سوچ کی غذا

اتوار، 10 ستمبر، 2023

عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا۔

اگر ہم واقعی ملکی مسائل کے حل کے لئے مخلص ہیں تو پھر ہمیں پہلے قوم بننا ہو گا۔ قوم وہ ہوتی ہے جس کی سوچ ایک ہو۔ جب سوچ ایک تھی تو وسائل نہ ہونے کے باوجود، دنیا کی فاتح قوم سے نجات حاصل کر کے ایک آزاد ریاست حاصل کر لی اور اگر اب دوبارہ اپنی آزاد ریاست کو بیرونی قرضوں اور مداخلت سے آزاد کرا کے جینے کا حق حاصل کرنا ہے تو پھر دوبارہ سے ایک قوم بننا ہو گا۔

ہمیں بحیثیت قوم ایک ایسی سوچ پیدا کرنا ہو گی جس میں اپنے ذاتی مفادات کو قربان کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ڈالرز کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنی کرنسی میں کاروبار کو ترجیح دینا ہو گی۔ دولت کو ملک سے باہر لے جانے کے بجائے واپس لانا ہو گا۔ اپنے وقت، دولت اور توانائیوں سے ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا کیونکہ اُس وقت تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک یہ دھرتی بدعنوانی، سمگلنگ، لاقانونیت، حقوق کی خلاف ورزیوں، ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ سے پاک نہیں ہو گی اور یہاں رہنے والوں کے دلوں میں دوسروں کی ہمدردی والی سوچ پیدا نہیں ہو گی۔ پاکستان کو اگر حقیقی پاکستان بنانا ہے تو پھر اس کے مطلب و مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے ماحول کو حقیقی بنانا ہو گا۔ پاکستان کا لفظی ترجمہ بھی پاک دھرتی بنتا ہے۔ پاکستان کا مطلب اگر لا الہ الا اللہ ہو اور اس کے اندر ہر وہ برائی جاری ہو جس کا اسلام سے دور دور کا بھی تعلق نہ ہو بلکہ اس کی ممانعت کی گئی ہو اورجسے اسلام اور کفر میں فرق بتایا گیا ہو تو پھر اس کی ترقی کے خواب کو کسی غافل کا خواب تو کہا جا سکتا ہے مگر باشعور انسان کا قطعاً بھی نہیں۔

یہ غربت، مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت ہمارے ان اعمال کا نتیجہ ہے جو 75 سالوں سے قومی غلطیوں کی صورت ہم بار بار دہرا رہے ہیں۔ کیا رشوت کا لینا دینا، نیچے سے لے کر اوپر تک کمیشن کی لت اور ہر طرح کی بدعنوانی سے کوئی لا علم ہے اور کیا ان کے ہوتے ہوئے اسے پاکستان (پاک سرزمین) کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنے ہوں گے جن سے ہم کم از کم یہ دعویٰ تو کر سکیں کہ ہمارے فعل ایک اچھے شہری کے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں چھپائے ہوئے ڈالرز کو مارکیٹ میں عام کرنا ہو گا۔ چھپائی ہوئی خوراک، چینی، آٹا، چاول اور دوسری اجناس کو مارکیٹ میں لانا ہو گا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔

ریاست محض جغرافیائی حدود کا نام نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر رہنے والے عوام اور نظام حکومت بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ عوام کی سوچ و عمل کا ریاست کے معاملات سے گہرا تعلق ہے۔ اس کا نظام حکومت عوام کے سوچ وعمل سے ہی مشروط ہوتا ہے۔ اس کی بہتری یا تباہی میں عوام کی سوچ و عمل کا ہی کردار ہوتا ہے۔ اس ملک کے حکمران ہم میں سے ہی ہوتے ہیں۔ ہم نے ہی ان کی خاندانوں اور معاشرے کے اندر تربیت کر کے ان عہدوں تک پہنچایا ہوتا ہے اور اگر ان کی صحیح تربیت کی گئی ہوتی تو آج یہ وقت دیکھنے کو نہ ملتا۔ عوام کے اندر جس دن اپنے ملک اس کی املاک اور اداروں کی اہمیت اور اس کی ملکیت کا احساس جاگ جائے گا اس دن سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ عوام کو جس دن اچھے اور برے میں تمیز آ جائے گی اپنے ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا اس دن سے ہماری سمت درست ہو جائے گی اور ہماری ترقی کے سفر کا آغاز ہو گا۔

اس کے لئے ہمیں اپنے سوچ و عمل سے قوم بننا ہو گا اور اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرنے کا عملی ثبوت دینا ہو گا۔ اپنے ملک کو اپنا گھر سمجھنا ہو گا اور جس دن ہم یہ سمجھ لیں گے تو پھر ہمیں اس کو لوٹنے کی بجائے اس کو بنانے کی فکر لاحق ہو گی اور پھر ہم اپنے گھر کو لوٹ کر غیروں کے دیس نہیں بھاگیں گے بلکہ ان بھاگنے والوں کا بھی محاسبہ کریں گے۔ بدعنوانی کا حصہ بننے کی بجائے اس کے خلاف ڈھال بنیں گے۔ اس کے وسائل کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی بجائے قومی مفادات کے لئے استعمال کریں گے۔ پھر ہم عوام کو اس کی حفاظت کرنا بھی آتی ہو گی اور اپنی خدمت پر مامور ان لوگوں جن کی تنخواہیں خزانے سے جاتی ہیں، سے کام لینا بھی آتا ہو گا اور اس دن سیاست شوق نہیں رہے گا بلکہ مجبوری بن جائے گا۔ لوگ سیاست سے بھاگیں گے اور عوام خود اچھے لوگوں کو ڈھونڈ کر مجبور کر کے مسند اقتدار پر بٹھائیں گے۔

قوم بننے کا مطلب ہے کہ ہر کوئی اپنی سوچ و عمل کو ملک و قوم کے مفادات سے ہم آہنگ کر کے اپنی اپنی استعداد اور اختیار کے مطابق اپنا حصہ ڈالے۔ مذہبی منافرت، عہدوں اور اختیارات کی مسابقت، قول و فعل کی منافقت اور خود غرضی کی معاشرت کو چھوڑنا ہو گا اور ہر کسی کو اس کے نظریات اور آزادی کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہ کر زندگی گزارنے کا حق دینا ہو گا۔ مذہب کے تقدس کے نام پر قتل و غارت کو ختم کرنا ہو گا اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا۔ جبری گمشدگیوں، حق آزادی رائے کی آواز کو دبانے جیسے خوف سے پیدا ہونے والے اپنے ہی دیش میں اجنبیت کے تاثر کو ختم کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے گرد مذہب، قومیت، علاقائیت، زبان اور دوسرے تعصبات کے حصار ختم کر کے محض پاکستانی ہونے کی شناخت پر اتفاق کرتے ہوئے سب کو مل جل کر اس ملک کی تقدیر کو سنوارنے کے لئے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہو گا۔

قوم کو اچھے برے میں تمیز کرتے ہوئے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی جو ملک و قوم کے لئے مخلص ہیں اور جن کا ماضی اس اخلاص سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہر اس عنصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی جن کا قول و فعل ملک و قوم سے اخلاص کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا خواہ اس کا کسی بھی ادارے سے یا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو۔ سیاست دانوں کے نعروں کو ان کے قول و فعل کے ساتھ مطابقت کے ساتھ دیکھنا ہو گا۔ اور اگر کوئی لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لاتا یا بدعنوانی کو ختم کرنے میں ساتھ نہیں دیتا تو وہ اس ملک و قوم کے لئے مخلص نہیں ہو سکتا۔

ہمارے پاس اس کی کسوٹی آئین و قانون ہی ہے۔ اگر تو ہم اس کسوٹی پر پورے اترتے ہوں تو پھر ہم اس ملک کے لئے مخلص ہیں اور اگر ہم اس کسوٹی پر پورے نہیں اترتے تو پھر ہمارے کھوکھلے نعرے اس ملک کو کچھ نہیں دے سکتے جیسا کہ ہماری تاریخ اس کی گواہ ہے۔

 

جمعہ، 1 ستمبر، 2023

توہین مذہب کے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے

 

ناموس مذہب کے نام پر افراتفری، تشدد، قتل و غارت، انتشار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمان جو کبھی بردباری، عفوودرگزر، صبروتحمل اور انسانی حقوق کے محافظ سمجھے جاتے تھے آج عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے اور شدت پسند کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو مذہبی توہین کے واقعات میں بہت ہی ذیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ مروجہ توہین مذہب کی منطق انسانی عقل و شعور ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتی اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی سرا اسلام کی خدمت پر خود ساختہ مامور  مذہبی طبقے سے بھی جڑتا ہے جنہوں نے معاشرے کے اندر  اس اشتعال انگیزی کو ہوا دی جس کی لپیٹ میں اب پوری قوم آچکی ہے۔  اس کے ذمہ دار وہ نام نہاد علماء ہیں جنہوں نے بغیر علم کے دین کے نام پرمسجد ومنبر کو روزگار کا زریعہ اور تبلیغ  کو سیاسی دکانداری بنایا ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو معاشرے کے اندر دین کے پیشوا کے طور پر جانا اور سمجھا جاتا ہے  جو معاشرے کے اندر ایک نمونے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ۔کل انہوں نے اپنی نفرت بھری تقریروں سے معاشرے کا جینا دوبھر کیا ہوا تھا  اور آج خود ہی اپنی محنت کی زد میں آچکے ہیں ۔

اخباری اطلاعات کے مطابق آج راولپنڈی کے رہائشی حافظ شاہد محمود اور عمران اصغر کی شکائت پر مفتی حنیف قریشی کے خلاف 298 اے کے تحت پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری کی اشتعال انگیزی سے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے پیچھے بھی انہی صاحب کی تبلیغ کا اثر تھا۔رپورٹ کے متن کے مطابق مفتی حنیف قریشی پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے صحابہ کے خلاف بغض  کا اظہار کیا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ 

اگر ہم اعدادوشمار دیکھیں تو ٢٠٠١ سے لے کر اب تک دو درجن کے لگ بھگ ایسے واقعات ہوچکے ہیں  جن میں پچاس کے قریب جانیں ضائع ہوئیں اور 150 کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اور ان جرائم میں ملوث افراد کی ہر سطح پر عملی طور پرحوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور مظلوموں کی داررسی کرنے والوں کو  سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وکلا کو محض اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ ایسے مقدمات میں پیروی کیوں کرتے ہیں۔ سال ٢٠٠٤ سے اب تک تقریبا اٹھارہ کے لگ بھگ وکلا لقمہ اجل بن گئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی عام لوگ بھی مارے گئے جیسے کہ اسلام آباد ٢٠٠٧ کے واقعہ میں تقریبا ١٧ عام شعری بھی مارے گئے۔ اسی طرح  ملتان  میں رشید رحمان کو مار دیا گیا۔ حالیہ جڑانوالہ اور فیصل آباد میں  عیسائی عبادت گاہوں اور ان کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا جس کی تحقیق بھی مبینہ طور پر ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ملوث ہونے کے ثبوت مل رہے ہیں  ۔ اسلام آباد کچہری میں کتنی الم ناکی سے وکلاء کوظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ میں خود اللہ کا شکر سے بمشکل بچا تھا ،اگر ایک منٹ کی تاخیر ہوجاتی تو آج بیان کرنے کی بجاے بیان ہو رہا ہوتا۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے کئی ڈاکٹرز اور وکلاء کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔  

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کی خلاف ورزی میں زیادہ تر سزائیں بھی مسلمانوں کو ہی ہوئی ہیں اور جہاں جہاں بھی کسی غیر مسلم پر کوئی مقدمہ بنایا گیا ہے اس کی تہہ میں جانے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی ذاتی رنجش کی بنا پر مقدمہ کا اندراج کروایا گیا یا اس کے پیچھے اشتعال انگیزی تھی۔ سیالکوٹ کا واقعہ کتنا دردناک تھا جس میں سراسر غلط معلومات کی بنیاد پر مشتعل ہجوم نے ہمارے دوست ملک کے ایک باشندے کو اتنی بے دردی سے بھرے بازار میں قتل کیا کہ پوری قوم کے سر ندامت سے جھک گئے۔ اسی طرح کوٹ رادھاکشن  اور اسلام آباد کے واقعات انتہائی دردناک تھے۔ اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا  جس کی کڑی جڑانوالہ  کا واقع ہے جس میں کتنی املاک کا نقصان ہوا، اسی طرح چند روز قبل  فیصل آباد میں واقعہ ہوا، جس سے ہماری اقلیتی برادری کے اندر ایک خوف سا پھیل چکا ہے جس سےنہ صرف پاکستان کی بلکہ پورے  عالم اسلام کے مسلمانوں کی رسوائی ہورہی ہے جس کے سدباب کے لئے حکومت   کو  اس سے سختی سے نمٹنے کا کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیے۔

اگر ہم اس معاملے کا جائزہ لیں تو چند عوامل ایسے ہیں جن  سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مذہبی سے زیادہ معاشرتی معاملہ  بن چکا ہے۔ میں معاشرتی اس اعتبار سے کہتا ہوں کہ اس میں مذہبی تو ہین تو گاہے بگاہے ہی ثابت ہوتی ہے مگر معاشرتی پستی ، لاقانونیت اور اخلاقی اقدار کی کمی ہر جگہ نطر

اب اگر اسلامی اور قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جہالت اور لا قانونیت کے سوا کچھ بھی نہیں کیو نکہ اگر کوئی چھوٹی بڑی غلط فہمی یا غلطی سر زد ہوتی بھی ہے تو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا نہ تو اسلام میں کوئی جواز موجود ہے اور نہ ہی  جدیدقانون میں۔ ایک جمہوری اور اسلامی ریاست میں ریاست ہی کے خلاف کاروائی اور سزا دینے کا حق رکھتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر بہت ہی واضح ہے کہ “ایک انسان کا نا حق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے“ یہاں مسلمان نہیں کہا گیا بلکہ انسان کہا گیا ہے اور پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں بہترین اخلاقیات کو پروان چڑھانے اور عام کرنے کے لیے بھجا گیا ہوں۔ انسانیت کا قتل بغیر کسی ثبوت یا صفائی کا موقعہ مہیا کئے، گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں اقلیتوں کے مال و جاں کی حفاظت ریاست کے ذمہ سونپی گئی ہے اور اگر محافظ ہی قاتل بن جائیں تو اس سے بڑی بددیانتی اور گمراہی کیا ہو سکتی ہے۔ جیسے ایک صوبے کے گورنر کو اس کے محافظ نے قتل کردیا۔ دیکھیں توجتنے بھی واقعات ہوئے ان میں اشتعال اور ذاتی رنجش کا عنصر ضرور سامنے آیا مگر اس کے باوجود بھی اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جا رہی ۔ ان نفساتی پہلوؤں کو  زیر غور لاکر ان کے بارے کوئی حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے۔اس ضمن میں چند تجاویز دینا چاہوں گا۔

تمام مکاتب فکر کے علماء کی قومی سطح پر ایک کانفرنس بلائی جانی چاہیے جس میں ملک کے جید علماء اپنے متفقہ فتوے کے زریعے سے علماء کے اندر اس معاملے کی حساسیت کو پیدا کرتے ہوئے ان کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے اپنے مراکز پر عوام کی اصلاح کی کوشش کریں اور عوام کے اندر دین کی روح سے غافل ملاؤں کی طرف سے غلط ذہن سازی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسی طرح سکولوں کے سلیبس کے اندر بھی سیرت طیبہ کے درگزر کرنے، مساوات، شفقت ، بردباری، اور ایک اسلامی ریاست کے اندر غیر مسلموں  کی حفاظت کی ذمہ داری ، اللہ کے بنی ﷺ کے اخلاق اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ان کے سلوک  کی اعلیٰ مثالوں جیسے موضوعات کو شامل کیاجائے تاکہ بچوں کے اندر اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کے وہ پہلو اجاگر ہوں جن سے معاشرے کے اندر محبت اور رواداری فروغ پا سکے۔

مسلمانوں کو اللہ کے نبی ﷺکے اخلاق پر عمل کرکے اسلام کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے جن کی ان کے بد ترین دشمن بھی تعریف کرتے تھے ۔ ان کی بعثت سے قبل ان کی چالیس سال کی زندگی میں پورے عرب و عجم میں احترام کی وجہ ان کا اعلیٰ اخلاق تھا۔انکو نبوت کی فضیلت تو چالیس سال کی عمر میں ملی اس سے پہلے ان کے انسانوں کے ساتھ معاملات اور اخلاق کی وجہ سے وہ ایک منفرد مقام رکھتے تھے  جن میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔  

اسی طرح ملک کے اندر اب تمام مساجد اور مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے تو پھر ان کے مہتم اور ذمہ داران کو بھی ایک ڈسپلن کے تحت لا کر ان کے لئے بھی کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے تاکہ ان اداروں کا کوئی ذمہ دار مہتمم ہو اور ان کی کوئی ٹریننگ ہو کہ اداروں کو کیسے چلایا جاتا ہے ۔ مدارس اور مساجد  ہمارے بہت ہی اہم ادارے ہیں اور ہماری تعلیم و تربیت میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ضرورت ان کو صحیح طرح سے استعمال کرنے کی ہے ۔ان لوگوں کے اندر بہت زیادہ پوٹینشل ہے ضرورت ان کو استعمال کر کے ترقی کے عمل کا حصہ بنانے کی ہے۔ اس طرح کی  مذہب کے نام پراشتعال انگیزی کبھی بھی کوئی ذمہ دار آدمی نہیں کرتا اور جب ان اداروں کی باگ ڈور ذمہ دار لوگوں کے سپرد ہو گی تو ایسی اشتعال انگیزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ ان ذمہ داروں کے چناو میں تعلیم کا بھی خیال رکھا جائے۔پھر ان کو ملکی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے  انہیں اور بھی ذمہ داریا ں سونپی جاسکتی ہیں ۔یہ ہمارے پاس رضاکاروں کا ایک بہت بڑا  ریسورس ہیں ضرورت توجہ دینے کی ہے۔ جیسے ان کو نکاح خواں کی رجسٹریشن دی گئی ہے اسی طرح اور بھی ذمہ داریاں مثلا‘ پولیو  یا وبائی امراض کے بارے مہم سازی ،ثالثی ، امن کونسلوں  جیسی ذمہ داریاں اور نمبرداروں کی طرح تصدیق کے عمل میں شمولیت وغیرہ سونپ کر مصروف کیا جا سکتا ہے۔

ان کی ذہن سازی کرکے  ان کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ ان کے رویوں کی وجہ سے نہ صرف ہمارےمعاشرے میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں بلکہ  ہم اسلام کی بدنامی کا سبب بھی بن رہے ہیں جس سے اسلام کی تبلیغ بھی متاثر ہورہی ہے۔ جب ایک مولوی دوسرے مولوی سے نفرت کروا رہا ہوگا تو پھر معاشرے میں امن کیسے بحال ہوسکتا ہے۔ جب ہم نے اللہ کے گھروں  (مسجدوں) پر نظریات اور مسلک کے پہرے لگائے ہوئے ہونگے اور کسی کو آزاد مرضی سے وہاں گھسنے اور عبادت کرنے کی اجازت ہی  نہیں دیں گے تو پھر ہماری اس اجارہ داری سے اسلام کے ایک دوسرے کو سننے  ، حال جاننے اور اجتماعیت کے تصور کو پنپنے کا کیسے موقع ملے گا۔ جب ہم ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کریں گے تو پھر اصلاح کا عمل کیسے وجود پا سکتا ہے۔

ہماری علمی سطح کا یہ حال ہے کہ  مبینہ طور پر بہالپور یونیورسٹی کا ایک نوجوان لیکچرار کو صرف اس لئے جیل میں ڈال دیا گیا کہ وہ خدا کے وجود کا انکاری تھا۔ ہم ایک اسلامی ریاست کے اندر تمام مکاتب فکر کے علماء  کا علم اور ریاستی وسائل ہونے کے باوجود کسی  کو دلیل سے قائل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ہمارے پاس اس کا ایک ہی حل ہے کہ اس کو پابند سلاسل کر دیا جائے  یا اس کا سر تن سے جدا ۔ یہاں جس پر ایک دفعہ جھوٹا یا سچا مذہب کے متعلق توہین کا کوئی الزام لگ جائے تو پھر ہمارے معاشرے کے اندر جنونیت سے خوف زدہ ذہنوں کے پاس اس کا کوئی شعوری حل ممکن نہیں بلکہ اس کو معاشرے کی خواہشوں کے طابع لے کر ہی چلنا ہوتا ہے ۔ عدالتوں کے جج ایسے مقدمات سے کتراتے ہیں کوئی وکیل ایسے ملزم کے لئے پیش ہونے کی جرات نہیں کرسکتا اور  تو اور اس موضوع پر لکھنا بھی  موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ 

 

 

میگزین