موجودہ سیاسی حالات کا اگر جائزہ لیں تو ایک بات واضح نظر
آتی ہے کہ فوج اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور کل کی ڈی جی ،
آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر نے ایک
غیر معمولی پریس کانفرنس کرکے تمام باتیں واضح کر دی ہیں ۔ اور یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی ڈی جی ، آئی
ایس آئی کی پہلی کانفرنس ہے جو انہوں نے
اپنی ذمہ داریوں کے دوران کی ہو۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو پاکستان کے موجودہ
سیاسی حالات کی نزاکت کا بخوبی اندازہ ہے
اور انہوں نے وہ تمام امور اس پریس کانفرنس میں زیر بحث لائے جن پر آج کل
پاکستان کے سیاسی حلقوں میں خدشات ، تحفظات اور الزامات پائے جارہے تھے ۔ انہوں نے اپنی غیر جانبداری میں نیوٹریلٹی ، جانوروں سے
تشبیہ ، میر جعفر و میر صادق کے القابات اور چوکیدار کی غداری تک کے اپنے اوپر
اٹھنے والے تمام الزامات کا جواب دیا اور
یہ باور کروایا کہ اس کی وجہ ان کا کوئی غیر آئینی قدم نہیں بلکہ اس کی بنیاد غیر
آئینی اقدامات پر مدد نہ کرنا ہے ۔ اسی طرح انہوں نے سائفر پر بھی وضاحتی بیانیہ سامنے رکھا
اور اس کی حقیقت سے پردہ چاک کیا کہ کب کب کیا کیا باتیں ہوئیں جو کہ پریس کانفرنس کا حصہ ہے جن کو یہاں
دہرانے کی ضرورت نہیں ۔اور عمران خان کے بیانیوں کو واضح طور پر جھوٹ کہہ دیا ان پر صحافیوں کی
طرف سے سخت سوال اٹھائے گئے جن میں ان کی دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں مداخلت تک پوچھا گیا اور انہوں
نے اس کے رد عمل میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے فوج کے کمانڈروں کا اجلاس
بلایا فوج کے کردار کو زیر بحث لاکر اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ فوج کو اپنے
آئینی اختیارات تک محدود ہوجانا چاہیے اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے ۔ اور دو
ہزار اکیس کے بعد سے انہوں نے خواہ وہ ضمنی الیکشن ہوں ، بلدیاتی الیکشن ہوں یا
عدم اعتماد کی تحریک کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی۔ اور ان کی اس بات کی شہادتیں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں
کی طرف سے آ چکی ہیں ۔ جن میں تحریک انصاف کی فوج کی ٹرولنگ بذات خود اس بات کی
دلیل ہے کہ انہوں نے فوج کی نیوٹریلٹی کو بنیاد بناکر ان پر تنقید کی انتہا کردی
جو ان کو اپنےدو ہزار اٹھارہ کی مداخلت کی قیمت کے طور پر ادا کرنا پڑی ۔ اور اس
ٹرولنگ کی برداشت پر دوسری جماعتوں کے
قائدیں فوج پر انگلی بھی اٹھا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے قائدیں کے ساتھ اب بھی
لاڈلوں والا سلوک کیا جارہا ہے ۔ کیونکہ ماضی میں اگر کوئی فوج پر معمولی سی بات
بھی کرتا تو اس انتہائی سخت رد عمل کا
سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ تو اس سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ یہ
لاڈ نہیں بلکہ اپنی نیوٹریلٹی کو ثابت کرنے کی کوشش ہے اور وہ اپنی سابقہ غلطیوں کی قیمت چکا کر بھی اپنے کردار کو آئینی حدود میں رکھنا چاہتے ہیں ۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ آپ نے عمران خان کے ساتھ جو آپ کا شفقت بھرا رویہ ہے یہ کسی اور کے ساتھ تو نہیں
رہا جس پر انہوں نے یہ کہا کہ کہ اگر کوئی پاکستان کے کسی ادارے پر الزامات لگاتا
ہے تو آئینی طور پر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پر ایکشن لے ۔اور ان کا یہ موقف سو فیصد ٹھیک تھا ۔ یہ
حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اداروں کے آئینی اقدامات پر ان کو مکمل تحفظ اور
بے جا اٹھنے والے الزامات پر قانونی ایکشن لے ۔ ارشد شریف کی شہادت پر ان کے خلاف جو الزامات کا سلسلہ جاری
تھا اس پر بھی انہوں نے معلوم حقائق کی روشنی میں وضاحت پیش کی اور بتایا کہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ
وہ اس پر غیر جانبدارانہ تحقیق کرکے حقائق قوم کے سامنے لائیں اور اس تحقیق میں سے
اپنے آئی ایس آئی کے نمائندے کو بھی صرف اس لئے ہٹا لیا ہے کہ غیر جانبداری پر
کوئی انگلی نہ اٹھ سکے ۔ اب اس پریس کانفرنس کے بعدجس جس نے بھی اس طرح کے الزامات لگائے ہیں ان کی ساکھ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ابھر آیا ہے ۔ جس میں وہ تمام صحافی ، سیاستدان شامل ہیں جنہوں نے اس طرح کے آزادی اظہار رائے
کے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے الزامات
لگائے ہیں اوران کی وضاحت دینا بھی ان کا ہی فرض ہے ۔ فوج کی پریس کانفرنس میں زیادہ تر اشارے تحریک انصاف کے
موجودہ سیاسی پس منظر میں کردار کی طرف جاتے ہیں ۔ اور اگر ماضی کی تاریخ کے
حوالوں سے دیکھا جائے تو صرف فوج کو ہی ریاست میں مداخلت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ اس میں سیاستدانوں کا بھی
حصہ ہے جو اس کھیل میں شامل رہے ہیں اور
آج بھی دہرائے جارہے ہیں اس طرح عدلیہ کے
فیصلے بھی نظر انداز نہیں کئے جاسکتے ۔ تو اس سارے منظر نامے کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو آج یہ بات واضح ہوکر سامنے آرہی ہے کہ جب فوج اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو
سیاستدانوں کا ایک گروہ ان کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے کردار کو جاری
رکھیں دوسرے لفظوں میں انکو بلیک میل کیا
جارہا ہے کہ اگر انہوں نے ان کا ساتھ نہیں
دیاتو پھر ان کی سابقہ غلطیوں کے حوالوں سے نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔ آئینی حدود اور اختیارات تو اپنی جگہ مگر ہماری صورتحال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا مسئلہ
محض سیاسی یا آئینی نہیں رہا بلکہ اخلاقی بن چکا ہے ۔ کہ ہم خودنمائی کی اس حد تک پہنچ
چکے ہیں کہ جہاں ہمیں انفرادی طور پر اپنے آپ کے سوا کچھ دکھائی ہی
نہیں دیتا ۔ صرف اپنا قول و فعل ہی سچائی کے قریب لگتا ہے اور اسی کو ہم میعار سمجھتے ہیں جو انتہائی خطرناک صورتحال ہے ۔ ہماری سوچ پر ہمارے اس عمل
کی اس قدر دھاک بیٹھ چکی ہے اورمعاشرے نے اس رواج کو اس طرح اپنا لیا ہے کہ اب اس
خود غرضی کو برا بھی نہیں سمجھا جاتا ۔ تو اس سوچ کا شاخسانہ جہاں بھی نمودار ہوتا
ہے وہ اپنا رنگ دکھا کر ملک وقوم کو نقصان
پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔ ہم سب اسی دھرتی کے
سپوت ہیں مگر درج بالا سوچ کے حامل جب کسی عہدہ اختیار یا طاقت پر پہچتے ہیں
تو وہاں ان کی سوچ کے عمل سے خرابی شروع ہوجاتی ہے ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمیں ہمارے معاشرتی ماحول کو اخلاقی تربیت سے آراستہ کرکے بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اب سوچنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہمیں اب ماضی کی غلطیوں کو
تھوڑی دیر کے لئے بھلا کر اگر سب سٹیک ہولڈرز واقعی ملک میں آئین کی پاسداری کو
یقینی بنانے کے بارے مخلص ہیں تو پھر سب سر جوڑ کر بیٹھیں اور مستقبل میں غیر آئینی اقدامات کی خدشات کو ختم کرنے کے لئے
کوئی لائحہ عمل بنا کر اس کو عمل میں
لانے کاآغاز کریں ۔ جب فوج اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو
آئینی حدود میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بات بذات خود ایک اعتراف ہے اور کوئی
بھی اس حقیقت سے انکاری نہیں اور دوسری
طرف عدلیہ اور سیاستداں بذات خود بھی اپنے آپ کو اس سارے غیر آئینی عمل سے بری الزمہ کرار نہیں دے
سکتے تو پھر اس اعادے کے بعد بار بار
باتوں کو دہرانے کی بجائے اُس غیر آئینی سوچ کے دہرائے جانے کے خدشات پر قدغن
لگانے کی ضرورت ہے ۔ ہم جس جمہوریت کے سفر پر رواں ہیں اس کے ابھی ہم نے کئی
مراحل طے کرنے ہیں ۔ اور سب سے مشکل دورانیے کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جب غیر ذمہ دار معاشرے کو یکدم آزادی اور آزادی اظہار رائے کا حق مل جائے
اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہ ہو تو پھر ایسے معاشروں کا شر ہی بہت بڑا چیلنج
بن جاتا ہے جس کا آج کل ہم سامنا بھی کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر اس آزادی اظہار
رائے نے جو گل کھلائے ہوئے ہیں اس سے شائد شیطان بھی پناہ مانگ رہا ہو ۔ جب ہم پارلیمانی نظام سے مستفید ہونے کی بات کرتے ہیں تو
پھر ہمیں اس پارلیمانی نظام کی کامیاب مثال برطانیہ میں ملتی ہے جہاں پچھلے ایک
ماہ میں تین وزیر اعظم بدل گئے ہیں مگر کوئی غیر اخلاقی بات نہیں ہوئی ، کسی بھی
عالمی طاقت یا کسی دوسری ریاست پر الزام نہیں لگایا گیا ، کسی نے کسی ادارے کی
مداخلت کا ذکر تک نہیں کیا ۔ آپ ان کے پارلمنٹ ہاؤس میں ان کے بحث مباحثے کو دیکھیں تو کتنے تحمل ، تدبر اور
شائستگی کے ساتھ وہ باری باری ایک دوسرے کو کتنے دھیان سے سن رہے ہوتے ہیں اور چند
قطاروں میں آگے پیچھے بیٹھ کر اپنے مسائل
کو زیر بحث بھی لا رہے ہوتے ہیں ، اعتراضات بھی اٹھ رہے ہوتے ہیں ، جواب
بھی دئے جارہے ہوتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی کروایا جارہا ہوتا ہے ۔ اور جو بات
انتہائی دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ ان کا آئین کسی کتابی شکل میں نہیں ہےاور انہوں نے
پھر بھی اس کو ایک رواج کے طور پر اپنا یا ہوا ہے ۔ اب اس سارے ماحول کو اپنے پارلیمنٹیرین سے موازنہ کرکے
دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے کہ ہمارے شاہانہ نما پارلیمنٹ میں خودنمائی کے
دلرادہ ہمارے نمائندگان کیا کیا گل کھلاتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے کی عزت و تکریم اس میں موجود لوگوں کے اعمال
اور کردار سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ، انہوں نے خود ہی اپنے نظام کی کامیابی کو ممکن بنانا ہوتا ہے اور اگر وہ خود ہی اپنے مسائل کو وہاں سے اٹھا
کر چوک چوراہوں میں پہنچ جائیں اور پھر دوسروں پر انگلیاں اٹھانی شروع کردیں کہ
وہ ان کا تماشہ کیوں دیکھ رہے ہیں تو پھر زمانہ محو حیرت تو ہوگا ۔ اور پھر ستم کی بات یہ ہے کہ اپنی غلطیوں سے نظریں ہٹانے کے
لئے نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں ۔
- یہ دھرتی ہم سے پوچھتی ہے
- حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے
- قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں
- ہمارا قومی تشخص عالمی تناظر میں
- ترقی ، کامیابی اور اس کا راز
- ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟
- عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا
- عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے
- معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی
- سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟
- قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
کامیاب انسانی ماڈل
سوچ کی غذا
اتوار، 30 اکتوبر، 2022
فوج ، سیاستدان اور آئین
بدھ، 26 اکتوبر، 2022
عاصمہ جہانگیر کانفرنس آزادی اظہار رائے کا استعارہ ۔
یہ کانفرنس عاصمہ
جہانگیر کی وفات سے جاری ہے اور ہر سال اس کانفرنس میں انسانی حقوق کی آوازیں پہلے
سے زیادہ بلند ہوتی جارہی ہیں ۔ اور مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ عاصمہ جہانگیر کا مقصد
زندگی ان کی موت کے بعد اور بھی زیادہ سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔
کارنفرنس کے دنوں کا ماحول دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں انسانی حقوق کے
عملدار آواز حق کو بلند کرنے کے لئے اس
ساز گار ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلا خوف خوب دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔ ایسی
ایسی آوازوں کو موقعہ ملتا ہے جن کا بوجھ عام حالات میں میڈیا تو کیا سوشل میڈیا
بھی اٹھانے سے گھبراتا ہے ۔
کوئی تو ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں ان خوفوں ، نفرت کے لاوؤں ، شہریوں کے تحفظات ، اپنوں کے
شکووں اور ڈر کے خوف سے چھپے اور دبے ہوئے خیالات کو باہر آنے کا موقعہ ملے وگرنہ
یہ بہت بڑا خطرہ بن جاتے ہیں ۔ حد سے
زیادہ خوف کا ماحول بھی ریاست کی
کمزوری ہوتی ہے جو کبھی بھی دشمن کے ہاتھ
لگ سکتی ہے ۔
اس لحاظ سے تو یہ ٹھیک ہی ہے کہ شکوے شکایتیں کرنے اور دل کا حال جاننے کا موقعہ ملتا ہے ۔ دل کی حالتیں زبان پر آتی ہیں اور اندر ہی اندر دبے لاووں کے
پریشیر کو کم ہونے کا موقعہ ملتا ہے ۔مگرعقل وشعور کا
یہ تقاضہ ہے کہ اس کو محض ایک روائتی مشق سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اس
پر توجہ دیتے ہوئے دکھتی نبض کی علامات سے قومی بیماریوں کی تشخیص اور اس کا صحیح
علاج ڈھونڈنا چاہیے تاکہ پوشیدہ خطرات کو ختم کیا
جاسکے ۔
اس دفعہ پچھلی کانفرنس
کی بجائے شکائتوں اور شکووں میں تیزی
نظر آتی ہے ۔ پچھلی دفعہ تو وہاں زیادہ تر مقررین اپوزیشن سے تھے اور جن
حکومتی شخصیات کو بلایا گیا تھا انہوں نے
بھی اجتناب ہی برتا تھا اور جو چیف جسٹس صاحبان کی موجودگی میں تحفظات نے بے قابوپن کا مظاہرہ کیا تھا جس کی گونج بعد میں بھی کافی مہینے سنائی دیتی رہی ۔ مگر اس دفعہ حکومتی شخصیات کی
انتظامی سربراہی میں یہ حقوق کے
اظہار کا سلسلہ جاری رہا۔
اور جو نعرے وہاں
گونجتے رہے وہ دہرانے یا بیان کرنے کے قابل نہیں ۔اور وہ ہمارے سیاسی و انتظامی حالات میں تو شائد پبلش کرنے کی اجازت ، جرات یا
درجہ نہ رکھتے ہوں مگر دوسری طرف اس بات
سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج سوشل میڈیا کے دور میں کچھ بھی کسی سے چھپا
ہوا نہیں اور لمحوں میں پاکستان ہی نہیں
دنیا کے کونے کونے میں پھیل بھی چکے ہونگے۔
حکومتی نمائندوں کو وہاں ان کی موجودگی میں صحافت کی زبان سے ان کے منہ پر تھپڑ پڑنے تک کی بات ہوئی اور ان کو وہ آئینہ دکھانے کی کوشش
کی گئی جس سے وہ چہرہ چھپا رہے تھے ۔ اور لوگوں نے وہاں ان کی بے بسی کو منہ چھپاتے بھی دیکھا ۔ وہ ڈھٹائی سے سب کچھ سنتے رہے اور کچھ خوددار
وہاں سے اپنے عہدے کا خیال رکھتے ہوئے اندر باہر کے چکر بھی لگاتے رہے ۔
یہ کانفرنس پچھلی کانفرنسز سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ
اس کی پاداش میں وزیر قانون کو اپنے عہدے کی قربانی بھی دینی پڑی اور وزیر
خارجہ پر دباؤ بھی سننے میں آرہا ہے ۔ سپریم
کورٹ بار کے صدر محمد احن بھون نے تو اس کی وجہ ججز کی تعیناتی میں دیئے جانے والے
ووٹ کو کہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ اثر کانفرنس
میں ان کی موجودگی میں قابل اعتراض تقاریرکا ہے جن میں اداروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ ووٹ اسلئے وجہ
نہیں کیونکہ وہاں تو انہوں نے اپنے بیانیے کے خلاف استعمال کرکے اپنی وزارت کو بچانے کی کوشش کی تھی وگرنہ ان کو
ووٹ دینے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا ۔ اور اس ووٹ کی سیاست نے عاصمہ جہانگیر گروپ کی وکلاء کے اندر مقبولیت کو بھی متاثر کیا ہے جس کا اندازہ ان کو اگلے الیکشن میں معلوم ہوگا
۔
ایک اور بات جو نوٹ کرنے کے قابل نظر آئی وہ یہ تھی کہ
پچھلی کانفرنس میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اور صوبائی اعلیٰ عدالتوں کی چیف
صاحبان نے بھی شرکت کی مگر اس دفعہ فقط جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہی نظر آئے جنہوں نے
ہوش ربا اور سبق آموز خیالات کے زریعے سے تاریخ کے حوالوں سے ریاست کے ہر ذمہ دار کو باور کرانے اور عوام
کو ان کے حقوق کی نشاندہی کرکے جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی
پاسداری میں ممد و معاون قوانیں اور طریقہ کار کو مختصراً مثالوں اور حوصلہ
افزاء انداز بیان سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جو واقعی سامعین کے لئے ہمارے نظام عدل کے مستقبل کے متعلق ایک امید کی
کرن تھی۔
اس کانفرنس میں پاکستان کی تاریخ کے حوالوں کے سہارے ریاست
کے ہر جبر، آمریت، لاقانونیت، جمہوریت کو لاحق خطرات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جس جرات کے
ساتھ بیان اور للکارا جاتارہا ہے وہ نہ تو جھوٹ ہے ، نہ ہی کسی سے پوشیدہ ہیں اور نہ ہی ان کو
دبانے کی کوئی تدبیر کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔
وہاں جن خیالات اور سوچوں کا اظہار ہوتا رہا وہ قطعاً بھی
نظر انداز کرنے والی نہیں ۔ اور ان پیچھے
چھپی بے بسی خطرات کا عندیہ دیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ اس پر ریاست کے انتظامی امور
کی حامل طاقتوں کا صرف یہ کہہ دینا کہ اداروں پر تنقید اچھی نہیں ہوتی کافی نہیں ۔
بلکہ حقائق کو سمجھتے ہوئے اس کے سدباب کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔
ان سوچوں اور خیالات سے چھلکتی نفرتوں کو محبتوں کی چادر کی
ضرورت ہے ۔ ان کو اگر غلط فہمیاں ہیں تو بھی ان کو دور کرکے ان کو گلے لگانے کی ضرورت ہے
۔ قانون انسانوں اور معاشروں کی بھلائی کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ سزا و جزا کا تصور خوف پیدا کرکے معاملات کو صحیح رکھنے کی غرض سے متعارف کروایا جاتا ہے ۔ ان کے بے جا
یا تسلسل کے ساتھ استعمال سے ان کے پیچھے پوشیدہ جرائم سے بچاؤ اور ان سے نمٹنے کی حکمت
عملی کمزور پڑتی جاتی ہے ۔
ہماری تاریخی قومی بے وقوفیوں نے اعتماد ، باہمی محبت
، رواداری اور یکجہتی کو بری طرح
سے متاثر کیاہے اور اب وہ تمام حربے جو ناانصافیوں اور غیر مساویانہ اعمال کے نتائج کو دبانے کے کام لائے جاتے رہے
ہیں وہ بے اثر ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔
کسی انسان کو تکلیف یا موت سے ڈرایا ہی جاسکتا ہے اور اگر وہ خود ہی سولی پر لٹکنے کے لئے تیار ہوجائے تو وہ ناقابل تسخیر بن جاتا ہے ۔ ماضی
کی غداری اور حب الوطنی کی تعریفیں اور مثالیں اب اپنے اثرات کھوتی ہوئی دکھتی ہیں
۔ اب ان قائم کی گئی حدود کو کراس کرنے کا خدشہ ہی نہیں بلکہ عبور ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں اب ان کا علاج صرف اور صرف محبت ، انصاف اور مساویانہ برتاؤ سے ہی ممکن
ہے ۔
صاحب اختیار اور اقتدار طاقتوں سے گزارش ہے کہ اب تادیبی
کاروائیوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اس
کا پائیدار حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو مخلصانہ طور پر یقینی بنا کر ان شکائتوں ، خدشات ، غلط فہمیوں اور تحفظات کو دور کرنے
میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے وگرنہ کہیں
ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے ۔
اور اس میں سب سے زیادہ ذمہ داری سیاسی طاقتوں پر آتی ہے کہ
وہ اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر
مخلصانہ کوشش میں اپنی نیت اور عمل
سے اس کو تقویت بخشیں ۔
جمعہ، 16 ستمبر، 2022
علم نجوم کی سیاسی، سائنسی اور قانونی حیثیت
قسمت اور مستقبل کا حال بتانے کو کچھ لوگ علم
کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں ۔ جن میں سیاستدان اور مشہور
شخصیات بھی شامل ہیں اور آجکل پاکستان کی سیاست میں اس کی بنیاد پر بڑے بڑے مشہور
ٹی وی چینلز پر نام نہاد نجومیوں کو بلا کر پروگرام کئے جاتے ہیں اور پھر ان کی
تشہیر بھی کی جاتی ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی سچائی کے بھی خود ساختہ
دعوے اور چرچے کئے جاتے ہیں ۔
سادہ عوام ان کو دیکھ کر یقیناً تاثرات بھی لیتے
ہونگے اور ان کی بنیاد پر جب بڑے بڑے نامی گرامی اینکرز پروگرامز میں ان کا پرچار
کرتے ہیں اور پھر ان کو ماضی سے جوڑ کر ان نام نہاد نجومیوں کے دعووں کو سچا بھی
ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف عوام میں رائے ہموار ہوتی ہے بلکہ لوگوں
کی ذہن سازی بھی کی جارہی ہوتی ہے ۔ اور لوگ اس پر یقین کرتے ہوئے اپنے خیالات اور
سوچوں کو بھی بدلتے ہیں اور اس سے متاثر ہوکر اس کے پرچار کا حصہ بھی بنتے ہیں اور
پھر ایک رجحان کے زریعے سے خود بھی اس قسمت کا حال جاننے کے علم کا حصہ بنتے ہیں
اور ان نجومیوں کے ہتھے چڑھ کر نہ صرف اپنی دولت ضائع کرتے ہیں بلکہ مختلف توہمات
پرستی پر مبنی شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔
میں یہ بتاتا چلوں کہ ایک بات بہت ہی واضح ہے کہ
اس کی اب تک کوئی بھی سائنسی طور پر حیثیت نہیں اور نہ ہی سائنس اس کو تسلیم کرتی
ہے ۔ اور نہ ہی اس کو دنیا میں یا پاکستان میں کوئی قانونی تحفظ حاصل ہے ۔ نہ ہی ان
خدشات کو کسی عدالت میں ثبوت کا درجہ حاصل ہے ۔
پہلے سیاسی بابے ہوا کرتے تھے اور طوطوں سے
فالیں نکلوانے کے لئے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر جہالت کے سہارے اپنی دال روٹی چلا رہے
ہوتے تھے اب تو جوانیاں گھائل ہوتی جارہی ہیں اور جدید نام نہاد علم نجوم کے
ماہرین فائیو سٹار ہوٹلز میں قیام کرتے ہیں اور لوگوں کے نصیبوں سے کھیل رہے ہوتے
ہیں ۔
اب تو یہ سائنسی علوم کی بھی ایسی تیسی کر رہے
ہیں ۔ ہماری سیاست میں سیاسی علوم اور اصول و اسلوب بھی ان کی مرہون منت لگ رہے
ہیں ۔ اپنی افواہوں اور پشینگوئیوں سے یہ کسی کو وزیر اعظم کی خوشخبری دے رہے ہوتے
ہیں تو کسی کو جیل میں بند کروارہے ہوتے ہیں کسی کے جہاز کو گرا رہے ہوتے ہیں تو
کسی کو گولی مروا رہے ہوتے ہیں۔ اتنی چالاکی سے تمام ممکنات کو گوں مگوں کے مسالے
میں تڑکہ لاگا کر پیش کرتے ہیں کہ کل اگر غلط بھی ثابت ہوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی شک
کے شبہ کا جواز مہیا کرکے اپنے جھوٹوں پر پردہ ڈال سکیں ۔
اور پھر ان پشینگوئیوں سے سیاسی انتشار اور غیر
یقینی کی صورتحال کو جنم دے رہے ہوتے ہیں ۔ کچھ اسی سوچ کے صحافی بھی ان کے ساتھ
ملے ہوئے ہیں اور جیسے صحافیوں پر لفافی کے الزامات لگتے رہتے ہیں اسی طرح کیا پتا
ان کے بھی مقاصد کے پیچھے لفافوں کا ہی ہاتھ ہو کہ یہ اپنے اندازوں سے کسی کو
نقصان تو کسی سے فائدہ دینے کی اجرت وصول کر رہے ہوں ۔
کچھ اس
کو مذہب کا درجہ دینے کی بات کرتے ہیں وہ ان خیالات اور سوچوں کو اخلاقی پہلوؤں سے
جوڑنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں تو اس کا اخلاقیات سے کوئی تعلق
نہیں بلکہ اس طرح کی سوچوں والے خود علم نفسیات کے ابواب کا موضوع ہیں اور ان کے
اندر ایک خاص سوچ اور خیال غالب ہوتا ہے جو نفسیاتی مرض کا درجہ رکھتا ہے ۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں اس کی چیدہ
چیدہ مثالیں تو تھیں مگر اس کی دور جدید میں اصل بنیاد بھی انڈیا سے شروع ہوئی ہے
اور اس طرح اس کو توہمات پرستی کی ایک جدید صورت کہا جاسکتا ہے ۔
بلکہ مذاہب نے تمام علوم کی حوصلہ افزائی کی ہے
مگر علم نجوم اور ہاتھوں کی لکیروں کے زریعے سے احوال کو جاننے اور جادو ٹونے وغیر
کی طرز کے اعمال کی حوصلہ شکنی کی ہے ۔ تو
معلوم ہوا کہ اگر اس طرح کے علوم انسان کے لئے فائدہ مند ہوتے تو ادیان الہی میں
ان کی نفی نہ کی گئی ہوتی ۔
اگر جھوٹی خبروں کو پھیلانا جرم ہے تو پھر خدشات
کی بنیاد پر جھوٹی افواہوں کو پھیلانا کیا جرم نہیں؟ اور ان کی بنیاد پر
افراتفری کو ہوا دینا ملک کی سیاسی صورتحال کو خراب کرنا اور سیاسی عدم استحکام
پیدا کرنا جرم نہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بھی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے
۔
ویسے بھی جو علم احوال کے بارے خدشات تو رکھتا
ہو مگر ان کی تبدیلی بارے کوئی اس کے پاس اختیار یا حل نہ ہوتو ایسے علم سے تذبذب
، انتشار اور مایوسیوں کی امید تو کی جاسکتی ہے مگر بہتری کی توقع ممکن نہیں ۔
کسی بھی طرح کے خیالات اور سوچوں پر عمل پیرا
لوگوں کے پاس اپنی تسلی اور پیروکاروں کے اطمنان کی خاط دلائل تو موجود ہوتے ہیں
مگر ان کی بنیاد پر سائنسی ہونے کی کوئی شہادت نہیں ملتی اور نہ ہی کوئی عقلی جواز
سے رشتہ بنتا ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ
معاشرے کو اس طرح کے بگاڑ پیدا کرنے والے خیالات پر مبنی لٹریچر سے دور ہی رکھا
جائے اور عوام کو اس کے نقصانات سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے
لہذا حکومت کو اس پر نوٹس لینا چاہیے اور پیمرا
کو بھی اس طرح کے پروگرامز پر پابندی لگانی چاہیے ۔ پاکستان میں اس طرح کے اندازوں
کی قبولیت یا ان کے سدباب کا کوئی واضح قانون تو موجود نہیں مگر اس طرح کے خدشات
اور افواہیں جو انتشارپھیلانے کا باعث بن رہی ہوں بارے قوانین ضرور موجود ہیں جن
کے اطلاق سے ان مداریوں سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکتا ہے
اتوار، 11 ستمبر، 2022
زبان سیکھنے کا فن
زبانیں انسانوں کے
آپس میں روابط اور معاشرت کی تعمیر کا زریعہ ہوتی ہیں ۔ زبانیں تہذیب تمدن کے
پروان چڑھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور کسی بھی قوم یا قبیلے کی پیچان
بھی ہوتی ہیں ۔
اور اگر کسی کے ساتھ رابطہ یا معلومات کو شئیر کرنا ہوتو
اسکی زبان کو جاننا ضرورت بن جاتا ہے ۔
علم کا حصول بھی زبان کے علم کے بغیر ممکن نہیں اور اس وقت دنیا میں جس زبان کو سیکھنا ہر اعتبار سے دنیا کی
مجبوری بنی ہوئی ہے وہ انگریزی زبان ہے ۔ گو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس ضرورت کو کافی حد تک پورا کردیا ہے مگر زبان
کو سیکھنے کی افادیت سے پھر بھی انکار ممکن نہیں ۔ کچھ آسان سے طریقے درج ذیل ہیں
کوئی بھی زبان سیکھنے کے لئے پانچ سے چھ سو لفظوں کو سیکھنے
کی ضرورت ہوتی ہے جو اتنا زیادہ زخیرہ الفاظ نہیں ۔ اور یہ زبان دانوں کی تحقیق ہے
کہ بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو وہ پہلے پانچ چھ ماہ صرف سنتا رہتا ہے اور پھر چھ
ماہ کے بعد وہ چھوٹے چھوٹے ٹوٹے پھوٹے فقرے
بنانا شروع کرتا ہے ۔ لیکن چند باتیں قابل
غور ہیں جن میں پہلی بات یہ ہے کہ بچے بغیر کسی کوشش کے سیکھتے ہیں اور دوسرا ن کا سیکھنے کا کوئی
ارادہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ ذہن پر
اس کا دباؤ بھی نہیں لیتا ۔ اس کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ وہ کتنا مشکل کارم کر رہا
ہے بلکہ وہ شوق سے کر رہا ہوتا ہے ۔ وہ بلا ارادہ ماحول سے سنتا رہتا ہے اور اس
طرح یہ سننا اس کے زبان سیکھنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ دوسری توجہ طلب بات یہ ہے کہ
بچے کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ
غلط کہہ رہا ہے یا صحیح تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ
بولنے کی مشق کرتے ہوئے یہ پریشانی نہ ہو کہ میں صحیح بول رہا ہوں یا نہیں ۔
اسی طرح ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی زبان سیکھتے وقت
غیرزبان دانوں کو نہ سنیں ۔ ہمیشہ اہل
زبان کو ہی سنیں ۔ اور اہل زبان میں سے بھی کسی
اپنی پسند کی مشہور شخصیت کو جس کی
آواز اور لب و لہجہ آپ کو پسند ہو اس کو
سننے کی عادت بنا لیں ۔ جس طرح سیرت کی کتابوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ اس وقت بچوں کو
دیہاتی علاقوں میں بھیجنے کی ثقافت تھی ۔ جس طرح حضورور اکرم ﷺکو بھی حلیمہ سعدیہ کے ساتھ بھیجا گیا تھا ۔ اس کا مقصد
خالص زبان اور ثقافت کو سیکھنا ہوتا تھا ۔
آپ نے مشاہدہ کیا
ہوگا کہ بچے جس طرح کے ماحول میں رہتے ہیں اسی طرح کی زبان بولنا شروع
کردیتے ہیں بلکہ الفاظ اور لہجہ و انداز بھی وہی ہوتا ہے ۔ اسی لئے
کہتے ہیں کہ ہمیشہ کوئی بھی زبان سیکھنی ہو تو اہل زبان سے سیکھیں ۔ اگر ہم اپنے جیسوں سے سیکھنے کی
کوشش کریں گے تو ان کی کمیاں بھی ہمارے اندر آجائیں گی اور پھر ان کی اصلاح نئے سرے سے سیکھنے سے بھی زیادہ مشکل ہوگی ۔
اور کبھی بھی شروع میں
اس بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ سمجھ نہیں آرہی ۔ کیوں کہ جیسا میں
نے پہلے بھی بتا یا ہے کہ بلا کوشش زبان
سیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بغیر کسی پریشانی اور تعطل کے چھ مہینے تک یہ سننے کا
سلسلہ جاری رکھیں تو چھ مہینے کے بعد خود بخود ہی بولنا شروع کر دیں گے اور اس
سلسلے کو کبھی بھی صحیح غلط کا شکار نہیں
ہونے دینا چاہیے ۔
پھر ایک اور اہم راز یہ ہے کہ زبان ہمیشہ مجبوری کی صورت
میں ہی سیکھنا آسان ہوتی ۔ میر ا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ماحول میں آپ کے پاس جب
اس زبان کے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ہوتا تو پھر زبان جلدی بولنا آتی ہے ۔
دوسرا راز شوق میں ہے جب اس کے ساتھ شوق بھی شامل ہوجائے تو پھر کبھی انسان تھکتا
نہیں ہے ۔ انسان ہمیشہ نا پسند چیزوں سے اکتا ہٹ محسوس کرتا ہے ۔ محبت اور شوق سے
کبھی تنگ نہیں آتا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مہارت کے لئے مشق کی ضرورت ہوتی ہے
اور جتنی زیادہ مشق ہوتی جاتی ہے زبان میں روانی آتی جاتی ہے ۔ جس کے لئے وقت
درکار ہوتا ہے وگرنہ کوئی بھی زبان ہو اس کے لئے جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ پانچ
سے لے کر چھ سو تک زخیرہ الفاظ چاہیے ہوتے ہیں ۔ اور ان ہی الفاط سے فقرے ترتیب
پاتے ہیں جو بار بار ہماری گفتگو میں
دہرائے جاتے ہیں ۔ اور جب ہم کسی زبان میں
روانی کو پا لیتے ہیں تو پھر ہم بغیر سوچے سمجھے بولے جارہے ہوتے ہیں ۔
اس مہارت کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اندر یہ احساس ختم ہو کہ
ہم کوئی نئی زبان بول رہے ہیں یا یہ ہمارے لئے نئی زبان ہے یا اس کو بولنے میں
ہمیں مشکل درپیش ہے ، یا اس کو میں غلط بول سکتا ہوں ۔ ہمارے ذہن کے اندر یہ وہ خدشات اور خوف ہوتا ہے
جو ہمیں بولنے سے دور رکھتا ہے یا مشکل کاسبب بنتا ہے ۔
سیکھنے میں ہمیشہ دو باتیں رکاوٹ بنتی ہیں ایک خوف اور
دوسرا یقین ۔ آپ کہیں گے کہ خوف کی حد تک سمجھ آتی ہے مگر یقین کی سمجھ نہیں آرہی
تو اس پر پھر کبھی بات کریں گے ۔ اشارہ دیتا چلوں جب انسان یہ یقین بنا لیتا ہے کہ
وہ جو کچھ جانتا ہے ، دیکھ رہا ہے یا سن رہا ہے وہ ہی ٹھیک ہے تو پھر یہ یقین ہی
اس کے سیکھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔
تو ان خدشات اور خوف کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک تو
ہم اس فکر کے بغیر کہ ہم نے کوئی زبان سیکھنی ہے
فقط اس زبان کو سننا شروع کردیں ، اہل زبان کو سنیں اور حقیقی عملی زندگی
کے بارے پروگرامز کو سنیں ۔ جن میں خبروں اور تبصروں والے پروگرام بھی مدد گار
ہوسکتے ہیں لیکن اگر ہم بول چال سیکھنا
چاہتے ہیں تو پھر ہمیں فلمیں اور ڈرامے سننے چاہیں ۔ کیونکہ عملی بول چال میں
استعمال ہونے والے الفاظ اور فقروں کا سٹرکچر روزمرہ کی بول چال سے ہی مل سکتا ہے
۔
شروع میں سمجھ آئے یا نہ آئے ۔ اس مشق کو جاری رکھنا چاہیے ۔ یہ مشق مشکل
ضرور ہے مگر زبان سیکھنے کا صحیح اور پائیدار حل صرف یہی ہے ۔ تھوڑا وقت لگے یا
زیادہ اس کی صحیح اپروچ یہی ہے ۔
تو ان ڈراموں اور فلموں کے زریعے سے ہم نے اپنا ماحول بنانا
ہوتا ہے ۔
ایک اور اہم راز یہ ہے کہ جب آپ کو تھوڑی بہت سمجھ آنا
شروع ہوجائے تو کبھی بھی بولنے میں جھجک
محسوس نہ کریں ۔ اور دوسرا یہ کہ آپ سوچنا بھی اسی زبان میں شروع کردیں ۔ صحیح
طرح سے زبان آتی ہو یا نہ آتی ہو ، جیسی بھی آتی ہو اس کو اپنی سوچوں میں شامل
کر لیں ۔ سوچوں کا ساتھی بنا لیں ۔
اس سے ایک جو پہلا فائدہ ہوگا وہ یہ ہے کہ ہمارے اندر سے یہ
احساس آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جائے گا کہ ہم کوئی اجنبی زبان بول رہے ہیں جو
ہمارے بولنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتا ہے ۔ اور آہستہ آہستہ یہ مشق ہماری عادت بننا شروع ہوجائے گی اور اس طرح
یہ خود اعتمادی میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے گی ۔ اور ہم یہ محسوس کرنا شرع کر دیں
گے کہ ہم بول سکتے ہیں ۔
جب اعتماد بحال ہوگا تو سمجھ لیں کہ وہ زبان سیکھنا آپ کے لئے آسان ہوگیا ہے ۔
اور سوچتے سوچتے ایک موڑ ایسا آجائے گا کہ بلا سوچے سمجھے
آپ بولنا شروع کردیں گے اور یہ ہی کامیابی کی طرف پہلا قدم اور ثبوت ہوگا ۔
لیکن کوئی بھی کام سیکھتے وقت اس کے طریقہ کار کو صحیح
رکھنا چاہیے تاکہ یہ جب آپ کی پختہ عادت بنے تو اس کے اندر غلطیوں کا احتمال بلکل
نہ ہو یا کم سے کم ہو ۔ کیونکہ اصل خطرات غلطیوں کا پختہ عادت بن جانا ہوتا ہے ۔
مثلاً اگر آپ ڈرائیوری سیکھنا شروع کریں تو چاہیے کہ گاڑی کو اصولوں کے مطابق چلانا سیکھیں ۔ اگر شروع سے اصولوں کے مطابق عادات پختہ ہونگی
تو پھر کبھی ڈرائیونگ کے دوران غلطیوں کی گنجائش نہیں ہوگی ۔ اور جب غلطیوں کے ساتھ
ڈرائیونگ پختہ ہوجائے گی تو پھر اس کو درست کرنا انتہائی مشکل ہوجائے گا ۔
اسی طرح اگر شروع سے ہی غلط تلفظ اور غلط سٹرکچر کی عادت بن
جائے گی تو پھر بعد میں ان کی تصحیح
انتہانی مشکل ہوجائے گی ۔ ایک تو اہل زبان کو سمجھانا مشکل ہوگا اور دوسرا سمجھنے میں بھی دشوار ی ہوگی ۔
تو اگلے مضمون میں ہم ان الفاظوں کا زخیرہ حاصل کرنا شروع
کریں گے اور کوشش کریں گے کہ کسی اہل زبان کی آواز میں سننا شروع کریں اور میں
کوشش کرونگا کہ آپ کو شروع میں آسان سی وڈیوز تجویز کروں جن کو سننے میں دقت بھی
کم ہو اور سمجھ بھی زیادہ آئے
منگل، 6 ستمبر، 2022
ذہانت کو کیسے بڑھایا جائے؟
انسان کے اندر بے بہا خصوصیات ہیں اور جو سب سے بڑھ کر ہے وہ اس کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہے جو اس کو دوسری مخلوقوں سے اشرف بناتی ہے ۔
آپ کے ماحول میں کئی
ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی ذہانت کی بنیا د پر معاملہ فہم ہونے کی وجہ سے معاشرے میں
عزت کی نگاہ سے دیکھے اور پہچانے جاتے ہیں اور یقینا آپ کو ان پر رشک بھی آتا ہوگا ۔
اس ذہنی استعداد کو انسان کا آئی کیو (انٹیلی جنس کوشنٹ) کہا جاتا ہے جس کو دیکھنے کے لئے انسانی کی نفسیاتی ، علمی اور معاملہ فہمی کی استعداد کو دیکھا جاتا ہے ۔ جس کا فارمولا کچھ یوں ہے
آج ترقی یافتہ ممالک میں آئی کیو کے زیادہ ہونے کی وجہ ان
کا ماحول تربیت اور اس بارے مشقیں ہی ہیں ۔ اور اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آئی
کیو لیول سنگا پور میں ہے جو۱۰۸ ہے ، جاپان کا ۱۰۵ہے اور امریکہ کا نمبر ۹۸ ہے
اور ہمارا پاکستان کا ۸۲ ہے اور دنیا میں ہمارا بہترواں
نمبر ہے اسی طرح انڈیا کا ۸۱ ہے اسکا دنیا میں چھہترواں نمبر ہے ۔
اسی طرح دنیا کی مشہور شخصیات مین سے ایلن مسک کا آئی کیو
لیول ایک سوپینسٹھ ہے اور بل گیٹس کا ایک سو ساٹھ اور آئن سٹائین کا ایک سو باسٹھ
تھا ۔ ایک ایورج بندے کا آئی کیو لیول پچاسی سے ایک سو دس کے درمیان میں ہوتا ہے
۔
جس طرح سے ہم کسی
بھی جسمانی استعداد کو بڑھانے کے لئے اس کی مشق کرتے ہیں مثلاً اعصاب کو مضبوط
کرنے کے لئے ہم جم جاتے ہیں ورزش کرتے ہیں با لکل اسی طرح ذہنی استعداد کو بڑھانے کے لئے
بھی ذہنی سرگرمیوں کی مشق کی جاتی ہے ۔ اور ان مشقوں میں سوچنے اور مطالعہ کی عادت
ہے ۔ جس کی یہ عادت جتنی زیادہ مشق سے گزرے گی اتنی ہی ذہانت بڑھتی چلی جائے گی ۔
اگر آپ بھی اپنی اس صلاحیت کو بڑھا لیں گے تو اپنی مشکلات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی مدد کرکے نہ صرف معاشرے میں مناسب مقام حاصل کرلیں گے بلکہ روزمرہ کی بہت ساری دشواریوں سے بھی بچ جائیں
گے لوگوں کی چالاکیوں اور شاطرانہ چالوں
سے بچنے کی صلاحیت بھی پالیں گے ۔ اگر طالب علم ہیں تو پڑھائی میں بہتر ہوجائیں گے
۔
آپ نے محاورہ سنا ہوگا کہ
نیورو سائنس بہت ہی واضح طور پر کہتی ہے کہ جب ورزش سے
آپکے جسم میں خون کی گردش تیز ہونے سے تمام
اعغا مضبوط ہوتے ہیں اسی طرح انسانی دماغ کے خلیے بھی مضبوط ہوتے ہیں ۔ لہذا ضروری
ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کی جائے جن میں ایربک ایکسرسائز ، واک وغیرہ آتی ہیں ۔
اس کے لئے نیند کا پورا کرنا بھی بہت فائدہ مند ہے تاکہ
دماغ کو بھی آرام کرنے کا موقعہ ملے ۔
سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔
انسانی ذہن جتنا دیکھنے سے سیکھتا ہے وہ پڑھنے اور سننے سے بھی نہیں سیکھ سکتا ۔
پھراس میں اچھی خوراک
کا بھی بہت عمل دخل ہے جس طرح جسمانی طاقت کے لئے مختلف وٹامنز ، پروٹینز اور
منرلز کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دماغ کے خلیوں کو بھی متوازن غذا جس میں اینٹی
آکسیڈنٹس ، وٹامنز، پروٹین اور منرلز
وغیرہ شامل ہوں انتہائی ضروری ہیں ۔
اس کے بعد جب ذہن کی طبی ضروریات پوری ہوجائیں گی تو پھر
دماغ کو ذہانت کے حصول کے لئے سوچنے اور
مطالعہ کرنے کی مشق کی ضرورت ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ جو شخص سوچنا چھوڑ دے اس دن سے وہ کند ذہن اور جس دن وہ پڑھنا چھوڑ دے اس دن سے وہ جاہل شمار ہوگا ۔ تو یہ ہی وہ دو صلاحیتیں ہیں جن سے انسان کے پاس علم اور ذہانت دونوں بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
تو اس کی مشق میں خیالی طور پر اپنے آ پکو چیلنجز سے
کھیلنے والا بنانا پڑتا ہے ۔ اپنے اردگرد کے ماحول کے مسائل کے حل کو تلاش کرنے کی
عادت کو اپنا لیں
اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ روزانہ پندرہ منٹ سے لے کر
پنجتالیس منٹ تک اس بارے مشق کرنی چاہیے جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ کسی بھی
خیالی مشق پر کام شروع کریں اور اپنے تمام تر حواس خمسہ کو استعمال کرتے ہوئے اس
پر غور کریں ۔ جس سے آ پکے دماغ کی تمام کی تمام صلاحیتیں بڑھتی چلی جائیں گی ۔ جیسا
کہ میں پہلے بھی کہا ہے کہ انسانی دماغ کے
اندر بھی باقی بدن کی طرح کے سیلز ہی ہوتے ہیں جو استعمال ہونے سے اپنی طاقت کو
بڑھاتے چلے جاتے ہیں ۔ بلکہ اسی طرح جیسے جسمانی ورزش سے آپکے بدن کے اعصاب مضبوط
ہوتے ہیں اسی طرح سے دماغ کے خلیوں کو استعمال کرنے سے دماغ کے خلیے بھی اپنی
صلاحیتں بڑھاتے چلے جاتے ہیں ۔
اس کا طریقہ کار یہی ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا
ہے کہ آپ کوئی بھی خیالی یا حقیقی مسئلہ کو اپنے ذہن میں لائیں اور اس کے حل کو تلاش کرنے کی
کوشش کریں اور خیالوں میں ہی اپنی ذہن پر دباو ڈالیں اور آپکی مشق اس طرح کی ہونی
چاہیے جس سے تمام کے تمام حواس خمسہ کا استعمال ہو جن میں سونگھنے ، سننے ، دیکھنے
، چھونے اور محسوس کرنے کی صلاحیتیں ہیں
جن کو آپ تخیلیاتی طور پر سر انجام دے سکتے ہیں ۔
مثبت سوچ کا ذہانت بڑھانے میں بہت اہم کردار ہے ۔ اور تحقیق سے یہ بھی ثابت ہے کہ بغض، حسد ، نفرت، لالچ ، غیبت اور جھوٹ جیسی سماجی برائیوں میں ملوث ہونے سے بھی دماغ کے اندر خوف کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور اس سے ذہانت پر برے اثرات پڑتے ہیں ۔ لہذا ان سے دور رہنا بھی ضروری ہے
اس کے علوہ حساب کتاب کی مشق ، میتھ کے مضمون کو اپنا پسندیدہ بنا لیں اس سے دماغ کو لوجیکل حل ڈھونڈنے کی مشق سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ شطرنج کا کھیل اور دماغی ماہرین نے آجکل کمپیوٹر پر پزلز اور کراس ورڈ کی طرز پر بہت ساری گیمز بنائی ہوئی ہیں جو ذہانت کو بڑھانے میں مدد کرتی ہیں ۔
ان تمام کو ایک مضمون میں شامل کرنا مشکل ہوتا ہے جس پر
علیحدہ تفصیل سے لکھوں گا۔نئے مضمون کی بروقت اطلاع کے لئے آپ میرے ویب سائیٹ کو فالو کا بٹن دبا کر فالورز
میں شامل ہوجائیں
مشق ہی انسان کو ماہر بناتی ہے ۔
ان صلاحیتوں کے حامل لوگ ہی اس وقت دنیا میں راج کر رہے ہیں
۔ اور وہ نئے نئے طریقوں اور اندازوں سے
ترقی کی دوڑ میں دوسروں کو پیچھے پچھاڑ کر آگے ہیں ۔
آج کے جدید
دور کے غلاموں اور حکمرانوں میں بنیادی فرق ہی یہی ہے کہ اعلیٰ دماغ والے محض ڈجٹس
کی بنیاد پر دنیا کے سرمایے پر قابض ہیں اور دماغی طور پر کمزور لوگ مزدوری کرکے
ان کی آسائشوں کا بندوبست مہیا کر رہے ہیں ۔
آخر میں اگر کسی کو خود یا اس کے طالب علم پچے کو پڑھا ہوا یاد نہ رہتا ہو تو وہ نیچے دئیے گئے فارم کے زریعہ سے رابطہ کرے یا نیچے کمنٹس میں بتائے اس کا مسئلہ انشاٗاللہ حل ہوجائے گا۔
پیر، 29 اگست، 2022
تحریک انصاف کی معاشی سرنگ بے نقاب
آجکل پاکستان ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ایک تو
پاکستان کی معاشی صورتحال بہت خراب تھی اور اوپر سے سیلاب کی صورت میں آزمائش قوم
کے کاندھوں پر آن پڑی جس سے بہت زیادہ
جانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے اور کروڑوں لوگ خوراک اور بنیادی ضروریات کی انتظار
میں ہیں ۔ پوری قوم اس مشکل گھڑی میں اپنی اپنی استعداد کے مطابق حصہ لے رہی ہے
مگر ایسے میں تحریک انصاف سے شکوہ کیا جارہا تھا کہ وہ اب بھی اپنی سیاست کو ترجیح
دے رہے ہیں ۔ ابھی ان شکوؤں کا سلسلہ
جارہی ہی تھا کہ ایک اور انکشاف سامنے آگیا ہے ۔ جس میں تحریک انصاف کے مالی امور کے ماہر اور سابق خزانہ شوکت ترین کی آڈیو ریکارڈنگ جس میں وہ خیبر پخوتنخواہ کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا سے بات کر رہے ہیں جو بڑے کھل کر
مرکزی حکومت کے ساتھ جھگڑنے کا پوری جرات اور توانائی کے ساتھ اظہار اور عمل کا یقین دلا رہے ہیں ۔ اور ساتھ
ہی وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بھی یہی بات کی
ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھنا ہے جس میں معاہدے کی پاسداری سے معذرت
کرنی ہے کہ وہ اس پر عمل نہیں کر سکتے کیونکہ سیلاب کی وجہ سے ان کے اب اخراجات
بڑھ گئے ہیں ۔ اور ساتھ ہی بہت قابل اعتراض الفاظ میں وفاقی حکومت کو سبق سکھانے
اور مشکلات پیدا کرنے کی نیت کا بھی اظہار کرتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ پنجا ب کے وزیر
خزانہ سے بھی بات کرتے ہیں مگر پنجاب کے وزیر خزانہ اس پر اسرار کر تے ہیں کہ اس
سے ملک کی معیشت کو نقصان تو نہیں ہوگا ۔
اور پھر یہ بھی پتا چلتا ہے کہ وہ اس طرح کے کسی خط کو لکھنے سے
انکار بھی کردیتے ہیں جو بہت ہی احسن سوچ
ہے اور اس سے پنجاب حکومت کی مثبت سوچ کی داد دینی چاہیے اور اس کا کریڈٹ یقیناً
وزیر اعلیٰ کو بھی جاتا ہے ۔ اب تو ویسے بھی انکشاف کے بعد اس طرح کے معاملات کو
جاری رکھنا دونوں حکومتوں کے لئے مشکل ہوجائے گا ۔
اب اگر تحریک انصاف کے اس اقدام کو سیاق و سباق کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا
اظہار فواد چوہدری بھی ایک پروگرام میں
کرچکے ہیں اور پھر ان کی اس نیت کے تانے بانے ان کے حکومت میں ہوتے ہوئے کئے گئے
فیصلوں سے بھی جڑتے ہیں جس میں وفاقی حکومت کو ہاتھ سے جاتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے سب
سڈیز کے زریعے سے جو معاشی سرنگیں بچھائی تھیں جس کا پی ڈی ایم کی حکومت اکثر ذکر
کرتی ہے ، کی تصدیق بھی ملتی ہے ۔ کہ جو حالیہ انکشاف کی طرح کی نیت رکھتے ہوں ان سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے ۔
اب اس انکشاف کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ جماعت کے طرف سے
اس بارے کیا وضاحت آتی ہے ؟ ابھی تک جو اسد عمر اور کے پی کے کے وزیرخزانہ نے ایک ساتھ جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں وضاحت کرنے
کی بجائے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالتے رہے ہیں
جو کہ ان کی حسب معمول عادت ہے ۔۔ جیسا کہ شہباز گل کے بیان پر بھی انہوں
نے مزمت کی بجائے مخالفیں بارے ماضی کے
ایسے ہی واقعات کا پرچار کرتے رہے ۔ اب بالکل اسی طرح سے وہ اس معاملے کو بھی
چلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔
پاکستان کے غیر
جانبدار حلقے تو حیرانگی کا اظہار کر ہی رہے ہیں مگر اس پر تحریک انصاف کو کہاں تک
شرمندگی ہوتی ہے یہ عمل سے ظاہر ہوگا جس کی کوئی توقع نہیں کیونکہ ان کی نیت صاف
ظاہر ہورہی ہے ۔ عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے لئے کوئی من گھڑت کہانی بنا
سکتے ہیں جس کو حسب معمول یو ٹرن کا نام دے کر اعلیٰ صلاحیت سے تشبیہ دینے کی کوشش
کریں گے مگر ابھی تک کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جماعت کی سطح کی پالیسی
تھی جس میں جماعت کی اعلیٰ قیادت بھی شریک تھی ۔
اب اس میں کہاں تک وفاقی حکومت کے لئے وہ مشکل کھڑی کرنے
میں کامیاب ہوتے ہیں یہ تو بعد کی بات ہے مگر ان کے بے نقاب ہوجانے سے لگتا یوں ہے
کہ اب تحریک انصاف کی مقبولیت کا پہیہ الٹا چلنا شروع ہوگیا ہے ۔ کیونکہ حضرت عمر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی غلطیوں پر اس وقت تک
پردہ ڈالتا رہتا ہے جب تک وہ انتہا نہ کردے ۔ تواس ریکارڈنگ سے یہ محسوس ہوتا ہے
کہ ان کی سازشوں کی انتہا ہونے کو ہے ۔ کیونکہ شوکت ترین جیسا تجربہ کار آدمی اتنی
بڑی بات فون پر کر کے بے نقاب ہورہا ہے ۔
پاکستان کی قومی سطح کی جماعت کی طرف سے اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ عمل
کوئی چھوٹی بات نہیں ۔ ان کی چار سالہ کارکردگی پر تو پردہ پڑ گیا تھا ۔ جس کی وجہ
وفاقی حکومت کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی تھی
مگر اب تحریک انصاف اپنی ماضی کی زیرو کارکردگی کے طرح سے خود ہی اپنے عملوں سے بے
نقاب ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ اور عوام کے سامنے کھل کر آنا شروع ہوگئی ہے ۔ عوام جو
ان کی کارکردگی کو بھول چکی تھی اس کو انہوں نے پھر سے اپنی صلاحیتوں اور نیتوں کے
زریعے سے سمجھانا شروع کر دیا ہے ۔
اس سے اب تحریک انصاف ہی صرف بے نقاب نہیں ہوگی بلکہ عوام
بھی بے نقاب ہوگی کہ وہ اتنے بڑے انکشاف کے باوجود بھی اگر تحریک انصاف کی ہی
حمائت کرتے ہیں تو پھر کہنا پڑے گا کہ
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
”ظَهر
الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ
لِیُذِیْقَهم بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهم یَرْجِعُوْنَ“․(الروم:۴۱)
ترجمہ:
”خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب خرابی پھیل رہی ہے؛
تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھادے؛تاکہ وہ باز آجائیں“۔
ایک
اور جگہ ارشاد ہے : ”وَمَآ أَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ
أَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ“․
(الشوریٰ:۳۰)
ترجمہ:”اور
تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے کاموں سے (پہنچتی ہے)
اور بہت سارے (گناہوں) سے تو وہ (اللہ تعالیٰ) درگزر کردیتا ہے“۔
تو
اس سے یہ ثابت ہوگا کہ حسن بصری کے الفاظ میں حکمران عوام کے اعمال کا ہی نتیجہ
ہوتے ہیں ۔ اگر عوام اب بھی کسی کے عمل سے نہ سمجھ سکے تو پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ
عوام ابھی اس امتحان سے سرخرو ہونے کے قابل ہی نہیں ہوئے ۔
ایک حکومت کے اعمال کی بدولت مشکلات سے جان چھوٹتی ہے تو دوسرے میں پھنس جاتی ہے ۔ سب ایک ہی ڈگر پر چلتے نظر آتے ہ
یں
۔ جس کی مثال موجودہ حکومت کی مخالفت میں اندر سے ہی آوازیں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں ۔ اور قرض کے حصول
کے لئے بڑی بڑی شرائظ کی قبولیت کوئی قابلیت کی نشانی بھی نہیں ۔
اس وقت تحریک انصاف کسی خوش فہمی میں نہ رہے کہ عوام ان کے ساتھ ہے ۔ عوام ان کے
ساتھ نہیں بلکہ مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت کے خلاف ہے اور اس وقت پاکستان کی
تمام سیاسی جماعتیں چونکہ اکٹھی ہیں اور وفاقی حکومت میں شامل ہیں جس نے بیرونی
اور ملکی مالی معاملات کو چلانا ہوتا ہے لہذا ان کی مخالفت میں وہ اکیلے ہیں تو ان کو فائدہ ہورہا ہے ۔
اور دوسری طرف اس وقت بھی پاکستان کے دو تہائی میں ان کی صوبائی حکومتیں ہیں اور
ان کی کارکردگی بھی دیکھ جانی ہے جو کہ ابھی سیلاب میں اور مالی معاملات میں وفاق کے
ساتھ رویے سے بخوبی ظاہر ہورہی ہیں ۔
وفاقی حکومت میں
شامل جماعتوں کو بھی چاہیے کہ پاکستانی عوام کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے تحریک انصاف
کو حکومتی پالیسیوں کی مخالفت میں اکیلے نہ چھوڑیں بلکہ عوام کو کوئی آپشن مہیا
کریں ۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس پر نواز شریف توجہ دینگے اور عوام کے درد کا ساتھ
دینے کے لئے میدان میں نکلیں گے اور عوام
کے دکھوں کا مداوا بنیں گے جیسا کہ ان کے حامیوں کی طرف سے آوازیں آنا
شروع بھی ہوگئی ہیں ۔




