سوچ کی غذا

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

مظاہر کی قید سے احسان کی دنیا تک

اس دنیا میں زندگی تو سبھی جی رہے ہیں اور کئی تو بڑے دھڑلے سے جی رہے ہیں، مگر کوئی کیا جی رہا ہے؟ یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے۔ میرا ایک مقولہ ہے کہ "کچھ لوگ نظرآتی دنیا جیتے ہیں اور کچھ نظریاتی جو باکمال ہوتے ہیں " جسے یوں سمجھئے کچھ لوگ صرف 'مظاہر کی دنیا' میں سانس لیتے ہیں، اور کچھ 'نظریات کی دنیا' کو جی کر امر ہو جاتے ہیں۔"

جو لوگ نظر آتی دنیا جی رہے ہیں، وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں معاشرے کے مروجہ اور مقبول ترین انداز کے مطابق زندگی گزارنے پر وقف کر دیتے ہیں۔ وہ جو دیکھتے ہیں، اسی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ اس دوڑ میں کچھ لوگ تو اخلاقیات کی کمال پیروی کر رہے ہوتے ہیں، مگر اکثریت کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ محض رسم و رواج اور فضولیات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ وہ اپنی اس دنیا داری میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں یہ سوچنے کی بھی فرصت نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، ان کے اعمال کے نتائج کیا ہیں، اور معاشرے یا دوسرے انسانوں پر ان کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

پرواہ تو تب ہوگی جب وہ اپنی اداؤں پر غور کریں گے۔ انہیں تو اس بات کا احساس تک نہیں کہ وہ اپنی نمائش اور شوبازی سے دوسروں کی زندگیوں کو کس قدر اجیرن کر رہے ہیں۔ کتنے ہی سفید پوش لوگ ان رسم و رواج کی آہنی اقدار کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے بنیادی فرائض پورے کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ ان کی بیٹیاں گھروں میں بیٹھی، بن بیاہے اپنے احساسات کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہیں، اور پورا خاندان ایک انجانے خوف کا شکار ہو کر اللہ کی دی ہوئی آزاد زندگی کو ان معاشرتی فضولیات کی غلامی میں گزارنے پر مجبور ہے۔ اس دلدل سے آزادی اب ان کے بس کی بات نہیں رہی۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ان فضولیات کی غلامی میں جکڑے ہوؤں کے لیے فکر مند ہیں۔ وہ ان مظلوموں کی آزادی کے لیے تگ و دو تو کر رہے ہیں، مگر وہ اربوں کی آبادی میں بہت تھوڑے ہیں اور ان کا دائرہ اثر بھی محدود ہے۔ وہ اپنی استطاعت کے مطابق چند انسانوں کو اس مادی محتاجی سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا یہ کردار بھی اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے، جو معاشرے کی اس گھٹن میں محتاجوں کی سانسوں کو آکسیجن مہیا کیے ہوئے ہے اور یہ ایک بہترین صدقہ و خیرات ہے۔

لیکن کمال کے لوگ تو وہ ہیں جو "نظریاتی زندگیاں" جی رہے ہیں۔ انہیں دنیا کے فرسودہ رسم و رواج سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور "لوگ کیا کہیں گے؟" جیسی سوچ ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ان کے شعور نے انہیں دنیا کی مادی حدود سے آزاد کر کے نظریاتی حدود کا پتا دے دیا ہے۔ وہ دنیا میں جغرافیائی سرحدوں کے پابند ہو کر نہیں، بلکہ نظریاتی وسعتوں میں جیتے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ ان کی نظریاتی بلندی کے سامنے معاشرے کی یہ کمزور اور کھوکھلی سوچ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ان کے نزدیک اصل شے علم، اچھا عمل اور دوسروں کی بھلائی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے سامنے ناسمجھی، کم علمی اور سادگی کی ایک دیوار ہے، جس کی انہوں نے اصلاح کرنی ہے۔ اگر وہ بھی معاشرے کی اس ناپختہ اور غیر سنجیدہ سوچ کے سامنے ہتھیار ڈال کر سرنگوں ہو گئے، تو پھر بہتری کی تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔

ان عظیم لوگوں کی زندگیوں کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے: "انسانوں کی بھلائی"۔ اس مقصد کے کئی پہلو، زاویے اور حکمتِ عملیاں ہو سکتی ہیں، مگر منزل ایک ہی ہے کہ انسانوں کی مشکلات کو دور کیا جائے اور ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کیا جائے جس میں سب کا جینا آسان ہو۔ وہ انسانوں کے درمیان قائم طبقاتی، لسانی، مالیاتی، رسوماتی اور جغرافیائی تقسیموں کو ختم کر کے انہیں انسانیت کے آفاقی نظریے کے تحت جینے کا سلیقہ سکھانا چاہتے ہیں۔

انہی نظریاتی وسعتوں میں سے ایک "احسان کی دنیا" ہے۔ جہاں انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کی اپنی تخلیق ہی احسان کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس میں اس کی اپنی کوئی منشا یا کوشش شامل نہیں تھی۔ جب اسے خالق کا یہ فضل نصیب ہو گیا، تو اب اس فضل کی قدر کرتے ہوئے ایک بامقصد زندگی گزارنا اور مخلوقِ خدا کی خدمت کر کے اپنی ابدیت کو امر کر لینا ہی اس کا مقصد بن جاتا ہے۔ انسانیت کی تاریخ میں ایسے بہت سارے انسان گزرے ہیں جنہیں کائنات کے خالق کی طرف سے خصوصی رہنمائی ملی اور وہ خود دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے۔ ان کی پہچان یہ تھی کہ وہ محض الفاظ کے غازی نہیں، بلکہ عمل کے مجسمے تھے۔ انہوں نے انسانیت کو صرف اصول نہیں بتائے، بلکہ خود ان پر عمل کر کے امن، بردباری، بھلائی اور خوشحالی کا ایک ایسا عملی نمونہ پیش کیا جو اپنے اپنے وقت کی اعلیٰ ترین مثال بنا۔

انہی کرداروں پر غور کرنے سے کائنات کے سچے خالق کا پتا ملتا ہے۔ جب انسان اپنی حقیقت، اپنے مقصد اور اپنے خالق کو پہچان لیتا ہے، تو پھر اس کی دنیا ہی بدل جاتی ہے۔ وہ ایک مخصوص وقت اور جغرافیے میں رہتے ہوئے بھی اپنی حدود کا تعین انہی آفاقی اصولوں پر کرتا ہے اور "احسان کی اس دنیا" کا مستقل باسی بن جاتا ہے، جہاں اپنے اوپر ہونے والے احسان پر شکر کرنا اور دوسرے انسانوں پر احسان کرنا اس کا فرضِ عین بن جاتا ہے۔ یہی سعادت اس کا ایمان اور پکا یقین ہوتی ہے۔

تاریخِ انسانی میں ایسی کئی شخصیات گزری ہیں جن میں حضرت عیسیٰؑ، حضرت موسیٰؑ، آئن سٹائن اور کئی دوسرے بڑے نام شامل ہیں، مگر جس شخصیت کو آج کی تاریخ تک عالمگیر سطح پر پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے، وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ چنانچہ میرا یہ ماننا ہے کہ دنیا میں نظریاتی حدود میں جینے کی خواہش رکھنے والے ہر غیر جانبدار اور اچھی سوچ کے حامل انسان کو آپ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ ایک بار ضرور کرنا چاہیے تاکہ وہ جان سکے کہ احسان کی دنیا میں جینے کا اصل سلیقہ کیا ہے۔


 

میگزین