سوچ کی غذا

پیر، 30 مارچ، 2026

جھوٹ ہم سے بولا نہیں جاتا الزام خواہ اپنے سر ہی آئے

افغانی نئی نسل کو ادھوری کہانی سناتے رہے 

یہ تو بتایا کہ یہاں ان کے ہاتھوں یو ایس ایس آر ٹوٹا، امریکہ ناکام واپس لوٹا مگر یہ بتایا ہی نہیں کہ ان پچاس سالوں کے دوران ہماری تمام تر ضروریات کا خیال رکھنے والا محسن کون تھا جن کی گود میں ان کی اس نئی نسل نے آنکھ کھولی، جن کا نمک کھایا، جنہوں نے پالا پوسا، شیلٹر دیا، تعلیم دی، روزگار دیا، اور پھر ساری جمع پونچی سمیت انہیں واپس اپنے ملک میں آباد کیا۔

بس ہماری اتنی چھوٹی سی گزارش ہے کہ کہانی کو مکمل کر دیں تاکہ تمھاری نئی نسل کو اپنی پوری تاریخ کا تو معلوم ہو ۔

جمعہ، 27 مارچ، 2026

ایران-امریکہ کشیدگی: مذاکرات کی جانب اہم پیش رفت

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اب ممکنہ طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان عملی نوعیت کے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور مختلف نکات پر شرائط کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ اکیسویں صدی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں، براہِ راست ملاقاتوں سے قبل ہی ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے پیش رفت ممکن بنائی جا رہی ہے، جس نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اس لیے بھی روشن دکھائی دیتے ہیں کہ دونوں فریق کسی حد تک اپنے اپنے اہداف حاصل کر چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنی جدید ٹیکنالوجی اور طاقت کا مظاہرہ کر لیا ہے، جبکہ ایران نے مزاحمت، یکجہتی اور استقامت کا ایسا اظہار کیا ہے جو مستقبل میں بھی اس کے لیے ایک مضبوط سفارتی اور نظریاتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔

بدھ، 25 مارچ، 2026

ایران-امریکہ کشیدگی: مذاکرات کی امید اور پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار

 عالمی سفارتکاری میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو نہ صرف امن کے داعی ہیں بلکہ عملی طور پر تنازعات کے حل میں کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ چاہے خطے کو درپیش چیلنجز ہوں یا عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، پاکستان کی شمولیت کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سفارتی سرگرمیوں سے لے کر دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات تک، پاکستان نے ایک واضح اور متوازن مؤقف اپنایا ہے۔ اس کی ایک جھلک اس وقت بھی دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر Donald Trump نے پاکستانی وزیراعظم Shehbaz Sharif کے پیغام کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر شیئر کیا، جو پاکستان کی سفارتی کاوشوں کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے۔

منگل، 24 مارچ، 2026

موت کا احساس، زندگی کا شعور

کبھی آپ نے ایسا خواب دیکھا ہے جس میں آپ اپنی موت کو اپنے بالکل قریب محسوس کرتے ہیں؟ سانس رکتی ہوئی لگتی ہے، دل تیزی سے دھڑکتا ہے، اور ای
ک انجانا خوف آپ کو گھیر لیتا ہے۔ مگر جیسے ہی آنکھ کھلتی ہے، آپ سکون کا سانس لیتے ہیں اور دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں کہ یہ سب محض ایک خواب تھا۔ اگر کوئی اس حالت میں آپ کو جگا دے تو آپ اس کے شکر گزار ہوتے ہیں۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ کبھی ایسا خواب بھی آتا ہے جو بے حد حسین ہوتا ہے—خوشیوں سے بھرا ہوا۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو دل اداس ہو جاتا ہے، اور اگر کسی نے جگایا ہو تو اس سے ہلکی سی ناراضگی بھی ہوتی ہے کہ اس نے ایک خوبصورت لمحہ چھین لیا۔

پیر، 23 مارچ، 2026

سیاست دانوں کو لاحق 'اسٹیبلشمنٹ فوبیا' کیسے ختم ہو سکتا ہے؟

انتخابات ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود کچھ سیاست دان ابھی بھی پارلیمانی سیاست کے بجائے احتجاجی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان جماعتوں کے پاس پارلیمان میں نمائندگی بھی موجود ہے لیکن ان کے طرز سیاست سے وہاں بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے نزدیک پارلیمان کے اندر بھی احتجاج اور شور و غوغا زیادہ اہم ہے جبکہ آئینی و قانونی اور اصولی سیاست کم تر حیثیت رکھتی ہے۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

رمضان کی تربیت اور عید کی حقیقی خوشی

جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزر رہی ہوں گی تو کہیں عید کی خوشیاں دم توڑ چکی ہوں گی اور کہیں ان کے استقبال کی تیاریاں عروج پر ہوں گی۔ عید، جو مسلمانوں کے لیے مسرت، شکر اور اجتماعیت کا پیغام لے کر آتی ہے، ہم ہر سال روایتی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی اس خوشی کے اصل مقصد اور اس کے پس منظر پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی خوشی اس وقت تک اپنی معنویت کھو دیتی ہے جب تک اس کے سبب اور مقصد کو نہ سمجھا جائے۔ جیسے ہم کسی دعوت میں شریک ہونے سے قبل اس کی وجہ جاننا ضروری سمجھتے ہیں، ویسے ہی عید کی خوشی کو سمجھنے کے لیے رمضان المبارک کی روح کو جاننا ناگزیر ہے۔
رمضان محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے، جو انسان کو تقویٰ، صبر، شکر، استغفار اور ایثار جیسے اوصاف سے آراستہ کرتا ہے۔ یہ مہینہ دراصل ایک سالانہ تربیتی کورس ہے، جس کے ذریعے ایک مسلمان اپنی اصلاح کرتا اور اپنی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی مشق کرتا ہے۔

بدھ، 18 مارچ، 2026

طاقت کا غرور اور انسانیت کی آزمائش

عالمی سطح پر گزشتہ کئی دہائیوں سے انسانی حقوق، ترقی اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں پر دنیا کا اعتماد متزلزل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امن، حقوق اور ترقی کا مفہوم طاقتور کی جارحیت کے سامنے اپنی بے بسی پر شرمندہ دکھائی دیتا ہے۔

آج ریاستوں کی خودمختاری کا تصور بارود کی آگ میں جلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جارحیت امن پسند سوچ کی تضحیک کر رہی ہے، وحشت انسانیت کی تذلیل کر رہی ہے، اور ہٹ دھرمی اخلاقیات کا جنازہ نکال رہی ہے۔

منگل، 17 مارچ، 2026

جھوٹے پراپیگنڈا کا حل

مجھے کل پنجاب حکومت کی سنئیر وزیر مریم اورنگزیب کا بیان پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ اب غلط خبریں پھیلا کر حکومت کو بدنام کرنے والوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات دائر کریں گے۔

دیر آئید درست آئید میرے خیال میں الزامات سے اس وقت تک چھٹکارہ حاصل ہی نہیں کیا جا سکتا جب تک ان کی تحقیقات کر کے ان کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا جائے۔ اب جس قدر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں معلومات تک رسائی تیزر ہو گئی ہے اس ضرورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ عوام کو ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں سے محفوظ بنایا جا سکے 

ہمارے ہاں غلط معلومات پر مبنی الزام تراشیوں کا سلسلہ ایک رواج بن چکا ہے اور سیاستدانوں سے لے کر نام نہاد صحافیوں تک ہر کسی نے اسے معمولی لیتے ہوئے دوسروں کی عزتوں سے کھیلنا شغل بنایا ہوا ہے۔ سیاستدانوں کی ذہنی سطح کا یہ حال ہے کہ وہ جھوٹ پر مشتمل الزام تراشیوں کو بعد میں سیاسی بیان کا نام دے دیتے ہیں۔ گویا سیاست میں جھوٹ اور الزام تراشی سب جائز ہے۔ 

جب سیاست کا یہ معیار ہوگا تو پھر اس کی پیدوار پارلیمان کے تقدس کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہی حال ہماری صحافت کا ہے جو جھوٹ بول کر جتنا زیادہ تجسس اور حیرانگی پیدا کر لے گا اتنا بڑا مقبولیت کے درجوں پر فائز ہوگا جو بظاہر ہماری اجتماعی معاشرت ہی کی عکاسی ہے جو حقیقت بھی ہے۔ مگر حکومتوں کو ان برائیوں کو ختم کرکے بہتری کو یقینی بنانے کے لئے عوامی مینڈیٹ سونپا جاتا ہے جو پنجاب حکومت احسن طریقے سے نبھا بھی رہی ہے۔ 

حکومت کو الزام تراشیوں کے خاتمے کے لئے ان قوانیں پر عمل کو یقینی بنانا ہوگا بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے قبضہ مافیا سے عوام کی جان چھڑوائی ہے۔ جس کے لئے پہلے عدالتی نظام کے اندر اصلاحات لانی ہونگی تاکہ اس کو تیز رفتار اور موثر بنایا جا سکے کیونکہ ہمارا موجودہ نظام اس قدر قابل بھروسہ نہیں جو اس مقصد پر پورا اتر سکے

موجودہ نظام میں تین قسم کے قوانیں رائج ہیں جن میں ایک فوجداری ہے جس میں تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت مقدمہ درج کروایا جاتا ہے جس کے تحت دوسال قید اور جرمانہ یا دونوں اکٹھے بھی سزا کے طور پر لاگو ہو سکتے ہیں، ایک سول جو ڈیفمیشن ایکٹ 2024 کے تحت دائر ہوتا ہے جو سول عدالتوں میں ہرجانے کے لئے کیا جاتا ہے جس کا فیصلہ نوے دنوں میں کیا جانا ہوتا ہے مگر اس پر سالوں لگ جاتے ہیں۔ اور تیسرا سائبر سیکورٹی ایکٹ 2026 (پیکا) کی دفعہ 20 کے تحت ایف آئی اے کے پاس مقدمہ درج کروایا جا سکتا ہے۔

مئی 2024 میں پنجاب حکومت نے ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 متعارف کروایا جس بارے میڈیا میں بہت کچھ لکھا گیا یہاں تک کہ اس ڈریکونین قانون کہا گیا جس پر حکومت کو تحفظات دور کرنے کے لئے اسے لاگو کر تے ہوئے مفاد عامہ نوعیت کے مقدمات میں پراسیکوشن کے ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے عوامی اعتماد کو اس پر بحال کرنے کے لئے ماڈلز بنانا ہونگے تاکہ عوام میں اس کا رواج پنپ سکے۔

خاص طور پر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو ان کی مطابقت میں لانے کے لئے ایڈووکیٹ جنرلز اور اٹارنی جنرل کے دفاتر کو محنت کرنا ہوگی تاکہ وہ حکومت کی رٹ، عدلیہ کی ساکھ اور مفاد عامہ کے اندر ہم آہنگی کو یقینی بنا سکیں۔  

اسی طرح صحافتی حلقوں کے تحفظات پر بھی توجہ دینا ہوگی جیسا کہ ان کے نزدیک اس سے بھاری جرمانے لاگو کر کے یا ان کے سوشل میڈیا کے اکاونٹس کو بند کر کے اسے ان کے خلاف دباؤ پیدار کرنے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس تاثر کو اس کی پاسداری میں شفافیت اور غیر جانبداری لا کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ اور اکاونٹس کو بند کرنے کی بجائے پہلے ان کے خلاف مواد کو انہیں اکاونٹس سے ان کی سزا کے طور پر چلوانا چاہیے تاکہ ان کے دیکھنے اور سننے والوں کو حقائق کو جاننے کا موقع ملے اور پھر بعد میں جب جرم ثابت ہو جائے تو ان اکاؤنٹ پر بند ہونے وجوہات کو ثبت کر دیا جائے۔

صحافتی برادری کے ایسے تاثرات کو عدالتی کمنٹس سے بھی تقویت دی گئی ہے جن میں ہتک عزت اور آزادی اظہار رائے میں توازن لانے کی ضرورت ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اس کا استعال سیاسی انتقام یا آزادی اظہار رائے کو سلب کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے مفادہ عامہ میں استعمال کر کے عوامی اعتماد کو حاصل کیا جائے۔

صحافتی حلقوں کی رائے کو مقدم بنانے کے لئے انہیں تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے بھی کوئی حکمت عملی بنائی جانی چاہیے جسے کے تحت انہیں اپنے لئے کوئی ضابطہ اخلاق بنا کر سوشل میڈیا پر اکاونٹ بنانے سے پہلے جس میں صحافتی نوعیت کے رائے یا تبصروں کو شائع کرنا مقصود ہو کے لئے کوئی ریفریش کورس کو لازمی قراد دیا جائے جس میں صحافتی ایتھکس سکھائے جائیں اور مجھے امید ہے کہ اس کو صحافتی حلقے بہت خوشی سے مان لیں گے۔

پولیس ریفارم پر بھی پنجاب حکومت نے کافی کام کیا ہے اسی طرح سول عدالتی شعبہ میں بھی مفاد عامہ یا عام شہریوں کی عزتوں کو محفوظ کرنے کے لئے فری قانونی خدمت کی سہولت پہنچائی جانی چاہیے تاکہ الزامات تراشیوں کے سدباب کے لئے نمونے کے طور پر مثالیں قائم کی جا سکیں۔

ہتک عزت کے سول رائٹس کی پاسداری کے لئے جدید دنیا کے اندر رائج نظام جیسا کہ برطانیہ میں بہت ہی پر اثر نظام موجود ہے کی طرز پر اصلاحات لاگو کی جانی چاہیں جس میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جس میں نہ صرف پرائیویسی کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ درخواستوں کی دائرگی اور اس کی کاروائی کو بھی آن لائن کیا جائے تاکہ وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 14، 19 اور 19 اے کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔    

پیر، 16 مارچ، 2026

حق کی فتح

حق کی فتح کا تصور دنیا کے تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے جن میں ہندوازم، عیسائیت، یہودی عقیدہ اور اسلام نمایاں ہیں لیکن جدید نظام حکومت بھی اس پر پختہ یقین رکھتا ہے اور اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی تاریخ میں بہت سارے عالمی سطح پر ادارے وجود میں آئے جن میں دور حاضر کا اقوام متحدہ کا ادارہ ایک واضح مثال کے طور پر موجودہ ہے۔

اس قول کی تائد میں دنیا میں وقوع پانے والے واقعات کی ایک لمبی تاریخ ہے جن کے اندر حق کی فتح اور باطل کے مٹنے کی مثالیں ہمیں اس پر یقین کو پختہ کرنے کے لئے کافی ہیں اور یہ عمل ہر دور میں اپنے آپ کو دہراتا رہا اور جو حق کی طرف کھڑے رہے انہیں تاریخ نے ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا ہے۔

مذید تمہید میں جائے بغیر موجودہ جنگی منظرنامے کو ہم دیکھیں تو الحاق، نظریات اور اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر ہم دونوں اطراف میں وسائل کے واضح فرق کے باوجود دیکھیں تو چند اشاروں کو ہم حق کا نام دے سکتے ہیں۔ 

باوجود اس کے کہ معلومات کے زرائع کا جھکاؤ واضح طور پر طاقت کی طرف ہے جیسا کہ پہلے تو کوئی طاقت کے خلاف لب کشائی کرنے کے لئے بھی تیار نہیں اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔

افواہیں حقائق پر چھائی ہوئی ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہم اگر اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں تو نقصانات کا بھاری پلڑا اور مزاحمت کا اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنے آپ کو قائم رکھنا اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سب نشانیاں حق ہی کی ہیں۔

گو عالمی سطح پر طاقت کا توازن اپنی مصلحتوں کا شکار دبا دبا ہے مگر اس کے باوجود ان کا موقف کسی سے چھپا ڈھکا نہیں۔

اسے دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ قدرت کے اصولوں کی تدبیروں اور انسانی وسائل کی بنیاد پر موجود بالادستی کے گھمنڈ کی تدبیروں میں ٹکراؤ جب پیدا ہوتا ہے تو بھاری پلڑا ہمیشہ قدرت کا ہی ہوتا ہے۔ اب عجلت میں کئے گئے فیصلوں سے ہمدردیاں کم اور بالادستی متھ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

عالمی منظر نامے پر دفاعی سطح پر انگڑائیاں لیتے نئے بنتے اور ٹوٹتے اتحاد بھی اسی اصول کی سچائی کی طرف اشارہ دے رہے ہیں اور بظاہری دنیا کے تمام وسائل جن میں معیشت، ٹیکنالوجی اور زرائع معلومات کی واضح برتری کے با وجود مزاحمت کے سامنے لاچارگی اور حمائت کی درخواست پر ہچکچاہٹ یا صاف انکار بھی حق کی فتح کا نشان سمجھنے سے کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔

عالمی سطح پر غالب عوامی رائے کا جنگ کے خلاف ہونا بھی اگر سمجھا جائے تو حق کو واضح کرنے کی ہی ایک دلیل ہے۔ گو تاریخ کا حتمی نتیجہ سامنے آنے میں ابھی وقت باقی ہے مگر اس کے باوجود انسانی عقل و دانش کے پیمانوں پر پورا اترنے والے آثار اپنا فیصلہ سنا رہے ہیں۔ 

ہم ہار اور جیت کے مفہوم کو جس قدر بھی خلط ملط کر لیں مگر انسانیت پر قیامت ڈھائے جانے کو کبھی بھی انسانیت کی فلاح کا درجہ نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی بچوں کے قتل کو حکمت و دانائی میں کوئی جواز کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا اپنی بالادستی کو لاحق خطرات کے خوف کی پاداش میں خود مختار ریاست پر حملے کو امن کا عالمی پیغام ہونے کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔  

بدھ، 11 مارچ، 2026

میں پاکستان کو کہاں دیکھ رہا ہوں

 

پاکستان کے روشن مستقبل کی گواہیاں ہر طرف موجود اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں ان کو سمجھنے کے لئے حقائق کو پرکھنے والی سوچ کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کو خصوصی سلام

پاکستانی قوم تو ہمیشہ سے اس دلی خواہش کا اظہار اور اعادہ کرتی ہی رہتی ہے مگر اب مشرق وسطیٰ سے بھی یہ آواز بلند ہونا شروع ہو گئی ہے جس کا میں نے اپنے چند دن پہلے ایک کالم میں تذکرہ بھی کیا تھا کہ پاکستان اب محفوظ ترین ملک سمجھا جا رہا ہے جس کے دلائل میں اسلامی دنیا کے پاکستان کو بگ برادر ماننے کا  بھی حوالہ تھا۔

اب آپ میڈیا میں یہ خبریں پڑھ رہے ہونگے کہ فیلڈ مارشل سعودیہ جن کے ساتھ پہلے سے ہمارا دفاعی معاہدہ کے دورےپر تھے جس کے بعد اس کے جنگ پر اثرات کا بھی مظاہرہ کیا ہوگا اور بحرین نے فیلڈ مارشل کو دورے کی دعوت دی ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وزارت خارجہ سے رابطہ کریں اور اسی طرح کویت بھی خواہش کر رہا ہے جو پاکستان کی واضح دفاعی صلاحیت کی تصدیق ہے۔

بے خوف قیادت 

قوموں کی قیادت جب بے خوف افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے تو پھر ایسے مواقعوں کے دروازے کھلتے ہیں اور ہمارے سامنے دنیا میں کئی ایسی مثالیں ہیں جن میں چائنا سر فہرست ہے مگر شرط یہ ہے کہ عوام ایسی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے  سخت فیصلے کرنے میں ساتھ دے

قومی ناسور 

تاکہ ملک سے بدعنوانی اور غدارانہ سوچوں کا قلع قمح کیا جا سکے۔ کیونکہ یہی وہ عناصر ہوتے ہیں جو ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹ ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک ناسور کی طرح قوموں کی سوچوں سے لے کر معیشت تک کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔

ناسور کی طرح بڑی تیزی سے زندگی کے ہر شعبہ میں پھیل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو جب وسائل اور مال تک رسائی ملتی ہے تو یہ معاشرے کے لئے کشش بن کر ابھرتے ہیں اور معاشرہ دیکھا دیکھی ان کی تقلید میں تباہی کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔

معاشرت پر منفی اثرات

ان بدعنوان اور غداروں کا انداز رہن سہن اور دولت کے بلبوتے پر ریاست کے اداروں میں اثر رسوخ ایک ماڈل کا روپ دھار لیتا ہے اور یہ لوگ آہستہ آہستہ سیاست، تجارت اور سخاوت کے زریعہ سے اپنے آپ کو اس قدر مضبوط  کر لیتے ہیں کہ قوم ان کو مسیحا اور نجات دہندہ سمجھنے لگتی ہے۔

قومی شعور

اس غلط سوچ و عمل کے خاتمے کے لئے قومی شعور پہلی شرط ہے لیکن ہم یہاں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ جو بھی اس کا دعوی کرے اسی کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ 

درحقیقت شعور اچھے کو اچھا اور برے کو برا سمجھنے کو کہتے ہیں وہ خواہ اپنا ہو یا پرایا۔

سبق آموز عبرت

پاکستان نے اس وقت دہشت گردی سے تقریباً جان چھڑوا لی ہے اور اس کے بعد بدعنوانی اور غدارانہ سوچوں کو سبق آموز عبرت بنانا ہوگا۔

جوابدہی کا عمل

جب حقیقی قیادت اور عوامی شعور کا باہمی ملاپ ہوتا ہے تو پھر ہمیں خواہ وہ حکومتی سطح پر ہو یا عوامی سطح پر جوابدہی کا عملی مطاہرہ نظر آتا ہے اور معاملات شفافیت، غیرجانبداری اور ترقی و خوشحالی کا منظر نامہ پیش کر رہے ہوتے ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم مثبت سمت میں  جارہے ہیں۔

پاکستان کی پزیرائی 

اس وقت پاکستان کی پزیرائی کسی طاقت کی بنیاد پر دھونس یا کمزور پر مسلط ہونے کے صورت میں نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منوا کر امن قائم کرنے کے سوچ و عمل کی بنیاد پر مل رہی ہے جو ایک پائیدار ترقی کی طرف سفر کی دلیل ہے۔

عالمی سطح پر ایک متبادل ماڈل

پاکستان سے دفاعی معاہدے کرنے والے اور پاکستانی دفاعی صلاحیتوں کے کامیاب ماڈل کی حامل ٹیکنالوجی میں دلچسپی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پاکستان پر اعتماد کرنے لگے ہیں اور اس کے چائنا کے ساتھ اشتراکی ہتھیاروں کو وہ ایک متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

دنیا ماڈلز کو مانتی ہے

دنیا محض دعوؤں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ وہ عملی طور پر نمونوں پر یقین رکتھی ہے جس کا مظاہرہ پاکستان مئی 2025 سے مسلسل خواہ وہ جنگی میدان ہو، دہشت گردی کے خطرات یا عالمی سطح پر دفاعی نمائش اور امن کی کوششوں میں کوئی انشیٹو اپنی صلاحیتوں کے جوہر نمونے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ جو اس وقت روش، فرانس، امریکہ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی کے مجموعے پر برتری کا تاثر ایک بہت بڑی حیرت بن کر خاموش کشش  بنا ہوا ہے۔

خوف کی دھاک کے پہرے

ہو بھی کیوں نہ عظیم پاکستان کی فضاوں سمندروں یا ڈیجیٹل دنیا کی بادشاہی ہو یا  سرحدوں کے آرپار فسادی حرکاتیں پاکستان کی امن پسند کوششوں کے خوف کی دھاک پہرے دیتی ہوئی پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے۔

گواہیاں ہر طرف چھائی ہوئی ہیں

جس کی گواہیوں کے طور پر دنیا کی عالمی طاقتوں کی پریس ریلیز ہوں یا میڈیا کے تبصرے ہر جگہ پاکستان کی جرات، صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کی دھوم مچی ہوئی ہے

پاکستان کا مستقبل

اس موجودہ منظرنامے میں پاکستان ایشیاء جو دنیا کا مستقبل ہے کے اندر اہم شریکدار کے طور پرایک مرکز بن کر  ابھر رہا ہے اور نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا سے سرمایہ دار پاکستان کو محفوظ ترین ملک سمجھتے ہوئے سرمایہ کاری کے لئے ایڑیاں اٹھا کر دیکھ رہے ہیں اور جیسے ہی ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جو تقریباً اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے سے امن پائیں گے تو عمل کرنا شروع کر دیں گے۔


پیر، 9 مارچ، 2026

شہدا کے خاندانوں کو "عظیم قومی خاندان" کا درجہ دیا جانا چاہیے

 ہمیں اپنے فوجی اور سویلین شہداء پر فخر ہے اور اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے شہداء کے خاندانوں کو قومی سطح پر اکنالج کرتے ہوئے "عظیم قومی خاندان " کے خصوصی ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے۔

ہمارے ان شہداء کا خاندان اور خاص کر ان کی بیوی بچے بہت بڑی آزمائش سے گزرتے ہیں۔ ہم انکے اس بے مثال رشتے کی کمی تو پوری نہیں کر سکتے مگر انہیں یہ احساس تو دے سکتے ہیں کہ وہ اس غم میں اکیلے نہیں بلکہ پوری قوم ان کی ان مشکل گھڑیوں میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ قومی کی شفقت اور سایہ ہمیشہ ان کے سروں پر قائم ہے۔ انکا ایک عظیم خاندان سے تعلق ہے اور پوری قومی کو ہرپل انکی اس عظیم قربانی کا احساس ہے اور  ان کے ملک و قوم پراس احسان پر انہیں ہر پل سلام پیش کر رہی ہے۔

تمہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے

جس کا اظہار ہر روز ہر قدم پر ہر دفعہ نئے جوش اور جذبے کے ساتھ ہونا چاہیے اور یہ سب کچھ عملی طور پر قومی حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ انہیں پاکستان کے ہر ادارے کے اندر ترجیح بنیادوں پر پروٹوکول کے ساتھ سہولیات مہیا کی جانی چاہیں تاکہ انہیں ہر روز قوم کی ان سے محبت تازہ دکھائی دیتی رہے۔

انکے قومی شناختی کارڈ ہی دوسری قوم سے مختلف ہونے چاہیں جن پر خصوصی عظیم قومی خاندان کا نشان ہونا چاہیے جو شہداء کے والدین ، بیوی اور بچوں کو جاری کئے جائیں۔

یہ حضرات پاکستان کی کسی بھی سطح کے تعلیمی، صحت اور ملازمت کے حصول کے لئے جائیں تو وہاں ان کو ہر ادارے کے اندر ہر طرح کی سہولیات ترجیح بنیادوں پر مہیا ہونی چاہیں۔ عظیم قومیں اپنے عمل سے پہچانی جاتی ہیں اور اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔

ہمیں اپنے ان محسنوں کو وہ ماحول دینا ہوگا جس پر وہ شہید کا خاندان ہونے پر فخر محسوس کریں اور پوری قوم کے اندر اس رتبے کے حصول کے لئے جذبہ اور ولولہ اجاگر ہونے  کے ساتھ ساتھ ان پر موت و زندگی کا اصل فلسفہ  واضح ہو۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوۃ ہے

حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں۔

جمعرات، 5 مارچ، 2026

پاکستان اس وقت محفوظ ترین ملک سمجھا جا رہا ہے

 جو پاکستان کو اگلا نشانہ کہنے کی غدارانہ باتیں کر رہے ہیں انہیں میں بڑے ہی محتاط جملوں میں مختصراً کہنا چاہوں گا کہ سن لیں کہ پاکستان اللہ کے ٖفضل سے محفوظ ترین ملک بن چکا ہے اور جن کو ابھی بھی یقین نہیں آیا وہ فیلڈ مارشل کا تازہ بیان پڑھ لیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کے ہر خطرے کو ختم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کریں گے جو ان کے پچھلے جملے کا عملی تسلسل ہے جس میں کہا تھا کہ پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر جائے گا

اور اس وقت دنیا کا ہر ذی شعور یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان محض دعوے نہیں کرتا بلکہ وہ یہ سب کچھ عملی طور پر ثابت کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کا ثبوت پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان کی منہ بولتی شکست سے لگایا جا سکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان نے انڈیا کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بناتے ہوئے بلا اختلاف آٹھ طیارے گراے ہیں اور اس کے بعد سے اس نے اپنے باقی طیارے خود ہی لینڈ کر دیئے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟

ہندوستان کو اپنے جس دفاعی نظام پر گھمنڈ تھا کہ اس کے پاس روس، فرانس،  اسرائیل اور امریکہ کی دفاعی حفاظتی تنصیبات کا مجموعہ ہے اور وہ سمجھتا تھا کہ وہ جب چاہیے گا پاکستان کو مشکل میں ڈال دے گا مگر پاکستان نے اس کو وہ سبق سکھایا ہے جس کے ڈنکے پوری دنیا میں بج رہے ہیں۔

ہندوستان کی فوج پاکستان کی فوج سے دگنی ہے جبکہ پاکستان 49 ویں اور ہندوستان دنیا کی چوتھی بڑی معیشیت ہے اور جنگی سازو سامان بھی اس کے پاس پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے تو کیا اس کو پاکستان پر ترس آ رہا ہے کہ وہ دنیا میں ہر طرف اپنی رسوائی کے بجتے نکاروں پر خاموش ہے۔ یقیناً نہیں بلکہ اس کی خاموشی اس وقت دنیا میں پاکستان کی پزیرائی کی تصدیق کر رہی ہے۔

جس کی توثیق آپ کو اس وقت پاکستان کی سرحدوں پر خوف کی دھاک کے پہروں سے بھی مل سکتی ہے کہ ہندوستان کی سرحد پر کسی نے آزادی کے بعد کی تاریخ میں اتنی خاموشی نہیں دیکھی ہوگی؟ یقیناً آپ اثبات میں ہاں کہیں گے اور خاص طور پر جب پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے افغانستان کی سرحد پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے جو ہندوستان کے لئے بہتریں موقعہ تھا کہ سرحد پر اپنی شیطانی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے تماشے لگاتا۔ دوسری طرف اس کی دہشت گردانہ سرمایہ کاری اور ہلہ شیری کے باوجود افغانستان سے اس وقت صلح کے پیغامات آرہے ہیں مگر اب یقینی اقدامات کے بغیر پاکستان ایسی کسی بھی پیشکش کو وقت ضائع کرنے کے مترادف سمجھتا ہے 

اسی طرح ایران کی موجودہ رجیم کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور کسی دوسری رجیم کی ممکنات دم توڑ چکی ہیں کیونکہ ایران کی عوام نے رجیم چینج کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ جب تک کسی ریاست کے عوام ساتھ نہ دیں وہاں رجیم چینج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پہلے لیبیا میں فوج کے اندر سے غداری ہوئی تھی اور عراق میں افواج کو اتارا زمینی حملی کیا گیا تھا اور شام میں بھی اندرونی حمائت ملنی شروع ہو گئی تھی مگر ایران میں ایسی کوئی بھی صورتحال بنتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی

اور پاکستان میں دہشت گردی کے ناپاک ارادے رکھنے والے اب خفت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں جبکہ پاکستان اس وقت سفارتی سطح پر بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اپنی کامیاب سفارتی حکمت عملی کی بدولت اس وقت امریکہ سے لے کر چین تک اور یورپ سے لے کر روس تک ہر ملک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ ابھی وزیر اعظم کا روس کا دورہ تھا جو ریجن میں کشیدہ حالات کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے۔

دنیا پاکستان کے ساتھ تجارت کے لئے خواہشات کا اظہار کر رہی ہے۔ ہمارے ریجن میں اس وقت ہمسائیہ ریاستوں جن میں چین، ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان، آزر بائیجان، ترکی اور پورے مڈل ایسٹ کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں اور اسلامی دنیا پاکستان کو اس وقت اپنا بڑے بھائی کا درجہ دیتے ہوئے تجارتی و دفاعی معاہدے کر رہے ہیں۔ پاکستانی قیادت اس وقت کشیدگی کے ماحول میں بھی ان کے ساتھ مسلسل ساتھ رابطے میں ہے۔

  پورا مڈل ایسٹ اس وقت پاکستان کو محفوظ ترین ملک سمجھ رہا ہے۔ کیونکہ اس موجودہ کشیدگی میں ان کو ایران کے میزائلوں سے دفاعی نظام کے باوجود نقصان پہنچ رہا ہے جس پر ان کے اندر انتہائی تشویش پائی جا رہی ہے۔ لوگ مڈل ایسٹ کو چھوڑ رہے ہیں۔

وہ پاکستان کو اس کشیدگی میں ثالثی کے کردار کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ یہ جنگ زیادہ طول نہ پکڑ سکے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان چین اور روس کو بھی ثالثی میں ساتھ شامل کر سکتا ہے  

جبکہ دوسری طرف ہندوستان اس وقت اپنی منافقانہ سفارتی چالوں میں بری طرح ناکام اور اس کی سازشیں بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں۔ جو اس نے حالیہ اسرائیل کو خفیہ حمائت کی تسلیاں دی ہیں اور اپنے پرانے تجارتی حلیف ملک ایران کو دھوکہ دیا ہے پر اپنی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

 دوسری طرف اس جنگ میں سویلین کے جانی نقصان سے عالمی سطح پر ایران کے ساتھ عوامی ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں۔ جبکہ مبینہ طور پر یورپ بھی اس جنگ میں دل چسپی نہیں لے رہا اور امریکن کانگرس سے بھی اس جنگ کی توثیق نہیں مل پا رہی  پینٹآگون جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں تشویش کی طرف اشارہدے  رہا ہے جس سے یقیناً پاکستان کی جنگ بندی کی نیک تمناؤں کی تکمیل کا ماحول بن رہا ہے جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا جائے گا اور پاکستان کی بشمول چین امن پسند سوچ کو پزیرائی ملے گی۔   

جبکہ پاکستانی قوم بھی اس وقت متحد اپنی افواج پاکستان کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہر مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج معاشی ہے جس میں اب محفوظ ترین ہونے کے تاثر کے بعد نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری کا بہترین ماحول پیدا ہوگا بلکہ پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں بھی بہت سارے ممالک دلچسپی لے رہے ہیں جس سے پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی میں انتہائی آسانی کے اسباب پیدا ہوں گے۔

منگل، 3 مارچ، 2026

کیا کوئی سرخ لکیر کھینچ پائے گا؟

اس موجودہ جنگ جسے ایران  پر اسرائیل کی یلغار کہا جا رہا ہے جو کافی حد تک ٹھیک اس لئے ہے کہ مذاکرات کے دوران شروع کی گئی جس کا چند سالوں  سے ایک تسلسل جاری ہے مگر اس سے اسلامی دنیا اور بالخصوص مشرق وسطیٰ نے کوئی سبق نہیں سیکھا یا پھر وہ اپنی علمی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں محرومیوں کے سامنے بے بس ہیں سب اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ ان کے دلوں کی حالت کو بھی اس ایمان کا درجہ نہیں کہا جا سکتا جس پر اللہ کی مدد اترنے کے وعدے ہیں۔

اور اِس کی سب سے بڑی وجہ نظریات کے اندر تفرقہ اور قول و فعل میں تضاد ہے جو ان کو مزید کمزور کرتا چلا جا رہا ہے۔ اور جب تک ان کے معاملات اسلامی تعلیمات کی کَسوٹی پر پورے نہیں اترتے اس وقت تک اس آزمائش سے سرخرو ہونے کی کوئی امید لگانا بھی بیکار ہے۔

مگر اس یلغار کے سامنے ایران کی للکار میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ للکار اِس وقت امت مسلمہ میں ایک ولولہ بن کر ابھر رہی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جذبوں اور ولولوں سے کیا اس یلغار کے سامنے کو سرخ لکیر کِھچ پائے گا یا نہیں؟

اس نقطے کو سمجھنے کے لئے صورتحال کے کچھ دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کرنا پڑے گا جو انتہائی توجہ طلب اور اہمیت کے حامل ہیں جن میں سب سے پہلا ہے امریکہ اور اسرائیل کی بالا دستی کی جنگ جو پوری دنیا بشمول یورپ، روس اور چین کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ابھی بھی معیشت اور ٹیکنالوجی میں ان کا کوئی ہمسر نہیں

روس تو ابھی اپنی اُس کھوئی ہوئی طاقت کو بھی یکجا نہیں کر پایا جو اس نے گرم پانیوں پر پہنچنے کے خواب میں گنوائی تھی جس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ جنگ محض نظریات کی نہیں یا اسلام کو اسرائیل اور امریکہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوں یا اس سے اسلامی ممالک کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہو کہ ان کو ملکر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہیں ہر اس قوت سے خطرہ ہے جو ان کی بالا دستی کو چیلنج کرے اور اس وقت چین وہ خاموش تحریک ہے جس سے وہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور یہ طاقت کا استعمال اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک اس کو توازن کرنے کے لئے کوئی واضح لکیر نہیں کھینچ دی جاتی۔

یہ کوشش اس دنیا کے وجود میں آنے سے جاری ہے اور رہے گی لیکن شائد اس محرکے میں کسی حد تک کوئی حد مقرر ہو جائے۔ چین کے آڑے ابھی معاشی مصلحتیں بھی ہیں مگر اس کے با وجود وہ اپنی جنگی دفاعی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کا جہاں بھی موقع ملے اس کی نمائی کا فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔ ابھی بھی اس کا ایران کی حمائت میں واضح بیان سامنے آیا ہے جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صورتحال کے تھمنے میں یقیناً کوئی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی

جہاں تک جس کے مفادات کو ضرب لگے وہ صلاحیت رکھتا ہو تو ضرور اس پر اپنا اظہار بھی کرتا ہے اور اس کو دنیا اکنالج بھی کرتی ہے جس طرح سے پاکستان کو پزیرائی ملی ہے لیکن اپنی بقاء کی جنگ ہر کسی نے خود ہی لڑنی ہوتی ہے اور پرائی آگ میں کوئی نہیں کودتا۔ اور یہ بالا دستی اور طاقت کی جنگ بھی ایک کوشش مسلسل ہے اور یہ کئی ملکوں کی کمائی کا زریعہ بھی ہے لہذا اس کے بالکل رک جانے کا تصور تو ممکن ہیں نہیں۔

ویسے بھی یہ بالا دستی اور طاقت بھی دوسرے عوامل کی طرح ارتقائی عمل ہے جس میں نئی نئی ایجادات کا مظاہرہ کر کے اس کی مارکیٹنگ بھی ضروری ہے اور جنگی سازو سامان کی فروخت بھی تو جنگوں کے سلسلوں سے ہی جڑی ہوئی ہے وہ خواہ  طاقت کی دہاک بٹھانے کے لئے ہو یا اس کے سامنے سینہ تان کر امن کی کوششوں کا نوبل ایکشن۔

ایٹم کی صلاحیت ہو یا اس کو روک کر دنیا کو امن بخشنے کا بھاشن سبھی اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کے بہانے ہیں اور یہ ایٹمی صلاحیت بھی پچھلی صدی کا ایک ہتھیار تھا اب تو شائد دفاعی ٹیکنالوجی کی ارتقاء کا عمل اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہو اور اپنے وجود کے اظہار کے  لئے شیطانی خواہشوں کے ہاتھوں مجبور انسانی تباہی کے کسی موقعے کی تلاش میں ہو۔

ایران کادعویٰ ہے کہ وہ جنگ جیت چکا ہے جو ٹھیک اس لئے لگتی ہے کہ اس نے اپنی صلاحیت سے بڑھ کر جرات دکھائی ہے  قطع نظر اس کے کہ  مدمقابل ہارے یا جیتے کیونکہ جیت جرات کا نام ہے بقاء اور فنا کا نہیں بالکل اسطرح جیسے مئی 2025 میں پاکستان نے اپنی جرات اور صلاحتیوں کو دنیا پر آشکار کرکے توپوں میں پٹاخوں والی سکت بھی نہیں چھوڑی اور اس وقت پاکستان جب افغانستان کی سرحد پر امن کی کوششوں میں مصروف ہے تو ہندوستان کی سرحدوں پر پاکستان کے خوف کی دھاک پہرے دے رہی ہے اور مجال ہے کسی کی کوئی اونچا کھانسے بھی۔

اور جو ایران کے بعد پاکستان کی باری کی نا پختہ سوچ رکھتے ہیں ان کے لئے ہندوستان کی حالت زار ایک خاموش پیغام ہے اور اس کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنی سوچ اور صلاحتیوں کے سامنے ایسی باتوں کو کوئی وزن نہیں دیتے اور پاکستان اللہ کے فضل اور قومی یکجہتی کی قوت کے ساتھ ایسے کئی خطرات کا عملی طور پر سد باب بھی کر چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔ 

اتوار، 1 مارچ، 2026

عالمی حالات نئی فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں۔

عالمی حالات نئی فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں۔
اس وقت عالمی حالات امن کی بحال کو ممکن بنانے کے لئے دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر ریجنل فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے اپنی ساکھ کھوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور کوئی ادارہ ان کا متبادل بنتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ غزہ ہو یا کشمیر کہیں بھی ان کی ریزولیشنز پر عمل دکھائی نہیں دیتا۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ورانٹ ایک کاغز کے نکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ امریکہ جیسی عالمی طاقت ان کی کارکردگی پر سوال اٹھا چکی ہے۔ 

نیٹو اپنی ذات میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر بے بسی کے ہاتھوں حیرت زدہ ہے اور دنیا کا درجہ حرارت موسمیاتی ہو یا تنازعاتی دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا میں امن کی خاطر نئے پیس بورڈ کا قیام لایا جاتا ہے مگر اس کے قیام کے اگلے ہفتے ہی مشرق وسطیٰ اور ویسٹ ایشیا سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

دنیا میں امن کا دعویٰ اس وقت محض لفاظی سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا جبکہ عملی طور پر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والی پالیسی نافذ ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ملکوں کے باہمی اتحاد نا گزیر دکھائی دے رہے ہیں۔

ماضی میں بھی فیڈریشن کی تاریخ ہی محفوظ ترین حکمت عملی رہی ہے اور حال میں بھی فیڈریشنز ہی محفوظ سمجھی جا رہی ہیں وہ خواہ یو ایس اے ہو یا شینجن سٹیٹس۔ دوسری طرف یو ایس ایس آر اپنی جارحانہ حکمت عملیوں کے سبب اپنے کھوئے ہوئے وجود پر پچھتاوے کا تاثر دیتے ہوئے اس ضرورت کی اہمیت کو پھر سے اجاگر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

تاریخ اسباق سے بھری پڑی ہے مگر ضرورت ہے انہیں اکٹھا کر کے فیڈریشن کی صورت کوئی حل تلاش کرنے کی لیکن اس کے اندر بھی بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی تحفظات کو دور کرنے کے لئے ڈائیلاگ کا آغآز کرنا ہوگا۔ اور ان چیلنجز کا حل اعتماد کے رشتوں میں تلاش کرنا ہوگا۔

تیسری عالمی جنگ دستک دے رہی ہے جسے آپس کے روابط، اتحاد اور باہمی اعتماد سے ٹالنے کی کوشش کرنا ہوگی اور مذاہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کے رشتوں کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔ مذاہب کو سنڑل کمانڈ میں لانا ہوگا تاکہ ان کے نام پر تشدد انتہا پسندی اور نفرتوں کے تاثر کو ختم کر کے مذاہب بارے انسانی فلاح کے حقیقی مفہوم کو واضح کیا جا سکے۔ 

ریاستوں کو اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے وقف کرنا ہوگا۔ وسائل پر یقین رکھنے والے نظام معیشت کی مہاڑ کو وسائل کی رضاکارانہ تقسیم کی طرف موڑنا ہوگا۔ محبتوں کو فروغ دے کر نفرتوں کو ختم کرنا ہوگا۔

وہ ریاستیں جن کے وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہے انہیں مل کر عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے اپنی خود مختاری کو قائم رکھتے ہوئے دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر ریجنل فیڈریشنز کا قیام عمل میں لانا ہوگا 

جس میں ایک سوچ اور باہمی مفادات کی حامل ریاستیں مثلاً چین، پاکستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، آزربائیجان اور ترکی مل کر باہمی فیڈریشن بنا سکتے ہیں اور آپس میں ہر طرح کے جغرافیائی رابطوں کو آسان شرائط کے ساتھ بحال کر سکتے ہیں تاکہ مسقبل کی تجارتی ضروریات سے لے کر دفاع تک کے مشترکہ مفادات میں ایک یکجہتی کی بنیاد پر طاقت بن سکیں۔ 

بظاہر یہ مشکل ہے مگر اس کے اندر بہت زیادہ فائدہ ہے۔ اگر ان تمام ریاستوں کا فی الفور ملنا ممکن نہ ہو تو پاکستان اور چین ملکر کوئی ایسا باہمی ماڈل متعارف کروا سکتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے مستقبل کے تجارتی، سفارتی اور دفاعی اہداف کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔ مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر دوسرے ریاستیں بھی بعد میں شمولیت کو اختیار کر سکتی ہیں۔

اس پر دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور ملکر درپیش چیلنجز اور دنیا میں ان کے بارے موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی ترتیب دے کر عملی قدم اٹھانا چاہیے۔ اس وقت دونوں ممالک پر دنیا کی اکثریتی ریاستوں کا امن پسندانہ سوچوں اور دفاعی صلاحیتوں کی بدولت اعتماد ہے۔

آپس میں طویل المدتی معاہدے ترتیب دے کر اپنے زرائع کی اشتراکیت سے عالمی تجارتی ضرورتوں اور باہمی مشکلات کا احسن طریقے سے حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی کوششوں کی اہمیت اس لئے بھی واضح ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ  کے اس وقت دنیا کی تمام بڑی با اثر اور عالمی طاقت کی حامل ریاستوں خواہ وہ امریکہ ہو، روس، یورپی یونین، اسلامی دنیا اور مشرق وسطیٰ  یا چین کے ساتھ بہت ہی مثالی تعلقات ہیں اس لئے موجودہ حالات میں ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  

اس سے نہ صرف حالات کی بہتری ممکن ہوگی بلکہ مواقعوں کے نئے دروازے کھلیں گے جس سے ریجن میں طاقت کے توازن کا ایک نیا باب شروع ہوگا بلکہ خود کفیلی کر طرف بڑھنے میں ایک دوسرے کی مدد میں ممدومعاون ماحول پیدا ہوگا جس سے دفاعی تحفظ کے ساتھ ساتھ سرمائے کے استعمال اور حصول کی محفوظ حکمت عملیاں وجود پائیں گی۔ 

میگزین