معذرت کے ساتھ، مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کچھ عرصے سے شدید تضادات کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حالیہ اندازِ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عوامی پذیرائی کو برقرار رکھنے کے لیے نئے سہاروں کی تلاش میں ہیں۔
اگرچہ اس جمود کا آغاز پی ٹی آئی کے ساتھ ان کے غیر مستحکم اتحاد اور نظریاتی لچک سے ہی ہو گیا تھا، تاہم انہوں نے ایک عرصے تک اپنے روایتی فنِ خطابت کے بل بوتے پر معاملہ سنبھالے رکھا۔ لیکن اب ان کے حالیہ عوامی اجتماعات کے خطابات، الفاظ کا انتخاب اور جذبات کا اظہار نہ صرف قومی سطح پر شدید تنقید کی زد میں آ رہا ہے، بلکہ ان کی اپنی اندرونی سیاسی بے چینی اور اضطراب کو بھی واضح کر رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا اپنے مخصوص مکتبہ فکر کے واحد اور مضبوط ترین سیاسی سہارا ہیں، لیکن ماضی میں دیگر مکتبہ فکر اور آزاد حلقوں سے انہیں جو وسیع حمائت حاصل ہوتی تھی، وہ اب ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مولانا کی ایک پہچان یہ بھی تھی کہ وہ ایک جمہوریت پسند عالمِ دین ہیں، مگر پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی مسلسل قربت، دوری، شدید تنقید اور پھر تذبذب نے ان کی سیاست کو جمہوری ہچکولوں کا شکار کر دیا ہے۔ اس غیر مستحکم رویے سے ان کا وہ ووٹ بینک ہل کر رہ گیا ہے جو خالصتاً نظریاتی بنیادوں پر قائم تھا۔ پی ٹی آئی سے کچھ حاصل ہونے کے بجائے، اب صورتِ حال یہ نظر آتی ہے کہ وہ محض اپنی ڈوبتی سیاست بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔




