سوچ کی غذا

منگل، 23 دسمبر، 2025

عدالت عالیہ کا جذباتی اور جارحانہ حکمنامہ

عدالت عالیہ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے تحت فیصلوں کو نہ صرف روک دیا بلکہ کئے گئے فیصلوں کو بھی واپس کر دیا جو ایک انتہائی حیران کن انصاف ہے جس کے اندر قانون و انصاف کے تقاضے کہاں تک پورے کئے گئے وہ بہتر جاتنی ہونگی مگر ان کے اخبارات کی زینت بننے والے کمنٹس سے ابھرتے جذبات اور جارحانہ انداز سے بہت ہی مختلف اشارہ مل رہا ہے۔

انکا یہ کہنا کہ اگر آرڈیننس رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروا لیا جائے گا بالکل اسی طرح کا انداز منصفی ہے جو بابا رحمتے قانون ساز اسمبلی کے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ دو چار ایم پی اے تو میں کھڑے کھڑے گھر بھیج دونگا۔ 

انہوں نے مبینہ طور پر چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کمیٹی کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کو زیادہ انصاف کا شوق ہے تو ایل ایل بی کا امتحان دیں جج لگ جائیں۔ میرے خیال میں تو وہ امتحان  دے کر ہی اس عہدے پر بیٹھے ہیں لیکن جج بننے کے لئے امتحان دینا کوئی شرط نہیں جس کی مثال کے لئے عدالت عالیہ یا عظمیٰ کے کسی بھی جج کا عہدہ کافی ہے۔

عدالت عالیہ سے عرض ہے کہ  ایل ایل بی قانون کو سمجھنے کے لئے ہوتی ہے لوگوں کے تنازعات ختم کرنے کے لئے ضروری نہیں اور اگر کسی کو ایل ایل بی کرنے کے بعد بھی قانون کی سمجھ نہ آئے تو پھر اس کا کیا کیا جائے یا جو جج بننے کے بعد بھی قانون کی دھجیاں اڑاتا پھرے اس کا کیا کیا جائے؟ کیا ایل ایل بی پڑھنے کے بعد آئین کی ایک ہی جج دو تشریحات کر سکتا ہے؟ قانون تو کیا یہ عقل کے پیمانوں پر بھی پورا اترتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ ایل ایل بی تو قانون ساز اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے بھی ضروری نہیں جو قانون و آئین کے خالق ہیں۔ جن کے قلم کی جنبش سے آئین و قانون ہی نہیں بلکہ عدالتیں معرض وجود میں آئیں۔

ایل ایل بی میں تو انہی قوانین کے مجموعے کا علم اور اس کے استعمال اور ڈاکٹرائن پڑھائی جاتی ہیں جسکا عملی اطلاق ہو رہا ہوتا تو آج ہمارے ملک کا یہ حال ہوتا؟ 

عصر حاضر کے قاضی کے لئے علم و تجربہ سے زیادہ ریفرنس چاہیے ہوتے ہیں۔ اگر قاضی کی اہلیت کی شرائط کو دیکھا جاتے تو اس میں پہلی شرط ہی یہ ہے کہ اس کو اس عہدے کی خواہش نہ ہو۔ آج ہمارے نظام عدل میں کتنے ایسے ججز ہونگے جو اس شرط پر پورے اترتے ہونگے؟

اگر آرڈیننس کو پڑھا جائے تو ان کمیٹیوں کو ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیوں کا نام دیا گیا ہے جو چھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، متعلقہ اسٹنٹ کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، علاقے کا متعلقہ ڈپٹی پولیس آفیسر اور ایک کسی سرکاری ایجنسی سے کمیٹی کی طرف سے لیے گئے ممبر پر مشتمل ہوتی ہے۔ 

پاکستان کا آئین و قانون ہی کمشنرز کو زمینوں کے متعلق تنازعات کے فیصلوں کا اختیار دیتا ہے اور ان کی تعناتیوں کے لئے ایل ایل بی کا ہونا کوئی شرط نہیں۔

تنازعات کو ختم کرنے کے لئے تو عدالت کا ہونا بھی ضروری نہیں پولیس کو تنازعات نمٹانے کا اختیار ہے اور ان کی تنازعات متعلق تفتیشیں ہی عدالتی فیصلے کی بنیاد ہوتی ہیں اور ان کی رائے پر عدالتیں انصاف کی مہر ثبت کرتی ہیں۔

ہم نے پنچائتوں کے ایسے ایسے انصاف دیکھے ہیں جن پر عدالتیں بھی بڑے فخر سے اپنی مہر ثبت کرتی ہیں۔ انکی ساکھ ہی انکے فیصلوں کی اتھارٹی ہوتی ہے۔ انکی غیر جانبداری، شفافیت اور برابری کا عمل ہی ان کا برانڈ ہوتا ہے۔ 

ان کمیٹیوں اور ٹربیونلز نے ریاست کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے کتنی محنت سے معاملات کو نمٹایا ہوگا۔ یہ کمیٹیاں تو حقوق ملکیت کے ریکارڈ پر فیصلے کرتی ہیں جن کے اندر نا انصافی کے نہ ہونے کے برابر چانس ہوتے ہیں۔

اب اگر کسی کی طبیعت یا رسم و رواج پر بھاری اترے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں تو بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینا یا مانگنا بھی بے غیرتی اور بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ ایسی عزت اور غیرت کی رکھوالی کے لئے عدالتوں کے سہارے سال ہا سال مقدمات زیر التوا رہتے ہیں۔ 

ہو سکتا ہے اس آرڈیننس میں قانونی سقم ہوں مگر ان کی نشاندہی کر کے اصلاح کی کوشش کی جاتی۔ ہو سکتا ان کے قریب یہ بھی سقم ہو کہ اس میں وکیل کے زریعے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی قانونی سقم ہو کہ عدالت میں اگر کوئی معاملہ زیر التوا ہو تو عدالت کو عرض کر سکتے ہیں کہ وہ معاملہ ان کو بھیج دیں۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہو گا کہ وہ طوالت پر مبنی ضابطوں کا نہیں اپناتے جن میں بابے آدم کے دور کے اخباری اشتہارات وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ فیصلہ 90 دنوں میں کرنا انصاف کا تقاضہ ہے۔ انکے نزدیک یہ بھی سقم ہوگا کہ قبضہ کا حصول فیصلے کا حصہ ہے ایسا نہیں کہ سائل کے ہاتھ میں فیصلہ تھما دیا جائے اور وہ اس پر عمدرآمد کے لئے در بدر دھکے کھاتا پھرے۔

مگر یہ قانونی سقم نہ تو اس آئین و قانون کی خالق قانون ساز اسمبلی کے نزدیک ہے اور نہ اس آئین کی اتھارٹی کے نزدیک جس کو آئین ہی آرڈینس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے اور نہ ہی اس غریب عوام کے نزدیک جن کے مظلوم، بے یارومددگار اور بے کس افراد اپنے حقوق کے حصول کے لئے سالہا سال عدالتوں کے باہر دھکے کھاتے ہیں مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ 

کیا روائتی نظام انصاف میں کوئی سقم نہیں جس کے اندر دادا انصاف کے لئے جاتا ہے اور پوتا فیصلہ تو شائد حاصل کر لے مگر اس کو یہ کئی نسلوں تک سمجھ نہیں آتی کہ اب اس پر عملدرآمد کیسے اور کب ہونا ہے؟ 

آپ کو معلوم ہے کہ اس آرڈیننس کے زریعے سے اپنا حق حاصل کرنے والوں کے عدالت عالیہ کے اس حکم امتناہی پر کیا ریمارکس ہیں؟ آج کل سوشل میڈیا پر کھل کر عدلیہ بارے عوامی اعتماد پر بات ہو رہی ہے۔ چند فیس بک کے حوالے سے شئیر کرتا ہوں۔

"تم لوگوں کو عدالتی سپریمیسی کی فکر ہے لیکن جس غریب کے پلاٹ کا قبضہ عدالت چھڑوانے میں 30 30 سال لگا دیتی ہے کسی قتل کے ملزم کو سزا دینے میں عدالت 20 20 سال ٹرائل کرتی ہے کسی غریب کی جمع پونجی لوٹی جانے پر عدالتیں ریکوریوں میں 5 5 سال گھسیٹتی ہے

کسی طاقتور سے غریب کے حق حلال کے پیسے دلوانے میں عدالتیں ملزمان سے حلفیہ بیان لیکر چھوڑ دیتی ہوں ایسے عدالتی نظام پر بلڈوزر پھیر دینا چاہیے"۔(عظمت علی)

"عدالتی بالا دستی کے نام پر نہ خود دھائیوں سے کچھ کیا نہ کسی اور کو کرنے دینا ہے سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اگر ہماری عدالتیں اپنا کام کرتیں تو اس قانون کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟"(ناصر بٹ)

"آخر ججوں اور وکیلوں نے بھی تو روزی روٹی کمانی ہے۔ قتل، اغوا برائے تاوان جیسے مقدمات سی سی ڈی حل کر دے، تجاوزات اور قبضے پیرافورس چھڑوا دے تو ان دیوانی مقدمات کا کیا بنے گا جو یہ جج اور وکیل ملی بھگت سے سے تاریخ در تاریخ دے کر لٹکائے رکھتے ہیں؟ با اثر مجرم ہی پیسے والا ہوتا ہے ریٹ بھی زیادہ وہی دیتا ہے اب اگر حکومت ان طاقتور پارٹیوں کو فِکس کرنے لگے تو ہمارا نظام انصاف تو بے روزگار ہو جائے گا۔ عدلیہ اپنی برادری کے معاشی قتل عام پر خاموش کیسے رہ سکتی ہے۔

یقین کریں کہ پاکستان میں ہر خرابی کی جڑ ہماری عدلیہ ہے اور ہر جُرم کے سرپرست مسند عدل پر بیٹھے انصاف فروش درندے ہیں"۔(ظفر الاسلام)

 ان میں سے بہت سارے سخت فقرے میں حزف کئے ہیں۔ ان کی باتیں ٹھیک ہیں کیونکہ ہمارا مروجہ نظام انصاف ظالم کی حمائت میں زیادہ اور مظلوم کے حق میں کم ہے۔ ظالم جائیدادوں پر قبضے کرکے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے لیتے ہیں اور پھر سالوں اس پر طوالت کے زریعے فائدے اٹھاتے رہتے ہیں۔

اگر قانونی سقم ہوں تو بھی کوئی جج اپنے سامنے مقدمے پر تو حکم امتناہی جاری کر سکتا ہے مگر کسی آئینی و قانونی انتظامی عہدیدار یا کسی آئینی و قانونی کمیٹی، ٹربیونل یا اتھارٹی کے ایسے فیصلے جن کا ان کو علم ہی نہ ہو کو بغیر دیکھے کیسے ختم کر سکتا ہے؟ 

میرا یہ بھی سوال ہے کہ زمینوں کے تنازعات کے فیصلےکرنے کا جو اختیار محکمہ مال کے پاس ہے وہ آئینی و قانونی ہے یا نہیں اور کیا عدالتیں ان کے ریکارڈ کے بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں؟ 

کمیٹیوں کو مبینہ طور پر اس بنیاد پر کام کرنے سے روکا گیا ہے کہ اس سے سول رائٹس اور جوڈیشل سپرمیسی ختم کی گئی ہے حالانکہ آرڈیننس میں اگر کمیٹی فیصلہ نہ کر پائے تو ٹربیونل کو بھیج سکتی ہے جس کو سول کورٹ کا درجہ حاصل ہے جس میں لاء گریجویٹ ہی ہونگے اور اس کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے جسے چیف جسٹس کا بنایا ہوا ڈویژن بنچ سنے گا۔ 

عدالت عالیہ نے کیس کو فل کورٹ بنچ کو بھیج دیا ہے جو خوش آئیند ہے کہ کم از کم انہوں نے اپنے جذباتی اور جارحانہ سوچ کی طبع آزمائی کی بجائے فل کورٹ کو ایک اجتماعی رائے قائم کرنے کا موقع دیا اور یقیناً یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں کیس سٹڈی ثابت ہوگا۔ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لئے اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ ان کے آئینی و قانونی رتبے کے تقدس کا بھی احساس ہے مگر اس بھی زیادہ اپنی عزت کا خیال ہے۔

حکومت سے گزارش ہے کہ یہ آرڈنینس مفادات عامہ کا معاملہ ہے اس لئے اس پر پوری تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور اس معاملے کو وفاقی آئینی عدالت کو ریفر کیا جانا چاہیے تاکہ قانون ساز اسمبلی اور عدالتوں کے اختیارات کی تشریح احسن طریقے سے ہو سکے۔ اس کیس کی کاروائی بھی قومی نشریاتی اداروں کے زریعے سے براہ راست دکھائی جانی چاہیے۔

پیر، 22 دسمبر، 2025

کیا تحریک تحفظ آئین پاکستان کارکردگی دکھا پائے گی؟

کیا پاکستان میں جمہوریت صرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا نام  ہے خواہ وہ اسٹیبلشمنت کی گود میں بیٹھ کر ہی داغے جا رہے ہوں یا جمہوری اقدار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے؟ 

ابھی چند سال پہلے ہی وہ اپنے دائیں بیٹھی جماعت تحریک انصاف کے خلاف سڑکوں پر تھے جبکہ وہ ہائبرڈ جمہوریت کی ایک نئی اصطلاح متعارف کروانے میں مصروف تھے۔کیا ان سے اب جمہوری اقدار پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی حاصل کر لی گئی ہے؟ 

کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے مطلوبہ ہدف کی راہ میں رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی سطح کی طاقت کا ہونا ضروری ہے جس کے بغیر کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔ اور پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے۔ 

اب ایسا کیوں ہے اس کی ایک بہت ہی سادہ سی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خواہ اس کا آئینی درجہ کم ہی سہی مگر اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت موجود ہے جو حاوی رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں جبکہ جمہوریت میں سیاستدانوں کے اندر وہ صلاحیتیں اور اہلیت ہی نہیں۔ 

سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے منشور کی بنیاد پر باہمی اختلافات بھی ہوتے ہیں مگر ملکی سطح پر جمہوریت کے آپریٹر ہوتے ہوئے انکی ایک تنظیم کی حیثیت ہوتی ہے۔ جس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت ہونی چاہیں جو جمہوریت کے خلاف کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اب یہ صرف ہارڈ پاور سے ہی ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے سافٹ پاور کا ہونا بھی ضروری ہے جس کی بنیاد اعلیٰ اخلاقیات اور سیاسی شعور ہیں۔

آئین کی پاسداری اور تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کا خود عمل ہو پھر وہ دوسرے اداروں سے اس پر عمل کو یقینی بنوا سکتی ہیں۔ 

پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو ان کو عدم اعتماد کے زریعے سے ہٹایا گیا جو آئین کے عین مطابق تھا اور یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے ایسا کروایا ایک انتہائی نا مناسب بات ہے جو غیر سیاسی اور نا اہل سوچ کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اگر سیاستدان استعمال ہوئے تو وہ استعمال کرنے والے کو گالیاں دینے کی بجائے  استعمال ہونے والوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرتے؟میرے خیال میں تو ایسا کہنا بھی گویا اپنی نا اہلی کو ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو دنگل اپنے زور بازو پہ جیتنے ہوتے ہیں اس وقت یہ جواز کوئی حیثیت نہیں رکھتے کہ ہمیں زور نہیں لگانے دیا جا رہا۔       

جب آئینی طور پر ان کی حکومت گرائی گئی تھی اسے تسلیم کیا جا نا چاہیے تھا۔ محمود خان اچکزئی اس وقت حکومت ہٹانے والوں میں شامل تھے ااور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ محمود خان اچکزئی خود اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے استعمال ہونے والوں میں تھے۔

 اگر یہ سب ٹھیک ہے تو پھر اس کا اعتراف بھی تو ضروری ہے۔ اور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک نہیں تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ آئین کی حالت سے اتنا فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو سیاستدانوں کے کردار سےکہ وہ کس قدر جمہوری ہیں۔ 

 کسی بھی ریاست کا آئین اس کے چلانے کے لئے ایک انسٹرومنٹ ہوتا ہے جس کا تحریری صورت میں ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ تحریری صورت میں ہونا محض ایک فارمیلٹی ہے۔ اصل ضرورت اس کے تقدس کا احساس ہے جس کی موجودگی میں اس کا تحریری ہونا اپنی حیثیٹ کھو جاتا ہے اور اگر یہ احساس نہ ہو تو تحریری ہونا بھی اپنی حیثیت کو منوانے میں نا کام رہتا ہے۔

جس کی مثال انگلینڈ اور ہمارے آئینی سے واضح ہو سکتی ہے۔ ان کا آئین تحریری نہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں قومی سطح پر تقدس ہونے سے اپنی حیثیت کو منوانے میں کامیاب ہے مگر ہمارا آئین تحریری ہونے کے با وجود بھی تقدس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت کو منوانے میں ہمیشہ نا کام رہا ہے۔

اس تقدس کی سب سے زیادہ موجودگی سیاستدانوں کے اندر ضروری ہوتی ہے کیونکہ ان کی عوامی مینڈیٹ کے حصول کے بعد اہم ذمہ داری اس پر عملدرآمد، حفاظت اور اس میں ملک و قوم کی فلاح کے لئے اصلاحات لانا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل نہ ہوں تو پھر آئین کے تقدس کو یقینی بنانا ممکن نہیں رہتا بلکہ وہ خود ہی اس کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اور یہی سب کچھ پاکستان کے آئین کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اب اس کا حل آئین کی حفاظت بارے محض ڈھنڈورا پیٹنے سے ہونے والا نہیں بلکہ سیاستدانوں کو اپنے اندر اور قومی سطح پر شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کو یقینی بنانا ہوگا یا پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے انہیں ملکی سیاست میں مستقل طور پر کوئی کردار دینا ہوگا جس کے ایک بہترین حل کے طور پر ہم اپنی جمہوریت کو چائنا کی طرز پر استوار کر سکتے ہیں۔

اخلاقیات اور شعور پر کام کرنے کے لئے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے قوم سے معافی مانگنا ہوگی اور پھر سیاسی برادری کے اندر  اپنے بارے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جب قوموں کے اندر اعلیٰ اخلاقیات اور شعور ہوتا ہے تو پھر وہاں نظام خود بخود ہی مضبوط ہو جاتے ہیں جس کی مثال ہم سکینڈیوین یا نارتھ امریکن ممالک سے لے سکتے ہیں۔ وہاں آپ کو جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اس کی بنیاد ان کی اخلاقی اور جمہوری اقدار ہیں۔   

اگر ہم کہیں کہ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کی بھی حالت تسلی بخش نہیں یا سب نے ہی کسی نہ کسی دور میں جمہوری اقدار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار کے حصول کے عمل میں شرکت کی ہے تو یہ بجا ہوگا

   مگر ماضی میں سیاسی جماعتوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کسی نہ کسی حد تک جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوششیں بھی تو کی ہیں جن میں سب سے نمایاں میثاق جمہوریت کے نام پر پاکستان کی بڑی دو سیاسی جماعتوں میں ایک معاہدہ بھی ہے جس کے بعد جمہوریت کی مضبوطی کے عملی اقدامات اور نتائج بھی دیکھنے کو ملتے رہے جن کو نقصان پی ٹی آئی کی سرگرمیوں نے پہنچایا ہے۔ 

ہائبرد جمہوریت کی اصطلاح انہیں کی جمہوریت مخالف سرگرمیوں کی پیداوار ہے جس نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی کوشش کی کامیابی کے چانسز بہت ہی کم ہونگے

پی ٹی آئی کی ان سرگرمیوں سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے اداروں جن میں فوج اور خاص طور پر عدلیہ شامل ہے کی ساکھ بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ 

موجودہ حکومت کو جو ہائبرڈ جمہوریت کے طعنے دئیے جارہے ہیں وہ ٹھیک موقف نہیں کیونکہ جب اس اصطلاح کی حامل حکومت کو ختم کیا گیا تو ان کوششوں کے جناب محمود خان اچکزئی بھی گواہ ہیں جس کے اندر جرنیلوں کا کوٹ مارشل کر کے ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ اگر کوئی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوشش کرے تو تنقید کی بجائے اس کو داد دی جانی چاہیے  بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ ہوئی ہے۔

عمران خان کی سیاست میں سوشل میڈیائی سرگرمیاں جن میں فوج کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیا پاکستان کے حق میں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو عمران خان کی سیاست کو موجودہ ماحول سے موافق بنانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

کیا ابھی جو محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی شرط پر مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کو آگے بڑھ کر مزاکرات کی دعوت دی ہے ان سرگرمیوں کی موجودگی میں کام یاب ہو سکتی ہے؟ قطعاً بھی نہیں کیونکہ عمراں خان کی تو ساری سیاست کی بنیاد ہی اپنے سیاسی مخالفین اور نئی اسٹیبلشمنٹ جن سے ان کو سہولتکاری میسر نہیں آ رہی کے ٹرولنگ ہے جس کے بغیر وہ اپنی سیاست کی موت سمجھیں گے۔جن کو انہوں ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔ اور انکے موقف اور سرگرمیوں میں تبدیلی یا اس کی یقینی دہانی کے بغیر ساتھ چلنا بھی خطرات سے خالی نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پر اعتماد نہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔


جمعہ، 19 دسمبر، 2025

طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔

وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔ 

انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔

 انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ  اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی  نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔ 

انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو

درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔  اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔ 

اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔ 

اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 

جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔

ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے

لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔

جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔

کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔

عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو  جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ 

نا اہلی  اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟ 

سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔ 

ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔ 

شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی  اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔ 

مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر  بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں  انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔

لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔

یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔    

مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔



منگل، 9 دسمبر، 2025

ریاست کی گورننس پر سوالیہ نشان

ایک ادارے کے ذمہ دار عہدیدار کا ایک قیدی کی سرگرمیوں پر یوں کانفرنس کرنا کوئی عام بات نہیں بلکہ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ریاست کی گورننس پر، ملکی انداز سیاست پر اور وزارتوں کی کارکردگی پر کہ ایک سابق وزیراعظم جس کی پروفائل بذات خود ایک کھلی کتاب ہے عسکری ادارے کے سربراہ پر کھلے عام الزامات لگا رہا ہےکہ ملک میں اس کی پالیسیاں چلتی ہیں جو آئین پاکستان کے نفاذ پر ایک سوال ہے۔ کیا ریاست کے وزیر اعظم کے پاس نام کا عہدہ ہوتا ہے؟

ذہنی مریض ہی سہی، قید میں ہی سہی آخر سابق وزیر اعظم بھی تو ہے اس سے وضاحت ہی طلب کر لی جائے کہ وہ یہ سب کچھ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہے یا کرسی چلے جانے کا دکھ پِٹ رہا ہے۔ اگر واقعی سچ ہے تو پھر وہ اس وقت خاموش کیوں تھا جب کہیں اور بنائی گئی پالیساں اس کے نام سے نافذ ہوتی تھیں؟

سوال ہے اس نظام جمہوریت پر ، اس نظام پر یا اس بندوبست پر جس سے ایک ذہنی مریض بغیر سائیکالوجیکل انیلیسس کے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے اور پھر قومی سطح کے میڈیا پر اس کے نام کے ڈنکے بجائے جاتے ہیں ۔سادہ معصوم ذہنوں پر ملک و قوم کے مستقبل بارے کشیدہ کاری کروائی جاتی ہے۔ عوام کو اس کے واحد نجات دہندہ ہونے کے یقین دلوائے جاتے ہیں۔ امت مسلمہ کا لیڈر ہونے کے نکارے بجائے جاتے ہیں۔

اس وقت کے بچے اب جوان ہو چکے ہیں۔ نوجوان فیملی کے سربراہ اور اس وقت کے سربراہ قبیلوں کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دہائیوں پر محیط محنت سے بنائے گئے اس یقین کو یکدم ختم کر دیا جائے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ اس کی پیشکش اور ہدائت کاری کہاں سے ہوتی رہی؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا تبدیلی کا نعرہ سب جھوٹ تھا تو اس کے شواہد عوام کو کیوں نہیں دکھائے جاتے؟

عوامی شعور کو بے راہ روی کا شکار کیا گیا اب اگر اس شعور کو گناہگار ٹھہرایا جا رہا ہے تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس میں شریک جرم ریاست کی مقتدرہ کو معصوم اور بے قصور کیسے سمجھ لیا جائے؟

ایک قیدی کو سیاست کرنے کی اتنی آزادی کہ اس کے الزامات سوشل میڈیا تک پہنچ کر عوام کے عادی ذہنوں تک پہنچ جاتے ہیں بذات خود ایک سوال ہے؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان الزامات پر تحقیقات کیوں نہیں ہو پا رہیں؟ آئین اور قانون خاموش کیوں ہے؟ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیا ایسے جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا کو روکنے کی سکت نہیں رکھتی؟ اے آئی کی مدد سےکوئی ایسا سافٹ وئیر ٹول نہیں بنا سکتی جو جھوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے عوام کو بر وقت حقائق سے آگاہ کر کے عوامی شعور کو درست سمت دے سکے۔

وہ ریاست جو دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کر کے چند گھنٹوں میں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی ہے وہ ایک قیدی کے پراپیگنڈے پر تحقیق یا اس کو روکنے پر اتنی بے بس کیوں ہے جس کو عسکری ادارہ ملکی امن کے لئے خطرہ سمجھتا ہو اس پر ریاست کی گورننس خاموش کیوں ہے؟ کیا وہ مکافات عمل کے سامنے بند باندھنے سے قاصر ہے یا نتائج کی خوشی کی مستی میں۔

بہرحال سوال اپنی جگہ مگر اس کانفرنس کا سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ ایمپائر کی انگلیوں کے اشاروں پر سیاست کرنے والوں کو اب حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنا ذہن درست کر لینا چاہیےکیونکہ اس بار انگلی کی جگہ ڈنڈا ہے اور اب یہ سیاسی توجیہات کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ کسی شخصیت کے خلاف ہیں یا فوج کے سیاست میں کردار کے خلاف ہیں نہیں چلیں گی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے خلاف لب کشائی کا جواب فوج کے ترجمان کی زبان سے سن کر تمام غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہیں کہ فوج کے سربراہ کے احترام پر ادارے نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس کا حکم ہی فوج کا عمل ہوتا ہے۔


میگزین