- یہ دھرتی ہم سے پوچھتی ہے
- حقیقی تبدیلی کیسے ممکن ہے
- قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں
- ہمارا قومی تشخص عالمی تناظر میں
- ترقی ، کامیابی اور اس کا راز
- ناانصافیوں کا ذمہ دار کون؟
- عوام کو ملک کے ساتھ مخلص سیاسی قیادت کا ساتھ دینا ہو گا
- عوامی شعور کو درست سمت دے کر جتھوں کی دھونس سے چھٹکارہ مل سکتا ہے
- معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کشکول توڑنے کی راہ نکالنی ہو گی
- سوشل میڈیا پر پابندی کس حد تک جائز ہے؟
- قومی سطح پر اسلامی تشخص کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- معاشرے سے سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
کامیاب انسانی ماڈل
سوچ کی غذا
منگل، 23 دسمبر، 2025
عدالت عالیہ کا جذباتی اور جارحانہ حکمنامہ
پیر، 22 دسمبر، 2025
کیا تحریک تحفظ آئین پاکستان کارکردگی دکھا پائے گی؟
کیا پاکستان میں جمہوریت صرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کا نام ہے خواہ وہ اسٹیبلشمنت کی گود میں بیٹھ کر ہی داغے جا رہے ہوں یا جمہوری اقدار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے؟
ابھی چند سال پہلے ہی وہ اپنے دائیں بیٹھی جماعت تحریک انصاف کے خلاف سڑکوں پر تھے جبکہ وہ ہائبرڈ جمہوریت کی ایک نئی اصطلاح متعارف کروانے میں مصروف تھے۔کیا ان سے اب جمہوری اقدار پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی حاصل کر لی گئی ہے؟
کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے مطلوبہ ہدف کی راہ میں رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی سطح کی طاقت کا ہونا ضروری ہے جس کے بغیر کامیابی کا تصور ممکن نہیں۔ اور پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی ہے۔
اب ایسا کیوں ہے اس کی ایک بہت ہی سادہ سی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خواہ اس کا آئینی درجہ کم ہی سہی مگر اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت موجود ہے جو حاوی رہنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں جبکہ جمہوریت میں سیاستدانوں کے اندر وہ صلاحیتیں اور اہلیت ہی نہیں۔
سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے منشور کی بنیاد پر باہمی اختلافات بھی ہوتے ہیں مگر ملکی سطح پر جمہوریت کے آپریٹر ہوتے ہوئے انکی ایک تنظیم کی حیثیت ہوتی ہے۔ جس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں اور اہلیت ہونی چاہیں جو جمہوریت کے خلاف کسی بھی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اب یہ صرف ہارڈ پاور سے ہی ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے سافٹ پاور کا ہونا بھی ضروری ہے جس کی بنیاد اعلیٰ اخلاقیات اور سیاسی شعور ہیں۔
آئین کی پاسداری اور تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کا خود عمل ہو پھر وہ دوسرے اداروں سے اس پر عمل کو یقینی بنوا سکتی ہیں۔
پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو ان کو عدم اعتماد کے زریعے سے ہٹایا گیا جو آئین کے عین مطابق تھا اور یہ کہنا کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے ایسا کروایا ایک انتہائی نا مناسب بات ہے جو غیر سیاسی اور نا اہل سوچ کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ اگر سیاستدان استعمال ہوئے تو وہ استعمال کرنے والے کو گالیاں دینے کی بجائے استعمال ہونے والوں کا محاسبہ کیوں نہیں کرتے؟میرے خیال میں تو ایسا کہنا بھی گویا اپنی نا اہلی کو ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ جب آپ میدان میں اترتے ہیں تو دنگل اپنے زور بازو پہ جیتنے ہوتے ہیں اس وقت یہ جواز کوئی حیثیت نہیں رکھتے کہ ہمیں زور نہیں لگانے دیا جا رہا۔
جب آئینی طور پر ان کی حکومت گرائی گئی تھی اسے تسلیم کیا جا نا چاہیے تھا۔ محمود خان اچکزئی اس وقت حکومت ہٹانے والوں میں شامل تھے ااور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ محمود خان اچکزئی خود اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے استعمال ہونے والوں میں تھے۔
اگر یہ سب ٹھیک ہے تو پھر اس کا اعتراف بھی تو ضروری ہے۔ اور اگر تحریک انصاف کا موقف ٹھیک نہیں تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ آئین کی حالت سے اتنا فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو سیاستدانوں کے کردار سےکہ وہ کس قدر جمہوری ہیں۔
کسی بھی ریاست کا آئین اس کے چلانے کے لئے ایک انسٹرومنٹ ہوتا ہے جس کا تحریری صورت میں ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ تحریری صورت میں ہونا محض ایک فارمیلٹی ہے۔ اصل ضرورت اس کے تقدس کا احساس ہے جس کی موجودگی میں اس کا تحریری ہونا اپنی حیثیٹ کھو جاتا ہے اور اگر یہ احساس نہ ہو تو تحریری ہونا بھی اپنی حیثیت کو منوانے میں نا کام رہتا ہے۔
جس کی مثال انگلینڈ اور ہمارے آئینی سے واضح ہو سکتی ہے۔ ان کا آئین تحریری نہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں قومی سطح پر تقدس ہونے سے اپنی حیثیت کو منوانے میں کامیاب ہے مگر ہمارا آئین تحریری ہونے کے با وجود بھی تقدس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی حیثیت کو منوانے میں ہمیشہ نا کام رہا ہے۔
اس تقدس کی سب سے زیادہ موجودگی سیاستدانوں کے اندر ضروری ہوتی ہے کیونکہ ان کی عوامی مینڈیٹ کے حصول کے بعد اہم ذمہ داری اس پر عملدرآمد، حفاظت اور اس میں ملک و قوم کی فلاح کے لئے اصلاحات لانا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے قابل نہ ہوں تو پھر آئین کے تقدس کو یقینی بنانا ممکن نہیں رہتا بلکہ وہ خود ہی اس کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں اور یہی سب کچھ پاکستان کے آئین کے ساتھ ہو رہا ہے۔
اب اس کا حل آئین کی حفاظت بارے محض ڈھنڈورا پیٹنے سے ہونے والا نہیں بلکہ سیاستدانوں کو اپنے اندر اور قومی سطح پر شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کو یقینی بنانا ہوگا یا پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے انہیں ملکی سیاست میں مستقل طور پر کوئی کردار دینا ہوگا جس کے ایک بہترین حل کے طور پر ہم اپنی جمہوریت کو چائنا کی طرز پر استوار کر سکتے ہیں۔
اخلاقیات اور شعور پر کام کرنے کے لئے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے قوم سے معافی مانگنا ہوگی اور پھر سیاسی برادری کے اندر اپنے بارے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا اس کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔
جب قوموں کے اندر اعلیٰ اخلاقیات اور شعور ہوتا ہے تو پھر وہاں نظام خود بخود ہی مضبوط ہو جاتے ہیں جس کی مثال ہم سکینڈیوین یا نارتھ امریکن ممالک سے لے سکتے ہیں۔ وہاں آپ کو جمہوریت مضبوط دکھائی دیتی ہے تو اس کی بنیاد ان کی اخلاقی اور جمہوری اقدار ہیں۔
اگر ہم کہیں کہ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کسی کی بھی حالت تسلی بخش نہیں یا سب نے ہی کسی نہ کسی دور میں جمہوری اقدار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار کے حصول کے عمل میں شرکت کی ہے تو یہ بجا ہوگا
مگر ماضی میں سیاسی جماعتوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کسی نہ کسی حد تک جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوششیں بھی تو کی ہیں جن میں سب سے نمایاں میثاق جمہوریت کے نام پر پاکستان کی بڑی دو سیاسی جماعتوں میں ایک معاہدہ بھی ہے جس کے بعد جمہوریت کی مضبوطی کے عملی اقدامات اور نتائج بھی دیکھنے کو ملتے رہے جن کو نقصان پی ٹی آئی کی سرگرمیوں نے پہنچایا ہے۔
ہائبرد جمہوریت کی اصطلاح انہیں کی جمہوریت مخالف سرگرمیوں کی پیداوار ہے جس نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو پھر سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی کوشش کی کامیابی کے چانسز بہت ہی کم ہونگے
پی ٹی آئی کی ان سرگرمیوں سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے اداروں جن میں فوج اور خاص طور پر عدلیہ شامل ہے کی ساکھ بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔
موجودہ حکومت کو جو ہائبرڈ جمہوریت کے طعنے دئیے جارہے ہیں وہ ٹھیک موقف نہیں کیونکہ جب اس اصطلاح کی حامل حکومت کو ختم کیا گیا تو ان کوششوں کے جناب محمود خان اچکزئی بھی گواہ ہیں جس کے اندر جرنیلوں کا کوٹ مارشل کر کے ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ اگر کوئی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کوشش کرے تو تنقید کی بجائے اس کو داد دی جانی چاہیے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ ہوئی ہے۔
عمران خان کی سیاست میں سوشل میڈیائی سرگرمیاں جن میں فوج کے سربراہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیا پاکستان کے حق میں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو عمران خان کی سیاست کو موجودہ ماحول سے موافق بنانے کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
کیا ابھی جو محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی شرط پر مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کو آگے بڑھ کر مزاکرات کی دعوت دی ہے ان سرگرمیوں کی موجودگی میں کام یاب ہو سکتی ہے؟ قطعاً بھی نہیں کیونکہ عمراں خان کی تو ساری سیاست کی بنیاد ہی اپنے سیاسی مخالفین اور نئی اسٹیبلشمنٹ جن سے ان کو سہولتکاری میسر نہیں آ رہی کے ٹرولنگ ہے جس کے بغیر وہ اپنی سیاست کی موت سمجھیں گے۔جن کو انہوں ایک بار پھر دہرا دیا ہے۔ اور انکے موقف اور سرگرمیوں میں تبدیلی یا اس کی یقینی دہانی کے بغیر ساتھ چلنا بھی خطرات سے خالی نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پر اعتماد نہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
جمعہ، 19 دسمبر، 2025
طالب علمی کی چھوٹی سی غلطی پر جج کے عہدے سے سبکدوشی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے اپنی ہی عدالت نے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن پر افسوس، افسردگی اور حیرانگی تو ہے ہی مگر یہ قابل احظاظ بھی تو ہے۔
وہ پچھلی سماعت پر قسمیں کھا کر ان کو یقین دلانے کی کوششیں کرتے رہےکہ انکی ڈگری اصلی ہے، دنوں اطراف سے اعتماد کا فقدان تو تھا ہی مگر کم از کم اپنے ہم منصب ہونے کا ہی حق ادا کر دیا ہوتا انکی مرضی کے کسی بنچ سے سماعت کی خواہش تو پوری کر دی ہوتی۔
انصاف کے تقاضے اپنی جگہ، ٹھیک ہے شواہد کی موجودگی میں جج بے بس ہوتا ہے مگر اتنی بھی بے رخی کیا ہوئی؟ جہانگیری صاحب بنفس نفیس ہمراہ ایک معزز خاتون جج سندھ ہائیکورٹ میں بھی پیش ہوئے اور انہوں نے سننا تک گوارا نہیں کیا۔ ویسے اگر ایک اعلیٰ درجے کی آئینی عدالت کے ہم منصب ججز کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو تو پھر عام لوگوں کو اس بارے خدشات پر کیسے تسلی دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے نا اہلی کو چھپاتے ہوئے نئی رجسٹریشن سے ڈگری لے لی جس کی بنیاد صرف اتنی سی ہی ہے کہ اپنے زمانہ جوانی اور طالب علمی میں چھوٹی موٹی نقل لگالی یا ممتحن کو دھمکی دے بیٹھے۔ طالب علم کی غلطی پر جج کی نا ہلی یہ کیسا انصاف ہے؟ ویسے بھی اگر ہماری تعلیم میں کردار سازی کی اہمیت کا تصور ہوتا تو آج یہ وطن نام نہاد پڑھے لکھوں کے ہاتھوں بدعنوانی کی چیخا میں جھلس نہ رہا ہوتا۔
انکی اعلیٰ ظرفی اور ذہانت دیکھئے کہ انہوں نے نئی رجسٹریشن میں اپنی ولدیت میں مبینہ طور پر صرف قاضی (قاضی محمد اکرم) کا اضافہ کر کے اپنا اُلو سیدھا کر لیا۔ گویا روایتی انداز قضاء کا انکی گُھٹی سے حسین امتزاج ہو
درسگاہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو اس قدر سختی والا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس چھوٹی سی پھرتی کو درگزر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتے۔ کیا ہوا گر انہوں نے با امر مجبوری غلط بیانی کر ہی لی تو یہ ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس دور کی کراچی کی نقلیں اور سندیں تو ویسے بھی مشہور ہیں۔
اس پر مجھے ایک سنجیدہ لطیفہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک آئینی ادارے کی بھرتی کے دوران سندھ سے ایک تعلیم یافتہ امیدوار ایم اے انگریزی سے جب انگریزی زبان میں سوال کیا گیا تو اس کی خاموشی پر استفسار کرنے سے اس کا جواب تھا کہ اس نے ایم اے انگلش اردو میں پڑھ کر کیا ہوا ہے۔
اسلام میں کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کا حکم بھی تو ہے اسی کا خیال کر لیا ہوتا۔ ضرور کسی نے جہانگیری کی مادر علمی کے کان بھرے ہونگے وگرنہ اسے اپنے ہونہار طالب علم پر فخر کرنا چاہیے تھا کہ وہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ وہ جج بننے سے پہلے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، صدر اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔
جتنے سالوں کا ان کے پاس وکالت، بارز کی خدمت، ایڈووکیٹ جنرل اور جج کے عہدے کا تجربہ ہے اس کی بنیاد پر تو ان کو اعزازی ڈگری بھی دی جا سکتی تھی چہ جائے کہ ان سے پہلی بھی چھین لی جائے۔آج اگر القادر یونیورسٹی کے ہاں لاء فیکلٹی ہوتی تو وہ ضرور جج صاحب کو ان کی خدمات کے عوض صلہ دیتی۔
ریاست کے معززین سے گزارش ہے کہ جج کا عہدہ آپ کی عنائت تھی چاہیں تو واپس لے لیں مگر جناب کی گریجویشن چھین کر ان کی تعلیم اور محنت مزدوری کا زریعہ تو نہ چھینیں پہلے ہی ہمارا لٹریسی ریٹ بہت کم اور بے روززگاری عروج پر ہے
لگتا ہے کہ انہوں نے بنچ پر جانبداری کا الزام بھی ٹھیک ہی لگایا ہوگا کیونکہ اگر ان کا کوئی ہم خیال جج ہوتا تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی تکنیکی بندوبست پیدا کر لیتے۔ جو آئین کی تشریح میں حالات کی موافقت سے ممکنات پیدا کرنے کے ماہر ہوں ان کے لئے یہ کون سا بڑا کام تھا۔
جہانگیری کی قسمت کہ ہم خیالوں کا دور نہیں رہا وگرنہ وہ یونیورسٹی کو مفاد عامہ کے تحت عدلیہ کو رسوائی سے بچانے کے لئے در گزر کرنے کا بھی تو کہہ سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کو یہ بھی تو باور کروا سکتے تھے کہ انکی نا اہلی تین سال کے لئے ہی تو تھی جو کب کی ختم ہو چکی ہے۔ ان سے استفسار کر سکتے تھے کہ جس انرولمنٹ پر انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری پاس کی ہے اس میں کوئی نقل یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے تو دکھائیں۔
کاش آج سوو موٹو کا اختیار ہوتا تو ایک معزز جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر عدالت یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے سارا معاملہ ہی اپنے پاس منگوا لیتی اور انکی رسوائی یوں خبروں کی ہٹ لسٹ پر نہ آتی۔
عدلیہ کا گھر کا معاملہ تھا اختیارا ت میں بھی کمی نہ تھی معاملہ جوڈیشل کمیشن بھیج دیتے یوں ان درخواستوں پر عمل میں چند دن کا وقفہ مل جاتا اور وہ اپنی بحثیت جج مراعات کے اہلیت کو پہنچ جاتے تو وہ خود ہی استعفیٰ دے کر اپنے منصب سے علیحدہ ہو جاتے کم از کم انکی مراعات تو ضائع نہ ہوتیں بلکہ سنا ہے کہ انہوں نے وزیر قانون کو مبینہ طور پر پیشگی اپنا استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔
نا اہلی اور وہ بھی ججوں کے خلاف عادی درخواست گزار میاں داؤد کے دعوے پر جن کے سر پہلے بھی عدلیہ کی بدنامی بارے مظاہر نقوی کی نا اہلی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میاں داؤد بھی اب تو ججوں کو ڈرانے کا ایک برانڈ نیم بناتا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہ تھما تو کل سیاسی مخالفین ایسے ججز کو کہنے لگیں گے کہ میاں داؤد کو بلاوں؟
سمھیں تو اس میں بھی سبق ہے کہ میرٹ کی بجائے چیرٹی کے طور پر بانٹے گئے عہدوں کی بنیادوں پر مستقبل کی عمارتوں کی پائیداری اتنی ہی ہوتی ہے۔جو لوگ جعلی ڈگریوں پر جج بنوا سکتے ہیں انکو وہاں سے ہٹوانا کون سا مشکل ہے۔
ویسے ہمارے ججوں میں جذبہ منصفی ہے قابل دید اور قابل داد کہ وہ اعتراض کے باوجود بھی سماعت سے علیحدہ نہیں ہوتے اور کام سے روک دینے پر افسردہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ جہانگیری صاحب کو مقدمات کی سماعت نہ کرنے پر افسوس ہوا یا سرفراز ڈوگر بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کے باوجود بھی سماعت پر بضد رہے۔
شائد انہیں دوسروں کی نسبت اپنی صلاحیتوں پر زیادہ بھروسہ تھا جس سے کچھ اور ہو یا نہ ہو انکی خود اعتمادی تو ظاہر ہوتی ہی ہے۔ ویسے بھی اگر اس ملک میں اسلامی شعار یا اخلاقی اقدار کا بھرم ہوتا تو جن کو ایسے عہدوں کی خواہش ہوتی ہے ان کی تعیناتیاں ہی کیوں کی جا رہی ہوتیں۔
مجھے ہمدردی ہے جناب سے کہ نظام قانون و انصاف انکے موافق نہیں پڑ رہا وگرنہ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وکیلوں کی ہڑتال کی دھمکی بھی کافی تھی وہ آخر اتنے زیادہ وکیلوں کے سنئیر بھی تو ہیں۔ویسے آج جو وکلاء نکلے ہیں ان کی بھی ہمدردیاں انصاف کے لئے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے لئے محسوس ہو رہی تھیں۔
لگتا یوں ہے کہ وکلاء بھی اندر اندر سے بارز کی ایسی قیادتوں سے نالاں ہیں جو عہدے حاصل کر کے پوری برادری کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ خوش ہیں ایسے حوادثات سے جن سے شائد عہدوں کی تمنا مانند پڑ جائے۔
یوں اہلیت کے اصولوں سے بے بہرہ ور نظام عدل میں تعنیاتیوں کے ہاتھوں اپنے ہی ہم منصب کی نا اہلی کسی بدلے بدلے ماحول کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ ججز کے استعفوں اور نا اہلیوں کے رجحان سے تو جوڈیشری کی بھل صفائی ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جس کے تانے بانے ہم خیالی انصاف سے ملتے دکھائی دیتے تھے۔
مجھے اب بھی امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ضرور اپیل میں بھی جائیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی نہ صرف بنچ پر اعتراضات اٹھائے بلکہ ان کے خلاف وفاقی آئینی عدالت بھی گئے۔ شائد کوئی ہم خیال تکنیکی بندوبست کام آ جائے جو ان کی بھرتیوں کے دور میں عدالتوں کی روایات کے مطابق ان کا برادرانہ حق بھی ہے۔
منگل، 9 دسمبر، 2025
ریاست کی گورننس پر سوالیہ نشان
ایک ادارے کے ذمہ دار عہدیدار کا ایک قیدی کی سرگرمیوں پر یوں کانفرنس کرنا کوئی عام بات نہیں بلکہ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ریاست کی گورننس پر، ملکی انداز سیاست پر اور وزارتوں کی کارکردگی پر کہ ایک سابق وزیراعظم جس کی پروفائل بذات خود ایک کھلی کتاب ہے عسکری ادارے کے سربراہ پر کھلے عام الزامات لگا رہا ہےکہ ملک میں اس کی پالیسیاں چلتی ہیں جو آئین پاکستان کے نفاذ پر ایک سوال ہے۔ کیا ریاست کے وزیر اعظم کے پاس نام کا عہدہ ہوتا ہے؟
ذہنی مریض ہی سہی، قید میں ہی سہی آخر سابق وزیر اعظم بھی تو ہے اس سے وضاحت ہی طلب کر لی جائے کہ وہ یہ سب کچھ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہے یا کرسی چلے جانے کا دکھ پِٹ رہا ہے۔ اگر واقعی سچ ہے تو پھر وہ اس وقت خاموش کیوں تھا جب کہیں اور بنائی گئی پالیساں اس کے نام سے نافذ ہوتی تھیں؟
سوال ہے اس نظام جمہوریت پر ، اس نظام پر یا اس بندوبست پر جس سے ایک ذہنی مریض بغیر سائیکالوجیکل انیلیسس کے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے اور پھر قومی سطح کے میڈیا پر اس کے نام کے ڈنکے بجائے جاتے ہیں ۔سادہ معصوم ذہنوں پر ملک و قوم کے مستقبل بارے کشیدہ کاری کروائی جاتی ہے۔ عوام کو اس کے واحد نجات دہندہ ہونے کے یقین دلوائے جاتے ہیں۔ امت مسلمہ کا لیڈر ہونے کے نکارے بجائے جاتے ہیں۔
اس وقت کے بچے اب جوان ہو چکے ہیں۔ نوجوان فیملی کے سربراہ اور اس وقت کے سربراہ قبیلوں کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ دہائیوں پر محیط محنت سے بنائے گئے اس یقین کو یکدم ختم کر دیا جائے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ اس کی پیشکش اور ہدائت کاری کہاں سے ہوتی رہی؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا تبدیلی کا نعرہ سب جھوٹ تھا تو اس کے شواہد عوام کو کیوں نہیں دکھائے جاتے؟
عوامی شعور کو بے راہ روی کا شکار کیا گیا اب اگر اس شعور کو گناہگار ٹھہرایا جا رہا ہے تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس میں شریک جرم ریاست کی مقتدرہ کو معصوم اور بے قصور کیسے سمجھ لیا جائے؟
ایک قیدی کو سیاست کرنے کی اتنی آزادی کہ اس کے الزامات سوشل میڈیا تک پہنچ کر عوام کے عادی ذہنوں تک پہنچ جاتے ہیں بذات خود ایک سوال ہے؟
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان الزامات پر تحقیقات کیوں نہیں ہو پا رہیں؟ آئین اور قانون خاموش کیوں ہے؟ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیا ایسے جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا کو روکنے کی سکت نہیں رکھتی؟ اے آئی کی مدد سےکوئی ایسا سافٹ وئیر ٹول نہیں بنا سکتی جو جھوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے عوام کو بر وقت حقائق سے آگاہ کر کے عوامی شعور کو درست سمت دے سکے۔
وہ ریاست جو دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کر کے چند گھنٹوں میں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی ہے وہ ایک قیدی کے پراپیگنڈے پر تحقیق یا اس کو روکنے پر اتنی بے بس کیوں ہے جس کو عسکری ادارہ ملکی امن کے لئے خطرہ سمجھتا ہو اس پر ریاست کی گورننس خاموش کیوں ہے؟ کیا وہ مکافات عمل کے سامنے بند باندھنے سے قاصر ہے یا نتائج کی خوشی کی مستی میں۔
بہرحال سوال اپنی جگہ مگر اس کانفرنس کا سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ ایمپائر کی انگلیوں کے اشاروں پر سیاست کرنے والوں کو اب حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنا ذہن درست کر لینا چاہیےکیونکہ اس بار انگلی کی جگہ ڈنڈا ہے اور اب یہ سیاسی توجیہات کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ کسی شخصیت کے خلاف ہیں یا فوج کے سیاست میں کردار کے خلاف ہیں نہیں چلیں گی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے خلاف لب کشائی کا جواب فوج کے ترجمان کی زبان سے سن کر تمام غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہیں کہ فوج کے سربراہ کے احترام پر ادارے نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس کا حکم ہی فوج کا عمل ہوتا ہے۔
منگل، 25 نومبر، 2025
بین الصوبائی مقابلہ ترقی و کارکردگی کے انعقاد کو یقینی بنایا جانا چاہیے
ہفتہ، 15 نومبر، 2025
بشریٰ بی بی بارے عالمی جریدے میں چھپنے والی رپورٹ کی تحقیقات کروائی جانی چاہیں
میں سمجھتا ہوں کہ اتنے معتبر بین الاقوامی جریدے میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد وزراء کو سیاسی مخالفت کی بنا پر طعنہ زنی کی بجائے اسے سنجیدہ لیتے ہوئے حکومتی سطح پر تحقیقات کی ہدایات جاری کرنی چاہیں۔ یہ بانی پی ٹی آئی کا معاملہ تو ہوگا ہی مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم اور ایک ایٹمی طاقت کی حامل ریاست اور اسکے اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں جن میں ریاست کا وزیر اعظم حساس ادارے کے اہلکاروں کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا ہے اور چند افراد اپنی خواہشات کے تحت ریاستی امور پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں گویا ریاست کی سربراہی ماہرین کی بجائے جادو ٹونے کے تحت چلائی جاتی رہی ہے۔
اس دوران پاکستان کے سفارتی سطح پر تعلقات سے لے کر بیرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی کاموں کو ٹھپ کرنے تک کے فیصلے ہوتے رہے اور ملکی معیشت کا ستیا ناس ہونے کے علاوہ بیرونی قرضوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا جو انتہائی تحقیق طلب معاملہ ہے۔
اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس کو من گھڑت بیان قرار دیتے ہوئے جریدے کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے جو ان کا بنیادی حق ہےلیکن اس معاملے کو فقط ان پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ اگر ان کو کسی طرح کی مدد بھی چاہیے تو حکومت کو مہیا کرنی چاہیے۔
اعتقاد اور نظریات اپنی جگہ مگر ان کے ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور وہ بھی ایک سراسر دھوکہ دہی اور جانتے بوجھتے ہوئے ایک ریا ست کے سربراہ کو دھوکے میں رکھ کر فیصلوں پر اثر انداز ہونا تو انتہائی سنگین جرم ہے اور پھر وزیراعظم ایک ریاست کا سربراہ ہوتا ہے لہذا اس میں اس قدر بھی سادگی نہیں ہونی چاہیے کہ ان کو اتنی جلدی سے بے وقوف بنا لیا جائے اور وہ من گھڑت کہانیوں جن کی بنیاد جادو ٹونے پر ہو کو اس قدر ترجیح دیتا پھرے۔
لہذا اس بارے پہلے تو ریاست کو خفیہ طور پر تحقیقات کروانی چاہیں اگر تو یہ محض الزامات ہیں تو پھر کسی کی عائلی زندگی اور شہرت کو اچھالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف ایک سیاسی جماعت کی قیادت اور کارکنان کو ذہنی اذیت پہنچے گی بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔
لیکن اگر یہ سب کچھ سچ ثابت ہوتا ہے تو پھر حکومت کو اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی کو عمل میں لانا چاہیے اور مستقبل میں کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے کہ ریاست کے فیصلوں کی بنیاد اس قدر غفلت کی شکار نہ ہو پائے اور نہ ہی کبھی ریاست کے حساس ادارے کے اس طرح کے جرائم میں ملوث پائے جانے کا تاثر ابھر سکے۔ اس سے نہ صرف اداروں کی ساکھ خراب ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملکی تشخص بھی تباہ ہوتا ہے۔
تحقیقات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ اگر ان سنگین جرائم کی وجہ سے ملک کو مالی نقصان پہنچا ہو تو عوام کو اس بارے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے فیصلے دانشن مندانہ سوچ کے تحت کرنے کے قابل ہو سکیں اور ریاست کی غیر شعوری مقبولیت سے جان چھوٹے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا تاثر ابھرے
جمعہ، 14 نومبر، 2025
صدر پاکستان نے اپنے بالائے قانون ہونے کی آئینی ترمیم پر دستخط کر دئیے
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ جناب صدر پاکستان نے اپنےعہدہ کے بالائے قانون و آئین ہونے کی آئینی ترمیم پر دستخط کر کے اپنے ہی اختیار سے اپنے آپ کو بالائے آئین و قانون اور احتساب بنا لیا ہے جس پر عوام، آئین و قانون اور نظام انصاف سراپا حیرت میں مبتلاقدرت کے فیصلوں کی طرف متوجہ دکھائی دے رہی ہے۔
عقل وشعور یہ منطق سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان کے کون سے کارناموں کی بدولت خوف و ہراس سے چھٹکارہ دلوانے کے لئے یہ تحفظ فراہم کرکے آئینی و اخلاقی اور اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں
ویسے تو اس ملک کی روایات میں اس طرح کے تحفظ کے بندوبست کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں مگر تحریری طور پر آئینی جواز کی ایک نئی مثال قائم کر کے انہوں نے اپنے پر ماضی میں لگائے جانے والے الزامات کو تقویت دینے کا تاثر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے اپنا نام اس اشتثنیٰ سے نکلوا کر جمہوریت اور قانون و انصاف میں سب برابر ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے جو قابل ستائیش ہے مگر عوامی نمائندوں سے اس طرح کی ترمیم پر نظام عدل کا عدم اعتماد کا تاثر جو عدلیہ سے استعفوں کی صورت ابھر رہا ہے خوش آئیند نہیں۔ ویسے بھی یہ استثنیٰ کی ترمیم آئین کے دیباچے ، قرآن و سنت سے مطابقت اور شہریوں کے برابری کے حقوق کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
صدر پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اس آئینی ترمیم پر یہ اعتراض لگا کر واپس کر دیتے کہ وہ پارلیمان سے اپنے استثنیٰ کو ختم کرنے کی درخواست کرتے ہیں جس سے ان کا اور ان کی سیاسی جماعت کا قد کاٹھ بڑھتا۔
ہفتہ، 1 فروری، 2025
انتظامی امور کے دفاتر کو ڈیجٹیلائز کرکے عوامی خدمت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے
نظام
کی خرابی کے محض تذکرے کرنے سے کچھ نہیں
ہوتا اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسےفعال کرنا پڑتا ہے۔ نظام بذات خود کچھ نہیں کر
سکتا اس کی بہتری کے لئے کوئی نگرانی کا عمل ضروری ہوتا ہے تاکہ نظام کو چلانے
والوں کے اندر جوابدہی کے احساس کو اجاگر کر کے انکو ذمہ دار بنایا جاسکے۔ اور جو
بات دلچسپ، قابل غور اور خوش فہم ہے وہ یہ کہ اس کے لئے کہیں بھی اضافی اخراجات
اٹھانے کی ضرورت نہیں بلکہ تمام تر وسائل پہلے سے موجود ہیں اور ضرورت صرف قائدانہ
صلاحیت سے ان کو استعمال کرنے کی ہے۔
سب
سے زیادہ ضروری انتظامی امور کی نگرانی ہے تاکہ بادشاہت کے تاثر کو ختم کر کے دوستانہ
ماحول پیدا کیا جا سکے جب عوام کو سہولیات میسر ہونگی تو انکے اندر ریاست، اس کے
اداروں اور املاک کے ساتھ اپنائیت کااحساس پیدا ہو گا۔ اس کا انفارمیشن ٹیکنالوجی
کے دور میں آسان حل یہ ہے کہ حکومت ڈیجیٹل پورٹل بنائےجس پراعلیٰ سطح سے لے کر
نچلی سطح تک تمام انتظامی دفاترکی نگرانی
کا لائحہ عمل لاگوہو جس کے اندر کیمرے نصب کر کے براہ راست نشر کرنے کا انتظام کیا
جائے۔اوراس کا آغاز وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور قومی و صوبائی وزراء
اپنی ذات سے کریں تاکہ بیوروکریسی کو ایک اچھی مثال ملے۔
صوبوں
کے اندر اضلاع کی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسران کے دفاتر پر خاص توجہ
دینے کی ضرورت ہے وہاں اگر بہتری آ گئی تو سمجھیں نوے فیصد مسئلہ حل ہوگیا۔ انہیں
ہدایات جاری کی جائیں کہ کسی بھی دفتر کے باہر سائل کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں
ہونی چاہیے۔ میٹنگز کے لئے علیحدہ کمرے مختص کئے جائیں اور دفتری اوقات میں اگر
میٹنگز ضروری ہوں تو عوامی خدمت پر متبادل افسران کی ڈیوٹی لگائی جائے تاکہ عوامی
خدمت میں کوئی تعطل نہ ہو۔ ضلعی سطح کے محکموں کے سربراہان کی نگرانی کے لئے بنیادی سطح تھانے اور پٹواری کے دفتر تک پورا
نظام ہونا چاہیے جس کو پورٹل کے اندر سیکشن بنا کر ترتیب دیا جائے تاکہ کہیں سے بھی کسی بھی وقت کسی کو بھی دیکھنے میں دشواری نہ ہو۔
عوامی
خدمت کی نگرانی کے اس بندوبست کی ضلعی سطح کی نگرانی کے لئے ڈویژن اور پھر صوبائی
سطح پر نظام موجود ہو اور وزراء، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے دفاتر میں سیکرٹریز
اور ضلعی سطح کے کیمروں کی نگرانی کا عمل ہو رہا ہو تاکہ نظام کو فعال اور فائدہ
مند بنانے میں کوئی کسر نہ رہے۔
آبادی کے لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے
42 اضلاع ہیں اور 42ڈپٹی کمشنرز پر اس صوبے کے چیف منسٹر کے لئے براہ راست بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ اسی طرح باقی
صوبوں میں بھی خیبر پختونخوا کے 38، بلوچستان 36، سندھ 30، گلگت بلتستان 14، کشمیر
10 اور اسلام آباد کا 1 ضلع ہے جو مجموعی طور پر 171 اضلاع بنتے ہیں۔ کیا اس ملک
میں 171 ایماندار، اہل اور قابل لوگ بھی موجود نہیں یا اتنے سے لوگوں کو بھی
کنٹرول نہیں کیا جا سکتا؟ کچھ بھی ناممکن نہیں، بس ضرورت ہے اخلاص اور نیت کی۔
میٹنگز
بھی آن لائن ہونی چاہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں یہ کوئی مشکل کام نہیں
بلکہ آج کل ملک کے تمام دفاتر میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی تمام سہولیات میسر ہیں۔
مرکزی سطح پر تو وزیراعظم پہلے ہی دفتری کام کو سافٹ وئیر پر منتقل کرنے کی ہدایات
جاری کر چکے ہیں تاکہ سٹیشنری کے اخراجات کم کئے جا سکیں۔
اسی
سلسلے کو اگر پورے ملک میں بھی لاگو کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف اخرجات کم ہونگے
بلکہ وقت اور انسانی وسائل کا بہتر ین استعمال بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے
افسران کے دور دراز علاقوں میں چھاپوں کے زریعے سے نگرانی کے بابے آدم کے وقت سے
لاگو عمل کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی جو اس ٹیکنالوجی کے دور میں ایک بے معنی ہونے
کے علاوہ ملک و قوم کے ساتھ مزاق بنا ہوا ہے بلکہ یہ افسران کے ٹی اے، ڈی اے اور
ٹرانسپورٹ کے اخراجات کی صورت خواہ مخواہ کا قومی خزانے پر ایک اضافی بوجھ ہے۔
اس
نظام کو فعال بنانے میں مدد کے لئے ہر سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ماہر مددگار
مہیا کیا جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ انتظام فعال ہے اور جیسے ہی اس میں
کہیں سستی یا کوتاہی دیکھی جائے تو اس کی فوراً تحقیقات کو عمل میں لایا جائے اوراس
کے علاوہ آن لائن بھی یہ سہولت مہیا ہونی چاہیے تاکہ عوام کو اگر کہیں پر مشکل پیش
آتی ہے تو فوراً اس کی بحالی کے لئے شکائت درج کروا سکیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی
کے گھر کی بجلی یا گیس بند ہو تو وہ فوراً شکائت کرتا ہے اور عملہ بحالی کے لئے
پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح یہ ان سہولتوں سے بھی زیادہ ضروری ہے مگر ضرورت اس کی
حساسیت کو عام کرنے کی ہے۔ جیسے بجلی اور گیس کی اہمیت اور ملکیت کا عوام کے اندر
احساس موجود ہے اسی طرز پر خدمت کی ملکیت اور اہمیت کا بھی اجاگر کرنا ہوگا جس کے
لئے سوسائٹی کی سطح پر کام کرنے والی رفاعی تنظیموں کی تجاویز اور فیڈ بیک کے حصول
کے نظام کو بھی اس اس کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
جب
عوامی سطح پر ریاست اور اس کے معاملات میں
دلچسپی پیدا ہوگی تو ان کے اندر ریاست اور اس کی املاک کی ملکیت اور اہمیت کا احساس اجاگر ہو کر ترقی و خوشحالی اور امن کی سرگرمیوں میں فعال
کردار ادا کرنے کا عملی شوق پیدا ہوگا۔ اس رجحان کو عام کرنے کے لئے سوسائٹی کی
سطح پر رضاکارانہ کام کرنے والی تنظیموں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ملک کے اندر پہلے سے ان
سماجی تنظیموں کا باقائدہ نظام موجود ہے جس کو صرف فعال بنانے کی ضرورت ہے جو اس
نگرانی کے عمل سے خود بخود ہی ہو جائے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان
تنظیموں کو ضروت کی مناسبت سے تربیت کر کے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے
علاوہ بد عنوانی کو روکنے ، ترقیاتی کاموں
کی نگرانی اورانتظامی امور کے مشوروں تک
میں ان تربیت یافتہ قومی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے ترقی اور خدمت
کے کام کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اس نظام کو حکومتی اور سیاسی تحقیقات کے عمل کے ساتھ بھی مربوط کیا جائے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حاصل معلومات سے مسائل کے خاتمے کے لئے قانون سازی اور اصلاحات کے عمل میں مدد حاصل کی جا سکے۔
بدھ، 29 جنوری، 2025
جھوٹ بولنے والے کی داڑھی میں "پیکا"
پیکا میں ترمیم کیا ہوئی ہے کہ ہر طرف سے چیخنے کی آوازیں
آنا شروع ہو گئی ہیں جیسے ہر کسی کا دم گھٹنے لگا ہو۔ صحافی تو کیا سیاستدان بھی بول پڑے ہیں۔ اور تو اور مولانا
فضل الرحمن نے بھی صدر آصف علی زرداری سے جلدی میں دستخط نہ کرنے کی گزارش کر دی
ہے اور انہوں نے مان بھی لی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ صحافت اور سیاست جھوٹ کے بغیر ہو
ہی نہیں سکتی۔ سیاست میں بھی بیانیہ بنانا سیاستدانوں کی مجبوری ہوتی ہے اور جب
جھوٹ پکڑا جائے تو کہہ دیتے ہیں "وہ سیاسی بیان تھا" اس سے آپ ہماری
سیاست کے معیار کا بھی اندازہ لگا سکتے
ہیں۔ اور صحافت میں بھی جب تک خبر کو تھوڑے سے پر نہ لگائے جائیں وہ اڑتی نہیں اس
لئے جھوٹ نہ بھی ہو تو جھوٹ جیسے گماں کا تاثر تو ہر خبر میں ملتا ہے۔ وڈیوز پر
تھنب نیل تو کبھی بھی حقائق پر مبنی نہیں ہوتے کیونکہ جب تک چاشنی نہ ہو سودا بکتا
ہی نہیں۔
حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کی سنیٹر شیریں رحمان نے بھی اس
پر اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ وہ تو سیاستدان بھی ہیں اور ماضی میں صحافت
بھی کرتی رہی ہیں اس لئے ان کو کچھ زیادہ ہی اندازہ ہوگا کہ اس طرح کے قوانین کے
کیا نتائج نکلا کرتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ نون سے بھی اگر ایک دن کے
لئے حکومت لے لی جائے تو شائد ان کی آواز سب سے بلند ہو، اگر ان کو اس بات میں شک
ہو توتجربہ کیا جا سکتا ہے۔
شور سے لگتا یوں ہے کہ اس قانون میں کچھ ایسا ہے ضرور جو ہر
طرف سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے
بھی اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے تو پھر اس پر کچھ توقف اور دوبارہ سے
سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورہ اور ان کی معاونت حاصل کر لینے میں حرج ہی کیا ہے؟
حکومت کی جلد بازی بھی بہت سارے سوال اٹھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ابھی تو "پیکا" قانون بھی نہیں بنا اور اس کی
عملداری کا آغاز دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ ایکٹ تو "چور کی داڑھی میں تنکا"
کے مصداق ایک مثال بن گئی ہے۔ میں یہ تو
نہیں کہتا کہ جھوٹ بولنے والے ہی سب پریشان ہونگے لیکن یہ بات یقین سے کہہ سکتا
ہوں کہ جس نے جھوٹ بولنا ہی نہ ہو اس کو اپنی داڑھی میں ہاتھ مارنے کی ضروت کیوں
پیش آئے گی یا اس کا دم کیوں گھٹنے لگے گا۔ خیر اسے سنجیدہ نہ لیجئے گا مگر جھوٹ کے ماحول کو ضرور سنجیدہ لینا ہو
گا۔
کیا جھوٹ صرف خبروں میں ہی بند کرنے کی ضرورت ہے یا ہر سطح
پر اس کے سدباب کی ضرورت ہے؟ سیاست یا صحافت میں تو جھوٹ کو کافی حد تک معاشرے کے
اندر قبولیت کا درجہ حاصل ہو چکا ہے مگر بدنام زیادہ وکالت ہے۔ لیکن حکومت کی
خاموشی بھی جھوٹ سے کم نہیں۔ فیکٹس کو چھپانا بھی جھوٹ کے ضمرے میں آتا ہے۔ کتنے
ہی معاملات ہیں جن میں حکومت فیکٹس کو چھپانا چھوڑ دیتی تو شائد ملک و قوم کے
حالات ایسے نہ ہوتے۔ ہم عدالت کے بارے تو کچھ کہہ نہیں سکتے مگر توہین عدالت کے
خوف سے خاموش ہو جانا جھوٹ نہیں بھی تو سچ کو چھپانا تو تصور ہو سکتا ہے۔ اگر
عدالتوں میں انصاف ہو اور کسی پر جھوٹا الزام لگانے پر ہرجانے کے قوانین پر
عملدرآمد ہونا شروع ہو جائے تو کوئی کسی کے بارے جھوٹی بات کہنے کا سوچ بھی نہیں
سکتا۔ حکومت نے اگر کچھ کرنا ہی ہے تو نظام انصاف کو ٹھیک کرے تاکہ جھوٹ اور
الزامات کو روکنے کا ماحول بنایا جا سکے۔
غیر جانبدارانہ تحقیقات اور شفاف انصاف کے بغیر محض قوانین کسی کام نہیں ہوتے۔
کیا صرف حکومت کے خلاف جھوٹ بولنا ہی قابل گرفت ہے، حکومت
کے حق میں بولنے کو استثنیٰ حاصل ہے؟ کیا حکومت کے حق میں جھوٹ بولنے کی بھی گرفت
ہوگی؟ اگر ہو گی تو پھر یہ کون کرے گا اس کا اس قانون میں کوئی لائحہ عمل بتایا
گیا ہے؟ لگتا یوں ہے کہ اصل معاملہ جھوٹ یا سچ کا نہیں بلکہ قانون کے اطلاق میں
جابنداری کے خدشات بارے خوف کا ہے کہ جھوٹ بارے تحقیقات کا معیار کیا ہوگا؟ ماضی
میں ایسے قوانین کے اطلاق میں چونکہ اچھی
مثالیں نہیں ملتیں اس لئے تحفظات پائے جار ہے ہیں ۔ پہلے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ 2022 میں پیکا کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور صحافیوں کو جھوٹی خبر کے روکنے کے کسی
میکنزم کی ہدایات کی تھیں۔ اس وقت عمران خان کی حکومت تھی تو اس کو پیکا موافق پڑ رہا تھا اور آج مسلم لیگ نون کی ہے تو اس کو موافق پڑ رہا ہے۔ ایسے قانون جو حکومت ہوتے ہوئے ہی موافق ہوں کی افادیت ،اہمیت اور مقاصد کا اندازہ تو لگایا ہی جا سکتا ہے۔
جھوٹی خبر سے بھی زیادہ معاملہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کیرجسٹریشن کا ہے جو ناقابل فہم لگتا ہے۔ سوشل میڈیا تو معلومات کو شئیر کرنے یا ان
تک رسائی کا ایک زریعہ ہے جس پر جھوٹ کی نشاندہی اور اس کی رپورٹ کرنے کا طریقہ
کار بھی پہلے سے موجود ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے ان کا سدباب ممکن ہے۔
اگرجھوٹی خبریں عام لوگ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنا سکتے ہیں تو کیا
حکومت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ان خبروں کی نشاندہی اور رپورٹ کر کے ان
کو بند نہیں کروا سکتی اور جس بھی آئی ڈی سے دی گئی ہو اس کو بند بھی تو کروایا جا
سکتا ہے۔ اس طرح کی زیادہ تر خبریں ہی فیک نہیں ہوتیں بلکہ ان کو دینے والی آئی ڈی
بھی فیک ہوتی ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ بیرون ملک بیٹھے ہوئے
ہوتے ہیں جو حکومت کی پہنچ سے بھی دور ہیں اور سارا غصہ جو پہنچ میں ہیں ان پر نکل
جاتا ہے۔
اب رجسٹریش کے عمل میں کئی مسائل ہوتے ہیں جن میں سب سے بڑا
مسئلہ تو پاکستان میں حوالوں کا ہے۔ یہاں حوالوں کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتے
اور حوالوں کے ساتھ نا جائز بھی نہیں رکتے تو ایسے ماحول میں کسی قانون سے جرائم کے
خاتمے کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ملک سے بدعنوانی کا
خاتمہ ہی ہو چکا ہوتا۔ کیا بدعنوانی کے لئے قوانین کی کمی ہے یا اس کے سدباب کے
لئے ادارے موجود نہیں جو جھوٹ کو روکنے کے لئے اداروں کے قیام اور اتھارٹیز کی
ضرورت پڑ گئی ہے۔ اس سے اور کچھ ہوا یا نہ ہوا ہماری اخلاقیات بارے دنیا کو ضرور
معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان میں جھوٹ کو روکنے کے لئے اتھارٹیز کوقیام میں لایا جا رہا ہے۔
حکومت خبروں کی اشاعت کے متعلق اٹھارٹیز کیوں نہیں بنا دیتی
جس کے تحت ہر ادارے، تنظیم یا جماعت کے بارے یہ قانون بنا دیا جائے کہ اس نے اپنی
رجسٹریشن کے ساتھ ہی اپنا انفارمیشن کا نظام بھی رجسٹر کروانا ہے اور وہ براہ راست اتھارٹی کے ویب سائیٹ پر صحیح
معلومات کو شئیر کرنے کے پابند ہوں اور میڈیا صرف وہاں سے خبریں لینے کے پابند ہوں
اور رپورٹنگ کا نظام ہی ختم ہو جائے۔ اصل مسئلہ خبروں یا جھوٹ کا نہیں بلکہ اصل
معاملہ اخلاقیات اور اعتماد کا ہے۔ اگر حکومت کو رپورٹنگ پر اعتماد نہیں تو وہ
عوام پر اپنا اعتماد ہی بحال کروالیں تو مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ جہاں اعتماد ختم ہو
چکا ہو اور اخلاقیات تباہ ہو چکی ہوں وہاں مسائل قوانین یا اتھارٹیز کے قیام سے نہیں بلکہ کردار سازی سے حل ہوتے ہیں۔
'پروجیکٹ عمران' کے تخلیق کاروں کو کوئی معافی نہیں ملنی چاہیے
عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ تعلق بھی بن رہا ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس گرفتاری کا تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے۔
پاکستان کی سیاست میں حب الوطنی کے نام پر غیر آئینی مداخلت کی تو ایک لمبی داستان ہے جس کے اعتراف بھی بڑے پر تپاک اور تفخرانہ انداز میں کیے جاتے رہے ہیں بلکہ ان مزاجوں کے خلاف عدالتوں کے فیصلے بھی عمل درآمد کو ترس رہے ہیں لیکن عمران خان پروجیکٹ کے بعد اس مداخلت نے ایک ایسا رخ اختیار کر لیا ہے جس سے سیاست کی محبت اداروں کے معاملات کے اندر بھی سرایت کرتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہے اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی پر مبینہ طور پر ایک طویل سیاست کا سلسلہ جاری رہا اور یوں لگتا ہے کہ اس نے ادارے کی ترقی اور تعنیاتیوں کے سلسلے کو بھی سیاست زدہ کر دیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ سیاست کے اندر نظم و ضبط کو خراب کرنے کی غیر آئینی حرکتوں نے ریاست کے تمام اداروں کے نظم و نسق کو ہی سیاست زدہ بنا دیا ہے اور اس کی وجہ ان اداروں کے معززین کے ببانگ دہل کارنامے اور سرعام انکشافات ہیں جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ ان کو ریاست کے اندر کون کون سی شخصیات اور انداز کی سیاست پسند نہیں تھی اور سیاست دانوں کو کبھی عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑے کر کے تو کبھی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بے یارو مددگار ڈال کر ان کے بقول وہ سیاست کے توازن کو ٹھیک کرنے میں کردار ادا کرتے رہے جو ان کی آئینی خلاف ورزیوں کے احتساب کے لئے مواد مہیا کرتا رہا مگر طاقت کے عدم توازن کے سبب اس پر سوال اٹھانے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی اور صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایسی سوچوں کے نیٹ ورک نے اداروں کے اندر گہری جڑیں پکڑ لیں اور ریاست کو ان خطرات کا شکار ہو کر 9 مئی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
عمران خان پروجیکٹ کے 9 مئی جیسے نہ تھمنے والے آفٹر شاکس ہی کی ایک کڑی جنرل فیض حمید کی گرفتاری کو بھی کہا جا رہا ہے جس کا کئی سیاسی اور مالی معاملات کے ساتھ تعلق بھی بن رہا ہے مگر تاریخ کی روشنی میں سیاسی اور مالی معاملات پر اس قدر سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی گئی اس لئے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا زیادہ تر تعلق ادارے کے اندر کے معاملات سے ہے جس سے مستقبل میں خطرات کے خدشات کو بریک کرنا مقصد ہو سکتا ہے جو یقیناً خوش آئند ہے۔
گرفتاری جہاں بظاہر ایک حیران کن خبر کے طور پر گردش کر رہی ہے وہیں ساتھ کچھ قیاس آرائیاں بھی ذہنوں کی سطح پر محو تخیل ہیں کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟ کیا اس سے ہمیں قومی سطح پر کوئی سبق آموز مرحلہ بھی میسر آئے گا جو مستقبل میں ایسے واقعات کی راہ کو بند کر سکے یا نہیں؟ یہ ایک بہت ہی اہم نقطہ ہے جس کے لئے ہمیں چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ ابھی تو یہ معاملہ ویسے بھی تحقیقات کے مرحلوں سے گزر رہا ہے اور کسی کے کردار یا اس پر جرم کا الزام لگانا کسی طرح سے بھی جائز نہیں مگر ہمارا ماضی ایسے کرداروں سے بھرا پڑا ہے جو ہمیں اس پر اندازوں کے تعین کے لئے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں اس طرح کی کہانیوں کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ ایک کا تعلق آئین و قانون کے اطلاق سے ہوتا ہے تو دوسرے کا تعلق اس کے اہم کردار کے عمل کا ان کی بعد کی زندگی اور عمومی ماحول پر اثرات سے ہوتا ہے جو انتہائی اہم ہے جس سے ایسے ہی کئی دوسرے کرداروں کے اندر خوف اور ندامت کے جنم لینے کا سبب پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ آئین و قانون کے اطلاق میں کبھی امید افزا نہیں رہی جس کی وجہ صرف ہمارے اداروں کی نااہلی اور مختلف سطحوں پر مفادات کا ٹکراؤ ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر سیاسی شعور کی کمی بھی اس کی بہت بڑی وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں قومی سطح پر آئینی و قانونی مجرم بھی کچھ ہی وقت کے بعد پھر سے ہیرو کے طور پر دیکھے جانے لگتے ہیں۔
جیسا کہ اس کہانی کے اندر واقعات کی ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس طرح کے کرداروں کو پشیمانی یا ندامت ہوئی ہو یا ان کو اپنے کردار پر کوئی احتساب اور سزا و جزا کا کوئی خوف پیدا ہوا ہو۔ عمران خان کی گرفتاری اور پھر اس کے بعد کا ماحول ایسی ہی سوچ کی غمازی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عمران کے اقتدار کے چند ماہ کے بعد ہی اس پروجیکٹ کو لانے والے اور عوام اس سے تنگ آ گئے تھے مگر جیسے ہی ان کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تو پھر سے ان کی ناصرف ریاستی اداروں کے اندر سے حمایت اور دوبارہ لانے کی کوششیں زور شور سے جاری ہو گئیں بلکہ عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف بھی پھر سے بڑھنے لگا اور اداروں کے اندر موجود ایسے کردار جو ان کی سہولت کاری بلا خوف و تردید کرتے رہے ان کو گویا یقین تھا کہ ان کی گرفتاری عارضی ہے اور وہ دوبارہ سے اقتدار میں آنے والے ہیں جن میں نجومیوں سے لے کر عدالتوں کے معاملات پر گہری نظریں رکھنے والے تجزیہ کاروں کے خیالات سے ابھرتا ہوا تاثر وغیرہ سب کچھ کسی حیرت کدے کے ماحول سے کم معلوم نہیں ہوتا تھا جو انتہائی تشویش ناک پہلو ہے۔
اس کی دلیل ججز کے کچھ فیصلے، 9 مئی کے واقعات، اس کے بعد بھی پر اعتماد احتجاج اور دھرنے، اور اسی طرح حالیہ سہولت کاروں کی گرفتاریاں بھی اس سلسلے کو تقویت بخشتی ہوئی دلیلیں ہیں مگر سب سے بڑھ کر تحریک انصاف کا اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچ جانا بھی عوامی نفسیات کا عکاس ہے جس سے کبھی بھی حالات کے بدلنے کی پشین گوئیوں کی مکمل طور پر حوصلہ افزائی ملنے کے اندازے تذبذب کا شکار ہیں۔
ابھی پچھلے 12 سالوں سے ذہنوں پر کی ہوئی محنت سے بنائے گئے یقین یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ عمران خان پروجیکٹ نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے اور اسی سوچ کو دیکھتے ہوئے عوام کے صدقے جانے کے منظرنامے کی روشنی میں اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں معدوم ہونے کا یقین کر لینا مشکل لگتا ہے۔ جس کی وجہ عوام کی شعوری سطح کے علاوہ ان کہانیوں سے جڑے ہوئے کچھ کرداروں کی مثالیں بھی ہیں جنہوں نے مالی مفادات کے ساتھ ساتھ سیاسی فائدے بھی اٹھائے اور چند سالوں کی معمولی سزاؤں کے بعد وہ پھر سے نئے جذبے اور جوش کے ساتھ میدان عمل میں اترے اور ایک نئی کہانی تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی لئے شاہد اس طرح کے کرداروں میں کبھی خوف یا ملامت دیکھنے کو نہیں ملتی۔
اب اس گرفتاری کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کہانی کو بھی مٹی پاؤ کے طور پر لے کر جس طرح سے پرویز مشرف کو پورا تحفظ فراہم کیا گیا اسی طرح اس کہانی کو بھی روایتی انداز سے چلایا جائے گا یا پھر اسے مستقبل کو لاحق خدشات اور خطرات سے بچنے کے لئے سبق آموز بنانے کی کوشش کی جائے گی جو اس ریاست کے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے باہمی گٹھ جوڑ سے اقتدار کے ایوانون میں جمہوریت کے نام پر کئے گئے مختلف ریہرسل پروگراموں کی ایک کڑی ہوتے ہیں جن کا تعلق آج کے سیاسی ماحول سے بھی جڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو شاید اس ملک کی تقدیر کا حصہ ہیں کیونکہ ایسے پروجیکٹس کے اختتام کے لئے بھی تو ایک نئے پروجیکٹ کی ضرورت درپیش ہوتی ہے جس کی وجہ شاید سیاست دانوں کی اکیلے سبق آموز کہانیوں کی تخلیق میں نا اہلی سمجھ لیں یا بے بسیاں جن کی پچھلی دو دہائیوں میں کی گئیں تمام کوششیں دم توڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور ان کوششوں میں مصروف عمل سیاسی جماعتیں بھی پھر سے انہیں پرانی بھول بھلیوں کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔
اگر اس کے سیاسی پہلوؤں کو دیکھیں تو اس وقت اقتدار میں موجود سیاسی جماعتوں کے بیانیے ان کو اپنی سیاسی مخالفت کے پیش نظر بولنے پر مجبور کر رہے ہیں مگر ان کے مؤقف میں وزن ہونے کے باوجود ان کو پذیرائی ملتی ہوئی نظر نہیں آتی اور نہ ہی ماضی کی تاریخ کسی ایسے کردار کی سیاسی دخل اندازی پر اس کا محاسبہ کرنے کے یقین کو تقویت دیتی ہے۔ پرویز مشرف والے معاملے میں تو عدالتی فیصلہ بھی موجود تھا مگر اس کے آفٹر شاکس نے اس عدالت کا ہی وہ حشر کیا جو ایک خبردار نشان ہے۔ ہاں البتہ اس میں 9 مئی کے واقعات سے جڑا ہوا کردار شاید کسی طرح بھی ہضم نہ ہو پائے کیونکہ اس سے مستقبل میں ادارے کے کمزور ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے ان کی حمایت کی گنجائش معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ البتہ فیض حمید ایک بہت اہم عہدے پر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ملک کے بہت حساس معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں اس لئے فیصلے سے قبل مفروضوں کی بنیاد پرسزا یا فیصلوں کی پشین گوئیاں کرنا ذمہ دار رویے کی علامت نہیں۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ موجودہ گرفتاریاں ماضی کی کہانیوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہیں یا پھر ان سے کوئی امید افزا وقت دیکھنے کو ملے گا جس کی ابھی تک قوم تیار نہیں ہے مگر ہم نا امید پھر بھی نہیں کیونکہ کوئی جتنا بھی تقدیر کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے اس کا مکافات عمل کے انتقام سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے اور قدرت کے کبھی نہ بدلنے والے اصولوں کا شکار ہونا بھی اسی تقدیر کا حصہ ہوتا ہے جس کی تقسیم میں رد و بدل کی کوششوں سے وہ عارضی فائدے اٹھاتا رہتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہر ایسے کردار کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکافات عمل کے شکار بھنور کا حصہ بنانا چاہتا ہے یا اصلاح کی کاوشوں میں مصروف عمل کرداروں کی فہرست میں شمار کرانا چاہتا ہے۔ صاحب اختیار اور اقتدار لوگوں سے فقط اتنی گزارش ہے کہ کم از کم ایسی کہانیوں میں موجود کرداروں کے ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ مالی فوائد کو تو ریاست کو لوٹا دیں تاکہ کسی حد تک مفاد پرست سوچیں رکھنے والوں کی کچھ حوصلہ شکنی ہو اور یہ عمل ان کی سوچوں کی اصلاح کی بنیاد بن سکے۔
آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان مزید ان عام معافیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نہ صرف ملکی معیشت اس حکمت عملی سے اکتا چکی ہے بلکہ یہ ہماری ریاست کے اندر اتحاد اور نظم و نسق کو بھی بری طرح سے تباہ کر چکا ہے۔ غلطیوں کو تحفظ فراہم کرتے کرتے اب غلطیاں حماقت اور بغاوت کا روپ دھارنے لگی ہیں اور معافیوں کے سلسلے نے اداروں کے سربراہان کے اندر حوصلہ افزائی اس قدر بڑھا دی ہے کہ وہ آئین و قانون اور ڈسپلن لفظ کا تمسخر اڑانے لگے ہیں جس سے نہ صرف قومی سطح پر اعتماد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی قومی تشخص بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اس لئے اب یہ عام معافیوں کا سلسلہ روک ہی لیا جائے تو بہتر ہو گا اور قوم کو اچھے فیصلوں پر اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ان کی تعریف اور تائید کرتے ہوئے داد دینی چاہیے۔
پیر، 20 جنوری، 2025
مذاکرات سے"قومی مفاہمتی معاہدے" کی صورت پائیدار مستقبل کا حل ڈھونڈنا ہوگا
مذاکرات میں تیسرے مرحلے کے اندرپی ٹی آئی کی طرف سے تحریری
مطالبات بھی دئیے جا چکے ہیں لیکن اب پھر
سے خدشات شر اٹھانے لگے ہیں اور عمران خان نے مذاکرات کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی
ہے جو تشویشناک عمل ہے۔ مذاکر اب رکنے
نہیں چاہیں بلکہ سنجیدگی سے کسی بہتری کے حل کو تلاش کرنا ہوگا۔
جمہوری نظام میں
بہتری کی گنجائش ہر مرحلے پر موجود ہوتی ہے ۔ اس میں عوامی نمائندوں کے چناؤ کے
مراحل میں مکالمہ کے زریعے اور بعد میں پارلیمان کے اندر ڈسپلن، نگرانی اور
جوابدہی کے عمل سےحکومتی امور کو چلانے کے لئے وسیع ترعوامی مفاد میں ہر طرح کے
زرائع کو استعمال کرتے ہوئے مناسب فیصلوں کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاسکتی ہے۔ یہ سب
تب ہی ممکن ہے جب جمہوریت کے اندر تسلسل ہو۔
اب پارلیمان میں ایسا ماحول پیدا کرنا پارلیمانی سیاسی
جماعتوں کی ذمہ داریوں میں آتا ہے تاکہ
قومی سطح پر نہ صرف امن، خوشحال اور ترقی کی پائیداری کو یقینی بنایا
جاسکے۔ جس کے لئے انکو ذاتی اختلافات، خواہشات سے بالا تر ہو کر سوچنا چاہیے۔ اور
اس کے لئے مستقبل کو در پیش خطرات اور ان کےحل کی بھی ان کو فکر ہونی چاہیے۔ جو ہمارے ہاں قطعاً بھی نہیں کی جاتی اسی لئے
ملک ایک قدم آگے جاتا ہے تو دو قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔
اب حکومت نے اپوزیشن کی تمام تر کوششوں اور حربوں کے باوجود
معیشت کو سنبھال لیا ہے لیکن اگر اس کو سیاسی طور پر امن کا ماحول میسر ہوتا تو یہ
اس سے بھی زیادہ بہتر ہوتی۔ اسی طرح 2013 میں بھی معیشت کو بہتر بنا لیا گیا تھا
مگر 2018 کی سیاسی انجئنیرنگ نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ اس لئے اب بھی مستقبل
میں ایسے خطرات سے محفوظ رہنے کی سوچ کے پیش نظر اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے جن
کو کامیاب بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہونا چاہیے جس کے لئےمذاکرات
انتہائی ضروری تھےجن کا آغازہو چکا ہے اور اب کوشش کر کے ان میں تمام سیاسی
جماعتوں کو شامل کر لینا چاہیے تاکہ جمہوریت سے مستفید ہو کر قومی صلاحیتوں کو ملک
کی فلاح اور امن کے لئے استعمال کرنے کا ماحول بنایا جا سکےجس کے لئے محاذ آرائی
کی سیاست کو مفاہمتی سیاست میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
اب اقتدار کی جنگ کو ملکی فلاح کی لئے خیر باد کہنا ہوگا۔
جب سب کا دعویٰ جمہوریت کی مضبوطی اور ملک و قوم کی فلاح ہے تو پھر اس پر اکٹھے
کوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی حب الوطنی کا دعویٰ رکھتی ہے اور اگر انکاملک کو درپیش خطرات کے پیش
نظر مجبوری کے تحت ایسے اقدامات اُٹھانے کا دعوی سچ ہے تو ایسے میں ان کو بھی
جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی نظام کی کڑی نگرانی کے لئے اصلاحات کا ساتھ دے کر
ایسی مجبوریوں کی ممکنات کو ختم کرنے کے لئے اپنی تجاویز دینی چاہیے۔ ادارے ریاست
کے دست وبازو ہوتے ہیں اس لئے ریاست کے اندر عوام کی نمائندہ حکومت یا سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیاں محاذ
آرائی کی سوچ اور ماحول کسی بھی صورت ملک و قوم کے لئےمناسب نہیں ہوتے۔ لہذا اگر
سب کے دعووں کا مطمہ نظر ایک ہی ہے تو پھر اس کے حصول کی خاطر مفاہمت کی کوشش میں
رکاوٹ کیوں ہے؟
اس کو مذاکرات کی میز پر ہی جانچا اور اس کا حل تلاش کیا جا
سکتا ہے۔ اس وقت مفاہمت کے لئے ایک سازگار ماحول ہے۔ متحرک اپوزیشن پی ٹی آئی بھی
حکومت کو مجبور کر کے اپنے مطالبات منوانے کے تمام تر حربے استعمال کر چکی ہے اور
حکومت اس کے باوجود اپنے معاشی بہتری اور ترقی کے اہداف کی طرف بڑی کامیابی سے بڑھ
رہی ہے جس کا بانی پی ٹی آئی نے بھی اعتراف کیا ہے۔
مقبولیت ان کا سیاسی اثاثہ ہے جس کو محفوظ کرنے کا ان کو حق
پہنچتا ہے مگر انہیں قومی سوچ کے تحت یہ بھی سوچنا اور سمجھنا ہوگا کہ محاذآرائی کی سیاست میں وہ اپنے فالوورز کی
صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں ۔ کتنے پڑھے لکھے نوجوان 9 مئی کے بعد سے جیلوں میں
پڑے ہوئے ہیں اور ابھی 26 دسمبر کو بھی بہت
بڑا نقصان ہوا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا توحالات ناقابل تلافی
نقصان کی طرف بھی جا سکتے ہیں ۔مقبولیت کا حصول بھی آسان کام نہیں مگر اس کو قائم
رکھنا اس سے بھی مشکل مشق ہے۔ اور اگر سمجھا جائے تو یہ مقبولیت قومی اثاثہ ہوتا ہے اور اس کااستعمال بھی ذاتی یا جماعتی مفادات
کی بجائے امانت سمجھتے ہوئے قومی و ملکی مفادات کے لئے ہونا چاہیے اور عوام کا اگر ان پر اعتماد ہے تو ان کی صحیح
راہنمائی کرتے ہوئے ایسا شعور دینا ہوگا جوملک کو اچھی قیادت دینے کے قابل ہو اور
اس اثاثے کو ضائع ہونےسے بچانے میں سب سے بڑی ذمہ داری ان کی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو
کوبھی مقبولیت ضرور ملی قوم نے ان سے بے پناہ محبت کا والہانہ اظہار کیا مگر وہ
بھی اس قوم کو وہ شعور نہ دے سکےجو قوموں کی تقدیریں بدلتا ہےوگرنہ اس ملک میں
قومی سطح پر اگر شعور کسی نے دیا ہوتا تو
آج یہاں یوں قیادت کا فقدان نہ
ہوتا۔
اب حکومت نے جب ان کے تمام تر مشکلات کھڑی کرنے کے حربوں کے
باوجود معیشت کو سنبھال لیا ہے تو عنقریت ملک کے سیاسی حالات اپنی کروٹ بدل بھی
سکتے ہیں ۔ اب ہمدردیوں کے جذبات سرد اور ترقی کی خواہشوں پر دائیں بائیں سے پڑنے
والی جھلکوں کے تاثرات حاوی ہونے والے ہیں ۔
بانی پی ٹی آئی کی اس مقبولیت کو جب بھی دھچکا لگے گا وہ خیبرپختونخواہ
سے ہوگاکیونکہ وہاں کے عوام نے ان کو پچھلے بارہ سالوں سے حکومت دی ہوئی ہے اور
وہاں کے عوام کا بھی حق ہے کہ باقی ملک کی
طرح ان کو بھی آسائشیں اور سہولتیں میسر ہوں ۔ وہاں اس کے اثرات میں دیر اس لئے
لگی کہ وہاں کے عوام محنتی ہیں اور تجارت میں وہ دوسرے صوبوں کے عوام سے آگے
ہیں وگرنہ کے پی کے میں وہ ترقی نہیں ہو
پائی جو پنجاب میں مسلم لیگ نون کے حکومتی ادوار میں ہوئی اور ابھی بھی پنجاب
دوسرے صوبوں سے کافی آگے ہے جس کا اثر یقیناً دوسرے صوبوں کے عوام کی سوچوں پر بھی
پڑے گا۔
جس کا آغاز اب کے پی کے میں حکومت کے خلاف تحفظات اور
احتجاج کی صورت انگڑائیاں لیتا ہوا محسوس بھی کیا جا سکتا ہے جس پر آنکھیں بند کرنے سے
وہی انجام ہوگا جو 2022 میں عوامی بڑھتی ہوئی مشکلات کے دباؤ پر پی ٹی آئی کے
ممبران پارلیمان کی مسلم لیگ نون میں جانے کی دوڑ کا سماں تھا۔
اور اب اس مقبولیت کو حکومت کی طرف سے ان کے لئے کھڑی کی
جانے والی مشکلات اور محاذ آرائی کی
ہمدردیوں کے سہارے زیادہ دیر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ وہ مقبولیت سے متوقع فائدے
حاصل کرنے میں کامیاب اس لئے نہیں ہو پا رہے کہ یہ مقبولیت خالصتاًشعوری نہیں بلکہ
ہمدردانہ ہے بلکل ویسے ہی جس طرح 2008 میں پیپلز پارٹی کو بے نظیر کی شہادت پر
ہمدردیوں کے عوض حکومت ملی مگر وہ اس مقبولیت کو سنبھال نہ پائے۔ اسی طرح کاتجربہ
ان کو بھی 2018 سے 2022 تک ہو چکا ہے گو اس کے حقائق کچھ مختلف تھے مگر جاتی ہوئی
مقبولیت کا نظارہ وہ کرچکے ہیں جو بعد میں دوبارہ ان کو 2022 میں حکومت جانے سے ہمدردیوں کی صورت ملی
اُس وقت تو حکومت کی تبدیلی سے پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان کی
بجائے فائدہ ملا لیکن اب ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اب ان کے پاس دو ہی
راستے ہیں یا تو وہ کے پی کے میں کارکردگی کو دکھا کر اگلے انتخابات کی تیاری شروع
کریں یا پھر مرکز کے ساتھ محاذ آرائی سے
ایمرجنسی لگوا کر کارکردگی کی بجائے پھر سے عوام کی مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیاں
حاصل کرنے کی کوشش کریں جو ان کی مروجہ سیاسی حکمت عملی ہے لیکن یہ ان کی ایک اور
بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی جو انکے لئے ماضی کی نسبت زیادہ مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
حکومت نے اپنے ترقی کے اہداف کی طرف سفر کو شروع کر لیا ہے
اور جیسے ہی وہ اپنے لئے عوامی تاثرات کے ماحول کو سازگار پائیں گے تو وہ ان کی
اسیری جیسی مشکلات میں نرمی اور سہولت کا تاثر پیدا کرکے ان کی اس ہمدردی والے
بیانیوں کو کمزور بنا دیں گے۔ اور پھر جیت اور ہار کی بنیاد اگلے انتخابات بن چکے
ہونگے جن کی تیاری کرنی ہوگی۔ لہذا ان کو بھی اپنی مقبولیت کو بحال رکھنے کے لئے
مفاہمتی سوچوں کی راہ ہموار کرنے اور اس پر دوسری جماعتوں کو ممنون ہونے کا رویہ
اپناتے ہوئے مذاکرات کے لئے صاف دل کے ساتھ ہاتھ بڑھانے میں پہل کرنی چاہیے۔
اور باقی سیاسی
جماعتوں اور سیاستدانوں کو بھی اجتماعی
سطح پراس سوچ اور مقبولیت کو مثبت سمت میں
استعمال کرنے کی راہ نکالنے میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انکی
سیاسی بصیرت کا یہ امتحان ہے کہ وہ ملک و قوم کی بہتری کے لئے کس قدر اپنی خواہشات
اور ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کرتے ہوئے مفاہمتی عمل کو کامیاب کرواتے
ہیں۔
مذاکرات کو کامیاب بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ متنازع
مینڈیٹ ہے کہ اس میں ردوبدل کیا گیا ہے جس کو حل کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ ایک
"قومی معاہدہ مفاہمت" ترتیب دیا جائے جس کے تحت اگلے پانچ سالوں کے لئے
تمام اختلافات کو بھلا کر تمام بڑی جماعتوں کو ملکی فلاح، امن اور سیاسی استحکام
کے لئے ایک ہونا پڑے گا اقتدار کے تنازعے کا خاتمہ کوئی مشکل کام نہیں جب پوری قوم
ایک ہو جائے اور ملک و قوم کی فلاح کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کی
پالیسی پر چلنے کی ٹھان لے تویہ عہدے اور وزارتیں علامتی سی بن کر رہ جاتی ہیں۔ساری
جماعتیں اپنی اپنی نمائندگی کے تناسب سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سالوں کے دورانیے
کے حساب سے لے سکتے ہیں اور وزارتیں بھی اسی نسبت سے لی جا سکتی ہیں۔ بلکہ میں
سمجھتا ہوں کہ جب پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کسی ایسے میثاق مفاہمت پر متحد
ہوجائیں تو یہ عہدے صرف ذمہ داریاں بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی اہمیت صرف خدمت کے
جذبےسےجڑ کر رہ جاتی ہے اور ان کی خواہش بھی معدوم ہو جاتی ہے۔
اتوار، 19 جنوری، 2025
منبر، مسجد و مدرسے کا انتظام سنجیدہ سوچوں کے سپرد کئے بغیر فرقہ واریت سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔
مدارس کی رجسٹریشن کا نیا قانون
بن گیا ہے جس پر مولانا فضل الرحمن، جنہیں پارلیمان میں مذہبی حلقوں کی نمائندگی
کا شرف حاصل ہے نے اسے پارلیمان کی
بالادستی کہتے ہوئے مذہبی حلقوں کو مبارکباد دی ہے کہ اس سے ان کی آزادی اور خود
مختاری قائم رہے گی۔ اس معاملہ کے متعلق
پائے جانے والے دیرینہ فرقہ واریت کے تاثرات بارےخدشات میں کوئی کمی آئے گی یا
نہیں بارےحتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا
لیکن محسوس یوں ہو رہا ہے کہ اگر مسالک اور نظریات کی شناخت کے ساتھ
رجسٹریش جاری رہتی ہے تو پھر اس سے فرقہ واریت میں فرق پڑنے کی بجائے اسے مزید تحفظ فراہم
ہوگا۔
عسکریت پسندی، شدت پسندی، مذہبی منافرت پر مبنی
سرگرمیوں میں مدارس کی تعلیم و تربیت کےکردار بارے شکوک شبہات دور کرنے کے لئے قانون میں
ترامیم بھی کی گئی ہیں جن کی رو سے مدارس میں عسکریت پسندی، شدت پسندی یا مذہبی
منافرت بارے مواد شائع کرنے یاپڑھانے پر پابندی لگائی گئی ہے مگر میرے خیال میں تو
پہلے بھی اس طرح کا کوئی خاص
نصاب نہیں پڑھایا جاتا جس میں باقاعدہ عسکریت پسندی، شدت پسندی یا فرقہ واریت کی
تعلیم دی جاتی ہو۔
دراصل اس طرح کی ذہن سازی تو اسلامی تعلیمات کی تشریحات کے
دوران فرضی داستانوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے جس کا زیادہ تر احتمال یا انحصار ہی
سینہ بہ سینہ چلنے والی کہانیوں پر ہوتا
ہے جن میں ایک فرقہ دوسرے کو درود شریف کا
منکر تو دوسرا اپنے آپ کو موحد اور دوسروں کو مشرک کہتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے
ایمان و یقین کو پختہ کرتے ہوئے ان خدشات کو
ایمان کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور کوئی اہل بیت کی محبت میں صحابہ کی زندگیوں کے
متعلق خدشات اور کوئی صحابہ کے حب میں ان
خدشات کو کفر کی بنیاد بنا کر فتوے جاری کر رہا ہوتا ہے جس کی بنیاد ایسا اختلافی
لٹریچر ہے جن کے مصنفین کا تعلق مخالف فرقوں سے ہوتا ہے جو نہ تو مدارس میں پڑھایا
جا رہا ہوتا ہے اور نہ ہی ڈھونڈنے پر کبھی ملا ہے۔
حالات و واقعات سےمحسوس ایسے ہوتا ہے کہ اس کی حساسیت کا
ابھی تک ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پا رہا
اور اس کا حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مذہبی حلقوں کو خود یہ احساس نہ ہو کہ
مذہبی منافرت سے دین کا نقصان ہو رہا ہے جس کے لئے حکومت کو اس حساس مسئلے کے
نقصانات بارےمذہبی حلقوں کو باور کروانا ہوگا جس کی ذمہ داری اسلامی نظریاتی کونسل
کو سونپی جا سکتی ہے۔ اور باقائدہ اصلاحات لا کر ایسا ماحول پیدا کرنا پڑے گا جس
میں علماء کا حکومت پر اعتماد بڑھ کر مذہبی حلقوں اور حکومت کے درمیان عدم اعتماد
کا ماحول ختم ہو اور ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کے اندر ہم آہنگی پیدا کی جائے خواہ وہ
دینی مدارس کی تعلیم ہو یا دوسرے سکولوں اور کالجز کی۔ تعلیم میں اس بات پر توجہ
دی جائے کہ ہمارے فارغ التحصیل انسانی
ذرائع کا علم و ہنر کیا ہماری قومی ضروریات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ ان مدارس
سے فارغ طلباء بھی اس ریاست کے انسانی وسائل ہیں جن کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے
کا کوئی لائحہ عمل ہونا چاہیے تاکہ ان کے لئے بھی مواقعے پیدا ہوں اور جب وہ کسی ذمہ دار عہدے پر ہونگے تو خود
بخودہی ریاست کے ضابطہ اخلاق کے اطلاق کے تحت آ جائیں گے۔
مدارس میں تعلیمات کے حصول کے بعد طلبا فارغ اوقات میں کچھ نہ کچھ تو کریں گے اور کچھ نہیں تو ان کے کسی
نہ کسی مذہبی تنظیم کا حصہ بن کر ان کی
سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کے دور میں زمانے
کے انداز بدلنے سے تبلیغ کا انداز بھی بدل گیا ہے جس کے متعلق سب سے بڑا مسئلہ اس
وقت نگرانی کا ہے جو پہلے ہی حکومت کو
سیاسی سطح پر بھی درپیش ہے۔ سوشل میڈیا پر مذہبی پروگراموں کا رجحان بڑھتا جا رہا
ہے جس سے معاشرے میں ان اختلافی مسائل پر بحث مباحثہ پہلے سے بھی زیادہ ہوتا جا
رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر کسی شرعی یا مذہبی نقظے پررائے دینے کے متعلق
قانون بنایا جانا چاہیے جس میں مبلغ کے لئے کسی مذہبی مدرسے سے مستند تعلیم، کسی
ماڈل مدرسے میں درس وتدریس کا تجربہ اور کسی جامع مسجد میں کم از کم دس سال خطابت
کے تجربے کو بنیادی شرائط رکھا جائے تاکہ
سنجیدہ سوچ کے حامل لوگوں کےسوشل میڈیا پر مذہبی معاملات میں رائے دینے کو یقینی
بنایا جا سکے۔ اسی طرح کچھ مساجد کی امامت اور خطابت شروع کر دیتے ہیں جہاں ان کی
سوچ و عمل کامعاشرے کی تشکیل پر سب سے گہرا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔
مساجد کا کردار صرف عبادات تک ہی محدودنہیں بلکہ ان کے اندر دی جانے والی تعلیم و
تربیت کا ہماری مجموعی معاشرتی زندگی سے لے کر ریاست کے انتظامی معاملات تک گہرا
اثر پڑتا ہے۔ آج بھی دیہاتی علاقوں میں بچہ جب بولنے اور چلنے کے قابل ہوتا ہے تو
اس کو مسجد میں بھیجنا شروع کر دیا جاتا ہے جہاں ان کے عقیدوں اور نظریات کی بنیاد
رکھی جاتی ہے۔ اسلام سے محبت اور دین کی اتباع کا درس دیا جاتا ہے جو اللہ اور اس
کے رسول تک پہنچنے کے لئے مولوی کی اتباع سے مشروط ہے اور دین کو سمجھنے کے لئے
ہمارا پورا معاشرہ انہیں مساجد کے اماموں اور خطیبوں کی مرہون منت ہے اور آج بھی
ہمارے ملک میں جوانتہا ءپسندی کی شکار سرگرمیاں جاری ہیں ان کا کسی نہ کسی
طرح سے ایسی ہی تراغیب سے تعلق نکلتا ہے۔
مذہبی منافرت اور انتہاء پسندی کی سرگرمیوں میں باقائدہ
مساجد میں اعلانات کر کے اشتعال انگیزی کی شہادتیں رپورٹ ہوتی ہیں اس لئے افسوس کے
ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی ذمہ داری کا دینی ماحول سے جڑے ہونے کے تاثر کو
نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے نظریات اور عقائد کی تقلید میں دوسرے نظریات اور
عقائد کے پیروکاروں پر تشدد اور ان کی جانوں کو لینے کے سلسلے کے ناقابل تردید
شواہد موجود ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب علماء کا ہی یہی حال ہے مگر معاشرے کی
عمومی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اس معاشرتی تربیت کے متبادل
نظام کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے جس کی
بدولت آج ہم اس انتہاء پسندی کی آگ میں
جھلس رہے ہیں۔ اگر ہم اس تسلسل کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان تربیت گاہوں کے
انتظامی امور کو مثبت سوچوں کے حامل لوگوں کے
سپرد کئے بغیرکنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔
مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس کا انتظام ایک اسلامی ریاست کے
اندر حکومت کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ اگر تمام مساجد کا انتظام حکومت کے لئے ممکن
نہیں تو کم از کم جامع مساجد کے لئے آبادی اور خطیب کے لئے مستند تعلیم یافتہ ہونے
کی شرائط تو رکھی جائیں جس کے اندر ریاست کے انتظامی معاملات میں اس کے مثبت کردار
کے لئے بھی کوئی ریفریش کورسز کا اجرا کیا جائے تاکہ ان کو اپنے ریاست کے اندر
کردار کا اندازہ اور اس کی نزاکت کا احساس تو ہو۔ اسی طرح فتوؤں کے اجراء کے لئے
بھی حکومت کو مدارس سے فارغ مفتیاں کی رجسٹریشن کی کوئی اتھارٹی قائم کرنی چاہیے
جس میں وہ کم از کم ٹیسٹ کے بعد یہ اہلیت حاصل کریں اور کسی ضابطہ اخلاق کی پابندی
بھی ان پر لاگو کی جا سکے۔ اسی طرح نئی مسجد اور مدرسے کی رجسٹریشن سے قبل اس کے
امام یا استاد کے متعلق شرائط کو پورا کرنا لازمی قرار دیا جائے۔
جب ایک سکول یا کالج کے استاد کو ساٹھ یا سو کے قریب طلباء
کو تربیت دینے کے لئے پیشہ ورانہ تعلیم اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں نفسیات
سے لے کر تربیت کی مختلف تھیوریز پڑھائی جاتی ہیں اور ایک استاد کم از کم دس سال
کے تجربے کے بعد اسٹنٹ پروفیسر بنتا ہے تو جس نے پورے معاشرے کی عمومی تربیت کرنی
ہوتی ہے کیا اس کو کسی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے لئے بس علماء
والا حلیہ ہی کافی ہے جس میں داہڑی، ٹوپی اورہاتھ میں تسبیح ہو۔
جب اس کائنات کے خالق نے اپنی قربت کا معیار تقویٰ رکھا ہے
تو کیا اس کے گھر مسجد کا انتظام دیتے ہوئے اس کی قربت کے معیار کا خیال نہیں رکھا
جانا چاہیے؟ کیا اس کے گھر کا انتظام سنبھالنے والے کے دل میں اللہ کے رسول کے لقب
رحمت العالمیں ہونے کی خوبی کی توقع نہیں کی جانی چاہیے؟ کیا اپنی امت جس میں
مسلمان اور کافر دونوں شامل ہیں کی فکر میں کھولتے ہوئے پانی کی طرح کی آواز دیتے ہوئے سینے کی لاج نہیں رکھی جانی چاہیے؟ کیا اس
سوچ کی اطباع میں مسجد کے امام کے دل میں انسانیت کی محبت کو نہیں دیکھا جانا
چاہیے؟ کیا مسجد کا انتظام سونپتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ اس شخص کا
معاشرے کی تعمیر و تربیت میں کتنا تجربہ اور سابقہ کارکردگی یا سرگرمیاں کیا ہیں؟ کیا اس کو اپنے پیشہ میں ماہر ہونے کے لئے
معاشرے کی نفسیات اور ملکی نظم و ضبط کو
سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں؟
دینی مدارس کی رجسٹریشن میں بھی تعلیمی درجات کی مطابقت سے
کوئی نگرانی کا عمل ہونا چاہیے اور جید علماء کی نگرانی میں چلنے والے مدارس جیسا کی جسٹس تقی عثمانی، قاری منیب اور کئی دوسرے
علماء شامل ہیں کو ماڈل مدرسوں کا درجہ دیا جائے اور ہر خطیب کے لئے کم از کم ان
ماڈل مدارس میں ایک سال کی درس وتدریس کی شرط کو لاگو کیا جائے تاکہ وہاں ان جید
علماء کی نگرانی میں ان کے رویوں کواسلامی اقدار کے حامل معاشرے کی تشکیل کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے
مزین کیا جاسکے اور ایک مدرس کی ذمہ داریوں متعلق ان کی تربیت کو یقینی بنایا جا
سکے ۔ مذید ان کی درس و تدریس میں ریاست کے قوانین اور انتظامی معاملات کو جاننے
اور سمجھنے کی قابلیت کو یقینی بنانے کے
لئے بھی ریفریش کورسز کا انتظام ہونا چاہیے۔ ان ماڈل مدارس میں درس و تدریس سے
منسلک اساتذہ کی باقائدہ تربیت بڑی بڑی یونیوروسٹیوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی
طرز پر کی جائے تاکہ تعلیمی نظام میں یکسانیت کی ضرورت کو پورا ہونے کو بھی یقینی بنیا یا جا سکے۔
اسی طرح ان مدارس سے تعلیم پانے والوں کی صلاحیتوں سے فائدہ
اٹھانے کے لئے کوئی ایسا میکنزم بھی بنایا جائے جس میں دینی تعلیم
والوں کے لئے ذمہ داریوں اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں۔ جن میں عدالتوں میں معاون، شرعی مسائل پر
فتوے جاری کرنے کے لئے رجسٹریشن کا ادارہ، قاضی کورٹس، تھانوں کی مصالحتی کمیٹاں،
یونین کونسلوں کی ثالثی کمیٹیاں، پولیو یا دوسرے صحت کے مدافعانہ سکیموں کی ٹیموں
کی معاونت کا کردار اور اسی طرح تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول کی مساجد کے علماء کو
انتظامی کمیٹیوں میں شامل کر کے حکومتی پالیسیوں کے اطلاق میں ان کے مثبت کردار
میں مدد لی جا سکتی ہے۔ اگر ان لوگوں کی ایسی جگہوں پر شمولیت ہوگی تو نہ صرف وہ خود ضابطہ اخلاق کے پابند ٹھہریں گے بلکہ
دوسروں کی اخلاقات کی درستگی میں بھی ممدومعاون ہونگے اور اس سے دین اور دنیا کے
درمیاں حائل تعصب بھی ختم ہوگا۔
ایسی اصلاھات کے زریعے سے دینی حلقوں کے کردار کو فعال نظام
کا حصہ بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے لئے حکومت کو شروعات کرنی چاہیں مگر اس کی
کامیابی کا راز مذہبی راہنماؤں کی رضاکارانہ کوششوں سے مشروط ہے اس کے بغیر خاطر
خواہ فائدہ تو کیا اس کوشش کو مزاحمت سے بھی نہیں بچایا جا سکتا ہے اور یہی خوف آج
تک اس معاشرتی بگاڑ کی اصلاح میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے جس کا تاثرموجودہ قانون
سازی کے عمل کے دوران بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
میری اس ملک کے جید علماء جن میں مولنا فضل الرحمن، قاری
منیب، جسٹس تقی عثمانی اور داسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران علماء اکرام ہیں سے
بھی گزارش ہے کہ جب وہ مدارس دینیہ کو اسلام کے قلعے اور پاکستان کے نظریاتی جغرافیے کے محافظ
سمجھتے ہیں تو پھر ان کو ان قلعوں اور محافظوں کے معیار اور آپس کے اختلافات سے
اسلام کی شناخت کے بگڑنے کے عمل بارے بھی فکر مند ہونا چاہیے۔ ان قلعوں کے
کمانڈروں کے آپس کے اختلافات سے اس طاقت کے کمزور پڑنے کااحساس بھی ہونا چاہیے۔
علماء انبیاء کے وارث ہیں ان کا بہت بڑا مقام ہے اور یہ
وراثت قرآن و حدیث کا علم ہے جس کے ثمرات محبت، امن، اخلاق حسنہ، اخوت، بھائی
چارہ، برابری، بردباری، تقویٰ، ایثار اور احسان ہیں ۔اس وراثت کی تقسیم اور ذمہ
داری کی کارکردگی کو پرکھنے کا پیمانہ ہماری معاشرت جس میں عبادات سے لے کر ہمارے
معاملات تک کا ہر عمل شامل ہے سے ابھرتا ہوا عمومی تاثر ہے جس کا اندازہ ہمارے آج
کے ماحول سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
اس لئے علماء اگر علماء بر نہ منائیں تو ان کو اپنا کھویا
ہوا مقام حاصل کرنے کے لئے آپس کے اختلافات کو باہمی گفت شنید کا ماحول دینا ہوگا
جو اصلاح کی بنیادی شرط ہے۔ انہیں اپنے علمی اختلافات کو اپنی باہمی نشستوں تک
محدود رکھتے ہوئے عام لوگوں تک فروعی اختلافات کے نقصانات سے بچنے کا ماحول اخلاق
حسنہ کے ثمرات کا پہنچنا یقینی بنانا ہوگا ۔اپنی انبیاء کی وراثت کو اس کا اصل
مقام دینا ہوگا جس کی تقسیم اور اگلی نسلوں کے سپرد کرنے کی ذمہ داری انہوں نے خود
رضاکارانہ طور پر اٹھائی ہوئی ہے جس کی ان سے یوم حساب کو جوابدہی بھی ہوگی۔
تاریخ کا اگر مطالعہ کریں تو اس وراثت کی ترسیل کے دوران
ہمیں نبی آخرالزمان ﷺ اور خلفاء راشدین کے ادوار میں کہیں بھی کسی کلمہ گو کو کافر، مشرک یا بدعتی کہنے کی
مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی لہذا ہمیں بھی اپنے انداز تبلیغ کو انہیں اقدار اور معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔
اور اگر کسی کے پاس اس کی توجیح یہ ہو کہ اس وقت اس طرح کے اعمال کئے ہی کب جاتے
تھے تو میراسوال ہے کہ یہ اعمال شروع کس نے کئے؟ یہی تو میرے پہلے سوال میں چھپا
ہوا مطمع نظر ہے۔
قابل صد احترام ان داعیوں سے گزارش ہے کہ ان تمام تر اعمال
جن سے شرک، کفر اور بدعت کے تاثر کا گمان ملتا ہے کا تعلق انہی کی انفرادی شناخت کے متحمل عقائد سے ہے جن کے
اندر اپنے سوا اوروں کو کافر، مشرک یا
بدعتی سمجھنا ہی ایماندار اور پکا مسلمان ہونے کے یقین کی تعلیم و تربیت کی شرط
رکھی جاتی ہے، اور اسی سوچ و عمل سے ان فرقوں نے جنم لیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک جس کو اسلامی تعلیمات پر عمل کے لئے
حاصل کیا گیا کے اندر اسلام کی شناخت میں یکسانیت کو بحال کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔
جس کے لئے فرقوں کی ترجیحات کو چھوڑ کر، مسجدوں سے نظریات اور مسالک کے پہرے اٹھا
کر انہیں اللہ کا گھر سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو عبادات کی ادائیگی میں آزادی دینی
ہوگی۔ ان کے اندر سے فرقہ واریت کی تعلیمات سے عبادات کی قبولیت کے خوف کو ختم
کرکے تقویٰ اور خشوح و خضوع کو ان کی توجہ کا مرکز بننے کا ماحول مہیا کرنا ہوگا
تب ہی اسلام کے اصل مقصود انسانیت کی فلاح کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس بگڑتی ہوئی
صوتحال کی فکر کرتے ہوئے حکومت کو مساجد کی سرپرستی اور علماء کو اس کا ساتھ دینا
ہوگا۔ دینی حلقوں سے گزارش ہے کہ اپنے مدارس کو شہروں، سلفاء اور اکابریں کے ناموں
پر رکھتے ہوئے اسلام کی شناخت کو فرقوں
میں بانٹنے کی بجائے اپنے اعمال اور تعلیم و تربیت سے اسلام کی شناخت میں یکسانیت
کو فروغ دیں۔ جب انکی تعلیم و تربیت، تبلیغ اور عمل سے اسلام کی شناخت میں یکسانیت
کے ثمرات سے اسلام سرفرازی حاصل کرتے ہوئے امن، بردباری اور بھائی چارے کو فروغ
ملے گا تو لوگ ان کی درسگاہوں اور اکابریں کی کاوشوں تک سراغرسانی کرتے ہوئے خود ہی پہنچ جائیں گے اور
پوچھیں گے کہ اسلام کے اس خدمتگار کی تعلیم و تربیت کے حصول کی نسبت کس مدرسے یا
بزرگ سے ملتی ہے۔
اور اگر اسی طرح ان ناموں کی نسبت سے فرقہ واریت جاری رہی
تو ان سے نفرتوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اور اگر اس حساس مسئلے پر توجہ نہ دی
گئی تو فرقہ واریت کی آگ میں جھلستے معاشرے کی دین سے بڑھتی ہوئی نفرت سے لوگ
اسلام سے دور ہوتے جائیں گے اور حالات کا ذمہ دار ان علماء اور اسلامی تعلمات کو
ٹھہرایں گے جن میں ایک فرقے کا عالم دوسرے
فرقے کے مولوی سے نفرت پیدا کر کے دین میں تفریق سے اسلام کی شناخت اور یک جہتی کو
نقصان پہنچا رہا ہے اور نتیجتاً وہی مذاہب کے دخل
سے آزاد سیاست پر زور دیا جانے لگے گا جس کا وقت حکومت اور سنجیدہ علماء
دنوں اطراف سے احساس کے جگانے کا تقاضہ کر رہا ہے۔
.jpg)





.jpg)
.jpg)


