انسانی سوچ کا ارتقا بھی اسی ضرورت سے شروع ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے انسان کا شعور ترقی پاتا ہے، اس کے مفاد کا دائرہ کار بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی ذات سے نکل کر پوری انسانیت کے فائدے تک پھیل جاتا ہے۔ اب جس "راز" کی بات میں کرنے جا رہا ہوں، وہ بھی اسی کائناتی فلسفے کی بنیاد پر ہے۔ کسی بھی نظریے کے پیچھے جو انسانی سوچ و بچار کا عمل (Thinking Process) ہوتا ہے، وہی دراصل انسانی عمل کو تحریک دیتا ہے۔
جب یہ طے ہو گیا کہ انسان کو سب سے زیادہ اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے، تو اسی بنیاد کو لے کر آگے چلتے ہیں اور خود سے ایک سوال کرتے ہیں: انسان کے لیے سب سے بہتر نفع یا مفاد کیا ہو سکتا ہے؟
میرا ذاتی خیال ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑا فائدہ "روشنی" ہے، جو اسے شعور کی بنیاد فراہم کرتی ہے، اسے راستہ دکھاتی ہے اور سوچنے کی اساس بنتی ہے۔ اگر ہم اس روشنی کو نفع یا مفاد کی علامت مان لیں، تو یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہر طرف پھیل جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ روشنی کی یہ خاصیت ہے کہ اس کا ماخذ (Source) جتنی بلندی پر ہوگا، اس کا دائرہ اثر بھی اتنا ہی وسیع ہوگا۔ کائنات میں روشنی اور توانائی کا سب سے بڑا ماخذ سورج ہے، جو اپنی بلندی کے حساب سے پوری کائنات کو ایک طے شدہ ڈیزائن کے تحت بے لوث نفع پہنچا رہا ہے۔ سورج کا یہ عمل ہمیں بھی یہ ترغیب دیتا ہے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا اصل طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔
اب آتے ہیں براہِ راست اس عظیم راز کی طرف۔ میں نے ایک جگہ پڑھا کہ: "سب سے بہتر انسان وہ ہے جس سے دوسرے انسانوں کو نفع پہنچ رہا ہو۔"
میں نے اس جملے پر بہت غور کیا اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا میں حقیقی انقلاب لانے اور اس زمین کو ایک مثالی جگہ بنانے کا راز اسی ایک جملے میں چھپا ہوا ہے۔ اگر ہم لفظ "منافع" یا "نفع" پر غور کریں، تو عام معنوں میں اسے 'بنیفٹ' کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ایک سطحی سا ذہن بھی اس پر سوچے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نفع ہمیشہ اصل لاگت پر اضافے (Value Addition) کی صورت میں ہوتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی نفع وہ ہے جو بے لوث ہو۔
اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول پر غور کریں، تو ہر کوئی اپنے مفادات اور ضروریات کی تکمیل کے لیے دن رات تگ و دو کر رہا ہے تاکہ اس کی زندگی آسان ہو سکے۔ دنیا کے موجودہ سوشل، اکنامک اور پولیٹیکل نظام انسان کی اسی ضرورت کے گرد گھومتے ہیں۔ اس وقت دنیا پر قابض سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے ہر شے کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے، جس کا محور صرف اور صرف اپنی ذات کا مادی مفاد ہے۔ لیکن اس انقلابی راز کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ انسانی مفاد کے رخ (Direction) کو اپنی ذات سے موڑ کر دوسرے انسانوں کی طرف کر دیتا ہے۔
کوئی بھی کام انسان سے اس کی آزاد مرضی اور یقین کے بغیر نہیں کروایا جا سکتا۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب عمل کے پیچھے موجود سوچ کو منطق کی بنیاد پر بدلا جائے۔ راز اصل میں کسی بھی فلسفے کے پیچھے چھپی وہ حکمت ہوتی ہے جو جب سمجھ آ جائے، تو انسان کی فطرت اسے عمل پر مجبور کر دیتی ہے۔
آئیے اس راز کو ایک بہت ہی آسان پہلو سے سمجھتے ہیں۔ اگر دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں سے ہر شخص اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے، تو کیوں نہ اس کی ڈائریکشن کو بدل کر "دوسرے انسان" کو اس کا مرکز بنا دیا جائے؟
جب مرکزِ نگاہ اپنی ذات کے بجائے پوری انسانیت بن جائے گا، تو انسان ایک روشن منبع (Surce of Light) بن جائے گا۔ وہ اپنی صلاحیتوں سے حاصل ہونے والے نفع کو پوری انسانیت تک پھیلانے کی کوشش کرے گا۔ پھر اس نفع کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے لیے وہ خود کو علم، اخلاق اور مرتبے میں "بلندی" پر لے جانے کی جدوجہد کرے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس عمل میں مستفید وہ خود بھی ہو رہا ہوگا، مگر اب اس کی ذاتی بلندیوں کا مقصد اس کی ذات نہیں بلکہ پوری انسانیت ہوگی۔
اب ذرا اس کا حتمی نتیجہ دیکھیے۔ جب ہر انسان کی سوچ اس طرح بدل جائے گی، تو عملی طور پر دنیا میں کیا منظرنامہ بنے گا؟ جب دنیا کا ہر فرد دوسرے انسان کے نفع کو اپنا مقصد بنا لے گا، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عملی طور پر دنیا کی پوری آٹھ ارب آبادی آپ کے نفع اور فائدے کا سوچ رہی ہوگی! یہ ہے وہ اصل راز اور فارمولا جو دنیا میں حقیقی اور پائیدار انقلاب لا سکتا ہے۔
میں نے اس موٹیویشنل راز کو محمد رسول اللہ ﷺ کی ان تعلیمات سے پایا ہے، جو قرآن کی صورت میں ایک عظیم علمی مجموعہ ہے۔ اس علم کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والے انسان، محمد ﷺ کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ان کا ذاتی علم نہیں بلکہ کائنات کے خالق نے انسانیت کی بھلائی کے لیے انہیں عطا کیا ہے۔ وہ لازوال جملہ کچھ اس طرح ہے:
"خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُ النَّاسَ"
(سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔)
اس انقلابی راز کے کئی اور پہلو بھی ہیں جن پر ہم گاہے بگاہے غور کرتے رہیں گے۔ اگلے مضمون میں ہم اس بات پر بحث کریں گے کہ کیا موجودہ مادی دنیا کے چیلنجز میں اس نظام کا عملی نفاذ ممکن ہے؟ اور اگر یہ مثالی صورت پوری طرح نافذ نہ بھی ہو، تو اس مقصد پر اچھی نیت کے ساتھ عمل کرنے والے فرد کو ذاتی طور پر کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
