سوچ کی غذا

جمعرات، 22 اکتوبر، 2026

ہمارا جارحانہ اندازِ عدل اور عالی شان حسنِ اتفاق

بہاولپور کے حالیہ واقعے نے دل دہلا دیا۔ ایک معصوم، یتیم بچے پر جس بے دردی سے گاڑی چڑھائی گئی، اسے دیکھ کر روح کانپ اٹھی۔ پہلی نظر میں جب یہ سنا کہ گاڑی کا ڈرائیور یعنی ہمارا مابدولت ملزم، پولیس کی مہمان نوازی کے دوران ایک اچانک برپا ہونے والے مقابلے میں پار ہو گیا، تو دل کو بڑا سکون ملا۔ لگا کہ چلو، دنیا مکافاتِ عمل کی جگہ ہے، حساب برابر ہوا۔ ان درندوں کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔ لیکن جب دماغ پر آئین و قانون کی روشنی پڑی، تو کچھ ایسے اچھوتے سوالات نے سر اٹھایا جن کا جواب ڈھونڈنے نکلیں تو خود بندہ "فل فرائی" ہونے کا خطرہ مول لے بیٹھتا ہے۔

قانون کی موٹی موٹی کتابیں، جنہیں پڑھ پڑھ کر ہمارے معزز جج صاحبان کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے، وہ کچھ اور ہی اندازِ انصاف بتاتی ہیں۔ قانون کہتا ہے کہ اگر ملزم ہاتھ آ جائے تو اس کا بیان لو، جج کے سامنے پیش کرو، وکیل صفائی کو جرح کا موقع دو اور سو گنہگار بے شک چھوٹ جائیں, کسی ایک بے گناہ کو سزا نہ ہو۔ یعنی ہمارے قانون سازوں نے معافی کو سزا پر ترجیح دی ہے۔ اب عدالتوں کی یہ "نرم دلی" اور پروسیجر کی وہ گنجلک پیچیدگیاں عدل کے ترازو کا توازن بگاڑتی دکھائی دینے لگتی ہیں، جس سے غریب مدعی کو جیتے جی مر جانے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ انصاف پانے کا خرچہ اور وکیلوں کی فیسیں دیکھ کر مدعی خود کو ملزم سے بڑا گنہگار سمجھنے لگتا ہے۔

اس پورے قانونی تھیٹر کا سب سے خوبصورت منظر وہ ہوتا ہے جسے ہم "خانہ پری والے گواہ" کہتے ہیں۔ اب جب نظام کا خوف ایسا ہو کہ کوئی سچا آدمی گواہی کی مشقت اٹھانے کو تیار نہ ہو، تو مقدمے کا پیٹ بھرنے کے لیے ایسے گواہ لائے جاتے ہیں جن کا سچ سے اتنا ہی تعلق ہوتا ہے جتنا ہمارے اسمبلی ممبران کا عوامی مفاد سے۔ معاشرے کے ہر سمجھدار فرد، بشمول وکلاء برادری کی پہلی اور آخری ترغیب یہی ہوتی ہے کہ "بیٹا، سب کچھ کرنا مگر جج کے سامنے سچ بولنے کی غلطی نہ کرنا۔" اب جہاں سچ اور جھوٹ کے پیمانوں کو یوں بدل دیا جائے، وہاں ہمارے قانون ساز، جو اسمبلیوں میں بیٹھ کر صدیوں پرانے انگریز کے قوانین کو جدید بنانے کے بجائے اپنے "بلیو پاسپورٹ" اور مراعات کے بل پاس کرانے میں مصروف ہیں، بھلا اس زحمت میں کیوں پڑیں کہ انصاف کا کوئی کڑا معیار بنا دیا جائے؟ ایسے میں تو خود ان کی اپنی من مانیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

یہاں بات صرف ایک مقتول یا معصوم جان کی بے بسی، یا ایک درندہ صفت قاتل کی ہٹ دھرمی کی نہیں ہے؛ بلکہ معاشرے کے ہر یتیم خانے سے لے کر دارالامان تک، اور عدالتوں سے لے کر قانون ساز اسمبلیوں تک، ہمارے اکثریتی رویوں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی ہے۔ جب ہم بحیثیتِ مجموعی سچ کا ساتھ دینے اور اپنی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگتے ہیں، تبھی ایسے متبادل راستے جنم لیتے ہیں۔

چنانچہ، جب ہر طرف انصاف سے مایوسی اور بے بسی ہو، تو ہمارے وہ ادارے جو اس سست نظامِ عدل اور قانون سازی سے شدید بیزار ہوں، ان کا یہ نیا اور انتہائی "جارحانہ اندازِ انصاف" متعارف کروانا عوامی درد کے تناظر میں بجا ہی لگتا ہے۔ یہ وہ انصاف ہے جہاں عدالت جانے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی، بس ایک شاندار "حسنِ اتفاق" جنم لیتا ہے جس کی روداد بھی اتنی سحر انگیز ہوتی ہے کہ انسانی عقل تعجب کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ جیسا کہ مبینہ طور پر ملزم پولیس کی حراست سے، ہتھکڑیوں سمیت، چشمِ زدن میں فرار ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے نامعلوم مگر انتہائی وفادار ساتھی پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کر دیتے ہیں۔ تبادلہ فائرنگ کا یہ معرکہ اتنا سنسنی خیز ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے درجنوں راؤنڈ چلتے ہیں، مگر قسمت پر کس کا زور ہوتا ہے! گولی ہمیشہ صرف اسی زیرِ حراست ملزم کو لگتی ہے جسے پولیس بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہوتی ہے۔

لیکن ہمارا معاشرہ بھی کسی حال میں جینے نہیں دیتا۔ ہمارے بہادر پولیس افسران پر پھر یہ شک گزرتا ہے کہ انہیں اس پورے مقابلے میں محض "فرضی" خراشیں کیوں آئیں اور وہ بالکل محفوظ کیوں رہے؟ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ عوام فخر کرتے کہ اس نئے طرزِ انصاف کی کامیابی کی شرح سو فیصد ہے؛ کوئی غلطی نہیں، کوئی اپیل نہیں، کوئی وکیل نہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ "فوری انصاف" کا ماڈل اتنا ہی عالی شان اور کامیاب ہے، تو پھر ان بھاری بھرکم تنخواہوں والے ججز کو کیوں نہ گھر بھیج کر سرکاری خزانے کا بوجھ کم کر دیا جائے؟ جب فیصلہ سازی کا یہ متبادل نظام وجود پا ہی چکا ہے، تو عدالتوں پر تالے لگا دینے چاہئیں۔

مگر غم یہ کھائے جا رہا ہے کہ موجودہ کیس میں تو ملزم کی ویڈیو موجود تھی اور اس کے گناہ میں کوئی شک نہیں تھا، لیکن ڈر اس بات کا ہے کہ اگر کل کو عوام کا اعتماد عدالتوں کی طرح اس "تیز تر انصاف" سے بھی اٹھ گیا، تو پھر کیا ہوگا؟ اور اس سے بڑا ڈر یہ ہے کہ آج جس بندوق نے ایک سچے مجرم کو نشانہ بنایا، کل کو اگر ان بندوقوں کا اخلاق بدل گیا اور وہ کسی بے گناہ کو ذاتی دشمنی یا سیاسی پسند ناپسند کی بنیاد پر نشانہ بنانے نکل پڑیں، تو اس جارحانہ اندازِ عدل کے عقب میں چھپا معاشرتی بگاڑ جب سامنے آئے گا، تو عوام کس کے پاس جائیں گے؟

خدشہ تو یہ بھی جنم لے سکتا ہے، جیسا کہ ملزم کا آخری بیان تھا کہ وہ تو بس گاڑی آگے کھڑی کر کے مظلوم بچے کو روکنا چاہتا تھا اور غلطی سے ٹکر لگ گئی۔ اگر یہ لغزش واقعی سچ تھی، تو اس کے سچ اور جھوٹ کے کتنے ہی حقائق اس مبینہ مقابلے کی دھول میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے۔ خیر، اگر عوام اور مقتدر حلقوں کو انصاف کا یہی انداز پسند ہے، تو ہماری دعا ہے کہ اللہ اس نئے نظام کو کسی کی نظرِ بد سے بچائے۔ ورنہ سچ تو یہ ہے کہ یہ جارحانہ انصاف، انصاف کی فتح نہیں بلکہ ہمارے پورے ریاستی نظام کی بے بسی کا سب سے بڑا حقیقی سچ ہے، یا یوں کہہ لیں کہ ہمارے معاشرے کے لیے جارحانہ اندازِ عدل کا یہ میٹھا زہر ہے۔ لیکن کاش! کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم انصاف کے اس متبادل نظام کے بجائے، اپنے اصل نظامِ انصاف کو ہی توازن پر لے آتے۔

پبلشڈ آن ہم سب

میگزین