حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دنیا ایک نئے سماجی، معاشی اور فکری موڑ پر کھڑی ہے۔ فرانس میں ہفتوں سے جاری شدید عوامی احتجاج سے لے کر جرمنی میں نوجوانوں کے حالیہ لانگ مارچ تک، اور بنگلہ دیش میں طلبہ کی تحریک کے نتیجے میں آنے والے سیاسی انقلاب سے لے کر ہندوستان میں 'کاکروچ پارٹی' کے نام پر منظم ہونے والے نوجوانوں کے اثر و رسوخ تک—یہ تمام واقعات کسی عام بے چینی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری اور ہمہ گیر تبدیلی کا پیش خیمہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر یہ سوال اٹھنا فطری ہے: کیا فطرت خود عالمی سطح پر ایک بڑے انقلاب کی راہیں ہموار کر رہی ہے؟
ان تمام تحریکوں میں پہلی مشترک بات یہ ہے کہ یہ روایتی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے تلے نہیں اٹھیں، بلکہ زیادہ تر غیر سیاسی نوعیت کی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ان میں معاشرے کے غیر جانبدار طبقوں، بالخصوص نوجوانوں اور باشعور شہریوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ ان احتجاجوں کی بنیاد کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک "شعوری سوچ" ہے جس کا محور عوامی فلاح، انصاف، اور نوجوانوں کے محفوظ مستقبل کا تحفظ ہے۔
اس فکری خاکے کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پوری دنیا میں ایک "فطری مکافاتِ عمل" کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ مادی لالچ، سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، قدرتی وسائل پر طاقت کے بل بوتے پر غصب، اور غزہ جیسے عالمی بحرانوں میں اخلاقیات و انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں—ان سب نے مل کر نظامِ فطرت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ اب فطرت کے عدل کا تقاضا ہے کہ اس بگاڑ کو درست کیا جائے، اور انسان مصنوعی غلامی کے جال کو توڑ کر قدرتی وسائل کی صحیح اور منصفانہ تقسیم کی طرف بڑھے۔ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے اس شعوری بیداری کو پھیلانے میں ایک کلیدی محرک کا کردار ادا کیا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی کے کامیاب ترین انقلابات ہمیشہ پہلے انسانی سوچ اور شعور کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس کی سب سے عظیم اور لافانی مثال ابتدائی اسلامی تاریخ کا اخلاقی ماڈل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ کے تیرہ سالہ دور میں کسی مادی یا سیاسی انقلاب کے بجائے سب سے پہلے انسانوں کی "اخلاقی تربیت" اور "شعوری بیداری" پر توجہ دی۔ مکہ کی اس فکری اور ایمانی تیاری نے انسانیت کو اندر سے بدلا، جس کے نتیجے میں مدینہ منورہ میں ایک ایسی عملی اور مثالی تبدیلی قائم ہوئی جس نے رہتی دنیا تک کے لیے عدل و انصاف کا معیار مقرر کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک شعور اور اعلیٰ اخلاقیات کا نظام پہلے دلوں اور دماغوں میں نافذ نہ ہو، تب تک بیرونی دنیا میں کوئی پائیدار نظام قائم نہیں ہو سکتا۔
جدید تاریخ میں 1789ء کا انقلابِ فرانس اور 1776ء کا انقلابِ امریکہ بھی اس کی اہم مثالیں ہیں۔ ان انقلابات کے پیچھے محض مادی یا معاشی تنگدستی نہیں تھی، بلکہ والٹیئر، روسو اور تھامس جیفرسن جیسے مفکرین کے وہ نظریات تھے جنہوں نے انسانوں کو آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کا ایک نیا شعور دیا۔ آج دنیا میں ابھرتی ہوئی لہروں کے پیچھے بھی اسی طرز کا عکس دیکھا جا سکتا ہے، جہاں نوجوان اپنے حقوق اور مستقبل کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس مماثلت کی بنیاد پر یہ پیشین گوئی کی جا سکتی ہے کہ دنیا ایک بار پھر اسی طرز کے پائیدار اور شعوری انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تاہم، یہ تبدیلی کی لہر جہاں شعوری آگہی رکھنے والی قوموں کے لیے ترقی کا باعث بنے گی، وہاں کچھ غیر شعوری قومیں بھی اس کی زد میں آئیں گی جو دیکھا دیکھی اس انقلاب کو اپنانے کی کوشش تو کریں گی، مگر ان میں غیر جانبداری اور مفادِ عامہ کی سوچ مفقود ہوگی۔ ایسی قومیں اکثر انتہا پسندی اور خانہ جنگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کی واضح مثال ہمیں بیسویں صدی کی عرب اسپرنگ (Arab Spring) کی تحریکوں میں ملتی ہے، جہاں لیبیا اور دیگر عرب ممالک میں عوام روایتی آمریتوں سے تنگ آ کر سڑکوں پر تو نکل آئے، لیکن متبادل شعوری ڈھانچے، اخلاقی پختگی اور فکری اتحاد کی کمی کے باعث وہ انقلابات بدترین انتشار کی دلدل میں دھنس گئے۔
اس تناظر میں جب ہم پاکستان کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں، تو صورتحال تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے ابھی تک وہ شعوری سوچ پیدا نہیں ہو سکی جو شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر عوامی فلاح اور ملکی املاک کی اونرشپ (Ownership) کا احساس پیدا کرے۔ یہاں جب بھی انا اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر یا جانبدارانہ سوچ کے تحت تبدیلی لانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو فائدے کے بجائے مزید معاشی اور سماجی نقصانات کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
پاکستان کو اس عالمی فکری لہر سے مثبت انداز میں مستفید کرنے اور کسی بھی تخریبی حادثے سے بچانے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات ناگزیر ہیں:
1. تعلیمی یکسانیت اور اخلاقی تربیت: ملک میں رائج طبقاتی تعلیمی نظام کا خاتمہ کر کے یکساں نصابِ تعلیم اور یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاقیات، کردار سازی اور ملکی وسائل کے تحفظ کا شعور ہونا چاہیے—بالکل اسی طرح جیسے تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور میں تربیت کو تعلیم پر مقدم رکھا گیا تھا۔
2. ہنر مندی اور عملی زندگی کا تجربہ: نوجوان طبقے کو روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ہنر (Skills) کی طرف راغب کیا جائے۔ جب نوجوان عملی زندگی کی معاشی حقیقتوں کا تجربہ حاصل کر کے خود کفیل بنتا ہے، تو اس میں وہ سیاسی سوجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے جس کے بعد وہ مخلص قیادت اور محض "دھوکہ دہی" کرنے والے سیاست دانوں میں واضح فرق کر سکتا ہے۔
3. عملداری میں شراکت داری: نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں اسٹوڈنٹ کونسلز اور نچلی سطح پر بلدیاتی نظام کا حصہ بنایا جائے، تاکہ وہ فارغ رہنے کے بجائے ترقی کے نظام کا حصہ بنیں اور پرامن و تعمیری احتجاج کا سلیقہ سیکھیں۔
عالمی سطح پر فطرت کی لائی ہوئی تبدیلی کی یہ لہر ایک اٹل حقیقت ہے۔ پاکستان کے پاس اب مزید جذباتی سیاست یا شخصیت پرستی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ہمیں ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف بڑھنا ہے، تو قومی سطح پر عوام میں وہ شعوری آگہی پیدا کرنی ہوگی جس کی بنیاد پرامن احتجاج، اعلیٰ اخلاقیات، غیر جانبداری اور خالصتاً مفادِ عامہ پر ہو، تاکہ ملک کو کسی بھی انتشار سے بچا کر ایک حقیقی اور فائدہ مند تبدیلی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
شائع ہم سب نومبر 2، 2026
