اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ پاکستان کے سامنے ایک انقلابی تجویز پیش خدمت ہے: ملک میں ایک "نیشنل انٹلیکچوئل یونیورسٹی" (National Intellectual University - NIU) یا کسی موجودہ نامور یونیورسٹی کے اندر ایک خصوصی فیکلٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یہ ادارہ روایتی امتحانات اور رٹہ سسٹم سے ہٹ کر، صرف اور صرف انسان کے عملی تجربات، لائف اسکلز اور اختراعی آئیڈیاز کی بنیاد پر تعلیمی اسناد اور کریڈٹ آورز (Credit Hours) جاری کرے۔ اگر یہ قدم اٹھا لیا گیا، تو دنیا بھر میں پاکستان اس منفرد تعلیمی ماڈل کا "پائنیر" یعنی بانی بن کر ابھرے گا۔
اس انٹلیکچوئل پروگرام کا بنیادی فریم ورک انتہائی جامع ہونا چاہیے۔ اگر کسی شخص کے پاس روایتی تعلیم نہیں ہے لیکن وہ کسی فنی شعبے میں برسوں کا تجربہ رکھتا ہے یا اس نے کوئی کارآمد ایجاد کی ہے، تو یونیورسٹی کی ایک خصوصی کمیٹی اس کی صلاحیت کا سائنسی اندازہ لگائے۔ اس کے اس تجربے کو باقاعدہ تعلیمی کریڈٹ آورز میں تبدیل کیا جائے اور جیسے ہی وہ کریڈٹ آورز مطلوبہ حد کو چھوئیں، اسے اعلیٰ سطح کی ڈگری جاری کر دی جائے۔ اس عمل میں شفافیت اور تیزی برقرار رکھنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں اسکریننگ اور پیرامیٹرز کا تعین AI کرے اور حتمی فیصلہ ماہرین کی کمیٹی پر مبنی ہو۔
اس یونیورسٹی کا ایک اور اہم ترین پہلو "برجنگ ماڈل" ہوگا۔ یہ ادارہ رسمی تعلیم یافتہ طبقے (جنہیں ریسرچ اور تعلیمی اصطلاحات پر عبور ہے) اور غیر رسمی دیسی ماہرین (جن کے پاس عملی ہنر ہے) کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کرے گا۔ جب یہ دونوں طبقات ایک مشترکہ ماحول میں مل کر کام کریں گے، تو صلاحیتوں اور علمی خزانوں کے ملاپ سے حقیقی معنوں میں انقلابی تبدیلیاں جنم لیں گی۔
اس پروگرام کا دائرہ کار صرف سائنس اور ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ادبی اور سماجی میدان کو بھی اس کا حصہ بننا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے شعرا، ادیب، مصلحین اور مبلّغین موجود ہیں جن کے پاس روایتی اسناد نہیں ہیں، مگر ان کے افکار، تحریروں اور تقاریر سے حسنِ معاشرت کو فروغ ملا ہے اور انہوں نے قومی سطح پر پالیسی میکنگ کو متاثر کیا ہے۔ ایسے افراد کے کام کے شواہد (مثلاً آن لائن تعلیمی و موٹیویشنل مواد یا تحاریر) کو پرکھ کر انہیں اعزازی طور پر 'پروفیسر'، 'ڈاکٹریٹ' یا 'سر' کے خطابات اور اسناد سے نوازا جانا چاہیے۔
ایک اور اچھوتا پہلو ہمارے ملک میں موجود موروثی اور دیسی علم کا تحفظ ہے۔ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ، بشمول خانہ بدوش ثقافت، نسلوں سے منتقل ہونے والے قیمتی علم کا امین ہے۔ ان کے پاس دیسی علاج، موسمیاتی بچاؤ، بقا کی حکمتِ عملیوں (Survival Strategies) اور ثقافتی تاریخ کا ایسا خزانہ ہے جو کسی کتاب میں درج نہیں۔ یونیورسٹی کے باقاعدہ طلبہ کو یہ ٹاسک دیا جائے کہ وہ اس موروثی علم کو ریسرچ کی شکل میں اکٹھا کریں اور اس کے بدلے طلبہ کو کریڈٹ آورز دیے جائیں۔ یوں یہ دیسی علم ضائع ہونے سے بچ جائے گا اور ملکی ترقی کے دھارے میں شامل ہو سکے گا۔
محض اسناد دینا کافی نہیں ہوگا، یہ یونیورسٹی انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس (IPR) کے تحت ہر موجد کے آئیڈیا کو قانونی تحفظ فراہم کرے گی تاکہ کوئی ان کا آئیڈیا چوری نہ کر سکے۔ مزید برآں، سالانہ نمائشوں (Exhibitions) کے ذریعے ان نوجوانوں کے ماڈلز کو انڈسٹری اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا، اور یونیورسٹی کی سفارش پر حکومت ایسے قابلِ عمل آئیڈیاز کے لیے خصوصی فنڈز جاری کرے گی۔
اگر حکومتِ پاکستان اس وژن کو اپنا کر ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کرتی ہے، تو یہ نہ صرف نوجوانوں میں ذہنی استعداد اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ ابھارے گا، بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دے گا۔ وزیرِ اعظم پاکستان، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے افرادی قوت کے ضائع ہوتے ہوئے بارود کو قومی ترقی کے تعمیری کام میں لا سکیں۔
شائع ہم سب 1 نومبر 2026
