سوچ کی غذا

اتوار، 31 جولائی، 2022

خادم پاکستان کے نام (1)

جناب والا مبارک ہو ، اللہ نے آپ کو اس منصب پر فائز کیا ہے ۔ 

خادم پاکستان کہلانا  یقیناً آپکی عوامی سوچ کا عکاس ہے جو کہ انتہائی خوش آئیند  ہے ۔ آپکی نیت ، سوچ اور عمل پر کوئی شک  نہیں ۔ آپکی کارکردگی ماضی میں بھی عوامی امنگوں کے عین مطابق  رہی ہے اور پنجاب کی ترقی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔  

یقیناً آپ نے اپنی قابلیت اور تجربہ کی بنیاد پر عوامی مسائل کی داد رسی کے منصوبہ کے بارے اپنی حکمت عملی مرتب کی ہوگی جس بارے میں بھی ایک شہری کی حیثیت سے چند گزارشات کرنا چاہوں گا

جس طرح کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معاشی ہے جو بہت سارے عوامل سے جڑا ہے  جن میں سے چند  سیاسی استحکام ، بیرونی قرضہ اور ہماری ضروریات ہیں  ۔ 

معاشی بحران سے نکلنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری سیاسی استحکام ہے جو بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کے لئے آپکو سخت فیصلے لینا ہونگے مگر سب سے پہلے تمام اتحادی جماعتوں کے سامنے ساری صورتحال رکھ کر باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا ۔ 

آپکو تحریک انصاف کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست کی بجائے مفاہمت کی سیاست کرنی چاہیے اور جس طرح ان کے دور حکومت کے اوائل میں ان کو میثاق معیشت کی دعوت دی تھی اسی طرز کی دوبارہ دعوت دینی چاہیے اور ریفارمز کی طرف بھی بڑھنا ہوگا جو انتہائی ناگزیر ہیں ، تو بھی تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں حصہ دار بنانا چاہیے ۔ 

انتقام کی سیاست کو ختم کرنے کا آپ نے اپنی پہلی تقریر میں جیسا کہ اعلان کیا ہے انتہائی خوش آئیند ہے ، اس کو عملی طور پر رائج کرنا چاہیے اور سیاست میں تمام اختللافات قوم و ملک کے مفاد میں ہی ہونے چاہیں ۔ اپنے وزراء کو بھی ترغیب دینی چاہیے کہ وہ روائیتی سیاست کو خیر باد کہتے ہوئے مفاہمت کی نئی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ 

آئین و قانون کی پاسداری کو بلاتفریق لاگو کرنا ہوگا اور یہی واحد ملکی سالمیت اور استحکام کا راستہ ہے ۔ اصلاح کی خاطر کوششوں کے باوجود اگر کوئی ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی طرف بڑھتا ہے تو اس کو آئینی اور قانون کی پکڑ سے بلا تمیز و تفریق آہنی ہاتھوں لینے کے نظام کو بھی فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کے راستے کو بند کیا جاسکے ۔ 

اس وقت سیاسی عدم استحکام کے لئے جو رکاوٹ بنے ہوئے ہیں وہ زیادہ تر آسودہ حال فارغ لوگ ہیں جن کا مہنگائی ، بیروزگاری یا غربت مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ جنریشن زیادہ تر ٹیکنالوجی کی دنیا میں رہتی ہے جن کا وہاں ہی بندوبست کرنا ہوگا اور ان کو مثبت سرگرمیوں میں لگانے کا کوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا تاکہ ان کو سیاسی فتنہ بازی سے دور رکھا جاسکے اور اگر یہ باز نہیں آتے تو ملکی وسائل کے بلبوتے پر ان کی غیر منصفانہ اور غیر متوازی نظام پرحاصل کردہ ان کی سہولیات کو ریاست کی تحویل میں لے لینا چاہیے تاکہ ان کو غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری کی صحیح معنوں میں سمجھ آسکے ۔ 

سیاسی استحکام کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے موجود وسائل کو ایک تناسب کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے سب سے پہلے عوامی ضروریات کی طرف توجہ دینی ہوگی کہ ہم کس طرح سے اس بارے خود کفیل ہوسکیں ۔ یہ ایک دن کا معاملہ نہیں لیکن اس پر کام کرتے ہوئے زراعت کو مناسب توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم کم از کم خوراک کے معاملہ میں ایک سال میں اس کے نتائج دیکھ سکیں ۔ اس سے اسی فیصد دیہاتی آبادی کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا اور معاشی توازن میں بھی مدد ملے گی ۔ 

زراعت اور خوراک کے شعبہ جات میں ایمنسٹی سکیم متعارف کروایں تاکہ سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کی خود کفالت کی طرف بڑھے اور پاکستان کی شہری اور دیہی آبادی میں بھی  توازن کو قائم کیا جاسکے ۔ 

 یہ موجودہ صورتحال جس میں مالی ، اخلاقی ، سیاسی معاشرتی اور معاشی سطح پر ایک واضح صف بندی نظر آرہی ہے یہ  غیر متوازی  پالیسیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ بعض شعبوں میں لوگوں کو اتنا نواز دیا جاتا ہے کہ ان کی آسودہ حالی باقی عوام کے لئے وبال جان بن جاتی ہے ۔ اس لئے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے اندر مالی ، معاشی ، سیاسی ، اخلاقی اور معاشرتی توازن کو قائم کرنے میں مدد مل سکے ۔ کسی بھی شعبہ میں تفریق کو ختم کرنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ مساوات قائم ہوسکے اور ملکی وسائل تک غیر متوازی رسائی کو ختم کرکے معاشرے کے اندر مساوات اور بھائی جارے کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کیا جاسکے ۔ 

پاکستان بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے اور ہر سوچ اور مزاج کے لوگ موجود ہیں جو بہرحال ملکی آئین و قانون اور جمہوریت کی نظر میں بنیادی حقوق، اظہار رائے اور احتجاج کا حق رکھتے ہیں جس بارے ان کو آزادی بھی ہونی چاہیے مگر اس کی حدود و قیود کے بارے واضح آگہی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جو اس کی آڑ میں پاکستان کے عوام کے لئے درد سر ، حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ اور غیر جانبدار اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اس کا سدباب ہو ۔ عوام اور اداروں کا تحفظ کی ذمہ داری بھی حکومت کے اوپر آتی ہے ۔ 

حکومت کو محب پاکستان اور پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے والی سوچوں اور اعمال کو بھی واضح صف بندی کے ساتھ عیاں کرنا ہوگا تاکہ قوم ان کو پہچان سکے اور اپنی رائے قائم کرسکے ۔ 

پچھلے ادوار میں جن طاقتوں نے پاکستان کے مفاد کو سیاسی یا مالی طور پر نقصان پہنچایا ہے ان کے بارے بھی رپورٹ شائع ہونی چاہیے جو حقائق پر مبنی ہو اور ایسی طاقتوں کی کوششوں کا پالیسی کی سطح پر مقابلہ کرنا ہوگا جس سے عملی طور پر ان کو یہ باور کروایا جاسکے کہ پاکستان باشعور اور محب وطن محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ 


جاری ہے

سیاسی اداکاریاں اور جمہوری شعبدہ بازیاں

پاکستان کی سیاست ایک ڈرامہ (کھیل) اور سیاستدانوں کا کردار اداکاری بن کر رہ گیا ہے ۔ ان کے کردار کا حقائق یا حقیقی زندگی سے دور دور کا تعلق بھی نظر نہیں آتا جس کا اندازہ ان کے عمل اور قول سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اداکاری میں بہتر کون ہے اس کا صحیح فیصلہ تو ناظرین ہی کرسکتے ہیں لیکن میں ایک ہلکا سا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کرونگا۔

اس کھیل کے پروڈیوسر کا اندازہ لگانے کے لئے دیکھنا پڑے گا کہ ان کی اس اداکاری کی ہدایات کہاں سے آتی ہیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کررہا ہے ۔ اپنے آپ کو عوامی جماعتیں کہلانے والوں سے یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ عوام جو دو وقت کی روٹی کھانے پر مجبور ہے وہ ان کی سیاسی جماعتوں کے شاہانہ اخراجات چندے کے زریعے سے کیسے چلا سکتی ہے ۔ ان کے سیاسی جلسے جلوسوں اور انتخابات پر اٹھنے والے اخراجات سے اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے کہ جب عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ عالمی سطح پر معاشی حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں تو ان کے اثاثے کیسے ڈرامائی طور پر بڑھتے جارہے ہیں ۔ کل ہی عمران خان کے ایک دوست محسن بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے کرائے کے گھر ای سیون کا کرایہ نو سال امریکی ایمبیسی ادا کرتی رہے ہے تو اس پر عمراں خان کی طرف سے ابھی تک کوئی تردید یا تصدیق نہیں آئی ۔

پہلے چیزوں کے ریٹ بڑھتے تھے تو تمام سیاسی جماعتیں مہنگائی کو ملک و قوم سے دشمنی گردانتے تھے تو اب کیا ان کی نظروں میں منگائی جائز ہوگئی ہے۔ کسی صحافی نے مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا کہ اب آپ کو مہنگائی نظرنہیں آتی تو ان کا جواب تھا کہ وہ اب بھی آواز اٹھا رہے ہیں ۔ تو سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ان کی ذمہ داری محض آوازیں بلند کرنا ہی رہ گئی ہے ۔ حکومتوں میں بیٹھ کر آوازیں نہیں اٹھائی جاتیں بلکہ عمل کے زریعے سے ریلیف دیا جاتا ہے ۔ سبسڈیز بھی ختم ہوگئیں اور حکومت اخراجات بھی کم کرنے کے دعوے کررہی ہے اور پھر بھی افراط زر ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی ۔ اگر اس معاشی تباہی میں پچھلے چار سال کے اثرات ہیں تو پھر پچھلے اکتہر سالوں کے اثرات کا بھی تو عمل دخل ہوگا ۔ جس کا ہر حکمران سے سوال اورکارکردگی بارے پوچھ گچھ ہونی چاہیے ۔

عوام تو سب کچھ منافع ادا کرکے خرید رہے ہیں تو پھر یہ اخراجات آخر کہاں پورے نہیں ہورہے اور ان اخرجات کو اعتدال پر لانے کے لئے حکومت نے کیا حکمت عملی طے کی ہے ۔ ابھی تک کابینہ میں اس پر کوئی جامع حکمت عملی کا تو سنا اور دیکھا نہیں سوائے گریڈ انیس اور اوپر والوں کے ڈیڑھ سو فیصد الاؤنس دینے کے ۔

سب نے باریاں لے لی ہیں ۔ سب کے کھاتوں میں آئینی خلاف ورزیوں ، بدعنوانی کی داستانوں اور ڈرامائی کرداروں کا اچھا خاصہ وزن ہے ۔ کوئی بھی اب یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کو آزمایا نہیں گیا ۔ کسی نے ووٹ کے نام پر، کسی نے بدعنوانی کے نام پر تو کسی نے مذہب کے نام پر عوام کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک و قوم کی تقدیر سے کھیلا ۔ لیکن تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ سلسلہ ابھی بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ ذاتی مفادات ہی سب کو عزیز ہیں اور جمہوری شعبدہ بازیاں بھی اس مقصد کے لئے کی جاتی ہیں ۔

حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگا لئجئے کہ کل کے تمام اخبارات میں خبر لگی ہوئی تھی کہ فوج کے سربراہ نے آئی ایم ایف سے قرضوں کے لئے دباؤ بڑھانے کے لئے بات کی ہے ۔ تو اندازہ لگا لیجئے ان کی جمہوری روایات ، معاشی انحصارات اور بین الاقوامی تعلقات کی صورتحال کا ۔ غلام قوموں کی کون سی خارجہ پالیسیاں ہوتی ہیں جب آمدن اور اخراجات عدم توازن کا شکار ہوں اور ان میں بہتری سمجھ اور اختیار سے باہر ہو تو پھر معیشت کا انحصار قرضوں پر ہی ہوا کرتا ہے ۔

سیاستدان اب بھی دھوکہ دہیی کا کردار اپنائے ہوئے ہیں اور عوام اب بھی دھوکہ کھا رہے ہیں ۔ قومی وسائل کے نگران اب بھی سیاست میں عمل دخل سے باز نہیں آرہے ۔ عوام ابھی بھی اس قابل نہیں ہوئے کہ ان دھوکے بازوں کو پہچانیں اور اپنی صفوں میں سے کوئی حقیقی جمہوری قیادت سامنے لا سکیں اور ان بہروپیوں سے جان چھڑوا سکیں ۔

جس طرح اداکاری کا تعلق معاشرے کی عکاسی تو ہوتی ہے مگر زیادہ تر اس کا انحصار پروڈیوسر، ہدائتکار اور لکھاری کے تخیلات سے ہوتا ہے اسی طرح ہمارے اس سیاسی کھیل کا تعلق بھی عوامی مسائل سے کم ہی ہے زیادہ اس پر سرمایہ کاری کرنے والوں اور اداکاروں کے مالی مفادات اور نظریاتی مقاصد ہیں جن میں عوام کو محض اس کھیل سے تفریح میسر آرہی ہے جو کچھ سوشل میڈیا کی لغوبازی سے اور کچھ سیاسی جلسے جلوسوں کی صورت ہے ۔

مگر عوام کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس تفریح کے مہیا کرنے تک ابتدائی اخراجات تو پروڈیوسر اٹھاتا ہے مگر ان کا مقصد تو کاروبار ہوتا ہے اور بالآخر یہ سارے تخمینے عوام سے ہی پورے کئے جاتے ہیں جو اس تفریح سے محظوظ ہورہے ہوتے ہیں ۔ آج عوام اس سیاسی کھیل کی ساری قیمت  کچھ ٹیکسز کی مد میں تو کچھ مہنگائی کی صورت میں چکا رہے ہیں ۔

تو عوام اس سیاسی کھیل کو تفریح نہ سمجھیں بلکہ جتنی جلدی ہوسکے اس کھیل کے کرداروں کی اصلیت کو پہچانیں اور اپنی تقدیر کے فیصلے حقیقی قیادت کو ڈھونڈھ کر ان کے ذمے کریں ۔

اگر ان کی پہچان کرنی ہے تو سب سے پہلے تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان سیاسی کرداروں کے قول و فعل میں کتنا ربط ہے ۔ کیا یہ جو کہتےہیں اس پر ان کا عمل بھی ہے ؟ دوسرا یہ دیکھنا ہوگا کہ ان سیاسی لیڈروں کا اپنا کردار کیسا ہے؟ تیسرا یہ دیکھنا ہوگا یہ کیا یہ سیاست اصولوں پر مبنی کررہے ہیں ؟ چوتھا دیکھنا ہوگا کہ ان کی سیاست کا مقصد کیا ہے ؟

اب تو ڈراموں میں کام کرنے والوں کے بھی ذاتی کردار کو دیکھا جاتا ہے اس پر تنقید کی جاتی ہے اور اس کا ان کی پروفیشنل زندگیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں تو کیا ہماری سیاست ہی اتنی رہی سہی  ہے کہ اس میں کسی کا ذاتی کردار کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ جس بات کا دعویٰ کررہا ہے اس کی عمل میں بھی کوئی جھلک ہے اور پھر اس کا مقصد ذاتی مفادات ہے یا عوامی فلاح ۔

تھیٹر کے بھی کوئی اصول ہوتے ہیں تاکہ عوام میں ساکھ متاثر نہ ہو ایک یہ ریاست ہی رہ گئی ہے جو تمام اصولوں سے ماورا چل رہی ہے جس کو عالمی برادری میں ساکھ کی کوئی فکر نہیں ۔

 

ہفتہ، 30 جولائی، 2022

جمہوری انقلاب اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے

جمہوری انقلاب راتوں رات نہیں آجاتے ، وقت درکار ہوتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس کی سمت درست ہو ۔ رکاوٹیں آتی ہیں اور اپنے آپ کو بے نقاب کرکے اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتی ہیں ۔

اگر پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو کئی ، آمرانہ ، نیم آمرانہ اقتدار جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اپنی قسمت کو آزماتے رہے ۔ جو دراصل صاحب اختیار لوگوں کی ذاتی مفادات کے گرد گھومتی سوچ کا عمل تھا جس کو کبھی کوئی تو کبھی کوئی رنگ دیا جاتا رہا جس میں نظریہ ضرورت بہت مشہور ہوا۔ اس میں سیاستدان اورعوام بھی  اپنی اپنی سوچ کے مطابق کردار ادا کرتے رہے ۔ اس سارے عمل میں  نظریہ جمہوریت اور نظریہ مفادات  کے درمیاں زور آزمائی ہوتی رہی ۔ کبھی نظریہ جمہور حاوی رہا تو کبھی نظریہ مفاد ۔ وقفوں میں جمہوریت کو بھی اپنا زور بازو آزمانے کا موقع ملتا رہا ۔  

عوام اور سیاستدانوں کی تربیت ہوتی رہی ، شعور اجاگر ہوتا رہا ، لوگوں نے قربانیاں بھی دیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔

لوگ اس میں اداروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں مگر میں اس کا حامی نہیں ۔ میرے نزدیک یہ سوچوں کا شاخسانہ تھا اور جس سوچ نے ہمیں نقصان پہنچایا وہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے  والی سوچ ہے جو ہماری قوم میں اکثریت پر حاوی ہے ۔

ہم سب ایک  قوم ، نظریہ اور ریاست میں رہنے والے ہیں مگر سوچ کا زاویہ ہمیں تقسیم کئے ہوئے ہے ۔ سب اپنے اپنے اختیار کے مطابق اپنے اپنے دائرے میں اپنے حصے کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ جس کی سوچ اجتماعی مفادات کو  ترجیح دینے کی  ہے وہ اجتماعی فائدے کا کردار ادا کررہا ہے اور جس کی ذاتی مفادات کو  ترجیح دینے کی ہے وہ اپنے ذاتی فائدے کا کردار ادا کررہا ہے ۔ اس کا جائزہ آپ ہر سطح  پر لے سکتے ہیں ۔ اپنی نجی زندگی سے لے کر قومی سطح تک  نظر دوڑایں تو ہر دو طرح کے کردار نظر آئیں گے ۔

اب اس سوچ کا حامل فرد اگر گھر کا سربراہ بنا تو اس کے اثرات وہاں بھی پڑے اور اگر وہ کسی ادارے کا سربراہ بنا تو وہاں بھی ابھرے اور قوم و ملک متاثر ہوئے ۔

جس کو بھی اختیار ملا اس کی سوچ کے اثرات واضح ہوئے اور ان پر رد عمل بھی ہوا ۔ اب رد عمل کا بھی اپنا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے جو دھیمے مزاج کے ہوتے ہیں ان کے نقطہ نظر کا انداز بھی دھیما ہوتا ہے اور جو سخت مزاج کے ہوتے ہیں ان کا انداز بھی سخت ہوتا ہے ۔ ان کے آپس میں ٹکراؤ سے کشمکش کی صوتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی اپنی جگہ پر فطری عمل ہے ۔

یہ سوچ ملکی سربراہ کے عہدے پر پہنچی تو وہاں بھی اس کا اجتماعی مفادات کے ساتھ ٹکراؤ پیدا ہوا ، وہ کسی ادارے کے سربراہی پر پہنچی تو وہاں بھی اس کے اثرات اور ٹکراؤ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔

ظاہر ہے جس طرف سوچ کا رجحان ہوتا ہے اسی طرف مفادات کا بہاؤ ہوتا ہے ۔ تو کہیں فرد فائدے میں رہتا ہے تو کہیں قوم (اجتماعیت) ۔

جمہوریت وہ نظام ہے جس میں فیصلے کا اختیار اکثریت کو دیا گیا ہے  جس میں اخلاقیات اور اچھی سوچ کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ جتنے اچھے اخلاق ہونگے ، اجتماعی صلاحیتوں ، توانائیوں کا استعمال اتنا ہی اچھا ہوگا اور اس سےنکلنے والے اعمال بھی ٹھیک ہونگے اور یوں اس سے معاشرے کے معاملات ٹھیک ہوتے چلے جائیں گے ۔ جب سوچ اور معاملات ٹھیک ہوں گے تو پھر اس سے حاصل ہونے والے جمہوری نظام کے ثمرات بھی  ٹھیک ہونگے ۔

اگر ہم جائزہ لیں تو ہمیں ہر دو سوچوں کی ہر سطح پر مثالیں ملتی ہیں اور پھر ان کے نتائج اور ان سے حاصل اسباق بھی صاف عیاں  ہیں ۔

مثلاً اگر اداروں کی سربراہان کی سطح پر سوچ کا جائزہ لیں تو جن جن شخصیات نے اس ذاتی مفادات والی سوچ کے تحت کردار ادا کیا ان کے حال ہمارے سامنے ہے کہ ان کو کتنا فائدہ ہوا اور کتنا نقصان اور پھر یہ فائدے کتنے چھوٹے بڑے یا ان سے حاصل ہونے والے فوائد اور نقصانات کا دورانیہ کیا رہا ۔ تو جن جن شخصات نے بھی اپنی اس سوچ کے تحت جمہوری نظام کو سبوتاژ کیا جس میں انکے مختلف کردار ہوسکتے ہیں ان سب کو وقتی مفادات تو ملے مگر بعد میں دیرینہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس میں ذاتی ، جانی ، مالی نقصانات سے لے کر نسلوں تک اس کے اثرات رہے اور نتائج بھگتے ۔ جس سے نہ صرف ان کی زات اور خاندان کو بلکہ اداروں کو بھی نقصان پہنچا اور عوام کے اندر اداروں کا تشخص تباہ ہوگیا ۔ پوری قوم انہیں سوچوں کی وجہ سے اختلافات ، انتشار اور بدامنی کا شکار ہوتی چلی گئی اور آج ہماری تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں غلط جگہ پر استعمال ہورہی ہیں ۔ ہم معاشی طور پر غلام قوم کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ۔

جمہوریت کس طرح اپنے حقیقی انقلاب کی طرف رواں دواں ہے اس کی مثال میں چند نقاط آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا ۔

جنہوں نے بھی اس سوچ کا مظاہرہ کیا یا ساتھ دیا آج وہ بری طرح پریشان ہیں اور اس ملک میں ان کی نسلوں میں بھی کسی کو ملک و قوم اور جمہوریت میں مقام نہیں مل سکا ۔

کسی بھی ایسے سیاستدان ، جرنیل ، صحافی یا جج کی اولاد میں سے بھی کسی کو آپ سیاست میں اہم مقام پر نہیں دیکھتے ۔ جو اس دنیا میں ہیں وہ ایک عبرت بنے ہوئے ہیں ۔ تو یہ سبق ہے ان سوچوں کے لئے جو اب بھی ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں ۔

ایک اور بڑی وجہ میرٹ سے ہٹ کر اہم عہدوں پر بھرتیا ں ہیں جو اس سوچ کا شاخسانہ ہے جو اپنے مفادات کو ترجیح دیتے رہے اور اس طرح کے لوگوں کو ان کی مجبوریاں آڑے آتی رہیں ۔ ان میں وہ اہلیت اور قابلیت نہیں تھی جو کسی دباؤ کا مقابلہ کر سکتے ۔ لہذا وہ اپنے آقاؤں کی سوچ کو تحفظ پہنچاتے رہے اور اس کے عوض مفادات حاصل کرتے رہے ۔

مگر آپ اس بات کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کو تاریخ نے بے نقاب نہ کیا ہو اور وہ قومی غضب کا شکار نہ ہوئے ہوں ۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ ناانصافی کبھی بھی قبولیت نہیں پاسکتی خواہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی ذات ہی کیوں نہ ہوں ۔ 

احتجاج ، آزادی ااااظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے ، عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکایا گیا ، پرامن احتجاج کی ضمانت دی گئی ، انصاف سر چڑھ کر بولا ، راستے کھل گئے ، پھر عدالتی احکامات کے ساتھ کیا سلوک ہوا زمانے کی آنکھ نے دیکھا ۔

عادل کو حقائق سے آگاہ کر کے توہین عدالت پر کاروائی کی گزارش کی گئی ۔ عدل کا اپنے احکامات کے تحفظ کا انداز ، صورتحال پر تبصرہ  اور عدل کا حسین فلیورہر ذی شعور نے دیکھا ۔ ایک دفعہ امن ہوگیا یہی ملک و قوم کو مقصود تھا ۔

حالیہ ڈپٹی سپیکر پنجاب کی رولنگ کا معاملہ اور انصاف کی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار سب آپ کے سامنے ہے اور تاریخ ماضی کی طرح اس کا بھی فیصلہ کرے گی مگر موجودہ وقت میں اس کے نتائج بھی آپ کے سامنے ہیں کہ چیف جسٹس اور ان کے رفقاء چند دن ہی میں دفاعی صورت حال سے دوچار نظر آرہے ہیں ۔

سیاستدانوں میں بھی جو جو جموریت کے ساتھ کھلواڑ کرتا رہا ہے یا جو اس میں شریک جرم تھے سب بے نقاب ہوچکے ہیں اور تمام تر سہولتوں اور حمائتوں کے باوجود آنے والے دنوں میں اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے ۔

جو ہوا ٹھیک ہوا ۔ سب نے اپنی اپنی سوچ اور بساکھ کے مطابق اس میں حصہ ڈالا ۔ ہر کوئی اپنے فیصلوں میں آزاد ہے ۔ کس نے کیا کیا ، کون ٹھیک ہے ، کون غلط ، ہم اس بحث میں نہیں پڑتے ۔ میں کہتا ہوں سب ٹھیک ہیں ۔ اس پر کوئی جو بھی تبصرہ کررہا ہے ، ہر کوئی درست ہے ۔ اس کا یہ حق ہے ۔ اسی طرح ہوتا ہے اور اس سے سوچیں پروان چڑھتی ہیں اور اجتماعی سوچیں ترتیب پاتی ہیں اور ایسے نتائج نکلتے ہیں جن کے مظاہرے آجکل سڑکوں ، عدالتوں اور پارلیمان میں ہورہے ہیں ۔

بیانیے بنتے اور بے نقاب ہوتے چلے جاتے ہیں اور جو حق پر ہوتے ہیں ان کے لئے راہیں خود بخود کھلتی چلی جاتی ہیں ۔

سیاستدانوں کے اپنے پلان ہوتے ہیں جو اے ، بی بناتے اور اپلائی کرتے رہتے ہیں مگر ایک جی پلان بھی ہوتا ہے جو گاڈ (اللہ) کی طرف سے ہوتا ہے جس کی بنیاد انصاف پر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا نظام ایک وزن پر قائم ہے جس میں چہرے نہیں بلکہ کردار دیکھے جاتے ہیں اور اس میں دیر ہوسکتی ہے مگر اندھیر نہیں ۔

میں اس کو حقیقی جمہوری انقلاب کا سفر سمجھتا ہوں جو اپنی منزل کی طرف گامزن ہے ۔

جمعہ، 29 جولائی، 2022

سیاسی برابری کے مطالبے کا نیا بیانیہ ۔

آج کل پاکستانی سیاست میں برابری کی سطح کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ نواز شریف نے جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے اب اس پر کھل کر بات کرنا شروع کردی ہے ۔ اور اپنے اس بیانیے پر تمام اتحادی جماعتوں کو بھی ہم خیال بنا لیا ہے ۔ انہوں نے نہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلے پر احتجاج اور اس کی مزمت کی پالیسی اپنائی  ہے بلکہ اپ الیکشن کمیشن سے بھی پر زور مطالبہ کر رہے ہیں کہ فارن فنڈنگ کے کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے وگرنہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دیں گے ۔

مریم نواز کی آواز میں بہت وزن ہے وہ دبنگ انداز میں بات کرتی ہیں انہوں نے جس قدر کھل کر سپریم کورٹ پر تنقید کی ہے شائد ہی اس کی کوئی مثال ملتی ہو اور اس سے عوامی حلقوں اور خاص کر ان کی جماعت کے کارکنوں کو ایک نیا ولولہ اور بیانیہ ملا ہے ۔ اس پر وکلاء برادری جو کئی مہینوں سے ججوں کی تعیناتی میں سینیارٹی کی بنیاد پر عمل درآمد کے لئے کوششیں کر رہی تھی کو بھی ایک نئی توانائی ملی ہے اور اب انکا یہ بیانیہ سیاسی جماعتوں کا بھی بیانیہ بن گیا ہے ۔

جس طرح نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو گوجرانوالہ کے بعد ایک نئی لائن ملی تھی اور اس کی تائید میں سوشل میڈیا پر ایک کمپین شروع ہوگئی تھی اور فوج کو اپنا رویہ بدلنا پڑا بلکل اسی طرح مریم کے بیانیے کے بعد سپریم کورٹ کے متعلق انتظامی امور میں تحفظات ، مطالبات اور خدشات کو بھی ایک نئی لائن مل گئی ہے اور اب ان پر کھل کر بات ہونی شروع ہوگئی ہے ۔ پہلے کسی بھی بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بڑے بڑے سنئیر وکلاء بھی جھجک محسوس کرتے تھے اور اپنے موکل کو بھی مشورہ دیا کرتے تھے کہ اس طرح کی بات ان کے خلاف جائے گی ۔ بلکہ اکثر ججز کے پوچھنے پر بھی وکلاء از راہ مروت عدالت پر پورا اعتماد ہونے کا اظہار کیا کرتے تھے مگر باہر آکر اپنے خدشات کا اظہار کر لیا کرتے تھے ۔

کافی عرصے سے بنچوں کی تشکیل بارے باتیں ہو رہی تھیں مگر کوئی بھی کسی بنچ کے سامنے یہ بات کہنے کی جسارت نہیں کر رہا تھا مگر ڈپٹی سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پیٹیشن میں وکلاء کے مطالبے کے مسترد کئے جانے پر عدالتی بائیکاٹ کے بعد اب ایک نئی روایت جنم لے گی اور اب پنچز پر عدم اعتماد کا کھل کر اظہار ہوا کرے گا ۔ اور اب ججز کو اگر اپنی ساکھ بچانی ہے تو اپنے فیصلوں کے زریعے سے انصاف ہوتا ہوا دکھانا  پڑے گا اور اپنے فیصلوں میں غیر جانبداری اور شفافیت کے پہلو کو مزید اجاگر کرنا ہوگا

اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پماری عدالتوں کی یہ ثقافت عام ہے کہ سینیر اور جونیئر وکلاء کے ساتھ عدالت کا رویہ مختلف ہوتا ہے ۔ اور عوام کی سطح تک اس تصور کا ذکر ملتا ہے ۔ اسی لئے لوگ کوشش کرتے ہیں کہ سنئیر وکیل کو انگیج کیا جائے ۔ مگر اب ججز کو کافی حد تک محتاط رہنا ہوگا ۔ احترام کا رشتہ دونوں اطراف سے ہو تو تب ہی مضبوط ہوتا ہے ۔

کل  جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی  ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ججز کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا ہے جس کا اظہار کھل کر سامنے آ رہا ہے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ ان انتظامی بد نظمیوں پر تین خط لکھ چکے تھے اور کل ایک اور خط لکھا ہے مگر آج تو جسٹس طارق مسعود کا خط بھی سامنے آگیا ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس کے رویے کے غیر جمہوری ہونے بارے اپنے محسوسات کا اظہار کیا ہے اور اس کے بعد چیف جسٹس کو اب جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی آڈیو ریکارڈنگ کو پبلک کرنے کی ہدایات بھی سننے میں آرہی ہیں ۔ جو کہ ایک انتہائی مثبت سمت میں اٹھتا ہوا قدم ہے ۔ اس بارے جسٹس فائز عیسیٰ اپنے خط میں مطالبہ بھی کرچکے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس لائیو سٹریم پر دکھائے جانے چاہیں اور رولز میں اس بارے کوئی ممانعت بھی نہیں ہے ۔

ان کی اس بات کو کوئی وزن نہیں دیا جارہا تھا مگر اب لگتا ہے یہ ضرورت بن جائے گی اور مجبوراً اجلاس کو آن ائیر کرنا پڑے گا ۔ میں نے تو پہلے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ کانسٹیٹیوشنل اپیلوں کے لئے ایک مخصوص بنچ ہونا چاہیے جو سنئیر ججز پر مشتمل ہو اور اس کی تشکیل بھی جوڈیشل کمیشن کرے یا اس بارے کوئی واضح رولز بنائے جائیں ۔ اور اب جو بحث چھڑ گئی ہے اس کے بعد عدالت کی ساکھ کو بچانے کے لئے رولز کا بنایا جانا انتہائی ناگزیر ہوگیا ہے ۔

اگر اسی طرح عدالت کی کاروائی بھی لائیو دکھائی جانے لگے تو عدالتی نظام کی بہت ساری کمزوریاں دور ہوجائیں گی ۔ اور اس کی مثال دنیا کی عدالتوں میں موجود ہے ۔ بند کمروں کے فیصلوں اور عوام کے سامنے کئے گئے فیصلوں میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ عوام کے سامنے بات کرتے ہوئے کئی دفع سوچنا پڑتا ہے اور اس پر لوگوں کے تبصرے اصلاح کے ایک پہلو کے طور پر کام کرتے ہیں ۔

جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا ہے بہت سارے سیاستدانوں اور مذہبی علماء کے رویے بدل گئے ہیں ۔ جن بھی علماء نے اپنے وڈیو چینلز بنائے ہوئے ہیں اب وہ بیان تیاری کے بعد ریکارڈ کرواتے ہیں اور اس پر علمی دلائل کے ساتھ تبصرے بھی ہوتے ہیں ۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اس طرح اپنی علمی ساکھ کو بہتر رکھنے کے لئے کوئی بھی عالم کمزور روایات کو بیان کرنے سے جھجک محسوس کرتا ہے ۔

تو میں سمجھتا ہوں کہ اب مسلم لیگ نے جو برابری کی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں کو ڈیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اس پر اداروں کو غور کرنا پڑے گا وگرنہ انہوں نے بھی جس طرح سے دباؤ بڑھانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اس سے پہلے والا سلسلہ آگے بڑھانا مشکل ہوجائے گا ۔ جس طرح سے اب چیف جسٹس دفاعی بیانات دینے پر مجبور ہوکر آڈیو ریکارڈنگ کو پبلک کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں اسی طرح ہر ادارے کو اب اپنی ساکھ کو بچانے کے لئے برابری کی بنیاد کا خیال رکھنا پڑے گا ۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے میثاق جمہوریت کے وقت آپس میں ایک مثبت پیش رفت کے زریعے سے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لئے جو قدم اٹھایا تھا اس کے بہت ہی اچھے نتائج سامنے آئے تھے ۔ انہیں کی بدولت اب تیسری اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہے ۔ دھاندلی کے الزامات اور خدشات ضرور سامنے آتے رہے مگر سیاسی کشیدگی میں کافی حد تک کمی آگئی تھی مگر اب تحریک انصاف کے میدان میں اترنے کے بعد ان اصولوں کو پس پشت ڈالا گیا ہے جس پر دوسری جماعتیں مصلحت سے کام لیتی رہی ہیں مگر اب شائد انہوں نے محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ ان کے رویے کو درست کرنے اور سیاست کے اصولوں کو رواج دینے کے لئے ایک دفعہ انہی کی زبان میں جواب دینا ہوگا تب جاکر وہ سیاست کے اصولوں کی طرف متوجہ ہونگے اور اداروں کو بھی یہ باور کرایا جئے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر ڈیل کرنا ہوگا ۔

امید ہے کہ اب اس مطالبے کے سامنے آنے کے بعد سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی اور سیاستدانوں کو بھی محتاط انداز اپنا نا پڑے گا ۔ اگر وہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو پھر اس کے نتیجے کے طور پر اپنے رویوں اور اعمال کی پوچھ پکڑ اور غلط الزامات کی صورت میں قانونی کاروائی کا سامنا بھی تو کرنا پڑے گا ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ جب ایک غلط الزامات پر ہرجانے کے فیصلے آنا شروع ہوگئے تو خواہ مخواہ کی دوسروں پر الزامات کی سیاست کی ثقافت سے جان چھوٹ جائے گی اور عوام ، سیاستدانوں اور اداروں کے سربراہان کی بھی اس طوفان بدتمیزی سے جان چھوٹ جائے گی اور مثبت سیاست کی ثقافت کو پزیرائی ملے گی ۔

    قومی خدمت اور آئینی ذمہ داریاں

    قومی خدمت کے جذبوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری میں ہی ترقی کا راز پوشیدہ ہے مگر اس کے لئےریاست  اور عوام کے درمیاں ایک معاہدہ طے ہوتا ہے کہ ریاستی امور کو اس کے مطابق اور تحت سرانجام دیں گے  جسے ریاست کا آئین کا جاتا ہے ۔

    مگر پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری قومی نفسیات میں ماورائے آئین   زبردستی خدمت  کا جذبہ زیادہ حاوی رہا ہے جس کی بہت ساری مثالیں موجود  ہیں ۔ ہر کوئی چاہتا ہے  کہ اسے خدمت کا موقعہ ملے اور وہ قوم کی خدمت کرے ۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ اس کی اہلیت  یا قابلیت رکھتا بھی ہے یا نہیں ۔ وہ بضد ہے کہ اسے خدمت کا موقعہ ضرور دیا جائے ۔  بلکہ دھونس دھاندلی سے بھی یہ حق حاصل کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرتے  ۔قوم بھی اس معاملے میں بہت سخی واقع ہوئی ہے جس نے بھی اپنی خدمات کی پیشکش کی ہے اس کی خواہش کو کبھی رد نہیں کیا ۔

    اس میں ہمارے اداروں کا بھی کافی عمل رہا ہے جس کا سلسلہ جنرل ایوب خان سے شروع ہوتا ہے  ۔ انہوں نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے  اپنے آپ کو ملک کی خدمت کے لئے پیش کردیا ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان سے بڑا نہ کوئی محب وطن ہے اور نہ ہی کوئی اس ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہے ۔ پھر جنرل ضیاءالحق نے بھی دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان کو صحیح اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور ان کے بغیر کوئی یہ کام بخوبی  سرانجام نہیں دے سکتا ۔ پھر مشرف کو یہ کھٹکا کہ ملک میں غداری کی ایک لہر چل پڑی ہے لہذا اس کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے اور قوم کو بدعنوانی سے چھٹکارہ بھی دلانا ہے لہذا وہ میدان میں کود پڑے ۔

    طاقت کی بنیاد پر حب الوطنی اور غداری کی تعریفیں لکھی جاتی رہیں مگر تاریخ نے کبھی بھی ایسے اقدامات کو قبول نہیں کیا لیکن پھر بھی حب اوطنی اور اس کی زبردستی خدمت کا جذبہ قائم و دائم ہے ۔ عوام اتنی بھولی ہے دعویٰ کرنے والے کے کردار کو نہیں دیکھتے کہ وہ جو کہہ رہا ہے کیا اس کا اپنا اس پر عمل بھی ہے ۔ کیا وہ خود اسلام کی تعلیمات پر عمل کررہا ہے ۔ کوئی بھی اس پر غور نہیں کرے گا اور جب وقت گزر جائے گا تو پھر پچھتاتے پھریں گے ۔ پھر اتنے میں کوئی نیا دعویدار سامنے آجائے گا کہ وہ اب ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے ۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری  وساری ہے ۔ ایسے اقدامات کو عوام اور عدلیہ کی حمائت بھی حاصل رہی ہے جس کی وجہ سے  اس حماقت سے ہم جان نہیں چھڑوا پائے

    آج کل بھی بہت سارے ایسے عوامی خدمت کے دعویدار ہیں جو عوام  کے جذبات سے کھیلنے کے لئے  پوری طاقت سے میدان عمل میں اترے ہوئے ہیں  بلکہ اس کے  حصول  کی باری کے لئے جنگ و جدل پر اترے ہوئے ہیں ۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ باقی سب چور ہیں اور وہ ہی اس ملک میں صادق و امین ہیں کیونکہ ان کو عدالت عالیہ کی سند بھی حاصل ہے اور اس کے لئے انہوں نے ایک زبردست بیانیہ بھی بنایا ہوا ہے جس کو بقول انکے عوامی پزیرائی بھی حاصل ہے ۔ اور دوسری طرف پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ عمران خان اس ملک کی معیشت اور سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور وہ ہر صورت ملک و قوم کو اس خطرہےسے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ۔

    اسی طرح جناب چیف جسٹس صاحب بھی پوری طرح سے پر اعتماد ہیں کہ وہ اور ان کے تین چار ساتھی جو انصاف دے سکتے ہیں وہ شائد کوئی اور نہیں دے سکتا اور اس طرح دوسرے سپریم کورٹ کے معاملات چاہے وہ بنچوں کی ترتیب ہو یا ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں جج کے طور پر تعیناتی ہو وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی سے ہو ، وہ جسے چاہیں وہ ہی سب سے بہتر ہے ۔ اس ضمن میں کل جوڈیشل کونسل کا اجلاس تھا اور اس میں انہوں نے پانچ ججوں کی ایک لسٹ پیش کی جن میں سے کوئی بھی  اکثریتی ممبران کی  منظوری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا  جو انکو ناگوار گزرا  انہوں نے اپنی موجودگی میں کمیشن کا فیصلہ بھی نہیں لکھوایا اور صرف یہ کہا کہ ایک امیدوار کی حد تک مسترد اور باقی چار کی حد تک برخواست کیا جاتا ہے  کہہ کر اٹھ گئے جبکہ دوسرے ممبران کی طرف سے خصوصی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے  اپنے خط میں یہ لکھا گیا ہے کہ تمام امیدواران کو کمیشن کی اکثریت کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے ۔ اور اکثریت نے  سنیارٹی کی بنیاد پر تیعناتی کے اصول کی حمائت کی ہے جو وکلاء بار کی طرف سے دیرینہ مطالبہ رہا ہے اور اس بارے سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے بھی موجود ہیں ۔

    مگر چیف جسٹس صاحب کے رویے سے لگتا ہے کہ وہ زبردستی انصاف اور اس سے جڑے معاملات میں خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی سوچ  دوسروں سے بہتر ہے ۔ حالانکہ ان کے اپنے رفقاء کے ساتھ  حا لیہ کئے گئے فیصلے سیاسی جماعتوں اور وکلاء میں انتہائی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ۔ اور ان کے رویے سے نالاں وکلاء اور بارز  پارلیمان سے سپریم کورٹ کے رولز میں  فی الفور تبدیلی کرنے کے مطالبات کررہے ہیں  اور اس پر قرارداد بھی منظور کر لی گئی ہے ۔ کابینہ نے اصلاحات کے لئے ایک کمیٹی بھی بنا دی ہے ۔

    پنجاب کے چیف منسٹر کے الیکشن پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس میں وکلاء اور تمام سیاسی جماعتوں نے پرزور مطالبہ کیا تھا کہ فل کورٹ پنچ کے سامنے یہ معاملہ رکھا جائے تاکہ ایک متفقہ فیصلہ آئے مگر انہوں نے  تمام مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کیس جلدی سے نمٹا دیا اور اس میں خود اپنے پہلے فیصلے پر جلدبازی میں غلطی کا بھی اعتراف کیا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر احتجاجاً کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے  فیصلہ دے کر اس پر عمل بھی کروا دیا ہے ۔ اب حکومت اس کے خلاف اپیل میں جانا چاہتی ہے اور  وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس کے خلاف نظر ثانی میں مختلف ججز  کو  بنچ کا حصہ بنایا جائے ۔

    پہلے نظر ثانی کی اپیل میں   پہلا فیصلہ کرنے والے ججز ہی سنتے  ہیں ۔ لیکن اب حکومت  ، تمام سیاسی جماعتوں اور وکلاء برادری کی طرف  سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ رولز کو تبدیل کی جائے اور نظر ثانی کا مختلف ججز کو اختیار دیا جائے ۔ اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پھر زیادہ تر قانونی ماہرین اور مبصرین کا خیال ہے کہ فیصلہ بدل جائے گا  جس سے پرویز الہی کی حکومت پھر خطرے سے دو چار ہوجائے گی ۔ اور یوں زبردستی خدمت کے نتائج ملک و قوم کو سیاسی انتشار کے منجھدار میں جھونکے رکھیں گے ۔

    خدمت او ر حب الوطنی کا جذبہ تو  اچھی بات ہے مگر عہدوں کی حیثیت تو ذدمہ داریوں کا نام ہے اور اختیارات سونپنے سے پہلے اس بات کا ہلف لیا جاتا ہے کہ

    " میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا۔ میں اپنے فرائض منصبی اور کارہائے منصبی ایمان داری،اپنی انتہائی صلاحیت وفاداری کے ساتھ،اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون  اور قواعد کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت،استحکام اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا۔میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا۔اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے "۔

    اس کے علاوہ اپنے اپنے کام اور ذمہ
    داریوں کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ ریاست کے اداروں کے عہدوں پر فائز حضرات سیاست سے دور رہنے کا بھی حلف اٹھاتے ہیں ۔

    لیکن اس کے باوجود تاریخ گواہ ہے کہ حلف توڑے گئے  ۔

    تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زبردستی کی خدمت کے پیچھے ذاتی مفادات کے مقاصد ہوتے ہیں جو ان عہدوں کے ساتھ لپٹے رہنے پر مجبور کئے ہوتے ہیں وگرنہ اگر صرف ذمہ داریوں اور حلف کی پاسداری  کا ہی احساس ہو تو   بندہ کبھی بھی ذمہ داریوں کا اضافی بوجھ اپنے اوپر نہیں ڈالتا ۔ اور جب مفادات سامنے ہوں تو پھر ملک و قوم کے مفادات پیچھے رہ جاتے ہیں اور یوں ہر کوئی یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کا الو سیدھا ہوجائے  ، ملک و قوم کو اگر نقصان ہوتا ہے تو ہوتا رہے ۔

    اگر ستر سالوں میں  ایمانداری ، خلوص اور محنت کے ساتھ خدمت کا جذبہ کارفرما ہوتا تو ملک کی آج یہ حالت نہ ہوتی ۔

    عوام کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ مفاد پرست سیاستدانوں اور اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے حضرات کو سمجھیں اور ان کی اصلاح میں اپنی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے قومی مفادات کے لئے کام کرنے والوں کی حمائت کریں اور اس کے بر عکس اعمال والوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ اچھی قیادت سامنے آسکے 

    جمعرات، 28 جولائی، 2022

    سوشل میڈیا کی تباہیاں

    سوشل میڈیا ویسے تو دور جدید کے رابطوں اور معلومات کو پہنچانے کا ایک بہت ہی موثر زریعہ ہے مگر اس کی افادیت میں اس کو استمال کرنے والے کی قابلیت ، اہلیت اور سوچ کا بھی بہت تعلق ہے ۔ اور اس کے زریعے سے دنیا کی سیاست میں بھی ایک بھونچال آیا ہوا ہے جس کی ایک مثال عالمی سطح پر عرب سپرنگ اور ملکی سطح پر موجودہ سیاسی عدم استحکام کی صورت میں آپ کے سامنے ہے ۔

    اس میڈیا نے جہاں مثبت تبدیلیوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جس میں آزادی اظہار رائے کے استعمال میں اس کا بہت ہی اہم کردار ہے  وہاں دنیا میں بدامنی اور تخریب کاری کرنے والوں کو بھی مضبوط کیا ہے ۔ جہاں بلین ڈالرز خرچ کرکے تخریب کاری کے زریعے سے لوگ تیار کرکے ان سے کام لیا جاتا تھا وہاں اب اسی قوم کے بے وقوفوں کو محض میڈیا پزیرائی کے زریعے سے ہیرو بنا کر انتشار ، جارحیت اور تخریب کاری کا مقصد گھر بیٹھے پورا کروا لیا جاتا ہے ۔ 

    جس کا مشاہدہ آپ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز سے لگا سکتے ہیں کہ ان میں سچائی کتنی ہے ، اس کا ٹارگٹ کون ہیں ، یہ کہاں سے چلائے جارہے ہیں اور پھر ان کی پزیرائی کیسے سیکنڈز میں آسمان کو چھونے لگتی ہے ۔ اس معاملے کا تعلق سوچنے ، غور کرنے اور پھر اس کے مقاصد کو سمجھ کر اس سے نمٹنے سے ہے ۔

    اس طرح یہ اس وقت سرد جنگوں کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہا ہے ۔ اور بڑی خاموشی سے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں کوشاں ہے مگر اس کے سیاسی استعمال نے بھی حکومتوں کے لئے ایک چیلنج کی صورت اختیار کرلی ہے جس کے نقصان سے واقف ہونے کے باوجود حکومتیں اس کو قابو کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ اس کا کنٹرول باہر سے ہوتا ہے اور حکومتوں کی پہنچ سے باہر ہے ۔

    جہاں تک آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کا تعلق ہے اس نے واقعی بہت قابل تعریف کردار ادا کیا ہے مگر دوسری طرف غلط معلومات کے زریعے سے جو جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا کیا گیا ہے اس کےنقصانات فوائد سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ اس کی مثال یوں ہی لے لیجئے کہ گنجے کو اللہ ناخن نہ دے وہ اپنا ہی سر زخمی کر بیٹھتا ہے ۔ بلکل اس طرح ہمارے نتائج سے لاعلم اور نابلد جاہلانہ سوچ اور ٹکوں کے لالچ نے ایسوں ایسوں کو پزیرائی اورمقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے کہ اب وہ اپنے آپ کو   سوشل میڈیا کی دنیا کا  لارڈ سمجھ کر انت اٹھا رہے ہیں ۔

    اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس سے متاثرین میں ان اداروں کے سربراہان اور ممبران بھی شامل ہوگئے ہیں جن کے کام پر اس کےمنفی  اثرات پڑ رہے ہیں اور متاثر قوم و ملک ہورہے ہیں ۔ اور اس کی بنیاد کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ان کے اپنے بیانات ، تبصروں اور تاثرات سے چھلکتا ہے ۔ اور انہوں نے اس کا برملا اظہار بھی کیا ہے ۔ جیسا کہ ججز نے خود اس کی بنیاد پر سوو موٹو ایکشن لئے ہیں  تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سوچ اور کام بھی سوشل میڈیا کےاثرات سے آزاد نہیں رہا جو کہ صرف نظام انصاف ہی نہیں بلکہ ملکی انتظام و انتصرام پر بھی پڑ رہا ہے ۔ جس کا اب سیاستدانوں کی بے بسیوں میں بھی اظہار ابھرنا شروع ہوگیا ہے ۔

    سوشل میڈیا  کے استعمال  پر پابندی تو جیسا کہ میں پہلے بھی کہا  ہے ممکن نہیں لیکن اس سے پہنچنے والے  نقصان کے سد باب کے لئے حکمت عمل سے کام لے کر اس کے چیلنجز کا مقابلہ ضرور کیا جاسکتا ہے ۔  اس کی تباہیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ  اپنے انسانی وسائل کو ایسٹ سمجھا جائے اور اسی میڈیا کے زریعے سے ان کے اندر ہنر کو سیکھنے کا شوق پیدا کیا جائے اور ان کو تیار کرکے ان کو دینا کے وسائل کے ساتھ روشناس اور رسائی کو ممکن بنایا جائے تاکہ وہ اس کے استعمال سے اپنی اور ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں اور اس طرح  نہ صرف ان کی سوچ بدلے گی بلکہ اس سے ان کے فصول وقت جس کو وہ منفی سرگرمیوں میں استعمال کررہے ہیں کا بھی استعمال مثبت سمت میں ہوکر قوم و ملک کی توانائی ، وقت اور صلاحیتوں کو بچانے میں مدد ملے گی

    مزید عوام کے اندر شعور کو اجاگر کرنے کے لئے سوش میڈیا کے زریعے سے ایسے پروگرام  ترتیب دیئے جانے چاہیں جس سے ان کے اندر اچھے برے، سچ جھوٹ اورفائدے نقصان کو سمجھنے اور سوشل میڈیا کے استعمال سے پروپیگنڈا  کرنے والے کے مقاصد  اور عزائم کو سمجھنے کی اہلیت اور قابلیت  کو پیدا کیا جاسکے اور ان کو اس قابل بھی بنایا جائے کہ وہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور اس کو کس طرح سے شکست دینی ہے کے طریقہ کار کو بھی عام کیا جائے ۔

    حکومت اس کے لئے قوانیں بنا کر اس کی عملداری کو یقینی بنائے اور عوام کو یہ سہوت اور معلومات ہوں کہ انہوں نے اس طرح کی قوم و ملک کے خلاف پروپیگنڈا والے مواد کو کیسے  حکومت کو رپورٹ کرنا ہے اور  کیسے میڈیا کپنی کو ۔ ساتھ ہی شرپسند عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرکے  دوسروں کے لئے باز رہنے کے لئے مثال بھی بنانا پڑے گا مگر اس میں غیر جانبداری ، شفافیت ور ملکی سلامتی و فائدہ پیش نظر ہونا چاہیے نہ کہ انتقامی حسد کی  کوئی صورت ۔

    بدھ، 27 جولائی، 2022

    یہ اضطراب کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے

     

    آج وزیراعظم کے پارلیمان سے خطاب کے دوران ان کا انداز اور لہجہ انتہائی جارحانہ تھا اور وہ بار بار بھول بھلیوں کا مظاہرہ کرتے رہے اور اپنے آس پاس سے لقمے لیتے رہے بلکہ ایک دفعہ تو یہ بھی کہہ گئے کہ انہوں نے قانون نہیں پڑھا ہوا اور ان کے اردگرد بیٹھے لوگ قانون کو جانتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے رہیتے ہیں مگر میرے  دائیں بائیں سے گزر جاتی ہیں ۔ جس سے یقیناً قوم نے اچھا تاثر نہیں لیا ہوگا

    اسی طرح سے آج وزیر داخلہ نے گورنر راج کی صرف دھمکی ہی نہیں لگائی بلکہ یہ کہہ دیا کہ انہوں نے اس پر کام کرنا شروع کردیا ہے ۔ وہ ایک وکیل بھی ہیں اور ایک اہم عہدے پر تعینات ہیں جس کا ان کو خیال رکھنا چاہیے ۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ حکومتی وزراء کےعہدوں پرشخصیات کو ہمیشہ آراء کابینہ میں دینی چاہیں اور کابینہ کی توثیق کے بعد عوام میں بیان کرنا چاہیے ۔ میں انکو قانون سے غافل تو نہیں کہہ سکتا مگر معلوم ہوتا ہے کہ شائد ان کو آئین کو پڑھے ہوئے مدت ہوگئی ہے ۔ لہذا ان کو مشورہ ہے کہ آئین کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے بلکہ تمام وزراء ، مشیران اور ممبر پارلیمان کو بھی ہوسکے تو آئین کو پڑھنے کی تجویز دینی چاہیے ۔

    حکومت کے بیانوں سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی طوفان ہے جس کو وہ اپنی زبان پر لانے سے قاصر بھی ہیں اور اپنے انداز و بیان سے چھپا بھی نہیں پارہے ۔ یہ موجودہ سیاسی حالات بھی ہوسکتے ہیں جن میں ان کو مسلسل پریشیانی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے یا پھر کوئی ایسی بات بھی ہوسکتی ہے جو ان کو کسی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کررہی ہے ۔

    جیسا کہ آج نواز شریف نے بھی ایک دفعہ پھر اپنی انتخابات کی تجویز کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو کہا ہے کہ میں جلدی انتخابات کے حق میں ہوں اگر ادارے حکومت کو چلنے نہیں دے رہے تو پھر چاہیے کہ انتخابات میں جایا جائے ۔ اور دوسرے طرف عمران خان کا سکوت بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر مطمئن نظر آرہے ہیں ۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک نئی سیاسی بحث تو چھیڑ دی ہے مگر اس سے پی ڈی ایم کو جھٹکا ضرور لگا ہے اور تحریک انصاف کا وقتی طور پر مورال بہتر ہوا ہے مگر اس سے کسی کو بھی مستقل فائدہ پہنچنے کی توقع نہیں کیوںکہ اس وقت حکومت حاصل کرنا فائدہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ ملک کی معاشی حالت انتہائی پریشان کن ہے اور جو بھی حکومت سنبھالے گا اسے بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہوگااور ان میں کمزور کارکردگی سیاسی نقصان اٹھانے کے مترادف ہے ۔

    اسی طرح حکومتی میں شامل جماعت مسلم لیگ نوازشریف کے اپنے وزراء نے حکومت کے خلاف بولنا شروع کردیا ہے جو شائد یہ سمجھنےلگے ہیں کہ حکومت کچھ کر تو پا نہیں رہی اور سیاسی نقصان بہت زیادہ اٹھا رہی ہے اور الیکشنز اگر فوری نہ بھی کروائے جائیں تو ایک آدھ سال کا ہی معاملہ ہے اور ہر آنے والا دن ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرتا جارہا ہے لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو طول دینا ان کے حق میں نہیں ۔ انہوں نے چار سال مار بھی کھائی ہے اور اب نالائقیوں کا سارا بوجھ بھی اپنے اوپر لے لیا ہے ۔

    یا ہوسکتا ہے کہ ان کو کوئی سافٹ ٹچ کی پشینگوئیوں کی شنید نے پریشان کیا ہوا ہو ۔ بہرحال حکومت کو اپنے تاثر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی ساکھ کو بچانے کی بھی ۔ مسلم لیگ نے جو امیدیں وابسطہ کی ہوئی تھیں وہ خاک میں ملتی جارہی ہیں اور اگر مسلم لیگ کو سب برداشت ہے تو پھر کسی اور کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ۔

    سیاسی حالات سے اٹھنے والی نئی بحث

    موجودہ سیاسی حالات نے ایک نئی بحث شروع کردی ہے کہ سپریم کورٹ کے رولز میں ترامیم کی ضرورت ہے جس کے بارے صرف سیاسی حلقوں سے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی وکلاء برادری اور بار کونسلز نے بھی اس کی حمائت کرنا شروع کردی ہے بلکہ وہ تو پچھلے ایک سال سے اس محنت میں لگے ہوئے ہیں ۔ مگر ایک پارلیمان ہے کہ اس کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی ۔  

    اگر آج ہر کوئی اپنے اپنے اختیارات کا بے دریغ اختیار استعمال کر رہا ہے تو پارلیمان کو کیا کمزوری ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شعبہ زندگی سے آوازیں اٹھنے کے باوجود اس کی طرف توجہ نہیں دے رہے ۔

    یہ آوازیں صرف عوام ، سیاستدانوں اور پاکستان کی بارز کی طرف سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے اندر سے آوازیں اٹھ  رہی ہیں: جسٹس فائز عیسیٰ ایک نہیں ، دو نہیں بلکہ تین خط چیف جسٹس کے نام لکھ کر حکومت اور عوام کو باور کروا چکے ہیں کہ سپریم کورٹ میں انتطامی بدنظمی ہورہی ہے اور جس کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔

    اب پیپلز پارٹی کے مرکزی قائد فرحت اللہ بابر نے یہ تجویز دی ہے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کیا جائے جس پر دو بڑی سیاسی جماعتوں نے تائید کی ہے اور قانوں داں اس پر کھل کر اپنی آراء دے رہے ہیں ۔ جہاں تک کہ عرفان قادر نے تو دو دنوں میں اس پر عمل کرنے کی تجوی دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس کے لئے سادہ اکثریت چاہیے ہوتی ہے ۔

    جب جج خود ہی یہ کہنا شروع کر دیں کہ انہوں نے فیصلے پر بے دھیانی سے دستخط کر دئیے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلہ کو بدلیں مگر بدلنے کی پھر بھی جرات نہ کرسکیں تو پھر اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ معاملات کچھ غلط ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔ 

    پارلیمان کو آخر کمزوری کیا ہے ؟

    ایک تو کمزوری ان کی اپنی ہی زبانی ہے کہ ان کو اداروں کی طرف سے جیسا کہ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے مگر دوسری کمزوری مفاہمتی پالیسی بھی ہوسکتی ہے جس پر اپنے ہی ان کے لوگ بول رہے ہیں ۔ اور اتحادی جماعتوں میں سے بھی آوازیں آئی ہیں جن میں فضل الرحمن صاحب نے بھی شہباز شریف کو شرافت کا اشارہ دیا ہے ۔

    آج حکومت نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریویو کو واپس لے رہے ہیں اور اس ریفرنس میں ملوث کرداروں کے خلاف قانونی کاروائی کا بھی اعلان کیا ہے ۔

    یہ زبردستی کی خدمت میں آخر رکھا ہی کیا ہے ؟

    عوام مہنگائی سے سخت پریشان ہے اور حکومت سمجھتی ہے کہ اس کے ہاتھ  پاؤن بندھے ہوئے ہیں وہ ملک کی معیشت خطرات سے دوچار ہونے کے خدشات بیان کرتے ہوئے سخت فیصلوں سے اس کو سنبھالنے کی خوش خبریاں پیش کررہے ہیں مگر قوم کو اس پر شائد یقین نہیں آرہا اس لئے وہ بیانیوں کے پیچھے لگی ہوئی ہے تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ اتحادی جماعتوں کو کیا ضرورت ہے اس زبردستی کی خدمت کی جس میں سیاسی ساکھ ہی نہ رہے جس کے سہارے مستقبل کی منصوبہ بندیاں اور حکمت عملیاں نتھی ہیں ۔

    چھوڑیں یہ ضد اور تمام سب سڈیز کو واپس بحال کردیں ، چیزوں کی قیمتیں پہلی سطح پر لے جاکر عوام کو خطاب کریں اور جو رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان کو کہیں کہ خود حکومت کرلیں ۔  

    اور اگر حکومت کرنی ہی ہے تو پھر قانونی اصلاحات کے زریعے سے پارلیمانی بالادستی کے فیصلے کئے جائیں جو سادہ اکثریت سے ممکن ہیں اور آئینی اختیارات سے تجاوز کا جواب آئین کی زبان میں دیا جائے ۔ اس سے زیادہ موزوں وقت کیا ہوسکتا ہے جب وکلاء برادری  بھی ساتھ کھڑی ہے اور عدالتی فیصلے سخت نتقید کی زد میں ہیں ۔

    منگل، 26 جولائی، 2022

    سیاست کی بدگمانیاں اور انصاف کی بے اعتنائیاں

    جیف جسٹس صاحب نے فل کورٹ کے مطالبے کومسترد کردیا ہے جو سیاستدانوں پر بھاری گزر رہا ہے ۔ شکر نہیں کرتے کہ نظام انصاف اتنی سرعت کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ نہ دن دیکھتا ہے نہ رات ، نہ آگے دیکھتا ہے نہ پیچھے ۔ چار پانچ ججز قائد کے فرمان پرعمل کرتے ہوئے کام کر کر کے تھک چکے ہیں سارے کا سارا بوجھ اپنے اوپر لیا ہوا ہے اور اوپر سے باتیں بھی سننی پڑتی ہیں ۔ انہوں نے تھوڑا سا سوشل میڈیا دیکھنے کا اشارہ کیا دے دیا ہے اب عوام نے ٹرینڈ چلانے شروع کر دیے ہیں ۔ اب جج صاحب کا حوصلہ دیکھئے کہ انہوں نے پھر بھی محسوس نہیں کیا اور اپنی انصاف کی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف عمل ہیں ۔ باقی ججز چھٹیاں منا رہے ہیں اور انہوں نے ملک و نظام انصاف کو مونڈھا دیا ہوا ہے ۔

    بات تو سیاستدانوں کی ہے کہ وہ ساری عمر گزر گئی ہے آئین بناتے ہوئے کہ جمہوریت سیدھی ہو جائے وہ تو ان سے ہو نہیں پائی ۔ ایک طرف سے گڑھا نکالتے ہیں تو دوسری طرف پڑ جاتا ہے ۔ وہ آج تک کوئی ایسا قانون ہی نہیں بنا سکے جو واضح ہو یا سپریم کورٹ کو اس کی سمجھ آجائے ۔ خواہ مخواہ کا ججوں کو بھی پریشان کیا ہوا ہے ۔ وہ کسی ایک نقطے پر بڑی غور و فکر کرکے ایک فیصلہ دے چکتے ہیں تو نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے ۔ ان کو پھر سے غور و فکر کرنا پڑجاتا ہے ۔ ان کو سمجھ ہی نئی آتی کہ اب اس کا کیا کریں ۔ اگر پہلے والے کو بحال رکھتے ہیں تو مسئلہ اوراگر نئی تشریح کرتے ہیں تو مسئلہ ۔ اب وہ جج ہیں کوئی جرنیل یا سیاستدان تو نہیں کہ یو ٹرن لیتے پھریں ۔ اوپر سے فل کورٹ کا مطالبہ ، حد ہوگئی یار ۔

    تو کیا یہ ممکن تھا کہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو پوری کی پوری عدلیہ کےسامنے رکھ دیتے اور ان سے اس پر تبصرے سنتے رہتے اور وہ بھی آمنے سامنے ، انصاف کے سارے حساب برابر نہ ہوجاتے ۔ کیا انہوں نے یہ عہدہ اس دن کے لئے حاصل کیا تھا ۔ کوئی ان پر اعتماد کرے یا نہ کرے ان کو تو اپنے اوپر اعتماد ہے ناں ۔ اوروہ جو کررہے ہیں اپنے تئیں ٹھیک ہی تو کررہے ہیں ۔ انصاف کا یہ اصول اور تقاضہ بھی ہے کہ عدالتوں میں فیصلے کسی کی خوشی یا ناراضگی کے لئے نہیں کئے جاتے ۔ اگر اختیارات کو استعمال ہی نہ کرنا ہو تو پھر ان کا فائدہ ہی کیا؟

    پہلے تھوڑے ظلم ڈھائے جارہے ہیں ۔ کوئی ہم خیال کہتا ہے تو کوئی بینچ فکسر کے طعنے دیتا ہے ۔ اب یہ ان کا صوابدیدی اختیار ہے اور خیال کا ایک ہونا تو اتفاق کی بات ہے جو کوئی حسن اتفاق نہیں بلکہ انصافی اتفاق ہے جس کی عوام  اور سیاستدان دعائیں اور دوائیں کررہے ہیں ۔

    اب فیصلہ تو فیصلہ ہی ہوتا ہے اس کو ایک کلی جز کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ لوگ اس کو سیاق و سباق میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ قاضی فائز عیسیٰ اور شوکت عزیز صدیقی نے نظام انصاف کی مخبری کیا کردی سب کے سب عدالتوں کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں ۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے تو آج بھی بنچ کی تعیتاتی میں جلد بازی پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں مگر ان کی سنتا کون ہے وہ تو پہلے بھی تین خط اپنے برادر ہم منصب کو لکھ چکے ہیں جو چند قدموں کے فاصلے پرمگر سوچوں میں شائد کوسوں دوری پر ہوں ۔

    اب یہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس میں پرانی دقیانوسی والی باتیں گئیں ۔ کہ چرچ نے کیا کہا تھا یا خلفاء راشدین نے کہا ہے کہ ریاست کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے مگر ناانصافی کے ساتھ نہیں ۔ کوئی وٹس ایپ گروپس کا الزام لگاتا ہے تو کوئی ٹیلی فونک رابطوں کے ۔ کیا انصااف کی غرض سے مشوروں پر بھی چرچ نے یا خلفاء راشدین نے کوئی قدغن لگایا تھا ۔ یہ تو اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے کہ آپس میں یا کسی بڑے تجربہ کار سے مشورہ کرلیا جائے ۔ پہلے عدالتیں تکنیکی مسائل کے لئے ماہرین کو عدالت آنے کی تکلیف دیتی تھیں اور اب سوشل میڈیا کے زریعے سے مشورے کر لئے جاتے ہیں ۔ یہ بھی کوئی اعتراض والی بات ہوئی ۔

    بہرحال اللہ کے رسول  کے فرمان کو تو اہمیت دینی ہی ہوگی ۔ جس میں انہوں نے ججز کو تین درجوں میں رکھا ہے ایک وہ جو اہل نہیں ہوتے اور منصب انصاف پر بیٹھ جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو اہلیت تو رکھتے ہیں مگر انصاف کرنے میں غفلت کرتے ہیں اور تیسرے وہ جو اہلیت بھی رکھتے ہیں اور انصاف  بھی کرتے ہیں ۔ ایک اچھا گماں رکھتے ہوئے اگر دیکھیں تو ہماری اعلیٰ عدلیہ بھی کچھ اس ایک تہائی تقسیم میں تو دکھائی دے رہی ہے ۔ اب کون کس درجے کا ہے اور اس کے بارے کیا وعید ہے وہ تعیناتیوں میں مدد اور عمل کرنے والوں کو زیادہ اچھا معلوم ہوگا ہر کوئی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے ۔  

    اب سیاستدان عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کرنے لگے ہیں ۔ کبھی کسی سائل و مدعی نے یا مسئول علیہ اور مدعاعلیہ نہ بھی عدالتوں کے بائیکاٹ کئے ہیں اور وہ بھی حکومت میں شامل جماعتیں ۔ حیرت کی بات ہے ۔ کیا اس سے نظام انصاف اپنا فرض نبھانا چھوڑ دے گا ۔ کیا ان کوماضی بھول گیا ہے جب یوسف رضا گیلانی کو گھر بیھج دیا گیا تھا اور نواز شریف کو نا اہل کردیا گیا تھا ۔ وہ نظام عدل کو پرانی تاریخ دہرانے پر مجبور نہ کریں پہلے ہی عدالتوں میں بہت زیادہ مقدمات زیر التوا پڑے ہیں ۔ بس من و عن بات کو تسلیم کرتے جائیں ۔ جس کا کام اسی کو ساجھے اگر ان کو انصاف کا اتنا ہی پتا ہے تو پھر عدالتوں میں آتے ہی کیوں ہیں ۔ اپنے مسائل پارلیمان میں ہی حل کیوں نہیں کرلیتے ؟

    اب انکو رشتہ داریاں اور تعلقات بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ لگنے لگے ہیں تو جب وہ انہی کی بنیاد پر ججوں کو تعنات کیا کرتے تھے اس وقت نظام انصاف کا خیال نہیں تھا اب اسے مکافات عمل ہی سمجھ کر برداشت کیجئے ۔ کل اگر فیصلہ بائیکاٹ والوں کے حق میں آگیا تو کیا اس کو ماننے سے انکار کردیں گے ۔ مطالبات اور اعتراضات بھی ٹھوس بنیادوں پر ہونے چاہیں اور احتجاج کے پیمانے اور انداز بھی مناسب اور جائز ہی ہونے چاہیں ۔

    اگر فل بنچ کی درخواست خارج ہوئی ہے تو اس کے خلاف رولز کے مطابق ٹھوس شواہد کے ساتھ اپیل کی قانونی چارہ جوئی بنتی ہے وہ کرنی چاہیے نہ کی بائیکاٹ۔ پہلے بھی کچھ سیاستدان رات کو عدالت کھلنے پر اعتراض کر رہے تھے اور جب خود پر مشکل آئی تو رات کو ہی عدالت پہنچ گئے تھے اور کچھ تو دیواریں بھی پھیلانگتے رہے ۔

    کوئی مانے یا نہ مانے انصاف ڈنکے کی چوٹ پر بولے گا اور اس پرآمین کہنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوگی ۔ ویسےبھی نااہلوں کی کون سنتا ہے اگر بات سننی ہی ہو تو صادق و امین لوگوں کی سننی چاہیے جو اس کی اہلیت بھی رکھتے ہوں ۔

     

    میگزین