کامیاب انسانی ماڈل

انسانی تاریخ کی ساری کی ساری سوچ و بچار جس ہستی (محمد ﷺ) کو آج بھی دنیا میں سب سے پر اثر شخصیت مانتی ہے اس کی پیروی کرنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ میرے خیال میں تو کامیاب انسانی ماڈل کی اس سے بڑی کوئی دلیل ہو نہیں سکتی۔

سوچ کی غذا

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026

پنجاب میں تھپڑوں کی گونج اور نظام انصاف کی دوہائی

آج کل پنجاب میں طاقت ور، شدت پسند اور ظالمانہ رویوں کے انسداد کے لیے جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اس پر یہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ قانون پولیس کی حراست میں ملزموں پر تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون میں نہتی عورتوں، یتیم اور نادار بچوں اور مظلوم غریبوں پر صرف اس لیے تشدد کی اجازت ہے کہ وہ کمزور ہیں؟

جہاں تک تھپڑ کے بدلے تھپڑ سے انصاف فراہم کرنے کا تعلق ہے، تو اصولاً اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔ اگرچہ قانون میں اس کا بظاہر جواز ڈھونڈنا ایک بحث طلب موضوع ہے، لیکن انصاف کی روح اور مقاصدِ عدل کے یہ عین مطابق ہے۔ ریاست کے امن و امان کو سلب کرنے والوں پر اسی تناظر میں سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ کیونک "لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے"، اور اس اقدام سے یقیناً جرائم کی شرح میں کمی آئی ہوگی۔

قانون اور عدالتیں تو قیامِ پاکستان کے وقت سے موجود ہیں اور ریاست کا ایک بہت بڑا بجٹ ان پر صرف ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود جرائم کا گراف دن بہ دن بڑھتا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر شفاف اور فوری انصاف مل رہا ہوتا تو یہ نتائج سامنے نہ آتے۔

پنجاب میں ماورائے عدالت پولیس مقابلوں میں ملزموں کا کیفرِ کردار تک پہنچنا اگرچہ کوئی مثالی یا آئینی عمل نہیں، مگر اس سے نظامِ عدل کی بے بسی کے شکار مظلوموں کو ایک وقتی تسکین ضرور ملتی ہے۔ کم از کم ظالموں کو احساسِ ندامت اور اپنی حد کا اندازہ تو کروایا گیا ہے۔

اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ تھپڑ دراصل ہمارے عدالتی نظامِ انصاف کے منہ پر بھی ہے، جس پر سے عوام کا اعتماد تقریباً اٹھ چکا ہے۔ لوگ ظلم اور اپنے حقوق کی محرومی کو تو برداشت کر لیتے ہیں، مگر عدالتی نظام سے رجوع کر کے اپنی عزت (Dignity)، وقت اور پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ وہ نسل در نسل چلنے والے مقدمات میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں۔

تاہم، یہ کوئی مستقل اور دائمی حل نہیں ہے۔ وقتی طور پر جرائم میں کمی ضرور آئی ہوگی، لیکن اگر یہی جذبہ، عزم اور احساسِ ذمہ داری ہماری عدلیہ کے اندر پیدا کیا جاتا اور انہیں قانونی اصلاحات کی پشت پناہی حاصل ہوتی تو نتائج مختلف ہوتے۔ پولیس کے ان وسائل اور توانائیاں کو اگر عدالتوں میں کارروائی تیز (Speedy) بنانے پر خرچ کیا جاتا اور عدلیہ کو روزانہ کی بنیاد پر مقدمات چلانے اور بر وقت انصاف دینے کا پابند کیا جاتا، تو یہ ایک پائیدار اور مستقل نظامِ انصاف کی بنیاد بن سکتا تھا۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اگر متبادل طریقے سے عوامی مطالبات اور مظلوموں داد رسی کی کوشش کی ہے تو یہ قابلِ ستائش ہے اور مظلوموں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ مگر ہمیں ایک ایسے حل کی طرف بڑھنا ہوگا جو دائمی اور آئینی ہو۔ ان کا عوامی درد کو محسوس کرنا، ذمہ داریوں کا ادراک اور داد رسی کی کاوشیں تحسین کی مستحق ہیں، لیکن اب اس عمل کو پائیدار (Sustainable) بنانے کے لیے حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے تاکہ "ثقافتِ عدل" کا قیام ممکن ہو سکے۔

اس سلسلے میں چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

1. جدید ٹیکنالوجی اور قانونِ شہادت: جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اکٹھے کیے گئے شواہد کو قانونی تحفظ دیتے ہوئے "قانونِ شہادت" کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔

2. آن لائن سسٹم اور ای کورٹس: جس طرح پولیس کمپلینٹس کا آن لائن نظام قائم کیا گیا ہے، اسی طرح عدالتوں میں دائر مقدمات کے لیے بھی ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے۔ عدالتوں میں حاضری کے لیے صرف تاریخ نہیں بلکہ **مقررہ وقت** بھی درج ہو، تاکہ سائلین اپنے طے شدہ وقت پر آئیں اور فارغ ہو سکیں، جس سے عدالتوں میں بلاوجہ کا ہجوم ختم ہو جائے۔

3. عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ: تمام عدالتوں کی کارروائیوں کی آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ کو قانونی طور پر لازمی (Mandatory) قرار دیا جائے۔ اس سے ججوں اور وکلا پر یہ ذمے داری عائد ہوگی کہ کارروائی شفاف رہے، اور سائلین و فریقین کو کارروائی کی کاپی حاصل کرنے کا حق ملے۔

4. مقررہ وقت میں فیصلہ اور جرمانے: ہر مقدمے کو ایک مقررہ مدت میں نمٹانے کو عدالتی مینڈیٹ بنایا جائے، اور بلاوجہ وقت ضائع کرنے یا فرضی مقدمات قائم کرنے پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں تاکہ صرف حقیقی مقدمات ہی عدالت پہنچیں۔

5. متبادل نظامِ عدل (ADR): متبادل حلِ تنازعات (ADR) کے نظام کو مزید فعال اور مضبوط کیا جائے۔

6. وکلا کی تربیت اور نئے مواقع: ریونیو کے شعبے میں بہتری انتہائی خوش آئند ہے۔ اسی طرح وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت اور ان کی ذمے داریوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ جائیداد کی خریدو فروخت (Property Transactions) اور قانونی دستاویزات کی تیاری (Legal Documentation) میں وکلا کی شمولیت اور ان کی طے شدہ فیس کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ قانونی پیچیدگیاں کم ہوں اور وکلا کی صلاحیتوں کا مثبت استعمال ہو سکے۔

مقننہ کو چاہیے کہ وہ اپنے قانون سازی کے اختیارات (Legislative Powers) کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے نظامِ عدل کو نہ صرف تیز رفتار بنائے بلکہ اس میں موجود تمام سقم کا خاتمہ بھی کرے۔ قانون کی حکمرانی کا نفاذ تبھی ممکن ہے جب قانون توڑنے والا خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہو۔

تاہم، اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی بیداری اور اصلاح کا میکنزم بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقت اور عہدے کے نشے میں چُور افراد جب قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے یا خوف کی وجہ سے ان کا محاسبہ نہیں ہوتا۔ اس ناسور کے خاتمے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

طاقت کے نشے میں مبتلا عناصر کا سماجی بائیکاٹ:

معاشرتی سطح پر ہمیں ایک ایسی اخلاقی طاقت بننا ہوگا جو اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں، کرپٹ عناصر اور قانون کو پاؤں تتلنے والوں کا بائیکاٹ کرے۔ جب تک ایسے افراد کو معاشرتی پذیرائی ملتی رہے گی، جرائم اور قانون شکنی کا یہ سلسلہ بند نہیں ہو سکتا۔ ان کا سماجی بائیکاٹ ہی ان کی اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔

عوامی آگاہی کی مہمات:حکومت جہاں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، وہاں عوام کو بھی آگاہی اور شعوری رویوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامی دفاتر اور عدالتی نظام کو فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی بروقت رپورٹ اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے قانون کے اطلاق کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

شائع ہم سب 31 اکتوبر 2026 

میگزین