھی اثر پڑتا ہے اور ان کے دلوں میں ریاست اور اس کے اداروں کی عظمت اور عزت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سیاسی اور مذہبی قائدین کے رویے اس حد تک غیرذمہ دارانہ ہو چکے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر قومی تشخص کو خراب کر رہے ہیں۔ جیسا کہ چند روز قبل ڈنمارک کی ایک عدالت کی طرف سے پاکستان کے دو مذہبی راہنماؤں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ جب سفارتی آداب اور قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے اداروں کے اہلکاروں اور سربراہان پر قتل کے فتوے صادر کرنا شروع کر دیے جائیں تو پھر ان کی سزاؤں کے لئے گواہیوں اور ثبوتوں کا سامان ان کی اپنی جذبات سے بھری حواس باختہ بڑھکیں ہی بن جاتی ہیں جن میں وہ قتل و غارت کو دین اور سیاست کے نام پر دوش دے رہے ہوتے ہیں۔ جوش خطابت میں ان کو نہ اپنی قومی اور مذہبی ذمہ داریوں کے تقاضوں کا احساس رہتا ہے، نہ دوسروں کے حقوق اور انصاف کے اصولوں کا تو پھر وہ نا صرف اپنی سزاؤں کے ثبوت فراہم کر رہے ہوتے ہیں بلکہ قومی تشخص کی تباہی کا بھی سبب بن جاتے ہیں۔

اقلیتیں تو پہلے ہی عدم برداشت اور انتہا پسندی والے رویوں سے انتہائی خائف تھیں، اب تو الزام تراشیوں کا رجحان اکثریتی مذہب اسلام کے اپنے ماننے والوں کے لئے بھی وبال جان بن چکا ہے۔ واقعات اور حقائق کی روشنی میں اگر اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق مذہبی پہلوؤں سے نہیں بلکہ تنزلی کا شکار ہماری اخلاقیات سے ہے جو ہمیں ایسے نا سمجھی اور جہالت کی طرز پر سانحات کا شکار کر رہے ہیں۔

یہ انتہا پسندی مذہبی حلقوں میں ہی نہیں، سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین سول نافرمانی کی تحریکیں چلاتے ہوئے شہریوں کو لے کر اداروں اور قومی املاک پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ترغیبیں اور ہلا شیری کو سیاسی اور جمہوری جدوجہد کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ریاستی وسائل شہریوں کے امن و سلامتی پر استعمال ہونے کی بجائے سیاسی اور ذاتی مفادات، انتقامی معاملات اور باہمی اختلافات کے لئے استعمال ہونا شروع ہیں۔

پھر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دے، پولیس ایسے ملزمان کو جعلی مقابلوں میں مارنا شروع کر دے، سرکاری عہدے داروں کی حفاظت پر مامور ریاست کے سکیورٹی ملازمین ہی ان کی جان لینے کے درپے ہو جائیں تو ایسے میں سیاسی استحکام کے لئے قانون سازیوں یا اس پر عمل درآمد سے زیادہ اس کی وجوہات پر تحقیق اور معاشرے کے نفسیاتی علاج سے معاشرے کی مثبت تشکیل کی طرف توجہ دے کر عدم برداشت کے رویے کی اصلاح کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تاکہ قانون، عمل درآمد کرنے والے اداروں اور عدالتوں سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کا ماحول پیدا کر کے عدم استحکام کی وجوہات کو ختم کیا جا سکے۔

عوامی نفسیات کی اصلاح کی غرض سے ان کے شعور میں گھس کر ان کی سوچ اور خواہشات پر سزا و جزا کے خوف کا قدغن لگانا پڑے گا تاکہ وہ ان انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے لئے آئین، قانون اور انتظامی امور میں اصلاحات اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس میں انتہا پسندی کی وضاحت کر کے اس کے لئے قانون کو حرکت میں لانا ہوگا اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی رجسٹریشن کے اداروں کو یہ اختیارات دینا ہوں گے کہ اس طرح کے سانحات میں ملوث لوگوں کا اگر کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق بنتا ہے تو ان کو خبردار کرنے کے لئے ان کو تنبیہ کے طور پر ان کی رجسٹریشن پر سرخ نشان لگا دیا جائے جس کا وہ اپنے جھنڈوں اور دوسرے لٹریچرز پر ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے تاکہ عوام کو یہ پتہ چلے کہ اس جماعت کے کارکنان انتہا پسندی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

جہاں عوام کے سیاسی الحاق اور جماعتوں کی مقبولیت کے لئے سروے کروائے جاتے ہیں وہاں یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ کون سی سیاسی جماعت جمہوریت اور کون سی مذہبی جماعت مذہب کے نام پر عدم برداشت کو فروغ دینے میں ملوث ہے اور ان کی سرگرمیاں اور انسانی جانوں سے کھیلنے کا مکروہ فعل سیاست اور مذہب کو استعمال کر کے ملک و قوم اور مذہب کو بدنام کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

قومی سطح پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور علماء کی ایک کانفرنس بلائی جائے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں برداشت، بھائی چارے، رواداری، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت، قانون کی پاسداری، انتظامی امور میں ریاست کے سربراہ کی اطاعت پر محیط قومی سطح کا بیانیہ مرتب کیا جائے جس پر تمام مکاتب فکر کی تائید کا تاثر موجود ہو اور اسے قومی نشریاتی اداروں کے ذریعے سے عام کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے اور اگر اس کے بر خلاف کسی علاقے سے عوام کو بھڑکانے یا ان کے ذہنوں کو خراب کرنے کی رپورٹس ملتی ہیں تو ایسے مولوی، عالم یا سیاسی قائد کی امامت، خطابت یا عوامی اجتماعات سے خطاب پر مستقل پابندی لگا دی جائے تاکہ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی خرابیوں کا بر وقت کوئی محاسبہ کیا جا سکے اور پھر بھی اگر وہ باز نہیں آتا تو اس کو پابند سلاسل کر دینا چاہیے۔

اس انتہا پسندی کے ماحول اور سوچوں کی فوری تحقیقات کے لئے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کی خصوصی تحقیاتی ٹیمیں بنائی جائیں جو جائے وقوعہ پر جا کر حقائق کی تہہ تک پہنچیں اور مؤثر اور تیز رفتار انصاف کی فراہمی کے لئے مقدمات کی کارروائی کے لئے وسیع تجربہ رکھنے والے ججز پر مشتمل ایک سپیشل عدالت قائم کی جائے جو روزانہ کی بنیاد پر براہ راست نشریات کے ساتھ ان مقدمات کی سماعت کرے اور اس کے فیصلوں پر فوری عمل درآمد بھی ہو تاکہ ایسے سانحات میں ملوث لوگوں کو عبرت اور معاشرے کے اندر خوف پیدا کر کے سدباب کو ممکن بنانے کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔


اتوار، 22 ستمبر، 2024

ججز کمیٹی سے متعلق نیا آرڈیننس سپریم کورٹ کے بندوبست کی نئی کوشش ہے

 


حکومت نے سپریم کورٹ کے معاملات کے متعلق آرڈیننس جاری کر کے بظاہر یوں لگتا ہے کہ کسی خاص بندوبست کا انتظام کیا ہے جس میں خاص طور پر پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184(3) کے کیسز کی سماعت کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں چیف جسٹس کے ساتھ دو سنئیرترین ججز شامل کئے گئے تھے جو یہ طے کریں گے کہ کون سا مقدمہ کس بنچ کے سامنے سماعت کے لئے لگایا جائے گا۔ جس کو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے معطل کر دیا تھا اور بعد میں قاضی فائز عیسیٰ کے چیف کے اختیارات سنبھالنے کے بعد اس مقدمے کی براہ راست فل کورٹ بنچ میں سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا کہ پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین کو عدالت ختم نہیں کر سکتی جس پر قاضی فائز عیسیٰ کو بہت سراہا گیا تھا لیکن اب اس کمیٹی میں آرڈینینس کے زریعے سے

دو سنئیر ترین ججز کی بجائے ایک سنئیر ترین جج کے علاوہ تیسرا جج چیف جسٹس کی مرضی کا شامل کیا جائے گا۔ جو پرانے چیف جسٹس کے اختیارات کی ایک جدید قسم کہا جا سکتا ہے کہ اب چیف جسٹس تنہا نہیں بلکہ ایک اپنے ہی ہم خیال جج کی ساتھ رائے کو شامل کر کے مقدمات پر فیصلوں کے بندوبست کی راہ ہموار کرے گا۔

اس آرڈیننس میں کچھ مثبت چیزیں بھی متعارف کروائی گئی ہیں جن میں مقدمات کی سماعت کا ترتیب سے کیا جانا،  184(3)  کے تحت دائر پٹیشنز کا مفادعامہ کے تحت ہونےپر سماعت اس پر اپیل اور سپریم کورٹ کی کاروائی کی سکرپٹ کا تیار کرنا خوش آئیند بات ہیں ان سے یقیناً سپریم کورٹ کے فیصلوں میں شفافیت آئے گی مگر اس میں کمیٹی کے متعلق رکھے گئے جز نے اس آرڈیننس کے پیچھے چھپے کسی خاص مقصد، خوف یا بندوبست کی کوشش کی طرف اشارہ دیا ہے جو یقیناً حکومت کی اخلاقی کمزوری ہے جس میں مبینہ طور پر عدالت عظمیٰ پر چیف جسٹس کے زریعے سے اپنی من مرضی کروانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ہی چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور پارلیمان کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ان پر عدم اعتماد کیا جارہا تھا جس کو اس آرڈنینس سے مزید تقویت ملی ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کے بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کے بندوبست کئے جاتے رہے ہیں اور ہم خیال ججز کا بنچ بنتے ہی فیصلے بارے پشینگوئیاں ہونی شروع ہو جاتی تھیں جو بعد میں سچ بھی ثابت ہوتی تھیں اور یوں سپریم کورٹ کے فیصلے اپنی اہمیت کھو بیٹھے تھے اور اگر پھر سے دوبارہ حکومت 184(3) کے تحت دائر کی گئی پٹیشنز پر مرضی کے بنچز بنوا کر فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی تو اس سے نہ صرف حکومت بلکہ عدلیہ کے متعلق پھر سے منفی تاثر پیدا ہوگا۔

اس صورتحال کے ججز خود بھی ذمہ دار ہیں کیوں کہ ججز کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابسطگی اور فیصلوں میں ان کی طرفداری سے ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے تک جاری رہا اور ایک خاص مقصد کے تحت ججز کی بھرتیاں، تعیناتیاں اور ترقیاں کی جاتی رہیں جس سے سپریم کورٹ کے اندر ہم خیال ججز کے گروپس کی تقسیم اور تفریق کے الزمات لگائے جاتے رہےاور ادارے کے اندر ججز کی آپس میں محازآرائی تک نوبت پہنچ گئی اور اس کی بنیاد کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ججز کے روابط کی وڈیوز بھی لیک ہوئیں اور ان کے بنچز پر اعتراضات اٹھائے جاتے رہے مگر انہوں نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا بلکہ ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ ججز کو حکومتیں بنانے اور ختم کرنے کے لئے آئین کی تشریحات میں تضاد پر مبنی فیصلے جاری کرنے پڑے جو عدلیہ کی تاریخ کا ایک بدترین مذاق بنا اور یوں آخر کار اس مرضی کے پنچز کی تشکیل سے فیصلے حاصل کرنے کے بندوبست کو توڑنے اور شفافیت لانے کے لئے بنچز کی تشکیل کے لئے کمیٹی بنائی گئی جس کو ہر سطح پر سراہا گیا مگر اب اسی کمیٹی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لئے آرڈینینس کا سہارا لیا جا رہا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خرابی کی اصل وجہ آئین، قانون یا پروسیجرز نہیں بلکہ ہماری اخلاقیات ہیں کہ ہم فیصلوں کو آئین و قانون، میرٹ اور شفافیت کے تحت کرنا اور ہوتا ہوا دیکھنا ہی نہیں چاہتے بلکہ ہمیں اپنے مفادات ان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں اور حالات کے مطابق ہمیں اپنے مفادات کی خاطر آئین میں ترامیم کرکے کبھی پروسیجرز کی تبدیلی کے زریعے سے تو کبھی سربراہ کی تبدیلی کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس کو کسی اچھی سوچ کے تحت کسی خاص سوچ یا وابسطگی رکھنے والوں کی طاقت کو کم کرنا بھی نیت ہو تو بھی اس کو پائیدار حل نہیں کہا جا سکتا۔

اس سارے ماجرے کے پیچھے ہماری قومی سطح پر سوچ و تربیت کا کردار تو ہے ہی مگر عدلیہ میں خرابی کی بنیادی وجہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی بھرتیوں کا طریقہ کار بھی ہے جس میں انکی تعلیمی صلاحیتوں اور کردار کو ملحوظ خاطر لانے کی بجائے ان کی سیاسی وابسطگیوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور ایسے ججز بھرتی کئے جاتے ہیں اور پھر ان کی سنیارٹی سے ہٹ کر سپریم کورٹ میں تعیناتی کی جاتی ہے جس کا مقصد ہی اس طرح کے بندوبست ہوتا ہے۔ جن ججز کی سیاسی وابسطگیاں ہوں ان سے غیر جانبدارانہ فیصلوں کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے پھر اس کے نتائج یہی نکلتے ہیں کہ ججز کی گروہ بندیاں ہوتی ہیں اور کوئی عمرانڈو جج کہلاتا ہے تو کوئی ہم خیال اب اس نئے آرڈینینس کے بعد یقیناً ججز کے گروہ کی کوئی نئی اصطلاح متعارف ہوگی اور انصاف اور ادارے کا ایک اور مذاق بنے گی۔

ادارے کی ساکھ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ججز پر آتی ہے انکو تعصب، وابسطگیوں اور جانبداری سے ماورا فیصلے دے کر اپنے ساتھ لگے ہوئے القابات اور اپنے اوپر اٹھائے جانے والے الزامات، خدشات اور سولات کا جواب اپنے فیصلوں کے زریعے سے دے کر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ جب وہ کسی بنچ کا حصہ بن کر مقدمہ سن رہے ہوتے ہیں تو ان کے تعلقات، پسند نا پسند اور طرفداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہی ہو سکتا اور ان کے فیصلے ان کی جگہ بول رہے ہوں۔ جب وہ میرٹ پر بلا خوف و وابسطگی آئین و قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ان سے ان پر لگائے گئے وابسطگی کے الزامات والوں کے خلاف فیصلے کریں گے تو پھر ان کی ایمانداری کی ضمانت ان کے مخالفیں بن جائیں گے اور اگر وہ اپنے تعلق والوں کو اپنے فیصلوں سے خوش کرتے رہیں گے تو پھر کل ان کی غیر جانبداری ایمانداری اور انصاف پر مبنی فیصلوں کی گواہی ان کے اپنے بھی نہیں دے سکیں گے کیونکہ جب وہ ان سے اپنے فیصلوں کا تھوڑا سا بھی رخ بدلیں گے تو وہ ان کو آڑے ہاتھوں لیں گے اور وہ خود ہی ان کی نا انصافیوں اور جانبداریوں کے ڈھنڈورے پیٹنے لگیں گے اور یہی سب کچھ ہمارے اداروں کے معاملات میں ہوتا رہا ہے جس سے ادارے آج اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں اور اگر ساکھ اندر سے خراب ہوئی ہے تو اسی کی بحالی بھی اندر ہی سے ممکن ہے جس کی واحد شرط اپنے آئینی حلف کی پاسداری ہے۔

ہفتہ، 31 اگست، 2024

قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔


پاکستان کو، اس کے سرکاری نام کی نسبت سے، عالمی سطح پر ایک اسلامی جمہوری ریاس کی پہچان رکھنے کا شرف حاصل ہے جس کی بنیاد اس کی آزادی کے حصول کی تحریک ہے جو آج بھی ہمارے آئیں کے دیباچے کا بنیادی جز ہے جس کے تحت پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں بنایا جا سکتا۔ یوں ہمارا آئین ہمیں قومی سطح پر اسلامی تشخص اپنانے کا پابند بھی ٹھہراتا ہے جس کا اطلاق کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اخلاقی و شرعی طور پر  ہی نہیں بلکہ  آئینی و قانونی لحاظ سے بھی قومی اور عالمی سطح پر اسلام کی روح سے ہم آہنگ تاثر کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہیں۔  جس کا احساس سرکاری سطح سے لے کر عوامی سطح تک اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس میں قانون کے اطلاق کو یقینی بنانے والے اداروں، اسلامی نظریاتی کونسل اور مذہبی حلقے کے علماء کا اہم کردار بنتا ہے۔

مگر ہمارے ہاں اس کےبرعکس سیکولر دکھنے کی کوشش ایک فیشن بنتی جارہی ہے جو ہماری اندر کی نفسیاتی کمزوریوں کی طرف نشاند ہی ہے جس کی بنیاد ہماری ان سوچوں کی عکاسی ہے جنہوں نے ہمارے اندر مذہب، تعلیم اور نظریات کی بنیاد پر گہری خلیجیں حائل کر رکھی ہیں۔ ہم اپنے اپنے شعبے، کام اور عمل میں خواہ سیاست ہو یا  رسومات مذہب کے نام پر اسلامی ٹچ تو دینا چاہتے ہیں لیکن عملی طور پر ہم اس کی تعلیمات پر عمل کو دقیانوسی سمجھتے ہیں جو ہماری معاشرتی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ہم مسلمانوں کی شناخت تو رکھتے ہیں مگر شخصیت نہیں۔ حالانکہ اسلام کی تعلیمات تو مثالی ہیں جو ایک مثالی معاشرہ اور جمہوری ریاست بنئے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں بشرطیکہ ہمیں اس کا ادراک ہو تو۔ ہم اگر اسلامی اصولوں کو اپنی جمہوریت اور سیاست کا حقیقی معنوں میں حصہ بنا لیں جن میں اقلیتوں کے حقوق سے لے کر حکومت سازی، احتساب کے عمل اور برابری کو بنیادی شرط رکھا گیا ہے، تو دنیا میں ایک نمونے کے طور پر اسلامی جمہوری ریاست ہونے کا شرف حاصل کر سکتے ہیں جو اسلامی دنیا ہی نہیں بلکہ سیکولر ریاستوں کے لئے بھی بہترین گورننس کے طور پر ایک مشعل راہ ہو۔ 

ہمارے قومی سطح پر اسلامی تشخص کے بگاڑ کی کئی ایک وجوہات میں سے بنیادی وجہ فرقہ واریت بھی ہے جس کی بنیاد اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح ہے جس میں ہمارے مذہبی پیشواؤں کے ماحول اور ذاتی خواہشات کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ ہمارے ماحول کے اسلامی تعلیمات پر اثرات سے دین کی تشریحات نے ہمیں ہماری خواہشات اور ماحول کی بنیاد پر تقسیم کر کے ہمارے درمیان خلیجیں حائل کر دی ہیں۔

خطابت اور بلاغت کے عقب میں معاشرے کی تشکیل  کی بجائےاسے تباہ کیا جا رہا ہے ۔ معاشرے کے اس ۔ نہ صرف مذہبی حلقوں کے درمیاں بلکہ رسمی اور دینی تعلیم رکھنے والوں کے درمیان بھی ضد کی بنیاد پریہ خلیجیں مزید گہری ہورہی ہیں۔

یہ جو  ایک دوسرے کو کافر اور مشرک کہنے کا رواج پنپ چکا ہے، بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہر ایک کو اس کے اپنے ایمان، عبادات اور معاملات کو ٹھیک کرنے کے احکامات اور کسوٹی مہیا کی گئی ہے مگر کسی فرد کو دوسرے فرد کے ایمان اور عبادات کو پرکھنے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اس کی بنیاد پر شرک اور کفر کے فتوے جاری کرتا پھرے۔ یہاں سب اپنے ایمان کو کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے دوسروں کے ایمان کی کھوج مین لگے ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ علماء کے عمل سے شروع ہوا ہے۔ ایک فرقے کا مولوی جب دوسرے فرقے کے مولوی سے نفرت کروا رہا ہوگا تو معاشرے میں فطور پھیلنے کے علاوہ توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے؟ بلکہ یہی عمل حکومت کے انتظامی اور عدل کے امور کے دائرہ کار و اختیار میں دخل اندازی کا موجب بن رہا ہے۔ اور سوسائٹی اسی سوچ کے تحت ایک ایسا پریشر گروپ بن چکی ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ ان کے دباؤ کی وجہ سے ان نظریاتی دہشت گردوں کو حکومت گرفتار کرنے اور عدلیہ ان کے خلاف فیصلہ دینے سے گھبراتی ہے اورتوہیں مذہب کے مقدمے سالہا بغیر کاروائی کے پڑے رہتے ہیں۔ اگر ریاست کا آئیں و قانون کسی کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی پر دادرسی کا طریقہ کار بھی مہیا کرتا ہے جس کو اس کی مطابقت سے ہی منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے نہ کہ افراد یا گروہ کی خواہشات اور دباؤ کے تحت۔

اگر ہم اسلامی تعلیمات کے صحیح تصور کو سمجھیں تو توحید، رسالت اور ریاستی امور کی بلترتیب اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور ایک اسلامی ریاست کے امیر کی اطاعت کو بھی حکما" لاگو کیا گیا ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کی صحیح تشریح اور معاشرے کی اسلامی اقدار پر قائم تشکیل ہوئی ہوتی تو آج جو یہ آئے دن مذہب کے نام پر احتجاج، ہڑتالیں،توہین رسات اور مذہب کے نام پر قتل و غارت کی جاتی ہے یہ کبھی بھی نہ ہوتی۔

کسی بھی مذہبی یا انسانی حقوق کی پاسداری کا قانون فرد یا گروہ کی خواہشات کے تابع نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس بارے ہم قومی سطح پر اسلامی تشخص کی تباہی کا نقصان بھی اٹھا رہے ہیں جو کبھی اپنی ہی قومی املاک کو جلا کر تو کبھی انسانی جانوں کے ضیاع تو کبھی دوست ممالک سے مہمانوں کی جانوں کو سر عام ضائع ہونے سے ملکی و قومی غیرت و حمیت کا جنازہ نکلتے ہوئے عالمی سطح پر رسوائی سمیٹتے ہوئے۔

جس ماحول کے اندر ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں ان کا جائزہ لینےسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اس نظام کے اوپر اٹھنے والے اخراجات صدقہ ، خیرات اورزکواۃ کے پیسے سے ہوتے ہیں جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس نظام کے اندر  معاشرے کے زیادہ تر مالی وسائل سے محروم طبقات کی شرکت رہی ہے جس کا غالب تاثر آج بھی موجود ہے اور دوسری طرف مالی وسائل سے آسودہ حال طبقہ دین کو سمجھنا ضروری نہیں سمجھتے اور کردار سازی کا عمل دونوں اطراف میں ہی انتہائی ابتری کا شکار ہے۔ تکبر، حسد اور نفرت دونوں اطراف میں انتہا کو چھو رہی ہے۔ ایک طرف بے بسی نے قناعت کا روپ دھارا ہوا ہے تو دوسری طرف آسودگی نے کمینگی کو بھی مات دی ہوئی ہے۔ایک دوسرے کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مذہبی طبقہ دنیا داروں اور آزاد خیالوں کو بے دین سمجھتے ہیں اور ان کو  سیکولر ہونے کے طعنے دیئے جاتے ہیں جبکہ دنیا داروں کی طرف سے مذہبی طبقات کو تنگ نظر ، بنیاد پرست اور انتہا پسند کہا جاتا ہے جس سے نقصان ہمارے نظریات، مذہب اور عالمی سطح پر ابھرنے والی قومی تشخص کا ہورہا ہے۔ آسودہ حال سمجھتے ہیں کہ دین کی تعلیم کا حصول معاشی طور پر محروم لوگوں کا کام ہے۔

ہے کہ جیسے اسلام کی تعلیمات دینے والوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر دین کو دنیا کے معاملات اور دنیا داروں سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے جس کا مقصد شائد ان کو حاصل صدقہ خیرات اور زکواۃ کے استعمال  سے معاشرے کی تشکیل کے دوسرے امور  سے دور اور بے دخل رکھنا تھا جس کی پاداش میں دنیا داروں  انکے معاملات، دین کے علم اور دوسرے علوم کے درمیان ایک لمبی خلیج حائل کر دی گئی۔ یہاں تک کہ دوسرے شعبہ جات کی تعلیمات کو ہی اسلامی تعلیمات کے خلاف پیش کرتے رہے جس سے آج ہمارے اکثریتی عوام کی یہ سوچ ہے کہ  دین کی تعلیمات کے علاوہ دوسرے علوم کا انسان کی صرف دنیاوی زندگی سے تعلق ہے اور اس کا انسان کی آخرت کی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں جو کہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے بنیادی تصور کے ہی خلاف ہے بلکہ انسانی عقل اور شعور کے تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتا۔

کیوں ہم بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں حقوق العباد کی کیا اہمیت ہے؟ حقوق العباد کے الفاظ انسانیت کے رشتے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آج ہمارے رویوں پر اگر غور کیا جائے تو یہ انسانیت کو یکسر نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔ ہماری ان تنگ نظرویوں میں کہیں ذاتی مفادات قومیت پر حاوی دکھائی دیتے ہیں تو کہیں قومیت اور نظریات انسانیت کے رشتوں پر بھاری حالانکہ دنیا کے تمام مذاہب اور افکار نے انسانیت کے رشتوں کو اپنی تعلیمات کی بنیاد رکھا ہے۔ ہمارے نبی آخرالزمان نے بھی اپنی امت پوری انسانیت کو کہا ہے، اسلام نے انسانیت کو مخاطب کیا ہے اور جبر کی نفی کرتے ہوئے اس کو قبول کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کی نویدوں اور وعیدوں کے باوجود حقوق العباد پر کسی بھی دوسرے تعلق کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ مسلمانوں کو اپنی ریاستوں کے اندر اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کا پابند ٹھہرایا ہے۔ اسلام نے حقوق العباد کی عالمگیریت کو محترم ٹھہرایا ہے بلکہ انسانوں کے علاوہ جانوروں جہاں مذاہب اور نظریات کی شرائط لاگو ہی نہیں ہوتیں ان کے ساتھ برتاو کے بارے میں بھی جوابدہ ٹھہرایا ہے۔

الاقوامی سطح پر بنیاد پرست اور انتہاپسند سمجھا جاتا ہے تو اسکے پیچھے کارفرما ہمارے اجتماعی اعمال سے ابھرنے والا تاثر ہے جس کا اندازہ ہماری نفسیات سے بخوبی عیاں ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی اسلام یا اسلامی شعائر کے خلاف کوئی بات کرے تو ہم اپنے ہی ملک کے اندر احتجاج کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں اور اپنی ہی جان و مال اوراملاک کو نقصان پہنچا کر سکون تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ہمیں اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ یہ نقصان ہماری اپنی ہی جانوں، مال اور املاک کا ہے جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہم عقل شعور سے خالی جذبات رکھتے ہیں، ہمیں فائدے یا نقصان کے اندر کوئی تمیز نہیں اور نہ ہی ہمارے اندر قومی سطح پر کوئی رحم دلی کا عنصر پایا جاتا ہےجس سے ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری اوراپنی ذمہ داریوں کے پورا کرنے کے فقدان کی سوچ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

حرمین شریفین میں عالمی اتحاد بین المسلمین کا ماحول ہونے کے باوجود اگر وہاں مسلمانوں کے رویوں اور عمل کے زریعے سے ان کے معاملات پر نظر دوڑائیں تو اکثریت کی حالت۔ اکثریت کے اندر وہاں بھی ایثار نظر نہیں آتا،

یہاں تک کہ انکے اٹھنے بیٹھنے کے اندازوں سے بھی تنگ نظری جھلکتی دکھائی دیتی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔  وہاں کی انتظامیہ کی بے مثال خدمت اور انتظامی کوششوں کے باوجود راستوں کو بند کرنے سے لے کر پہلے پہچنے والوں کی بڑی بڑی چوکڑیوں اور بعد میں آنے والوں کو جگہ دینےمیں حوصلے کی کمی نہ صرف انکے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے رحمدلی اور محبت کے فقدان بلکہ خود پسندی اور سوچوں کے بگاڑ کی عکاس ہے جو اس وقت ہمارے مسلمانوں کے متعلق ہونے والے عالمی سطح پر منفی پرچار کی تصدیق ہے۔ دنیا کو ہماری عبادات سے کوئی غرض  نہیں مگر معاملات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ہمیشہ اعلی اخلاقیات کی طاقت کی بنیاد پر پھیلا اور آج اگر تنگ نظری، انتہاپسندی اور دہشتگری کو مسلمانوں سے جوڑا جا رہا ہے تو اس میں مسلمانوں کے رویوں اور علمی و تحقیقی میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجوہات شامل حال ہیں۔

حالانکہ دین کا تو مقصد ہی دنیا کی زندگی کو اللہ کے احکامات اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق گزارنے کا نام ہے۔ دین و دنیا میں تقابلی مطالعہ در اصل دین کی غلط تشریحات کا نتیجہ ہے۔ دراصل دین دنیا کی مادی چیزوں کو ضروریات کی حد تک اہمیت دیتا ہے اور اصل اہمیت انسانیت کی ہے اور اسی تصور کے تحت اس زندگی کا آخرت کی زندگی سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اور ہماراے ہاں دین و دنیا کی تقسیم کے تصور نے دونوں اطراف کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے اور دیندار دنیا داروں کو سیکولر کے طعنے دے رہے ہوتے ہیں اور دنیا دار دینداروں کو مسلمانوں کے اندر جدید علوم اور ترقی کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس وقت اسلامی کے بنیادی تصور سے دوری کا ہی نتیجہ ہے کہ ہماری مادی ترقی نے خالق کائنات کے فطری حسن کو لالچ و طمعہ میں بگاڑ کر اسے ترقی کا نام دے دیا ہے۔ جس سے انسانی کی بہتری کے اسباب کم اور بگاڑ کے زیادہ پیدا ہوئے ہیں۔

در حقیقت اس کا تعلق دین و دنیا، لبرل ازم، سیکولرازم سے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، اخلاقیات، ہماری ثقافت اور رسومات سے پیدا ہونے والے ماحول سے ہے جس نے ہمیں ان دو مخالف انتہاؤں پر پہنچا کر ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے اور ہم اصل حقائق کو سمجھنے سے اس لئے دور ہو چکے ہیں کہ ہمارے درمیان حائل خلیج ہمارے ایمان اور یقین کا حصہ بن چکی ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیتی کہ ہم ان مسائل کی اصل وجوہات کو سمجھ سکیں۔ ہمارے ان نفسیاتی مسائل نے ہمیں آج اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ہمارےدونوں اطراف کے طبقات سے تعلق رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ کامیابی و ناکامی کی اصل تعریف ان کو معلوم ہے مذہبی اطراف والے سمجھتے ہیں کہ جنت کی اسناد ان کے پاس ہیں اور ان کی سوچ و عمل کے نتائج کی صورتحال یہ ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت پر مامور  ہی زندگیوں کے لئے خطرات بن چکے ہیں اور ان کو یہ احساس تک نہیں رہا  کہ ان کو سونپی گئی حفاظت کی ذمہ داری کتنی اہم ہے اور وہ اپنی غیر شرعی اور غیر قانونی اقدامات پر عدالتوں اور ریاستی اداروں سے بھی توقعات رکھتے ہیں کہ وہ انہی آئین و قانون کو بھی نظر اندازکرتے ہوئے ہر طرح کی سہولیات اور تحفظات مہیا کریں اور ان کی سوچوں کو ہی زندگی کا اصل مقصد سمجھیں۔

حکومت کو اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس پر توجہ دے کر قانون سازی سے لے کر تعلیم و تربیت اور قانون پر عملدرآمد تک کی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی صحیح تشکیل، انسانی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہم کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔

اس کے لئے ہمارے پاس مشعل راہ کے طور پر اسلامی تعلیمات اور عبادات کا مرکز جہاں پوری دنیا کے مسلمان اپنے فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں حرمین شریفین میں رائج نمونہ ہے۔ جہاں نظریاتی اختلافات کی موجودگی کے باوجود سب ایک ساتھ اللہ کی بارگاہ میں ایک ساتھ قیام اور سجود میں عاجزی کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی علماء اپنے نظریاتی اختلاف ضرور رکھیں مگر اللہ کے گھر مساجد کو تو ان نظریات کے پہروں سے آزاد کر دیں۔ وہاں عبادت کو اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ رہنے دیں اور جو جیسے چاہے اپنی عبادت کرے ہر کسی کو حرمیں شریفین کی طرز پر آزادی سے عبادت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اور حکومت کو چاہیے کہ اس پر تمام مکاتب فکر کے علماء اور ان کے پیروکاروں کو اکٹھا ہونے کے لئےقانون کا اطلاق کرتے ہوئے آمادہ کریں۔ حرمین شریفین میں بھی اگر اس پر عمل ہو رہا ہے تو اس میں اہم کردار حرمین شریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار سعودی حکومت ہے جنہوں نے فقہی نظریات کااللہ کے گھروں مساجد میں عبادات پر اطلاق نہیں ہونے دیا اور یہی صحیح اسلامی تصور بھی ہے۔ مساجد اللہ کے گھر ہیں اور ان کے اندر اللہ کے بندوں کی عبادات پر کسی بھی طرح کے کسی بھی فقہی نظریات کے پہروں کو رکاوٹ بننے کی قطعا اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ملک کی تمام مساجد حکومت کی تحویل میں ہونی چاہیں اور ان کے امام اور خطیب حکومتی عہدیدار ہونے چاہیں جس کے اندر بہتری لانے کے لئے مساجد اور ان سے متصل تعلیمی درس گاہوں اور علماء کو سرکاری سطح پر قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ مذہبی حلقوں سے وابسطہ انسانی وسائل کی صلاحیتوں کا تشکیل معاشرہ کے لئے مثبت اور صحیح استعمال ممکن بناکر ان کو فرقہ واریت کے فروغ کی بجائے اس کی روک تھام، محبت، اخوت ، بھائی چارہ اورامن کے لئے استعمال کیا جا سکے۔

اس مقصد کی تکمیل کے لئے آئین و قانون کے اطلاق کے ساتھ ساتھ عملی طور پر معاشرے کے اندر اس طرح کے ماحول کو اجاگر کر نے کی ضرورت ہے جس میں سرکاری سطح سے لے کر عوامی سطح پر اللہ کے رسول خاتمنبیین کے اعلی ٰاخلاقیات کی تعلیمات عام ہوں تاکہ ریاست کے معاملات، سیاست اور مذہب کے درمیان حائل دوریوں کو ختم کیا جا سکے جس سے نہ صرف اپنے اعلیٰ اخلاقیات اور اوصاف کی بنیاد پر مذہبی حلقوں کا طبقہ سیاست اور ریاست کے انتظامی امور میں اپنی جگہ بنا سکے بلکہ حکومتی اور سیاسی سطح پر بھی اسلامی شعار پر عمل سے حقیقی محبت کا تاثر ملے۔ اگر اس مملکت خداداد کے اسلامی تشخص کی بحالی کی فکر ریاستی سطح پر موجود ہو تو اس کے عملی تاثر کے ماحول کی جھلک وزیراعظم اور صدر کے ریاست کی بڑی مرکزی مساجد کی امامت کے ذوق شوق اور قابلیت و اہلیت کے عملی اظہار کی صورت نظر آنی چاہیے۔ معاشرے کے آسودہ، خوشحال اور صاحب اختیار واقتدار لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر ان کو اسلام اور اپنے قومی تشخص کی فکر ہے تو پھر اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کریں جو ان کو اللہ کی دی ہوئی دنیاوی نعمتوں کے ساتھ ساتھ دین کی سمجھ اور اشاعت کا زریعہ بھی بنائیں جس کے لئے ان کو اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کرنا ہونگی کہ ان کو منبر و مسجد کے ماحول میں بھی مقام حاصل ہو اور معاشرے کے لئے  ایک مثال بنیں اور اس سے دین و دنیا میں حائل خلیج کو کم کیا جا سکے۔ اگر گاؤں کے چوہدری سے لے کر ریاست کے سربراہوں تک کے دل میں دین کی محبت ہو تو کیوں نہ مساجد کے منبر اور امامت کا شوق ان کی زندگیوں میں دیکھنے کو ملے جو ہمارے اسلاف کا عمل رہا ہے۔

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ججز کے خط سے کھلنے والے پنڈورا باکس سے کیا کچھ نکلے گا؟

 

اب یہ جو ججز پر دباؤ کا معاملہ ہے یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے کبھی اسلام آباد میں پولیس اصلاحات سے قبل اسلام آباد ٹریفک پولیس کے منتظمین جناح اور جمہوریت کے نام پر منسوب شاہراہوں کے سنگم میں چوک  جسے ڈی چوک اور انصاف کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور فیصل ایوینو چوک میں کھڑے مال اکٹھا کر رہے ہوتے تھے، ان کی پینٹوں کی جیبیں پھٹ کر نوٹ باہر جھانک رہے ہوتے تھے اور حیرت کی بات ہے کہ یہاں سے پاکستان کی ساری مقتدرہ گزر کر کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر واقع انصاف اور جمہوریت کے نام پر قائم ایوان زیریں و بالا اور انصاف کے ایوانوں میں جاتے تھے جن میں وزیراعظم، صدر پاکستان، چیف جسٹس، چیف آف آرمی سٹاف، پولیس کے محکمے کے سربراہ اور اینٹی کرپشن  محکمے کے اہلکار کسی کو وہ رشوت ستانی نظر نہیں آتی تھی۔ ایسا ہی معاملہ مجھے تو یہ عدلیہ کے ججز پر دباؤ والا بھی لگتا ہے گویا پہلے تو یہ کسی کے علم میں ہی نہیں تھا اور اب ججز کے خطوط سے اس پر یوں شوروغوغا شروع ہوگیا ہے جیسے کوئی بہت بڑی انہونی ہوگئی ہے۔

ہاں پہلے والا عدالتی اور سیاسی کلچر کچھ اس طرح کا تھا جس میں سرگوشیوں میں ایسی  باتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس کلچر سے بغاوت کرتے ہوئے بار روم میں یہ بھانڈا پھوڑ دیا جس کے بعد جو انکے ساتھ ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ ان کے اپنے ہی ججز ساتھی جنہوں نے بقول انکے اس مروجہ ثقافت سے انحراف کے پیش نظر ان سے سوشل بائیکاٹ کر دیا اور یہی لوگ ان کوعہدے سے بھی فارغ کرنے کے نظام انصاف کا حصہ تھے۔ اس کے نتائج یہ نکلے کہ ایک  کا ہندسہ چھ میں بدل گیا اور آج جب شوکت عزیز صدیقی کئی سال کے بعد اپنی مراعات کے حقدار بن چکے ہیں تو  یہ لوگ اب ان کے لگائے گئے الزامات کی تحقیق کا مطالبہ کر رہے ہیں "بدلتا ہے آسمان رنگ کیسے کیسے" جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ذاتی مشکلات کے مدنظر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے موقف کی تائید کرنی پڑ رہی ہے جس کا وہ پہلے مذاق اڑاتے رہے ہیں بلکہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے تو ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ "روندی یاراں نوں ناں لے لے کے بھراواں دا"  اگر یہ چھ اس وقت اس معاملے کو سنجیدہ لیتے تو شائد آج ان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور نہ ہی ہمارے نظام عدل کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس طرح کی خبروں سے قوموں کے چہرے کس قدر مسخ ہوتے ہیں اور تشخص سے اس کے بد نماداغ مٹانے مشکل ہوجاتے ہیں۔

ججز اورحکومت کے مشورے کے بعد کمیشن ترتیب دیا گیا جس کی سربراہی کی تجویز بھی سپریم کورٹ نے دی تھی اور اس کے بعد میڈیا، وکلاء اور سیاستدانوں کی طرف سے اعتراضات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ سپریم کورٹ کو سوؤموٹو لینا پڑگیا۔ اس ساری مشق کا فائدہ کیا ہوا؟ یہیں نہیں ملک کے انتظام انصرام میں ہر سطح پرقوم کی صلاحیتیں ایسی ہی فضول سرگرمیوں میں ضائع ہو رہی ہیں، وجہ کیا ہے؟ "اعتماد کا فقدان" اور مفادات کی حوس" ہر کوئی دوسرے پر شاکی ہے جیسے ججز پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں کبھی حاضر سروس جج ہونے پر تو کبھی ریٹائرڈ جج ہونے پر کبھی کمیشن کے ٹی او آرز پر تو کبھی سابقہ کمیشن کی رپورٹس پر استدلال کرتے ہوئے شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔

اگر غور کریں تو اس اعتماد کے فقدان کا اصل سبب ہی ججز، جرنیل ، بیورکریٹ ، سیاستدانوں کی اپنی سوچ اور ان کا عمل ہے۔ کیا جو ججز سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ رہے ہیں ان کو قانون ایسے دباؤ سے نمٹنے کا اختیار نہیں دیتا اور اگر وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اس پر قابوپانے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں تو قصور دباؤ ڈالنے والے کا زیادہ ہے یا اس دباؤ کولینے والے کا۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے۔  کون آئینی و قانونی طور پر عہدے اور منصب کے لحاظ سےاس مسئلے کے حل کا ذمہ دار ہے؟ اگر ججز کو اپنے منصب اور رتبے کا احساس اور اندازہ ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔

کیا کوئی خفیہ مقتدرہ سے ہو یا وردی میں ملبوس اس دھرتی کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ دینے والے ذمہ داران سب  کانسٹیٹیوشنل ایوینو پر قائم بڑے بڑے ایوانوں میں اپنی خفیہ اور ظاہر سرگرمیوں کی رپورٹس لے کر پیش نہیں ہوتے جن کے گواہ ان ایوانون میں  ایک پیج پر ہونے کے گونجتےنعرے ہیں جو اس پیج پر موجود شخصیات کے بدل جانے کے حالات  سےتذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی آپس کی بدشگونیوں کا بھی خمیازہ ملک و قوم کو بھگتنا پڑ جاتا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی خواہ وہ جج ہو، سیاستدان یا خفیہ اداروں کا سربراہ ہو  ان معززین میں سے بہت سارے پورا سچ بولنے کے لئے تیار ہی نہیں اور آئین و قانون اور اختیارات میں سے جو بات اپنے مطلب، خواہش اور مقصد سے مواقفت رکھتی ہے اس کی تعریفیں اور پر چار شروع کر دیتے ہیں اور جو ناموافق پڑتی ہے اس پر شورو غوغا گونج اٹھتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اب سوؤ موٹو کے بعد معاملہ تھم جائے گا؟ اب بنچ میں بیٹھے ہوئے ججز پر اعتراضات نہیں اٹھیں گے بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے چیف جسٹس فائز عیسیٰ پر اعتراض اٹھا بھی دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ انصاف کے معیار کا ہے جس پرتاریخ اعتماد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانونی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جانے والے کمیشن میں سپریم کورٹ کا ریٹارئرڈ جج ہوتے ہوئے وہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر تمام اختیارات رکھتا ہوگا جس کے تحت وہ کسی بھی طرح کی معلومات کے لئے کسی کو بھی طلب کرنے یا ریکارڈ منگوانے کا مجاز ہوگا اور اپنے احکامات پر عملدارآمد کروانے کے لئے توہین عدالت کی کاروائی سمیت تمام اختیارات رکھتا ہوگا۔ اس لئے یہ خدشات اخذ کر لینا کہ ماضی کے کمیشنز کی طرح کچھ حاصل نہیں ہو گا انتہائی نا مناسب ہے اور اس طرح کے خدشات کا علاج تو آئین و قانون کے پاس بھی موجود نہیں سوائے، جرات اور اعلیٰ اخلاقیات کی پاسداری کے جسکی ذاتی مفادات اور خواہشات کی سوچیں رکھنے والوں سے امید نہیں کی جا سکتی جس کا ریٹائرڈ یا حاضر سروس ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

بلکہ میں سمجھاتا ہوں کہ جب خط میں موجودہ عدلیہ کے اندر ابھی بھی دباؤ کا تاثر دیا گیا ہے تو پھر عدلیہ کے اندر تو سپریم کورٹ بھی شامل ہے تو ایسے میں کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیق تو مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے تاکہ موجودہ عدلیہ میں سے اگر کوئی الزامات لگاتا ہے تو اس سے شواہد طلب کئے جا سکیں اور اگر حاضر سروس کوئی جج دباؤ کے تحت فیصلے کرنے میں ملوث پایا جاتا ہے تو پھر اس بارے حکومت رپورٹ کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج سکے اور اگر کوئی عدلیہ کے باہر سے دباؤ میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف بھی کاروائی کو عمل میں لانے کی ہدایات جاری ہوں اور اسی طرح اگر کسی ادارے پر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو الزامات لگانے والے کے خلاف بھی تادیبی کاروائی کو عمل میں لایا جانا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خط کے مندرجات میں ایک انتہائی سنگین مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ججز پر دباؤ کی تو جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو کیا اسے نظام عدل میں ججز کی اپنی ہی زبانی انصاف کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑوں کی مخبری یا گواہی نہ سمجھا جا ئے جس کا آغاز جسٹس منیر اور جسٹس ارشاد حسن خان سے شروع ہوتا ہے اور اسی فہرست میں شامل جسٹس نسیم حسن شاہ کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ نے حال ہی میں بھٹو کی سزا پر اپنے ادارے کی کوتاہیوں کو دھونے کی کوشش کی ہے۔  کیا اس سے ان کے عہدے اور منصب پر بھی سوال کھڑے نہیں ہوتے  جن کا انکو خود بھی احساس نہیں ہو رہا جس کی وجہ شائد ان کی تعیناتیوں کا طریقہ کار بھی ہے کہ وہ خود سیاست کی کوکھ سے جنم لئے ہوئے ہوتے ہیں جو بعد میں نہ صرف ان کی مجبوریاں بنتی ہیں بلکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹ کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے اختیارات کے استعمال کی سکت نہیں رکھتے ہوتے اور اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جج کا عہدہ اور منصب ہر طرح کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے بالا تر ہوتا ہے۔ اصل معاملہ محض دخل اندازی کا ہی نہیں بلکہ ججز کی کریڈیبلیٹی اور ان خدشات کی بنیاد پر ایک عام آدمی کے نظام انصاف پر اعتماد کا بھی ہے۔ اگر ججز دباؤ کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تو پھر ان سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے یا ان کا اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز کیسے باقی بچتا ہے۔

ہمارے ماضی قریب کے نظام عدل نے تو فلسفہ قانون کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جرائم کے پیچھے موٹو کا تو سنا ہوا تھا لیکن ان سالوں میں تو فیصلوں کے پیچھے بھی موٹو نظر آرہا ہوتا ہے۔ حالات سے یوں لگتا ہے کہ ججز پر دباؤ اصل مسئلہ نہیں بلکہ دباؤ کی موافقت دکھائی دے رہا ہے اور دباؤ بھی صرف ایجنسیز کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ ماضی میں لیک ہونے والی وڈیوز میں ججز کے خاندان کے لوگ بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاستدانوں سے تعلقات بھی ہوتے ہیں اور جوڈیشری اور حکمرانوں کا ایک دوسرے سے مفادات کا لین دین بھی ہوتا ہے اور اب یہ سارا کچھ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے معاشرے کے معیار بھی فلسفہ قانون کے ساتھ ساتھ بدلے بدلے لگتے ہیں۔

قانون کی تشریحات بھی انہیں معاشرے کے معیاروں کی مطابقت سے بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ جس کی مثالیں حالیہ سالوں میں تو فراخدلی سے ملتی ہیں۔ ججز کے مذاج، حالات، حوالاجات، خواہشات حتیٰ کہ سوشل میڈیا کا بیانیہ بھی اب تو قانون کی تشریحات کے زرائعے کے طور پر دکھائی دیتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر بنائے گئے بنچز کے فیصلوں کی صحت پر اثرات تو کسی سے چھپے ڈھکے نہیں۔  ججز کے بدل جانے سے فیصلے بدل جاتے ہیں اور بنچز کی تشکیل سے فیصلوں کی پشینگوئیاں ہونے لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ سو فیصد ٹھیک بھی نکلتی ہیں۔ انصاف بھی موسموں کی طرح بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہی واقعات، ملزمان اور شواہد ہوتے ہیں اورکبھی سزاؤں پر سزائیں سنائی جا رہی ہوتی ہیں تو پھر اچانک انصاف کا موسم ایسے بدلتا ہے کہ سزائیں بریت میں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

جہاں اتنے بڑے دباؤ ہوں تو کبھی کبھی دباؤ کے زرائعے کی آپس میں چپقلش بھی کوئی انہونی بات نہیں ۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ موسم بدلنے سے یہی دباؤ جو آج موافق نہیں پڑ رہا یکدم موافق پڑنا شروع ہو جائے۔ کیونکہ دباؤ کی موافقت کو قائم کرنے کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ججز کے خطوط کے بعد وکلاء کے خطوط شروع ہوگئے ہیں اور ان خطوط کی روشنی میں اداروں کی آراء بھی بدلنا شروع ہوگئی ہیں اور فیصلوں کے متن بھی موسموں کی تبدیلیوں کے اشارے دینے شروع ہو گئے ہیں۔

یہ جو دباؤ کو  اچانک اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے اس کے پچھے بھی کسی خاص موٹو کا شک ہو رہا ہےکیونکہ  سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اُس وقت اِس طرح کا کوئی دباؤ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر موجود تھا تو کیا وہ ان کے جانے کے بعد ختم ہو گیا تھا یا اسی دباؤ کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی قوم ان سے اس تحقیق کے دوران سچ بتانے کی توقع رکھتی ہے جس کے بغیر یہ تاثر  لیاجائے گا کہ وہ اپنی حیثیت کو مضبوط تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر جوابدہی کا ان کے اندر کوئی احساس موجود نہیں۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو  کیا اس سے ان کا غیر جانبدارانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کا حلف مشکوک نہیں ہو چکا؟ 

 خط  کو لکھنے کا وقت بھی کئی  خدشات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں مبینہ طور پر ایک سو کے قریب درخواستں دائر ہو چکی ہیں جن میں سے چند ان ججز کے خلاف بھی ہیں جس سے یہ تاثر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مقصد دباؤ اور بیرونی اثرات سے آزادی نہیں بلکہ حکومت، عدلیہ، اداروں اور سپریم جوڈیشل کونسل پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس خط کا یوں جوڈیشل کونسل کا رخ کرتے ہوئے میڈیا کے ہتھے چڑھ جانا بھی شکوک شبہات پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے جس کا جواب دینا بھی ججز کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے اور ان سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ جب ان کا کام ہی انصاف کی فراہمی ہے تو انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا قانونی ایکشن کیوں نہیں لیا؟

سپریم کورٹ میں کئی اور درخواستیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں جن میں سے ایک  مبینہ طور پر میاں داؤد ایڈووکیٹ کی بھی ہے جس  میں کچھ ایسے نقطے بھی اٹھا دئے گئے ہیں جو اس خط کو عدلیہ اور ملک کی عمومی سیاست سے جوڑنے کا منظر نامہ  پیش کر رہے ہیں جن کی پاکستان کی عدلیہ اور عدالتی رائے کے اصولوں کے اندر کوئی نظیر نہیں ملتی جن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہی عمران خان کی ضمانت کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس میں انکی طرف سے مستقبل میں کئے جانے والے تمام فرضی جرموں کی بھی پیشگی ضمانت دے دی گئی تھی اور اسی طرح کچھ لاہور ہائیکورٹ کے بھی فیصلے ہیں جن پر تحریک انصاف کی سہولت کاری کے الزامات پر آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں اور جن میں ایک فیصلہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد سے روکنے کا اسٹے آرڈر بھی تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اس پر سخت کمنٹس دیتے ہوئے انتخابات کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کو نا کام بنایا تھا جس سے ہائیکورٹس کو اس طرح کے سہولت کاری کے تاثر والے فیصلوں بارے محتاط انداز اپنانے پر مجبور کر دیا گیا تھا

ایسا بھی نہیں کہ ججز کے موقف کی تائید نہیں  ہو رہی جیسا کہ میڈیا پر ان کے موقف کو سراہا بھی جا رہا ہے اور اب تو اس خط کی حمائت میں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی طرف سے اعلامیے بھی جاری ہو چکے ہیں اور بعض سیاسی جماعتیں اس پر اپنی سیاست کو آکسیجن دینے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دے رہی ہیں۔ ججز نے اپنے فیصلوں پر دباؤکا اظہار کرکے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے بلکہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نے تو بانی تحریک انصاف کو دی جانے والی سزاؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جس کا یقیناً ان کو فائدہ ملے گا۔ تو ایسے منظرنامے میں یہ بھی دیکھنا ضروری نظر آتا ہے کہ ماضی میں اگر دباؤ تھا تو اس وقت اس کے بینیفشریز کون تھے اور آج اگر عدلیہ پر دباؤ ہے یا ججز اس خط کے زریعے سے اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے بینیفیشریز کون بنتے ہیں؟

ان الزامات میں ایک اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر انتظامی اختیارات کی آڑ میں عدالتی رائے پر حاوی ہونے کی طرف اشارہ ہے جو دباؤ کا حصہ بن کر فیصلوں کو متاثر کرنےکی ایک مثال ہے جس کا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے تحت عدالت عظمیٰ میں حل تلاش کیا گیا اسی طرح کی اصلاحات کا اطلاق ہائکورٹس پر بھی ہونا چاہیے تاکہ انصاف کو شفاف اور یقینی بنایا جاسکے۔ اختیارات سےصحیح اور جائز فائدے اٹھانے کے لئے اخلاقیات کا  گہرا تعلق ہوتا ہے اور جہاں اخلاقیات کمزور ہوں وہاں  اختیارات بے لگام ہو جاتے ہیں اور پھر قانونی اصلاحات کے زریعے سے بہتری کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اس صورتحال کا حل دخل اندازی کرنے والوں کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ  اس بات میں بھی ہے کہ ججز کی تعنیاتیوں میں نہ صرف جج کی تعلیم و تجربہ کو دیکھا جائے بلکہ ایسی شخصیات کو لیا جائے جن کے اندر اس عہدے اور منصب کی خواہش نہ ہو اور وہ اعلیٰ اخلاقیات کے مالک ہوں تاکہ اگر وہ دباؤ برداشت نہیں کر سکیں تو کم از کم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے جائیں لیکن نا انصافی کا حصہ تو نہ بنیں۔ جب ججز خوف خدا کے تحت اپنے فیصلوں پر اپنے آپ کو خدا کے حضور جوابدہ سمجھنے والے ہونگے تویہ شکایات خود بخود ہی ختم ہوجائیں گی۔ جس طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اگر ماحول سے مدد نہیں ملی تو مشکلات بھی جھیلیں مگر کم از کم کسی کے ساتھ نا انصافی کاحصہ تو نہیں بنے۔ لیکن ماضی کے واقعات پر استدلال کرکے سبھی ججز کو الزامات کا نشانہ بنا دینا بھی جائز نہیں۔ آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس طرح کے الزامات کی تردید کی ہے اس لئے بغیر شواہد کے الزامات کا بھی سلسلہ بند ہونا چاہیے اور یہ سب شفاف تحقیقات کے بعد ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہر کسی کو  خاص کر میڈیا کو ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے اداروں کے سربراہان ہر ایک کے الزام پر وضاحت تو جاری نہیں کر سکتے۔

اگر اس دباؤ کو وسیع منظرنامے میں دیکھا جائے تو یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ حکومت میں یا عدلیہ میں موجود لوگ جو اپنے ہی آئینی رتبے اور عہدے کے ماتحت سے ڈر کر انصاف نہ دے سکیں یا جوابدہی کا عمل یقینی نہ بنا سکیں تو ان پرایک خود مختار  جمہوری ریاست کے انتظامات محفوظ ہاتھوں میں ہونے کا اعتماد کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے معززین جو طاقت کے نشے میں من مانیاں کرتے ہوئے ہر حد کراس کر جاتے ہیں ان کو سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ حب الوطنی اور ریاست سے وفا کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے معاملات کو چلانے کا معیار جو آئین نے متعین کیا ہوا ہے اس کو معتبر سمجھا جائے اور ریاست کے وسائل کو عوام اور ریاست کی امانت سمجھتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے استعمال کیا جائے نا کہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لئے اور ایسا کرنے والوں کی زندگیاں مکافات عمل کی صورت ہمارے سامنے ہیں اور اگر ہم اب بھی اس سے سبق حاصل نہیں کریں گے تو پھر قدرت کا اصلاح کا عمل ہر کسی کے لئے تکلیف دہ ہوگا اور اس کا دکھ صرف ہمیں ہی نہیں اگلی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا

۔

جمعرات، 28 مارچ، 2024

معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی

 

وزیراعظم کا یہ بیان سن کر انتہائی مایوسی ہوئی کہ ہمیں آئی ایم ایف کا ایک اور پروگرام لینا پڑے گا۔ لگتا ہے وہ بھی اپنے پیش روحکمرانوں کی طرح موجودہ مروجہ مالی نظام جس کی بنیاد ہی سودی نظام پر ہے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں ۔ ان کے اخلاص ، انتھک محنت اور قومی خدمت کے جذبے پر کوئی شک نہیں مگر انہیں  ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنی سوچوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ روائتی نظام کے ماہرین جن کی اہلیت اور قابلیت ہی اعدادوشمار کی ہیراپھیری کرکے دولت کے بہاؤ کو ایک خاص طبقے کی طرف موڑ کر اپنا حصہ وصول کرنا ہے وہ کیسے خدا اور اس کے رسول سے جنگ کی صورتحال سے ملک و قوم کو نکال کر ایک آزاد ریاست کے خواب کی تعبیر دے سکتے ہیں۔ قرضوں سے محلوں کی تعمیر اور عیاشیوں کا بندوبست کرنے والے مواقعوں کے متلاشی سودے بازکبھی ترقیوں کے محرک نہیں بن سکتے۔

اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو پھر دائیں بائیں دیکھنے کی بجائے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔ قرضوں اور امداد پر انحصار کی بجائے اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ہوگا جس کے لئے پہلے کشکول کو توڑنے کی کوئی راہ نکالنی ہوگی اور فی الفور ایک آئینی ترمیم لانا ہوگی جس کے تحت آج سے اس خداداد ریاست کے لئے قرضے کی بات کرنے والا غدار وطن ہوگا۔ کشتیاں جلا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اس کے بعد اعدادی ہیرا پھیری کے ماہرین کو خزانے پر بیٹھانے کی بجائے مروجہ آزمائے ہوئے طریقوں سے ہٹ کر متبادل زرائعے کا سوچنے والے اس ملک کے ساتھ مخلص، ایماندار، اچھی شہرت ، وسیع علم و تجربہ اور کارکردگی کے حامل حقیقی محب وطن معاشی، سماجی، مالی،  اقتصادی، تجارتی، نظریاتی، کاروباری ، توانائی اور زرعی ماہرین کا تھنک ٹینک بٹھانا پڑے گا جو اس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی حکمت عملی بنائے۔

یہ کوئی مشکل کام نہیں محض ایک قومی معاہدے کی ضرورت ہے جس کے تحت تجارتی اور گردشی خساروں اور قرضوں کو ختم کرنے کے لئے عوامی جیبوں سے ہاتھ نکال کر اشرافیہ اور عوام کے درمیان حائل آسائشوں کی بنی ہوئی تفریق کے حصار کو توڑ کر عوام کے حکومت پر اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اور برابری کی بنیاد پر بنائی گئی صفوں میں سب کو کھڑے کرکے آگے بڑھنے کی راہ کا انتخاب کرنا ہوگا جس کی ہمارے آئین کا دیباچہ اور شہریوں کے حقوق کا ابتدائی باب ضمانت دیتا ہے۔

تمام شہریوں کے درمیان سے خاص و عام کی تقسیم کو ختم کرکے سب کو دو وقت کی سوکھی روٹی اور پانی کا گلاس ہو یا دیسی گھی کی چوری میسر ہو سب کو ایک جیسے حالات میں زندہ رہنے کا ایک قومی معاہدہ کرنا ہوگا اور اس تفریق کو ختم کرنے کے لئے اس ملک کے خزانے سے حاصل تمام سہولتیں اور آسائشوں کو برابری کی بنیاد پر یقینی بنانے کی سادہ سی قانون سازی کرنا ہوگی اور جس دن اس پر عمل شروع ہوگیا وہ اس ملک کی تقدیر کو بدل کر حقیقی انقلاب لانے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔

کشکول توڑنے کے لئے تمام تر بیرونی قرضوں کو اندرونی قرضوں میں بدلنا ہوگا جس کے لئے ملک پر موجود قرضوں کی رقم عوام کی جیبوں سے زبردستی نکالنے کی بجائے قوم سے مستعار یا منافع کی شرائط پر لینی ہوگی اور اس پر عمل کے لئے کوئی قومی مالی بانڈز متعارف کروا کر معاملہ حل ہوجائے یا معاشی ایمرجنسی نافذ کرکے قومی اور عوامی اثاثوں سے ان قرضوں کی یکمشت ادائیگی کو عملی طور پر یقینی بنا لیا جائے اس کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا۔ اور پوری قوم برابری کی سطح پر مہیا خوراک اور سہولتوں کے عوض اس وقت تک ملکی معاملات چلانے میں رضاکارانہ طور پر خدمت کرے گی جب تک ہم ایک آزادانہ تجارتی پالیسی سے اپنے تمام تر انتظامی، تجارتی، مالی اور کاروباری معاملات کو معمول پر نہیں لے آتے۔ اس کے بعد ایک غیرتمند قوم کی طرح ریاست کو چلانے کے عالمی سطح پر نئے معاہدے کئے جائیں جن میں تمام تر ماضی کی مجبوریوں سے ہٹ کر آزادانہ تجارتی معاہدے ہوں اور جہاں سے جو شے سستی ملے اس کو خریدا جائے اور اپنی مصنوعات کی قیمتوں کا جائز تعین کروانے کے لئے ایماندارانہ حکمت عملی کے تحت کوالٹی کی بنیاد پر کاربند رہنے کے اصول کے تحت اقدامات پر سختی سے عمل کروایا جائے۔

مالی پالیسیوں میں حکومتی اخراجات کو کم کرنے سے بچنے والی رقم سے تعلیم اور صحت کو بہتر کیا جائے اور توازن کے لئے ٹیکسز بڑھانے کی بجائے تجارت کے فروغ اور افرادی قوت کے زرائع کے استعمال کی طرف توجہ دے کر بنیادی تعلیم اور صحت کے علاوہ باقی خدمات کے شعبوں کو نجی حلقے کی طرف بالترتیب لاکر ذمہ داریوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کی کوششیں جاری رہنی چاہیں مگر اس کے لئے سرمایہ کار کو امن، منافع ، بدعنوانی سے پاک ماحول اور مالی تحفظ کا احساس دینے کے لئے مالی پالیسیوں کو متعارف کروانا پڑے گا۔

خوراک میں خود کفیل ہونے کے لئے ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا جس میں قوم فاقہ کشی کر کے بھی اپنی خوراک کی ضرویات کے پورا ہونے کو یقینی بنا سکتی ہے اور یہ کوئی بہت بڑا ٹارگٹ نہیں ہوگا جس کے لئے صرف ایک جامع زرعی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس میں اپنی ضروریات کو موجودہ قابل کاشت زمین کے اعدادو شمار سے ہم آہنگ کاشتکاری کا منصوبہ ترتیب دینا ہوگا اور زمین دار کو پیشگی اس کی فصل کے نرخ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا جو کسی بھی طرح سے مشکل ٹاسک نہیں۔

اس طرح سے توانائی کے بحران کے لئے بھی متبادل زرائعے دیکھنا ہونگے جن کا حل پنجاب اور دوسرے صوبوں کے علاقے جہاں نہروں کا جال بچھا ہوا ہے ان پر ہائیڈرل پاور پلانٹس، جوہری توانائی، سولر اور ونڈ ٹیکنالوجی کی طرف توجہ ہے تاکہ توانائی کے حصول کے سستے ترین زرائع سے حاصل توانائی پر انحصار کی طرف بڑھا جائے۔

ہمارا جتنا بھی ملکی سرمایہ بیرونی ممالک میں پڑا ہوا ہے اس کو قومی جذبے کے تحت رضاکارانہ طور پر واپس لانا ہوگا اور ملک کی پچہتر سالہ تاریخ کے کھوکھلے دعووں اور نعروں کو اب عملی جامہ پہنانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اب اس قوم کو اپنی حب الوطنی کے دعووں کا یقین دلانا ہوگا کہ ہم سب بحثیت شہری اس ملک سے حاصل کئے گئے فوائد کے بدلے اس دھرتی کو مشکل میں ہر وہ شے لوٹا دیں جس کا وہ آج ہم سے اس معاشی بحران میں تقاضہ کر رہی ہے اور یہ ہمارا ایک قومی فریضہ بھی ہے اور امتحان بھی۔

اور حالیہ سالوں میں جو بھی ملکی سرمایہ لے کر دیوالیہ ہونے کے خوف سے یہاں سے بھاگے ہیں ان کا پورا ڈیٹا ریاست کے پاس موجود ہے ان کو بھی دعوت دی جائے کہ وہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے اس قومی انقلابی معاہدے میں شامل ہو جائیں اور اگر وہ اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کریں تو جو دھرتی ماں کو بیمار چھوڑ کر بھاگے ہیں اور ان کا ضمیر نہیں جاگتا تو ان سے ناطہ ختم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

دنیا تےجو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے

 اس بے فیضےسنگی کولوں بہتر یار اکیلے

اور ہمیں امید ہے کہ اگر حکومت اخلاص کی بنیاد پر کوئی انشیوٹو لے گی تو اورسیز پاکستانی قوم کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

اور اگر حکومت اور اشرافیہ اب بھی اس طرح کے کسی معاہدے پر مفاہمت کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر قوم کو اس تاثر سے نہیں نکالا جاسکے گا کہ ملک کی اشرافیہ آج بھی اس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے مخلص دکھائی نہیں دیتی بلکہ ان کو آج غریب عوام کی نہیں بلکہ اپنی آسائیشوں، تنخواہوں، وضائف، مراعات اور عیاشیوں کے ختم ہونے کی خطرات کے پیش نظر ایک اور دھوکے میں ڈالنے کی کوشش ہے وگرنہ اگر وہ واقعی مخلص ہیں تو ان کو اس ملک کے خزانے سے حاصل شدہ آسائشوں اور مراعات کی تقسیم میں امتیازی سلوک کی ظالمانہ پالیسیوں اور قوانیں کو ٹھوکر لگانا ہوگی وگرنہ یہ نئے نئے چہرے بدلنے کے نئے تجربوں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔

ہمارے معاشی بحران ہوں یا سیاسی ان کی زیادہ تر ذمہ دار ہمارے انتظامی امور ہیں جن کی وجہ سے عوامی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہیں وہ خواہ ڈالر کی محبت میں روپے کی قدر کو خاک میں ملانے کی کوششیں ہوں یا فنڈ ریلیز ہونے کے باوجود عوام تک ریلیف نہ پہنچنے کا عمل یا عوامی مشکلات جن میں صحت کا سبب بننے والی ناقص ادویات اور غذاؤں کی بندش میں ناکامی اور عوام کی شکائات سن کر انصاف فراہم کرنے والے اداروں یا انتظامی اداروں کی کارکردگیاں ہوں ان کی انتظامی  نااہلیوں کابہت بڑا کردار ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ان میں تبدیلی نہ آئی تو یہ قرضوں اور مہنگائی کا سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ   جس طرح پچھلے پانچ سالوں میں ستر سالوں کےقرضہ  کا دگنا ہوا ہے اس نئے تجربے سے یہ مزید دگنا ہو جائے گا۔

اور اس ملک کی یہ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے جس بھی چیلنج سے نمٹنے کی ٹھان لی ہے کبھی بھی ناکامی نہیں ہوئی وہ خواہ محدود وسائل ہوتے ہوئے اٹامک پاور بننے کا خواب ہو یا ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو۔ اس قوم کے پاس بے بہا صلاحیتیں ہیں مگر ان کا غلط استعمال بد عنوانی اور آپس کی چپقلشوں پر ہو رہا ہے اور جس دن ان کی سمت ترقی اور خوشحالی کر طرف مڑگئی تو اس میدان میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں ہوگا بس ضرورت اس کو سمجھ کر اس پر عمل  کے ماحول کو ممکن بنانےکی ہے۔

قومی سطح پر خیالات، پالیسیوں اور عملی تجربوں پر محیط ایک مثبت مقابلہ کروانا ہوگا جس میں ملک کو موجودہ مالی قرضوں سے جان چھڑوانے کی تدابیر اور میکنزم تیار کرکے قومی ٹیلنٹ کو دعوت عام دینی ہوگی کہ وہ عملی طور پر اس کا اطلاق کر کے جو ان بیرونی قرضوں سے جان چھڑوائے اس کو قومی ہیرو مانا جائے گا اس حوصلہ افزائی کے خاطر قانون سازی کرنی ہوگی۔

اگر کوئی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے قرضوں کی ادائیگی کر کے ملک کو معاشی غلامی سے آزادی دلاتا ہے تو اسے قائد قوم کےقومی جانشین کا درجہ دے کر جہاں جہاں قائد کی تصاویر آوایزاں ہیں وہاں اس ملک کو معاشی غلامی سے نجات دلا کر کشکول توڑنے والے کی تصاویر بھی لگانے کا قومی عہد کرنا ہوگا۔ 


منگل، 26 مارچ، 2024

سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟

 

اس وقت دنیا میں سوشل میڈیا کے زریعے سے آزادی اظہار رائے کو ایک بنیادی انسانی حقوق کا درجہ حاصل ہے اور اس کی آسان و تیزر رفتار رسائی کے سبب عوامی مقبولیت نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے لیکن اس میں جو بنیادی مسئلہ ہے وہ اس کے غلط استعمال میں جوابدہی کا کمزور میکنزم ہے جس نے ریاستوں کے انتظامی معاملات سے لے کر سیاسی اور سفارتی تعلقات تک متاثر کردہ اس کا بڑھتا ہوا دائرہ ہے جس نے ریاستوں کی سالمیت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔  

ڈیجیٹل کمپنیاں جو سوشل میڈیا کی مالک ہیں وہ اس وقت معیشت اور جنگی ٹیکنالوجی کے بعد عالمی طاقت کے ایک تیسرے موثر ہتھیار کے طور پر پہچانی جانے لگی ہیں  جن کو مبینہ طور پر جاسوسی سے لے کر عوامی ڈیٹا حاصل کرکے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کرنے  اور عوامی رائے کو ہموار کرنے تک کا کام لیا جا رہا ہے۔ اور اس وقت کوئی بھی ریاست ایسی نہیں جو ان کے عمل دخل سے متاثر نہ ہو رہی ہو جن میں عرب سپرنگ سے لے کر موجودہ امریکی ایوان نمائندگان میں ٹک ٹاک پر پابندی کے بل کی منظوری تک شامل ہیں۔

جس میں بظاہر تو کمپنی کی ملکیت کی تبدیلیکی اہمیت اور افادیت کو بنیاد بنایا گیا ہے لیکن اس پر امریکہ کے صدارتی انتخابات کے امیدواران کے درمیان عوامی سطح پر جو بحث چھڑ گئی ہے اس سے اس کے سیاسی خدشات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔ جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں متاثر ہونے والی کمپنی بائٹ ڈانس کے ساتھ اختلاف ہونے کے باوجود اس پابندی کی مخالفت کی ہے اور ماضی کے صدارتی انتخابات میں بھی سوشل میڈیا کے عمل دخل سے حمائت کے الزامات کا پرچار رہا ہے اور دنیا کی تمام بڑی طاقتیں سوشل میڈیا کے سیاسی عمل میں دخل اندازی کے الزامات کا اظہار کرتی ہوئی دیکھی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کے جہاں مثبت اثرات کے فائدے ہیں وہاں اس کے جھوٹے الزامات اور بد اخلاقی پر مبنی بیانیوں کے پراپیگنڈے کے منفی اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس کا اندازہ سیاسی شعور کے نام پر اخلاقی تباہی سے لگایا جاسکتا ہے جس کے اندر ادب، تعظیم، بردباری اور برداشت ناپید ہو چکی ہے۔ اور اگر اب بھی ان سادہ ذہنوں پر انسانی بنیادی حقوق کی آڑ میں پھیلائی جانی والی اخلاقی تباہی، تخریبی سرگرمیوں اور انتشاری سوچوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہوگا جس سے کئی ریاستوں کو بہت بڑی خانہ جنگی جیسی تباہیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایسے ہی بیانیے پاکستان میں بھی پچھلے کئی سالوں سے چلائے جارہے تھے جن کی تباہی سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے معاشی تباہی لائی گئی بلکہ ریاست اور اداروں کے خلاف جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ کے زریعے سے سالمیت کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا جس کے رد عمل میں حکومت کو مجبوراً سوشل میڈیا کے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے حکمت عملی اپنانی پڑی جو سوشل میڈیا اور خاص طور پر ایکس کی سروس متاثر ہونے کی بنیادی وجہ بنیں۔

مگر اس کا حل پابندیاں نہیں بلکہ جس طرح سے پوری دنیا میں مختلف سافٹ وئیرز اور سائبر کرائم کنڑول کے اداروں کی مدد سے اس معاملے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے ہی ہمیں بھی اپنے آئی ٹی ایکسپرٹس کے زریعے سے  اس جنگ کو جیتنا ہوگا۔ ان بے بنیاد الزامات کو بے نقاب کر کے عوامی تاثر کو بدلنا ہوگا وگرنہ یہ پابندیاں اس ریاست خلاف شور و غوغے کو مزید تقویت دینگی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مزید تاثر ابھرے گا۔

اس پر کسی کو بھی اختلاف نہیں کہ سوشل میڈیا آزادی اظہار رائے کا ایک زریعہ ہے اور اس پر پابندی سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں مگر انسانی بنیادی حقوق کسی بھی صورت اپنی حدود و قیود، نظم و ضبط اور ملکی آئین و قانون سے ماورا آزادی کے دعوے دار نہیں اور نہ ہی شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں یا صحافتی شعبوں سے وابسطہ افراد کو اپنے حقوق کی آڑ میں ذمہ داریوں سے ماورائے آئین و قانون اقدام اٹھانے پر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

جس طرح سے ہمارے ہاں اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ایسی دنیا میں کہیں بھی اجازت نہیں دی جاتی کہ سب آئینی و قانونی اور اخلاقی حدود عبور کر دی جائیں جس اندازہ آپ کو ان نام نہاد انسانی حقوق اور صحافت کے علمداروں کی سوچ عمل سے بھی ہو سکتا ہے۔ پچھلے دنوں جب قانونی ادارے حرکت میں آئے تو انہوں نے اپنے اکاونٹس سے پوسٹس کو ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیا جو بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اندر اپنی کمزور بنیادوں اور قانونی خلاف ورزیوں کا احساس موجود تھا جو قانونی اداروں کی طرف سے در گزر کئے جانے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔

جہاں سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کو ایک بنیادی انسانی حق کا درجہ حاصل ہے وہیں اس کی آڑ میں تخریبی اور انتشاری سوچوں کو پھیلا کر ملکی امن اور سلامتی کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر خراب کرنا بھی محض ایک قومی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر جرم سمجھا جاتا ہے اور کسی بھی خود مختار ریاست کے اندر اس کی قطعاً اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بلکہ قومی اور عالمی قوانین میں بھی ریاستوں کو اپنی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کی گنجائش موجود ہے اور ہر ریاست ان کے اطلاق کا حق رکھتی ہے۔ جس طرح سے 9 مئی کو ریاست نے سوشل میڈیا کی سروس کو معطل کر کے دہشت گردی پر قابو پایا وہ عمل صرف قومی و عالمی قوانین سے مطابقت ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ عوامی تحفظ اور قومی سالمیت کی خاطر اٹھایا جانے والا عوامی سطح پر ایک قابل تحسین عمل تھا جس پر اختلاف کو نہ ہی قانونی طور پر اور نہ ہی اخلاقی طور پر سراہا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق اور صحافت سے منسلک ایکٹوسٹس کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقوق او ذمہ داریوں میں توازن کو قائم رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے کام میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کریں بلکہ اس کا سبب بننے والے ایسے عناصر جو ان حقوق کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی تشہیر کی خاطر قومی اور شہری ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور ریاست کے خلاف بے بنیاد الزامات سے عالمی سطح پر قومی تشخص کو خراب کرتے ہیں ان کو بھی بے نقاب کر کے ریاست کے دست و بازو بنیں تاکہ انسانی حقوق کی پاسداری کے تصور کو عملی جامہ پہنچانا آسان بنایا جاسکے کیونکہ ایک خود مختار ریاست کے تصور میں حقوق کی پاسداری کو تب ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے جب اس کو امن اور سالمیت میں مکمل تقویت حاصل ہو۔ یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بنیادی حقوق کی آزادی کو ریاستی سالمیت اور عوامی امن پر ترجیح دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی خود مختار ریاست کا آئین و قانون یا عالمی قوانین اس کی حمائت کرتے ہیں۔

جیسے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو عوامی تاثرات کی بنیاد پر آئینی و قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کی خواہشوں کے پیش نظر بد اخلاقی کا نشانہ بنایا گیا، ماضی کے واقعات پر استدلال کرتے ہوئے فوجی ادارے کو براہ راست دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے یا ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے لباس بارے برانڈز کو ڈسکس کیا جاتا ہے یہ کون سی انویسٹیگیٹو صحافت ہے جس کی خاطر ان عناصر کا بنیادی حق آزادی اظہار رائے خطرے میں دکھائی دے رہا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ان پابندیوں کے اصل ذمہ دار ہی اس طرح کی صحافت اور انسانی حقوق کی آواز اٹھانے والے ہیں جن کی وجہ سے سب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث زیادہ تر عناصر بیرونی ممالک میں بیٹھ کر عوامی ذہنوں کو خراب کرکے سالمیت کے لئے خطرہ بنتے ہیں۔ ان کو وہاں آسودہ حال رہن سہن میں یہاں کے امن، خوشحالی اور حب الوطنی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصد ہی امن عامہ کو خراب کرکے اپنے مالی فوائد کا حصول ہوتا ہے اور سادہ ذہن لوگ ان کی سازشی سرگرمیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

انسانی حقوق اور اصولی صحافت کرنے والے کبھی بھی اس طرح کے جھوٹے بیانیے کی حمائت نہیں کرتے بلکہ اگر انسانی حقوق کو انسانی ترقی کے متعلق  ہمارے عالمی سطح پر اعدادوشمار کی بنیاد پر درجہ بندی کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بات سمجھنا مزید آسان ہو جاتی ہے جس میں ہم 161 ویں نمبر پر ہیں جس کے براہ راست اثرات ہماری انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کی کار کردگی پر بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بغیر یہ لوگ انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر ریاست کے تشخص کو مجروح کرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کے اندر حب الوطنی کے فقدان کی بلکہ ان کی علمی نا اہلی کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔


میگزین