(سورۃ المجادلہ، آیت: 11 کا ایک فکری اور غیر روایتی مطالعہ)
قرآنِ حکیم کی سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر 11 اسلامی فکر میں ایک انقلابی حیثیت رکھتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ"
روایتی طور پر اس کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ "اللہ ان لوگوں کے درجے بلند فرمائے گا جو ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا"۔ لیکن اگر ہم قرآنی اسلوب، انسانی نفسیات اور جزا و سزا کے کائیناتی اصولوں پر تدبر کریں، تو اس آیت کا ایک ایسا متحرک اور ترغیبی (Motivational) پہلو سامنے آتا ہے جو انسان کو مجبورِ محض کے بجائے ایک فعال مسافر ثابت کرتا ہے۔
1۔ جبلتی علم بمقابلہ اکتسابی علم
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو طرح کے علوم سے نوازا ہے۔ ایک وہ علم ہے جو انسان کی جبلت اور فطرت میں رکھ دیا گیا ہے (Innate Knowledge)، جیسے بھوک لگنے پر بچے کا رونا یا اچھائی اور برائی کی بنیادی تمیز۔ اس علم میں انسان کا اپنا کوئی ارادہ شامل نہیں ہوتا، اسی لیے اس پر کسی جزا، سزا یا درجات کا تعین نہیں ہوتا۔














