کامیاب انسانی ماڈل

انسانی تاریخ کی ساری کی ساری سوچ و بچار جس ہستی (محمد ﷺ) کو آج بھی دنیا میں سب سے پر اثر شخصیت مانتی ہے اس کی پیروی کرنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ میرے خیال میں تو کامیاب انسانی ماڈل کی اس سے بڑی کوئی دلیل ہو نہیں سکتی۔

سوچ کی غذا

بدھ، 28 اکتوبر، 2026

فکری لت سے عمل کی طرف ہجرت: لایعنی بحثوں سے شعوری تدارک کا حل

انسانی شعور کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کائنات کے حقائق کو جاننے اور اپنے خالق کو تلاش کرنے کی جبلتی پیاس رکھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان مادی مفروضوں کی نفی کرتے ہوئے غیر معمولی الہامی شواہد پر تدبر کرتا ہے، تو اس کا شعور ایک حتمی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کائناتی نظم کا ایک خالق موجود ہے، جس نے اسے شعور اور اختیار کی طاقت دے کر ایک خاص مقصد کے لیے زمین پر بھیجا ہے۔

تاہم، اس شعوری اعتراف کے بعد جدید انسان ایک نئے اور انتہائی خطرناک فکری المیے کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سچائی کو پا لینے کے بعد بھی مسلسل دلائل کی جنگ، مناظروں اور فکری بحثوں کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ عادت آہستہ آہستہ ایک ایسے ذہنی چسکے یا فکری لت (Intellectual Addiction) میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں انسان علم کو عمل میں ڈھالنے کے بجائے، اسے محض اپنے اعصاب کو متحرک رکھنے اور اپنی انا کی تسکین کا ذریعہ بنا لیتا ہے

انسانی شعور، وقت اور فکری صلاحیتیں لامتناہی نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک محدود امانت ہیں۔ کائنات کے خالق نے انسان کو جو اختیار اور شعور دیا ہے، اس کا اصل تقاضا یہ تھا کہ سچائی کا اعتراف کرنے کے بعد وہ اپنی توانائیاں اس مقصد کو پورا کرنے میں لگائے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

جب انسان حق کو مان جانے کے بعد بھی الحاد اور ایمان کی، یا مادیت اور روحانیت کی دلائل بازی کی جنگ میں مستقل طور پر الجھا رہتا ہے، تو وہ اپنی صلاحیتوں کو ایک ایسی بے مقصد اور بے فائدہ سرگرمی کی نذر کر رہا ہوتا ہے جس کا کوئی عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ یہ تذبذب انسانی ذہن کو تھکا دیتا ہے، اسے تشکیک کے لامتناہی بھنور میں دھکیلتا ہے اور اس کی عملی زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی فکری بیماری ہے جو انسان کو یہ وہم دلاتی ہے کہ وہ بہت بڑا علمی کام کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ صرف اپنے وقت کو ضائع کر رہا ہوتا ہے۔

اس لوجیکل اور ڈیجیٹل دنیا کے فکری شور سے اپنی صلاحیتوں کو بچانے کا واحد اور حتمی تدارک یہ ہے کہ انسان اصحابِ کہف کی طرز پر اس لایعنی بحث سے جس قدر ہو سکے چھٹکارا حاصل کر لے۔

جب معاشرہ اور ماحول محض مفروضوں کی بنیاد پر سچائی کو جھٹلانے کی مشق میں مصروف ہو، اور بحثیں صرف بحث برائے بحث بن جائیں، تو وہاں سے خاموشی سے ہجرت کر جانا ہی سب سے بڑی شعوری دانشمندی ہے۔ اصحابِ کہف نے بھی اپنی فکری صلاحیتوں اور ایمان کو بچانے کے لیے اس وقت کے لایعنی معاشرتی اور فکری ماحول سے کنارہ کشی اختیار کر کے غار کی پناہ لی تھی۔ آج کے انسان کو بھی اپنے ذہن کی حفاظت کے لیے ایک "فکری غار" کی ضرورت ہے، جہاں وہ لایعنی دلائل کی جنگ کو الوداع کہہ کر اپنے اندرونی سکون پر توجہ مرکوز کر سکے۔

اس فکری لت سے نجات حاصل کرنے کے لیے درج ذیل دو سنہرے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے:

1. علم سے عمل کی طرف منتقلی: علم کی سچائی کی آخری دلیل بحث جیتنا نہیں، بلکہ اس علم کا انسان کے کردار، اخلاق اور عمل میں ظاہر ہونا ہے۔ جب خالق کا وجود اور اس کا مقصدِ تخلیق شعور پر واضح ہو جائے، تو اگلا قدم صرف یہ ہونا چاہیے کہ انسان اپنے اخلاق اور طرزِ عمل کو اس کی چاہت کے مطابق ڈھالے۔

2. باعمل کردار کا انتظار: اب اس موضوع پر اپنی توانائیاں صرف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس بحث پر اس وقت تک توجہ نہ دی جائے جب تک کہ معاشرے میں کوئی ایسا باعمل کردار کسی نئی اور جاندار دلیل کے ساتھ سامنے نہیں آتا جس کا اپنا عمل اس کے علم کی سچائی کی گواہی دے رہا ہو۔ محض زبانی دعوے کرنے والے منکرین کے نامکمل مفروضوں کا جواب دینے میں اپنی قیمتی زندگی ضائع کرنا سراسر نادانی ہے۔

خالق کا انکار جہاں انسان کا اپنی ہی استدلالی صلاحیتوں کو رد کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے، وہاں حق کو جان لینے کے بعد بحثوں کا عادی ہو جانا اپنی حیثیتوں کو بے مقصد سرگرمیوں میں پگھلانے کے مترادف ہے۔ انسانی شعور کا حتمی کمال یہ ہے کہ وہ یہ جان لے کہ کس وقت دلائل کی حد ختم ہوتی ہے اور کہاں سے عمل کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ لایعنی بحثوں کو خیرباد کہہ کر عمل کے راستے پر گامزن ہو جانا ہی انسانی صلاحیتوں کا اصل تدارک اور اس کائناتی کھیل کی اصل منزل ہے۔

 

میگزین