سوچ کی غذا

پیر، 29 جنوری، 2024

پاکستان کو سوشل میڈیا کے محاذ پر سرد جنگ کا سامنا ہے

سوشل میڈیا یوں تو علم، ادب، معلومات تک رسائی اور عوامی رائے کو ہموار کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور انسانی علم و تربیت اور ترقی میں اس کا نمایاں کردار ہے لیکن بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح ہو رہا ہو، وگرنہ یہ تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس کی ایک جھلک ہماری موجودہ سیاسی صورت حال بھی ہے جس کے پیچھے ہماری اپنی ہی 10 سالہ محنت کے ثمرات ہیں۔ اس کے تحت ایک خاص سوچ و عمل، رویے اور مزاج کی قومی سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ ریاست کے وسائل اس کے ہاتھ میں تھے، عدالتوں نے اسے صادق و امین کی سند دی، صحافت نے اسے واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا، سوشل میڈیا کی جادوگری نے اسے امت مسلمہ کا لیڈر ڈیکلئیر کر دیا اور قوم نے ریاستی اداروں، انصاف کے عملبرداروں اور نام نہاد مدبروں کے فرمودات کی روشنی میں اسے تسلیم کر لیا۔ جس کسی نے اس کی مخالفت کی اس کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

اب اداروں کو جب اس اکھڑ، متکبرانہ اور تضحیک آمیز مزاج کا سامنا کرنا پڑا ہے تو انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں مگر ایک لمبے عرصے پر محیط محنت کے اثرات ختم ہوتے ہوتے بھی وقت درکار ہو گا۔ کیونکہ اس مزاج کی امامت میں اب عوام کی کثیر تعداد لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں اتر چکی ہے۔ جو اُس وقت بچے تھے وہ اب جوان ہو چکے ہیں اور ملک و قوم کا مستقبل ہیں جن میں سے کئی اہم ذمہ داریوں پر بھی فائز ہو چکے ہوں گے۔ جو اس وقت جوان تھے وہ اب کوئی ماں تو کوئی باپ بن کر اگلی نسل کی تربیت کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ جو سبق ان کو دیا گیا تھا وہ اب اگلی نسلوں کو منتقل کر رہے ہیں اور کئی اپنی بزرگی کے باعث قبیلوں کی تربیت کے کارنامے سرانجام دے رہے ہوں گے۔

ان کو اگلی دہائیوں تک اقتدار کے دکھائے گئے خواب اب ایک ضد بن چکے ہیں اور ان کے نزدیک اب سیاست کی تعریف ہی حصول اقتدار ہے جس پر عمل درآمد کے لیے وہ انتہائی اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ ان کی پیدا کردہ سیاسی تفرقہ بازی، انتشار پسندی اور عدم استحکام ملک و قوم کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرنے پر قادر ہو چکا ہے۔

اس سے متاثر ہونے والوں میں اچھی خاصی تعداد ایسے نام نہاد پڑھے لکھوں کی بھی ہے جو سوشل میڈیا کو آسمانی صحیفہ سمجھ کر اس کے مقدس فرمودات کو اپنے یقین کا حصہ بناتے رہے۔ ان میں استاد، ڈاکٹر اور سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں جو معاشرے کا ایک با اثر طبقہ ہیں مگر وہ بھی اس سیاسی تفرقہ بازی اور انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس سے قومی سطح پر ہی نقصانات نہیں ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارا قومی تشخص خراب ہوا ہے جس میں ہمارے بیرون ملک مقیم دوستوں کا بھی اچھا خاصا ہاتھ ہے جس نے ہمارے بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

اب انتخابات کو جس طرح سے متنازعہ بنا کر ایک نہ ختم ہونے والی انتشاری سیاست کو مزید طول دیا جا رہا ہے اس کا آغاز یوں تو 2014 سے ہی ہو گیا تھا مگر موجودہ منظرنامے میں 10 اپریل 2022 کو ایک آئینی طریقے سے ختم کی جانے والی حکومت کے بعد چند ووٹوں کے فرق والی قومی اسمبلی میں بیٹھنے کے بجائے چوک چوراہوں کی سیاست کو ترجیح دینے سے یہ شروع ہوا اور اپنی ہی صوبائی حکومتوں کو ختم کر کے جیلوں میں پہنچنے سے اب تک کا ہے۔

اگر ہم سمجھیں تو ہمارے لئے اس کے اندر ایک بہت بڑا سبق موجود ہے کہ کیسے اداروں اور ریاست کی باگ ڈور غلط سوچوں کے ہاتھوں میں آ جانے سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کا مزاج قوموں کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے اور ان کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ جس کی مثال 9 مئی ہے جو ایک لیبیا ماڈل کی سازش تھی جس میں اِسی طرح سوشل میڈیا سے عوامی ذہنوں کو سیاسی شعور کے نام پر انسانی حقوق اور جمہوریت کے جھانسے میں نظام کے خلاف ورغلا کر آزادی کی تحریک شروع کروا کر عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کر دیا گیا جس کو کنٹرول کرنے کے لئے ریاست کو سخت اقدامات اٹھانے پڑے اور جانی نقصانات سے ابھرنے والے عوامی اشتعال پر حکومت کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔ اب 13 سال ہونے والے ہیں اور ملک خانہ جنگی کی حالت میں ہے۔ اس انتشار پسندانہ جمہوریت نے لوگوں کا جینا محال بنا دیا ہوا ہے۔

ہماری فوج کی اعلیٰ صلاحیتوں، بروقت اقدامات اور کامیاب حکمت عملی سے 9 مئی کے فسادات پر قابو پا لیا گیا، وگرنہ اگر تھوڑی سی بھی دیر ہو جاتی تو اس انتشاری سیاست کی تباہیاں جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل جاتیں اور مشتعل عوام کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ ریاست کے اداروں نے اس نام نہاد شعور، جنون، آزادی اور مقبولیت کے غبارے سے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو بروقت بند کر کے ہوا نکال دی اور ان سازشیوں کے آپس کے روابط اور نیٹ ورک کو توڑ کر ان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ، جاہلانہ اور تباہ کن استعمال کا ظلم دیکھیے کہ کہا جاتا ہے یہ سب کچھ فوج نے خود کروایا۔ اب اس طرح کے مزاج سے عوام کے ذہنوں میں گھولے گئے زہر کا اندازہ لگا لیجیے کہ یہ کتنا خطرناک ہے اور ان کے ہم مزاج لوگ اس پر یقین کیے بیٹھے ہیں۔

کیمرے کی آنکھ نے جو شواہد اکٹھے کئے ہوئے ہیں وہ تو جھوٹ نہیں بولتے۔ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی وڈیوز وائرل کرتے رہے ان کے اپنے اکاؤنٹس کا ریکارڈ اور ان کے سیاسی الحاق کے شواہد موجود ہیں جن میں کوئی بھی نامعلوم نہیں بلکہ درجہ اول کی قیادت کی رہنمائی میں کارواں رواں دواں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پھرسادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنے جرموں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ مظاہرین ٹریپ ہو گئے تھے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کو کس نے ٹریپ کیا؟ ان کے ٹریپ ہونے کا سبب کیا بنا؟ ان کی قیادت کس نے کی؟ ان کو یہ سوچ کسی نے دی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جو بھی جواب تلاش کرے گا اس کو حقائق معلوم ہو جائیں گے۔

کچھ سیاسی جماعتیں محض جھوٹے بیانیے سے عوامی نفسیات کو ٹارگٹ کر کے مظلومیت کی ہمدردیوں سے عوامی سوچوں کو یرغمال بنانا اپنی کامیاب سیاسی حکمت عملی سمجھتی ہیں جس کا شکار ہو کر عوام سوشل خانہ جنگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں. عالمی سیاست میں ایسے ہتھکنڈوں سے تیسری دنیا کو بے وقوف بنا کر جغرافیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں جس کی مثال دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو علیحدگی کی تحریکوں کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔

اب اس بیانیے کے غلط ہونے پر کوئی شک نہیں مگر ان سادہ ذہنوں کو کون یقین دلائے اور کون انہیں ملک دشمنوں کے چنگل سے نکال کر آزاد کروائے۔ سوشل میڈیا نے ہماری قوم کو غلام بنایا ہوا ہے جس کا ان کو شعور کے گھمنڈ میں احساس بھی نہیں ہو رہا۔ کئی اینکرز بھی اپنی ریٹنگ کے چکر میں اس جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں اور مقبولیت کے لئے اس بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے نام نہاد صحافی اور سیاست دان اپنی صحافت اور سیاست کو جن خطوط پر چلا رہے ہیں اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ایسی سوچوں کو پہچاننے کا آسان سا حل ہے کہ دیکھا جائے جب پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو خراب کیا جا رہا ہو یا پاکستانی اداروں پر بے جا الزامات لگائے جا رہے ہوں تو خوشی کا اظہار کون کرتا ہے اور ایسے لوگوں کا تعلق کن سیاسی دھڑوں سے ہے۔ ایسی سوچیں کہیں بھی پائی جا سکتی ہیں۔ ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ مثلاً چند روز قبل ایران کی طرف سے حملہ ہوا تو اس سے ایسی سوچیں بے نقاب ہونے لگیں جن کو پہچاننے کے لئے قوم کو شعور دینے کی ضرورت ہے اور ایسی سوچ و عمل کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچوں کے علاج کے لئے ان کی وجوہات کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ ان کے پیچھے کون سے اندرونی و بیرونی عوامل کارفرما ہیں۔

ایسی سوچوں سے سادہ لوح عوام تو اپنی سادگی کے باعث یرغمال بنے ہی ہیں مگر جو اس کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئے وہ ایسا طبقہ ہے جس کو ریاست کے وسائل سے آسودہ اور خوشحال زندگی میسر تھی جن کا مسئلہ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری تھا ہی نہیں بلکہ وہ ایسے ماحول کی پیداوار تھے جن کا اس ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی جہاں ہی اور ہے۔ ان کی سوچیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے مزید وسائل کی تاک میں ذہنی محرومیوں کا شکار تھیں اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر وسائل پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ان میں غلط معلومات کی شکار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جنہیں پاکستان کے حالات بارے معلومات تک رسائی میڈیا کے ذریعے سے ہوتی رہی ہے۔

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ریاست اور عوام کی سوچوں میں یکسوئی لانے کے لئے ریاستی وسائل سے مہیا تنخواہوں، وظائف اور مراعات میں امتیازی سلوک کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سب کو ایک جیسے مسائل سے واسطہ پڑے اور ان کو معلوم ہو کہ ایک عام آدمی کی زندگی کیسی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ان کو عام آدمی جیسی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔

اس مزاج کو بدلنے کے لئے قوم کو ان بنیادی سنہری اصولوں سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے جن سے ان کو یہ ادراک ہو کہ کبھی بد اخلاقی کو شعور، کارکردگی سے خالی نعروں کے حامل کو نجات دہندہ اور قول و فعل میں تضاد رکھنے والے کو صادق و امین نہیں کہا جا سکتا۔

سیاست دانوں کو اگر اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے تو پھر ان کو اپنے رویوں سے اس کا ثبوت دینا ہو گا اور اپنا قبلہ درست کر کے پختہ اور سنجیدہ سیاست کی سمت بڑھنا ہو گا۔

اس میں قصور سوشل میڈیا کا نہیں بلکہ ان کا ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے استعمال سے ایسی سوچوں کو اس طرف موڑا اور شعور کے نام پر جہالت کو رواج دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا محاذ کھولا جس نے پاکستان کو ایک سرد جنگ کی طرف دھکیل دیا جو انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ قصور ہمارا بحثیت قوم بھی ہے جن کے شعور کی بنیاد قومیت نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے، جس کی بنیاد عقل و دانش نہیں بلکہ مسحور کن سبز باغات ہیں جن کا حقائق سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں، کردار و کارکردگی نہیں بلکہ دھوکے پر مبنی وعدے اور دعوے ہیں جن کی ماضی سے کوئی مطابقت ہی نہیں۔ ہم نے سوشل میڈیا سے دھوکہ کھانے کی راہ کا انتخاب خود کیا۔ ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ ہمیں معلومات دینے والے کی تعلیم، تجربہ یا معلومات کا ذریعہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہماری ذہنی صلاحیتوں کا وہ معیار ہی نہیں تھا جو مثبت تبدیلی کا موجب بنتا۔ اس میں کچھ کردار ہماری تعلیم و تربیت کی بنیاد پر وجود پانے والے مزاج کا بھی ہے جن کو اپنے ہم خیال مزاج کی طرف کشش محسوس ہوئی۔ اس میں دوسری جماعتوں سے مایوسی بھی ہو سکتی ہے اور کچھ نفسیاتی مسائل بھی ہیں جو ان کی محرومی کا سبب بنے ہوئے تھے اور ان کو جیسے ہی اپنی ہم مزاج سوچ ملی تو وہ کھنچے چلے گئے۔

اس کا حل اب انتہائی محتاط مگر پائیدار خطوط پر ڈھونڈنے کی ضرورت ہے اور اسے ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مہارتوں سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کو سوشل میڈیا کے محاذ پر ہی لڑنا ہوگا۔ قوانین اور اختیارات کے استعمال کے ساتھ ساتھ جھوٹ، تشدد اور فسادات کے سوچ و عمل کو بے نقاب کر کے معصوم ذہنوں میں بنائے گئے خاکے کے بناوٹی رنگوں کو مٹا کر ان میں نئے رنگوں کو بھر کر حقیقی نقوش ابھارنا ہوں گے جس کے لئے عقل و دانش اور عوامی نفسیات کے مطالعے کا سہارا لینے کی ضرورت ہو گی۔

وہ لوگ جو ان حقائق کو سمجھتے ہیں ان کو ریاست اور ریاست کے اداروں کا ساتھ دینا ہو گا۔ اس وقت ان کی سربراہی ذمہ دار اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ان کے لئے معاملات کو سنبھالنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن وقت درکار ہے۔ ماضی میں وہ غلط سوچوں کے زیر سایہ تھے اور قومی صلاحیتوں کا استعمال غلط ہوتا رہا لیکن اب بہتر کارکردگی حالات کے بارے مثبت اشارے دی رہی ہے۔

ہفتہ، 6 جنوری، 2024

جمہوری نظام کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے چلایا جائے

انتخابات کے انعقاد اور ملتوی کروانے کے دونوں بیانیے زور و شور سے جاری ہیں اور انعقاد بھی غیر شفافیت اور جانبداری کے خدشات کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ کوئی موسمی سردی اور امن عامہ کو بنیاد بنا کر ملتوی کروانا چاہتا ہے تو کوئی اس کے انعقاد سے متعلق انتظامی بد عنوانیوں کے خدشات کے پیش نظر اس سے راہ فرار تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔

ہمارے سیاسی حلقوں نے اپنے اعمال سے ایسا تاثر پیدا کر دیا ہوا ہے کہ گویا جمہوری نظام اس ملک میں ناکام ہوچکا ہے جب بھی جمہوریت سُکھ کا سانس لیتی ہے تو کوئی نہ کوئی جمہوری غدار اس پر شب خون مروا کر اسے کبھی ہائبرڈ مین کے ہاتھوں یرغمال بنوا دیتا ہے تو کبھی یہ مفاہمتی ہتھکنڈوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پھر ہمارے سیاسی پنڈت اپنے فرمودات جاری کرنے لگتے ہیں کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا۔ جو انتہائی قابل افسوس اور باعثت شرم موقف ہے۔ جب کسی کے مد مقابل کھڑے ہوں تو یہ جواز نہیں پیش کیا جاسکتا کہ مجھے جیتنے نہیں دیا جارہا بلکہ اپنی طاقت، جرات اور حکمت عملی سے دنگل جیتے جاتے ہیں۔ ماحول تو ہلا شیری یا ہار جیت کا اعلان ہی کر سکتا ہے۔ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لئے کبھی نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی اپنی بے بسیوں پر ہمدردیوں کی بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب تو ہوا کہ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ نہ ان کو کوئی کام کرنے دے گا اور نہ یہ پارلیمانی نظام کامیاب ہوگا۔

جب آئین و قانون ان کو نظام کے اندر بالا دستی دیتا ہے تو پھر اپنے ان حقوق اور منصب کو انہوں نے اپنی جرات اور حکمت سے ہی منوانا اور حاصل کرنا ہے جس کے لئے جذبے، دلیری اور قربانیوں اور سب سے بڑھ کر ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر سیاست کو کاروبار یا اختیارات کے حصول کو اپنی اجارہ داری کا مقصد بنا لیا جائے تو پھر ایسی سیاست کبھی بالادستی کی ضامن نہیں بن سکتی۔ وہ بھی ریاست کے وسائل اور اختیارات کے بلبوتے پر ذاتی مفادات کی خاطر سب کچھ کرتے ہیں اور تم بھی اگر آزادی ملے تو ان سے کم نہیں۔

اس کے نتائج کو اکثر متازع بنا کر پارلیمان کو عوامی امنگوں کے مطابق قومی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہونے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں جس نے سیاسی عمل میں بد اعتمادی پیدا کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاستدانوں کی ان کمزوریوں کے تحت پارلیمان کے اجلاس بھی انٹیلی جنس کی مدد سے چلائے جاتے رہے ہیں اور جب کہیں ان کی خواہشات کے بر عکس پارلیمان نے چلنے کی کوشش کی ہے تو آمریت کے ہاتھوں نظام ہی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

آج تیسری دفعہ پارلیمان کے ایوان بالا میں الیکشن کے التوا کے لئے قرارداد جمع کروائی گئی ہے اسے اگر جمہوری کہنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس میں دانشمندی یا سیاسی شعور کی موجودگی کا اعتراف بھی نا ممکن ہے۔ اور اس پر جو تبصرے ہورہے ہیں وہ بھی ربوٹک جمہوریت سے کم تو نہیں۔ جب اجلاسوں کے احکامات اور ایجنڈے کہیں اور سے آنے ہیں تو پھر یہ کام تو ربوٹک پارلیمان بہتر طریقے سے ادا کر لے گی۔

 اسے اگر آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے مزین کرکے آئین و قانون اور اگلے پانچ یا دس سالوں کے ترقیاتی منصوبے دے دیئے جائیں گے تو ان نام نہاد ربوٹس سے تو وہ حقیقی ربوٹک پارلیمان بہترین وژن دینے کے قابل ہوگی۔

تو ایسے حالات میں جب قوم اس کے انعقاد پر تذبذب کا شکار ہے تو کیوں نہ انتخابات کو سیاستدانوں کے درمیان کسی جمہوری معاہدے تک ملتوی کرکے ربوٹک پارلیمان بنا دی جائے اور غیر جانبدار اور غیر متنازع اچھی شہرت اور کردار کی حامل شخصیات پر مبنی ایک کونسل بنا دی جائے جو عوامی رائے اور امنگوں کی پاسداری کے لئے ان سے براہ راست حاصل کردہ تجاویز کی روشنی میں ربوٹک پارلیمان کو سفارشات پیش کرتی رہے۔ جس سے قوم کے 25 ارب کے لگ بھگ اخراجات بھی بچیں گے اور نظام بھی محفوظ رہے گا۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ نہ روز انتخابات ہوں اور نہ روز روز پارلیمان آمریت کے ہاتھوں یرغمال ہوکر سیاست اور جمہوریت کے لئے رسوائی کا موجب بنے۔ ان کی بانسری نے پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر دیا ہے۔

ویسے بھی اگر دیکھیں تو ماضی کی پارلیمان میں اکثریتی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محض پارلیمان کا حصہ ہوتے ہیں ان کی قانون سازی میں کارکردگی برائے نام ہوتی ہے۔  قوانیں پر عملدرآمد کا کوئی حل نہیں ڈھونڈھ پاتیں اور پھر جو قوانیں بناتی بھی ہیں ان میں تضادات اور ان سے ابھرنے والے سیاسی مسائل ہی اتنے ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ عوامی مقدمات پر توجہ دینے کی بجائے قوانین کی تشریحات پر لگی رہتی ہے۔ اب انتخابات کو وہ زبردستی کروانے کی ٹھان کر بیٹھے ہیں تو 8 فروری تک پاکستان کی ساری عدالتیں انتخابات کے بارے مقدمہ بازی کو ہی نمٹائیں گی اور اس سے کوئی خوش بھی نہیں ہے۔ باقی آمدن اور اخراجات کے ہندسوں کی جمع تفریق ہی ہے جس کو ربوٹک پارلیمان بغیر کسی غلطی کے خدشے کے احسن طریقے سے سر انجام دے لے گی۔ اور قراردادوں کے زریعے سے اگر عدلیہ اور دوسرے اداروں سے اپنے اختیارات کی بھیک ہی مانگنی ہے تو اس کی ربوٹک پارلیمان نوبت ہی نہیں آنے دے گی جب اس کو آئین و قانون اوراگلے پانچ سالوں کے منصوبوں بارے ڈیٹا دے دیا جائے گا تو غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومتی مشینری کو پورا شیڈیول دے دے گا اور اگر کوئی اس شیڈیول کے مطابق نہیں چلتا تو اس پر جرمانہ بھی عائد کر دے گا۔ اس پر عملدرآمد ویسے بھی حکومتی مشینری کے موڈ پر منحصر ہوتا ہے۔

ہاں اگر سیاستدانوں کو عہدوں کا حوس ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ وزیر اعظم کے لئے سادہ اکثریت سے 172 ارب دو تہائی کے لئے 228 ارب کی قیمت رکھ دی جائے اور قومی  وزارتوں کی قیمت سات سات ارب اور صوبائی کی پانچ پانچ ارب رکھ دی جائے۔ ایسے ہی صوبائی اسمبلیوں کی بھی اعداد کے مطابق قیمت متعین کی جاسکتی ہے۔ جو بھی علامتی طور پر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا وزیر بننا چاہے وہ رقم خزانے میں جمع کروا کے ربوٹک پارلیمان کو ثبوت جمع کروا دے اور اگر کوئی دوران عرصہ اسمبلی عدم اعتماد کے زریعے سے عہدہ حاصل کرنا چاہے تو پہلے والے کی ادا کی گئی رقم کو لوٹا کر اس کے برابر خزانے میں جمع کروا کر عہدہ حاصل کر سکتا ہے۔

 جب ایک ایک ممبر مبینہ طور پر ایک ایک ارب تک کے لگ بھگ اپنے حلقوں میں خرچ کرسکتا ہے تو پھر وہ اس عہدے کے لئے خزانے میں رقم کیوں نہیں جمع کروا سکتا۔ اسی طرح پارلیمان کے ایوان بالا کے لئے تو پہلے بھی یہی فارمولے چلتے ہیں جو مختلف لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں اس ربوٹک نظام کے زریعے سے وہ خزانے میں آئیں گے۔ صوبوں کے حساب سے جتنی سیٹیں ہیں ان کی بولی کروا لی جائے اور زیادہ آفر دینے والوں کو ممبران چن لیا جائے۔

انتخابات سے لے کر وزیر اعظم اور سینٹ کے انتخاب اور بعد کے سارے معاملات جب پہلے سے ہی مالی بے ضابطگیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں تو کیوں نہ ان کو مالی ضابطوں کے ماتحت لا کر عوامی فلاح کا زریعہ بنا دیا جائے۔ جو ماضی میں عوام کے نام پر مالی اداروں سے قرضے لے کر عیاشی کرتے رہے ہیں وہ اگر شوق سیاست و حکومت اور اختیارات و اجارہ داری رکھتے ہیں تو پھر اپنی جیب سے ملکی قرضوں کو ادا کریں اور عہدوں کے مزے لیں۔

حد ہوگئی ہے، ہماری ان زاتی مفادات اور خواہشات کے گرد گھومتی سوچوں نے پارلیمان، سیاست، جمہوریت اور حتیٰ کہ ملک و قوم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہماری اخلاقات کا یہ حال ہے کہ اس سے انسانیت بھی شرمندہ دکھائی دیتی ہے۔ ہم مسائل کو حل کرنے کی بجائے مسائل کا سبب بنے ہوئے ہیں اور مرغوں کی طرح ایک دوسرے کو لہولہان کرنے کے درپے ہیں۔ ہمارے اندر مہذب معاشروں والی کوئی خصلت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تو اس سے بہتر نہیں کہ نظام کو خود کار کر دیا جائے وہ دنیا کے بہتریں نظاموں اور بہتری کے اصولوں کو اٹھا کر لاگو کرتا رہے گا۔ اسی طرح اداروں میں بھی جہاں جہاں بے ضابطگیاں ہیں وہاں بھی ربوٹک نگران مقرر کر دئے جائیں جو آئین و قانون کے مطابق حکم صادر کرتے رہیں۔ کم از کم انسانیت کی تذلیل تو نہ ہو۔ دور جدید کی انسان کی بنائی ہوئی مشینری انسان سے زیادہ فعال، وفادار اور ایماندار ہوگئی ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور انسانوں کو سیاسی شعور، اعلیٰ اخلاقیات، وفاداری اور ایمانداری کے حصول تک اپنی اصلاح کے لئے فارغ چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان کو پہلی ربوٹک پارلمینٹ ہونے کا عالمی اعزاز بھی مل جائے گا۔

آئین میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں لیکن انتخابات کو ملتوی کروانے کا آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے جو ہر آئے دن کوئی نہ کوئی نئی منطق کے ساتھ وارد ہو جاتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے اندر جمہوریت لانے کے لئے تیار نہیں اور جو انٹرا پارٹی انتخابات کرواتی بھی ہیں تو اپنے بنائے ہوئی پارٹی آئین کا بھی خیال نہیں رکھ پاتیں اور آئینی اداروں کے اختیارات اور ان کی خود مختار حیثیت کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں دکھائی دیتے۔ ہر معاملہ خاص بندوبست سے چلانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں انتخابات عوامی خدمت کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کی حصول کے لئے کروانا چاہتی ہیں۔ نہ کوئی سیاسی اصولوں کی پاسداری ہے اور نہ کوئی جمہوری اقدار کی۔ 

جمعہ، 5 جنوری، 2024

سوشل میڈیا نے سیاست کو تفرقہ بازی اور جمہوریت کو انتشار پسندی کا شکار کر دیا ہے

صحافت، حق آزادی اظہار رائے کی تقدیس اور زرائع ابلاغ کے صحیح استعمال میں توازن بہت اہم ہوتا ہے تاکہ اس سے انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے صحافت کی خدمات کو محفوظ اور موثر بنایا جاسکے۔

پاکستان کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی بگاڑ کی کئی دوسری وجوہات میں ایک  بڑی وجہ عوام کو صحیح معلومات تک رسائی کا نہ ہونا بھی ہے۔ چونکہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے اس لئے عوام کے حقائق کو جان لینے تک ان کی رائے کے صحیح نتائج کی امید نہیں لگائی جاسکتی۔ جمہوریت سے مستفید ہونے کے لئے سیاسی شعور اور اعلیٰ اخلاقیات ضروری ہوتے ہیں جنہیں یہ جھوٹ کی سیاست اور صحافت تباہ کرتی جا رہی ہے۔

ان کے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کئے گئے فیصلوں نے ہماری سیاسی، معاشی اور اخلاقی اساس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جھوٹ بولنے میں سبقت کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اکثریتی مسلمان آبادی والی ریاست میں اسلام کے سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل جھوٹ کی بھرمار انتہائی قابل افسوس ہے جو ہماری عمومی معاشرت کی بھی عکاس ہے۔ اس کا اندازہ آپ کسی بھی وڈیو کی تھمب نیل سے لگا سکتے ہیں جس کا وڈیو کانٹینٹ سے کوئی خاص تعلق ہی نہیں ہوتا، باہر کچھ لکھا ہوتا ہے اور اندر خبر کچھ اور ہوتی ہے۔ جو ہماری قومی نفسیات کی صوتحال کا پتا دے رہے ہیں جو یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جب تک مصالہ نہیں لگایا جائے گا سودا نہیں بکے گا۔ ایسے ہی جھوٹوں کی بنیاد پر مہیا کی جانے والی معلومات نے ہماری سادہ لوح عوام اور خاص کر نوجوانوں کے ذہنوں اور سوچوں کو اس قدر خراب کر دیا ہے کہ کوئی امن کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ قوم اب ان مداریوں کے تماشوں کی عادی ہوچکی ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

اس جھوٹ کے پرچار میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ کسی نے اپنی سوچ اور صلاحیت کے مطابق اٹھانا ہوتا ہے۔ اور ہماری قوم صلاحیت ہی اتنی تھی۔ سادہ لوح عوام کو اس تک رسائی تو حاصل ہوئی مگر چونکہ ان کے اندر سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے طریقہ واردات  کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ نہیں تھی اس لئے اس نے "گنجے کو اللہ ناخن نہ دے" سے مصداق صورتحال پیدا کردی ہے جس سے عوام اپنی تباہی کا خود ہی سامان پیدا کرنے لگے ہیں۔  کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ معلومات دینے والے کی تعلیم ، تجربہ یا معلومات کا زریعہ کیا ہے۔ سادہ لوح عوام سوشل میڈیا کو سیاسی صحیفے کا درجہ دینے لگے ہیں۔ اس میں عوام کا بھی اتنا قصور نہیں اصل ذمہ دار تو وہ ہیں جو اپنے سیاسی و مالی مفادات کی خاطر اپنی اخلاقی، پیشہ ورانہ، آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر یہ سب کچھ کر رہے ہیں جنہوں نے عوام کی سوچوں کو ایک خاص سمت دے کر یقین کی حد تک پختہ کر دیا ہے جو اب ان کے سچ جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔

سیاست میں اس کا آغاز 2013-14 میں ہوا اور منصوبہ بندی کے تحت ایک سیاسی ہوا چلانے کے لئے دن رات تگ و دو کی گئی جس میں سرمایہ کاری سے لے کر اداروں کی ہدایات تک کی کوششیں شامل حال تھیں اور محض الزامات کی بنیاد پر اخلاق سے گرے ہوئے بیانیے کو چلایا گیا جس کا مقصد ایک خاص سیاسی جماعت کو نجات دہندہ بنا کر پیش کرنا تھا اور اسی منصوبہ بندی کا بیانیہ صادق و امین کے القابات سے شروع ہوا اور اب سازشوں کے بے نقاب ہوجانے کے بعد ان کی پردہ پوشی کے لئے معصومیت کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ صادق و امین کہنے والوں نے تو بعد میں اپنے الفاظ کو اسی ایک مقدمے تک محدود کرنے کی وضاحت جاری کر دی تھی مگر اس نئے فلسفہ معصومیت کی وضاحت کب آتی ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اندازہ لگا لیجئے کہ سوشل میڈیا کے اثرات کتنے گہرے ہوتے ہیں جو اب ایک ضد اور جنوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور اداروں میں اہم عہدوں پر بیٹھی شخصیات بھی اس کا شکار ہوچکی ہیں۔ جس کی مثال ماضی میں کئے گئے عدالتی فیصلوں سے بھی لگائی جاسکتی ہے۔

اُس وقت پاکستان میں اِس طرح کا ٹرینڈ پہلے سے موجود نہیں تھا اس لئے یہ خلاء پر کرنے کا تحریک انصاف کو موقع مل گیا اور سوشل میڈیا کے طریقہ واردات سے انہوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور ابھی بھی کوئی دوسری جماعت ان کا اس میدان میں مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ در اصل اب دس سالوں سے جھوٹ بولنے والوں کے لئے اپنے کرتوت چھپانا اور ویورشپ انکی مجبوری بن چکی ہے۔

اور اب یہ آگ ہر طرف پھیل چکی ہے جس نے سیاست کو تفرقہ بازی اور جمہوریت کو انتشار پسندی کا شکار کر دیا ہے اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ اس میں ملوث کرداروں کی  نجی زندگی سے لے کر اب تو مالی بدعنوانی تک کے الزامات اور ان پر سزائیں بھی سنا دی گئی ہیں جن کی بنیاد پر نااہلی بھی ہوچکی ہے مگر ضد اور جنون اس سے اپنی سوچ کو بدلنے کی بجائے ان کی صفائی کے حربوں میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔

اور دوسری طرف بدعنوانی کے جھوٹے الزامات پر عدالتی مخبریوں اور فیصلوں میں بریت کے باوجود اس کو ماضی کے حالات پر استدلال کرکے سہولت کاریوں کا نام دیا جارہا ہے۔ یہ سب سوشل میڈیا کا کمال ہے۔ ان دس سالوں میں تقریباً نوے فیصد مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا اس خاص منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں لگا ہوا تھا اور انہوں نے دوسری جماعتوں سے بخل رکھنے والوں کو شکار بنایا اور اب تو سارا منصوبہ بے نقاب ہوچکا ہے اور اس کے معمار اعتراف بھی کر چکے ہیں مگر اس کے باوجود سوشل میڈیا کا بھونچال تاثرات کوصحیح سمت کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اس جھوٹ کی بنیاد پر دی گئی معلومات کو شعور کا نام دیا گیا جس نے ہماری سیاست کو ہی نہیں بلکہ ہماری معیشت اور معاشرت کو بھی تباہ کر دیا ہے اور اس شعور کے نام پر بد اخلاقی کے تعلیمات نے مکالمہ، دلیل اور برداشت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ حالات چیخ چیخ کر الارمنگ دے رہے ہیں مگر جھوٹ کی پیداوار جنوں کسی کوسننے اور حقائق کو جاننے کے لئے تیار ہی نہیں۔

ریاست کو اس حساس معاملے پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے اوراس سے جان چھڑوانے کے لئے سب سے پہلے ان جھوٹ کی فیکٹریوں کو بند کرکے یا ان کو بے نقاب کرکے عوام کو صحیح معلومات تک رسائی کا کوئی میکنزم بنایا جائے تاکہ سادہ لوح عوام کی سوچوں کو درست سمت دی جاسکے جس سے وہ جھوٹ کی بجائے کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر اپنے نمائندوں کا چناؤ کرنے کے قابل ہوسکیں تب ہی جمہوریت کے ثمرات سے صحیح معنوں میں مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ تب ہی شفافیت اور غیر جانبداری سے کرائے گئے انتخابات سے مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس جنون کے نزدیک ماضی کے احسانات والے ماحول کی شفافیت اور غیر جانبداری کی جو تعریف ہے وہ اقتدار سے کم کسی بھی صورت پر مطمئن اور امن سے بیٹھنے والا نہیں وگرنہ اپریل 2022 کے بعد سے لے کر 9 مئی 2023 تک کے سیاسی عدم استحکام کے حالات دیکھنے کو نہ ملتے۔ جو اس بات کی دلیل ہیں کہ انتخابات جتنے بھی شفاف اور غیر جانبدار کروا لئے جائیں جھوٹ پر مبنی سیاست اس کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گی جب تک ان کو مطلوبہ نتائج نہیں مل جاتے۔ زمینی حالات خواہ سنبھال بھی لئے جائیں مگر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

لہذا اس جھوٹ کے پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات کے سلسلے کو روکنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ اس جھوٹ کی سیاست اور صحافت میں ملوث عناصر کو عدالتوں سے جھوٹا ڈکلئر کروا کر ان کی لسٹیں شائع کی جائیں اور ریاست ان کواپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کا پابند بنائے جس سے ان کی اصلاح کا کوئی پہلو نکل سکے اور اس سے صحافت اور آزدی اظہار رائے کے حق کا صحیح استعمال بھی یقینی بنایا جاسکے۔ میڈیا اور صحافی برادری کو بھی اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور وہ ایسے گندے عناصر کی جوابدہی کا کوئی میکنزم بنائے کیونکہ اس سے ملک و قوم کے نقصان کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کی خرابی کا بھی سبب بن رہی ہے کیونکہ یہ بہروپیے ان کی شناخت کے پیچھے چھپ کر سب کچھ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیا ہاؤسز کی رجسٹریشن میں اچھی شہرت کی پیشہ وارانہ شخصیات کی شرط لاگو کرنے اور ان کو ضابطہ اخلاق کا سختی سے پابند بنانا بھی ضروری ہے۔

میگزین