کامیاب انسانی ماڈل

انسانی تاریخ کی ساری کی ساری سوچ و بچار جس ہستی (محمد ﷺ) کو آج بھی دنیا میں سب سے پر اثر شخصیت مانتی ہے اس کی پیروی کرنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ میرے خیال میں تو کامیاب انسانی ماڈل کی اس سے بڑی کوئی دلیل ہو نہیں سکتی۔

سوچ کی غذا

پیر، 2 نومبر، 2026

مولانا کو سنجیدہ لیتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کو قومی توانائی بنایا جائے

پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جسے کلمہِ طیبہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے کا تاریخی شرف حاصل ہے۔ اگرچہ ہمارے مذہبی حلقوں میں فکری اور مسلکی اختلافات فرقہ واریت کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس سے ملکی و عالمی سطح پر پاکستان کے مذہبی تشخص کو نقصان پہنچا ہے، مگر اس کے باوجود عوام کے دلوں میں اسلام کی محبت ہماری سیاست کی روح ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت ہر دور میں اس قومی و ثقافتی فضا سے متاثر رہی ہے۔

مارشل لا کے ادوار ہوں یا جمہوریت کی بہاریں، ملکی سیاست پر مذہبی اثرات ایک حقیقت رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب ہمارا آئین اور ثقافت ہے، جن کی رو سے قرآن و سنت ہمارے سیاسی و قانونی نظام کی اساس ہیں اور عالمی برادری میں ہماری شناخت کا ذریعہ بھی۔

ہماری دفاعی پالیسیوں سے لے کر فلاحی اور قومی ترقی کے منصوبوں تک، مذہبی حلقوں کا ایک اہم اور نمایاں کردار رہا ہے۔ اگرچہ ملک میں نظامِ تعلیم کی تفریق ایک المیہ ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آبادی کے ایک بہت بڑے طبقے کی فکری و اخلاقی تربیت روایتی مذہبی اداروں (مدارس) کے مرہونِ منت ہے۔

اس مذہبی فکر کی نمائندگی ہر دور میں کسی نہ کسی صورت ہماری پارلیمان کا حصہ رہی ہے۔ اس فکر کو سیاسی قیادت فراہم کرنے کے لیے ریاستی اور عوامی سطح پر مسلسل کوششیں ہوتی رہی ہیں، اور مذہبی اتحادوں کے چھتر تلے سیاسی تبدیلی کی تحریکیں ہمیشہ متحرک رہی ہیں۔ تاریخ کے صفحات پر پاکستان قومی اتحاد (PNA) اور متحدہ مجلس عمل (MMA) جیسے اتحاد اس کی واضح مثالیں ہیں، جنہوں نے نہ صرف ملکی سیاست کو متاثر کیا بلکہ آئینِ پاکستان میں اسلامی ترامیم کی راہ بھی ہموار کی۔

تاریخی طور پر اسٹیبلشمنٹ نے بھی قومی و دفاعی پالیسیوں کے تزویراتی (Strategic) مقاصد کے حصول کے لیے اس فکری طاقت کا استعمال کیا۔ جہادی تنظیموں کے پیچھے کارفرما فکر ہو یا نچلی سطح پر سماجی خدمت کا نظام، ہمارا روایتی مذہبی اور فلاحی ڈھانچہ اس کا ایندھن بنتا رہا ہے۔

سیاسی میدان میں اس فکر کی قیادت ماضی میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا کوثر نیازی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مفتی محمود اور بعد ازاں ڈاکٹر طاہر القادری جیسے رہنما کرتے رہے۔ مگر حالیہ دہائیوں میں اس فکر کو جس سیاسی جرات اور بصیرت نے زندہ رکھا ہوا ہے، وہ مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت ہے۔

ایم ایم اے کے انتشار کے وقت جب بیشتر مذہبی جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا راستہ اپنایا، تو مولانا فضل الرحمٰن کا موقف تھا کہ جمہوریت میں بقا اور اثر و رسوخ کے لیے پارلیمانی عمل سے جڑے رہنا ناگزیر ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ ان کا یہ فیصلہ صائب تھا، اور وہ مسلسل پارلیمان کا حصہ رہ کر مذہبی طبقے کی موثر نمائندگی کرتے رہے۔

آج اگر پاکستان کے مذہبی سیاسی حلقے میں کوئی سب سے توانا، مدبر اور پرتاثر سیاسی آواز موجود ہے تو وہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ ان کے سیاسی دوست اور حریف دونوں انہیں "سیاست کا شاہسوار" تسلیم کرتے ہیں۔ وہ پارلیمانی اور عوامی فورمز پر دلیل کی طاقت سے مخالفین کو قائل کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ دینی مدارس کے تحفظ اور مذہبی حقوق کی پاسداری کے لیے انہوں نے ایوان اور سڑک دونوں جگہوں پر بھرپور آواز اٹھائی ہے۔

اگرچہ مذہبی طبقے میں فکری تنوع اور معتدل رویوں کے حامل افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ایک بڑا طبقہ آج بھی پرانی روایتی مذہبی یکجہتی کا خواہا ہے۔ مولانا کے پاس وہ سیاسی بصیرت اور تدبر موجود ہے جس کے ذریعے وہ اس بکھری ہوئی طاقت کو ایک منظم قومی قوت میں بدل سکتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ مولانا فضل الرحمٰن اگر اقتدار کے ایوانوں تک نہ بھی پہنچیں، تو وہ ملک میں ایک پرامن اور جاندار مزاحمتی تحریک برپا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔


اصلاحی لائحہ عمل اور باہمی تقاضے

۱۔ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری:

سنجیدہ مذاکرات: حکومت اور ریاست کو چاہیے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کا آغاز کرے۔

تحفظات کا ازالہ: ان کے جائز سیاسی اور مذہبی تحفظات کو دور کیا جائے تاکہ ان کی مدبرانہ صلاحیتوں کو قومی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔

قومی اتحاد و یگانگت: اگرچہ وہ ٹیکنو کریٹک یا تکنیکی امور کے ماہر نہیں، لیکن عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے، مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے اور بکھری ہوئی قومی و مذہبی توانائیوں کو ایک نقطے پر جمع کرنے میں ان کا کردار کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔


۲۔ مولانا فضل الرحمٰن کی اخلاقی و قومی ذمہ داری:

اعلیٰ اخلاقی و جمہوری رویے: مولانا کو چاہیے کہ وہ اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کرتے وقت اعلیٰ اخلاق، جمہوری ثقافت اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کریں۔ ان کے ہر اقدام اور بیانیے سے خالصتاً عوامی و قومی تاثر نمایاں ہونا چاہیے۔ اپنے معترض جملوں پر قوم کو وضاحت دینی چاہیے۔

آئینی راستے کا انتخاب: اگر انہیں ریاستی اداروں سے کوئی گلہ یا تحفظات ہیں، تو انہیں آئینی، قانونی اور باوقار طریقوں سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ملک دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی: ان کی گفتار اور حکمتِ عملی میں ایسی احتیاط ہونی چاہیے کہ ان کا موقف یا آواز کسی بھی صورت ملک دشمن طاقتوں کے مفادات کو توانائی دینے کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔

حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو اپنے حقوق کا تقاضا کرتے ہوئے ریاست اور قوم کے وقار کو مقدم رکھتی ہے، اور یہی وہ واحد راستہ ہے جو ملک میں پائیدار سیاسی و مذہبی استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

شائع ڈیلی اردو کالمز نومبر 2، 2026

میگزین