کامیاب انسانی ماڈل

انسانی تاریخ کی ساری کی ساری سوچ و بچار جس ہستی (محمد ﷺ) کو آج بھی دنیا میں سب سے پر اثر شخصیت مانتی ہے اس کی پیروی کرنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ میرے خیال میں تو کامیاب انسانی ماڈل کی اس سے بڑی کوئی دلیل ہو نہیں سکتی۔

سوچ کی غذا

جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

جج کے استعفے میں انتظامی امور کی بازگشت: ایک آئینی و قانونی تجزیہ

حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا:

”میری رائے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کروائی گئی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی خودمختاری اور ادارہ جاتی سالمیت کو متاثر کیا ہے۔ میں نے عدلیہ کے اداروں پر انتظامیہ (ایگزیکٹیو) کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مشاہدہ کیا ہے، جس کا دائرہ ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے۔“

یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور فکر انگیز موقف ہے۔ آئیے اس نقطہ نظر کا آئینی، قانونی اور تاریخی تناظر میں جائزہ لیتے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین ججوں میں شمار ہوتے تھے اور سابق چیف جسٹس عامر فاروق کی سپریم کورٹ میں ترقی کے بعد انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا جانا تھا۔ تاہم 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس سرفراز ڈوگر کے تبادلے کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی کی ترتیب تبدیل ہوئی اور جسٹس سرفراز ڈوگر وہاں کے جج (اور بالآخر چیف جسٹس کے دوڑ میں آگے) بن گئے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ترامیم سے انتظامیہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حد تک یہ تحفظات بجا معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:

1. کیا پہلے انتظامیہ کا عدلیہ میں یا vice versa کوئی عمل دخل نہیں تھا؟

2. قانون ساز اسمبلی کو ان ترامیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

3. کیا ماضی میں انتظامی اور عدالتی اختیارات انصاف کے عمل کو متاثر نہیں کر رہے تھے؟

اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے آئینی ترامیم سے قبل اور بعد کے حالات کا موازنہ ضروری ہے۔ سابقہ نظام کے تحت ججوں کے تبادلے بنیادی طور پر صوبائی سطح پر ہائی کورٹس اور ان کے بینچز تک محدود تھے۔ یوں تعیناتیاں اور سنیارٹی متعلقہ ہائی کورٹ کا اندرونی معاملہ ہوا کرتی تھیں۔

ان ترامیم کے بعد اگرچہ نئی تعیناتیوں کا بنیادی طریقہ کار وہی رہا، لیکن ججوں کے تبادلوں کا دائرہ اختیار تمام ہائی کورٹس تک پھیل گیا۔ اس سے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق انتظامی اختیارات براہِ راست متاثر ہوئے۔ اگرچہ اس کے لیے متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی منظوری لازمی ہے، پھر بھی اس عمل میں انتظامیہ کے عمل دخل سے انکار ممکن نہیں۔

اگر تاریخی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو چیف جسٹس کی انتظامی سوادِ اعظم یا بینچز کی تشکیل پر پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ”ہم خیال ججوں کے بینچز“ کا قیام اور ان کا طرزِ انصاف ایک افسوسناک باب ہے۔ بینچ کی تشکیل کے ساتھ ہی فیصلے متوقع ہو جاتے تھے جو بعد میں سچ ثابت ہوتے۔

ملکی تاریخ میں جہاں مقتدرہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہ دینے پر ججوں کو گھر بھیجنے کی روایات موجود ہیں، وہاں عدلیہ کے ذریعے منتخب وزرائے اعظم اور اراکینِ اسمبلی کو فارغ کرنے کی بھی ایک واضح تاریخ ہے۔ سیاست دانوں اور ججوں کے باہمی گٹھ جوڑ کے شواہد بھی وقت کے ساتھ سامنے آتے رہے ہیں۔

ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتیاں اکثر سیاسی اثر و رسوخ، سفارشوں اور شدید خواہشات کے تابع رہی ہیں۔ آئین کی متضاد تشریحات کے ذریعے فیصلے کرنے اور پسندیدہ کیسز اپنے پاس لگوانے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عدلیہ اور مقننہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے ملکی امور کو مسلسل غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دیگر ججوں نے نئی ترامیم اور تبادلوں کے قانون کو آئینی بنچ میں چیلنج بھی کیا۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جون 2025 میں اکثریتی فیصلے کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججوں کے تبادلے کو آئینی و قانونی قرار دیا اور اسے نئی تقرری ماننے سے انکار کر دیا۔ اسی فیصلے کے تحت اپریل 2026 میں جوڈیشنل کمیشن نے 27ویں ترمیم کے تحت انہیں لاہور ہائی کورٹ منتقل کیا، جس کے بعد ان کی سنیارٹی کا تنازع شدت اختیار کر گیا۔

علاوہ ازیں، مارچ 2024 میں جسٹس محسن اختر کیانی سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک خط لکھا تھا، جس میں خفیہ ایجنسیوں کی عدالتی امور میں مداخلت، ججوں کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے اور نگرانی کا انکشاف کیا گیا تھا۔ تاہم، ماضی میں جب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسی نوعیت کے سنگین الزامات عائد کیے تھے، تو اس وقت دیگر ججوں کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مستعفی ہونے والے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کے حوالے سے کچھ ریفرنسز بھی زیرِ سماعت تھے، جن کے حتمی فیصلے کا انتظار کیے بغیر ہی انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

اگر آج عوام کا عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہوا ہے یا انتظامی اختیارات کے عدم توازن پر تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تو اس کی ذمہ داری صرف مقننہ یا ایگزیکٹیو پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ عدلیہ کے اپنے فیصلوں، اندرونی تقسیم اور خود احتسابی کے فقدان نے بھی اس بحران کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

شائع ہم سب 29 اکتوبر 2026

 

میگزین