اس سے قبل صورتِ حال یہ تھی کہ دنیا عالمی اور بالخصوص علاقائی سطح پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو ہی اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتی تھی، اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا کوئی متبادل نظر نہیں آتا تھا۔ مشترکہ نظریات، ضروریات اور تحفظات کے باوجود، پاکستان کی معاشی مشکلات کے باعث کئی اسلامی ممالک بھی اسے نظر انداز کر کے بھارت سے تعلقات استوار کرنا اپنی مجبوری سمجھتے تھے۔ ان میں سعودی عرب، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی دیگر ریاستیں بھی شامل تھیں۔
میڈیا لنکس
- یہ دھرتی ہم سے پوچھتی ہے
- حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے
- قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں
- ہمارا قومی تشخص عالمی تناظر میں
- ترقی ، کامیابی اور اس کا راز
- ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟
- عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا
- عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے
- معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی
- سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟
- قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
کامیاب انسانی ماڈل
انسانی تاریخ کی ساری کی ساری سوچ و بچار جس ہستی (محمد ﷺ) کو آج بھی دنیا میں سب سے پر اثر شخصیت مانتی ہے اس کی پیروی کرنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ میرے خیال میں تو کامیاب انسانی ماڈل کی اس سے بڑی کوئی دلیل ہو نہیں سکتی۔
سوچ کی غذا
ہفتہ، 8 اگست، 2026
نئی عالمی صف بندی میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار
حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ اگرچہ بدلتے عالمی حالات کا براہِ راست نتیجہ نہیں، تاہم ان حالات نے اس کی ضرورت اور امکانات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ پاکستان کے متعلق عالمی نقطہ نظر میں آنے والی وہ تیزی سے تبدیلی ہے، جس کا آغاز مئی 2025 سے ہوا۔
Posted by
Dr Abrar Chaudhary ڈاکٹرابرارچوہدری
منگل، 4 اگست، 2026
اکثریت کی بجائے شعوری سوچ کو جمہوریت کی اساس بنانا ہوگا
اکثریت کی بجائے شعوری سوچ: وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہمیں جمہوریت سے کوئی عداوت نہیں، لیکن جامد سوچ کی حامل حکومت سازی یا مفاد پرست خوشامدیوں کے گروہ کو محض اس لیے "جمہوریت" تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں عددی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ سچی جمہوریت وہی ہے جو ملکی حالات، معاشی ضروریات اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہو۔
جمہوریت کی کوئی ایک حتمی یا جامد تعریف نہیں ہے۔ جیسے جیسے دنیا میں علم، حکمت اور تجربات وسعت اختیار کر رہے ہیں، ویسے ویسے جمہوریت بھی انسانی فلاح کی خاطر خود کو قائم رکھنے اور بہتری کی طرف لے جانے کی تگ و دو میں ہے۔ ماضی میں جس طرزِ حکمرانی پر تنقید کی جاتی تھی، آج عالمی سطح پر وہی ماڈلز اپنے شاندار نتائج کی بنا پر داد و تحسین سمیٹ رہے ہیں۔
Posted by
Dr Abrar Chaudhary ڈاکٹرابرارچوہدری
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)

