کامیاب انسانی ماڈل

انسانی تاریخ کی ساری کی ساری سوچ و بچار جس ہستی (محمد ﷺ) کو آج بھی دنیا میں سب سے پر اثر شخصیت مانتی ہے اس کی پیروی کرنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ میرے خیال میں تو کامیاب انسانی ماڈل کی اس سے بڑی کوئی دلیل ہو نہیں سکتی۔

سوچ کی غذا

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

🎁 سپر پروٹوکول: کائنات کا سب سے لاڈلا مہمان!


پیارے بچو! پچھلی کہانی میں ہم نے جانا تھا کہ یہ پوری کائنات دراصل ایک انوکھی داستانِ محبت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف اپنے خاص مہمان یعنی انسان کے لیے سجایا ہے۔ سورج، چاند، تارے، اور زمین کے سارے خزانے آپ ہی کے لیے تو بنائے گئے ہیں!

لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا؟ جب ایک چھوٹا سا بچہ اس دنیا میں تشریف لاتا ہے، تو وہ اتنا معصوم اور بے بس ہوتا ہے کہ نہ تو خود چل سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی کائنات کے ان خزانوں کو خود تلاش کر سکتا ہے۔

تو پھر کائنات کے سچے رب نے اپنے اس ننھے مہمان کے لیے کیا انتظام کیا؟ اس نے انسان کی فطری ساخت (Design) کے اندر ہی بچوں کے لیے ایک ایسا "سپر پروٹوکول" اور شاہی وی آئی پی (VIP) درجہ رکھ دیا، جس کی مثال پوری کائنات میں نہیں ملتی! آئیے اس داستانِ محبت کا ایک اور جادوئی راز دیکھتے ہیں:

ایک چھوٹا بچہ دنیا میں آتے ہی اپنی خوراک خود نہیں بنا سکتا۔ لیکن اللہ میاں کا کمال دیکھیے! انہوں نے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی پیاری ممی کے جسم میں میٹھے اور لذیذ دودھ کا چشمہ جاری کر دیا۔ یہ دودھ کسی مادی فائدے یا پیسوں کا محتاج نہیں ہوتا۔

صرف یہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے ممی اور پاپا کے دلوں میں ایک جادوئی سافٹ ویئر انسٹال کر دیا ہے، جسے "شفقت اور محبت" کہتے ہیں۔ اس محبت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جب بچہ رات کو روتا ہے، تو ممی پاپا اپنی پیاری نیند چھوڑ کر مسکراتے ہوئے اسے گود میں اٹھا لیتے ہیں۔ یہ شفقت ہی وہ خوبصورت ماحول ہے جو بچے کو دنیا میں سب سے محفوظ رکھتا ہے تاکہ اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ نے بچوں کو صرف لاڈلا ہی نہیں بنایا، بلکہ ان کے اندر ایک بہترین "سائنسدان" بھی چھپا دیا ہے۔ بچے دنیا میں آنے کے پہلے دن سے ہی اپنے آس پاس کے رویوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔

جب بچہ ممی پاپا کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھتا ہے تو وہ بھی مسکرا دیتا ہے۔ بچوں کے اندر سیکھنے کی ایک تڑپ، ایک پیاس اور علم کی جستجو فطری طور پر رکھ دی گئی ہے۔ بچوں کا ہر بات پر یہ پوچھنا کہ "یہ کیوں ہے؟" اور "وہ کیسے ہوا؟" دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ کائنات کا خالق انہیں بہت ذہین اور اعلیٰ اخلاقیات والا انسان بنانا چاہتا ہے۔

سوچیے! بڑے لوگوں کو کتنے کام کرنے پڑتے ہیں، نوکری کرنی ہوتی ہے، گھر کے سودا سلف کا حساب رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن بچوں کے پروٹوکول کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بچوں کو بڑے ہونے (بلوغت) تک ہر طرح کی مادی اور عملی ذمہ داریوں سے بالکل آزاد کر دیا ہے!

یہاں تک کہ اللہ میاں نے اپنی سب سے بڑی عبادتیں (جیسے نماز اور روزہ) بھی بچپن میں فرض نہیں کیں۔ ہاں! جب بچے سات سے دس سال کے ہوتے ہیں، تو ممی پاپا انہیں پیار سے نماز کی عادت ڈالتے ہیں۔ یہ کوئی سختی نہیں ہے، بلکہ یہ تو عملی زندگی شروع ہونے سے پہلے بچوں کی سوچ اور عمل کو اللہ کے احکامات اور اس کی خوشنودی کے رنگ میں رنگنے کی ایک خوبصورت تیاری (Habit Formation) ہے۔

ہمارے پیارے رب نے بچوں کے آج کے ساتھ ساتھ ان کے آنے والے کل (مستقبل) کو بھی محفوظ بنایا ہے۔ الہامی قوانین نے ممی پاپا کی وراثت میں بچوں کا حصہ پکا کر دیا تاکہ انہیں کبھی مالی پریشانی نہ ہو۔

اور ہاں! اس پروٹوکول کا ایک بڑا ہی پیارا اصول ہے۔ جہاں ممی پاپا پر بچوں کی پرورش فرض ہے، وہاں بچوں کے اندر احساسِ ذمہ داری بیدار کرنے کے لیے اللہ نے بچوں پر بھی یہ فرض کیا ہے کہ جب ممی پاپا بوڑھے اور کمزور ہو جائیں، تو وہ ان کا سہارا بنیں۔ یہ محبت کا وہ خوبصورت دائرہ ہے جو خونی رشتوں کی کشش کے ذریعے پورے خاندان کو جوڑے رکھتا ہے۔

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کچھ بچوں کے ممی پاپا ان کی ضروریات پوری نہیں کر پاتے۔ تو کیا ان کا پروٹوکول ختم ہو جاتا ہے؟ بالکل نہیں!

فطرت کا قانون یہ ہے کہ اگر والدین قاصر ہوں، تو یہ ذمہ داری پورے معاشرے اور ریاست (حکومت) پر آ جاتی ہے کہ وہ ان بچوں کی تعلیم، صحت اور خوراک کا پورا خرچ اٹھائے۔ کیونکہ بچے کسی ایک گھر کا نہیں، بلکہ پورے ملک کا چمکتا ہوا ستارہ ہوتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت اچھی نہ ہو، تو اس کے اثرات سے پورا معاشرہ اداس اور متاثر ہو جاتا ہے۔

پیارے بچو! اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کائنات کے مالک، آپ کے ممی پاپا اور اس پورے معاشرے نے آپ کو اتنا بڑا پروٹوکول، اتنی محبت اور اتنی آزادیاں کیوں دیں؟ کیا یہ سب صرف لاڈ پیار کے لیے ہے؟

نہیں! اس شاندار پروٹوکول کے پیچھے ایک بہت بڑا اور خوبصورت راز چھپا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کائنات کا سب سے لاڈلا مہمان اس لیے بنایا ہے کیونکہ آپ کو مستقبل میں ایک بہت بڑا کام کرنا ہے!

اس پروٹوکول کا مقصد آپ کو تین بہت اہم باتیں سکھانا ہے:

1. اپنی پہچان (Who you are): آپ کوئی عام مخلوق نہیں ہیں۔ آپ اس کائنات کا شاہکار ہیں۔ آپ کے اندر عقل، شعور اور جادوئی صلاحیتیں اس لیے رکھی گئی ہیں تاکہ آپ اپنی قدر کو پہچانیں اور خود کو ایک عظیم انسان بنائیں۔

2. اپنے پیارے خالق کی پہچان (Knowing your Creator): جب آپ اپنے آس پاس محبت کا یہ خوبصورت نظام دیکھتے ہیں، تو آپ کا دل اپنے رب کے لیے شکر گزاری سے بھر جاتا ہے۔ آپ جان جاتے ہیں کہ آپ کا اللہ آپ سے کتنی محبت کرتا ہے، اور پھر آپ اس کی خوشنودی کے لیے بہترین کام کرتے ہیں۔

3. انسانیت کے سلسلے کو آگے بڑھانا (The Chain of Kindness): محبت اور پروٹوکول کا یہ جو سلسلہ آج ممی پاپا سے آپ تک پہنچا ہے، کل آپ اس کے محافظ بنیں گے۔ آپ مستقبل کے معمار (Builders) ہیں۔ کل جب آپ بڑے ہوں گے، تو آپ نے اس دنیا کو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت، پرامن اور محبت سے بھرپور بنانا ہے۔

پیارے بچو! چونکہ آپ کائنات کے فیوچر مینیجر ہیں، اس لیے آپ کو آج ہی سے اپنے اندر کچھ سپر پاورز (صلاحیتیں) پیدا کرنی ہوں گی جو آپ کو مزید احسن (بہترین) بناتی چلی جائیں:

• علم کی تلاش: ہر روز کچھ نیا سیکھیں، کتابیں پڑھیں اور غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیں۔

• اعلیٰ اخلاقیات کا لباس: اپنی زبان میں مٹھاس، رویے میں عاجزی اور دل میں دوسروں کے لیے تڑپ پیدا کریں۔

• سلسلہِ خیر: جہاں بھی جائیں، خوشیاں اور آسانیاں بانٹیں تاکہ انسانیت کا یہ خوبصورت کارواں یوں ہی چلتا رہے۔

یاد رکھیے! جو بچہ اپنے پروٹوکول کے اس مقصد کو سمجھ جاتا ہے، وہی بڑا ہو کر ستاروں پر کمند ڈالتا ہے اور اپنے خالق کا سچا نمائندہ بنتا ہے!

 

میگزین