سوچ کی غذا

اتوار، 30 اکتوبر، 2022

فوج ، سیاستدان اور آئین


موجودہ سیاسی حالات کا اگر جائزہ لیں تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ فوج اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور کل کی ڈی جی ، آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر نے   ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کرکے تمام باتیں واضح کر دی ہیں  ۔ اور یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی ڈی جی ، آئی ایس آئی  کی پہلی کانفرنس ہے جو انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کے دوران کی ہو۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کی نزاکت کا بخوبی اندازہ ہے  اور انہوں نے وہ تمام امور اس پریس کانفرنس میں زیر بحث لائے جن پر آج کل پاکستان کے سیاسی حلقوں میں خدشات ، تحفظات اور الزامات پائے جارہے تھے ۔

انہوں نے اپنی غیر جانبداری میں نیوٹریلٹی ، جانوروں سے تشبیہ ، میر جعفر و میر صادق کے القابات اور چوکیدار کی غداری تک کے اپنے اوپر اٹھنے والے  تمام الزامات کا جواب دیا اور یہ باور کروایا کہ اس کی وجہ ان کا کوئی غیر آئینی قدم نہیں بلکہ اس کی بنیاد غیر آئینی اقدامات پر مدد نہ کرنا ہے ۔

اسی طرح انہوں نے سائفر پر بھی وضاحتی بیانیہ سامنے رکھا اور اس کی حقیقت سے پردہ چاک کیا کہ کب کب کیا کیا باتیں ہوئیں  جو کہ پریس کانفرنس کا حصہ ہے جن کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ۔اور عمران خان کے بیانیوں کو واضح طور پر جھوٹ کہہ دیا

ان پر  صحافیوں کی طرف سے سخت سوال اٹھائے گئے جن میں ان کی دو ہزار اٹھارہ  کے الیکشن میں مداخلت تک پوچھا گیا اور انہوں نے اس کے رد عمل میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے  واضح کیا کہ انہوں نے فوج کے کمانڈروں کا اجلاس بلایا فوج کے کردار کو زیر بحث لاکر اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ فوج کو اپنے آئینی اختیارات تک محدود ہوجانا چاہیے اسی میں ملک و قوم کی بہتری ہے ۔ اور دو ہزار اکیس کے بعد سے انہوں نے خواہ وہ ضمنی الیکشن ہوں ، بلدیاتی الیکشن ہوں یا عدم اعتماد کی تحریک کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی۔

اور ان کی اس بات کی شہادتیں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے آ چکی ہیں ۔ جن میں تحریک انصاف کی فوج کی ٹرولنگ بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے فوج کی نیوٹریلٹی کو بنیاد بناکر ان پر تنقید کی انتہا کردی جو ان کو اپنےدو ہزار اٹھارہ کی مداخلت کی قیمت کے طور پر ادا کرنا پڑی ۔ اور اس ٹرولنگ  کی برداشت پر دوسری جماعتوں کے قائدیں فوج پر انگلی بھی اٹھا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے قائدیں کے ساتھ اب بھی لاڈلوں والا سلوک کیا جارہا ہے ۔ کیونکہ ماضی میں اگر کوئی فوج پر معمولی سی بات بھی کرتا  تو اس انتہائی سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ تو اس سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ یہ لاڈ نہیں بلکہ اپنی نیوٹریلٹی کو ثابت کرنے کی کوشش ہے  اور وہ اپنی سابقہ غلطیوں کی قیمت چکا کر بھی  اپنے کردار کو آئینی حدود میں رکھنا چاہتے ہیں ۔

ایک صحافی کے سوال پر  کہ آپ نے عمران خان کے ساتھ جو آپ کا  شفقت بھرا رویہ ہے یہ کسی اور کے ساتھ تو نہیں رہا جس پر انہوں نے یہ کہا کہ کہ اگر کوئی پاکستان کے کسی ادارے پر الزامات لگاتا ہے تو آئینی طور پر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پر ایکشن لے  ۔اور ان کا یہ موقف سو فیصد ٹھیک تھا ۔ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اداروں کے آئینی اقدامات پر ان کو مکمل تحفظ اور بے جا اٹھنے والے الزامات پر قانونی ایکشن لے ۔

ارشد شریف کی شہادت پر ان کے خلاف جو الزامات کا سلسلہ جاری تھا اس پر بھی انہوں نے معلوم حقائق کی روشنی میں وضاحت پیش کی اور  بتایا کہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر غیر جانبدارانہ تحقیق کرکے حقائق قوم کے سامنے لائیں اور اس تحقیق میں سے اپنے آئی ایس آئی کے نمائندے کو بھی صرف اس لئے ہٹا لیا ہے کہ غیر جانبداری پر کوئی انگلی نہ اٹھ سکے ۔

اب اس پریس کانفرنس کے بعدجس جس نے  بھی اس طرح کے الزامات لگائے ہیں  ان کی  ساکھ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ابھر آیا   ہے ۔ جس میں وہ تمام صحافی ، سیاستدان  شامل ہیں جنہوں نے اس طرح کے آزادی اظہار رائے کے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے  الزامات لگائے ہیں اوران  کی وضاحت  دینا  بھی ان کا  ہی فرض ہے ۔

فوج کی پریس کانفرنس میں زیادہ تر اشارے تحریک انصاف کے موجودہ سیاسی پس منظر میں کردار کی طرف جاتے ہیں ۔ اور اگر ماضی کی تاریخ کے حوالوں سے دیکھا جائے تو صرف فوج کو ہی ریاست میں مداخلت کا ذمہ دار نہیں  ٹھہرایا جاسکتا بلکہ اس میں سیاستدانوں کا بھی حصہ ہے جو اس  کھیل میں شامل رہے ہیں اور آج بھی دہرائے جارہے ہیں اس طرح   عدلیہ کے فیصلے بھی نظر انداز نہیں کئے جاسکتے ۔

تو اس سارے منظر نامے کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو آج  یہ بات واضح ہوکر سامنے آرہی ہے کہ  جب فوج اپنے آپ کو  غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو سیاستدانوں کا ایک گروہ ان کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے کردار کو جاری رکھیں  دوسرے لفظوں میں انکو بلیک میل کیا جارہا ہے کہ اگر  انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیاتو پھر ان کی سابقہ غلطیوں کے حوالوں سے نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔

آئینی حدود اور اختیارات تو اپنی جگہ مگر ہماری  صورتحال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا مسئلہ محض سیاسی یا آئینی نہیں رہا  بلکہ اخلاقی  بن چکا ہے ۔ کہ ہم خودنمائی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جہاں ہمیں   انفرادی طور پر اپنے آپ کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ۔ صرف اپنا قول و فعل ہی سچائی کے قریب لگتا ہے  اور اسی کو ہم میعار سمجھتے ہیں جو انتہائی  خطرناک صورتحال ہے ۔ ہماری سوچ پر ہمارے اس عمل کی اس قدر دھاک بیٹھ چکی ہے اورمعاشرے نے اس رواج کو اس طرح اپنا لیا ہے کہ اب اس خود غرضی کو برا بھی نہیں سمجھا جاتا ۔ تو اس سوچ کا شاخسانہ جہاں بھی نمودار ہوتا ہے وہ اپنا رنگ دکھا کر  ملک وقوم کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔

 ہم سب اسی دھرتی کے سپوت ہیں مگر درج بالا سوچ کے حامل جب کسی عہدہ اختیار یا طاقت پر پہچتے ہیں تو  وہاں ان کی سوچ کے عمل سے خرابی  شروع ہوجاتی ہے ۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہمیں ہمارے معاشرتی ماحول  کو اخلاقی تربیت سے آراستہ کرکے  بدلنے کی ضرورت ہے ۔

اب سوچنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہمیں اب ماضی کی غلطیوں کو تھوڑی دیر کے لئے بھلا کر اگر سب سٹیک ہولڈرز واقعی ملک میں آئین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے بارے مخلص ہیں تو پھر سب سر جوڑ کر بیٹھیں اور مستقبل میں  غیر آئینی اقدامات کی خدشات کو ختم کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل بنا کر اس کو   عمل میں لانے کاآغاز کریں ۔

جب فوج اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو آئینی حدود میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بات بذات خود ایک اعتراف ہے اور کوئی بھی اس حقیقت سے انکاری نہیں اور  دوسری طرف عدلیہ اور سیاستداں بذات خود بھی اپنے آپ کو اس  سارے غیر آئینی عمل سے بری الزمہ کرار نہیں دے سکتے  تو پھر اس اعادے کے بعد بار بار باتوں کو دہرانے کی بجائے اُس غیر آئینی سوچ کے دہرائے جانے کے خدشات پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے ۔

ہم جس جمہوریت کے سفر پر رواں ہیں اس کے ابھی ہم نے کئی مراحل طے کرنے ہیں ۔ اور سب سے مشکل دورانیے   کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جب غیر ذمہ دار  معاشرے کو  یکدم آزادی اور آزادی اظہار رائے کا حق مل جائے اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہ ہو تو پھر ایسے معاشروں کا شر ہی بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے جس کا آج کل ہم سامنا بھی کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر اس آزادی اظہار رائے نے جو گل کھلائے ہوئے ہیں اس سے شائد شیطان بھی پناہ مانگ رہا ہو ۔

جب ہم پارلیمانی نظام سے مستفید ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر ہمیں اس پارلیمانی نظام کی کامیاب مثال برطانیہ میں ملتی ہے جہاں پچھلے ایک ماہ میں تین وزیر اعظم بدل گئے ہیں مگر کوئی غیر اخلاقی بات نہیں ہوئی ، کسی بھی عالمی طاقت یا کسی دوسری ریاست پر الزام نہیں لگایا گیا ، کسی نے کسی ادارے کی مداخلت کا ذکر تک نہیں کیا ۔ آپ ان کے پارلمنٹ ہاؤس میں ان کے  بحث مباحثے کو دیکھیں تو کتنے تحمل ، تدبر اور شائستگی کے ساتھ وہ باری باری ایک دوسرے کو کتنے دھیان سے سن رہے ہوتے ہیں اور چند قطاروں میں آگے پیچھے بیٹھ کر اپنے مسائل  کو زیر بحث بھی لا رہے ہوتے ہیں ، اعتراضات بھی اٹھ رہے ہوتے ہیں ، جواب بھی دئے جارہے ہوتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی کروایا جارہا ہوتا ہے ۔ اور جو بات انتہائی دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ ان کا آئین کسی کتابی شکل میں نہیں ہےاور انہوں نے پھر بھی اس کو ایک رواج کے طور پر اپنا یا ہوا ہے ۔

اب اس سارے ماحول کو اپنے پارلیمنٹیرین سے موازنہ کرکے دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے کہ ہمارے شاہانہ نما پارلیمنٹ میں خودنمائی کے دلرادہ ہمارے نمائندگان کیا کیا گل کھلاتے ہیں ۔

کسی بھی ادارے کی عزت و تکریم اس میں موجود لوگوں کے اعمال اور کردار سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ، انہوں نے خود ہی اپنے نظام کی کامیابی  کو ممکن بنانا ہوتا ہے  اور اگر وہ خود ہی اپنے مسائل کو وہاں سے اٹھا کر چوک چوراہوں میں پہنچ جائیں اور پھر دوسروں پر انگلیاں اٹھانی شروع کردیں کہ وہ  ان کا تماشہ کیوں دیکھ رہے ہیں تو پھر  زمانہ محو حیرت تو ہوگا ۔

اور پھر ستم کی بات یہ ہے کہ اپنی غلطیوں سے نظریں ہٹانے کے لئے نظام کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں ۔ 

بدھ، 26 اکتوبر، 2022

عاصمہ جہانگیر کانفرنس آزادی اظہار رائے کا استعارہ ۔

یہ کانفرنس  عاصمہ جہانگیر کی وفات سے جاری ہے اور ہر سال اس کانفرنس میں انسانی حقوق کی آوازیں پہلے سے زیادہ بلند ہوتی جارہی ہیں ۔ اور مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ عاصمہ جہانگیر کا مقصد زندگی ان کی موت کے بعد اور بھی زیادہ سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ کارنفرنس  کے دنوں کا ماحول دیکھ کر  یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں انسانی حقوق کے عملدار آواز حق کو بلند  کرنے کے لئے اس ساز گار ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلا خوف خوب دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔ ایسی ایسی آوازوں کو موقعہ ملتا ہے جن کا بوجھ عام حالات میں میڈیا تو کیا سوشل میڈیا بھی اٹھانے سے گھبراتا ہے ۔

کوئی تو ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں ان خوفوں ،  نفرت کے لاوؤں ، شہریوں کے تحفظات ، اپنوں کے شکووں اور ڈر کے خوف سے چھپے اور دبے ہوئے خیالات کو باہر آنے کا موقعہ ملے وگرنہ یہ بہت بڑا خطرہ بن جاتے ہیں ۔ حد سے  زیادہ خوف کا ماحول بھی  ریاست کی کمزوری  ہوتی ہے جو کبھی بھی دشمن کے ہاتھ لگ سکتی ہے  ۔

اس لحاظ سے تو یہ ٹھیک ہی ہے کہ شکوے شکایتیں  کرنے اور دل کا حال جاننے  کا موقعہ ملتا ہے ۔ دل کی حالتیں  زبان پر آتی ہیں اور اندر ہی اندر دبے لاووں کے پریشیر کو کم ہونے کا موقعہ ملتا ہے  ۔مگرعقل  وشعور  کا یہ تقاضہ ہے کہ اس کو محض ایک روائتی مشق سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اس پر توجہ دیتے ہوئے دکھتی نبض کی علامات سے قومی بیماریوں کی تشخیص اور اس کا صحیح علاج   ڈھونڈنا چاہیے تاکہ پوشیدہ خطرات کو ختم کیا جاسکے ۔

اس دفعہ پچھلی کانفرنس  کی بجائے شکائتوں اور شکووں میں تیزی  نظر آتی ہے ۔ پچھلی دفعہ تو وہاں زیادہ تر مقررین اپوزیشن سے تھے اور جن حکومتی شخصیات کو بلایا گیا تھا  انہوں نے بھی اجتناب ہی برتا تھا اور جو چیف جسٹس صاحبان کی موجودگی میں تحفظات  نے بے قابوپن کا مظاہرہ کیا تھا جس  کی گونج  بعد میں بھی کافی مہینے  سنائی دیتی رہی ۔ مگر اس دفعہ حکومتی شخصیات کی انتظامی سربراہی میں  یہ حقوق کے اظہار  کا  سلسلہ جاری رہا۔

اور جو نعرے وہاں گونجتے رہے وہ دہرانے یا بیان کرنے کے قابل نہیں ۔اور وہ  ہمارے سیاسی و انتظامی  حالات میں تو شائد پبلش کرنے کی اجازت ، جرات   یا درجہ نہ رکھتے ہوں مگر دوسری طرف  اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج سوشل میڈیا کے دور میں کچھ بھی کسی سے چھپا ہوا نہیں  اور لمحوں میں پاکستان ہی نہیں دنیا کے کونے کونے میں پھیل بھی چکے ہونگے۔

حکومتی نمائندوں کو وہاں ان کی موجودگی میں  صحافت کی زبان سے ان کے منہ پر تھپڑ پڑنے تک  کی بات ہوئی اور ان کو وہ آئینہ دکھانے کی کوشش کی گئی جس سے وہ چہرہ چھپا رہے تھے ۔ اور لوگوں نے وہاں  ان کی بے بسی کو منہ چھپاتے بھی دیکھا ۔  وہ ڈھٹائی سے سب کچھ سنتے رہے اور کچھ خوددار وہاں سے اپنے عہدے کا خیال رکھتے ہوئے  اندر باہر کے چکر بھی لگاتے رہے ۔

یہ کانفرنس پچھلی کانفرنسز سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ اس کی پاداش  میں  وزیر  قانون کو اپنے عہدے کی قربانی بھی دینی پڑی اور وزیر خارجہ پر دباؤ  بھی سننے میں آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ بار کے صدر محمد احن بھون نے تو اس کی وجہ ججز کی تعیناتی میں دیئے جانے والے ووٹ  کو کہا ہے لیکن  میں سمجھتا ہوں کہ اس میں زیادہ اثر کانفرنس میں ان کی موجودگی میں قابل اعتراض تقاریرکا ہے  جن میں اداروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ ووٹ اسلئے  وجہ  نہیں  کیونکہ وہاں تو  انہوں نے اپنے بیانیے کے خلاف  استعمال  کرکے  اپنی وزارت کو بچانے کی کوشش کی تھی وگرنہ ان کو ووٹ دینے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا ۔ اور اس ووٹ کی سیاست نے  عاصمہ جہانگیر گروپ کی وکلاء کے اندر  مقبولیت  کو بھی متاثر کیا ہے  جس کا اندازہ ان کو اگلے الیکشن میں معلوم ہوگا ۔

ایک اور بات جو نوٹ کرنے کے قابل نظر آئی وہ یہ تھی کہ پچھلی کانفرنس میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اور صوبائی اعلیٰ عدالتوں کی چیف صاحبان نے بھی شرکت کی مگر اس دفعہ فقط جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہی نظر آئے جنہوں نے ہوش ربا اور سبق آموز  خیالات کے زریعے سے  تاریخ کے حوالوں  سے ریاست کے ہر ذمہ دار کو باور کرانے اور عوام کو ان کے حقوق کی نشاندہی کرکے جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری میں ممد و معاون قوانیں اور طریقہ کار کو مختصراً مثالوں اور حوصلہ افزاء  انداز  بیان سے  آگاہ کرنے کی کوشش کی جو واقعی سامعین کے لئے  ہمارے نظام عدل کے مستقبل کے متعلق ایک امید کی کرن تھی۔

اس کانفرنس میں پاکستان کی تاریخ کے حوالوں کے سہارے ریاست کے ہر جبر، آمریت، لاقانونیت، جمہوریت کو لاحق خطرات  اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جس جرات کے ساتھ بیان اور للکارا جاتارہا ہے وہ نہ تو جھوٹ ہے  ، نہ ہی کسی سے پوشیدہ ہیں اور نہ ہی ان کو دبانے کی کوئی تدبیر کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔  

وہاں جن خیالات اور سوچوں کا اظہار ہوتا رہا وہ قطعاً بھی نظر انداز کرنے والی نہیں ۔ اور ان  پیچھے چھپی بے بسی خطرات کا عندیہ دیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ اس پر ریاست کے انتظامی امور کی حامل طاقتوں کا صرف یہ کہہ دینا کہ اداروں پر تنقید اچھی نہیں ہوتی کافی نہیں ۔ بلکہ حقائق کو سمجھتے ہوئے اس کے سدباب کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔

ان سوچوں اور خیالات سے چھلکتی نفرتوں کو محبتوں کی چادر کی ضرورت ہے ۔ ان کو اگر غلط فہمیاں ہیں تو  بھی ان کو دور کرکے ان کو گلے لگانے کی ضرورت ہے ۔ قانون انسانوں اور معاشروں کی بھلائی کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ سزا  و جزا کا تصور خوف  پیدا کرکے معاملات کو صحیح رکھنے کی غرض  سے متعارف کروایا جاتا ہے ۔  ان کے بے جا  یا تسلسل کے ساتھ استعمال سے ان کے پیچھے پوشیدہ جرائم  سے بچاؤ اور ان سے نمٹنے   کی حکمت عملی کمزور پڑتی جاتی ہے ۔

ہماری تاریخی قومی بے وقوفیوں نے اعتماد ،  باہمی محبت  ، رواداری اور یکجہتی  کو بری طرح سے متاثر کیاہے اور اب وہ تمام حربے جو ناانصافیوں  اور غیر مساویانہ  اعمال کے نتائج کو دبانے کے کام لائے جاتے رہے ہیں وہ بے اثر ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔

کسی انسان کو تکلیف یا موت سے ڈرایا  ہی جاسکتا ہے اور اگر وہ خود ہی  سولی پر لٹکنے کے لئے تیار ہوجائے تو وہ  ناقابل تسخیر بن جاتا ہے ۔ ماضی کی غداری اور حب الوطنی کی تعریفیں اور مثالیں اب اپنے اثرات کھوتی ہوئی دکھتی ہیں ۔ اب ان قائم کی گئی حدود کو کراس کرنے کا خدشہ  ہی نہیں بلکہ عبور ہوتی   ہوئی نظر آرہی ہیں  اب ان کا علاج صرف اور صرف   محبت ، انصاف اور مساویانہ برتاؤ سے ہی ممکن ہے ۔

صاحب اختیار اور اقتدار طاقتوں سے گزارش ہے کہ اب تادیبی کاروائیوں  میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اس کا پائیدار حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو   مخلصانہ طور پر یقینی بنا کر ان شکائتوں  ، خدشات ، غلط فہمیوں اور تحفظات کو دور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے  وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ  بہت دیر ہوجائے ۔

اور اس میں سب سے زیادہ ذمہ داری سیاسی طاقتوں پر آتی ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر  مخلصانہ کوشش میں اپنی نیت  اور عمل سے اس کو  تقویت بخشیں ۔  

میگزین