پاکستان میں موبائل سروسز کی کیفیت انتہائی ناقص ہے، بالخصوص انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے مترادف ہو چکی ہے۔ صبح کے اوائل میں جب نیٹ ورک پر بوجھ کم ہوتا ہے تو سروس کسی حد تک بہتر چلتی ہے، لیکن جیسے ہی صبح کے ۱۰ یا ۱۱ بجتے ہیں، براؤزنگ تقریباً ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال نے صارفین کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔
آج کے دور میں موبائل فون صرف باہمی رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ روزمرہ زندگی، کاروبار، روزگار، تعلیم اور بینکاری کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ ایسے میں عوام کا سب سے بڑا اور بجا سوال یہ ہے کہ جب ٹیلی کام کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے کا منافع کما رہی ہیں تو آخر نیٹ ورک کی کوالٹی میں سدھار کیوں نہیں لایا جا رہا؟
