سوچ کی غذا

پیر، 28 اگست، 2023

حکومت کو انتظامی امور پر توجہ دے کرعوام کو ریلیف دینا ہوگا

عبوری حکومت کوموجودہ معاشی بحران میں  ترقی کے پہیے کو روان کرنے کے لئے ملک کے اندر  مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت سے بڑھتی ہوئی بے یقینی کی صورتحال سے نمٹنا ہوگا تاکہ عوام کو سکون کا احساس دے کر بہتری کے لئے پر امید بنایا جاسکے۔ان کی ذمہ داریوں میں انتظامی امور کو بہتر بناتے ہوئے عوام کو ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے زریعے سے حکومت کی منتقلی اور ان کو ایک اچھے انتظامی امور کا نمونہ دینا ہوگا۔ تاکہ اگلی حکومت پر عوام کا ایک نگرانی  کا منصوبہ دیا جاسکےجسے وہ دباؤ سے بحال رکھوا سکیں۔ وہ اگلی حکومت کو اس دلیل کے ساتھ جوابدہ ٹھہرائیں کہ اگر عبوری حکومت حالات کو درست کر سکتی ہے تو پھر ایک انتخابی حکومت کی ناکامی بھی قابل برداشت نہیں ہوسکتی

حکومت کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے عمل سےساکھ کو بحال کرنا ہوگا۔ اب اس ٹیکنالوجی کی دور میں کسی سے بھی کوئی راز پوشیدہ نہیں سب جانتے ہیں کہ  ان کے وجود ، طاقت اور حکمت عملیوں کی بنیاد کیا ہے۔ اور نہ ہی اس تاثر کو بدلنے کی کوششوں میں وقت، توانائی اورپیسہ ضائع کرنے کی کوئی ضرورت ہے بلکہ اس تاثر کو بہتر کرکے اپنی بنیادوں اور محسنوں  کی ساکھ کو بہتر کرکے عوام کے دلوں میں محبت پیدا کی جاسکتی ہے۔

اور اس کے لئے پہلے سے ہی عبوری حکومت کے محدود اختیارات کی حدوں کوکافی حد تک وسعت دی جاچکی ہے اور اس کے لئے کسی طرح کی بھی نئی اصلاحات کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے پاس اب عوامی مطالبات سے فرار کا کوئی بہانہ ہے۔ صرف موجودہ قوانین پر عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔ افسر شاہی میں اچھی شہرت ، تجربہ اور کارکردگی کی بنیاد پر انتظامی عہدوں پرتعیناتیوں  کی ضرورت ہے ۔ ایسے لوگوں کو سربراہ بنایا جائے جو ملک و قوم کی خدمت کو ذاتی فائدوں پر ترجیح دیتے ہوں اور وہ افسر شاہی کے مافیہ کے ہاتھوں یرغمال بننے کئ بجائے ان کو کنڑول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی وجوہات میں معاشی بحران سے بھی زیادہ بد انتظامی اور بد عنوانی کا ہاتھ ہے۔ ایک ہی شہر کے اندر ایک ہی بازار میں ہر کسی نے اپنی مرضی کے نرخ لگائے ہوئے ہیں  اور متعلقہ محکمے جنہوں نے نرخوں کو حکومتی  تعین کردہ لسٹوں  کے مطابق یقینی بنانا ہے وہ کبھی بازار میں نظر ہی نہیں آئے۔ اگر وہ  کبھی کبھار بھی بغیر اطلاع کے  کم از کم رو زمرہ کی اشیاء خوردو نوش کی نرخ اور ان کی کوالٹی کوچیک کرنے کی روٹین کو بنائے رکھیں تو دکانداروں پر چیکنگ کا خوف رہے اور وہ عوام کے ساتھ ظلم کرنے سے با ز رہیں۔ جس سے نہ صرف عوام کی جیبیں محفوظ ہوجائیں بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہو اور حکومت کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوجائیں۔

بجلی کے بلوں پر احتجاج کے پیش نظر جس طرح سے گریڈ سترہ اور اس سے اوپر والے افسران کی مفت ترسیل کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے خوش آئند ہے اور اس پر عمل بھی ہونا چاہیے محض سابقہ حکومت کی کفائت شعاری کی پالیسی کی طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح سے عوامی دباؤ کی بنیاد پرباقی تمام مراعات کوبھی ختم کرکےبرابری کو ترویج دینا چاہیے تاکہ جب ان کی آسائشیں ختم ہوں تو ان کو عوام کی مشکلات اور تکلیف کا بھی احساس ہو کہ وہ کسی طرح سے زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کی رٹ کی کوئی کمی نہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آج تک آپ نے کبھی کسی ڈپٹی کمشنر، جج ، پولیس آفیسر،  جرنیل، وزیریا بیورو کریٹ سے کسی کو بدتمیزی کرتے دیکھا ہے۔ یا کبھی  ان کے اپنے کام رکتے دیکھے ہیں ۔ صرف  مسائل عام عوام کے لئے ہی ہیں۔  ہماری افرادی قوت میں بے تحاشا صلاحیتیں ہیں مگر ان کا استعمال عوام کی خدمت کی بجائے مسائل کھڑے کرنے پر ہورہا ہے۔

انتظامی عہدوں پر بیٹھے اور ریاست  کے اہلکاروں کے اثاثے اور آمدن میں  مطابقت کو دیکھنے کی اشد ٖضرورت ہے اور ان کی سکروٹنی ہونی چاہیے کہ ان کے  شاہانہ اخرجات کہاں سے پورے ہورہے ہیں بلکہ ان کے گھروں کی بھی تلاشی لی جانی چاہیے تاکہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت قوم کو واپس ملے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے ہر ترقیاتی ٹھیکے میں اوپر سے لے کر نیچے تک کمیشن چلتی ہے۔ اسے بند ہونا چاہیے۔

افسر شاہی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ان کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کی محدود سوچ  اور اختیاراتی اجارہ داری کی سوچ کو خدمت کی طرف موڑنے کے لئے ان کی  سوچ کو عوامی اختیارات سے ہی ضرب لگانی پڑے گی اور ان کے اندر ان کے اختیارات کوآئینی و قانونی اختیارات کی جوابدہی کے تابع لاکر یہ احساس پیدا کرنے اور اس کا یقین بٹھانے کی ضرورت ہے  کہ ان کا کام بادشاہت نہیں بلکہ خدمت ہے اور ان کی تنخواہیں عوام کی جیب سے آتی ہیں۔ کسی ایک مولا جٹ کو نوکری سے فارغ کرکے  جیل بھیج دیں سب ٹھیک ہوجائیں گے جیسے ہی ان کو اپنا عہدہ اور اختیارات خطرے میں لگیں گے یہ اپنی اصلیت کی طرف لوٹ آئیں گے ۔ لہذا ان کو اختیاراتی ڈسپلن میں رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

حکومت کو عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لئے فوری طور پر تمام  محکموں کے اندر تنخواہوں میں  برابری اور حکومتی اخراجات میں کمی کردینی چاہیے اور ریاستی وسائل کی بنیاد پر بنائے گئے امتیازی سلوک کو فوری بند کر دینا چاہیے اورعوام کی داد رسی کے لئے سخت اقدام اٹھانے چاہیں

یہ تبدیلی کا سفر حکومت کو نچلی سطح سے شروع کرنا چاہیے۔ صوبوں کی اکائی ضلع کی سطح پر عوام کو ریلیف دے کر امن ، استحکام اور ترقی کا یہ سفر شروع کیا جاسکتا ہے ۔

صوبائی حکومتیں صرف  ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کیمرہ لگا دیں اور اس کا کنکشن ڈائریکٹ ایک ہوم سیکرٹری کے دفتر میں ہو اور ایک  چیف منسٹر کے دفتر میں اور اسے یہ حکم دیا جائے کہ کوئی بھی سائل آپ سے ملنے آئے اس کو روکا نہیں جاسکتا ۔ آپ کو ہر حال میں اس کی داد رسی کرنی ہوگی۔دفتر کے باہر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ سارے معاملات خود بخود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔پنجاب  جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے 42 اضلاع ہیں  اور 42 مولا جٹوں کو کنٹرول کرنا  اس صوبے کے  چیف منسٹر کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ۔ اسی طرح باقی اضلاع میں بھی  کے پی کے کے 38، بلوچستان 36، سندھ 30، گلگت بلتستان 14، کشمیر 10 اور اسلام آباد 1ضلع ہے جو مجموعی طور پر 171بنتے ہیں ۔کیا اس ملک میں 171 ایماندار ، اہل اور قابل لوگ بھی  موجود نہیں یا اتنےسے لوگوں کو بھی کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ بھی ناممکن نہیں بس ضرورت ہے اخلاص اور نیت کی۔

ڈپٹی کمشنر کے پاس ایک ہی بہانہ ہوگا کہ میں کس طرح پورے ضلع کے سائلین کو ڈیل کر سکتا ہوں ۔ سادہ سا حل ہے کہ کسی بھی محکمے کے خلاف کوئی شکائت آتی ہے تو اس کو کہہ دے کہ اپنی کارکردگی ٹھیک کریں ۔ شکائت کا مطلب ہے کہ آپ کی کارکردگی ٹھیک نہیں۔ جب کارکردگی ٹھیک ہوگی تو شکائتیں خود بخود ہی رک جائیں گی۔ اور اگر شکایات نہیں رک رہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ  اس کے ضلع میں ماتحت محکموں میں لوگوں کے کام نہیں ہورہے اور وہ انتظام کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اس کو تبدیل کر دیا جائے۔

اسی طرح ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر میں بیٹھ کر اپنے ماتحت محکموں کے سربراہان کے دفاتر کو کیمروں کے زریعے سے مانیٹر کرے ۔ اس ٹیکنالوجی کے دور میں کوئی کام بھی مشکل نہیں بشرطیکہ ہمارے سیاستدان حل کرنے میں مخلص ہوں تو

اتوار، 27 اگست، 2023

سوچوں پر پہرے اور عدم تحفظ کا ماحول

انسان جب اپنی سوچوں کو تحریروں میں لاتا ہے تو پھر اس کی خواہشات، ارادے، چاہتیں، احساسات، تحفظات اور بہت کچھ دوسرے انسانوں تک پہنچتا ہے جس سےان پر ردعمل بھی ابھرتا ہے اور پھران کے نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس رد عمل کے اثرات  میں ایسے  اشارے بھی ہوتے ہیں جن میں محبت یا نفرت کا اظہار ہوتا ہے جو یقیناً ہمارے لئے خوشی، رائے قائم کرنے اور اپنی اصلاح کے لئےفائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن بعض دفعہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہماری تحریروں نے کس انسان پر کیا تاثر چھوڑا ہے، خاص کر اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں تو  اشاعت وسیع اور اس کے اثرات کو جاننا انتہائی پیچیدہ ہوچکا ہے۔ کچھ ایسے ہی چھپے رستم لوگ جن کے مفادات متاثر ہورہے ہوتے ہیں وہ ظاہر نہیں کرتے مگراپنے مقصد کو نقصان پہنچنے کا  بدلہ  لینے کی خاطر انتقام کی حد تک چلے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی چالوں اور انتقام کے جذبے سے ہم  چونکہ لا علم ہوتے ہیں اس لئے  ان کی چالوں کے خطرات سے بچنا انتہائی مشکل ہوجاتاہے۔ ایسی صورت میں اللہ کا فضل ہی کارگر ہوسکتا ہے جس کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔

آج میں کچھ ایسے ہی واقعات آپ کو سنانے جارہا ہوں جن سے نہ صرف ہمارے احساسات  متاثر ہوتے ہیں بلکہ خوف و اندیشہ اورنقل حرکت میں بھی محتاط ہونا پڑتا ہےاور ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے جس ہماری ذات کے علاوہ ہمارے ساتھ ہمارے خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میرے ساتھ ہونے والے ان واقعات  نے مجھے بہت محتاط کردیا  ہے مجھے اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنا پڑا ، جس سے میری آزادی بھی متاثر ہوئی ، میرا اظہار رائے کا حق بھی متاثر ہوا اور مجھے ذہنی , جسمانی اور مالی طور پر نقصان بھی اٹھانا پڑا ۔

کئی دفعہ ایسے لوگوں کے تعاقب کا سامنا کرنا پڑا ، دروازوں پر ڈندے برسائے گئے، گاڑی کو سڑک پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اب یہ لوگ کون ہیں اس بارے کچھ کہہ نہیں سکتا مگر ان کی روداد ضرور سنا سکتا ہوں۔اور پریشان کن بات تو یہ ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی شکائت کارگر ہوتی ہے اور نہ ہی ان سے کوئی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

ایک دن میں گھر پر بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور میں باہر گیا تو دو نوجوان تھے جن میں سے ایک  نے اپنا تعارف کسی ریڈیو سٹیسشن پر کام کرنے اور ساتھی کا پیشہ  ڈاکٹر بتایا ۔ میں نے پوچھا فرمائیے میں  آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ تومجھے کہنے لگے کہ یہاں پر زمین کی کیا قیمت چل رہی ہے میں نے اندازے سے بتایا تو پھر میرے گھر کے ساتھ بنے فلیٹس کے بارے معلومات لینے لگے ، میں نے ان کو بتایا کہ چوکیدار وہاں پر موجود ہوگا آپ اس سے معلومات لے سکتے ہیں مگر انہوں نے میرے ساتھ جانے پر اسرار کیا میں ان کے ساتھ  چلاگیا اور ان کو بتایا کہ فلیٹس کھلے ہیں اور آپ جاکر اندر سے دیکھ سکتے ہیں مگر وہ مجھے اندر ساتھ جانے پر زور دینے لگے جس پر مجھے تعجب ہوا ور میں تھوڑا محتاط بھی ہوگیا۔مجھے ان کے اس رویے پر کچھ گڑبڑ ہونے کا خدشہ ہواور میں نےتھوڑے سخت لہجے میں کہا کہ آپ جائیں اور دیکھ لیں تب وہ اندر چلے گئے تو میں گھر لوٹ آیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر دستک ہوئی باہر گیا تو وہی دونوں تھے اور  کہنے لگے کہ ہم کل دوبارہ آئیں گے تو آپ ہمارے ساتھ جا کر کچھ پلاٹ وغیرہ دکھا دیں۔ میں نے کہا بھئی میں اس بارے کچھ نہیں جانتا مگر وہ گزارش کے انداز میں بضد تھے ، میرے ساتھ پانچ سال کا بیٹا بھی تھا ،ایک نےاپنے پرس سے سو روپے نکالے اور میرے ساتھ کھڑے بیٹے کو دینے لگا۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو منع بھی کیا مگر انہوں نے زبردستی بیٹے کی جیب میں ڈال دئیے اور مجھ سے موبائل نمبر پوچھنے لگے۔ مجھے اخلاقاً نمبر بتانا پڑا ۔ دوسرے دن پھر مجھے فون آیا اور اپنا تعارف کروانے کے بعد کہنے لگے کہ ہم آج دوبارہ ا ٓپ کی طرف آ رہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہماری گاڑی میں  چلیں تاکہ ہم کچھ پلاٹ دیکھ سکیں ، تو میں نے انکار کر دیا کہ میں کچھ نہیں جانتا اور میں فارغ بھی نہیں ہوں ۔ آپ کسی پراپرٹی ڈیلر کو ملیں، وہ اسرار کرتے رہے مگر میں نے معذرت کرتے ہوئے فون بند کریا۔

اسی طرح ایک دفعہ میری گاڑی کو ایک ملنگ دوست نے روک لیا میری فیملی بھی ساتھ تھی اور بہروپیے کی طرح عمل کرنے لگا ، پیسے مانگے، میں نے اپنی استعداد کے مطابق پیسے دئے تو پانچ سو کا مطالبہ کرنے لگا اور ساتھ ہی اپنی پیشہ ورانہ انداز میں برا بھلا بھی کہے جا رہا تھا  اس کے الفاظ محض قابل اعتراض ہی نہیں بلکہ تضحیک آمیزبھی  تھے ۔بہرحال میں ملنگوں سے الجھنے سے تو رہا  میں نے اس سے جان چھڑواتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی مگر اس کے الفاظ نے مجھے کئی دن تک پریشان رکھا۔

ایک دن میں صبح صادق اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا تو ایک درویش صفت انسان اونچی آواز میں کچھ نعرے لگاتے ہوئے گزرا۔ میں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ وہ گلی کے آخر تک جا کر وآپس آگیااور میرے گھر کے گیٹ پر دو تین زور دار ڈنڈے برسائے، مجھے فقط میرے گھر کے گیٹ پر ڈنڈے برسانے  کا اندازعجیب تو ضرور لگا لیکن میں پھر بھی اس  کو ضرورتمند سمجھ کر اس کی مدد کے لئے  پہنچا تو وہ گلی کے آخری کونے سے مڑ رہا تھا۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میں اس کا پیغام تو نہ سن سکا مگر اس کے اشاروں سے سبق حاصل کرتے ہوئے حسب عادت اپنی تحریروں میں توقف ضرور کر دیا  کیونکہ تحریروں کا مقصد کسی کو زند پہنچانا تو نہیں ہوتا اور خاص کر جب کوئی اس طرح سے  انتباہ کر رہا ہوتو جان کی امان بھی تو چاہیے ہوتی ہے۔

ایک دفعہ میں جب دو ڈھائی بجے بچوں کو سکول سے لے کرگھر آیا اورجیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو الماریوں سے کپڑے اور ہر چیز بیڈ کے اوپر اتھل پتھل پڑی تھی ۔دیکھا تو کوئی گھر کے او ٹی ایس سے  سریے توڑ کرنیچے نازل ہوا تھا ، میرے اور بچوں پر خوف سا تاری ہوگیا ، چیزوں کو سنبھالا تو لیپ ٹاپ ، ڈیجیٹل کیمرہ اور بچوں کی وڈیو گیم غائب تھیں ، پولیس کو بلایا ، رپورٹ درج ہوئی ، موبائل لیبارٹری  والے آئے ، فنگر پرنٹس لئے ، واضح پرنٹس پر اطمنان کا اظہار بھی کیا ، مگر نہ کوئی گرفتار ہوسکا اور نہ کوئی اتہ پتہ ملا ۔ چوریاں تو ہوتی رہتی ہیں مگر اس واقعہ کے اندر کچھ عجیب اتفاقات بھی دیکھنے میں ملے جن کی وجہ سے کافی دنوں تک  میں اس بات پر غور و خوض کرتا رہا۔  ایک لفافے میں پرائزبانڈ پڑے تھے وہ بھی قسمت سے بچ گئے اور ایک دراز میں تین ہزار پاکستانی روپے اور ۸۰کینیڈین ڈالر بھی تھے جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے ۔  خدا جانے اس کو یہ سب کچھ نظر نہیں آیا یا اس کی ترجیحات کچھ اور تھیں ۔کچھ دنوں بعد مجھے بہارہ کہو تھانہ میں کچھ ملزمان کی گرفتاری کا علم ہوا تو میں  وہاں گیا سب انسپکٹر صاحب کو ملا اوران سے اپنے ملال کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ میں لکھی ہوئی چند کتابوں اور ڈیٹا کے چوری ہونے پرپریشانی کا اظہار کیا جس پر مجھے محسوس ہوا جیسے انکے اندر میرے لئے ہمدردی  کے احساسات پیدا ہوئے ہیں ۔انہوں نے اپنے موبائل سے خاص  زرائع پر رابطے شروع کردئے اور انکے انداز سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ میری مدد کرنا چاہ رہے ہیں ۔ مگر اچانک انکے انداز بھی بے بس سے لگنے لگے ۔

ایک دفعہ میری چلتی گاڑی کے ساتھ ایک گاڑی نے کچھ اس طرح سے سڑک پر اٹکیلیاں کھیلنا شروع کردیں کہ جان بچانے کے لئے گاڑی کنٹرول کرتے کرتے ایک درخت سے جا ٹکرائی، تھوڑے بہت زخموں سے جان بخشی ہوگئ، اور وہ انجان دوست رفو چکر ہو گئے ، جاکر ہسپتال سے پٹیاں لگوا لیں، الزام لگاتے بھی تو کس پر۔

بہرحال پاکستان ہے اور یہاں ملک و قوم سے محبت، اپنے خیالات اور اظہار رائے کو دوسروں تک پہنچانے کا ٹیکس ان چھوٹی موٹی اٹکیلیوں کی صورتوں میں دینا تو بنتا ہی ہے ، بس دعا کریں کہ اللہ کسی بڑے حادثے سے بچائے۔

موبائل پر کبھی کبھی وقت بے وقت نا معلوم نمبروں سے کالیں آنا  اور آگے سے پر اسرار خاموشی کی ہیبت تو یہاں ہمارے دیش کا ایک معمول کا عمل ہے۔ شروع میں میسنجر کے زریعے سے یہ ہمدرد لوگ مفید مشوروں سے مستفید  بھی کرتے تھے کہ آپ محتاط رہا کریں اور بتاتے تھے کہ ان کو ایسی تحریروں کی وجہ سے تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ میں ان دوستوں کومخلص سمجھ کر ہمیشہ اپنی تحریروں کو معرفت کے انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کیونکہ میر امقصد کسی کی دل آزاری یا دکھ پہنچانا تو ہوتا نہیں ہے۔

اور میرامقصد تو صرف اپنے محسوسات کا اظہار اور انسانی حقوق اور ترقی کے خواب کی تکمیل میں ایک چھوٹی سی کوشش ہی تو ہے۔

ملک میں ایک خوف کا سا سماں ہے۔ صحافت کی کتنی آوازیں دبانے کے لئے جانوں تک سے کھیلاگیا اور کچھ اپنی جانیں بچا کر محفوظ مسکن کی تلاش میں اپنے وطن سے دور اس مٹی کی محبت کے لئے ترس رہے ہیں۔  

ایسے ہتھکنڈوں سے  سوچوں پر پہرے لگا کر آزادا ور تعمیری سوچ کے زریعے سے ترقی  کی راہوں کی تلاش  میں رکاوٹیں تو کھڑی کی جاسکتی ہیں انہی دبا نے کی کوشش  میں ملک سےانکو بھگایا ضرور جاسکتا ہے  مگر وہ دبتی نہیں بلکہ وہ  کسی آزاد ماحول کا رخ کر کے پہلے سے بھی زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہیں ۔ لہذا بہتر یہی ہوتا ہے کہ سوچوں کے اظہار کے زریعے سے عوام کے رد عمل کو سمجھ کر حالات میں بہتری کی کوشش کی جائے چہ جائے کہ عدم تحفظ کے خوف کو بڑھا کر آوا ز کے دب جانے سے سب کچھ ٹھیک ہونے کا گماں کر لیا جائے۔  

 

بدھ، 9 اگست، 2023

ملکی حالات سے ابھرتے سیاسی خدوخال جمہوری نہیں لگ رہے۔

زمینی حقائق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد جمہوری اقدار ہمیں موافق آتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہیں۔ اس کی ایک وجہ تو قومی سطح پر سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کا فقدان بھی ہے جو ایک جمہوری نظام کے اندر کامیابی کے لئے لازم ہوتے ہیں لیکن جو ہماری پارلیمان قانونی اصلاحات کر  رہی ہے ان سے ابھرتے ہوئے تاثر سے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں  خود بھی یا تو جمہوریت سے نا امید ہوچکی ہیں یا پھر فی الحال ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ موجودہ  ملکی معاشی حالات میں  ریاست پچھلے ڈیڑھ سال سےجاری سیاسی عدم استحکام کی سوچ اور سرگرمیوں میں  مزید کسی چھوٹ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

جس کی سب سے بڑی وجہ خود سیاسی جماعتیں ہی ہیں جن کو اس دوران کافی موقع دیا گیا کہ وہ اصولی سیاست کی طرف لوٹ آئیں ، جن میں تحریک ا انصاف کا رویہ تو انتہائی قابل تشویش رہا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اپنے آپ کو سیاست سے الگ رکھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے مگرسیاسی حلقوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے مذاج  اس طرح کی آزاد، حساس اور با ختیار سیاست کے عادی نہیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پچھلی سات دہائیوں سےرائج روائتی  سیاست کے عادی ہوچکے ہیں ، جس میں جمہوریت کی روح رواں طاقت اسٹیبلشمنٹ رہی ہے جس  کا انہوں نے  خود بھی کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ہر فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق ہوتا رہا ہے جس کے پیش نظراب ہمارے سیاستدان  بھی ان سہولت کاریوں کے عادی ہوچکے ہیں ۔

نیوٹرل ہوئی ہےتو اس خلا کو پر کرنے کے لئے دوسرے اداروں نے وہی کردار اپنا لیا ہے اور ایسے حالات بنائے جارہے ہیں جن سے یہ پیغام جارہا ہےکہ وہ سیاست کو آزاد نہ چھوڑیں وگرنہ سیاست کا سنبھلنا ممکن نہیں رہے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر سیاست کو جمہوری اور اصولی رکھنے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے

اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری سیاسی جماعتیں یقیناً اسٹیبلشمنٹ کے  اپنے آپ کو سیاست سے دور رہنے کے دعوے پر یقین رکھتے ہوئے اپنے عمل  سے یہ ثابت کرتیں کہ وہ ان کی اس فیصلے سے خوش ہیں اور وہ آپس میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کراصولی سیاست  وجمہوریت  اور اس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی مستقبل بارے لائحہ عمل دیتیں ۔ اور اگر پھر بھی کوئی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا اشارہ ملتا تو ان کو جوابدہ بھی ٹھہراتیں۔مگر وہ نہ تو آپس میں مذاکرات کرسکیں اور نہ ہی پر امن سیاسی اور جمہوری ماحول بنا سکیں۔ جس کو اقتدار مل جاتا ہے وہ دوسروں کو انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور جن سے اقتدار چلا جاتا ہے انکی سیاست کا محور ملکی فلاح کی بجائے اقتدار کا حصول ہوجاتا ہے اورسیاست کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے زبردستی تحریک انصاف کو حکومت کے ساتھ انتخابات کے انعقاد کے لئے مذاکرات  پر بٹھایا مگر اس سے کوئی نتیجہ اخذ نہ ہوسکا۔ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہے تھی  لیکن تحریک انصاف کے کچھ قائدین کی طرف سے اب یہ بیانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ عمران خان نے جان بوجھ کر یہ موقع ضائع کردیا  اور پھر 9 مئی کے واقعہ کے دوران ان کے کارکنان کی سرگرمیوں نے تو ان کی ساری کی ساری سیاست کا کٹہ چھٹہ کھول کر رکھ دیا ہے کہ جیسے وہ اس گھمنڈ میں تھے کہ اپنی مقبولیت کے زور پر سب کچھ زبردستی منوا لیں گےاور وہ کسی بھی صورت اقتدر  کے حصول سے کم کسی بھی حالت  میں امن کے حق میں نہیں تھے۔ جس کی ایک دلیل ان کی وہ ساری سیاسی سرگرمیاں ہیں جن کو وہ  وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہوجانے کے بعد سے جاری رکھے ہوئے تھے جس میں ان کی مکملسیاست چوک چوراہوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔جس میں انہوں کئی بیانیے بنائے جن میں ایک سائفر کا بھی تھا جس پر اب ان کے اپنے لوگ ہی سیاسی کھیل کا انکشاف کر رہے ہیں اور عمران خان نے خود کئی یو ٹرن بھی لئے ہیں ۔جس کا آج وہ نقصان بھی اٹھا رہے ہیں ۔

;ان کو چاہیے تھا کہ وہ اگلے انتخابات عوام کی نمائندگی کا حق بھی ادا کررہے ہوتے۔ جس میں; وہ مکمل طور پر ناکام رہے اور ان کی سرگرمیوں کی بدولت جس میں وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش اور بلا حدود و قیود تنقید کی وجہ سے نہ صرف سیاسی جماعتوں کا اعتماد کھو بیٹھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب بھی اپنا اعتماد ضائع کر بیٹھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار پر تو اعتراض کیا جاسکتا ہے جس کاعمران خاں سمیت سب حصہ رہےہیں مگر ان کے ایک ریاستی ادارے کے کردار اور ذمہ داریوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس پر بے جا تنقید کرنی چاہیے۔ عمران خاں وزیر اعظم کے اعلیٰ منصب پر رہ چکے ہیں اس لئے ان کی سوچ اور عمل میں پختگی ہونی چاہیے ۔جب وہ خود اقتدار میں تھے تو وہ فوج کی حکومتی امداد کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے اور فوج پر تنقید کو ملک دشمنی سے تشبیہ دیتے تھے  ۔ویسے بھی ریاست کے کسی ادارے کے سربراہ کے ساتھ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے  کی خواہش یا  سیاست میں کردار کا مطالبہ نہ تو آئینی طور پر جائز ہے اور نہ ہی جمہوری اور اخلاقی اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں ۔  بلکہ وہ خود  عسکری ادارے کے سربراہ کی اپوزیشن سے ملاقاتوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اب لگتا یوں ہے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال اور خاص کر 9مئی کے بعد کے سیاسی حالات کے پیش نظر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ جب تک ملک کی معیشت سنبھل نہیں جاتی اور پاکستان ترقی کے سفر پرمستقل گامزن نہیں ہوجاتا یا کوئی پائیدار حل نہیں مل جاتا غیر سنجیدہ اور غیرجمہوری سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس سے ابھرنے والا تاثر پھر سے ایک ہائبرڈ جمہوریت   کے خدوخال پیش کر رہا ہے جس کا وزیراعظم شہباز شریف سے صحافیوں کی طرف سے سوال بھی کیا گیا جس پر انہوں نے مبینہ طور پرکہا کہ اگر ایسا تاثر ابھرتا بھی ہے تو وہ یہ سب کچھ ملک کی بہتری کے لئے کر رہے ہیں۔ پھر حکومت میں موجود سیاسی جماعتوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے سخت فیصلے کئے ہیں جن سے وجود پانے والی مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات نے ان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہےاور  ان کے ساتھ رکھے گئے غیر مساویانہ رویوں اورتحریک انصاف کو مہیا کی گئی سہولت کاریوں سے وجود پانے والی صورتحال کے ذمہ داران  کوہی اپنے کئے کو سنبھالنا ہوگا۔

سیاسی جماعتیں 2018 کے انتخابات کےحقیقی  نتائج کے تناسب والے مینڈٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ اگر انہوں نے سخت فیصلے کرکے اپنی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے تو اس کی وجہ 2018 کے انتخابات کی دھاندلی تھی  جس کا وہ صلہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔جس  کا حل  وہ قوانین میں ترامیم کے زریعے سے  ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس سے مستقبل میں جمہوری حلقوں کو مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عہدے اور سوچیں بدلنے سے حالات بھی بدل جاتے ہیں اور پھر پچھتاوے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسی ایسی قانونی ترامیم کی جارہی ہیں جو بنیادی انسانی حقوق سے بھی  متصادم ہیں جن کی موجودہ حکومت کو قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

"ووٹ کو عزت دو" کا نظریہ بھی بدلا بدلا لگ رہا ہے بلکہ اس کی جگہ اب"طاقت کو عزت دو" کا عملی ماحول بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ گویا مبینہ سول مارشل لاء کا کا تاثر ختم کرنے  کے لئے لاء کو مارشل کیاجارہا ہےتاکہ قانون پرعملدرآمد کے لئے عسکری طاقت میسر ہوکیونکہ جب عدالتوں تک "قانون کی طاقت "کی بجائے "طاقت کے قانون" کی  اشیر باد کو باعث شرف سمجھا جاتا ہے تو پھر قانون کو بھی اسی طاقت سے ہم آہنگ کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اس پر مریم نوازاپنی خاموشی سے شائد حکومت کے موجودہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت سے متصادم قانونی اصلاحات کے گناہوں سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنے کا جواز پیدا کر رہی ہوں مگر انکی آج کی  خاموشی سے  کل لا تعلقی کا دعویٰ کرنا مشکل ہوجائے گا۔  اسی طرح حکومت میں موجود سیاستدانوں کو بھی اگرکل  انہی قوانیں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھریہ مکافات عمل ہی ہوگا۔

مانا کہ اب پاکستان کے پاس زیادہ وقت نہیں کہ وہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور اعتماد کو بحال کرنے اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کے حاصل شدہ مواقعوں کو ضائع کرے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ جس نے بھی سیاست کرنی ہے وہ  آئینی، اصولی اور جمہوری اقدار کے حدود کے اندر رہ کر ملکی مجبوریوں کے پیش نظر اپنی سرگرمیوں کو حالات کی مطابقت میں رکھے ۔ یہاں تک کی سوچ تو جائز ہےاور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسوقت  ریاست کے لئے  معیشت جمہوریت سے بھی زیادہ اہم  ہے مگر اس کی بہتری کا راستہ بھی جمہوریت کی پگڈنڈیوں سے ہی گزرتا ہوا تلاش کرنا ہوگا۔ جمہوریت کو ریگولرائز کرنے کی سوچ تو قابل برداشت ہوسکتی ہے مگر اس کو پابند سلاسل کرنے کی سوچ مزید سیاسی گھٹن پیدا کرے گی۔

اگر ہم پائیدارامن، ترقی اور خوشحالی چاہیتے ہیں تو پھر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا اور اس کے لئے طاقت کے ایوانوں کو با اختیار بنانے کی بجائےپارلیمان اور الیکشن کمیشن کو مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا اور اس کی سربراہی کسی عوامی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی شخصیت کے حوالے کرنا ہوگا اور اس طرح طاقت کے ایوانوں کو بھی محفوظ سوچ کے تحت رکھنے کے لئے وہاں بھی اصلاحات لانا ہونگی جن سے ر یاست کے اداروں کی طاقت کو  آئین کے تحت لا کر اسے پارلیمان کے دست و بازو بنانا ہوگا۔  اختیارات اور ذمہ داریوں کی شراکت اورجوابدہی کاکوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ جمہوریت کو اپنے قومی اقدار سے ہم آہنگ تو بنایا جا سکتا ہے مگر اس کوانسانی حقوق کی پاسداری اورقانونی کی حکمرانی سے جدا کرکے فائدےحاصل نہیں کیا جاسکتے 

میگزین